Abdul-Rahman bin Yazid reported:
'Abdullah bin Mas'ud (رضی اللہ تعالیٰ عنہ) threw seven pebbles at Jamrat al-'Aqaba from the heart of the valley. He pronounced Takbir with every pebble. It was said to him that people fling stones from the upper side (of the valley), whereupon 'Abdullah bin Mas'ud (رضی اللہ تعالیٰ عنہ) said: By him, besides Whom there is no other god, that is the place (of flinging stones) of one upon whom Surah al-Baqara was revealed (the Holy Prophet).
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ اور ابو کریب نے بیان کیا، انہوں نے کہا: ہم سے انہوں نے بیان کیا ہمیں ابو معاویہ نے اعمش سے حدیث بیان کی ، انھوں نے ابرا ہیم سے انھوں نے عبد الرحمن بن یزید سے روایت کی ، انھوں نے کہا
حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جمرہ عقبہ کو وادی کے اندر سے سات کنکریوں کے ساتھ رمی کی وہ ہر کنکری کے ساتھ اللہ اکبر کہتے تھے ۔ ( عبد الرحمن نے ) کہا : ان سے کہا گیا : کچھ لوگ اسے ( جمرہ کو ) اس کی بالا ئی طرف سے کنکریاں مارتے ہیں تو عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : اس ذات کی قسم جس کے سوا کو ئی معبود نہیں !یہی اس ہستی کے کھڑے ہو نے کی جگہ ہے جن پر سورہ بقرہ نازل کی گئی ۔
A'mash reported:
I heard Hajjaj bin Yusuf saying as he was delivering sermon on the pulpit: Observe the order of the (Holy) Qur'an which has been observed by Gabriel. (Thus state the surahs in this manner) one in which mention has been made of al-Baqara, one in which mention has been made of women (Surah al-Nisa') and then the surah in which mention has been made of the Family of 'Imrin. He (the (narrator) said: I met Ibrahim and informed him about these words of his (the statement of Hajjaj bin Yusuf). He cursed him and said: Abdul-Rahman bin Yazid has narrated to me that when he was in the company of 'Abdullah bin Mas'udd (رضی اللہ تعالیٰ عنہ) he came to Jamrat al-'Aqaba and then entered the heart of the valley and faced towards it (the Jamra) and then flung seven pebbles at it from the heart of the valley pronouncing Takbir with every pebble. I said: Abu 'Abd al-Rahman, people fling pebbles at it (Jamra) from the upper side, whereupon he said: By Him besides Whom there is no god, that is the place (of flinging pebbles of one) upon whom Surah al-Baqara was revealed;
ہم سے منجاب بن الحارث التمیمی نے بیان کیا، انہوں نے کہا ابن مسہر نے مجھے اعمش سے خبر دی ( انھوں نے ) کہا
میں نے حجا ج بن یو سف سے سنا وہ منبر پر خطبہ دیتے ہو ئے کہہ رہا تھا : قرآن کی وہی ترتیب رکھو جو جبریلؑ نے رکھی ( نیز سورہ بقرہ کہنے کے بجا ئے کہو ) وہ سورت جس میں بقر ہ کا ذکر کیا گیا ہے وہ سورت جس میں نساء کا تذکرہ ہے وہ سورت جس میں آل عمران کا تذکرہ ہے ۔ ( اعمش نے ) کہا اس کے بعد میں ابر اہیم سے ملا ، میں نے انھیں اس کی بات سنائی تو انھوں نے اس پر سب وشتم کیا اور کہا : مجھ سے عبد الرحمٰن بن یزید نے حدیث بیان کی کہ وہ حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھ تھے ۔ ۔ وہ جمرہ عقبہ کے پاس آئے وادی کے اندر کھڑے ہو ئے اس ( جمرہ ) کو چوڑا ئی کے رخ اپنے سامنے رکھا اس کے بعد وادی کے اندر سے اس کو سات کنکریاں ماریں وہ ہر کنکری کے ساتھ اللہ اکبر کہتے تھے کہا : میں نے عرض کی : ابو عبد الرحمٰن کچھ لو گ اس کے اوپر ( کی طرف ) سے اسے کنکریاں مارتے ہیں انھوں نے کہا اس ذات کی قسم!جس کے سوا کو ئی معبود نہیں !یہی اس ہستی کے کھڑے ہو نے کی جگہ ہے جس پر سورہ بقرہ نازل ہو ئی ۔
A'mash reported:
I heard Hajjaj saying I Do not say Surah al-Baqara. The rest of the hadith is the same.
