A'isha رضی اللہ تعالیٰ عنہا the wife of the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ), said:
We went out with the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) during the year of the Farewell Pilgrimage. There were some amongst us who had put on Ihram for Umra and there were some who had put on Ihram for Hajj. (We proceeded on till) we came to Mecca. The Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) said: He who put on Ihram for 'Umra but did not bring the sacrificial animal with him should put it off. and he who put on Ihram for Umra and he who had brought the sacrificial animal with him should not put it off until he had slaughtered the animal; and he who put on lhram for Hajj should complete it. A'isha ( رضی اللہ تعالیٰ عنہا ) said: I was in the monthlyperiod, and I remained In this state till the day of 'Arafa, and I had entered into the state of Ihram for 'Umra. The Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) thus commanded me to undo my hair and comb them (again) and enter into the state of Ihram for Hajj, and abandon (the rites of 'Umra). She ('A'isha) said: I did so, and when I had completed my Pilgrimage, the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) sent with me 'Abdul-Rabman bin Abu Bakr رضی اللہ تعالیٰ عنہا and commanded me to (resume the rites of) 'Umra at Tan'im. the place where (I abandoned) 'Umra and put on Ihram for Hajj (before completing Umra).
ہم سے عبد الملک بن شعیب بن لیث نے بیان کیا، مجھ سے میرے والد نے بیان کیا، میرے دادا نے مجھ سے بیان کیا, عقیل بن خالد نے ابن شہاب سے انھوں نے عروہ بن زبیر سے انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی انھوں نے کہا
ہم حجۃالوداع کے سال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے ہم میں سے بعض نے عمرے کے لیے تلبیہ پکارا اور بعض نے ( صرف ) حج کے لیے حتیٰ کہ ہم مکہ پہنچ گئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : "" جس نے عمرے کے لیے تلبیہ پکارا تھا وہ قربانی نہیں لا یا ۔ وہ احرا م کھو ل دے ۔ اور جس نے عمرے کا احرا م باندھا تھا اور ساتھ قربانی بھی لا یا ہے وہ جب تک قربانی ذبح نہ کر لے احرا م ختم نہ کرے ۔ اور جس نے صرف حج کے لیے تلبیہ کہا تھا وہ اپنا حج مکمل کرے ۔ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے کہا مجھے ( راستے میں ) ایام شروع ہو گئے ۔ میں عرفہ کے دن تک ایام ہی میں رہی اور میں نے صرف عمرے کے لیے تلبیہ پکا را تھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے حکم دیا کہ میں اپنے سر کے بال کھولوں لنگھی کروں اور حج کے لیے تلبیہ پکاروں اور عمرے ( کے اعمال ) چھوڑدوں تو میں نے یہی کیا ۔ جب میں نے اپنا حج ادا کر لیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے ساتھ ( میرے بھا ئی ) عبد الرحمٰن بن ابی بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو بھیجا اور مجھے حکم دیا کہ میں اس عمرے کی جگہ عمرہ کرلوں جسے حج کا دن آجا نے کی بنا پر مکمل کر کے میں اس کاا حرا م نہ کھول پا ئی تھی ۔
A'isha (رضی اللہ تعالیٰ عنہا) reported:
We went with the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) during the year of the Farewell Pilgrimage. I put on Ihram for Umra and did not bring the sacrificial animal. The Apostle of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) said: He who has the sacrihcial animal with him should enter into the state of Ihram for Hajj along with 'Umra, and. he should not put the Ihram off till he has completed both of them. She (Hadrat A'isha) said: The monthly period began. When it was the night of Arafa, I said to the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ): I entered into the state of Ihram for 'Umra. but now how should I perform the Hajj? Thereupon he said: Undo your hair and comb them, and desist from performing Umra, and put on Ihram for Hajj She (A'isha رضی اللہ تعالیٰ عنہا said: When I had completed my Hajj he commanded 'Abdul-Rahman bin Abu Bakr رضی اللہ تعالیٰ عنہا to carry me behind him (on boneback) in order to enable me to resume the rituals of Umra from Tan'im, the place where I abandoned its rituals.
ہم سے عبد بن حمید نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالرزاق نے بیان کیا، انہوں نے بیان کیا معمر نے زہری سے انھوں نے عروہ سے انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی
انھوں نے کہا حجۃ الوداع کے سال ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ( حج کے سفر کے لیے ) نکلے ۔ میں نے عمرے کے لیے تلبیہ پکارا تھا لیکن ( اپنے ) ساتھ قر بانی نہیں لا ئی تھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " جس کے ساتھ قربانی کے جا نور ہوں وہ اپنے عمرے کے ساتھ حج کا تلبیہ پکا رے اور اس وقت تک احرا م نہ کھو لے جب تک ان دونوں سے فارغ نہ ہو جا ئے ، حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے فر ما یا : مجھے ایا م شروع ہو گئے جب عرفہ کی رات آگئی میں نے کہا : اے اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !میں نے تو عمرے کے لیے تلبیہ پکارا تھا ۔ اب میں اپنے حج کا کیا کروں ؟آپ نے فر ما یا : " اپنے سر کے بال کھو لو کنگھی کرو اور عمرے سے رک جا ؤ حج کے لیے تلبیہ پکا رو ۔ انھوں نے کہا : جب میں نے اپنا حج مکمل کر لیا ( تو آپ نے میرے بھا ئی ) عبد الرحمٰن بن ابی بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو حکم دیا انھوں نے مجھے سواری پر اپنے پیچھے بٹھا یا اور مقام تنعیم سے اس عمرے کی جگہ جس سے میں رک گئی تھی ( دوسرا ) عمرہ کروا دیا ۔
`A'isha (رضی اللہ تعالیٰ عنہا) reported:
'We went with the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) (to Mecca). He said: He who intended among you to put on Ihram for Hajj and `Umra should do so. And he who intended to put on Ihram for Hajj may do so. And he who intended to put on Ihram for `Umra only may do so. `A'isha (رضی اللہ تعالیٰ عنہا) said: The Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) put on Ihram for Hajj and some people did that along with him. And some people put on Ihram for `Umra and Hajj (both), and some persons put on Ihram for `Umra only, and I was among those who put on Ihram for `Umra (only).
