A'isha ( رضی اللہ تعالیٰ عنہا) reported:
The Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) came out on the 4th or 5th of Dhul'I-Hijja (for Pilgrimage to Mecca) and came to me, and he was very angry. I said: Messenger of Allah, who has annoyed you? May Allah cast him in fire I He said: Don't you know that I commanded the people to do an act, but they are hesitant. (Hakam said: I think that he said: They seem to be hesitant.) And if I were to know my affair before what I had to do subsequently, I would not have brought with me the sacrificial animals, and would have bought them (at Mecca) and would have put off lhram as others have done.
ابوبکر بن ابی شیبہ، محمد بن المثنی اور ابن بشار نے غندر کے بارے میں کہا, محمد بن جعفر ( غندر ) نے کہا : ہمیں شعبہ نے حکم سے حدیث بیان کی ، انھوں نے ( زین العابدین ) علی بن حسین سے ، انھوں نے ذاکون مولیٰ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی ، انھوں نے فر مایا
ذوالحجہ کے چار یا پانچ دن گزر چکے تھے کہ آپ میرے پاس ( خیمے میں تشریف لا ئے ، آپ غصے کی حالت میں تھے ، میں نے دریافت کیا : اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !آپ کو کس نے غصہ دلایا؟ اللہ اسے آگ میں دا خل کرے ۔ آپ نے جواب دیا : "" کیا تم نہیں جا نتیں !میں نے لوگوں کو ایک حکم دیا ( کہ جو قر بانی ساتھ نہیں لا ئے ، وہ عمرے کے بعد احرا م کھول دیں ) مگر اس پر عمل کرنے میں پس و پیش کررہے ہیں ۔ ۔ ۔ ۔ حکم نے کہا : میرا خیال ہے ( کہ میرے استا علی بن حسین نے ) "" ایسا لگتا ہے وہ پس و پیش کررہے ہیں ۔ "" کہا ۔ ۔ ۔ اگر اپنے اس معاملے میں وہ بات پہلے میرے سامنے آجا تی جو بعد میں آئی تو میں اپنے ساتھ قربانی نہ لا تا حتیٰ کہ میں اسے ( یہاں آکر ) خریدتا پھر میں ویسے احرام سے باہر آجا تا جیسے یہ سب ( صحابہ رضوان اللہ عنھم اجمعین عمرے کے بعد ) آگئے ہیں ۔
A'isha (رضی اللہ تعالیٰ عنہا) reported:
The Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) came out (for Pilgrimage) on The 4th or 5th of Dbu'l Hjjja. The rest of the hadith is the same, but he (the narrator) made no mention of the doubt of Hakam about his (the Prophet's) words: They were reluctant.
عبید اللہ بن معاذ نے کہا : مجھے میرے والد نے شعبہ سے باقی ماندہ سابقہ سند کے ساتھ حدیث بیان کی ، حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے ۔ انھوں نے فرمایا
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ذوالحجہ کی چار یا پانچ راتیں گزرنے کے بعد مکہ تشریف لا ئے آگے ( عبید اللہ بن معاذ نے ) غندر کی روایت کے مانند ہی حدیث بیان کی انھوں نے پس و پیش کرنے کے حوالےسے حکم کا شک ذکر نہیں کیا ۔
A'isha (رضی اللہ تعالیٰ عنہا) reported:
She put on Ihram for, Umra and arrived 'at Mecca) but did not circumambulate the House as she had entered in the period of menses, and then put on Ihram for Hajj and performed all the rituals concerning it (except circumambulating the House). The Apostle of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) said to her on the day of march (when pilgrims come to Mina): Your circumambulation would suffice both Hajj and Umra. She, however, felt reluctant. Thereupon the Prophet ( صلی اللہ علیہ وسلم ) sent her with 'Abdul-Rahman رضی اللہ تعالیٰ عنہ to Tan'im and she performed Umra (with separate rituals) after Hajj.
ہم سے محمد بن حاتم نے بیان کیا، کہا ہم سے بہز نے بیان کیا، کہا ہم سے وہیب نے بیان کیا، کہا ہم سے عبداللہ نے بیان کیا, طاوس نے سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی کہ
انھوں نے عمرے کا تلبیہ پکارا تھا مکہ پہنچیں ، ابھی بیت اللہ کا طواف نہیں کیا تھا کہ ایا م شروع ہو گئے ، انھوں نے حج کا تلبیہ کہا اور تمام مناسک ( حج ) ادا کیے ۔ واپسی کے دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے ( مخاطب ہو کر ) فر مایا : " تمھا را طواف تمھارے حج اور عمرے ( دونوں ) کے لیے کا فی ہے ۔ ( اب تمھیں مزید عمرے کی ضرورت نہیں ) " مگر وہ نہ مانیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں ( ان کے بھا ئی ) عبد الرحمٰن رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھ تنعیم بھیجا اور انھوں نے حج کے بعد ( ایک اور ) عمرہ ادا کیا ۔
A'isha (رضی اللہ تعالیٰ عنہا) reported:
She entered in the monthly period at Sarif, and took bath at 'Arafa (after the period was over). The messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) said to her: Your circumambulation between al Safa and al-Marwa is enough for your Hajj and 'Umra.
مجھ سے حسن بن علی الحلوانی نے بیان کیا، مجھ سے زید بن الحباب نے بیان کیا، مجھ سے ابراہیم بن نافع نے بیان کیا، مجھ سے عبداللہ بن ابی نجیح نے بیان کیا, مجا ہد نے حضرت عا ئشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہاسے روایت کی کہ
انھیں مقام سرف سے ایام شروع ہو ئے پھر وہ عرفہ میں جا کر پاک ہو ئیں ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا تھا : "" تمھا ری طرف سے تمھارا صفا مروہ کا طواف تمھا رے حج اور عمرے ( دونوں ) کے لیے کا فی ہے ۔
Safiyya bint Shaiba reported that 'A'isha ( رضی اللہ تعالیٰ عنہا) said:
Messenger of Allah ﷺ, the people are returning with two rewards whereas I am returning with one reward. Thereupon he commanded 'Abdul-Rahman bin Abu Bakr رضی اللہ تعالیٰ عنہ to take her to al-Tan'im. She ('A'isha رضی اللہ تعالیٰ عنہا) said: He seated me behind him on his camel. She (further) stated: I lifted my head covering and took it off from my neck. He struck my foot as if he was striking the camel. I said to him: Do you find anyone bere? She (further) said: I entered into the state of Ihram for 'Umra till we reached the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) and he was at Hasba.
ہم سے یحییٰ بن حبیب الحارثی نے بیان کیا، ہم سے خالد بن حارث نے بیان کیا، ہم سے قرہ نے بیان کیا، ہم سے عبدالحمید بن جبیر بن شیبہ نے بیان کیا، ہم سے اس نے بیان کیا صفیہ بنت شیبہ نے بیان کیا ، کہا حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے عرض کی
اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! لو گ تو وہ ( عملوںکا ) ثواب لے کر لو ٹیں گے اور میں ( صرف ) ایک ( عمل کا ) ثواب لے کر لوٹوں ؟ تو ( عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی بات سن کر ) آپ نے عبد الرحمٰن بن ابی بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو حکم دیا کہ وہ انھیں ( حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو ) تنعیم تک لے جائے ۔ ( حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے ) کہا : چنانچہ عبد الرحمٰن رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنے اونٹ پر مجھے اپنے پیچھے سوار کر لیا ( راستے میں ) اپنی اوڑھنی کو اپنی گردن سے سر کا نے کے لیے ( بار بار ) اسے اوپر اٹھا تی تو ( عبد الرحمٰن رضی اللہ تعالیٰ عنہا ) سواری کو مارنے کے بہانے میرے پاؤں پر مارتے ( کہااوڑھنی کیوں اٹھا رہی ہیں؟ ) میں ان سے کہتی : آپ یہاں کسی ( اجنبی ) کو دیکھ رہے ہیں ؟ ( جو مجھے ایسا کرتا ہوا دیکھ لے گا ) فرماتی ہیں : میں نے ( وہاں سے ) عمرے کا احرا م باندھ کر ) تلبیہ پکارا ( اور عمرہ کیا ) پھر ہم ( واپس آئے حتی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچ گئے ۔ آپ ( اس وقت ) مقام حصبہ پر تھے ۔
Abdul-Rahman bin Abu Bakr رضی اللہ تعالیٰ عنہا reported:
The Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) ordered him to mount A'isha behind him and enable her to (enter into the state of Ihram for 'Umra) at Tan'im.
