Suwaid bin Ghafala reported:
I saw Umar (رضی اللہ تعالیٰ عنہ) kissing the Stone and clinging to it and saying: I saw Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) having great love for you.
ابوبکر بن ابی شیبہ اور زہیر بن حرب نے وکیع کی سند سے بیان کیا، ابوبکر نے کہا: ہم سے وکیع نے سفیان کی سند سے بیان کیا۔ ابراہیم بن عبد الا علی، کے اختیار میں , سوید بن غفلہ سے روایت ہے ، کہا
میں نے حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کودیکھا کہ انھوں نے حجر اسود کو بوسہ دیا اوراس سے چمٹ گئے ، اورفرمایا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا وہ تم سے بہت قریب ہوتے تھے ۔
Abdur Rahman narrated from Sufyan with his chain (a Hadith to no. 3071). He said:
"But I saw Abu Al-Qasim showing great interest in you, " and he did not mention clinging to it.
مجھ سے محمد بن المثنی نے بیان کیا، انہوں نے ہم سے بیان کیا عبدالرحمن نے سفیان سے اسی سند کے ساتھ روایت کی ، اور کہا
لیکن میں نے ابو القاسم کو دیکھا وہ تم سے بہت قریب ہوتے تھے ۔ انھوں نے " وہ ( حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) اس سے چمٹ گئے " کے الفاظ نہیں کہے ۔
Ibn 'Abbas (رضی اللہ تعالیٰ عنہ) reported:
Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) circumambulated the House on the occasion of the Farewell Pilgrimage on the back of his camel and touched the Corner (of Black Stone) with a stick.
مجھ سے ابو الطاہر اور حرملہ بن یحییٰ نے بیان کیا، انہوں نے کہا: ہم سے ابن وہب نے بیان کیا، مجھ سے یونس نے ابن شہاب کی سند سے اور عبید اللہ بن عبد اللہ کے واسطہ سے, عبداللہ بن عتبہ، حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ
اللہ کےرسول صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع میں اونٹ پر طواف فرمایا ، اور آپ اپنی ایک سرے سے مڑی ہوئی چھڑی سے حجر اسود کااستلام فرماتے تھے ۔
Jabir (رضی اللہ تعالیٰ عنہ) reported:
Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) circumambulated the House on the back of his riding camel on the occasion of the Farewell Pilgrimage and touched the Stone with his stick so that the people should see him, and he should be conspicuous, and they should be able to ask him (questions pertaining to religion) as the people had crowded round him.
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا: ہم سے انہوں نے بیان کیا علی بن مسہر نے ہمیں حدیث سنائی ، انھوں نے ابن جریج سے ، انھوں نے جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع میں اپنی سواری پربیت اللہ کا طواف فرمایا ، آپ اپنی چھڑی سے حجر اسود کا استلام فرماتے تھے ۔ ( سواری پر طواف اس لئے کیا ) تاکہ لوگ آپ کو دیکھ سکیں ، اورآپ لوگوں کو اوپر سے دیکھیں ، لوگ آپ سے سوال کرلیں کیونکہ لوگوں نے آپ کے ارد گرد ہجوم کرلیا تھا ۔
jabir bin 'Abdullah (رضی اللہ عنہ) reported:
Allah's Apostle ( صلی اللہ علیہ وسلم ) circumambulated the House (and ran) between al-Safa and al-Marwa on the back of his she-camel, at the occasion of the Farewell Pilgrimage. so that the people should see him and he should be conspicuous, and they should be able to ask him (questions pertaining to religion), and the people had crowded round him. In the hadith transmitted on the authority of Ibn Khashram no mention Is made of: So that they should ask him.