ہم سے ابن ابی عمر نے بیان کیا، انہوں نے کہا سفیان نے زہری سے انھوں نے عروہ سے انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی انھوں نے کہا
ہم ( رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سفر حج کے لیے ) نکلے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " تم میں سے جو اکٹھے عمرے اور حج کے لیے تلبیہ پکارنا چا ہے پکا رے ۔ جو ( صرف ) حج کے لیے تلبیہ پکارنا چا ہے پکارے اور جو ( صرف ) عمرے کے لیے پکا رنا چاہے وہ ایسا کر لے ۔ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے فر ما یا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حج کے لیے تلبیہ پکارا اور آپ کے ساتھ کئی لوگوں نے ( اکیلے حج کے لیے ) تلبیہ کہا کئی لوگوں نے عمرے اور حج ( دونوں ) کے لیے تلبیہ کہا اور کئی لوگوں نے صرف عمرے کے لیے کہا اور میں ان لوگوں میں شامل تھی جنھوں نے صرف عمرے کا تلبیہ کہا ۔
`A'isha ( رضی اللہ تعالیٰ عنہا) reported:
We went with the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) (in his) Farewell Pilgrimage near the time of the appearance of the new moon of Dhul-Hijja. The Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) said: He who amongst you intends to put on Ihram for `Umra may do so; had I not brought sacrificial animals along with me, I would have put on Ihram for `Umra. She (further said). There were some persons who put on Ihram for `Umra, and some persons who put on Ihram for Hajj, and I was one of those who put on Ihram for `Umra. We went on till we reached Mecca, and on the day of `Arafa I found myself in a state of menses, but I did not put off the Ihram for `Umra. I told about (this state of mine) to the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ), whereupon he said: Abandon your `Umra, and undo the hair of your head and comb (them), and put on Ihram for Hajj. She (`A'isha) said: I did accordingly. When it was the night at Hasba and Allah enabled us to complete our Hajj, he (the Holy Prophet) sent with me `Abdul-Rahman bin Abu Bakr رضی اللہ عنہ , and he mounted me behind him on his camel and took me to Tan`im and I put on Ihram for `Umra, and thus Allah enabled us to complete our Hajj and `Umra and (we were required to observe) neither sacrifice nor alms nor fasting.
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا، انہوں نے بیان کیا عبدہ بن سلمیان نے ہشام سے انھوں نے اپنے والد ( عرو ) سے انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی انھوں نے کہا
ہم حجۃ الوداع کے موقع پر ذوالحجہ کا چاند نکلنے کے قریب قریب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے کہا : تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : "" تم میں سے جو صرف عمرے کے لیے تلبیہ کہنا چا ہے کہے ۔ اگر یہ بات نہ ہو تی کہ میں قر بانی ساتھ لا یا ہوں تو میں بھی عمرے کا تلبیہ کہتا ۔ ( حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے ) کہا : لوگوں میں کچھ ایسے تھے جنھوں نے صرف عمرے کا تلبیہ کہا اور کچھ ایسے تھے جنھوں نے صرف حج کا تلبیہ کہا اور میں ان لوگوں میں سے تھی جنھوں نے صرف عمرے کا تلبیہ کہا ۔ ہم نکل پڑے حتی کہ مکہ آگئے میرے لیے عرفہ کا دن اس طرح آیا کہ میں ایا م میں تھی اور میں نے ( ابھی ) عمرے ( کی تکمیل کر کے اس ) کا احرا م کھو لا نہیں تھا میں نے اس ( بات ) کا شکوہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : "" اپنا عمرہ چھوڑدو اپنے سرکی مینڈھیاں کھول دو کنگھی کر لو اور حج کا تلبیہ کہنا شروع کر دو ۔ انھوں نے کہا : میں نے یہی کیا جب حصبہ کی رات آگئی اور اللہ تعا لیٰ نے ہمارا حج مکمل فر ما دیا تھا تو ( آپ نے ) میرے ساتھ ( میرے بھا ئی ) عبد الرحمٰن بن ابی بکر رضی اللہ عنہ کو بھیجا انھوں نے نجھے ساتھ بٹھا یا اور مجھے لے کر تنعیم کی طرف نکل پڑے وہاں سے میں نے عمرے کا تلبیہ کہا ۔ اس طرح اللہ نے ہمارا حج پورا کرادیا اور عمرہ بھی ۔ ( ہشام نے کہا : اس ( الگ عمرے ) کے لیے نہ قر بانی کا کو ئی جا نور ( ساتھ لا یا گیا ) تھا نہ صدقہ تھا اور نہ روزہ ( حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو ان میں سے کو ئی کا م کرنے کی ضرورت پیش نہیں آئی ۔ )
`A'isha ( رضی اللہ تعالیٰ عنہا) said:
We set out with the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) just at the appearance of the new moon of Dhul- Hijja. We had no other intention but that of performing the Hajj, whereupon the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) said: He who among you intends to put on Ihram for `Umra should do so for `Umra. The rest of the hadith is the same.
