Uqba bin 'Amir al-Juhani رضی اللہ عنہ reported:
Verily the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) said and then narrated (the hadith) like one (mentioned above) except (this) that he said: He who performed ablution and said: I testify that there is no god but Allah, the One, there is no associate with Him and I testify that Muhammad is His servant and His Messenger.
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا,زید بن حباب نے معاویہ بن صالح سے باقی ماندہ سابقہ سند کے ساتھ حضرت عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اس کے بعد پچھلی ورایت کے الفاظ ہیں ، البتہ انہوں نے ( اس طرح ) کہا : ’’ جس نےوضو کیا اور کہا : میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ، وہ اکیلا ہے ، اس کا کوئی شریک نہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمدﷺ اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں ۔ ‘ ‘
Abdullah bin Zaid bin 'Asim al-Ansari رضی اللہ عنہ , who was a Companion (of the Holy Prophet), reported:
It was said to him (by people): Perform for us the ablution (as it was performed) by the Messenger of Allah (way peace be upon him). He ('Abdullah bin Zaid) called for a vessel (of water), and poured water from it on his hands and washed them three times. Then he inserted his hand (in the vessel) and brought it (water) out, rinsed his mouth and snuffed up water from the palm of one hand doing that three times, He again inserted his hand and brought it out and washed his face three times, then inserted his hand and brought it out and washed each arm up to the elbow twice, then inserted his hand and brought it out and wiped his head both front and back with his hands. He then washed his feet up to the ankles, and then said: This is how God's Messenger (peace be upon him) performed ablution.
محمد بن الصباح نے مجھ سے کہا,خالد بن عبد اللہ نےعمرو بن یحییٰ بن عمارہ سے ، انہوں نے اپنےوالد ( یحییٰ بن عمارہ ) سے ، انہوں نے حضرت عبد اللہ بن زید بن عاصم انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت کی ( انہیں شرف صحبت حاصل تھا ) ، ( یحییٰ بن عمارہ نے ) کہا : حضرت عبد اللہ بن زید سے کہا گیا
ہمیں رسول اللہ ﷺ کا ( سا ) وضو کر کے دکھائیں ۔ اس پر انہوں نے پانی کا ایک برتن منگوایا ، اسے جھکا کر اس میں سے اپنے دونوں ہاتھوں پر پانی انڈیلا اور انہیں تین بار دھویا ، پھر اپنا ہاتھ ڈال کر پانی نکالا اور ایک ہی چلو سے کلی کی اور ناک میں پانی کھینچا ، یہ تین بار کیا ، پھر اپنا ہاتھ ، پھر اپناہاتھ ڈال کر پانی نکالا اوراپنا چہرہ تین بار دھویا ، پھر اپنا ہاتھ ڈال کر پانی نکالا اور اپنے بازو کہنیوں تک دو دو بار دھوئے ، ( تاکہ امت کو معلوم ہو جائے کہ کسی عضو کو دوبار دھونا بھی جائز ہے ) پھر ہاتھ ڈال کر پانی نکالا اور اپنے سر کا مسح کیا اور ( آپ ) اپنے دونوں ہاتھ ( سرپر ) آگے سے پیچھے کواور پیچھے سے آگے کو لائے ، ( ایک طرف مسح کرنا اور اسی ہاتھ کودوبارہ واپس لانامستحب ہے ( پھر دونوں پاؤں ٹخنوں تک دھوئے ، پھرکہا : رسو اللہ ﷺ کا وضو اسی طرح تھا ۔
This hadith is narrated by Amr bin Yahya with the same chain of transmitters, but there is no mention of ankles.
( خالدبن عبداللہ کے بجائے ) سلیمان بن بلا ل نےعمرو بن یحییٰ سے باقی ماندہ پچھلی سند کے ساتھ یہی روایت بیان کی ، اس میں ’’ٹخنوں تک ‘ ‘ کے الفاظ نہیں ہیں ۔
Malik bin Anas narrated it from 'Amr bin Yahya with the same chain of transmitters, transmitters and mentioned the rinsing (of mouth) and snuffing (of water into the nostrils) three times, but he did not mention from one palm, and made this addition: He moved them (his hands) for wiping to the front of his head and then the nape of his neck, then bringing them back till he reached the place from which he had begun, after which he washed his feet.
