Ibn Abbas ( رضی اللہ تعالیٰ عنہ) reported:
A person fell down from his camel (in a state of Ihram) and his neck was broken and he died. Thereupon Allah's Apostle. ( صلی اللہ علیہ وسلم ) said: Bathe him with water mixed with the leaves of the lote tree and shroud him in his two (pieces of) cloth (Ihbram), and do not cover his head for Allah will raise him on the Day of Resurrection Pronouncing Talbiya.
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا سفیان بن عیینہ نے عمرو ( بن دینا ر ) سے ( انھوں نے ) سعید بن جبیر سے انھوں نے ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ
ایک شخص اپنے اونٹ سے گر گیا ۔ اس کی گردن ٹوٹ گئی اور وہ فو ت ہو گیا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " اسے پانی اور بیری کے پتوں سے غسل دو اسی کے دونوں کپڑوں ( احرا م کی دو نوں چادروں ) میں اسے کفن دو اس کا سر نہ ڈھانپو ۔ بلا شبہ اللہ تعا لیٰ اسے قیامت کے دن اس حال میں اٹھا ئے گا کہ وہ تلبیہ پکار رہا ہو گا ۔
Ibn Abbas (رضی اللہ تعالیٰ عنہ) reported:
While a person was standing in 'Arafat with the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) he fell down from his camel and broke his neck. This was mentioned to the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ), whereupon he said: Bathe him with water mixed with the leaves of the lote tree and shroud him in two (pieces of) cloth and neither perfume him nor cover his head; (Ayyub said) for Allah would raise him on the Day of Resurrection in the state of pronouncing Talbiya. ('Amr. however, said): Verily Allah would raise him on the Day of Resurrection pronouncing Talbiya. Sa'id bin Jubair narrated this hadith on the authority of Ibn 'Abbas (Allah be pleased with them) that a person was standing with the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) as he was in the state of Ihram. The rest of the hadith is the same.
ہم سے ابو الربیع الزہرانی نے بیان کیا، انہوں نے کہا حماد نے عمرو بن دینا ر اور ایوب سے انھوں نے سعید بن جبیر سے انھوں نے ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ( ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ) کہا
ایک شخص عرفات میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ وقف میں تھا کہ اپنی سواری سے گرگیا ایوب نے کہا اس کی سوری نے اس کی گردن تو ڈالی ۔ ۔ ۔ یا کہا : اسے اسی وقت مار ڈالا ۔ ۔ ۔ اور عمرو نے فوقصته کہا ( اس کی گردن کا منکا توڑ دیا ۔ ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات بتا ئی گئی تو فر مایا : " اسے پانی اور بیری کے پتوں سے غسل دو اسے کپڑوں میں کفن دو اسے خوشبو لگا ؤ نہ اس کا سر ڈھا نپو ۔ ایوب نے کہا : " بلا شبہ اللہ تعا لیٰ قیامت کے دن اسے اسی حالت میں تلبیہ کہتا ہوا اٹھا ئے گا ۔ اور عمرو نے کہا : " بلا شبہ اللہ تعا لیٰ اسے قیامت کے دن اٹھا ئے گا ۔ وہ تلبیہ پکار رہا ہو گا ۔
It was narrated that Ibn Abbas رضی اللہ تعالیٰ عنہ said:
While a man was standing with the prophet ﷺ while he was Ihram... and he mentioned a report similar to that of Hammad from Ayyub (no. 2892).
یہ مجھ سے عمرو ناقد نے بیان کیا اس نے ہم سے بیان کیا, اسماعیل بن ابرا ہیم نے ایوب سے حدیث بیان کی ۔ کہا مجھے سعید بن جبیر سے خبر دی گئی ، انھوں نے ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ
ایک شخص نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ وقوف کر رہا تھا اور احرا م کی حا لت میں تھا ( آگے ) ایو ب سے حماد کی روایت کی مانند حدیث ذکر کی ۔
Ibn Abbas (رضی اللہ تعالیٰ عنہ) reported:
A person proceeded along with the Messenger of Allah (ﷺ) in the state of Ihram and fell down from his camel and his neck was broken, and he died. The Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) said: Bathe him with water mixed with lote (leaves) and shroud him in two (pieces of) cloth and do'not cover his head for he would come on the Day of Resurrection pronouncing Talbiya.