ہم سے ابو کریب نے بیان کیا، انہوں نے کہا ابن نمیر نے ہشام سے سابقہ سند کے ساتھ روایت کی حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے کہا
ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ذوالحجہ کا چاند نکلنے کے قریب قریب ( حج کے لیے ) نکلے اور ہمارے پیش نظر صرف حج ہی تھا ۔ ( لیکن ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " تم میں سے جو عمرے کا تلبیہ پکارنا چاہے وہ ( اکیلے ) عمرے کا تلبیہ پکا رے ۔ پھر عبد ہ کی حدیث کی طرح حدیث بیان کی ۔
A'isha (رضی اللہ تعالیٰ عنہا) reported:
We went with the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) at the appearance of the new moon of Dhu'l-Hijja. There were amongst us those who had put on Ihram for Umra, and those also who had put on Ihram both for Hajj and Umra, and still those who had put on Ihram for Hajj (alone). I was one of those who had put on Ihram for. Umra (only). 'Urwa (one of the narrators) said: Allah enabled her (A'isha رضی اللہ تعالیٰ عنہا) to complete both Hajj and Umra (according to the way as mentioned above). Hisham (one of the narrators) said: She had neither the sacrificial animal nor (was she required to) fast, nor (was she obliged to give) alms.
ہم سے ابو کریب نے بیان کیا، انہوں نے کہا وکیع نے ہشام سے سابقہ سند کے ساتھ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی انھوں نے کہا
ہم ذوالحجہ کا چا ند نکلنے کے قریب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ( حج کے لیے مدینہ سے ) نکلے ہم میں سے بعض نے عمرے کا تلبیہ پکارا بعض نے حج کا ۔ اور میں ان لوگوں میں شامل تھی جنھوں نے صرف عمرے کا تلبیہ پکارا تھا ۔ اور ( وکیع نے ) آگے ان دونوں ( عبدہ اور ابن نمیر ) کی طرح حدیث بیان کی ۔ اور اس میں یہ کہا عروہ نے اس کے بارے میں کہا : بلا شبہ اللہ نے ان ( حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے ) اس طرح عمرہ کرنے میں نہ کو ئی قر بانی تھی نہ روزہ اور نہ صدقہ ۔
A'isha (رضی اللہ تعالیٰ عنہا) said:
We proceeded with the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) during the year of the Farewell Pilgrimage. There were those amongst us who had put on Ihram for Umra, and those who had put on Ihram both for Hajj and Umra, and those amongst us who had put on Ihram for Hajj (only), while the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) had put on Ihram for Hajj (only). He who put on Ihram for Umra put it off (after performing Umra), and he who had put on Ihram for Hajj or for both Hajj and 'Umra did not put it off before the day of sacrifice (10th of Dhu'l-Hijja).
ہم سے یحییٰ بن یحییٰ نے بیان کیا، انہوں نے کہا: میں نے ابو الاسود کی سند سے مالک کو پڑھا, محمد بن عبد الرحمٰن بن نوفل نے عروہ سے انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی انھوں نے کہا
ہم حجۃ الودع کے سال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے ۔ ہمیں سے کچھ ایسے تھے جنھوں نے ( صرف ) عمرےکا تلبیہ کہا بعض نے حج اور عمرے دونوں کا اور بعض نے صرف حج کا ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حج کا تلبیہ پکارا ۔ جس نے عمرے کا تلبیہ کہا تھا وہ تو ( عمرے کی تکمیل کے بعد ) حلال ہو گیا اور جنھوں نے صرف حج کا یا حج اور عمرے فونوں کا تلبیہ کہا تھا اور قربانی کے جا نور ساتھ لا ئے تھے وہ لوگ قربانی کا دن آنے تک احرا م کی پابندیوں سے آزاد نہیں ہو ئے ۔
A'isha (رضی اللہ تعالیٰ عنہا) said:
We proceeded with the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) with no other intention but that of performing the Hajj. As I was at Sarif or near it, I entered in the state of menses. The Apostle of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) came to me and I was weeping, whereupon he said: Are you in a state of menses? I said. Yes. whereupon he said: This is what Allah has ordained for all the daughters, of Adam. Do whatever the pilgrim does. except that you should not circumambulate the House till you have washed yourself (at the end of the menses period). And the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) offered sacrifice of a cow on behalf of his wives.
