A similar report (as no. 3030) was narrated from Ibn Shihab with this chain:
He ﷺ said: "By the one in whose Hand in the soul of Muhammad."
قتیبہ بن سعید نے کہا، "بیان کیا"لیث نے ابن شہاب سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند روایت بیان کی
" ( اس میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ) فرمایا : " اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم جا ن ہے! "
Hanzala bin 'Ali al-Aslaml reported:
He had heard Abu Huraira ( رضی اللہ تعالیٰ عنہ) as saying that Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) had said: By Him In Whose Hand is my life; the rest of the hadith is the same.
مجھ سے حرملہ بن یحییٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے ابن وہب نے بیان کیا، انہوں نے کہا یو نس نے مجھے ابن شہاب سے خبر دی انھوں نے حنظلہ بن علی اسلمی سے روایت کی کہ
انھوں نے ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ، وہ کہہ رہے تھے اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اس ذات کی قسم جس کے ہا تھ میں میری جان ہے! " ( آگے سفیان اور لیث بن سعد ) دونوں کی حدیث کے مانند ہے ۔
Qatida saia:
Anas (رضی اللہ تعالیٰ عنہ) had informed him that Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) performed four 'Umras, all during the month of Dhu'l-Qa'da except the one he performed along with Hajj (and these are) the Umra that he performed from al-Hudaibiya or during the time of (the truce of) Hudaibiya in the month of Dhu'l-Qa'da then the Umra of the next year in the month of Dhu'l-Qa'da, then the Umra for which b'e had started from ji'rana, the place where he distributed the spoils of (the battle of) Hunain in the month of Dhu'l-Qa'da, and then the 'Umra that he performed along with his Hajj (on the occasion of the Farewell Pilgrimage).
ہداب بن خالد نے ہمیں حدیث سنا ئی ( کہا ) ہمیں ہمام نے حدیث بیان کی ، انھوں نے کہا ) ہمیں قتادہ نے حدیث بیان کی کہ
حجرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے انھیں بتا یا : اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( کل ) چار عمرے کیے ، اور اپنے حج والے عمرے کے سوا تمام عمرے ذوالقعدہ ہی میں کیے ۔ ایک عمرہ حدیبیہ سے یا حدیبیہ کے زمانے کا ذوالقعد ہ میں ( جو عملاً نہ ہو سکا لیکن حکماً ہو گیا ) اور دوسرا عمرہ ( اس کی ادائیگی کے لیے ) اگلے سال ذوالقعدہ میں ادا فرمایا ( تیسرا ) عمرہ جعرانہ مقام سے ( آکر ) کیا جہا ں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حنین کے اموال غنیمت تقسیم فرما ئے ۔ ( یہ بھی ) ذوالقعدہ میں کیا اور ( چوتھا ) عمرہ آپ نے اپنے حج کے ساتھ ذوالحجہ میں ) ادا کیا ۔
Qatada said:
I asked Anas (رضی اللہ تعالیٰ عنہ) as to how many Pilgrimages had been performed by Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ), and he replied: One Hajj and four `Umras were performed by him. The rest of the hadith is the same.