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ اور ابن نمیر نے بیان کیا، کہا: ہم سے سفیان نے عمرو رضی اللہ عنہ سے بیان کیا, عمرو بن اوس نے خبر دی کہ عبد الرحمٰن بن ابی بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے انھیں کہا کہ
نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں حکم دیا تھا کہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو ساتھ لے لیں اور انھیں مقام تنعیم سے عمرہ کروائیں ۔
Jabir (رضی اللہ تعالیٰ عنہ) said:
We, in the state of lhram, came with the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) for Hajj Mufrad (with the aim of Hajj only), and 'A'isha رضی اللہ تعالیٰ عنہا set out for Umra, and when we reached Sarif, she (Hadrat A'isha رضی اللہ تعالیٰ عنہا ) entered in the state of monthly period; we proceeded on till we reached (Mecca) and circumambulated the Ka'ba and ran between (al-Safa) and al-Marwa; and the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) commanded that one who amongst us had no sacrificial animal with him should put off Ihram. We said: What does this putting off imply? He said: Getting out completely from the state of lhram, (so we put off Ihram), and we turned to our wives and applied perfume and put on our clothes. and we were at a four night's distance from 'Arafa. And we again put on Ihram on the day of Tarwiya (8th of Dhu'l-Hijja). The Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) came to 'A'isha (رضی اللہ تعالیٰ عنہا) and found her weeping, and said: What is the matter with you? She said: The matter is that I have entered in the monthly period, and the people had put off lhram, but I did not and I did not circumambulate the House, and the people are going for Hajj now (but I can't go), whereupon he said: It is the matter which Allah has ordained for the daughters of Adam, so now take a bath and put on Ihram for Hajj. She ('A'isha رضی اللہ تعالیٰ عنہا ) did accordingly, and stayed at the places of staying till the monthly period was over. She then circumambulated the House, and (ran between) al-Safa and al-Marwa. He (the Holy Prophet) then said: Now both your Hajj and 'Umra are complete, whereupon she said: I feel in my mind that I did not circumambulate the House till I performed Hajj (I missed the circumambulation of 'Umra). Thereupon he (Allah's Apostle) said: 'Abdul-Rahman, take her to Tan'im (so as to enable her) to perform Umra (separately), and it was the night at Hasba.
قتیبہ نے کہا : ہم سے لیث نے حدیث بیان کی ، انھوں نے ابو زبیر سے انھوں نے حضرت جا بر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ انھوں نے کہا
ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اکیلے حج ( افرا د ) کا تلبیہ پکا رتے ہو ئے آئے اور حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا صرف عمرے کی نیت سے آئیں ۔ جب ہم مقام سرف پہنچے تو حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو ایام شروع ہو گئے حتی کہ جب ہم مکہ آئے تو ہم نے کعبہ اور صفا مروہ کا طواف کر لیا پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا کہ ہم میں سے جس کسی کے ہمرا ہ قر با نی نہیں ، وہ ( احرا م چھوڑ کر ) حلت ( عدم احرا م کی حالت ) اختیا ر کرلے ۔ ہم نے پو چھا : کو ن سی حلت ؟آپ نے فرمایا : مکمل حلت ( احرا م کی تمام پابندیوں سے آزادی ۔ ) " تو پھر ہم اپنی عورتوں کے پاس گئے خوشبو لگا ئی اور معمول کے ) کپڑے پہن لیے ۔ ( اور اس وقت ) ہمارے اور عرفہ ( کو روانگی ) کے درمیان چار راتیں باقی تھیں ۔ پھر ہم نے ترویہ والے دن ( آٹھ ذوالحجہ کو ) تلبیہ پکارا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے خیمے میں دا خل ہو ئے تو انھیں روتا ہوا پا یا ۔ پوچھا : " تمھا را کیا معاملہ ہے؟ انھوں نے جواب دیا : میرا معاملہ یہ ہے کہ مجھے ایام شروع ہو گئے ہیں ۔ لو گ حلال ( احرا م سے فارغ ) ہو چکے ہیں اور میں ابھی نہیں ہو ئی اور نہ میں نے ابھی بیت اللہ کا طواف کیا ہے لو گ اب حج کے لیے روانہ ہو رہے ہیں آپ نے فر ما یا : " ( پریشان مت ہو ) یہ ( حیض ) ایسا معاملہ ہے جو اللہ نے آدم ؑ کی بیٹیوں کی قسم میں لکھ دیا ہے تم غسل کر لو اور حج کا ( احرا م باندھ کر ) تلبیہ پکارو ۔ " انھوں نے ایسا ہی کیا اور وقوف کے ہر مقام پر وقوف کیا ( حاضری دی دعائیں کیں ) اور جب پا ک ہو گئیں تو عرفہ کے دن ) بیت اللہ اور صفا مروہ کا طواف کیا ۔ پھر آپ نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے ) فر ما یا : " تم اپنے حج اور عمرے دونوں ( مکمل کر کے ان کے احرا م کی پابندیوں ) سے آزاد ہو چکی ہو ۔ انھوں نے کہا : اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !میرے دل میں ( ہمیشہ ) یہ کھٹکا رہے گا کہ میں حج کرنے تک بیت اللہ کا طواف نہیں کر سکی ۔ آپ نے فرمایا : " اے عبد الرحمٰن! انھیں 0لے جاؤ اور ) تنعیم سے عمرہ کرا لاؤ ۔ اور یہ ( منیٰ سے واپسی پر ) حصبہ ( میں قیام والی رات کا واقعہ ہے ۔
Jabir bin Abdullah رضی اللہ تعالیٰ عنہما is reported to have said:
The Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) came to 'A'isha (رضی اللہ تعالیٰ عنہا) and she was weeping. The rest of the hadith is the same.
مجھ سے محمد بن حاتم اور عبد بن حمید نے بیان کیا , ابن حاتم نے کہا : ہم سے انہوں نے بیان کیا اور عبد نے کہا : ہم سے محمد بن بکر نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ابن جریج نے خبر دی کہا : مجھے ابو زبیر نے خبر دی ، انھوں نے جا بر بن عبد اللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہما کو بیان کرتے سنا ، کہہ رہے تھے
نبی صلی اللہ علیہ وسلم حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے خیمے میں دا خل ہو ئے تو وہ رو رہی تھیں ۔ پھر ( آخر تک ) لیث کی روایت کردہ حدیث کے مانند روایت بیان کی ، لیکن لیث کی حدیث میں اس سے پہلے کا جو حصہ ہے وہ بیان نہیں کیا ۔
Jabir bin 'Abdullah رضی اللہ تعالیٰ عنہ reported:
A'isha ( رضی اللہ تعالیٰ عنہا) entered into the state of Ihram (separately) for 'Umra while the Prophet ( صلی اللہ علیہ وسلم ) was performing Hajj. The rest of the hadith is the same, but with this addition: The Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) was a person of gentle disposition, so when she (A'isha رضی اللہ تعالیٰ عنہا ) wished for a thing, he accepted it (provided it did not contravene the teachings of Islam). So he (in pursuance of her desire for a separate lhram for Umra) sent her with 'Abdul-Rahman bin Abu Bakr رضی اللہ تعالیٰ عنہ and she put on Ihram for 'Umra at al-Tan'im. Matar and Abu Zubair (the two narrators amongst the chain of transmitters) said: Whenever 'A'isha رضی اللہ تعالیٰ عنہا performed Hajj she did as she had done along with Allah's Apostle ( صلی اللہ علیہ وسلم ).
مجھ سے ابو غسان المسمعی نے بیان کیا، معاذ یعنی ابن ہشام نے بیان کیا، مجھ سے میرے والد نے بیان کیا, مطر نے ابو زبیر سے ، انھوں نے جا بر بن عبد اللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حج ( حجۃ الوداع ) کے موقع پر حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے عمرے کا ( احرام باندھ کر ) تلبیہ پکارا تھا ۔ مطر نے آگے لیث کی حدیث کے ہم معنی حدیث بیان کی ، ( البتہ اپنی ) حدیث میں یہ اضا فہ کیا کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بہت نرم خوتھے ۔ وہ ( حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا ) جب بھی کو ئی خواہش کرتیں ، آپ اس میں ان کی بات مان لیتے ۔ لہٰذا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں عبد الرحمٰن بن ابی بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھ بھیجا اور انھوں نے تنعیم سے عمرے کا تلبیہ پکا را ( اور عمرہ ادا کیا ۔ ) مطرؒ نے کہا : ابو زبیر نے بیان کیا : ( آپ صلی اللہ علیہ وسلم وفات کے بعد ) حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا جب بھی حج فر ما تیں تو وہی کرتیں جو انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی معیت میں کیا تھا ۔
Jabir (رضی اللہ تعالیٰ عنہ) said:
We went with Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) in 'a state of Ihram for the Hajj. There were women and children with us. When we reached Mecca we circumambulated the House and (ran) between al-Safa and al-Marwa. The Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) said: He who has no sacrificial animal with him should put off lhram. We said: What kind of putting off? He said: Getting out of lhram completely. So we came to our wives, and put on our clothes and applied perfume. When it was the day of Tarwiya, we put on Ihram for Hajj. and the first circumambulation and (running) between al-Safa and al-Marwa sufficed us.. Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) commanded us to become seven partners (in the sacrifice) of a camel and a cow.