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ، عمرو ناقد اور زہیر بن حرب نے ابن عیینہ کی سند سے بیان کیا: سفیان بن عیینہ، عبدالرحمٰن بن کی قاسم نے اپنے والد ( محمد بن ابی بکر ) سے انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے حدیث بیان کی ، انھوں نے کہا
ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے اور ہمارے پیش نظر حج کے سوا اور کچھ نہ تھا ۔ جب ہم مقام سرف یاس کے قریب پہنچے تو مجھے ایام شروع ہو گئے ۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لا ئے اور مجھے روتا ہوا پا یا ۔ آپ نے فر ما یا : "" کیا تمھا رے ایام شروع ہو گئے ہیں ؟ ( حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے ) کہا : میں نے جواب دیا : جی ہاں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : "" بلا شبہ یہ چیز اللہ تعا لیٰ نے آدم کی بیٹیوں کے لیے لکھ ( کر مقدر کر ) دی ہے تم ( سارے ) کا م ویسے ہی سر انجا م دو جیسے حاجی کرتے ہیں سوائے یہ کہ جب تک غسل نہ کر لو بیت اللہ کا طواف نہ کرنا ۔ ( حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے ) کہا ( اس حج میں ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیویوں کی طرف سے گا ئے کی قربانی کی ۔
A'isha (رضی اللہ تعالیٰ عنہا) reported:
We went with the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) with no other aim but that of Hajj till we came (to the place known as) Sarif; and there I entered in the state of menses. The Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) came to me while I was weeping. He said: What makes you weep? I said: Would that I had not come (for Pilgrimage) this year. He (the Holy Prophet) said: What has happened to you? You have perhaps entered the period of menses. I said: Yes. He said: This is what has been ordained for the daughters of Adam. Do what a pilgrim does except that you should not circumambulate the House, till you are purified (of the menses). She ('A'isha رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) said: When I came to Mecca, the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) said to his companions: Make this (Ihram) the Ihram for 'Umra. So the people put off Ihram except those who had sacrificial animals with them. She ('A'isha) said: The Apostle of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) had the sacrificial animal with him, and so had Abu Bakr, 'Umar and other persons of means. They (those who had put off Ihram again) put on Ihram (for Hajj) when they marched (towards Mina), and it was the 8th of Dhu'l-Hijja. She ('A'isha رضی اللہ تعالیٰ عنہ) said: When it was the day of sacrifice (10th of Dhu'l-Hijja), I was purified, and the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) commanded me and I did the circumambulation of Ifada. She said that the flesh of cow was sent to us. I said: What is it? They said: The Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) has offered a cow as sacrifice on behalf of his wives. When it was the night at Hasba, I said: Messenger of Allah, people are coming back from Hajj and Umra, where as I am coming back from Hajj (alone). She (A'isha) reported: He (the Holy Prophet) commanded Abdul-Rahman bin Abu Bakr رضی اللہ تعالیٰ عنہ to mount me upon his camel behind him. She ('A'isha) said: I was very young and I well remember that I dozed off and my face touched the hind part of the haudaj (camel litter) till we came to Tan'im, and entered into the state of Ihram in lieu of Umra (which I for the time being abandoned) and which the people had performed.
ہم سے سلیمان بن عبید اللہ نے ابو ایوب الغیلانی نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوعامر عبد الملک بن عمرو نے بیان کیا، انہیں عبد العزیز بن ابن سلمہ ماجشون نے عبد الرحمٰن بن قاسم سے انھوں نے اپنے والد ( قاسم ) سے انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی ۔ ( انھوں نے ) کہا
ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے اور حج ہی کا ذکر کر رہے تھے ۔ جب ہم سرف کے مقام پر پہنچے تو میرے ایام شروع ہو گئے ۔ ( اس اثنا میں ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے ( حجرے میں ) داخل ہو ئے تو میں رو رہی تھی ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پو چھا : تمھیں کیا رلا رہا ہے ؟میں نے جواب دیا اللہ کی قسم ! کاش میں اس سال حج کے لیے نہ نکلتی ۔ آپ نے پو چھا : تمھا رے ساتھ کیا مسئلہ ہے؟ کہیں تمھیں ایام تو شروع نہیں ہو گئے ؟ میں نے کہا : جی ہاں آپ نے فر ما یا : "" یہ چیز تو اللہ نے آدم ؑ کی بیٹیوں کے لیے مقدر کر دی ہے ۔ تم تمام کا م ویسے کرتی جاؤ جیسے ( تمام ) حا جی کریں مگر جب تک پاک نہ ہو جاؤ بیت اللہ کا طواف نہ کرو ۔ انھوں ( حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے کہا : جب میں مکہ پہنچی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحا بہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین سے فر ما یا : "" تم اسے ( حج کی نیت کو بدل کر ) عمرہ کر لو ۔ جن کے پاس قربانیا ں تھیں ان کے علاوہ تمام صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین نے ( اسی کے مطا بق عمرے کا ) تلبیہ پکارنا شروع کر دیا ۔ ( حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے ) کہا اور قربانیاں ( صرف ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ابو بکر و عمر اور ( بعض ) اصحاب ثروت رضوان اللہ عنھم اجمعین ( ہی ) کے پاس تھیں ۔ جب وہ چلے تو انھوں نے ( حج ) کا تلبیہ پکارا ۔ ( حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے ) کہا : جب قر بانی کا دن آیا تو میں پاک ہو گئی ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے حکم دیا تو میں نے طواف ( افاضہ ) کر لیا ۔ ( انھوں نے ) کہا : ہمارے پاس گا ئے کا گو شت لا یا گیا میں نے پو چھا : یہ کیا ہے ؟ انھوں ( لا نے والوں ) نے جواب دیا کہ اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیویوں کی طرف سے گا ئے کی قر بانی دی ہے ۔ جب ( مدینہ کے راستے منیٰ کے فوراً بعد کی منزل ) محصب کی رات آئی تو میں نے عرض کی اے اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! لو گ حج اور عمرہ ( دونوں ) کر کے لو ٹیں اور میں ( اکیلا ) حج کر کے لوٹوں ؟ کہا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( میرے بھا ئی ) عبد الرحمٰن بن ابی بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو حکم دیا انھوں نے مجھے اپنے اونٹ پر ساتھ بٹھا یا ۔ انھوں نے ) کہا : مجھے یا د پڑ تا ہے کہ میں ( اس وقت نو عمر لرکی تھی ( راستے میں ) میں اونگھ رہی تھی اور میرا منہ ( بار بار ) کجا وے کی پچھلی لکڑی سے ٹکراتا تھا حتیٰ کہ ہم تنعیم پہنچ گئے ۔ پھر میں نے وہاں سے اس عمرے کے بدلے جو لوگوں نے کیا تھا ( اور میں اس سے محروم رہ گئی تھی ) عمرے کا ( احرا م باند ھ کر ) تلبیہ پکا را.