محمد بن مثنیٰ نے ہمیں حدیث بیان کی ، ( کہا : ) مجھے عبد الصمد نے حدیث سنا ئی ( کہا ) ہمیں ہمام نے حدیث بیان کی ( کہا : ) ہمیں قتادہ نے حدیث بیان کی ، کہا
میں نے حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے پو چھا : اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کتنے حج کیے ؟ انھوں نے کہا : حج ایک ہی کیا ( البتہ ) عمرے چار کیے ، پھر آگے ہذاب کی حدیث کے مانند بیان کیا ۔
Abu lshaq said:
I asked Zaid bin Arqam رضی اللہ تعالیٰ عنہ : In how many military expeditions have you participated with Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم )? He said: In seventeen (expeditions). He (Abu Ishaq) said: Zaid bin Arqam رضی اللہ تعالیٰ عنہ reported to me that Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) had led nineteen expeditions. And he performed Hajj only once after Migration, and that was the Farewell Pilgrimage. Abu Ishaq also said: The second (Hajj) he performed at Mecca (before his Migration to Medina)
مجھ سے زہیر بن حرب نے بیان کیا، کہا ہم سے حسن بن موسیٰ نے بیان کیا، ہم سے زہیر نے بیان کیا, ابو اسحاق سے روایت ہے کہا
میں نے زید بن را قم رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے پو چھا : آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مل کر کتنی جنگیں لریں؟کہا : سترہ ۔ ( ابو اسحا ق نے ) کہا : مجھے زید بن را قم رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حدیث بیان کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( کل ) انیس غزوے کیے ۔ آپ نے ہجرت کے بعد ایک ہی حج حجۃ الوداع ادا کیا ۔ ابو اسحاق نے کہا : آپ نے مکہ میں ( رہتے ہو ئے ) اور حج ( بھی ) کیے ۔
Ataa reported:
'Urwa bin Zubair (Allah be pleased with him) had informed him (this): I and Ibn 'Umar رضی اللہ تعالیٰ عنہ were reclining against the (wall) of the apartment of A'isha رضی اللہ تعالیٰ عنہا and we were listening to the sound produced by the brushing of her teeth. I said Abu Abdul-Rahman (the kunya of 'Abdullah bin Umar رضی اللہ تعالیٰ عنہ), did Allah's Apostle ( صلی اللہ علیہ وسلم ) perform 'Umra in the month of Rijab? He said: Yes. I said to 'A'isha: Mother, are you listening to what Abu Abdul-Rabman is saying? She said: What is he Saying? I said: He is saying that Allah's Apostle ( صلی اللہ علیہ وسلم ) performed 'Umra during the month of Rajab, whereupon she said: May Allah grant pardon to Abu Abdul-Rahman I By my life he (the Holy Prophet) did not perform 'Umra during the month of Rajab. And never was there an Umra performed by him (the Holy Prophet) in which he ('Abdullah bin 'Umar رضی اللہ تعالیٰ عنہ) did not join him. Ibn 'Umar رضی اللہ تعالیٰ عنہ heard this and said nothing to affirm It or to deny it, but kept quiet.
ہم سے ہارون بن عبداللہ نے بیان کیا، کہا ہم سے محمد بن بکر البرسانی نے بیان کیا، کہا ہم سے ابن جریج نے بیان کیا، انہوں نے کہا: میں نے سنا, عطاء نے خبردی کہا
مجھے عروہ بن زبیر نے خبردی کہا : میں اور ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے حجرے کے ساتھ ٹیک لگا ئے بیٹھے تھے اور ان کی ( دانتوں پر ) مسواک رگڑنے کی آواز سن رہے تھے ۔ عروہ نے کہا : میں نے پو چھا : ابو عبد الرحمٰن ( ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی کنیت ! ) کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نےر جب میں بھی عمرہ کیا تھا ؟انھوں نے کہا : ہاں ۔ میں نے ( وہیں بیٹھے بیٹھے ) حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو پکا را ۔ میری ماں !کیا آپ ابو عبد الرحمٰن کی بات نہیں سن رہیں وہ کیا کہہ رہے ہیں ؟ انھوں نے کہا ( بتا ؤ ) وہ کیا کہتے ہیں ؟ میں نے عرض کی وہ کہتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے رجب میں ( بھی ) عمرہ کیا تھا ۔ انھوں نے جواب دیا : اللہ تعا لیٰ ابو عبد الرحمٰن کو معاف فر ما ئے مجھے اپنی زندگی کی قسم !آپ نے رجب میں کو ئی عمرہ نہیں کیا ۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی عمرہ نہیں کیامگر یہ ( ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) بھی آپ کے ساتھ ہو تے تھے ۔ ( عروہنے ) کہا : ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ( حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی گفتگو ) سن رہے تھے ) انھوں نے ہاں یا ناں کچھ نہیں کہا ، خاموش رہے ۔
Mujahid reported:
I and 'Urwah bin Zubair entered the mosque and found 'Abdullah bin 'Umar رضی اللہ تعالیٰ عنہ sitting near the apartment of A'ishah رضی اللہ تعالیٰ عنہا and the people were observing the forenoon prayer (when the sun had sufficiently risen). We asked him about their prayer, and he said: It is bid'a (innovation), Urwah said to him: O Abu Abdul-Rahman, how many 'umrahs did Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) perform? He said: Four 'umrahs, one he performed during the month of Rajab. We were reluctant either to believe him or reject him. We heard the noise of brushing of her teeth by 'A'ishah رضی اللہ تعالیٰ عنہا in her apartment. 'Urwah said: Mother of the Faithful, are you not hearing what Abi 'Abdul-Rahman is saying? She said: What is he saying? Thereupon he ('Urwah) said: He (Ibn 'Umar) states that Allah's Apostle ( صلی اللہ علیہ وسلم ) performed four 'umrahs and one of them during the month of Rajab. Thereupon she remarked: May Allah have mercy upon Abu 'Abdul-Rahman. Never did Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) perform 'Umrah in which he did not accompany him, and he (Allah's Apostle) never performed 'Umrah during the month of Rajab.
