Zaid bin Jubair reported:
A person asked Ibn 'Umar رضی اللہ تعالیٰ عنہ which beast a Muhrim could kill, whereupon he said: One of the wives of Allahs Apostle ( صلی اللہ علیہ وسلم ) told me: He (the Holy Prophet) commanded to kill voracious dog, rat, scorpion, kite, crow, and snake (and this is allowed) likewise in prayer.
ہم سے شیبان بن فروخ نے بیان کیا، انہوں نے بیان کیا ابو عوانہ نے زید بن جبیر سے حدیث سنا ئی کہا
ایک شخص نے ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے پو چھا : ایک آدمی احرا م کی حا لت میں کو ن سے جا نور کو قتل کر سکتا ہے ؟انھوں نے کہا : مجھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک اہلیہ نے بتا یا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ( احرا م کی ھا لت میں ) باولے کتے ، چوہے ، بچھو ، چیل ، کوے اور سانپ کو مارنے کا حکم دیتے تھے ۔ ( ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ) فر ما یا : اور نماز میں بھی ۔
Ibn 'Umar (رضی اللہ تعالیٰ عنہ) reported:
Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) as saying: Five are the beasts for killing which there is no sin for the Muhrim: crows, kites, scorpions, rats and wild dogs.
ہم سے یحییٰ بن یحییٰ نے بیان کیا، کہا: میں نے مالک رضی اللہ عنہ سے پڑھا, مالک نے نافع سے انھوں نے ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ
اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " پانچ ( موذی جا نور ایسے ) ہیں کہ احرا م باندھنے والے پر انھیں قتل کر دینے میں کو ئی گنا ہ نہیں ہے کہ کوا ، چیل ، چوہا اور کاٹنے والا کتا ۔
Ibn Juraij reported: I said to Nafi:
What is that which you heard Ibn Umar رضی اللہ تعالیٰ عنہ declaring permissible for a Muhrim to kill some of the beasts? Nafi, said to me that 'Abdullah رضی اللہ تعالیٰ عنہ had reported: I heard Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) as saying: Five are the beasts in killing which or their being killed, there is no sin: crow, kite, scorpion, rat and voracious dog.
ہم سے ہارون بن عبداللہ نے بیان کیا، کہا ہم سے محمد بن بکر نے بیان کیا، انہوں نے بیان کیا ابن جریج نے کہا : میں نے نافع سے پو چھا
آپ نے ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے کیا سنا وہ احرا م والے شخص کے لیے کن جا نوروں کو مارنا حلال قرار دیتے تھے؟نافع نے مجھ سے کہا : حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا کہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو فر ما تے سنا : " پانچ ( موذی ) جا نور ہیں انھیں مارنے میں ان کے مارنے والے پر کو ئی گنا ہ نہیں ۔ کوا ، چیل بچھو ، چوہا اور کا ٹنے والا کتا.
The above hadith was reported with other chains from Nafi' on the authority of Ibn 'Umar رضی اللہ تعالیٰ عنہ , but there was difference in the wording in how the attributed the chain.
ہم سے قتیبہ اور ابن رومح نے روایت کی ہے , لیث بن سعد اور جریر یعنی ابن حا زم نے نا فع سے اسی طرح عبید اللہ ایوب اور یحییٰ بن سعید ان تینوں نے بھی نافع سے انھوں نے ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اور انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح مالک اور ابن جریج کی طرح ہی حدیث بیان کی ان میں سے کسی ایک نے بھی نافع نے ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا کے الفا ظ نہیں کہے ۔ سوائے اکیلےابن جریج کے ( البتہ ) ابن اسھاق نے ان الفا ظ میں ابن جریج کی متا بعت کی ہے ۔
It was narrated that Ibn Umar رضی اللہ تعالیٰ عنہ said: I heard the prophet ﷺ say:
Five (are the beasts) in killing which or their being killed in the precinct of the Ka'ba there is no sin. The rest of the hadith is the same.