ہم سے علی بن خشرم نے بیان کیا، انہوں نے بیان کیا ہمیں عیسیٰ بن یو نس نے خبر دی کہا : ابن جریج نے کہا : مجھے عمرو بن دینا ر نے سعید بن جبیر سے خبر دی انھوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، فر ما یا
ایک شخص احرا م کی حا لت میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ آیا وہ اپنے اونٹ سے گر گیا ( اس سے ) اس کی گردن ٹوٹ گئی اور وہ فوت ہو گیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " اسے پانی اور بیری کے پتوں سے غسل دو ۔ اس کے اپنے ( احرام کے ) دو کپڑے پہنا ؤ اس کا سر نہ ڈھانپو بلا شبہ وہ قیامت کے روز آئے گا ۔ تلبیہ پکار رہا ہو گا ۔
Sa'id bin Jubair reported on the authority of Ibn Abbas ( رضی اللہ تعالیٰ عنہ):
A person proceeded with the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) in the state of Ihram. The rest of the hadith th is the same except that he (the Holy Prophet) (is reported to have) said: He would be raised on the Day of Resurrection pronouncing Talbiya. Sa'id bin Jubair did not name the place where he fell down.
ہم سے عبد بن حمید نے بیان کیا، انہوں نے بیان کیا محمد بن بکر برسانی نے کہا : ہمیں ابن جریج نے عمرو بن دینار سے خبر دی کہ انھیں سعید بن جبیر نے ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہو ئے خبر دی ۔ کہا
ایک شخص احرا م کی حا لت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ آیا ۔ ( آگے اسی کے مانند ہے مگر ( محمد بن بکر نے ) کہا بلا شبہ اسے قیامت کے روز تلبیہ کہتا ہوا اٹھا یا جا ئے گا ۔ اس میں یہ اضافہ کیا کہ سعید بن جبیر نے گرنے کی جگہ کا نام نہیں لیا ۔
Ibn Abbas ( رضی اللہ تعالیٰ عنہ) reported:
There was a person in the state of Ihram whose camel broke his neck and he died. Thereupon the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) said: Bathe him with water mixed (with the leaves of) lote tree and shroud him In his two (pieces of) cloth and cover neither his head nor his face, for he would be raised on the Day of Resurrection pronouncing Talbiya.
ہم سے ابو کریب نے بیان کیا، ہم سے وکیع نے بیان کیا, سفیان ثوری نے عمرو بن دینار سے انھوں نے سعید بن جبیر سے انھوں نے ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ
ایک شخص کو اس کی سواری نے گرا کر مار دیا وہ احرا م کی حا لت میں تھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فر ما یا : " اسے پانی اور بیری کے پتوں سے غسل دو اسی کے ( احرا م کے ) دو کپڑوں میں کفنا دو اس کاسر اور چہرہ نہ ڈھانپو ۔ بلا شبہ اسے قیامت کے دن تلبیہ پکار تا ہوا اٹھا یا جا ئے گا ۔
Ibn 'Abbas (رضی اللہ تعالیٰ عنہ) reported:
A person who was in the state of Ihram was in the company of the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ), his camel broke his neckand he died. Upon this the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) said: Bathe him with water (mixed with the leaves) of the lute tree and shroud him in his two (pieces of) cloth and, neither perfume him nor cover his head, for he would be raised on the Day of Resurrection pronouncing Talbiya.
ہم سے محمد بن صباح نے بیان کیا، کہا ہم سے ہشیم نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہمیں ابو بشر نے حدیث سنائی کہا : ہمیں سعید بن جبیر نے حدیث بیان کی انھوں نے حضر ت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ
ایک شخص احرا م کی حا لت میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا اونٹنی نے گرا کر اس کی گردن تو ڑدی اور وہ فوت ہو گیا ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " اسے پانی اور بیری کے پتوں سے غسل دو اسے اس کے دو کپڑوں ( احرا م کی دو چادروں ) میں کفن دو نہ اسے خوشبو لگا ؤ نہ اس کا سر ڈھانپو بلا شبہ یہ قیامت کے دن اس حالت میں اٹھا یا جا ئے گا کہ اس کے بال چپکے ہو ئے ہوں گے ۔ ( جس طرح موت کے وقت احرام کی حا لت میں تھے )
Sa'id bin Jubair reported on the authority of Ibn 'Abbas ( رضی اللہ تعالیٰ عنہ):
A camel broke the neck of its owner while he was in the state of lhram and he was at that time in the company of the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ). Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) commanded that he should be bathed with water mixed with (leaves of the) lote (tree) and no perfume should be applied to him and his head should not be covered, for he would be raised on the Day of Resurrection pronouncing Talblya.