ہم سے احمد بن یونس نے بیان کیا، ہم سے زہیر نے بیان کیا، ہم سے ابو الزبیر نے جابر رضی اللہ عنہ سے بیان کیا اور ہم سے یحییٰ بن یحییٰ نے بیان کیا - ابو الزبیر کی روایت سے ابو خیثمہ نے ہم سے بیان کیا, انھوں نے جا بر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہا
ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حج کا تلبیہ پکا رتے ہو ئے نکلے ، ہمارے ساتھ عورتیں اور بچے بھی تھے ۔ جب ہم مکہ پہنچے تو ہم نے بیت اللہ اور صفا مروہ کا طواف کیا ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ارشاد فر ما یا : " جس کے ہمرا ہ قر با نی کے جا نور نہیں ہیں وہ ( احرام سے ) آزاد ہو جا ئے ۔ " ہم نے دریا فت کیا : کون سی آزادی ( حلت ) ؟ آپ نے فر ما یا : " ( احرا مکی پابندیوں سے ) پوری آزادی ۔ " ( حضرت جا بر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ) کہا : ہم نے اپنی عورتوں سے قربت کی ، اپنے ( معمول کے ) لباس پہنے اور خوشبو ( کا بھی ) استعمال کیا ۔ جب ترویہ ( آٹھ ذوالحجہ ) کا دن آیا ہم نے حج کا ( احرا م باندھ کر ) تلبیہ پکارنا شروع کیا اور ہمیں ( حج قران کرنے والوں کو ) صفا مروہ کے در میان پہلا طواف ( سعی مراد ہے ) ہی کا فی ہو گیا ۔ ( ہمیں ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( یہ بھی ) حکم دیا کہ گائے اور اونٹ کی قربانی میں ہم سات سات افراد شریک ہو جا ئیں ۔
Jabir bin Abdullah رضی اللہ تعالیٰ عنہ reported:
The Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) ordered us to put on Ihram (again) as we proceeded towards Mina after we had put it off (i.e. 'on the 8th of Dhu'l-Hijja). So we pronounced Talbiya at al-Abtah.
مجھ سے محمد بن حاتم نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ بن سعید نے بیان کیا, ابن جریج سے روایت ہے ( کہا : ) مجھے ابو زبیر نے جا بربن عبد اللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے خبر دی کہا
جب ہم " حلت " " کی کیفیت میں آگئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا کہ جب منیٰ کا رخ کرنے لگیں تو احرا م باند ھ لیں ۔ ( حضرت جا بر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ) کہا : تو ہم نے مقام ابطح سے تلبیہ پکارنا شروع کیا ۔
Jabir bin Abdullah رضی اللہ عنہ is reported to have said:
Neither Allah's Apostle ( صلی اللہ علیہ وسلم) nor his Companions (circumambulated the Ka'ba and) ran between al-Safa and al-Marwa but once (sufficing both for Hajj and 'Umra). But in the hadith transmitted by Muhammad bin Bakr there is an addition: That is first circumambulation. The Prophet and his companions only went between As-Safa aand Al-Marwah once.
ہم سے محمد بن حاتم نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ بن سعید نے بیان کیا، انہوں نے ابن جریج سے، اور ہم سے عبد بن حمید نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے محمد بن بکر نے بیان کیا، ان سے ابن جریج نے، کہا: مجھ سے ابو الزبیر نے بیان کیا کہ انہوں نے جابر بن رضی اللہ عنہ سے سنا۔ عبداللہ رضی اللہ عنہ نے کہا
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اصحاب صفا اور مروہ کے درمیان صرف ایک بار گئے۔" محمد بن بکر کی حدیث میں یہ اضافہ ہوا ہے: آپ کا پہلاطواف۔
Ata' reported: I, along with some people, heard Jabir bin 'Abdullah رضی اللہ تعالیٰ عنہ saying:
We the Companions of Muhammad ( صلی اللہ علیہ وسلم ) put on Ihram for Hajj only. Ata' further said that Jabir stated: Allah's Apostle ( صلی اللہ علیہ وسلم ) came on the 4th of Dhu'l-Hijja and he commanded us to put off Ihram. 'Ata' said that he (Allah's Apostle) commanded them to put off Ihram and to go to their wives (for intercourse). 'Ata' said: It was not obligatory for them, but (intercourse) with them had become permissible. We said: When only five days had been left to reach 'Arafa, he (the Holy Prophet) commanded us to have intercourse with our wives. And we reached 'Arafa in a state as if we had just had intercourse (with them). He ('Ata') said: Jabir رضی اللہ تعالیٰ عنہ pointed with his hand and I (perceive) as if I am seeing his hand as it moved. In the (meantime) the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) stood amongst us and said: You are well aware that I am the most God-fearing, most truthful and most pious amongst you. And if there were not sacrificial animals with me, I would also have put off Ihram as you have put off. And if I were to know this matter of mine what I have come to know later on, I would not have brought sacrificial animals with me. So they (the Companions) put off Ihram and we also put it off and listened to (the Holy Prophet) and obeyed (his command). Jabir رضی اللہ تعالیٰ عنہ said: 'Ali رضی اللہ تعالیٰ عنہ came with the revenue of the taxes (from Yemen). He (the Holy Prophet) said: For what (purpose) have you entered into the state of Ihram (whether you entered into the state purely for Hajj and, Umra jointly or Hajj and Umra separately)? He said: For the purpose for which the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) had entered. (The Prophet had entered as a Qiran, i.e. Ihram covering both Umra and Hajj simultaneously.) Thereupon Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) said: Offer a sacrifice of animal, and retain Ihram. And 'Ali رضی اللہ تعالیٰ عنہ brought a sacrificial animal for him (for the Holy Prophet). Suraqa bin Malik bin Ju'shum رضی اللہ تعالیٰ عنہ said: Messenger of Allah, is it (this concession putting off Ihram of Hajj or Umra) meant for this year or is it forever? He said: It is forever.
مجھ سے محمد بن حاتم نے بیان کیا، ہم سے یحییٰ بن سعید نے بیان کیا، ان سے ابن جریج نے بیان کیا، ان سے عطاء نے بیان کیا، انہوں نے کہا: میں نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کو سنا، ان سے اللہ تعالیٰ راضی ہے، مجھ سے لوگوں نے کہا: ہم نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب نے حج کو خالص اور تنہا کیا ہے، عطاء نے فرمایا
نبی صلی اللہ علیہ وسلم چار ذوالحجہ کی صبح مکہ پہنچے تھے ۔ آپ نے ہمیں حکم دیا کہ ہم حلال ( احرا م کی پابندیوں سے فا رغ ) ہو جا ئیں ۔ عطاء نے بیان کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر مایا تھا : "" حلال ہو جاؤ اور اپنی عورتوں کے پاس جاؤ ۔ عطا ء نے کہا : ( عورتوں کی قربت ) آپ نے ان پر لا زم قرار نہیں دی تھی بلکہ بیویوں کو ان کے لیے صرف حلال قراردیا تھا ۔ ہم نے کہا : جب ہمارے اور یوم عرفہ کے درمیان محض پانچ دن باقی ہیں آپ نے ہمیں اپنی عورتوں کے پاس جا نے کی اجازت مرحمت فر ما دی ہے تو ( یہ ایسا ہی ہے کہ ) ہم ( اس ) عرفہ آئیں گے تو ہمارے اعضا ئے مخصوصہ سے منی کے قطرے ٹپک رہے ہوں گے ۔ عطاء نے کہا جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنے ہاتھ سے ( ٹپکنے کا اشارہ کر رہے تھے ۔ ایسا لگتا ہے میں اب بھی ان کے حرکت کرتے ہاتھ کا اشارہ دیکھ رہا ہوں ۔ جا بر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا نبی صلی اللہ علیہ وسلم ( خطبہ دینے کے لیے ) ہم میں کھڑے ہو ئے اور فر ما یا : "" تم ( اچھی طرح ) جا نتے ہو کہ میں تم سب سے زیادہ اللہ سے ڈرنے والا ، تم سب سے زیادہ سچا اور تم سب سے زیادہ پارسا ہوں ۔ اگر میرے ساتھ قر بانی نہ ہو تی تو میں بھی ویسے حلال ( احرا م سے فارغ ) ہو جا تا جیسے تم حلال ہو ئے ہو ، اگر وہ چیز پہلے میرے سامنے آجا تی جو بعد میں آئی تو میں قربانی اپنے ساتھ نہ لا تا ، لہٰذا تم سب حلال ( احرا م سے فارغ ) ہو جاؤ ۔ چنانچہ پھر ہم حلال ہو گئے ۔ ہم نے ( آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بات کو ) سنا اور اطاعت کی ۔ عطاء نے کہا : حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بیان کیا : ( اتنے میں ) حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنی ذمہ داری سے ( عہد ہبر آہو کر ) پہنچ گئے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( ان سے ) پو چھا : ( علی ) تم نے کس ( حج ) کا تلبیہ پکا را تھا ؟ "" انھوں نے جواب دیا : جس کا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پکارا ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا : "" قربانی کرو اور احرا م ہی کی حالت میں رہو ۔ ( جا بر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ) بیان کیا : حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے بھی اپنے ہمراہ قربانی ( کے جا نور ) لا ئے تھے ۔ سراقہ بن مالک بن جعشم رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے دریافت کیا اے اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !یہ ( حج کے مہینوں میں عمرہ کرنا ) صرف ہمارے اسی سال کے لیے ( جا ئز ہوا ) ہے یا ہمیشہ کے لیے ؟آپ نے فرمایا : "" ہمیشہ کے لیے ۔
Jabir bin 'Abdullah (رضی اللہ تعالیٰ عنہما) reported:
We entered with the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) in the state of Ihram for Hajj. When we came to Mecca he commanded us to put off Ihram and make it for 'Umra. We felt it (the command) hard for us, and our hearts were anguished on account of this and it (this reaction of the people) reached the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ). We do not know whether he received (this news) from the Heaven (through revelation) or from the people. (Whatever the case might be) he said; O people, put off Ihram. If there were not the sacrificial animals with me, I would have done as you do. So we put off the Ihram (after performing Umra), and we had intercourse with our wives and did everything which a non-Muhrim does (applying perfume, putting on clothes, etc.), and when It was the day of Tarwiya (8th of Dhu'l-Hijja) we turned our back to Mecca (in order to go to Mini, 'Arafat) and we put on lhram for Hajj.