محمد بن اسحا ق نے نافع اور عبید اللہ بن عبد اللہ سے خبر دی انھوں نے ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا
میں ان میں سے جو بھی حرم میں قتل کر دیا جا ئے اس کے قتل پر کو ئی گنا ہ نہیں ۔ پھر مذکورہ بالا حدیث بیان کی ۔
Abdullah bin Umar (رضی اللہ تعالیٰ عنہ) reported:
Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) as saying: Five (are the animals) which, it one kills them In the state of Ihram, entail no sin for one (who does it): scorpion, rat, voracious dog, crow and kite.
یحییٰ بن یحییٰ ، یحییٰ بن ایو ب قتیبہ اور ابن حجر نے اسما عیل بن جعفر سے حدیث بیان کی کہا : عبد اللہ بن دینا ر سے روایت ہے کہ انھوں نے عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا وہ کہہ رہے تھے
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : "" پانچ ( موذی جا نور ) ہیں جو انھیں احرا م کی حالت میں مار دے اس پر کو ئی گناہ نہیں ۔ چو ہا ، بچھو ، کوا چیل اور کا ٹنے والا کتا ۔ الفاظ یحییٰ بن یحییٰ کے ہیں.
Ka'b bin 'Ujra (رضی اللہ تعالیٰ عنہ) reported:
The Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) came to me on the occasion of Hudaibiya and I was kindling fire under my cooking pot and lice were creeping on my face. Thereupon he (the Holy Prophet) said: Do the vermins harm your head? I said: Yes. He said: Get your head shaved and (in lieu of it) observe fasts for three days or feed six needy persons, or offer sacrifice (of an animal). Ayyub said: I do not know with what (type of expiation) did he commence (the statement).
مجھے عبید اللہ بن عمر قواریری اور ابو ربیع نے حدیث بیان کی ( دونوں نے کہا ) ہمیں حما د بن زید نے حدیث سنائی ( حماد بن زید نے کہا ) ہمیں ایو ب نے حدیث بیا ن کی ، کہا : میں نے مجا ہد سے سنا ، وہ عبد الرحمٰن بن ابی لیلیٰ سے حدیث بیان کر رہے تھے انھوں نے کعب بن عجرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا
حدیبیہ کے د نوں میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشر یف لا ئے میں ۔ ۔ ۔ قواریری کے بقول اپنی ہنڈیا کے نیچے اور ابو ربیع کے بقول ۔ ۔ ۔ اپنی پتھر کی دیگ کے نیچے آگ جلا رہا تھا اور ( میرے سر کی ) جو ئیں میرے چہرے پر گر رہی تھیں آپ نے فر ما یا : " کیا تمھا رے سر کی مخلوق ( جوئیں رضی اللہ تعالیٰ عنہ تمھا رے لیے با عث اذیت ہیں؟کہا : میں نے جواب دیا جی ہاں ، آپ نے فر ما یا : " تو اپنا سر منڈوادو ( اور فدیے کے طور پر ) تین دن کے روزےرکھو ۔ یا چھ مسکینوں کو کھا نا کھلا ؤ یا ( ایک ) قربا نی دے دو ۔ ایو ب نے کہا : مجھے علم نہیں ان ( فدیے کی صورتوں میں ) سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کس چیز کا پہلے ذکر کیا ۔
This hadith is narrated on the authority of Ayyub.
علی بن حجر الساعدی، زہیر بن حرب، اور یعقوب بن ابراہیم نے مجھےابن علیہ نے ایوب سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند روایت کی ۔
Kalb bin Ujra (رضی اللہ تعالیٰ عنہ) reported:
It was I for whom this verse was revealed (to the Holy Prophet): Whoever among you is sick or has an ail- ment of the head, he (may effect) a compensation by lasting or alms or a sacrifice He said: I came to him (the Holy Prophet) and he said: Come Dear. So I went near. He (again) said: Come near. So I went near. Thereupon the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) said: Do the vermins trouble you? Ibn Aun (one of the narrators) said: I think he (Ka'b bin Ujra) replied in the affirmative. He (the Holy Prophet) then commanded to do compensation by fasting or by giving sadaqa (feeding six needy persons) or by sacrifice (of a animal) that is available.