یعقوب الدورقی نے مجھ سے کہا, ابن ابی زائدہ اور سفیان دونوں نے ہمیں اعمش سے حدیث بیان کی ، انھوں نے کہا
میں نے حجاج سے سنا ، کہہ رہا تھا : " سورہ بقرہ نہ کہو ۔ ۔ ۔ ۔ اور ان دونوں نے ابن مسہر کی حدیث کی طرح حدیث بیا ن کی .
Abdul-Rahman bin Yazid reported:
He performed Hajj along with 'Abdullah (رضی اللہ تعالیٰ عنہ) and he flung seven pebbles at al-Jamra (from a position) that the House was on his left and Mina was on his right and said: That is the place (of flinging pebbles of one) upon whom Surah al-Baqara was revealed.
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا, ہمیں محمد بن جعفر غندرنے حدیث بیان کی ، ( کہا : ) ہمیں شعبہ نے حکم سے حدیث بیان کی انھوں نے ابرا ہیم سے اور انھوں نے عبد الرحمٰن بن یزید سے روایت کی کہ
انھوں نے حضرت عبد اللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ( بن مسعود ) کی معیت میں حج کیا کہا : انھوں نے جمرہ عقبہ کو سات کنکریاں ماریں اور بیت اللہ کو اپنی بائیں طرف اور منیٰ کو دائیں طرف رکھا اور کہا یہی ان کے کھڑے ہو نے کی جگہ ہے جن پر سورہ بقرہ نازل کی گئی ۔
This hadith nas been narrated on the authority of Shu'ba with the same chain of transmitters except with this variation of (words):
As he came to Jamrat al-'Aqaba.
ہمیں معاذ عنبری نے حدیث بیان کی ، ( کہا : ) ہمیں شعبہ نے اسی سند کے ساتھ ( یہی ) حدیث بیان کی ، البتہ انھوں نے کہا
جب وہ جمرہ عقبہ کے پاس آئے ۔
Abdul-Rahman bin Yazid reported:
It was said to 'Abdullah ( رضی اللہ تعالیٰ عنہ) that people threw pebbles at the Jamra from the upper side of 'Aqaba, whereas he threw stones at it from the heart of the valley, whereupon he said: By Him besides Whom there is no god, it is at this very place that one upon whom was revealed Surah al-Baqara threw stones at it.
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے ابو المحیٰہ نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ بن یحییٰ نے بیان کیا اور تلفظ ان کا ہے - ہم سے یحییٰ بن نے بیان کیا یالا ابو المحیہ، کی سند پر سلمہ بن کہیل نے عبد الرحمٰن بن یزید سے روایت کی ، انھوں نے کہا
حضرت عبد اللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے کہا گیا : کچھ لو گ جمرہ عقبہ کو گھا ٹی کے اوپر سے کنکریاں مارتے ہیں ۔ کہا : تو حضرت عبد اللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے وادی کے اندر سے اسے کنکریاں ماریں ۔ پھر کہا : یہیں سے اس ذات کی قسم جس کے سوا کو ئی حقیقی معبود نہیں ! اس ہستی نے کنکریاں ماریں جن پر سورہ بقرہ نازل کی گئی ۔
Jabir (رضی اللہ تعالیٰ عنہ) reported:
I saw Allah's Apostle ( صلی اللہ علیہ وسلم ) flinging pebbles while riding his camel on the Day of Nahr, and he was saying: Learn your rituals (by seeing me performing them), for I do not know whether I would be performing Hajj after this Hajj of mine.