علی بن خشرم نے ہمیں حدیث بیان کی ، ( کہا : ) ہمیں عیسیٰ بن یونس نے ابن جریج سے خبر دی ، نیز ہمیں عبد بن حمید نے حدیث بیا ن کی ( کہا : ) ہمیں محمد ، یعنی ابن بکر نے حدیث بیان کی ، کہا : ابن جریج نے ابوزبیر سے خبر دی کہ انھوں نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کوکہتے ہوئےسنا
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع کے موقع پر بیت اللہ اورصفا مروہ کا طواف اپنی سواری پر کیا ، تاکہ لوگ آپ کو دیکھ سکیں اور آپ اوپر لوگوں کو دیکھ سکیں اور لوگ آپ سے سوال کرسکیں کیونکہ لوگوں نے ( ہرطرف سے اذدحام کرکے ) آپ کو چھپا لیاتھا ۔ ابن خشرم نے " تاکہ وہ آپ سے سوالات پوچھ سکیں " ( کے الفاظ ) روایت نہیں کیے ۔
A'isha (رضی اللہ تعالیٰ عنہا) reported:
Allah's Apostle ( صلی اللہ علیہ وسلم ) circumambulated the Ka'ba on the back of his camel on the occasion of the Farewell Pilgrimage and touched the corner and he did not like that the people should be pushed away from him.
مجھ سے الحکم بن موسیٰ قنطری نے بیان کیا، ہم سے شعیب بن اسحاق نے بیان کیا، ان سے ہشام بن عروہ نے، عروہ کی سند سے, حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے ، کہا
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع میں اپنے اونٹ پر کعبہ کے اردگرد طواف فرمایا ، آپ ( اپنی مڑے ہوئے سرے والی چھڑی سے ) حجر اسود کا استلام فرماتے تھے ، اس لیے کہ آپ کو یہ بات ناپسند تھی کہ آپ سے لوگوں کو مارکرہٹایا جائے ۔
Abu Tufail رضی اللہ تعالیٰ عنہ reported:
I saw Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) circumambulating the House. and touching the corner with a stick that he had with him, and then kissing the stick.
ہم سے محمد بن المثنیٰ نے بیان کیا، ہم سے سلیمان بن داؤد نے بیان کیا، ہم سے معروف بن خربود نے بیان کیا، انہوں نے کہا: میں نے سنا, ابو طفیل رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ، آپ بیت اللہ کاطواف فرمارہے تھے ، آپ اپنی مڑے ہوئے سرے والی چھڑی سے حجر اسود کا استلام کرتے تھے اوراس چھڑی کو بوسہ دیتے تھے ۔
Umm Salama رضی اللہ تعالیٰ عنہا reported:
I made a complaint to Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) of my ailment, whereupon be said: Circumambulate behind the people while riding. She said: So I circumambulated and Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) was at that time praying towards the side of the House and he was reciting al-Tur and a Book Inscribed (i. e. Sura Iii. of the Qur'un).
ہم سے یحییٰ بن یحییٰ نے بیان کیا، انہوں نے کہا: میں نے مالک سے، محمد بن عبدالرحمٰن بن نوفل سے، عروہ سے، زینب بنت ابی کے واسطہ سے۔ سلامہ، کے بارے میں حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے ، کہا
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے شکوہ کیا کہ میں بیمار ہوں تو آپ نے فرمایا : " سوار ہوکر لوگوں کے پیچھے سے طواف کرلو ۔ " انھوں نے کہا : جب میں نے طواف کیا تو اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیت اللہ کی ایک جانب نماز ادا فرمارہے تھے ، اور ( نماز میں ) ( وَالطُّورِ﴿﴾ وَكِتَابٍ مَّسْطُورٍ ) کی تلاوت فرمارہے تھے ۔
Hisham bin 'Urwa reported on the authority of his father who narrated from 'A'isha رضی اللہ تعالیٰ عنہا . He said to 'A'isha رضی اللہ تعالیٰ عنہا :
I think if a person does not run between al- Safa' and al-Marwa, It does not do any harm to him (so far as Hajj is concerned). She said: Why (do you think so)? I said: For Allah says: Verily al-Safa' and al-Marwa are among the Signs of Allah (ii. 158) (to the end of the verse), whereupon she said: Allah does not complete the Hajj of a person or his Umra if he does not observe Sa'i between al-Safa' and al-marwa; and if it were so as you state, then (the wording would have been (fala janah an la yatufu biha) [ There is no harm for him if he does not circumambulate between them']. Do you know in what context (this verse was revealed)? (It was revealed in this context) that the Ansar in the Days of Ignorance pronounced the Talbiya for two idols. (fixedl on the bank of the river which were called Isaf and Na'ila. The people went there, and then circumambulated between al-Safa' and al-Marwa and then got their heads shaved. With the advent of Islam they (the Muslims) did not like to circumambulate between them as they used to do during the Days of Ignorance. It was on account of this that Allah. the Exalted and Majestic, revealed: Verily al-Safe and al-Marwa are among the Signs of Allah to the end of the verse. She said: Then people began to observe Sa'i.