ہم سے اسحاق بن ابراہیم نے بیان کیا، کہا ہم سے جریر نے منصور کی سند سے بیان کیا, مجا ہد سے روایت ہے کہا
میں اور عروہ بن زبیر مسجد میں داخل ہو ئے دیکھا تو عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ مسجد میں حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے حجرے ( کی دیوار ) سے ٹیک لگا ئے بیٹھے تھے اور لو گ مسجد میں چاشت کی نماز پڑھنے میں مصروف تھے ۔ ہم نے ان سے لوگوں کی ( اس ) نماز کے بارے میں سوال کیا ، انھوں نے فرمایا کہ بدعت ہے ۔ عروہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ان سے پو چھا : ابو عبد الرحمٰن !رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( کل ) کتنے عمرے کیے ؟انھوں نے جواب دیا : چار عمرے اور ان میں سے ایک رجب کے مہینے میں کیا ۔ ( ان کی یہ بات سن کر ) ہم نے انھیں جھٹلا نا اور ن کا رد کرنا منا سب نہ سمجھا ، ( اسی دورا ن میں ) ہم نے حجرے میں حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے مسواک کرنے کی آواز سنی ۔ عروہ نے کہا : المومنین !ابو عبد الرحمٰن کو کہہ رہے ہیں آپ نہیں سن رہیں؟ انھوں نے کہا وہ کیا کہتے ہیں؟ ( عروہنے ) کہا : وہ کہتے ہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے چار عمرے کیے اور ان میں سے ایک عمرہ رجب میں کیا ہے انھوں نے فرمایا : اللہ تعا لیٰ ابو عبد الرحمٰن پر رحم فر ما ئے !رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جتنے بھی عمرے کیے یہ ( ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) ان کے ساتھ تھے ( یہ بھول گئے ہیں ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے رجب میں کبھی عمرہ نہیں کیا ۔
Ataa reported:
I heard Ibn Abbas (رضی اللہ تعالیٰ عنہ) narrating to us that Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) said to a woman of the Ansar (Ibn Abbas رضی اللہ تعالیٰ عنہ had mentioned her name but I have forgotten it): 'What has prevented you that you do not perform Hajj along with us? She said: We have only two camels for carrying water. One of the camels has been taken by my husband and my son for performing Hajj and one has been left for us for carrying water, whereupon he (the Holy Prophet) said: So when the month of Ramadan come, perform Umra, for 'Umra in this (month) is equal to Hajj (in reward).