ہم سے اسحاق بن ابراہیم اور علی بن خشرم نے بیان کیا، عیسیٰ بن یونس کی سند سے کہا: ہم سے عیسیٰ نے ابن جریج سے بیان کیا۔ مجھے ابو الزبیر نے بیان کیا کہ انہوں نے سنا , حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ
میں نے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کو دیکھا آپ قربانی کے دن اپنی سواری پر ( سوار ہو کر ) کنکریاں مار رہے تھے اور فرما رہے تھے : تمھیں چا ہیے کہ تم اپنے حج کے طریقے سیکھ لو ، میں نہیں جا نتا شاید اس حج کے بعد میں ( دوبارہ ) حج نہ کر سکوں ۔
Umm al-Husain ( رضی اللہ تعالیٰ عنہا) reported:
I performed Hajj along with Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) on the occasion of the Farewell Pilgrimage and saw him when he flung pebbles at Jamrat al-'Aqaba and returned while he was riding the camel, and Bilal and Usama رضی اللہ تعالیٰ عنہ were with him. One of them was leading his camel, while the other was raising his cloth over the head of Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) to protect him from the sun. She (further) said: Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) said so many things, and I heard him saying: If a slave having some limb of his missing and having dark complexion is appointed to govern you according to the Book of Allah the Exalted. listen to him and obey him.
مجھ سے سلمہ بن شبیب نے بیان کیا، کہا ہم سے حسن بن اعین نے بیان کیا، انہوں نے بیان کیا معقل نے زید بن ابی انیسہ سے حدیث بیان کی انھوں نے یحییٰ بن حصین سے اور انھوں نے اپنی دادی ام حصین رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی ، ( یحییٰ بن حصین نے ) کہا
میں نے ان سے سنا کہہ رہی تھیں حجۃالوداع کے موقع پر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی معیت میں حج کیا ، میں نے آپ صلی اللہ علیہ و سلم کو اس وقت دیکھا جب آپ نے جمرہ عقبہ کو کنکریاں ماریں اور واپس پلٹے آپ اپنی سواری پر تھے اور بلال اور اسامہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ آپ کے ساتھ تھے ان میں سے ایک آگے سے ( مہار پکڑ کر ) آپ کی سواری کو ہانک رہا تھا اور دوسرا دھوپ سے ( بچاؤ کے لیے ) اپنا کپڑا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے سر مبارک پر تا نے ہو ئے تھا ۔ کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے ( اس موقع پر ) بہت سی باتیں ارشاد فر ما ئیں ۔ پھر میں نے آپ سے سنا آپ فر ما رہے تھے : اگر کو ئی کٹے ہو ئے اعضا ء والا ۔ ۔ ۔ میرا خیال ہے انھوں ( ام حصین رضی اللہ تعالیٰ عنہا ) نے کہا : ۔ ۔ ۔ کا لا غلا م بھی تمھا را میرا بنا دیا جا ئے جو اللہ کی کتاب کے مطابق تمھا ری قیادت کرے تو تم اس کی بات سننا اور اطاعت کرنا ۔
Umm al-Husain (رضی اللہ تعالیٰ عنہا) reported:
I performed Hajj along with Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) on the occasion of the Farewell Pilgrimage and saw Usama and Bilal رضی اللہ تعالیٰ عنہ (too), one of whom had caught hold of the lose string of the she-camel of Allah's Apostle ( صلی اللہ علیہ وسلم ) while the other one was raising his cloth (over his head) protecting him from the heat, till he flung pebbles at Jamrat al-'Aqaba. Imam Muslim said: Abu Abdul Rahim's name is Khalid bin Abi Yazid and he is the uncle of Muhammad bin Salama.