مجھ سے اسحاق بن موسیٰ الانصاری نے بیان کیا، کہا ہم سے معن نے بیان کیا,مالک بن انس نے عمرو بن یحییٰ کی سند سے یہی روایت بیان کی اور کہا
انہوں نےتین بار کلی کی اور ناک میں جھاڑی ۔ انہوں نے ’’ایک ہی چلو سے ‘ ‘ کےالفاظ ذکر نہیں کیے اور ’’دونوں ہاتھ آگے سے ( پیچھے کو ) لائے اور پیچھےسے ( آگے کو ) لائے ‘ ‘ کے بعد یہ الفاظ بڑھائے : انہوں نے سر کے اگلے حصے سے ( مسح ) شروع کیا اور دونوں ہاتھ گدی تک لائے ، پھر ان کوواپس کر کے اسی جگہ تک لائے جہاں سے شروع کیا تھا اور اپنے دونوں پاؤں دھوئے ۔
It was narrated from 'Amr bin Yahya with cahin similar to theirs, and he quoted the Hadith and said:
He rinsed his mouth. snuffed up water in nostrils and cleaned the nose with three handfuls and wiped his head moving (his hand) in front and then back once. Bahz said: Wuhaib narrated this hadith to me and Wuhaib said: Amr b. Yahya narrated to me this hadith twice.
ہم سے عبدالرحمٰن بن بشر العبدی نے بیان کیا,بہز نے وہیب سے اور اس نے عمرو بن یحییٰ سے سابقہ راویوں کی اسناد کی طرح حدیث بیان کی اور اس میں کہا
اور انہوں نے کلی کی ، ناک میں پانی ڈالا اور ناک جھاڑی ، تین چلو پانی سے ۔ اور یہ بھی کہا : پھر سر کا مسح کیا اور آگے سے ( پیچھے کو ) اور پیچھے سے ( آگے کو ) مسح کیا ایک بار ۔ بہز نے کہا : وہیب نے یہ حدیث مجھے املا کرائی اوروہیب نے کہا : عمرو بن یحییٰ نے یہ حدیث مجھے دوبار ( دومختلف موقعوں پر ) املا کرائی ۔
Abdullah bin Zaid bin 'Asim al-Mazini رضی اللہ عنہ reported:
He saw Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) perform the ablution. He rinsed his mouth then cleaned his nose, then washed his face three times, then washed his right hand thrice and then the other one, thrice. He then took fresh water and wiped his head and then washed his feet till he cleaned them.
ہارون بن سعید ایلی اور ابو طاہر نےحدیث بیان کی ، انہوں نےکہا : ہمیں ابن وہب نےحدیث سنائی ، انہوں نےکہا : مجھے عمرو بن حارث نے خبر دی کہ حبان بن واسع نے انہیں حدیث سنائی ( کہا : ) ان کے والد نے ان سے بیان کیا ( کہا : ) انہوں نے حضرت عبد اللہ بن زید بن عاصم مازنی انصاری رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ
انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا ، آپ نے وضو کیا تو کلی کی ، پھر ناک جھاڑی ، پھر تین بار اپنا چہرہ دھویا اور اپنا دایاں ہاتھ تین بار اور دوسرا بھی تین بار دھویا اور سرکا مسح اس پانی سے کیا جو ہاتھ میں بچا ہوا نہیں تھا اور اپنے پاؤں دھوئے حتی کہ ان کو اچھی طرح صاف کر دیا ۔ ( اسی سند کے ایک راوی ) ابو طاہر نے حدیث بیان کرتے ہوئے کہا : ہمیں ابن وہب نے عمروبن حارث سے یہ حدیث سنائی ۔
Abu Huraira رضی اللہ عنہ reported:
Allah's Apostle ( صلی اللہ علیہ وسلم ) as saying: When anyone wipes himself with pebbles (after answering the call of nature) he must make use of an odd number and when any one of you performs ablution he must snuff in his nose water and then clean it.