ہم سے محمد بن المثنی نے بیان کیا، انہوں نے کہا ابن عون نے مجا ہد سے انھوں نے عبد الرحمٰن بن ابی لیلیٰ سے انھوں نے کعب بن عجرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی انھوں نے کہا
یہ آیت میرے بارے میں نا زل ہوئی : پھر اگر تم میں سے کو ئی شخص بیمار ہو یا اس کے سر میں تکلیف ہو ( اور وہ سر منڈوالے ) تو فدیے میں روزے رکھے یا صدقہ دے یا قربانی کرے ۔ کہا میں آپ کی خدمت میں حا ضر ہوا آپ نے فر ما یا : "" ذرا قریب آؤ ۔ میں آپ کے ( کچھ ) قیریب ہو گیا آپ نے فر ما یا : "" اور قریب آؤ ۔ تو میں آپ کے اور قریب ہو گیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پو چھا : کیا تمھا ری جو ئیں تمھیں ایذا دیتی ہیں ؟ ابن عون نے کہا : میرا خیال ہے کہ انھوں ( کعب رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) نے کہا جی ہاں ( کعب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ) کہا : تو آپ نے مجھے حکم دیا کے روزے صدقے یا قر بانی میں سے جو آسان ہو بطور فدیہ دوں ۔
Ka'b bin 'Ujra (رضی اللہ تعالیٰ عنہ) reported:
The Messenger of Allah (ﷺ) stood near him and lice were falling from his head. Thereupon he (the Holy Prophet) said: Do these vermins trouble you? I said: Yes. Thereupon he said: Then shave your head; and it was in connection with me that this verse was revealed: Whoever among you is sick or has an ailment of the head, he (may effect) a compensation by fasting or alms or a sacrifice . He (the Holy Prophet, therefore) said to me: Observe fast for three days or give a quantity of alms enough to feed six needy persons or offer sacrifice (of an animal) that is available.
ہم سے ابن نمیر نے بیان کیا، کہا ہم سے میرے والد نے بیان کیا، انہوں نے کہاسیف ( بن سلیمان ) نے کہا : میں نے مجا ہد سے سنا وہ کہہ رہے تھے کہ مجھے عبد الرحمٰن بن ابی لیلیٰ نے حدیث سنا ئی کہا مجھے کعب بن عجرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حدیث بیان کی کہ
اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے اوپر ( کی طرف ) کھڑے ہو ئے اور ان کےسر سے جو ئیں گر رہی تھیں آپ نے فر ما یا " کیا تمھا ری جو ئیں تمھیں اذیت دیتی ہیں ؟ میں نے کہا جی ہاں ، آپ نے فر ما یا : " تو اپنا سر منڈوا لو ۔ ( کعب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ) کہا : تو میرے بارے میں یہ آیت نازل ہو ئی پھر اگر کو ئی شخص بیما رہو یا اس کے سر میں تکلیف ہو ( اور وہ سر منڈوا لے ) تو فدیے میں رو زے رکھے یا صدقہ دے یا قر بانی کرے ۔ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے فر ما یا : " تین دن کے روزے رکھویا ( کسی بھی جنس کا ) ایک فرق ( تین صاع ) چھ مسکینوں میں صدقہ کر و یا قر بانی میسر ہو کرو ۔
Ka`b bin 'Ujra (رضی اللہ تعالیٰ عنہ) reported:
The Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) happened to pass by him at Hudaibiya before entering Mecca in a state of Ihram and he (Ka'b) was kindling fire under the cooking pot and vermin were creeping on his (Ka`b's) face. Thereupon (the Holy Prophet) said: Do these vermin trouble you? He (Ka'b) said: Yes. The Messenger of Allah (way peace be upon him) said: Shave your head and give some quantity of food enough to feed six needy persons (faraq is equal to three sa's), or observe fast for three days or offer sacrifice of a sacrificial animal. Ibn Najih (one of the narrators) said: Or sacrifice a goat.