مجھ سے ابو کامل فضیل بن حسین الجہدری نے بیان کیا، انہوں نے ہم سے بیان کیا ابو عوانہ نے ابو بشر سے حدیث سنائی انھوں نے سعید بن جبیر سے انھوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ
ایک شخص کو اس کے اونٹ نے ( گرا کر ) اس ( کی گردن ) کا منکا توڑ دیا جبکہ وہ ( شخص ) احرا م کی حا لت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ( سفر حج میں شر یک ) تھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے متعلق حکم دیا کہ اسے پانی اور بیری کے پتوں سے غسل دیا جا ئے خوشبو نہ لگا ئی جا ئے نہ ہی اس کا سر ڈھانپا جا ئے ۔ بلا شبہ اسے قیامت کے روز ( احرا م کی حا لت میں ) چپکے ہو ئے بالوں کے ساتھ اٹھا یا جا ئے گا ۔
Sa'id bin Jubair heard Ibn 'Abbas (رضی اللہ تعالیٰ عنہ) as saying:
A person came to Allah's Apostle ( صلی اللہ علیہ وسلم ) while he was in the state of lhram. He fell down from his camel and broke his neck. Thereupon Allah's Apostle ( صلی اللہ علیہ وسلم ) commanded to bathe him with water (mixed with the leaves of) the lote (tree), and shroud him in two (pieces of) cloth and not to apply perfume (to him), keeping his head out (of the shroud). Shu'ba said: He then narrated to me after this (the words) keeping his head out, his face out, for he would be raised on the Day of Resurrection pronouncing Talbiya.
ہم سے محمد بن بشار اور ابوبکر بن نافع نے بیان کیا، کہا: ہم کو غندر نے خبر دی، انہوں نے بیان کیا شعبہ نے کہا : میں نے ابو بشر سے سنا وہ سعید بن جبیر سے حدیث بیان کر رہے تھے انھوں نے ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو حدیث بیان کرتے ہو ئے سنا کہ
ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حا ضر ہوا جبکہ وہ احرا م کی حا لت میں تھا ( اسی دورا ن میں ) وہ اپنی اونٹنی سے گر گیا تو اس نے اسی وقت اسے مار دیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ اسے پانی اور بیر ی کے پتوں سے غسل دیا جا ئے اور اسے دو کپڑوں میں کفن دیا جا ئے خوشبو نہ لگا ئی جا ئے اور اس کا سر ( کفن سے ) با ہر نکلا ہوا ہو ۔ شعبہ نے کہا مجھے بعد میں انھوں نے یہی حدیث ( اس طرح ) بیان کیا کہ اس کا سر اور چہرہ باہر ہو ۔ بلا شبہ اسے قیامت کے دن ( احرا م میں ) چپکے بالوں کے ساتھ اٹھایا جائےگا ۔ .
Sa`id bin Jubair reported on the authority of Ibn `Abbas ( رضی اللہ تعالیٰ عنہ):
The camel of a person broke his neck as he was in the company of Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ). The Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) commanded them (Companions) to wash him with water mixed (with the leaves of) the lote (tree) and to keep his face exposed; (he, the narrator) said: And his head (too), for he would be raised on the Day of Resurrection pronouncing Talbiya.
ہم سے ہارون بن عبداللہ نے بیان کیا، کہا ہم سے اسود بن عامر نے بیان کیا، انہوں نے زہیر کی سند سے, ابو زبیر نے کہا میں نے سعید بن جبیر کو کہتے ہو ئے سنا کہ ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا
ایک شخص کی اس کی سواری نے گرا کر گردن توڑ دی وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ تھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان ( صحابہ کرا م رضوان اللہ عنھم اجمعین ) کو حکم دیا کہ اسے پانی اور بیری کے پتوں سے غسل دیں اس کا چہرہ ۔ ۔ ۔ اور میرا خیال ہے کہا ۔ ۔ ۔ اور سر برہنہ رکھیں ۔ بلا شبہ قیامت کے دن اسے اس طرح اٹھا یا جا ئے گا کہ وہ بلند آواز سے تلبیہ پکا ر رہا ہو گا ۔
Ibn 'Abbas (رضی اللہ تعالیٰ عنہ) reported:
There was a person in the company of Allah's Messenger (may peace' be upon him) whose camel broke his neck and he died. thereupon Allah's Apostle ( صلی اللہ علیہ وسلم ) said: Wash him, but do not apply perfume and do not cover his face, for he would be raised (on the Day of Resurrection) pronouncing Talbiya.