A'isha ( رضی اللہ تعالیٰ عنہا) reported:
We entered into the state of. Ihram for Hajj till we were at Sarif and I was in menses. The Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) came to me and I was weeping. The rest of the hadith is the same but (with this portion) that there were sacrificial animals with Allah's Apostle ( صلی اللہ علیہ وسلم ) and with Abu Bakr, Umar and with rich persons. And they pronounced Talbiya as they proceeded on. And there is no mention of this (too): I was a girl of tender age and I dozed off and my face touched the bind part of the Haudaj.
مجھ سے ابو ایوب الغیلانی نے بیان کیا، انہوں نے ہم سے بہز بیان کیا، انہوں نے کہا حماد ( بن سلمہ ) نے عبد الرحمٰن سے حدیث بیان کی انھوں نے اپنے والد ( قاسم ) سے انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی انھوں نے کہا
ہم نے حج کا تلبیہ پکا را جب ہم سرف مقام پر تھے میرے ایام شروع ہو گئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم ( میرے حجرے میں ) داخل ہو ئے تو میں رورہی تھی ( حماد نے ) اس سے آگے ماجثون کی حدیث کی طرح بیان کیا مگر حماد کی حدیث میں یہ ( الفا ظ ) نہیں : قربانی نبی صلی اللہ علیہ وسلم ابو بکر و عمر اور اصحاب ثروت رضوان اللہ عنھم اجمعین ہی کے پاس تھی ۔ پھر جب وہ چلے تو انھوں نے تلبیہ پکارا ۔ اور نہ یہ قول ( ان کی حدیث میں ہے ) کہ میں نو عمر لڑکی تھی مجھے اونگھ آتی تو میرا سر ( بار بار ) پالان کی پچھلی لکڑی کو لگتا تھا ۔
A'Isha رضی اللہ تعالیٰ عنہا reported:
The Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) entered into the state of Ihram for Hajj Afrad.
ہم سے اسماعیل بن ابی اویس نے بیان کیا، مجھ سے میرے چچا نے بیان کیا, مالک نے عبد الرحمٰن بن قاسم سے انھوں نے اپنے والد ( قاسم ) سے انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اکیلا حج ( افراد ) کیا تھا ۔
A'isha (رضی اللہ تعالیٰ عنہا ) reported:
We proceeded with the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) putting on the Ihram for Hajj during the months of Hajj and the night of Hajj till we encamped at Sarif. He (the Holy Prophet) went to his Companions and said: He who has no sacrificial animal with him, in his case I wish that he should perform Umra (with this Ihram), and he who has the sacrificial animal with him should not do it. So some of them performed Hajj whereas others who had no sacrificial animals with them did not do (Hajj, but performed only 'Umra). The Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) had a sacrificial animal with him and those too who could afford it (performed) Hajj). The Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) came to me (i. e. A'isha رضی اللہ تعالیٰ عنہا) while I was weeping, and he said: What makes you weep? I said: I heard your talk with Companions about Umra. He said: What has happened to you? I said: I do not observe prayer (due to the monthly period), whereupon he said: It would not harm you; you should perform (during this time) the rituals of Hajj (which you can do outside the House). Maybe Allah will compensate you for this. You are one among the daughters of Adam and Allah has ordained for you as He has ordained for them. So I proceeded on (with the rituals of Hajj) till we came to Mina. I washed myself and then circumambulated the House, and the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) encamped at Muhassab and called, Abd al-Rahman b. Abu Bakr. and said: Take out your sister from the precincts of the Ka'ba in order to put on Ihram for Umra and circumambulate the House. and I shall wait for you here. She said: So I went out and put on Ihram and then circumambulated the House, and (ran) between al-Safa and al-Marwa, and then we came to the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) and he was in his house in the middle of the night. He said: Have you completed your (rituals)? I said: Yes. He then announced to his Companions to march on. He came out, and went to the House and circumambulated it before the dawn prayer and then proceeded to Medina.