مجھ سے احمد بن حنبل نے بیان کیا، ہم سے محمد بن سلمہ نے بیان کیا, ابو عبد الرحیم نے زید بن ابی انیسہ سے انھوں نے یحییٰ بن حصین سے اور انھوں نے اپنی دادی ام حصین رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی انھوں نے کہا
میں نے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے ساتھ الوداعی حج کیا تو میں نے اسامہ اور بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو دیکھا ان میں سے ایک نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی اونٹنی کی نکیل تھا مے ہو ئے تھا اور دوسرا کپڑے کو اٹھا ئے گرمی سے اوٹ کر رہا تھا یہاں تک کہ آپ نے جمرہ عقبہ کو کنکریاں ماریں ۔ امام مسلم نے کہا : ابو عبد الرحیم کا نام خالد بن ابی یزید ہے اور وہ محمد بن سلمہ کے ماموں ہیں ان سے وکیع اور حجاج اعور نے ( حدیث ) روایت کی .
Jabir bin 'Abdullah reported:
I saw Allah's Apostle ( صلی اللہ علیہ وسلم ) throwing stones (at Jamrat al 'Aqaba) like pelting of small pebbles.
مجھ سے محمد بن حاتم اور عبد بن حمید نے بیان کیا کہ ہم سے محمد بن بکر نے بیان کیا, ابو زبیرنے خبر دی کہ انھوں نے حضرت جابر بن عبداللہ سے سنا ، وہ بیان کررہے تھے
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ، آپ نے جمرہ عقبہ کو اتنی بڑی کنکریاں ماریں جتنی چٹکی ( دو انگلیوں ) سے ماری جانے والی کنکریاں ہوتی ہیں ۔
Jabir (رضی اللہ تعالیٰ عنہ) reported:
Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) flung pebbles at jamra on the Day of Nahr after sunrise, and after that (i. e. on the 11th, 12th and 13th of Dhu'l-Hijja when the sun had declined.
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا، انہوں نے بیان کیا ابو خالد احمر اورابن ادریس نے ابن جریج سے حدیث بیان کی ، انھوں نے ابوزبیر سے اورانھوں نے جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، انھوں نے کہا
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قربانی کے دن چاشت کے وقت جمرہ ( عقبہ ) کو کنکریاں ماریں اور اس کے بعد ( کے دنوں میں تمام جمروں کو ) اس وقت جب سورج ڈھل گیا ۔
Jabir bin Abdullah رضی اللہ تعالیٰ عنہ reported a hadith like this from Allah's Apostle ( صلی اللہ علیہ وسلم ).
ہم سے علی بن خشرم نے بیان کیا، انہوں نے بیان کیا ہمیں عیسیٰ بن یونس نے خبردی ، ( کہا : ) ہمیں ابن جریج نے خبر دی ، ( کہا : ) مجھے ابو زبیرنے بتایا کہ انھوں نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ، وہ کہہ رہے تھے : نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم آگے اسی کے مانند ہے ۔
Jabir (bin Abdullah) ( رضی اللہ تعالیٰ عنہ) reported:
Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) as saying: Odd number of stones are to be used for cleaning (the private parts after answering the call of nature), and casting of pebbles at the Jamras is to be done by odd numbers (seven), and (the number) of circuits between al-Safa' and al-Marwa is also odd (seven), and the number of circuits (around the Ka'ba) is also odd (seven). Whenever any one of you is required to use stones (for cleaning the private parts) he should use odd number of stones (three, five or seven).