ہم سے یحییٰ بن یحییٰ نے بیان کیا، انہوں نے بیان کی ہمیں ابو معاویہ نے ہشام بن عروہ سے خبر دی ، انھوں نے اپنے والد ( عروہ بن زبیر ) سے ، انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے عرض کی : میرا خیال ہے کہ
اگر کوئی شخص صفا مروہ کے مابین سعی نہ کرے تو اسے کوئی نقصان نہیں ( اس کا حج وعمرہ درست ہوگا ۔ ) انھوں نے پوچھا : وہ کیوں؟میں نے عرض کی : کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتاہے : "" بے شک صفا مروہ اللہ کی نشانیوں میں سےہیں ، "" آخرتک ، "" ( پھر کوئی حج کرے یا عمرہ تو اس کو گناہ نہیں کہ وہ ان دونوں کاطواف کرے اور جس نے شوق سے کوئی نیکی کی تو اللہ قدردان ہے سب جانتا ہے ۔ ) "" انھوں نےجواب دیا : وہ شخص صفا مروہ کے مابین سعی نہیں کرتا ، اللہ تعالیٰ اس کا حج اور عمرہ مکمل نہیں فرماتا ۔ اگر بات اسی طرح ہوتی جس طرح تم کہہ رہے ہوتو ( اللہ کافرمان ) یوں ہوتا : "" اس شخص پر کوئی گناہ نہیں جواب دونوں کاطواف نہ کرے ۔ "" کیا تم جانتے ہوکہ یہ آیت کس بارے میں ( نازل ہوئی ) ہوئی تھی؟بلاشبہ جاہلیت میں انصار ان دو بتوں کے لئے احرام باندھتے تھے جو سمندر کے کنارے پر تھے ، جنھیں اساف اور نائلہ کہاجاتا تھا ، پھر وہ آتے اور صفا مروہ کی سعی کرتے ، پھر سر منڈا کر ( احرام کھو ل دیتے ) ، جب اسلام آیا تو لوگوں نے جاہلیت میں جو کچھ کر تے تھے ، اس کی وجہ سے ان دونوں ( صفا مروہ ) کا طواف کرنا بُرا جانا ، کیونکہ وہ جاہلیت میں ان کا طواف کیاکرتے تھے ۔ ( حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے ) فرمایا : اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمادی : "" بلاشبہ صفا مروہ اللہ کی نشانیوں میں سے ہیں ۔ "" آخر آیت تک ۔ فرمایا : تو لوگوں نے ( پھر سے ان کا ) طواف شروع کردیا ۔
Hisham bin 'Urwa narrated on the authority of his father who reported: I said to 'A'isha رضی اللہ تعالیٰ عنہا :
I do not see any harm to me if I do not circumambulate between al-Safa' and al-Marwa. She said: On what ground do you say so? (I said: ) Since Allah, the Exalted and Majestic, says: Verily al-Safa' and al-Marwa are among the Signs of Allah. It (your assertion) were (correct), it would have been said like this: There is no harm for him, that he should not circumambulate between them. It (this verse) has been revealed about the people of Ansar. Whenever they pronounced the Talbiya, they pronounced it in the name of al-Manat during the Days of Ignorance; so they (thought) that it was not permissible for them (for the Muslims) to circumambulate between and al-Marwa. When they (the Muslims) came with Allah's Apostle (may peace he upon him) for Hajj, they mentioned it to him. So Allah, the Exalted and Majestic, revealed this verse. By my life, Allah will not complete the Hajj of one who has not circumambulated between al-Safa and al-Marwa.