ہم سے محمد بن عبداللہ بن نمیر نے بیان کیا، کہا ہم سے اسحاق بن سلیمان نے بیان کیا, افلح بن حمید نے قاسم سے انھوں نے عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی انھوں نے کہا
ہم حج کا تلبیہ کہتے ہو ئے حج کے مہینوں میں حج کی حرمتوں ( پابندیوں ) میں اور حج کے ایام میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی معیت میں روانہ ہو ئے حتی کہ سرف کے مقا م پر اترے ۔ ( وہاں پہنچ کر ) آپ اپنے صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین کے پاس تشریف لے گئے اور فر ما یا : "" تم میں سے جس کے ہمرا ہ قربانی نہیں ہے ۔ اور وہ اپنے حج کو عمرے میں بدلنا چاہتا ہے توا یسا کر لے اور جس کے ساتھ قربانی کے جا نور ہیں وہ ( ایسا ) نہ کرے ۔ ان میں سے کچھ نے جن کے پاس قربانی نہیں تھی اس ( عمرے ) کو اختیار کر لیا اور کچھ لوگوں نے رہنے دیا ۔ البتہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اور آپ کے ساتھ بعض صاحب استطاعت صحابہ کے ساتھ قربانیاں تھیں ۔ پھر آپ میرے پاس تشریف لا ئے تو میں رو رہی تھی ۔ آپ نے فر ما یا : "" کیوں روتی ہو؟ میں نے جواب دیا میں نے آپ کی آپ کے صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین کے ساتھ گفتگو سنی ہے اور عمرے کے متعلق بھی سن لیا ہے میں عمرے سے روک دی گئی ہوں ۔ آپ نے پو چھا : ( کیوں ) تمھیں کیا ہے ؟میں نے جواب دیا : میں نماز ادا نہیں کر سکتی ۔ آپ نے فر ما یا : "" یہ ( ایام عمرے حج میں ) تمھارے لیے نقصان دہ نہیں تم اپنے حج میں ( لگی ) رہو امید ہے کہ اللہ تعا لیٰ تمھیں یہ ( عمرے کا ) اجر بھی دے گا تم آدم ؑکی بیٹیوں میں سے ہو ۔ اللہ تعا لیٰ نے تمھارے لیے بھی وہی کچھ لکھ دیا ہے جو ان کی قسمت میں لکھا ہے کہا ( پھر ) میں احرا م ہی کی حا لت میں ) اپنے حج کے سفر میں نکلی حتیٰ کہ ہم منیٰ میں جا اترے اور ( تب ) میں ایام سے پاک ہو گئی پھر ہم سب نے بیت اللہ کا طواف ( افاضہ ) کیا ۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وادی محصب میں پڑاؤ ڈالا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عبد الرحمٰن بن ابی بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ( میرے بھا ئی ) کو بلا یا اور ان سے ) فر ما یا : "" اپنی بہن کو حرم سے باہر ( تنعیم ) لے جاؤ تا کہ یہ ( احرام باندھ کر ) عمرے کا تلبیہ کہے اور ( عمرے کے لیے بیت اللہ ( اور صفامروہ ) کا طواف کر لے ۔ میں ( تمھا ری واپسی تک ) تم دونوں کا یہیں انتظار کروں گا ۔ ( حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے ) کہا : ہم نکل پڑے میں نے ( احرا م باندھ کر ) بیت اللہ اور صفامروہ کا طواف کیا ۔ ہم لوٹ آئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آدھی رات کے وقت اپنی منزل ہی پر تھے ۔ آپ نے ( مجھ سے ) پو چھا : "" کیا تم ( عمرے سے ) فارغ ہو گئی ہو؟ میں نے کہا جی ہاں پھر آپ نے اپنے صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین میں کو چ کے اعلان کا حکم دیا ۔ آپ ( وہاں سے ) نکلے بیت اللہ کے پاس سے گزرے اور فجر کی نماز سے پہلے اس کا طواف ( وداع ) کیا پھر مدینہ کی طرف روانہ ہو گئے ۔
A'isha ( رضی اللہ تعالیٰ عنہا) said:
Some among us put on Ihram for Hajj alone (Hajj Mufrad); some of us for Hajj and Umra together (Qiran), and some of us for Tamattal (first for Umra and after completing it for Hajj).
مجھ سے یحییٰ بن ایوب نے بیان کیا، کہا ہم سے عباد بن عباد المہلبی نے بیان کیا، انہوں نے کہا عبید اللہ بن عمرنے قاسم بن محمد سے حدیث بیان کی ، انھوں نے ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی ، انھوں نے فر ما یا
( جب ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حج کے لیے نکلے تھے تو ) ہم میں سے بعض نے اکیلے حج ( افراد ) کا تلبیہ کہا بعض نے ایک ساتھ دونوں ( قرن ) اور بعض نے حج تمتع کا ارادہ کیا ۔
AI-Qasim bin Muhammad reported:
A'isha رضی اللہ تعالیٰ عنہا had come for Hajj.
ہم سے عبد بن حمید نے بیان کیا، کہا ہم سے محمد بن بکر نے بیان کیا، کہا ہم سے ابن جریج نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے عبید اللہ بن عمر نے بیان کیا, قاسم بن محمد سے روایت ہے کہ
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا ( صرف ) حج کےلئے آئیں تھیں.