ہم سے ابن نمیر نے بیان کیا، مجھ سے میرے والد نے بیان کیا، انہوں نے کہا عبد الملک بن ابی سلیمان نے عطا ء سے انھوں نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت کی کہا
ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حج کا ( احرا م باندھ کر ) تلبیہ کہا ۔ جب ہم مکہ پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا کہ ہم حلال ہو جا ئیں اور اسے ( حج کی نیت کو ) عمرے میں بدل دیں ، یہ بات ہمیں بہت گراں ( بڑی ) لگی اور اس سے ہمارے دل بہت تنگ ہو ئے ( ہمارے اس قلق کی خبر ) نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو پہنچ گئی ۔ معلوم نہیں کہ آپ کو آسمان سے ( بذریعہ وحی ) اس چیز کی خبر پہنچی یا لوگوں کے ذریعے سے کو ئی چیز معلوم ہوئی ۔ آپ نے فرمایا : "" اے لوگو !حلال ہو جاؤ ( احرا م کھول دو ) اگر میرے ساتھ قربانی نہ ہوتی تو میں بھی وہی کرتا جس طرح تم نے کیا ہے ( جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ) بیان کیا : ہم حلال ( احرا م سےآزاد ) ہو گئے حتی کہ اپنی بیویوں سے قربت بھی کی اور ( وہ سب کچھ ) کیا جو حلال ( احرا م کے بغیر ) انسان کرتا ہے ۔ حتی کہ ترویہ کا دن ( آٹھ ذوالحجہ ) آگیا ۔ اور ہم نے مکہ کو پیچھے چھوڑ ا ( خیر باد کہا ) اور حج کا ( احرا م باند ھ کر ) تلبیہ کہنے لگے ۔
Musa bin Nafi reported:
I came to Mecca as a Mutamattil for Umra (performing Umra first and then putting off Ihram and again entering into the state of Ihram for Hajj) four days before the day of Tarwiya (i.e. on the 4th of Dhu'l-Hijja). Thereupon the people said: Now yours is the Hajj of the Meccans. I went to 'Ata' bin Abi Rabah and asked his religious verdict. Ata' said: Jabir bin 'Abdullah al 'Ansari (رضی اللہ تعالیٰ عنہ) narrated to me that he performed Hajj with the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) in the year when he took sacrificial animals with him (i.e. during the 10th year of Hijra known as the Farewell Pilgrimage) and they had put on Ihram for Hajj only (as Mufrid). The Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) said: Put off Ihram and circumambulate the House, and (run) between al-Safa and al-Marwa, and get your hair cut and stay as non-Muhrims. When it was the day of Tarwiya, then put on Ihram for Hajj and make lhram for Mut'a (you had put on Ihram for Hajj, but take it off after performing Umra and then again put on Ihram for Hajj). They said: How should we make it Mut'a although we entered upon lhram in the name of Hajj? He said: Do whatever I command you to do. Had I not brought sacrificial animals with me, I would have done as I have commanded you to do. But it is not permissible for me to put off Ihram till the sacrifice is offered. Then they also did accordingly.
ہم سے ابن نمیر نے بیان کیا، کہا ہم سے ابو نعیم نے بیان کیا، انہوں نے کہا موسیٰ بن نافع نے کہا
میں عمرے کی نیت سے یو م ترویہ ( آٹھ ذوالحجہ ) سے چار دن پہلے مکہ پہنچا لوگوں نے کہا : اب تو تمھا رمکی حج ہو گا ۔ ( میں ان کی باتیں سن کر ) عطاء بن ابی رباح کے ہاں حاضر ہوا اور ان سے ( اس مسئلے کے بارے میں ) فتویٰ پوچھا ۔ عطاء نے جواب دیا : مجھے حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حدیث سنائی کہ انھوں نے اُس سال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حج کی سعادت حاصل کی تھی لوگوں نے حج افراد کا ( احرا م باند ھ کر ) تلبیہ کہا ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فر مایا : "" اپنے احرا م سے فارغ ہو جاؤ ۔ بیت اللہ کا اور صفا و مروہ کا طواف ( سعی کرو ۔ اپنے بال چھوٹے کرو الو اورحلال ( احرام سے آزاد ) ہو جاؤ جب تویہ ( آٹھ ذوالحجہ ) کا دن آجا ئے تو حج کا ( احرا م باندھ کر ) تلبیہ کہو ۔ اور ( حج افراد کو ) جس کے لیے تم آئے تھے اسے حج تمتع بنا لو ۔ صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین نے کہا : ( اے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ) ہم اسے کیسے حج تمتع بنا لیں ؟ہم نے تو صرف حج کا نام لے کر تلبیہ کہا تھا آپ نے فر مایا : "" میں نے تمھیں جو حکم دیا ہے وہی کرو ۔ اگر میں اپنے ساتھ قربانی نہ لاتا تو اسی طرح کرتا جس طرح تمھیں حکم دے رہا ہوں ۔ لیکن مجھ پر ( احرام کی وجہ سے ) حرام کردہ چیزیں اس وقت تک حلال نہیں ہو ں گی جب تک کہ قربانی اپنی قربان گا ہ میں نہیں پہنچ جا تی ۔ اس پر لوگوں نے ویسا ہی کیا ( جس کا آپ نے حکم دیا تھا ).
Jabir bin 'Abdullah (رضی اللہ تعالیٰ عنہما) reported:
We set out with Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) as Muhrim for Hajj. The Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) commanded us to make this Ihram for Umra, and some put it off (after performing 'Umra), but the Prophet ( صلی اللہ علیہ وسلم ) had sacrificial animals with him, so he could not make it (this Ihram) as that of Umra.
ہم سے محمد بن معمر بن ربعی القیسی نے بیان کیا، ان سے ابو ہشام المغیرہ بن سلمہ المخزومی نے بیان کیا، انہوں نے ابو عوانہ کی سند سے, ابو بشر نے عطاء بن ابی رباح سے انھوں نے جا بر بن عبد اللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت کی کہا
ہم حج کا تلبیہ کہتے ہو ئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ( مکہ ) آئے آپ نے ہمیں حکم دیا کہ ہم اس ( حج کی نیت اور احرا م کو ) عمرے میں بدل دیں اور ( عمرے کے بعد ) حلال ( عمرے سے فارغ ) ہو جائیں ( حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ) کہا : آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ قربانی تھی اس لیے آپ اپنے حج کو عمرہ نہیں بنا سکتے تھے ۔
Abu Nadra reported:
Ibn 'Abbas رضی اللہ تعالیٰ عنہ commanded the performance of Mut'a putting ihram for 'Umra during the months of Dhul-Hijja and after completing it. then putting on Ihram for Hajj), but Ibn Zubair رضی اللہ تعالیٰ عنہ forbade to do it. I made a mention of it to Jabir bin Abdullah رضی اللہ تعالیٰ عنہ and he said: It is through me that this hadith has been circulated. We entered into the state of Ihram as Tamattu' with the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ). When 'Umar رضی اللہ تعالیٰ عنہ was Installed as Caliph, he said: Verily Allah made permissible for His Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) whatever He liked and as Re liked. And (every command) of the Holy Qur'an has been revealed for every occasion. So accomplish Hajj and Umra for Allah as Allah has commanded you; and confirm by (proper conditions) the marriage of those women (with whom you have performed Mut'a). And any person would come to me with a marriage of appointed duration (Mut'a), I would stone him (to death).