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا ابو اسامہ نے ہمیں حدیث بیان کی ، ( کہا : ) ہمیں ہشام بن عروہ نے حدیث بیان کی کہ مجھے میرے والد ( عروہ بن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ) خبر دی ، کہا : میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے عرض کی
میں اس بات میں اپنے اوپر کوئی گناہ نہیں سمجھتا کہ میں ( حج وعمرہ کے دوان میں ) صفا مروہ کے درمیان سعی نہ کروں ۔ انھوں نے فرمایا : کیوں؟میں نے عرض کی : اس لئے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ۔ : " بلا شبہ صفا مروہ اللہ کی نشانیوں میں سے ہیں ۔ ( پھر جو کوئی بیت اللہ کاحج کرے یا عمرہ اس پر گناہ نہیں کہ وہ ان دونوں کاطواف کرے ۔ ) " انھوں نے فرمایا اگر ( قرآن کی آیت کا ) وہ مفہوم ہوتا جو تم کہتے ہو ، تو یہ حصہ اس طرح ہوتا : " اس شخص پر کوئی گناہ نہیں جو ان دونوں کاطواف نہ کرے ۔ " اصل میں یہ آیت انصار کے بعض لوگوں کے متعلق نازل ہوئی ۔ وہ جاہلیت میں جب تلبیہ پکارتے تو مناۃ ( بت ) کا تلبیہ پکارتے تھے ۔ اور ( اس وقت کے عقیدے کے مطابق ) ان کے لئے صفا مروہ کا طواف حلال نہ تھا ، جب وہ لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حج پرآئے ۔ تو آپ سے اپنے اسی پرانے عمل کا ذکر کیا اس پر اللہ تعالیٰ نے آیت نازل فرمائی ۔ مجھے اپنی زندگی ( دینے والے ) کی قسم! اللہ تعالیٰ اس شخص کا حج پورا نہیں فرماتا جو صفا مروہ کا طواف نہیں کرتا ۔
Urwa bin Zabair رضی اللہ تعالیٰ عنہ reported:
I said to 'A'isha رضی اللہ تعالیٰ عنہا , the wife of Allah's Apostle ( صلی اللہ علیہ وسلم ): I do not see any (fault) in one who does not circumamblte between al-Safa' and al-Marwa, and I do not mind if I do not circumambulate between them, whereupon she said: O, the son of my sister, what you say is wrong. Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) observed Sa'i and so did the Muslims. So it is a Sunnah (of the Prophet). And it was a common practice (with the pagan Arabs) that those who pronounced Talbiya for the wretched al-Manat, situated at Mushalla, did not observe Sa'i between al-Safa' and al-Marwa. With the advent of Islam, we asked Allah's Apostle ( صلی اللہ علیہ وسلم ) about this practice, and (it was on this occasion) that Allah, the Exalted and Majestic, revealed this verse: Verily al-Safa' and al-Marwa are among the Signs of Allah ; so he who performed Hajj or 'Umra it is no sin on him if he circumambulates them. And if it were as you state, (then the wording would have been): There is no harm for him, that he should not circumambulate round them. Zuhri said: I made a mention of that to Abu Bakr b. 'Abd al- Rahman b. al-Harith b. Hisham; he was impressed by that and said: This is what is called knowledge. And I have heard many a scholar saying: Many of the Arabs who did not circumambulate between al-Safa' and al-Marwa caid: Our circumambulation between these two hills is an act of ignorance; whereas others among the Ansar said: We have been commanded to circumambulate the House, and not Commanded to run between al-Safa' and al-Marwa. So Allah, the Exalted and Majestic, revealed thia verse: Verily al-Safa' and al-Marwa are among the Signs of Allah. Abu Bakr bin 'Abdul-Rahman said: I think that this (verse) has been revealed for such and such (persons).