ہم سے عبد بن حمید نے بیان کیا، کہا ہم سے عبید اللہ بن موسیٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے اسرائیل نے بیان کیا, منصور نے سعید بن جبیر سے انھوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہا
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک شخص ( سفر حج میں شریک ) تھا اسے اس کی اونٹنی نے گرا کر اس کی گردن تو ڑ دی اور وہ فوت ہو گیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " اسے غسل دو اور خوشبو اس کے قریب نہ لاؤ نہ ہی اس کا سر ڈھانپو ۔ بلا شبہ وہ قیامت کے دن اس طرح اٹھا یا جا ئے گا کہ وہ تلبیہ کہہ رہا ہو گا ۔
`A'isha ( رضی اللہ تعالیٰ عنہا) reported:
Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) went (into the house of) Duba`a bint Zubair رضی اللہ تعالیٰ عنہا and said to her: Did you intend to perform Hajj? She said: By Allah, (I intend to do so) but I often remain ill, whereupon he (the Holy Prophet) said to her: Perform Hajj but with condition, and say: O Allah, I shall be free from Ihram where you detain me. And she (Duba`a) was the wife of Miqdad رضی اللہ تعالیٰ عنہ .
ہم سے ابو کریب محمد بن علاء الہمدانی نے بیان کیا، انہوں نے کہا ابو اسامہ نے ہشام سے انھوں نے اپنے والد ( عروہ بن زبیر ) سے انھوں نے حضر ت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے اور انھوں نے فر ما یا
" رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ضباعہ بنت زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہا ( بن عبد المطلب ) کے ہاں تشریف لے گئے اور دریافت کیا : " تم حج کا ارادہ رکھتی ہو ۔ ؟ انھوں نے کہا : اللہ کی قسم میں خود کو بیماری کی حا لت میں پا تی ہوں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فر ما یا : " حج ( کی نیت ) کرو اور شر ط کرلو اور یوں کہو : اللهم مَحِلِّي حيث حبستني " " اے اللہ !میں وہاں احرا م کھول دوں گی جہاں تو مجھے روک دے گا ۔ وہ حضرت مقداد رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی اہلیہ تھیں ۔
A'isha (رضی اللہ تعالیٰ عنہا) reported:
Allah's Apostle ( صلی اللہ علیہ وسلم ) went (to the house of) Duba'a bint al-Zubair bin Abd al-Muttalib رضی اللہ تعالیٰ عنہا . She said: Messenger of Allah, I intend to perform Hajj, but I am ill. Thereupon Allah's Apostle ( صلی اللہ علیہ وسلم ) said: Enter Into the state of Ihram on condition that you would abandon it when Allah would detain you.
ہم سے عبد بن حمید نے بیان کیا، کہا ہم سے عبد الرزاق نے بیان کیا، کہا ہم سے معمر نے بیان کیا, زہری نے عروہ سے انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی انھوں نے کہا
نبی صلی اللہ علیہ وسلم ضباعہ بنت زبیر بن عبدالمطلب رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے ہاں تشریف لے گئے انھوں نے کہا : اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! میں حج کرنا چا ہتی ہوں جبکہ میں بیما ر ( بھی ) ہوں تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " تم حج کے لیے نکل پڑو اور یہ شر ط کر لو کہ ( اے اللہ ! ) میں اسی جگہ احرا م کھول دوں گی جہا ں تو مجھے رو ک دے گا ۔
This hadith has been reported on the authority of A'isha رضی اللہ تعالیٰ عنہا through another chain of transmitters.
ہم سے عبد بن حمید نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالرزاق نے بیان کیا, معمر نے ہشام بن عروہ سے انھوں نے اپنے والد ( عروہ بن زبیر ) سے انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے اسی ( گزشتہ حدیث ) کے مطابق حدیث روایت کی ۔
Ibn Abbas رضی اللہ تعالیٰ عنہ reported:
Duba'a bint al-Zubair bin 'Abdul-Muttalib ( رضی اللہ تعالیٰ عنہا) came to Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) and said: I am an ailing woman but I intend to perform Hajj; what you command me (to do)? He (the Holy Prophet) said: Enter into the state of Ihram (uttering these words) of condition: I would be free from it when Thou wouldst detain me. 'He (the narrator) said: But she was able to complete (the Hajj without breaking down).