مجھ سے محمد بن حاتم بن میمون نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ بن سعید نے بیان کیا, ابن جریج نے کہا : مجھے عطا ء نے خبر دی کہا
میں نے ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا وہ ہمیں ھدیث بیان کر رہے تھے ۔ کہا اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک انصار یہ عورت سے فرمایا ۔ ۔ ۔ ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس کا نام بتا یا تھا لیکن میں بھول گیا ہوں ۔ ۔ ۔ ۔ تمھیں ہمارے ساتھ حج کرنے سے کس بات نے روک دیا ؟اس نے جواب دیا : ہمارے پاس پانی ڈھونے والے دو ہی اونٹ تھے ۔ ایک پر اس کے بیٹے کا والد ( شوہر ) اور بیٹا حج پر چلے گئے ہیں اور ایک اونٹ ہمارے لیے چھوڑ گئے ہم اس پر پانی ڈھوتے ہیں ۔ آپ نے فرمایا : " جب رمضان آئے تو تم عمرہ کرلینا کیونکہ اس ( رمضان ) میں عمرہ کرنا حج کے برابر ہے ۔
Ibn Abbas رضی اللہ تعالیٰ عنہ reported:
Allah's Apostle ( صلی اللہ علیہ وسلم ) said to a woman of the Ansar who was called Umm Sinan: What has prevented you that you did not perform Hajj with us? She said: The father of so and so (i. e. her husband) had only two camels. One of them had been taken away by him (my busbard) and his son for Hajj, whereas the other one is used by our boy to carry water. Upon this he (the Holy Prophet) said: Umra during the month of Rawadin would suffice for Hajj or Hajj along with me.
ہم سے احمد بن عبدہ الضبی نے بیان کیا، کہا ہم سے یزید یعنی ابن زرعی نے بیان کیا, حبیب معلم نے ہمیں حدیث سنا ئی ، انھوں نے عطا ء سے انھوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ
اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک انصاری عورت سے جسے ام سنان کہا جا تا تھا کہا : " تمھیں کس بات نے روکا کہ تم ہمارے ساتھ حج کرتیں ؟ " اس نے کہا : ابو فلاں ۔ ۔ ۔ اس کے خاوند ۔ ۔ ۔ کے پاس پانی ڈھونے والے دو اونٹ تھے ایک پر اس نے اور اس کے بیٹے نے حج کیا اور دوسرے پر ہمارا غلام پانی ڈھوتا تھا ۔ آپ نے فر ما یا : " رمضان المبارک میں عمرہ حج یا میرے ساتھ حج ( کی کمی ) کو پورا کر دیتا ہے
Ibn 'Umar رضی اللہ تعالیٰ عنہ reported:
Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) used to come out (of Medina) by way of al-Shajarah and entered it by the way of al-Mu'arras and whenever he entered Mecca, he entered it from the upper side and went out of it from the lower side.
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا محمد بن عبد اللہ بن نمیر نے کہا : ہمیں میرے والد نے حدیث سنا ئی ( کہا : ) ہمیں عبید اللہ نے نافع سے انھوں نے ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے حدیث بیان کی کہ
اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ( مدینہ سے ) شجرہ کے راستے سے نکلتے اور معرس کے راستے سے داخل ہو تے تھے ۔ اور جب مکہ میں داخل ہو تے تو ثنیہ علیا سے داخل ہو تے اور ثنیہ سفلیٰ سے باہر نکلتے تھے ۔
This hadith has been narrated on the authority of 'Ubaidullah with the same chain of transmitters and in the narration transmitted by Zubair (it is mentioned):
The upper side is that 'which is at al-Batha
زہیر بن حرب اور محمد بن مثنیٰ نے کہا : ہمیں یحییٰ بن سعید قطا ن نے عبید اللہ سے اسی مذکورہ بالا سند سے روایت کی ، اور زہیر کی روایت میں ہے
وہ بالائی ( گھاٹی ) جو بطحا ء کے قریب ہے ۔
A'isha ( رضی اللہ تعالیٰ عنہا) reported:
When Allah's Messenger ﷺ came to Mecca he entered from its upper side and came out from its lower side.
ہم سے محمد بن مثنیٰ اور ابن ابی عمر نے ابن عیینہ کی سند سے بیان کیا، کہا: ہم سے انہوں نے بیان کیا سفیان بن عیینہ نے ہشام بن عروہ سے انھوں نے اپنے والد ( عروہ بن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ) انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی کہ
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم مکہ آئے تو اس کی بالائی جا نب سے اس میں دا خل ہوئے اور زیریں جا نب سے آپ ( مکہ سے ) باہر نکلے ۔
A'isha (رضی اللہ عنہا ) reported:
Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) entered Mecca during the year of Victory from Kada I. e. from the upper side. Hisham said.. My father entered It from both the Fides, but generally he entered from Kada.