ہم سے قتیبہ بن سعید، عمرو النقید اور محمد بن عبداللہ بن نمیر نے ابن عیینہ کی سند سے بیان کیا، کہا: ہم سے سفیان نے ابوالزناد سے اور اعرج کی سند سے بیان کیا۔,ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے نبی ﷺ کی طرف منسوب کرتے ہوئے روایت کی کہ
آپ نے فرمایا : ’’جب تم میں سے کوئی کسی ٹھوس چیز ( پتھر ، ڈھیلا ، ٹائلٹ پیپر وغیرہ ) سے استنجا کرے تو طاق عدد میں کرے اور جب تم میں سے کوئی وضو کرے توناک میں پانی ڈالے ، پھر ناک جھاڑے ۔ ‘ ‘
Hammam bin Munabbih reported:
This is what Abu Huraira رضی اللہ عنہ transmitted to us from Muhammad, the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ), and he mentioned a number of a hadith, of which this is one: that the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) said: When anyone amongst you (performs ablution) he must snuff his nostrils with water and then clean them.
مجھ سے محمد بن رافع نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالرزاق بن ہمام نے بیان کیا، ہم سے معمر نے بیان کیا,ہمام بن منبہ سےمنقول ہے ، انہوں نے کہا
یہ احادیث ہیں جو حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے ہمیں محمدرسول اللہ ﷺ سے سنائیں ، پھر انہوں نے کچھ احادیث بیان کیں ، ان میں سے یہ بھی تھی کہ رسول اللہﷺنے فرمایا : ’’جب تم میں سے کوئی وضو کرے تو دونوں نتھنوں سے ناک میں پانی کھینچے پھر ناک جھاڑے ۔ ‘ ‘
Abu Huraira رضی اللہ عنہ reported:
The Messenger of Allah (ﷺ) said: When anyone performs ablution he must clean his nose and when anyone wipes himself with pebbles (after answering the call of nature) he must do that odd number of times.
ہم سے یحییٰ بن یحییٰ نے بیان کیا، انہوں نے کہا: میں نے مالک کو ابن شہاب سے اور ابو ادریس خولانی کی سند سے پڑھا,مالک نے ابن شہاب سے ، انہوں نے ابو ادریس خولانی سے ، انہو ں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہ
رسو ل اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’جو وضو کرے وہ ناک جھاڑے اور جو استنجا کرے وہ طاق عدد میں کرے ۔ ‘ ‘
It has been transmitted by Abu Huraira رضی اللہ عنہ and Abu Sa'id al-Khudri (both of them the reputed Companions of the Holy Prophet) that the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) said like that.
یونس نے ابن شہاب سے روایت کی ، کہا : مجھے ابو ادریس خولانی نے بیان کیا کہ انہوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ اور حضرت ابوسعیدخدری رضی اللہ عنہ دونوں سے سنا کہہ رہے تھے : رسول اللہ نے فرمایا...... اسی ( پچھلی حدیث کی ) طرح ۔
Abu Huraira رضی اللہ عنہ reported:
The Apostle of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) said. When any one of you awakes up from sleep and performs ablution, he must clean his nose three times, for the devil spends the night in the interior of his nose.
مجھ سے بشر بن الحکم العبدی نے بیان کیا، ان سے عبد العزیز نے، یعنی الدراوردی نے، ہم سے ابن الہدی نے، محمد بن ابراہیم کی سند سے بیان کیا,عیسیٰ بن طلحہ نےحضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ
نبی ﷺ نے فرمایا : ’’جب تم میں سے کوئی نیند سے بیدار ہو تو تین ناک جھاڑے ، شیطان اس کی ناک کے بانسوں پر رات گزارتا ہے ۔ ‘ ‘
Jabir bin 'Abdullah رضی اللہ عنہ reported:
He heard the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) say: When anyone wipes himself with pebbles (after answering the call of nature) he should do this odd number of times.