ہم سے عمرو ناقد اور ابن ابی عمر نے ابن عیینہ کی سند سے بیان کیا کہ انہوں نے ہم سے بیان کیا سفیان نے ہمیں حدیث سنائی ، کہا : میں نے زہری سے سنا ، وہ عروہ بن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے حدیث بیان کررہے تھے ، کہا
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اہلیہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے کہا : میں نہیں سمجھتا کہ کوئی شخص جس نے ( حج وعمرہ میں ) صفا مروہ کا طواف نہیں کیا اس پر کوئی گناہ ہوگا ۔ اور مجھے بھی کوئی پرواہ نہیں کہ میں صفا مروہ کا طواف ( کروں یا ) نہ کروں ۔ انھوں نے جواب دیا : بھانجے تم نے جو کہا ، وہ کتنا غلط ہے!رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ طواف کیا اور تمام مسلمانوں نے بھی کیا ۔ یہی ( حج وعمرے کا ) طریقہ قرار پایا ۔ اصل میں جو لوگ مناۃ طاغیہ ( بت ) کے لئے جو کہ مثلل میں تھا ، احرام باندھتے تھے وہ صفا مروہ کے مابین طواف نہیں کرتے تھے ۔ جب اسلام آیا تو ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے متعلق سوال کیا تو اللہ عزوجل نے یہ آیت نازل فرمائی؛ "" بلا شبہ صفا اور مروہ اللہ کی نشانیوں میں سے ہیں ، پس جو شخص بیت اللہ کا حج یا عمرہ کرے تو اس پر کوئی گناہ نہیں کہ وہ ان دونوں کا طواف کرے ۔ "" اگر وہ بات ہوتی جس طرح تم کہہ رہے ہوتو ( آیت کےالفاظ ) اس طرح ہوتے : "" تو اس پر کوئی گناہ نہیں جو ان دونوں کا طواف نہ کرے ۔ "" زہری نے کہا : میں نےاس بات کاذکر ( جو عروہ سے سنی تھی ) ابو بکر بن عبدالرحمن بن حارث بن ہشام سے کیا ، انھیں یہ بات بہت اچھی لگی ، انھوں نےفرمایا : بلا شبہ یہی تو علم ہے ۔ میں نے بھی کئی اہل علم سے سنا ، وہ کہتےتھے : عربوں میں سے جو لوگ صفا مروہ کے درمیان طواف نہ کرتے تھے وہ کہتے تھے : ان دو پتھروں کے درمیان طواف کرنا تو جاہلیت کے معاملات میں سے تھا ، اور انصار میں سے کچھ اور لوگوں نے کہا : ہمیں توصرف بیت اللہ کے طواف کاحکم دیا گیا ہے ۔ صفا مروہ کے مابین ( طواف ) کاتوحکم نہیں دیاگیا ۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمادی "" بلاشبہ صفا مروہ اللہ کی نشانیوں میں سے ہیں ۔ ابو بکر بن عبدالرحمن نے کہا : مجھے لگتاہے یہ آیت ان دونوں طرح کےلوگوں کے بارے میں نازل ہوئی ۔
Urwa bin Zubair رضی اللہ تعالیٰ عنہ reported:
I asked 'A'isha ( رضی اللہ تعالیٰ عنہا); the rest of the hadith is the same. And in this hadith (these words are also found): When they (the Companions of the Holy Prophet) asked Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) about this, they said: Messenger of Allah, we felt reluctant to circumambulate between al-Safa' and al-Marwa. Then Allah, the Exalted and Majestic, revealed this verse: Verily al-Safa' and al-Marwa are among the Signs of. Allah so he who perform Hajj or Umra it is no sin on him if he should circumambulate between them. 'A'isha ( رضی اللہ تعالیٰ عنہا) said: Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) laid down this Sa'i between them as Sunnah (of the Holy Prophet). So it is not advisable for anyone to abandon this Sa'i between them.