ہم سے محمد بن ابی عمر نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا, ابن ابی نجیح ایوب حمید اور عبد الکریم نے مجا ہد سے انھوں نے ابن ابی لیلیٰ سے انھوں نے کعب بن عجرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ
نبی صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں دا خل ہو نے سے پہلے جب حدیبیہ میں تھے ان کے پاس سے گزرے جبکہ وہ کعب رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) احرا م کی حالت میں تھے اور ایک ہنڈیا کے نیچے آگ جلا نے میں لگے ہو ئے تھے جو ئیں ان کے چہرے پر گر رہی تھیں آپ نے فر ما یا : " کیا تمھا ری سر کی جوئیں تمھیں اذیت دے رہی ہیں؟ انھوں نے عرض کی جی ہاں ، آپ نے فر ما یا : " تو اپنا سر منڈوالو اور ایک فرق کھا نا چھ مسکینوں کو کھلا دو ۔ ۔ ۔ ایک فرق تین صاع کا ہو تا ہے ۔ ۔ ۔ یا تین دن کے روزے رکھو یا قربانی کے ایک جا نور کی قر با نی کر دو ۔ ۔
Ka'b bin Ujra (رضی اللہ تعالیٰ عنہ) reported:
The Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) happened to pass by him during the period of Hudaibiya. Thereupon he (the Holy Prophet) said to him (Ka'b bin Ujra): Do these vermins trouble your head? He said: Yes. Thereupon he (the Holy Prophet) said: Shave your head. Then sacrifice a goat or observe fasts for three days or give three sits of dates to feed six needy persons.
ہم سے یحییٰ بن یحییٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے خالد بن عبداللہ نے بیان کیا، ان سے خالد کی سند سے, ابو قلا بہ نے عبد الرحمٰن بن ابی لیلیٰ سے انھوں نے کعب بن عجرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ
اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حدیبیہ کے دنو میں ان کے پاس گزرے اور ان سے پو چھا تمھا رے سر کی جوؤں نے تمھیں اذیت دی ہے ؟انھوں نے کہا : جی ہاں تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فر ما یا : " سر منڈوادو ۔ پھر ایک بکری بطور قر بانی ذبح کرو یا تین دن کے روزے رکھو یا کھجوروں کے تین صاع چھ مسکینوں کو کھلا دو ۔
Abdullah bin Ma'qil said:
I sat with Ka'b (رضی اللہ تعالیٰ عنہ) and he was in the mosque. I asked him about this verse: Compensation in (the form of) fasting, or Sadaqa or sacrifice. Ka'b (رضی اللہ تعالیٰ عنہ) said: It was revealed In my case. There was some trouble in my head. I was taken to the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) and lice were creeping upon my face. Thereupon he said: I did not think that your trouble had become so unbearable as I see. Would you be able to afford (the sacrificing) of a goat? I (Ka'b رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) said: Then this verse was revealed: Compensation (in the form of) fasting or alms or a sacrifice. He (the Holy Prophet) said: (It Implies) fasting for three days, or feeding six needy perscins, half sa' of food for every needy person. This verse was revealed particularly for me and (now) Its application is general for all of you.