ہم سے اسحاق بن ابراہیم اور محمد بن رافع نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے عبد الرزاق نے بیان کیا، ہم سے ابن جریج نے بیان کیا,ابو زبیر نے حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ کو سنا ، کہہ رہے تھے
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’تم میں سے کوئی شخص جب ٹھوس چیز سے استنجا کرے تو طاق عدد میں کرے ۔ ‘ ‘
Salim, the freed slave of Shaddad, said:
I came to 'A'isha, the wife of the Prophet ( صلی اللہ علیہ وسلم ), on the day when Sa'd bin Abi Waqqas رضی اللہ عنہ died. 'Abdul-Rahman bin Abu Bakr رضی اللہ عنہ also came there and he performed ablution in her presence. She (Hadrat 'A'isha) said: Abd al-Rahman, complete the ablution as I heard the Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) say: Woe to the heels because of hell-fire.
ہم سے ہارون بن سعید العیلی، ابو الطاہر اور احمد بن عیسی نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے عبداللہ بن وہب نے بیان کیا،مخرمہ بن بکیر نے اپنےوالد سے ، انہوں نے شداد کے آزاد کردہ غلام سالم سے روایت کی ، انہوں نے کہا
جس دن حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ فوت ہوئے میں رسول اللہ ﷺ کی اہلیہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا ۔ عبد الرحمن بن ابی بکر رضی اللہ عنہ ان کے ہاں آئے اور ان کے پاس وضو کیا تو انہو ں نےفرمایا : عبدالرحمن ! خوب اچھی طرح وضو کرو کیونکہ میں نے رسو ل اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا تھا : ’’ ( وضوکے پانی سےتر نہ ہونے والی ) ایڑیوں کےلیے آگ کا عذاب ہے ۔ ‘ ‘
Abdullah, the freed slave of Shahddad:
He came to 'A'isha and transmitted from her a hadith like this (which she narrated) from the Prophet ( صلی اللہ علیہ وسلم ).
ایک اور سند سے محمد بن عبدالرحمان نے شداد بن ہاد کے آزادکردہ غلام ابو عبد اللہ ( سالم ) سے روایت بیان کی کہ
وہ حضرت عائشہؓ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور پھر ان سے رسو ل ا للہ ﷺ کا مذکورہ بالا فرمان نقل کیا ۔
Salim, the freed slave of Mahri, reported:
I and 'Abd al-Rahman bin Abu Bakr went out (in order to join) the funeral procession of Sa'd bin Abi Waqqas رضی اللہ عنہ and passed by the door of the residence of 'A'isha رضی اللہ عنہا , and then he transmitted a hadith like this from her who (narrated it) from the Prophet ( صلی اللہ علیہ وسلم ).
مجھ سے محمد بن حاتم اور ابو معن الرقاشی نے بیان کیا، انہوں نے کہا: ہم سے عمر بن یونس نے بیان کیا، کہا ہم سے عکرمہ بن عمار نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے یحییٰ بن ابی کثیر نے بیان کیا، انہوں نے کہا: مجھ سے ابو سلمہ بن عبدالرحمٰن نے بیان کیا، انہوں نے کہاابوسلمہ بن عبد الرحمن نے بیان کیا کہ مہری کے آزاد کردہ غلام سالم نے مجھے بتایا کہ
میں اور عبدالرحمن بن ابی بکر رضی اللہ عنہ سعدبن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کے جنازے کے لیے نکلے تو ہم حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کےحجرے کے دروازے سے گزرے ( وہاں ٹھہرے ، وضو کے لیے عبدالرحمان بن ابی بکر اندر گئے .... ) پھر انہوں نے حضرت عائشہ ؓ کےحوالے سے مذکورہ بالا روایت سنائی ۔
Salim, the freed slave of Shaddad b. al-Had said: I was in the presence of 'A'isha, and then narrated on her authority a hadith like this from the Prophet (way peace be upon him).