ہم سے ابو کریب نے بیان کیا، کہا ہم سے ابو اسامہ نے بیان کیا، انہوں نے ہشام سے، اپنے والد سے، عائشہ رضی اللہ عنہا سے
اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فتح مکہ والے سال کداء سے مکہ کی با لا ئی جا نب سے مکہ میں دا خل ہوئے تھے ۔ ہشا م نے کہا : میرے والد دونوں ( بالائی اور زیریں ) جانبوں سے مکہ میں داخل ہو تے تھے لیکن اکثر اوقات وہ کداء ہی سے داخل ہو تے ۔
It was narrated from Nafi, from Ibn Umar ( رضی اللہ تعالیٰ عنہ):
The Messenger of Allah ﷺ stayed overnight in Dhutuwa until morning, then he entered Makkah. He said "'Abdullah used to do that." In the report of (one of the narrators) Ibn Saeed it says: "Until he prayed Subh." Yahya said: "Or he said: 'Until morning came."'
زہیر بن حرب اور عبید اللہ بن سعید نے مجھے حدیث سنا ئی ۔ دونوں نے کہا : ہمیں یحییٰ القطان نے حدیث بیان کی انھوں نے عبید اللہ سے روایت کی ، ( کہا )
"رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صبح تک ذو الٰہی میں رات گزاری، پھر مکہ میں داخل ہوئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اور عبداللہ رضی اللہ عنہ ایسا کرتے تھے، اور ابن سعید کی روایت میں ہے۔" مبارک ہو یہاں تک کہ صبح کی نماز پڑھ لی، یحییٰ نے کہا: یا فرمایا: صبح کی نماز تک۔
Nafi' reported:
Ibn Umar ( رضی اللہ تعالیٰ عنہ) did not enter Mecca without spending the night at Dhi Tawu until it was dawn, when he took a bath, and then entered Mecca in the morning, and made a mention that Allah's Apostle ( صلی اللہ علیہ وسلم ) did that.
ہم سے ابو الربیع الزہرانی نے بیان کیا، انہوں نے کہا حماد نے ایوب سے حدیث بیان کی ، انھوں نے نافع سے روایت کی کہ
ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ جب بھی مکہ آتے تو ذی طویٰ ( کے مقام ) ہی میں رات گزارتے حتی کہ صبح ہو جا تی غسل فر ماتے پھر دن کے وقت مکہ میں داخل ہو تے ۔ وہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے ذکر کرتے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا ہی کیا تھا ۔
Abdullah (bin 'Umar رضی اللہ تعالیٰ عنہ) reported:
Whenever Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) entered Mecca, he got down at Dhi Tuwa and spend the night there until he observed the dawn prayer. And Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) observed this prayer on a rough hillock, and not in the mosque which had been then built there, but to the lower side of it (the mosque) on a hillock.
ہم سے محمد بن اسحاق المسیبی نے بیان کیا، انہوں نے مجھ سے بیان کیا انس یعنی ابن عیاض نے موسیٰ بن عقبہ سے انھوں نے نافع سے روایت کی کہ عبداللہ ( بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) نے انھیں حدیث بیان کی کہ
اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم جب مکہ تشریف لا تے تو پہلے ذی طویٰ میں پڑاؤ فر ما تے ۔ وہاں رات بسر کرتے یہاں تک کہ صبح کی نماز ادا کرتے ( پھر مکہ میں داخل ہو تے ) اور للہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے نماز پڑھنے کی جگہ چھوٹے مضبوط ٹیلے پر تھی اس مسجد میں نہیں جو وہاں بنا ئی گئی ۔ ہے بلکہ اس سے نیچے مضبوط ٹیلے پر ۔
Nafi' reported:
Abdullah (bin 'Umar رضی اللہ تعالیٰ عنہ) informed him that Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) turned his face to the two hillocks which intervened between him and the long mountain by the side of the Ka'ba, and the mosque which had been built there was thus on the left of the hillock. Allah's Messenger's ( صلی اللہ علیہ وسلم ) place of prayer was lower than the black hillock, at a distance of ten cubits or near it. He ( صلی اللہ علیہ وسلم ) would then observe prayer facing these two hillocks of the long mountain that is intervening between you and the Ka'ba.