ہم سے محمد بن المثنی اور ابن بشار نے بیان کیا، انہوں نے کہا: ہم سے محمد بن جعفر نے بیان کیا, شعبہ نے کہا : میں نے قتادہ سے سنا ، وہ ابو نضرہ سے حدیث بیان کررہے تھے ، کہا
ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ حج تمتع کا حکم دیا کر تے تھے اور ابن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اس سے منع فرماتے تھے ۔ ( ابو نضرہ نے ) کہا : میں نے اس چیز کا ذکر جابر بن عبداللہ انصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے کیا ، انھوں نے فرمایا : " میرے ہی ذریعے سے ( حج کی ) یہ حدیث پھیلی ہے ۔ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ( جاکر ) حج تمتع کیا تھا ۔ جب حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ( خلیفہ بن کر ) کھڑے ہوئے ( بحیثیت خلیفہ خطبہ دیا ) توا نھوں نے فرمایا : بلاشبہ اللہ تعالیٰ اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے جو چیز جس ذریعے سے چاہتا حلال کردیتاتھا اور بلا شبہ قرآن نے جہاں جہاں ( جس جس معاملے میں ) اترناتھا ، اتر چکا ، لہذا تم اللہ کے لئے حج کو اور عمرے کو مکمل کرو ، جس طرح ( الگ الگ نام لے کر ) اللہ تعالیٰ نے تمھیں حکم دیا ہے ۔ اوران عورتوں سے حتمی طور پرنکاح کیا کرو ( جز وقتی نہیں ) ، اگر میرے پاس کوئی ایسا شخص لایاگیا جس نے کسی عورت سے کسی خاص مدت تک کے لئے نکاح کیا ہوگا تو میں اسے پتھروں سے رجم کروں گا ۔
Qatada narrated this hadith with the same chain of transmitters saying: (That 'Umar also said):
Separate your Hajj from 'Umra, for that is the most complete Hajj, and complete your Umra.
مجھ سے زہیر بن حرب نے بیان کیا، ہم سے عفان نے بیان کیا، ہمیں ہمام نے حدیث سنائی ، انھوں نے کہا : ہمیں قتادہ نے اسی ( مذکورہ بالا ) سندسے حدیث بیا ن کی ، اور ( اپنی ) حدیث میں کہا
اپنے حج کو اپنے عمرے سے الگ ( ادا کیا ) کرو ۔ بلا شبہ یہ تمھارے حج کو اور تمھارے عمرے کو زیادہ مکمل کرنے والا ہے ۔
Jabir bin 'Abdullah ( رضی اللہ تعالیٰ عنہ) reported:
We came with the Messenger of Allah (ﷺ) pronouncing Talbiya for Hajj, and the Messenger of Allah (ﷺ) commanded us to make (our Ihram) into that of Umra.
ہم سے خلف بن ہشام، ابو الربیع اور قتیبہ نے بیان کیا، خلف نے کہا: ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا، انہوں نے ایوب سے کہا, مجاہد نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے حدیث بیا ن کی ، کہا
ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ( حج کے لئے ) آئے اور ہم کہہ رہے تھے : اے اللہ! میں حج کرنے کے لئے حاضر ہوں ( ہماری نیت حج کی تھی راستے میں ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا ۔ کہ ہم اسے عمر ہ بنا لیں ۔ اور لبيك عمرةکہیں ۔ )
Ja'far b Muhammad reported on the authority of his father:
We went to Jabir bin Abdullah رضی اللہ تعالیٰ عنہ and he began inquiring about the people (who had gone to see him) till it was my turn. I said: I am Muhammad bin 'Ali bin Husain. He placed his hand upon my head and opened my upper button and then the lower one and then placed his palm on my chest (in order to bless me), and I was, during those days, a young boy, and he said: You are welcome, my nephew. Ask whatever you want to ask. And I asked him but as he was blind (he could not respond to me immediately), and the time for prayer came. He stood up covering himself in his mantle. And whenever he placed its ends upon his shoulders they slipped down on account of being short (in size). Another mantle was, however, lying on the clothes rack near by. And he led us in the prayer. I said to him: Tell me about the Hajj of Allah's Messenger (ﷺ). And he pointed with his hand nine, and then stated: The Messenger of Allah (ﷺ) stayed in (Medina) for nine years but did not perform Hajj, then he made a public announcement in the tenth year to the effect that Allah's Messenger (ﷺ) was about to perform the Hajj. A large number of persons came to Medina and all of them were anxious to follow the Messenger of Allah (ﷺ) and do according to his doing. We set out with him till we reached Dhu'l-Hulaifa. Asma' daughter of Umais رضی اللہ تعالیٰ عنہا gave birth to Muhammad bin Abu Bakr رضی اللہ عنہ . She sent message to the Messenger of Allah (ﷺ) asking him: What should 1 do? He (the Holy Prophet ﷺ) said: Take a bath, bandage your private parts and put on Ihram. The Messenger of Allah (ﷺ) then prayed in the mosque and then mounted al-Qaswa (his she-camel) and it stood erect with him on its back at al-Baida'. And I saw as far as I could see in front of me but riders and pedestrians, and also on my right and on my left and behind me like this. And the Messenger of Allah (ﷺ) was prominent among us and the (revelation) of the Holy Qur'an was descending upon him. And it is he who knows (its true) significance. And whatever he did, we also did that. He pronounced the Oneness of Allah (saying):" Labbaik, O Allah, Labbaik, Labbaik. Thou hast no partner, praise and grace is Thine and the Sovereignty too; Thou hast no partner." And the people also pronounced this Talbiya which they pronounce (today). The Messenger of Allah (ﷺ) did not reject anything out of it. But the Messenger of Allah (ﷺ) adhered to his own Talbiya. Jabir ( رضی اللہ عنہ) said: We did not have any other intention but that of Hajj only, being unaware of the Umra (at that season), but when we came with him to the House, he touched the pillar and (made seven circuits) running three of them and walking four. And then going to the Station of Ibrahim, he recited:" And adopt the Station of Ibrahim as a place of prayer." And this Station was between him and the House. My father said (and I do not know whether he had made a mention of it but that was from Allah's Apostle (ﷺ) that he recited in two rak'ahs:" say: He is Allah One," and say:" Say: O unbelievers." He then returned to the pillar (Hajar Aswad) and kissed it. He then went out of the gate to al-Safa' and as he reached near it he recited:" Al-Safa' and al-Marwa are among the signs appointed by Allah," (adding: ) I begin with what Allah (has commanded me) to begin. He first mounted al-Safa' till he saw the House, and facing Qibla he declared the Oneness of Allah and glorified Him, and said:" There is no god but Allah, One, there is no partner with Him. His is the Sovereignty. to Him praise is due. and He is Powerful over everything. There is no god but Allah alone, Who fulfilled His promise, helped His servant and routed the confederates alone." He then made supplication in the course of that saying such words three times. He then descended and walked towards al-Marwa, and when his feet came down in the bottom of the valley, he ran, and when he began to ascend he walked till he reached al-Marwa. There he did as he had done at al-Safa'. And when it was his last running at al-Marwa he said: If I had known beforehand what I have come to know afterwards, I would not have brought sacrificial animals and would have performed an 'Umra. So, he who among you has not the sacrificial animals with him should put off Ihram and treat it as an Umra. Suraqa bin Malik bin Ju'sham got up and said: Messenger of Allah, does it apply to the present year, or does it apply forever? Thereupon the Messenger of Allah (ﷺ) intertwined the fingers (of one hand) into another and said twice: The 'Umra has become incorporated in the Hajj (adding):" No, but for ever and ever." 