مجھ سے سلمہ بن شبیب نے بیان کیا، ہم سے حسن بن اعین نے بیان کیا، ان سے معقل نے، جو کہ ہم سے ابن عبید اللہ الجزری نے بیان کیا، انہوں نے ابو الزبیر سے روایت کی،حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے انھوں نے کہا
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " استنجا طاق ڈھیلوں سے ہوتاہے ، جمرات کی رمی طاق ہوتی ہے ، صفا مروہ کے درمیان سعی طاق ہوتی ہے ، بیت اللہ کا طواف طاق ہوتاہے ۔ اور تم میں سے جب کوئی استنجا کرے تو طاق ڈھیلوں سے کرے ۔
Abdullah رضی اللہ تعالیٰ عنہ reported:
Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) got his head shaved (after slaughtering the sacrificial animal on the 10th of Dhu'l-Hijja), and so did a group of Companions, while some of them got their hair clipped. Abdullah رضی اللہ تعالیٰ عنہ said: Allah's Messenger (may peace'be upon him) observed once or twice: May Allah have mercy upon those who get their heads shaved. And he also said: Upon those too who got their hair clipped.
ہم سے یحییٰ بن یحییٰ اور محمد بن رمح نے بیان کیا، کہا: ہم سے انہوں نے بیان کیالیث نے نافع سے حدیث بیان کی کہ حضرت عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ( بن مسعود ) نے کہا
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سر منڈایا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کی ایک جماعت نے سر منڈایا ، اور ان میں سے کچھ نے بال کٹوائے ۔ حضرت عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نےفرمایا : "" اللہ سر منڈانے والوں پر رحم فرمائے ۔ "" ایک یادو مرتبہ ( دعا کی ) پھر فرمایا : "" اور بال کٹوانے والوں پر بھی "" ( ان کے لئے صرف ایک بار دعا کی ۔ )
Abdullah bin Umar (رضی اللہ تعالیٰ عنہ) reported:
Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) as having observed: O Allah, have mercy upon those who get their heads shaved. They (the Companions) said: Messenger of Allah, (what about those) who have got their hair clipped? He said: O Allah, have mercy upon those who have got their heads shaved. They (again) said: Allah's Messenger, (what about those) who have got their hair clipped? Thereupon he said: (O Allah, have mercy upon those) who have got their hair clipped.
یحییٰ بن یحییٰ نے امام مالک ؒکے سامنے قراءت کی کہ نافع سے روایت ہے ، اور انھوں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اے اللہ !سر منڈانے والوں پر رحم فرما ۔ " لوگوں ( صحابہ رضوان اللہ عنھم اجمعین ) نے کہا : اور بال کٹوانے والوں پر اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !فرمایا : " اے اللہ ! سر منڈانے والوں پر رحم فرما ۔ " صحابہ رضوان اللہ عنھم اجمعین نے پھر عرض کی : اور بال کٹوانے والوں پر ، اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! فرمایا : " اور بال کٹوانے والوں پر ( بھی رحم فرما ۔ ) "
Ibn 'Umar رضی اللہ عنہ reported:
Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) said: May Allah have mercy upon those who have got their heads shaved. They said: Messenger of Allah, (what about) those who got their hair clipped? He said: May Allah have mercy upon those who have got their heads shaved. They said: Messenger of Allah, (what about those who have got their hair clipped)? He said: May Allah have mercy upon those who got their hair shaved. They said: Messenger of Allah, (what about) those who got their hair clipped? He said: (O Allah, have mercy upon) those who got their hair clipped.
ہم سے ابواسحاق ابراہیم بن محمد بن سفیان نے مسلم بن الحجاج کی سند سے بیان کیا، انہوں نے کہا ہمیں عبداللہ بن نمیر نے حدیث بیان کی ، ( کہا : ) ہمیں عبیداللہ بن عمر نے نافع سے حدیث بیان کی ، انھوں نے ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا؛ "" : "" اے اللہ !سر منڈانے والوں پر رحم فرما ۔ "" لوگوں ( صحابہ رضوان اللہ عنھم اجمعین ) نے کہا : اور بال کٹوانے والوں پر اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !فرمایا : "" اے اللہ ! سر منڈانے والوں پر رحم فرما ۔ "" صحابہ رضوان اللہ عنھم اجمعین نے پھر عرض کی : اور بال کٹوانے والوں پر ، اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! فرمایا : "" اور بال کٹوانے والوں پربھی ۔ حدیث نمبر ۔ 3147 ۔ ہمیں عبدالوہاب نے حدیث سنائی ، ( کہا : ) ہمیں عبیداللہ نے اسی سند کے ساتھ یہی حدیث بیان کی اور انھوں نے ( اپنی ) حدیث میں کہا : جب چوتھی باری آئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" اور بال کٹوانے والوں پر بھی ۔ ""
Ubaidullah reported this hadith with the same chain of transmitters and (it is said) that it was on the fourth turn:
He (the Holy Prophet) said: (May Allah have mercy upon) those who got their hair clipped.