نعیم بن عبد اللہ نے شداد بن بن ہاد کے آزاد کردہ غلام سالم سے روایت کی ، انہوں نے کہا : میں حضرت عائشہؓ کے پاس تھا....پھر اس نے حضرت عائشہ ؓ سے نبی ﷺ سے اسی طرح روایت بیان کی ۔
Abdullah bin 'Amr رضی اللہ عنہ reported:
We returned from Mecca to Medina with the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ), and when we came to some water on the way, some of the people were in a hurry at the time of the afternoon prayer and performed ablution hurriedly; and when we reached them, their heels were dry, no water had touched them. The Prophet ( صلی اللہ علیہ وسلم ) said: Woe to (dry) heels, because of Hell-fire. Make your ablution thorough.
مجھ سے زہیر بن حرب نے کہا,جریر نے منصور سے ، انہوں نے ہلال بن یساف سے ، انہوں نے ابو یحییٰ ( مصدع ، الاعرج ) سے اور انہوں نے حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ انہوں نے کہا
ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ مکہ سے مدینہ واپس آئے ۔ راستے میں جب ہم ایک پانی ( والی منزل ) پر پہنچے تو عصر کے وقت کچھ لوگوں نے جلدی کی ، وضو کیا تو جلدی میں تھے ، ہم ان تک پہنچے تو ان کی ایڑیاں اس طر ح نظر آ رہی تھیں کہ انہیں پانی نہیں لگا تھا ، رسول اللہ ﷺ نے ( آکر ) فرمایا : ’’ ( ان ) ایڑیوں کے لیے آگ کا عذاب ہے ۔ وضو اچھی طرح کیا کرو ۔ ‘ ‘
In the hadith transmitted by Shu'ba these words are not there:
Complete the Wudu, and there is the name of Abu Yahya al-A'raj (a narrator).
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے وکیع نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا، ان سے ابن المثنیٰ اور ابن بشار نے بیان کیا، انہوں نے کہا: ہم سے محمد بن جعف نے بیان کیا، انہوں نے کہا: ہم سے شعبہ نے بیان کیا،منصور کے دوسرے شاگرد سفیان اور شعبہ کے حوالے سے بھی باقی ماندہ اسی سند کے ساتھ یہی روایت بیان کی گئی جس میں شعبہ نے
’’خوب اچھی طرح وضو کرو ‘ ‘ کے الفاظ بیان نہیں کیے اور اس کی حدیث ( کی سند ) میں ہے : ابو یحییٰ اعرج سےروایت ہے ۔
Abdullah bin Amr رضی اللہ عنہ reported:
The Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) lagged behind us on a journey. We travelled (back) and be took him; and then came the time of the afternoon prayer, and as we were going to wipe our feet he (the Holy Prophet) called out: Woe to the heels because of Hell-fire.
ہم سے شیبان بن فرخ اور ابو کامل الجہدری نے بیان کیا، ابو کامل نے کہا, ہم سے ابو عوانہ نے ابو بشر سے بیان کیا،یوسف بن ماہک نے حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا
ایک سفر کے دوران میں نبی کریم ﷺ ہم سے پیچھے رہ گئے ، آپ ہمارے پاس پہنچے تو عصر کی نماز کا وقت ہو چکا تھا ، ہم ( میں سے کچھ لوگ ) اپنے پاؤں پر ( جلدی میں ) ہاتھ پھیرنے لگے تو آپ نے بلند آواز سے فرمایا : ’’ ( ان ) ایڑیوں کے لیے آگ کا عذاب ہے ۔ ‘ ‘
Abu Huraira رضی اللہ عنہ reported:
Allah's Apostle ( صلی اللہ علیہ وسلم ) saw a man who did not wash his heel and he remarked: Woe to the heels because of hell-fire.
ہمیں عبدالرحمٰن بن سلام الجمعی نے بیان کیا,ربیع بن مسلم نے محمد بن زیاد سے ، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ
نبی ﷺ نےایک آدمی کو دیکھا جس نے اپنی ایڑی نہیں دھوئی تھی تو آپ نے فرمایا : ’’ ( ان ) ایڑیوں کے لیے آگ کاعذاب ہے ۔ ‘ ‘