ہم سے محمد بن المثنی اور ابن بشار نے بیان کیا، انہوں نے کہا: ہم سے محمد بن جعفر نے بیان کیا, شعبہ نے عبد الرحمٰن بن اصبہانی سے حدیث بیان کی انھوں نے عبد اللہ بن معقل سے انھوں نے کہا
میں کعب ( بن عجرہ ) رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس جا بیٹھا وہ اس وقت ( کو فہ کی ایک ) مسجد میں تشریف فر ما تھے میں نے ان سے اس آیت کے متعلق سوال کیا : فَفِدْيَةٌ مِّن صِيَامٍ أَوْ صَدَقَةٍ أَوْ نُسُكٍ ۚ " تو روزوں یا صدقہ یا قر بانی سے فدیہ دے ۔ حضرت کعب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جواب دیا کہ یہ آیت میرے بارے میں نازل ہو ئی تھی ۔ میرے سر میں تکلیف تھی مجھے اس حال میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لے جا یا گیا کہ جو ئیں میرے چہرے پر پڑرہی تھیں تو آپ نے فر ما یا : " میرا خیال نہیں تھا کہ تمھا ری تکلیف اس حد تک پہنچ گئی ہے جیسے میں دیکھ رہا ہوں ۔ کیا تمھارے پاس کو ئی بکری ہے ؟میں نے عرض کی نہیں اس پر یہ آیت نازل ہو ئی ۔ فَفِدْيَةٌ مِّن صِيَامٍ أَوْ صَدَقَةٍ أَوْ نُسُكٍ ۚ " ( نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ) فر ما یا : " ( تمھا رے ذمے ) تین دنوں کے روزے ہیں یا چھ مسکینوں کا کھا نا ہر مسکین کے لیے آدھا صاع کھا نا ۔ ( پھر کعب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ) کہا : یہ آیت خصوصی طور پر میرے لیے اتری اور عمومی طور پر یہ تمھا رے لیے بھی ہے ۔
Ka'b bin Ujra (رضی اللہ تعالیٰ عنہ) reported:
He went out with the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) in the state of Ihram, and his (Ka'b's) head and beard were infested with lice. This was conveyed to the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ). He sent for him (Ka'b) and called a barber (who) shaved his head. He (the Holy Prophet) said. Is there any sacrificial animal with you? He (Kalb) said: I cannot afford it. He then commanded him to observe fasts for three days or feed six needy persons, one sa' for every two needy persons. And Allah the Exalted and Majestic revealed this (verse) particular with regard to him: So whosoever among you is sick and has an ailment of the head.. ; then (its application) became general for the Muslims.
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے عبداللہ بن نمیر نے بیان کیا، زکریا بن ابی زائد ہ سے روایت ہے کہا : ہمیں عبدالرحٰمن بن اصبہانی نے حدیث بیان کی انھوں نے کہا مجھے عبد اللہ بن معقل نے انھوں نے کہا : مجھے کعب بن عجرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حدیث سنا ئی کہ
وہ احرا م باندھ کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے ان کے سر اور داڑھی میں ( کثرت سے ) جو ئیں پڑ گئیں ۔ اس ( بات ) کی خبر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو پہنچی تو آپ نے انھیں بلا بھیجا اور ھجا م کو بلا کر ان کا سر مونڈ دیا پھر ان سے پو چھا : " کیا تمھا رے پاس کو ئی قربانی ہے ؟ انھوں نے جواب دیا : ( اے اللہ کے رسول ) میں اس کی استطاعت نہیں رکھتا آپ نے انھیں حکم دیا : تین دن کے روزے عکھ لو یا چھ مسکینوں کو کھا نا مہیا کر دو مسکینو ں کے لیے ایک صاعہو اللہ عزوجل نے خاص ان کے بارے میں یہ آیت نازل فر ما ئی : " جو شخص تم میں سے مریض ہو یا اس کے سر میں تکلیف ہو ، اس کے بعد یہ ( اجازت ) عمومی طور پر تمام مسلمانوں کے لیے ہے ۔
Ibn 'Abbas (رضی اللہ تعالیٰ عنہما) reported:
The Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) got himself cupped in the state of lhrim.
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ، زہیر بن حرب اور اسحاق بن ابراہیم نے بیان کیا، کہا: ہم سے اسحاق نے بیان کیا، اور باقی دو نے کہا: ہم سے اس نے بیان کیا۔ سفیان بن عیینہ، عمرو کی سند سے، طاؤس کی سند سے، اور عطاء کی سند سے, حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روا یت ہے کہ
نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے احرام کی حا لت میں سینگی لگوائی ۔
Ibn Buhaina رضی اللہ تعالیٰ عنہ reported:
The Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) got himself cupped in the middle of his head on his way to Mecca.