ہم سے ابن المثنی نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہمیں عبدالوہاب نے حدیث سنائی ، ( کہا : ) ہمیں عبیداللہ نے اسی سند کے ساتھ یہی حدیث بیان کی اور انھوں نے ( اپنی ) حدیث میں کہا : جب چوتھی باری آئی تو
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اور بال کٹوانے والوں پر بھی ۔ "
Abu Huraira رضی اللہ تعالیٰ عنہ reported:
Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) as having said: O Allah, grant pardon to those who got their heads shaved They (Companions of the Holy Prophet) said: Messenger of Allah, (what about those) who get their hair cut? He said: O Allah, grant pardon to those who get their heads shaved. They said: Messenger of Allah, (what about those) who got their hair clipped? He said: O Allah, grant pardon to those who get their heads shaved. They said: Messenger of Allah, (what about those) who get their hair clipped? He said: O Allah, grant pardon to those who get their heads shaved. They said: (What about those) who get their hair clipped? He said: (O Allah, grant pardon to) those who get their hair clipped.
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ، زہیر بن حرب، ابن نمیر اور ابو کریب نے ابن فضیل کی سند سے بیان کیا، کہا: ہم سے بیان کیا۔ ہم سے محمد بن فضیل عمارہ نے بیان کیا, ابوزرعہ نے حضرت ابو ہریرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نےفرمایا : " اے اللہ !سر منڈانےوالوں کوبخش دے ۔ " صحابہ رضوان اللہ عنھم اجمعین نے عرض کی : اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! اور بال کٹوانے والوں کو؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نےفرمایا : " اے اللہ !سر منڈانےوالوں کوبخش دے ۔ " صحابہ رضوان اللہ عنھم اجمعین نے عرض کی : اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! اور بال کٹوانے والوں کو؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نےفرمایا : " اے اللہ !سر منڈانےوالوں کوبخش دے ۔ " صحابہ رضوان اللہ عنھم اجمعین نے عرض کی : اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! اور بال کٹوانے والوں کو؟فرمایا : " اور بال کٹوانے والوں کو بھی ۔ "
A hadith like this is narrated on the authority of Abu Huraira رضی اللہ تعالیٰ عنہ .
علاء نے اپنے والد ( عبدالرحمن بن یعقوب ) سے ، انھوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ، انھوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ۔ ۔ ۔ آگے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ابو زرعہ کی ( روایت کردہ ) حدیث کے ہم معنی ہے ۔
Yahya bin al-Husain reported on the authority of his grandfather:
Allah's Apostle ( صلی اللہ علیہ وسلم ) invoked blessing on the occasion of the Farewell Pilgrimage three times for those who got their heads shaved and once for those who got their hair clipped. In the narration transmitted by Waki' there is no mention of the Farewell Pilgrimage.
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا وکیع اورابو داود طیالسی نے ہمیں شعبہ سے حدیث بیان کی ، انھوں نے یحییٰ بن حصین سے اور انھوں نے اپنی دادی ( ام حصین رضی اللہ تعالیٰ عنہا ) سے روایت کی کہ
انھوں نے حجۃ الوداع کے موقع پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نےسر منڈانے والوں کے لئے تین بار اور بال کٹوانے والوں کے لئے ایک باردعا کی ۔ اور وکیع نے " حجۃ الوداع کے موقع پر " کا جملہ نہیں کہا ۔