مجھ سے محمد بن رافع نے بیان کیا، ہم سے حوین بن المثنیٰ نے بیان کیا، ہم سے لیث نے بیان کیا،عقیل نے ابن شہاب سے روایت کی انھوں نے کہا : مجھے عروہ بن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے خبر دی کہا
میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے پو چھا : اور ( آگے ) اسی ( سفیان کی ابن شہاب سے ) روایت کے مانند حدیث بیان کی اور ( اپنی ) حدیث میں کہا : جب انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنے اس عمل کے متعلق سوال کیا تو کہا : اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! ہم تو صفامروہ کا طواف کرنے میں حرج محسوس کیا کرتے تھے تو اللہ تعا لیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی : "" بلا شبہ صفا مروہ اللہ کی نشانیوں میں سے ہیں تو جو کوئی بیت اللہ کا حج کرے یا عمرہ تو اس پر کو ئی گناہ نہیں کہ وہ ان دونوں کا طواف کرے ۔ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے فر ما یا : ان دونوں کے مابین طواف کا طریقہ تو اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مقرر فرمایا : کسی کو اس بات کا حق نہیں کہ ان دونوں کے درمیان طواف کو ترک کر دے ۔
Urwa bin Zabair narrated on the authority of 'A'isha (رضی اللہ تعالیٰ عنہا) who informed him:
The Ansar and the people of the tribe of Ghassan before embracing Islam pronounced Talbiya for Manat, and so they avoided circumambulating between al-Safa' and al-Marwa, and it was a common practice with their forefather, that he who put on Ihram for Manat did not circumambulate between al-Safa' and al-Marwa. And when they embraced Islam, they asked Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) about it, and then Allah, the Exalted and Majestic, revealed this verse: Verily al-Safa' and al-Marwa are among the Signs of Allah ; so he who performs Hajj or Umra, for him there is no harm if he should circumambulate between them, and he who does good spontaneously-surely Allah is Bountiful in rewarding and Knowing.
ہم سے حرملہ بن یحییٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے ابن وہب نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھ سےیو نس نے ابن شہاب سے انھوں نے عروہ بن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے انھیں بتا یا کہ
انصار اور بنو غسان اسلام لا نے سے قبل مناۃ کا تلبیہ پکا را کرتے تھے اور اس بات میں سخت حرج محسوس کرتے تھے کہ وہ صفا مروہ کے مابین طواف کریں ۔ ( درحقیقت ) یہ طریقہ ان کے آباء واجداد میں رائج تھا کہ جو بھی مناۃ کے لیے احرا م باندھے وہ صفا مروہ کا طواف نہیں کرے گا ۔ ان لوگوں نے جب یہ اسلام لا ئے تو اس کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے استفسار کیا ۔ اس پر اللہ تعا لیٰ نے اس کے بارے میں یہ آیت نازل فرمائی : " بلاشبہ صفا مروہ اللہ کی نشانیوں میں سے ہیں تو جو شکس بیت اللہ کا حج یا عمرہ کرے اس پر کو ئی حرج نہیں کہ وہ ان دونوں کا طواف کرے اور جو کو ئی شوق سے نیکی کرے تو اللہ قدر دان ہے سب جا ننے والاہے ۔ "
Anas ( رضی اللہ تعالیٰ عنہ) reported:
The Ansar felt reluctant that they should circumambulate between al-Safa' and al-Marwa until it was revealed: Verily al-Safa' and al-Marwa are among the Signs of Allah ; so whoever performs Hajj or 'Umra, for him there is no harm that he should circumambulate between them.
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے ابو معاویہ نے عاصم کی سند سے بیان کیا, حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہا
انصار صفا مروہ کے در میان طواف کرنا نا پسند کرتے تھے یہاں تک کہ ( یہ آیت ) نازل ہوئی : " بلا شبہ صفا مروہ اللہ کی نشانیوں میں سے ہیں تو جو کو ئی بیت اللہ کا حج یا عمرہ کرے تو اس پر کو ئی گناہ نہیں کہ وہ ان دونوں کا طواف کرے ۔
Jabir bin 'Abdullah رضی اللہ تعالیٰ عنہ reported:
Allah's Apostle ( صلی اللہ علیہ وسلم ) and his Companions did not observe Sa'i between al-Safa' and al-Marwa but only one Sa'i.