Umra reported:
I heard A'isha (رضی اللہ تعالیٰ عنہا) as saying: We went out with the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) five days before the end of Dhi Qa'dah, and we did see but that he intended to perform Hajj (only), but as we came near Mecca the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) commanded that he who did not have the sacrificial animal with him should put off Ihram after circumambulating the House and running between al-Safa and aI-Marwa (and thus convert his Ihram from that of Hajj to 'Umra). 'A'isha (رضی اللہ تعالیٰ عنہا) said: The flesh of cow was sent to us on the Day of Sacrifice (10th of Dhu'I-Hijja). I said. What is this? It was said: The Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) sacrificed (the cow) on behalf of his wives. Yahya said: I made a mention of this hadith (what has been stated by Umra) to Qasim bin Muhammad, whereupon be said: By Allah, she has rightly narrated it to you.
ہم سے عبداللہ بن مسلمہ بن قعنب نے بیان کیا، ان سے سلیمان نے، یعنی ہم سے ابن بلال نے بیان کیا, یحییٰ بن سعید نے عمرہ سے روایت کی ، انھوں نے کہا
میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے سنا ، وہ فرما رہی تھیں : ذوالعقدہ کے پانچ دن باقی تھے کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ( حج کے لیے ) نکلے ، ہمارے پیش نظر صرف حج تھا ۔ جب ہم مکہ کہ قریب پہنچے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم فر مایا : "" "" جس کے ہمراہ قربانی نہیں ہے وہ جب بیت اللہ کا طواف اور صفا مروہ کی سعی کر لے تو احرا م کھول دے ۔ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے کہا : عید کے دن ہمارے پاس گا ئے گو شت لا یا گیا ۔ میں نے پوچھا : یہ کیا ہے؟بتا یا گیا : اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ازواج مطہرات رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی طرف سے ( یہ گا ئے ) ذبح کی ہے یحییٰ نے کہا : میں نے یہ حدیث قاسم بن محمد بن قاسم کے سامنے پیش کی تو ( انھوں نے ) فر ما یا : اللہ کی قسم اس ( عمرہ ) نے تمھیں یہ حدیث بالکل صحیح صورت میں پہنچا ئی ہے ۔
This hadlth has been narrated by Yahya through the same chain of transmitters.
ہم سے محمد بن المثنی نے بیان کیا، انہوں نے کہا عبد الوہاب نے بیان کیا، انہوں نے کہا: میں نے یحییٰ بن سعید کو کہتے سنا: مجھ سے عمرہ نے بیان کیا کہ انہوں نے عائشہ رضی اللہ عنہا کو سنا۔ خدا ان سے راضی ہو، اور ہم سے ابن ابی عمر نے بیان کیا، ہم سے سفیان نے، یحییٰ کی سند سے، اسی طرح کی سند کے ساتھ بیان کیا۔
AI-Qasim narrated from the Mother of the Believers (Hadrat 'A'isha رضی اللہ تعالیٰ عنہا) that she said:
Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم the people return (from Mecca) having done two worships (both Hajj and Umra), but I am coming back with one (only). whereupon he said: You should wait and when the period of menses is over, you should go to Tan'im and put on lhram and then meet us at such and such time (and I think he said tomorrow) ; and (the reward of this Umra) is for you equal to your hardship or your spending.
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے ابن عون نے بیان کیا، ابن عون کی سند سے, ابرا ہیم نے اسود اور قاسم سے ان دونوں نے ام المومنین رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی ، ام المومنین رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے ) کہا :میں نے عرض کی
( اے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !لوگ ) حج اور عمرہ دودو مناسک ادا کر کے ( اپنے گھروں کو ) لو ٹیں گے اور میں صرف ایک منسک ( حج ) کر کے لو ٹوں گی؟آپ نے فرمایا : " تم ذرا انتظار کرو!جب تم پاک ہو جاؤ تو تنعیم ( کی طرف ) چلی جا نا اور وہاں سے ( احرا م باندھ کر عمرے کا ) تلبیہ پکا رنا پھر فلاں مقام پر ہم سے آملنا ۔ ۔ ۔ ابرا ہیم نے ) کہا : میرا خیال ہے آپ نے فرمایاتھا : کل ۔ ۔ ۔ اور ( فرمایا : ) لیکن وہ ( تمھا رے عمرے کا اجر ) ۔ ۔ ۔ تمھا ری مشقت یا فرمایا : خرچ ہی کے مطا بق ہو گا ۔ "
Ibn al-Muththanna reported on the authority of Ibn Abu'Adi who transmitted on the authority of Ibn'Aun who narrated from al-Qasim and Ibrahim having said:
I cannot differentiate the hadith of one from the other (Qasim and Ibrahim) that the Mother of the Believers (رضی اللہ تعالیٰ عنہا ) said this: Messenger of Allah, people have come back with two acts of worship. The rest of the hadith is the same.