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا، ہم سے معلی بن منصور نے بیان کیا، ہم سے سلیمان بن بلال نے بیان کیا، وہ علقمہ بن ابی علقمہ کی سند سے۔ عبدالرحمن العرج، حضرت ابن بحسینہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ
نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ کے را ستے ہیں احرا م کی حالت میں اپنے سر کے در میان کے حصے پر سینگی لگوائی ۔
Nubaih bin Wabb reported:
We went with Aban bin Uthman (in a state of lhram). When we were at Malal the eyes of Umar bin Ubaidullah became sore and, when we reached Rauba' the pain grew intense. He (Nubaib bin Wahb) sent (one) to Aban bin Uthman to ask him (what to do). He sent him (the message) to apply aloes to them, for 'Uthman (رضی اللہ تعالیٰ عنہ) reported that the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) applied aloes to the person whose eyes were sore and he was in the state of Ihram.
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ، عمرو ناقد اور زہیر بن حرب نے ابن عیینہ کی سند سے بیان کیا، ابوبکر نے کہا: ہم سے بیان کیا سفیان بن عیینہ نے حدیث بیان کی ( کہا ) ہمیں ایوب بن مو سیٰ نے نبیہ بن وہب سے حدیث بیان کی انھوں نے کہا
ہم ابان بن عثمان کے ساتھ ( حج کے لیے ) نکلے جب ہم ملل کے مقام پر پہنچے تو عمر بن عبید اللہ کی انکھوں میں تکلیف شروع ہو گئی ، جب ہم رَرحا ء میں تھے تو ان کی تکلیف شدت اختیار کر گئی انھوں نے مسئلہ پو چھنے کے لیے ابان بن عثمان کی طرف قاصد بھیجا ، انھوں نے ان کی طرف جواب بھیجا کہ دو نوں ( آنکھوں ) پر ایلوے کا لیپ کرو ۔ حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے واسطے سے اس شخص کے متعلق حدیث بیان کی تھی جو احرا م کی حا لت میں تھا جب اس کی آنکھوں میں تکلیف شروع ہو گئی تو آپ نے ( اس کی آنکھوں پر ) ایلوے کا لیپ کرا یا تھا ۔
Nubaih bin Wahb reported:
The eyes of Umar bin Ubaidullah bin Ma'mar were swollen, and he decided to use antimony. Aban bin 'Uthman forbade him to do so and commanded him to apply aloes on them, and reported on the authority of 'Uthman bin Affan رضی اللہ تعالیٰ عنہ that the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) had done that.
ہم سے اسحاق بن ابراہیم الحنظَلی نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہمیں عبد الصمد بن عبد الوارث نے خبر دی کہا : مجھ سے میرے والد نے حدیث بیان کی کہا : ہم سے ایوب بن موسیٰ نے حدیث بیان کی کہا : مجھ سے نبیہ بن وہب نے حدیث بیان کی کہ ہمیں عبد الصمد بن عبد الوارث نے خبر دی کہا : مجھ سے میرے والد نے حدیث بیان کی کہا : ہم سے ایوب بن موسیٰ نے حدیث بیان کی کہا : مجھ سے نبیہ بن وہب نے حدیث بیان کی کہ
( ایک بار احرا م کی حالت میں ) عمر بن عبید اللہ بن معمر کی آنکھیں دکھنے لگیں انھوں نے ان میں سر مہ لگا نے کا ارادہ فر ما یا تو ابان بن عثمان نے انھیں روکا اور کہا کہ اس پر ایلوے کا پیپ کر لیں ۔ اور عثمان بن عفان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے واسطے سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیث بیان کی کہ آپ نے ایسا ہی کیا تھا ۔
Ibrahim bin 'Abdullah narrated on the authority of his father:
There cropped up a difference of opinion between Abdullah bin 'Abbas رضی اللہ تعالیٰ عنہ and al-Miswar bin Makhrama رضی اللہ تعالیٰ عنہ at a place (called) Abwa'. Abdullah bin 'Abbas رضی اللہ تعالیٰ عنہ contended that a Muhrim (is permitted) to wash his head, whereas Miswar contended that a Muhrim is not (permit- fed) to wash his head. So Ibn Abbas رضی اللہ تعالیٰ عنہ sent me (the father of Ibrabim) to Abu Ayyub al-Ansirl to ask him about it. (So I went to him) and found him taking bath behind two poles covered by a cloth. I gave him salutation, whereupon be asked: Who is this? I said: I am 'Abdullah bin Hunain. 'Abdullah bin 'Abbas رضی اللہ تعالیٰ عنہ has sent me to you to find out how the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) washed his head in the state of Ihram. Abu Ayyub (رضی اللہ تعالیٰ عنہ) placed his hand on the cloth and lowered it (a little) till his head became visible to me; and he said to the man who was pouring water upon him to pour water. He poured water on his head. He then moved his head with the help of his hands and moved them (the hands) forward and backward and then said: This is how I saw him (the Messenger of Allah) doing.