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے عبدالوہاب بن عبدالمجید، ابو عاصم اور محمد بن بکر نے بیان کیا، وہ ابن جریج، ایچ، اور اسحاق بن ابراہیم کی سند سے اور ان کا تلفظ محمد بن بکر نے بیان کیا، ہم سے ابن جریج نے بیان کیا۔ جریج نے ہم سے کہا، اس نے مجھے بتایا ابو زبیر نے طاوس کو اور ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے آزاد کردہ غلام عکرمہ کو ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہو ئے سنا کہ
ضباعہ بنت زبیر بن اعبد المطلب رضی اللہ تعالیٰ عنہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں ۔ اور کہا میں ( بیماری کی وجہ سے ) خود کو مشکل سے اٹھا پاتی ہوں اور حج بھی کرنا چا ہتی ہوں ۔ آپ نے فر ما یا " حج کا احرا م باندھ لو اور شرط لگا کو کہ ( اے اللہ ! ) جہاں تو مجھے روک دے گا وہی میرے احرام کھول دینے کا مقام ہو گا ( ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ) کہا : کہ ضباعہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے ) حج کر لیا ۔
Ibn `Abbas ( رضی اللہ تعالیٰ عنہ) reported:
Duba`a رضی اللہ تعالیٰ عنہا intended to perform Hajj, and the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) commanded her (to enter into the state of Ihram) with condition. She did it in compliance with the command of Allah's Apostle ( صلی اللہ علیہ وسلم ).
ہم سے ہارون بن عبداللہ نے بیان کیا، ہم سے ابوداؤد طیالسی نے بیان کیا، ہم سے حبیب بن یزید نے بیان کیا،عمرو بن ہرم نے سعید بن جبیر اور عکرمہ سے انھوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی
ضباعہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے حج کرنا چا ہا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں حکم دیا کہ وہ شرط لگا لیں انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم پر ایسا ہی کیا ۔
It was narrated from Ibn Abbas رضی اللہ تعالیٰ عنہما:
The prophet said to Dubaah رضی اللہ تعالیٰ عنہا "Go for Hajj, but stipulate the condition that Mahilli haithu habastani (My place of exiting Ihram is wherever you prevent me).'" According to the report of Ishaq: "He commanded Dubaah رضی اللہ تعالیٰ عنہا ."
ہمیں اسحاق بن ابرا ہیم ابو ایوب غیلا نی اور احمد بن خراش نے حدیث بیان کی ۔ ۔ ۔ اسھاق نے کہا : ہم کو خبر دی اور دوسروں نے کہا : ہمیں حدیث بیان کی ۔ ۔ ۔ ابو عامر نے جو عبد الملک بن عمر و ہیں انھوں نے کہا ہمیں رباح نے جو ابن ابی معروف ہیں عطا ء سے حدیث بیان کی انھوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت کی کہ
نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ضبا عہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے فرما یا حج ( کی نیت ) کرو اور ( احرا م بند ھتے ہو ئے ) شرط کرلو کہ ( اے اللہ ! ) تو نے جہاں مجھے روک دیا وہیں میرا احرا م ختم ہو جا ئے گا ۔ اور اسحاق کی روایت کے الفا ظ ہیں ( آپ نے ضبا عہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو حکم دیا ۔
`A'isha (رضی اللہ تعالیٰ عنہا) reported:
Asma' bint `Umais رضی اللہ تعالیٰ عنہا gave birth to Muhammad bin Abu Bakr رضی اللہ تعالیٰ عنہ near Dhu'l-Hulaifa. The Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) commanded Abu Bakr رضی اللہ تعالیٰ عنہ to convey to her that she should take a bath and then enter into the state of Ihram.
ہم سے ہناد بن السری، زہیر بن حرب اور عثمان بن ابی شیبہ نے بیان کیا، ان سب نے عبدہ بن زہیر سے کہا: سلیمان، عبید اللہ بن عمر کی سند سے، عبدالرحمٰن بن القاسم کی سند سے، اپنے والد کی سند سے،حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے انھوں نے بیان کیا کہ
ذوالحلیفہ کے مقام پر واقع ) درخت کے قریب ( قیام کے دورا ن میں ) حضرت اسماءبنت عمیس رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو محمد بن ابی بکر کی ( پیدائش کی ) وجہ سے نفاس کا خون آنا شروع ہو گیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو حکم دیا کہ ان ( اپنی اہلیہ اسماء رضی اللہ تعالیٰ عنہا ) سے کہیں کہ وہ غسل کر لیں اور احرا م باندھ لیں ۔
Jabir bin `Abdullah (رضی اللہ تعالیٰ عنہ) reported:
When Asma' bint `Umais رضی اللہ تعالیٰ عنہا gave birth (to a child) in Dhu'l-Hulaifa. Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) commanded Abu Bakr رضی اللہ تعالیٰ عنہ (to convey to her) that she should take a bath and enter into the state of Ihram.