'All came from the Yemen with the sacrificial animals for the Prophet (ﷺ) and found Fatimah (رضی اللہ عنہا) to be one among those who had put off Ihram and had put on dyed clothes and had applied antimony. He (Hadrat 'Ali رضی اللہ عنہ) showed disapproval to it, whereupon she said: My father has commanded me to do this. He (the narrator) said that 'Ali رضی اللہ عنہ used to say in Iraq: I went to the Messenger of Allah (ﷺ) showing annoyance at Fatimah for what she had done, and asked the (verdict) of Allah's Messenger (ﷺ) regarding what she had narrated from him, and told him that I was angry with her, whereupon he said: She has told the truth, she has told the truth. (The Prophet then asked 'Ali): What did you say when you undertook to go for Hajj? I ('Ali رضی اللہ عنہ) said: O Allah, I am putting on Ihram for the same purpose as Thy Messenger has put it on. He said: I have with me sacrificial animals, so do not put off the Ihram. He (Jabir رضی اللہ عنہ) said: The total number of those sacrificial animals brought by 'Ali from the Yemen and of those brought by the Apostle (ﷺ) was one hundred. Then all the people except the Apostle (ﷺ) and those who had with them sacrificial animals, put off Ihram, and got their hair clipped; when it was the day of Tarwiya (8th of Dhu'l-Hijja) they went to Mina and put on the Ihram for Hajj and the Messenger of Allah (ﷺ) rode and led the noon, afternoon, sunset 'Isha' and dawn prayers. He then waited a little till the sun rose, and commanded that a tent of hair should be pitched at Namira. The Messenger of Allah (ﷺ) then set out and the Quraish did not doubt that he would halt at al-Mash'ar al-Haram (the sacred site) as the Quraish used to do in the pre-Islamic period. The Messenger of Allah (ﷺ), however, passed on till he came to 'Arafa and he found that the tent had been pitched for him at Namira. There he got down till the sun had passed the meridian; he commanded that al-Qaswa should be brought and saddled for him. Then he came to the bottom of the valley, and addressed the people saying: Verily your blood, your property are as sacred and inviolable as the sacredness of this day of yours, in this month of yours, in this town of yours. Behold! Everything pertaining to the Days of Ignorance is under my feet completely abolished. Abolished are also the blood-revenges of the Days of Ignorance. The first claim of ours on blood-revenge which I abolish is that of the son of Rabi'a bin al-Harith, who was nursed among the tribe of Sa'd and killed by Hudhail. And the usury of she pre-Islamic period is abolished, and the first of our usury I abolish is that of 'Abbas bin 'Abdul-Muttalib, for it is all abolished. Fear Allah concerning women! Verily you have taken them on the security of Allah, and intercourse with them has been made lawful unto you by words of Allah. You too have right over them, and that they should not allow anyone to sit on your bed whom you do not like. But if they do that, you can chastise them but not severely. Their rights upon you are that you should provide them with food and clothing in a fitting manner. I have left among you the Book of Allah, and if you hold fast to it, you would never go astray. And you would be asked about me (on the Day of Resurrection), (now tell me) what would you say? They (the audience) said: We will bear witness that you have conveyed (the message), discharged (the ministry of Prophethood) and given wise (sincere) counsel. He (the narrator) said: He (the Holy Prophet) then raised his forefinger towards the sky and pointing it at the people (said):" O Allah, be witness. O Allah, be witness," saying it thrice. (Bilal then) pronounced Adhan and later on Iqama and he (the Holy Prophet) led the noon prayer. He (Bilal) then uttered Iqama and he (the Holy Prophet) led the afternoon prayer and he observed no other prayer in between the two. The Messenger of Allah (ﷺ) then mounted his camel and came to the place of stay, making his she-camel al-Qaswa, turn towards the side where there we are rocks, having the path taken by those who went on foot in front of him, and faced the Qibla. He kept standing there till the sun set, and the yellow light had somewhat gone, and the disc of the sun had disappeared. He made Usama رضی اللہ عنہ sit behind him, and he pulled the nosestring of Qaswa so forcefully that its head touched the saddle (in order to keep her under perfect control), and he pointed out to the people with his right hand to be moderate (in speed), and whenever he happened to pass over an elevated tract of sand, he slightly loosened it (the nose-string of his camel) till she climbed up and this is how he reached al-Muzdalifa. There he led the evening and 'Isha prayers with one Adhan and two Iqamas and did not glorify (Allah) in between them (i.e. he did not observe supererogatory rak'ahs between Maghrib and 'Isha' prayers). The Messenger of Allah (ﷺ) then lay down till dawn and offered the dawn prayer with an Adhan and Iqama when the morning light was clear. He again mounted al-Qaswa, and when he came to al-Mash'ar al-Haram, he faced towards Qibla, supplicated Him, Glorified Him, and pronounced His Uniqueness (La ilaha illa Allah) and Oneness, and kept standing till the daylight was very clear. He then went quickly before the sun rose, and seated behind him was al-Fadl bin 'Abbas رضی اللہ عنہ and he was a man having beautiful hair and fair complexion and handsome face. As the Messenger of Allah (ﷺ) was moving on, there was also going a group of women (side by side with them). Al-Fadl began to look at them. The Messenger of Allah (ﷺ) placed his hand on the face of Fadl رضی اللہ عنہ who then turned his face to the other side, and began to see, and the Messenger of Allah (ﷺ) turned his hand to the other side and placed it on the face of al-Fadl رضی اللہ عنہ . He again turned his face to the other side till he came to the bottom of Muhassir. 1680 He urged her (al-Qaswa) a little, and, following the middle road, which comes out at the greatest jamra, he came to the jamra which is near the tree. At this be threw seven small pebbles, saying Allah-O-Akbar while throwing every one of them in a manner in which the small pebbles are thrown (with the help of fingers) and this he did in the bottom of the valley. He then went to the place of sacrifice, and sacrificed sixty-three (camels) with his own hand. Then he gave the remaining number to 'All who sacrificed them, and he shared him in his sacrifice. He then commanded that a piece of flesh from each animal sacrificed should be put in a pot, and when it was cooked, both of them (the Prophet and Hadrat 'Ali) took some meat out of it and drank its soup. The Messenger of Allah (ﷺ) again rode and came to the House, and offered the Zuhr prayer at Mecca. He came to the tribe of Abdul-Muttalib, who were supplying water at Zamzam, and said: Draw water. O Bani 'Abd al-Muttalib; were it not that people would usurp this right of supplying water from you, I would have drawn it along with you. So they handed him a basket and he drank from it.
ابوبکر بن ابی شیبہ اور اسحاق بن ابراہیم سب نے حاتم کی سند سے کہا, ہم سے حاتم بن اسماعیل مدنی نے جعفر ( الصادق ) بن محمد ( الباقرؒ ) سے ، انھوں نےاپنے والد سے ر وایت کی ، کہا