ہم سے ابن المثنی نے بیان کیا، انہوں نے کہا ابن ابی عدی نے ابن عون سے حدیث بیان کی ، انھوں نے قاسم اور ابرا ہیم سے روایت کی ( ابن عون نے ) کہا
میں ان میں سے ایک کی حدیث دوسرے کی حدیث سے الگ نہیں کر سکتا ۔ ام المومنین ( حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا ) نے عرض کی : اے اللہ کے رسول !لوگ دومنسک ( حج اور عمرہ ) کر کے لو ٹیں ۔ اور آگے ( اسی طرح ) حدیث بیان کی ۔
A'isha (رضی اللہ تعالیٰ عنہا) reported:
We went with the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) and we did not see but that he (intended to perform) Hajj (only), but when we reached Mecca we circumambulated the House; and the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) commanded that he who did not have with him a sacrificial animal should put off Ihram. She (A'isha رضی اللہ تعالیٰ عنہا ) said: (And consequently) those who did not bring the sacrificial animals with them put off Ihram; and among his wives (too) who had not brought the sacrificial animals with them put off Ihram. A'isha رضی اللہ تعالیٰ عنہا said: I entered my period and could not (therefore) circumambulate the House. When it was the night of Hasba she said: Messenger of Allah, people are coming back (after having performed both) Hajj and 'Umra, whereas I am coming back only with Hajj, whereupon he said: Did you not circumambulate (the Ka'ba) that very night we entered Mecca? She (A'isha رضی اللہ تعالیٰ عنہا ) said: No, whereupon he said: Go along with your brother to Tan'im and put on the Ihram for Umra, and it is at such and such a place that you can meet (us). (In the meanwhile) Safiyya رضی اللہ تعالیٰ عنہا (the wife of the Holy Prophet) said: I think, I will detain you (since I have entered in the monthly) period and you shall have to wait for me for the farewell circuit). Thereupon he (the Holy Prophet) said: May you be wounded and your head shorn did you not circumambulate on the Day of Sacrifice (10th of Dhu'l-Hijja)? She said: Yes. The Prophet ( صلی اللہ علیہ وسلم ) said: There is no harm. You should go forward. 'A'isha رضی اللہ تعالیٰ عنہا said: The Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) was going upwards to the side of Mecca, whereas I was coming down from it, or I was going upward, whereas he was coming down. Isbiq said: She was climbing down, and he was climbing down.
ہم سے زہیر بن حرب اور اسحاق بن ابراہیم نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے زہیر نے بیان کیا اور اسحق نے کہا: ہم سے جریر نے بیان کیا, منصور نے ابرا ہیم سے ، انھوں نے اسود سے انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے حدیث بیان کی ، انھوں نے کہا
ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے اور ہم اس کو حج ہی سمجھتے تھے ۔ جب ہم مکہ پہنچے اور بیت اللہ کا طواف کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا : جو اپنے ساتھ قربانی نہیں لا یا وہ احرا م کھو ل دے ۔ ( حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے ) کہا : جتنے لو گ بھی قربانی ساتھ نہیں لا ئے تھے ۔ انھوں نے احرا م ختم کر دیا ۔ آپ کی ازواج بھی اپنے ساتھ قربانیا ں نہیں لا ئیں تھیں تو وہ بھی احرا م سے باہر آگئیں ۔ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے کہا : ( لیکن ) میرے ایام شروع ہو گئے تھے اور میں بیت اللہ کا طواف نہ کر سکی جب حصبہ کی رات آئی ، کہا : تو میں نے عرض کی : اے اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !لوگ حج اور عمرہ کر کے لو ٹیں اور میں صرف حج کر کے لو ٹو ں گی؟آپ نے فرمایا : "" جن راتوں ( تاریخوں ) میں ہم مکہ آئے تھے کیا تم نے طواف نہیں کیا تھا؟ میں نے کہا ۔ جی نہیں آپ نے فر ما یا : "" تو پھر اپنے بھا ئی ( عبد الرحمٰن رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) کے ساتھ مقام تنعیم تک چلی جا ؤ اور وہاں سے ( عمرے کا حرا م باندھ کر ) عمرے کا تلبیہ پکارو ( اور عمرہ کر لو ) پھر تم فلاں مقام پر آملنا ۔ حضرت صفیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کہنے لگیں : میں اپنے بارے میں سمجھتی ہوں کہ میں ( بھی ) آپ کو روکنے والی ہوں گی ۔ آپ نے فرمایا : "" ( اپنی قوم کی زبان میں عقریٰ حلقٰی ( بے اولاد ، بے بال ، یہود حائضہ عورت کے لیے یہی لفظ بو لتے تھے ) کیا تم نے عید کے دن طواف نہیں کیا تھا ؟کہا : کیوں نہیں ( کیا تھا! ) آپ نے فر ما یا : "" ( تو پھر ) کو ئی بات نہیں ، اب چل پڑو ۔ "" حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے کہا : دوسری صبح ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھ سے ( اس وقت ) ملے جب آپ مکہ سے چڑھا ئی پر آرہے تھے اور میں مکہ کی سمت اتر رہی تھی ۔ ۔ ۔ یا میں چڑھا ئی پر جا رہی تھی اور آپ اس سے اتر رہے تھے ( واپس آرہے تھے ) ۔ ۔ ۔ اور اسحاق نے متهبطه ( اترنےوالی ) اور متهبط ( اترنے والے ) کے الفاظ کہے ۔ ( مفہوم وہی ہے )
A'isha (رضی اللہ تعالیٰ عنہا) reported:
We went out with the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) pronouncing Talbiya having no explicit intention of Pilgrimage or 'Umra. and he quoted a hadith similar to that of Mansur (no. 2029).
ہم سے سوید بن سعید نے علی بن مسہر کی سند سے بیان کیا, اعمش نے ابرا ہیم سے ، انھوں نے اسود کے واسطے سے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی ، انھوں نے کہا
ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تلبیہ کہتے ہو ئے نکلے ہم حج یا عمرے کا ذکر نہیں رہے تھے ۔ اور آگے ( اعمش نے ) منصور کے ہم معنی ہی حدیث بیان کی .