ہم سے ابو غسان محمد بن عمرو نے بیان کیا، کہا ہم سے جریر بن عبدالحمید نے بیان کیا، وہ یحییٰ بن سعید کی سند سے, جعفر ( صادق ) نے اپنے والد محمد ( باقر بن علی زین العابدین بن حسین بن علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) سے انھوں نے حضرت جا بر عبد اللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے
اسماء بنت عمیس رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی حدیث ( کے بارے ) میں روایت کی کہ جب انھیں ذوالحلیفہ میں نفا س آگیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو حکم دیا انھوں نے ان ( اسماءبنت عمیس رضی اللہ تعالیٰ عنہا ) سے کہا کہ وہ غسل کر لیں اور احرا م باندھ لیں ۔
A'isha ( رضی اللہ تعالیٰ عنہا) said:
We went with the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) during the year of the Farewell Pilgrimage. We entered into the state of Ihram for Umra. Then the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) said: Who has the sacrificial animal with him, he should put on Ihram for Hajj along with Umra. and should not put it off till he has completed them (both Hajj and Umra). She said: When I came to Mecca. I was having menses, I neither circumambulated the House, nor ran between as-safa' and al-Marwa. I complained about it to the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) and he said: Undo your hair, comb it, and pronounce Talbiya for Hajj, and give up Umra (for the time being), which I did. When we had performed the Hajj, the Messenger of Allah (way peace he upon him) sent me with Abdul-Rabman bin Abu Bakr رضی اللہ تعالیٰ عنہ to Tan'im saying: This is the place for your Umra. Those who had put on Ihram for Umra circumambulated the House, and ran between al-safa' and al-Marwa. They then put off Ihram and then made the last circuit after they had returned from Mina after performing their Hajj, but those who had combined the Hajj and the Umra made only one circuit (as they had combined Hajj and 'Umra).
ہم سے یحییٰ بن یحییٰ التمیمی نے بیان کیا، کہا: میں نے پڑھا مالک نے ابن شہاب سے انھوں نے عروہ سے انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی ، انھوں نے کہا
ہم حجۃالوداع کے سال ( اس کی ادائیگی کے لیے ) اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ روانہ ہو ئے اور ہم ( میں سے کچھ ) نے عمرے کے لیے ( احرام باندھ کر ) تلبیہ کہا پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فر ما یا : " قربانی کا جا نور جس کے ساتھ ہو وہ عمرے کے ساتھ ہی حج کا بھی تلبیہ پکا رے اور اس وقت تک احرام نہ کھولے جب تک دونوں ( کے لیے عائد کردہ احرا م کی پابندیوں ) سے آزاد نہ ہو جا ئے ۔ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے کہا جب میں مکہ پہنچی تو ایا م مخصوصہ میں تھی میں نے حج کا طواف کیا اور نہ صفا مروہ کے درمیان سعی کی میں نے اس ( صورت حال ) کا شکوہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا تو آپ نے فر ما یا : " اپنے سر کے بال کھولو اور کنگھی کرو ( پھر ) حج کا تلبیہ پکارنا شروع کردو اور عمرے کو چھوڑدو ۔ انھوں نے کہا : میں نے ایسا ہی کیا پھر جب ہم نے حج ادا کر لیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ( میرے بھا ئی ) عبد الرحمٰن بن ابی بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھ تنعیم بھیجا میں نے ( وہاں سے احرا م باندھ کر ) عمرہ کیا ۔ آپ نے فر ما یا : " یہ ( عمرہ ) تمھا رے ( اس رہ جا نے والے ) عمرے کی جگہ ہے ۔ جن لوگوں نے عمرے کے لیے تلبیہ پکارا تھا ۔ انھوں نے بیت اللہ اور صفامروہ کا طواف کیا اور پھر احرام کھول دیے ۔ پھر جب وہ لو گ ( حج کے دورا ن میں ) منیٰ سے لوٹے تو انھوں نے اپنے حج کے لیے دوسری بار طواف کیا البتہ وہ لوگ جنھوں نے حج اور عمرے کو جمع کیا تھا ( حج قران کیا تھا ) تو انھوں نے ( صفامروہ کا ) ایک ہی طواف کیا ۔