ہم جابر بن عبداللہ کے ہاں آئے ، انھوں نے سب کے متعلق پوچھنا شروع کیا ، حتیٰ کہ مجھ پر آکر رک گئے ، میں نے بتایا : میں محمد بن علی بن حسین ہوں ، انھوں نے ( ازراہ شفقت ) اپنا ہاتھ بڑھا کر میرے سر پر رکھا ، پھر میرا اوپر ، پھر نیچے کا بٹن کھولا اور ( انتہائی شفقت اورمحبت سے ) اپنی ہتھیلی میرے سینے کے درمیان رکھ دی ، ان دنوں میں بالکل نوجوان تھا ، فرمانے لگے : میرے بھتیجے تمھیں خوش آمدید!تم جوچاہوپوچھ سکتے ہو ، میں نے ان سے سوال کیا ، وہ ان دنوں نابینا ہوچکے تھے ۔ ( اس وقت ) نماز کا وقت ہوگیا تھا ، اور موٹی بُنائی کا ایک کپڑا اوڑھنے والا لپیٹ کر ( نماز کےلیے ) کھڑے ہوگئے ۔ وہ جب بھی اس ( کے ایک پلو ) کو ( دوسری جانب ) کندھے پر ڈالتے تو چھوٹا ہونے کی بناء پر اس کے دونوں پلوواپس آجاتے جبکہ ا ن کی ( بڑی ) چادر ان کے پہلو میں ایک کھونٹی پرلٹکی ہوئی تھی ۔ انھوں نے ہمیں نماز پڑھائی ، ( نماز سے فارغ ہوکر ) میں نے عرض کی : مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حج کے بارے میں بتائیے ۔ انھوں نے اپنے ہاتھ سے اشارہ کیا اور نو گرہ بنائی ، اور کہنے لگے : بلاشبہ نو سال ر سول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے توقف فرمایا ، حج نہیں کیا ، اس کےبعد دسویں سال آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں میں اعلان کروایا کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم حج کررہے ہیں ۔ ( یہ اعلان سنتے ہی ) بہت زیادہ لوگ مدینہ میں آگئے ۔ وہ سب اس بات کے خواہشمند تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء کریں ۔ اور جو کچھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کریں اس پر عمل کریں ۔ ( پس ) ہم سب آ پ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے یہاں تک کہ ذوالحلیفہ پہنچ گئے ، ( وہاں ) حضرت اسماء بن عمیس رضی اللہ عنہا نے محمد بن ابی بکر کو جنم دیا ، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف پیغام بھی بھیجا کہ ( زچگی کی اس حالت میں اب ) میں کیا کروں؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " غسل کرو ، کپڑے کالنگوٹ کسو ، اور حج کا احرام باندھ لو ۔ " پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( ذوالحلیفہ کی ) مسجد میں نماز ادا کی ۔ اور اپنی اونٹنی پر سوار ہوگئے ، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اونٹنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو لے کر بیداء کے مقام پر سیدھی کھڑی ہوئی ۔ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ، تاحد نگاہ پیادے اورسوار ہی دیکھے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دائیں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بائیں ، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے بھی یہی حال تھا ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے درمیان ( موجود ) تھے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پرقرآن نازل ہوتا تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہی اس کی ( حقیقی ) تفسیر جانتے تھے ۔ جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کرتے تھے ہم بھی اس پر عمل کرتے تھے ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( اللہ کی ) توحید کا تلبیہ پکارا " لبيك اللهم لبيك .. لبيك لا شريك لك لبيك .. إن الحمد والنعمة لك والملك .. لا شريك لك " ان لوگوں نے وہی تلبیہ پکارا ۔ " اور لوگوں نے وہی تلبیہ پکارا جو ( بعض الفاظ کے اضافے کے ساتھ ) وہ آج پکارتے ہیں ۔ آپ نے ان کے تلبیہ میں کسی بات کو مسترد نہیں کیا ۔ اور اپنا وہی تلبیہ ( جو پکاررہے تھے ) پکارتے رہے ۔ حضرت جابر رضی اللہ عنہ نے کہا : ہماری نیت حج کےعلاوہ کوئی ( اور ) نہ تھی ، ( حج کے مہینوں میں ) عمرے کو ہم جانتے ( تک ) نہ تھے ۔ حتیٰ کہ جب ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مکہ گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حجر اسود کااستلام ( ہاتھ یا ہونٹوں سے چھونا ) کیا ، پھر ( طواف شروع کیا ) ، تین چکروں میں چھوٹے قدم اٹھاتے ، کندھوں کوحرکت دیتے ہوئے ، تیز چلے ، اور چار چکروں میں ( آرام سے ) چلے ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم مقام ابراہیمؑ کی طرف بڑھے اوریہ آیت تلاوت فرمائی ( وَاتَّخِذُوا مِن مَّقَامِ إِبْرَاهِيمَ مُصَلًّى ) " اور مقام ابراہیم ( جہاں آپ کھڑے ہوئے تھے ) کو نماز کی جگہ بناؤ " ۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مقام ابراہیمؑ کواپنے اور بیت اللہ کے درمیان رکھا ۔ میرے والد ( محمد الباقرؒ ) کہا کر تے تھے ۔ اور مجھے معلوم نہیں کہ انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کےعلاوہ کسی اور ( کے حوالے ) سے یہ کہا ہو ۔ کہ آپ دو رکعتوں میں ( قُلْ هُوَ اللَّـهُ أَحَدٌ ) اور ( قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ ) پڑھا کرتے تھے ۔ پھر آپ حجر اسود کے پاس تشریف لائے ، اس کا استلام کیا اور باب ( صفا ) سے صفا ( پہاڑی ) کی جانب نکلے ۔ جب آپ ( کوہ ) صفا کے قریب پہنچے تو یہ آیت تلاوت فرمائی : ( إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِن شَعَائِرِاللَّـهِ ۖ ) " صفا اور مروہ اللہ کے شعائر ( مقرر کردہ علامتوں ) میں سے ہیں ۔ " میں ( بھی سعی کا ) وہیں سے آغاز کررہا ہوں جس ( کےذکر ) سے اللہ تعالیٰ نے آغاز فرمایا ۔ " اورآپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صفاسے ( سعی کا ) آغاز فرمایا ۔ اس پر چڑھتے حتیٰ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیت اللہ کودیکھ لیا ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم قبلہ رخ ہوئے ، اللہ کی وحدانیت اورکبریائی بیان فرمائی ۔ اور کہا : " اللہ کے سوا کوئی عبادت کےلائق نہیں ، وہ اکیلا ہے ، ساری بادشاہت اسی کی ہے اورساری تعریف اسی کے لئے ہے ۔ اکیلے اللہ کےسوا کوئی عبادت کےلائق نہیں ، اس نےاپنا وعدہ خوب پورا کیا ، اپنے بندے کی نصرت فرمائی ، تنہا ( اسی نے ) ساری جماعتوں ( فوجوں ) کو شکست دی ۔ " ان ( کلمات ) کے مابین دعا فرمائی ۔ آپ نے یہ کلمات تین مرتبہ ارشادفرمائے تھے ۔ پھر مروہ کی طرف اترے ۔ حتیٰ کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قدم مبارک وادی کی ترائی میں پڑے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سعی فرمائی ، ( تیز قدم چلے ) جب وہ ( آپ صلی اللہ علیہ وسلم کےقدم مباک مروہ کی ) چڑھائی چڑھنے لگے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ( معمول کی رفتار سے ) چلنے لگے حتیٰ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مروہ کی طرف پہنچ گئے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مروہ پر اسی طرح کیا جس طرح صفا پر کیا تھا ۔ جب مروہ پر آخری چکر تھا تو فرمایا : " اگر پہلے میرے سامنے وہ بات ہوتی جو بعد میں آئی تو میں قربانی ساتھ نہ لاتا ، اور اس ( منسک ) کو عمرے میں بدل دیتا ، لہذا تم میں سے جس کے ہمرا ہ قربانی نہیں ، وہ حلال ہوجائے اور اس ( منسک ) کو عمرہ قرار دے لے ۔ " ( اتنے میں ) سراقہ بن مالک جعشم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کھڑے ہوئے عرض کی : اے اللہ کےرسول صلی اللہ علیہ وسلم ! ( حج کے مہینوں میں عمرہ کرنا ) ہمارے اسی سال کے لئے ( خاص ) ہے یا ہمیشہ کے لئے؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ( دونوں ہاتھوں کی ) انگلیاں ایک دوسرے میں داخل کیں ، اور فرمایا : " عمرہ ، حج میں داخل ہوگیا ۔ " دو مرتبہ ( ایسا کیا اورساتھ ہی فرمایا : ) " صرف اسی سال کے لئے نہیں بلکہ ہمیشہ ہمیشہ کے لئے ۔ " حضرت علی رضی اللہ عنہ یمن سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قربانی کی اونٹنیاں لے کرآئے ، انھوں نے حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کو دیکھا کہ وہ ان لوگوں میں سے تھیں جو احرام سے فارغ ہوچکے تھے ۔ ، رنگین کپڑے پہن لیے تھے اورسرمہ لگایا ہوا ہے ۔ اسےا نھوں ( حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) نے ان کے لئے نادرست قرار دیا ۔ انھوں نے جواب دیا : میرے والدگرامی ( محمد صلی اللہ علیہ وسلم ) نے مجھے ایسا کرنے کا حکم دیا ہے ۔ ( جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ) کہا : حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ عراق میں کہا کرتے تھے : میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کےپاس ، اس کام کی وجہ سے جو فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے کیاتھا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کے خلاف ابھارنے کے لئے گیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بات کے متعلق پوچھنے کے لئے جو انھوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں کہی تھی ، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ( یہ بھی ) بتایا کہ میں نے ان کے اس کام ( احرام کھولنے ) پر اعتراض کیا ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : " فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے سچ کہا ہے ، اس نے بالکل سچ کہا ہے ۔ اورتم نے جب حج کی نیت کی تھی تو کیا کہا تھا؟ " میں نے جواب دیا میں نے کہا تھا : اے اللہ ! میں بھی اسی ( منسک ) کے لئے تلبیہ پکارتاہوں ۔ جس کے لئے تیرے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تلبیہ پکارا ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " میرے ساتھ قربانی ہے ۔ ( میں عمرے کے بعدحلال نہیں ہوسکتا اور تمھاری بھی نیت میری نیت جیسی ہے ، لہذا ) تم بھی عمرے سے فارغ ہونے کے بعد احرام مت کھولنا ۔ ( حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ) کہا : جانوروں کی مجموعی تعداد جو حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ یمن سے لائےتھے اور جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ساتھ لے کرآئے تھے ۔ ایک سوتھی ۔ پھر ( عمرے کےبعد ) تمام لوگوں نے ( جن کے پاس قربانیاں نہیں تھیں ) احرام کھول لیا اور بال کتروالیے مگر نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور وہ لوگ جن کے ہمراہ قربانیاں تھیں ( انھوں نے احرام نہیں کھولا ) ، جب ترویہ ( آٹھ ذوالحجہ ) کا دن آیا تو لوگ منیٰ کی طرف روانہ ہوئے ، حج ( کا احرام باندھ کر اس ) کا تلبیہ پکارا ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی سواری پر سوار ہوگئے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہاں ( منیٰ میں ) ظہر ، عصر ، مغرب ، عشاء اورفجر کی نمازیں ادا فرمائیں ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کچھ دیر ٹھہرے رہے حتیٰ کہ سورج طلو ع ہوگیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ بالوں سے بنا ہوا یک خیمہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے نمرہ میں لگا دیاجائے ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم چل پڑے ، قریش کو اس بارے میں کوئی شک نہ تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مشعر حرام کے پاس جا کر ٹھر جائیں گے ۔ جیسا کہ قریش جاہلیت میں کیا کرتے تھے ۔ ( لیکن ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ( وہاں سے آگے ) گزر گئے یہاں تک کہ عرفات میں پہنچ گئے ۔ وہاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو وادی نمرہ میں اپنے لیے خیمہ لگا ہواملا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس میں فروکش ہوگئے ۔ جب سورج ڈھلا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( اپنی اونٹنی ) قصواء کو لانے کا حکم دیا ، اس پر آ پ کے لئے پالان کس دیا گیا ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم و ادی ( عرفہ ) کے درمیان تشریف لے آئے ، اور لوگوں کو خطبہ دیا : تمہارے خون اور اموال ایک دوسرے پر ( ایسے ) حرام ہیں جیسے آج کے دن کی حرمت اس مہینے اور اس شہر میں ہے اور زمانہ جاہلیت کی ہر چیز میرے دونوں پیروں کے نیچے رکھ دی گئی ( یعنی ان چیزوں کا اعتبار نہ رہا ) اور جاہلیت کے خون بے اعتبار ہو گئے اور پہلا خون جو میں اپنے خونوں میں سے معاف کرتا ہوں وہ ابن ربیعہ کا خون ہے کہ وہ بنی سعد میں دودھ پیتا تھا اور اس کو ہذیل نے قتل کر ڈالا ( غرض میں اس کا بدلہ نہیں لیتا ) اور اسی طرح زمانہ جاہلیت کا سود سب چھوڑ دیا گیا ( یعنی اس وقت کا چڑھا سود کوئی نہ لے ) اور پہلے جو سود ہم اپنے یہاں کے سود میں سے چھوڑتے ہیں ( اور طلب نہیں کرتے ) وہ عباس رضی اللہ عنہ بن عبدالمطلب کا سود ہے اس لئے کہ وہ سب چھوڑ دیا گیا اور تم لوگ عورتوں کے بارے میں اللہ سے ڈرو اس لئے کہ ان کو تم نے اللہ تعالیٰ کی امان سے لیا ہے اور تم نے ان کے ستر کو اللہ تعالیٰ کے کلمہ ( نکاح ) سے حلال کیا ہے ۔ اور تمہارا حق ان پر یہ ہے کہ تمہارے بچھونے پر کسی ایسے شخص کو نہ آنے دیں ( یعنی تمہارے گھر میں ) جس کا آنا تمہیں ناگوار ہو پھر اگر وہ ایسا کریں تو ان کو ایسا مارو کہ ان کو سخت چوٹ نہ لگے ( یعنی ہڈی وغیرہ نہ ٹوٹے ، کوئی عضو ضائع نہ ہو ، حسن صورت میں فرق نہ آئے کہ تمہاری کھیتی اجڑ جائے ) اور ان کا تم پر یہ حق ہے کہ ان کی روٹی اور ان کا کپڑا دستور کے موافق تمہارے ذمہ ہے اور میں تمہارے درمیان ایسی چیز چھوڑے جاتا ہوں کہ اگر تم اسے مضبوط پکڑے رہو تو کبھی گمراہ نہ ہو گے ( وہ ہے ) اللہ تعالیٰ کی کتاب ۔ اور تم سے ( قیامت میں ) میرے بارے میں سوال ہو گا تو پھر تم کیا کہو گے؟ ان سب نے عرض کیا کہ ہم گواہی دیتے ہیں کہ بیشک آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کا پیغام پہنچایا اور رسالت کا حق ادا کیا اور امت کی خیرخواہی کی ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی انگشت شہادت ( شہادت کی انگلی ) آسمان کی طرف اٹھاتے تھے اور لوگوں کی طرف جھکاتے تھے اور فرماتے تھے کہ اے اللہ! گواہ رہنا ، اے اللہ! گواہ رہنا ، اے اللہ! گواہ رہنا ۔ تین بار ( یہی فرمایا اور یونہی اشارہ کیا ) پھر اذان اور تکبیر ہوئی تو ظہر کی نماز پڑھائی اور پھر اقامت کہی اور عصر پڑھائی اور ان دونوں کے درمیان میں کچھ نہیں پڑھا ( یعنی سنت و نفل وغیرہ ) پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سوار کر موقف میں آئے اونٹنی کا پیٹ پتھروں کی طرف کر دیا اور پگڈنڈی کو اپنے آگے کر لیا اور قبلہ کی طرف منہ کیا اور غروب آفتاب تک وہیں ٹھہرے رہے ۔ زردی تھوڑی تھوڑی جاتی رہی اور سورج کی ٹکیا ڈوب گئی تب ( سوار ہوئے ) سیدنا اسامہ رضی اللہ عنہ کو پیچھے بٹھا لیا اور واپس ( مزدلفہ کی طرف ) لوٹے اور قصواء کی مہار اس قدر کھینچی ہوئی تھی کہ اس کا سر کجاوہ کے ( اگلے حصے ) مورک سے لگ گیا تھا ( مورک وہ جگہ ہے جہاں سوار بعض وقت تھک کر اپنا پیر جو لٹکا ہوا ہوتا ہے اس جگہ رکھتا ہے ) اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سیدھے ہاتھ سے اشارہ کرتے تھے کہ اے لوگو! آہستہ آہستہ آرام سے چلو اور جب کسی ریت کی ڈھیری پر آ جاتے ( جہاں بھیڑ کم پاتے ) تو ذرا مہار ڈھیلی کر دیتے یہاں تک کہ اونٹنی چڑھ جاتی ( آخر مزدلفہ پہنچ گئے اور وہاں مغرب اور عشاء ایک اذان اور دو تکبیروں سے پھڑیں اور ان دونوں فرضوں کے بیچ میں نفل کچھ نہیں پڑھے ( یعنی سنت وغیرہ نہیں پڑھی ) پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم لیٹ رہے ۔ ( سبحان اللہ کیسے کیسے خادم ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کہ دن رات آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سونے بیٹھنے ، اٹھنے جاگنے ، کھانے پینے پر نظر ہے اور ہر فعل مبارک کی یادداشت و حفاظت ہے اللہ تعالیٰ ان پر رحمت کرے ) یہاں تک کہ صبح ہوئی جب فجر ظاہر ہو گئی تو اذان اور تکبیر کے ساتھ نماز فجر پڑھی پھر قصواء اونٹنی پر سوار ہوئے یہاں تک کہ مشعر الحرام میں آئے اور وہاں قبلہ کی طرف منہ کیا اور اللہ تعالیٰ سے دعا کی اور اللہ اکبر کہا اور لا الٰہ الا اللہ کہا اور اس کی توحید پکاری اور وہاں ٹھہرے رہے یہاں تک کہ بخوبی روشنی ہو گئی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم وہاں سے طلوع آفتاب سے قبل لوٹے اور سیدنا فضل بن عباس رضی اللہ عنہ کو اپنے پیچھے بٹھا لیا اور فضل رضی اللہ عنہ ایک نوجوان اچھے بالوں والا گورا چٹا خوبصورت جوان تھا ۔ پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم چلے تو عورتوں کا ایک ایسا گروہ چلا جاتا تھا کہ ایک اونٹ پر ایک عورت سوار تھی اور سب چلی جاتی تھیں اور سیدنا فضل صان کی طرف دیکھنے لگے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فضل کے چہرے پر ہاتھ رکھ دیا ( اور زبان سے کچھ نہ فرمایا ۔ سبحان اللہ یہ اخلاق کی بات تھی اور نہی عن المنکر کس خوبی سے ادا کیا ) اور فضل رضی اللہ عنہ نے اپنا منہ دوسری طرف پھیر لیا اور دیکھنے لگے ( یہ ان کے کمال اطمینان کی وجہ تھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق پر ) تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر اپنا ہاتھ ادھر پھیر کر ان کے منہ پر رکھ دیا تو فضل دوسری طرف منہ پھیر کر پھر دیکھنے لگے یہاں تک کہ بطن محسر میں پہنچے تب اونٹنی کو ذرا تیز چلایا اور بیچ کی راہ لی جو جمرہ کبریٰ پر جا نکلتی ہے ، یہاں تک کہ اس جمرہ کے پاس آئے جو درخت کے پاس ہے ( اور اسی کو جمرہ عقبہ کہتے ہیں ) اور سات کنکریاں اس کو ماریں ۔ ہر کنکری پر اللہ اکبر کہتے ، ایسی کنکریاں جو چٹکی سے ماری جاتی ہیں ( اور دانہ باقلا کے برابر ہوں ) اور وادی کے بیچ میں کھڑے ہو کر ماریں ( کہ منیٰ ، عرفات اور مزدلفہ داہنی طرف اور مکہ بائیں طرف رہا ) پھر نحر کی جگہ آئے اور تریسٹھ اونٹ اپنے دست مبارک سے نحر ( یعنی قربان ) کئے ، باقی سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو دئیے کہ انہوں نے نحر کئے ۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو اپنی قربانی میں شریک کیا اور پھر ہر اونٹ سے گوشت ایک ٹکڑا لینے کا حکم فرمایا ۔ ( آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے مطابق لے کر ) ایک ہانڈی میں ڈالا اور پکایا گیا پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ دونوں نے اس میں سے گوشت کھایا اور اس کا شوربا پیا ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سوار ہوئے اور بیت اللہ کی طرف آئے اور طواف افاضہ کیا اور ظہر مکہ میں پڑھی ۔ پھر بنی عبدالمطلب کے پاس آئے کہ وہ لوگ زمزم پر پانی پلا رہے تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پانی بھرو اے عبدالمطلب کی اولاد! اگر مجھے یہ خیال نہ ہوتا کہ لوگ بھیڑ کر کے تمہیں پانی نہ بھرنے دیں گے تو میں بھی تمہارا شریک ہو کر پانی بھرتا ( یعنی جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم بھرتے تو سنت ہو جاتا تو پھر ساری امت بھرنے لگتی اور ان کی سقایت جاتی رہتی ) پھر ان لوگوں نے ایک ڈول آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں سے پیا ۔