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ، عمرو ناقد، زہیر بن حرب اور قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، کہا: ہم سے انہوں نے بیان کیا سفیان بن عیینہ اور مالک بن انس نے زید بن اسلم سے انھوں نے ابرا ہیم بن عبد اللہ بن حنین سے انھوں نے اپنے والد ( عبد اللہ بن حنین ) سے
انھوں نے عبد اللہ بن عباس اور مسور بن مخرمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ ابو اء کے مقام پر ان دونوں کے در میان اختلا ف ہوا ۔ عبد اللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : محرم شخص اپنا سر دھو سکتا ہے اور مسور رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : محرم اپنا سر نہیں دھو سکتا ۔ ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے مجھے ( عبد اللہ بن حنین کو ) ابو ایوب انصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی طرف بھیجا کہ میں ان سے ( اس کے بارے میں ) مسئلہ پوچھوں ( جب میں ان کے پاس پہنچا تو ) انھیں ایک کپڑے سے پردہ کر کے کنویں کی دو لکڑیوں کے در میان ( جو کنویں سے فاصلے پر لگا ئی جا تی تھیں اور ان پر لگی ہو ئی چرخی پر سے اونٹ وغیرہ کے ذریعے ڈول کا رسہ کھینچا جا تا تھا ) غسل کرتے ہو ئے پایا ۔ ( عبد اللہ بن حنین نے ) کہا : میں نے انھیں سلام کہا : وہ بو لے : یہ کون ( آیا ) ہے؟میں نے عرض کی : میں عبد اللہ بن حنین ہوں مجھے حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے آپ کی طرف بھیجا ہے کہ میں اپ سے پو چھوں : اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم احرا م کی حا لت میں اپنا سر کیسے دھو یا کرتے تھے ؟ ( میری بات سن کر ) حضرت ابو اءایوب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنا ہاتھ کپڑے پر رکھ کر اسے نیچے کیا حتی کہ مجھے ان کا سر نظر آنے لگا پھر اس شخص سے جو آپ پر پانی انڈیل رہا تھا کہا : پانی ڈا لو ۔ اس نے آپ کے سر پر پا نی انڈیلا پھر آپ نے اپنے دونوں ہاتھوں سے اپنے سر کو خوب حرکت دی اپنے دونوں ہاتھوں کو آگے لے آئے اور پیچھے لے گئے ۔ پھر کہا : میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس طرح کرتے ہو ئے دیکھا تھا ۔
Zaid bin Aslam narrated it with this chain (a Hadith similar to no. 2889) and said:
Abu Ayyub rubbed his whole head with his hands and then moved them forward and backward. Miswar رضی اللہ تعالیٰ عنہ said to Ibn 'Abbas رضی اللہ تعالیٰ عنہ : I would never dispute with you (in future).
ہم سے اسحاق بن ابراہیم اور علی بن خشرم نے بیان کیا، انہوں نے کہا: ہم سے عیسیٰ بن یونس نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ابن جریج نے حدیث بیان کی کہا مجھے زید بن اسلم نے اسی سند کے ساتھ خبر دی اور کہا کہ
ابواء ایوب نے اپنے دو نوں ہاتھوں کو اپنے پورے سر پر پھیر اانھیں آگے اور پیچھے لے گئے اس کے بعد حضرت مسور رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے کہا : میں آپ سے کبھی بحث نہیں کیا کروں گا ۔