مجھ سے محمد بن حاتم نے بیان کیا، انہوں نے ہم سے بیان کیا ہمیں یحییٰ بن سعید نے ابن جریج سے حدیث بیان کی : ( کہا : ) مجھے ابو زبیر نے خبر دی کہ انھوں نے جا بر بن عبد اللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا وہ فر ما رہے تھے
نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحا بہ نے صفا مروہ کے ایک ( بار کے ) طواف ( سعی ) کے سوا کو ئی اور طواف نہیں کیا.
Ibn Juraij reported on the same authority a hadith like that, and said:
But one Tawaf and that was the first Tawaf.
ہم سے عبد بن حمید نے بیان کیا، انہوں نے بیان کیا ہمیں محمد بن بکر نے خبر دی ( کہا : ) ہمیں ابن جریج نے اسی سند کے ساتھ اس کے مانند حدیث بیان کی ، اور کہا
سوائے ایک ( بار کے ) طواف ( یعنی ) پہلے طواف کے ۔
Usama bin Zaid (رضی اللہ تعالیٰ عنہ) reported:
I was sitting behind Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) on the riding animal from 'Arafat. As Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) reached the left side of the mountain which was situated near Muzdalifa, he made the camel kneel down and made water and then came back. I poured water and he, performed light ablution. I then said: Messenger of Allah, it is time for prayer. Thereupon Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) said: The prayer awaits you (at the next station, Muzdalifa). Allah's Messenger (رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) rode on until he came to Muzdalifa and observed prayer. Then al-Fadl (Allah be pleased with him) sat behind Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) and reached (Muzdalifa) in the morning. Kuraib said: 'Abdullah bin 'Abbas (رضی اللہ تعالیٰ عنہ) narrated from al-Fadl (رضی اللہ تعالیٰ عنہ) that Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) continued pronouncing Talbiya until he reached al-Jamara (al-'Aqaba).
ہم سے یحییٰ بن ایوب، قتیبہ بن سعید اور ابن حجر نے بیان کیا، انہوں نے کہا: ہم سے اسماعیل نے بیان کیا، اور ہم سے یحییٰ بن یحییٰ نے بیان کیا اور کلام بھی۔ اس سے انہوں نے کہا: ہمیں اسماعیل بن جعفر نے محمد بن ابی حرملہ کی سند سے اور کریب کے آزاد کردہ غلام کی خبر دی, ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے آزاد کردہ غلام کریب نے حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہا
عرفات سے ( واپسی کے وقت ) میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ( اونٹنی پر ) سوار ہوا ، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دائیں طرف والی اس گھاٹی پر پہنچے جو مزدلفہ سے ذرا پہلے ہے آپ نے اپنا اونٹ بٹھا یا پیشاب سے فارغ ہو ئے پھر ( واپس ) تشریف لا ئے تو میں نے آپ ( کے ہاتھوں ) پر وضو کا پا نی ڈا لا ۔ آپ نے ہلکا وضو کیا پھر میں نے عرض کی : اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !نماز؟ آپ نے فر ما یا : "" نماز آگے ( مزدلفہ میں ) ہے ۔ اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سوار ہو ئے حتیٰ کہ مزدلفہ تشریف لائے اور نماز ادا کی پھر ( اگلے دن ) مزدلفہ کی صبح حضرت فضل ( بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اونٹنی پر سوار ہو ئے ۔ کریب نے کہا : مجھے عبد اللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فضل رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہو ئے خبر دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جمرہ ( عقبہ ) پہنچنے تک تلبیہ پکارتے رہے ۔
Ibn Abbas ( رضی اللہ تعالیٰ عنہ) reported:
Allah's Apostle ( صلی اللہ علیہ وسلم ) made al-Fadl sit behind him (on the camel back) from the place (where the two prayers) are combined (Muzdalifa). Ibn Abbas (رضی اللہ تعالیٰ عنہ) also informed that Allah's Apostle ( صلی اللہ علیہ وسلم ) did not stop pronouncing Talbiya till he threw pebbles at Jamrat al-'Aqaba.