ہم سے محمد بن اسحاق المسیبی نے بیان کیا، ان سے انس نے، یعنی مجھ سے ابن عیاض نے بیان کیا, موسیٰ بن عقبہ سے روایت ہے انھوں نے نافع سے روایت کی کہ
عبد اللہ ( بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) نے انھیں بتا یا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیت اللہ کے رخ پر اس پہاڑ کی دونوں گھاٹیوں کو سامنے رکھا جو آپ کے اور لمبے پہاڑ کے در میان تھا آپ اس مسجد کو جو وہاں بنا دی گئی ہے ٹیلے کے کنا رے والی مسجد کے بائیں ہاتھ رکھتے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز پڑھنے کی جگہ اس مسجد سے نیچے کا لے ٹیلے پر تھی ٹیلے سے تقریباً دس ہا تھ ( جگہ ) چھوڑتے پھر آپ لمبے پہاڑ کی دونوں گھاٹیوں کی جا نب رخ کر کے نماز پڑھتے وہ پہاڑ جو تمھا رے اور کعبہ کے درمیان پڑتا ہے ۔
Nafi' reported on the authority of Ibn Umar (رضی اللہ تعالیٰ عنہ):
When Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) circumambulated the House, while observing the first circumambulation, he walked swiftly in three (circuits), and walked in four circuits, and ran in the bottom of the valley as he moved between al-Safa and al-Marwa. Ibn 'Umar (رضی اللہ تعالیٰ عنہ) also used to do like this.
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے عبداللہ بن نمیر نے بیان کیا، کہا ہم سے ابن نمیر نے بیان کیا، کہا ہم سے میرے والد نے بیان کیا، انہوں نے کہا عبید اللہ نے نافع سے انھوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے حدیث بیان کی کہ
اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم جب بیت اللہ کا پہلا طواف کرتے تو تین چکر چھوٹے چھوٹے قدموں سے کندھے ہلا ہلا کر تیز چلتے ہو ئے لگاتے اورچا ر چکر چل کر لگا تے اور جب صفا مروہ کے چکر لگا تے تو وادی کی ترا ئی میں دوڑتے ۔ اور ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بھی ایسا ہی کیا کرتے تھے ۔
Ibn 'Umar ( رضی اللہ تعالیٰ عنہ) reported:
When Allah's messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) circumambulated in Hajj and Umra he walked swiftly in the first three circuit about the House, and then walked in four circuits, and then observed two rak'ahs of prayer, and then ran between al-Safa and al-Marwa.
ہم سے محمد بن عباد نے بیان کیا، ہم سے حاتم نے، یعنی ہم سے ابن اسماعیل نے بیان کیا, موسیٰ بن عقبہ نے نافع سے انھوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ
اللہ کےرسول صلی اللہ علیہ وسلم آنے ( قدوم ) کے بعد سب سے پہلے حج و عمرے کا جو طواف کرتے اس میں آپ بیت اللہ کے تین چکر وں میں تیز رفتا ری سے چلتے پھر ( باقی ) چا ر میں ( عام رفتا ر سے ) چلتے ، پھر اس کے بعد دو رکعتیں ادا کرتے اور اس کے بعد صفا مروہ کے درمیان طواف کرتے ۔
Abdullah bin 'Umar (رضی اللہ تعالیٰ عنہ) reported:
I saw that when Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) came to Mecca and kissed the Black Stone, (in the first circumambulation) he moved quickly in three circuits out of seven circuits.
مجھ سے ابو الطاہر نے بیان کیا اور مجھ سے ہرملہ بن یحییٰ نے بیان کیا، انہوں نے کہا: ہم سے ابن وہب نے بیان کیا، مجھ سے یونس نے ابن شہاب سے بیان کیا, سالم بن عبد اللہ نے خبر دی کہ عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا آپ جب مکہ آتے طواف فرماتے اس کے سات چکروں میں سے پہلے تین میں چھوٹے قدم اٹھا تے ہو ئے تیز چلتے.