ہم سے اسحاق بن ابراہیم اور علی بن خشرم نے بیان کیا، ان دونوں نے عیسیٰ بن یونس کی سند سے کہا: ہم سے عیسیٰ نے ابن جریج کی سند سے بیان کیا۔ مجھ سے عطاء نے بیان کیا، مجھ سے ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کیا
نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مزدلفہ سے فضل رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو اپنے ( ساتھ اونٹنی پر ) پیچھے سوار کیا ۔ ( پھر ) کہا : مجھے ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے خبر دی فضل رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے انھیں بتا یا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جمرہ عقبہ کو کنکریاں مارنے تک مسلسل تلبیہ پکا رتے ر ہے ۔
Ibn 'Abbas رضی اللہ تعالیٰ عنہ narrated from al-Fadl bin Abbas (رضی اللہ تعالیٰ عنہ):
Who sat behind Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) that he (the Holy Prophet) said to the people on the evening of 'Arafa and on the morning to the gathering of people (at Muzdalifa) as they were pushing on to proceed slowly. And he himself drove his she-camel with restraint until he entered Muhassir (it is a place in Mina), and further told them to take up pebbles which were to be thrown at Jamra. And Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) continued pronouncing Talbiya till he stoned the Jamra.
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، ہم سے لیث نے بیان کیا، ان سے حذیفہ نے بیان کیا، ان سے ابن رومح نے بیان کیا، ان سے لیث نے بیان کیا، ان سے ابو الزبیر نے بیان کیا، وہ ابو معبد کے مؤکل سے, ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے آزاد کردہ غلا م ابو معبد نے ( عبد اللہ ) ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اور انھوں نے فضل بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی اور
وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ( ساتھ اونٹنی پر ) پیچھے سوار تھے آپ نے عرفہ کی شام اور مزدلفہ کی صبح لوگوں کے چلنے کے وقت انھیں تلقین کی : سکون سے ( چلو ) "" اور آپ اپنی اونٹنی کو ( تیز چلنے سے ) روکے ہو ئے تھے حتیٰ کہ آپ وادی محسر میں دا خل ہوئے ۔ ۔ ۔ وہ منیٰ ہی کا حصہ ہے ۔ ۔ ۔ آپ نے فرما یا : "" تم ( دو انگلیوں کے درمیان رکھ کر ) ماری جا نے والی کنکریاں ضرور لے لو جن سے جمرہ عقبہ کورمی کی جا ئے گی ۔ "" ( فضل بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ) کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جمرہ عقبہ کو کنکریاں مارنے تک مسلسل تلبیہ پکا رتے رہے ۔
This hadith has been narrated on the authority of Abd Zubair with the same chain of transmitters but with this variation that in the hadith no mention is made of (this):
Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) continued pronouncing Talbiya till he stoned the Jamra, and he made this addition in his hadith: The Apostle ( صلی اللہ علیہ وسلم ) pointed with his hand how a person should catch hold of pebbles (in order to throw them).
مجھ سے زہیر بن حرب نے بیان کیا، ہم سے یحییٰ بن سعید نے بیان کیا، ابن جریج سے روایت ہے : ( کہا : ) مجھے ابو زبیر نے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی ، انھوں نے ( اپنی ) حدیث میں یہ ذکر نہیں کیا کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جمرہ عقبہ کو کنکریاں مارنے تک مسلسل تلبیہ پکارتے رہے البتہ اپنی حدیث میں یہ اضافہ کیا : اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ہاتھ سے ( اس طرح ) اشارہ کر رہے تھے جیسے انسان ( اپنی انگلیوں سے ) کنکرپھینکتا ہے ۔