This hadith is reported from Hudaifa رضی اللہ عنہ by another chain of transmitters:
Whenever he (the Holy Prophet) got up in the night, they (the transmitters) have not mentioned the words: for offering Tahajjud prayer.
ہم سے اسحاق بن ابراہیم نے بیان کیا، کہا ہم سے جریر نے بیان کیا,منصور اور اعمش دونوں نے ابو وائل سے ، انہوں نے حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا
رسول اللہ ﷺ جب رات کو اٹھتے ...... آگے سابقہ روایت کی طرح ہے لیکن انہوں نے ’’تہجد کے لیے ‘ ‘ کے الفاظ روایت نہیں کیے ۔
Hudaifa reported:
Whenever he (the Holy Prophet ﷺ) got up for prayer during the night, he cleansed his mouth with the tooth-stick.
ہم سے محمد بن المثنیٰ اور ابن بشار نے بیان کیا، کہا: ہم سے عبدالرحمٰن نے بیان کیا،سفیان نے منصور کےحوالے سے اور حصین اور اعمش نے ( بھی منصور کی طرح ) ابو وائل سے اور انہوں نے حضرت حذیفہ سے روایت کی کہ
رسول اللہ ﷺ جب رات کو اٹھتے تو اپنا دہن مبارک مسواک سے اچھی طرح صاف فرماتے ۔
Ibn 'Abbas رضی اللہ عنہ reported:
He spent a night at the house of the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ), The Apostle of Allah (way peace be upon him) got up for prayer in the latter part of the night. He went out and looked towards the sky and then recited this verse (190th) of AI-i-'Imran: Verily in the creation of the heavens and the earth and the alternation of night and day. up to the (words) save us from the torment of Hell. He then returned to his house, used the tooth-stick, performed the ablution, and then got up and offered the prayer. He than lay down on the bed. and again got up and went out and looked towards the sky and recited this verse (mentioned above), then returned, used the tooth-stick, performed ablution and again offered the prayer.
ہم سے عبد بن حمید نے بیان کیا، کہا ہم سے ابو نعیم نے بیان کیا، کہا ہم سے اسماعیل بن مسلم نے بیان کیا، ہم سے ابو المتوکل نے بیان کیا,حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے ابو متوکل کو بتایا کہ
انہوں نے ایک رات اللہ کے نبی ﷺ کے ہاں گزاری ۔ اللہ کے نبی ﷺ رات کے آخری حصے میں اٹھے ، باہر نکلے اور آسمان پر نظر ڈالی پھر سورہ آل عمران کی آیت : ﴿إِنَّ فِي خَلْقِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَاخْتِلَافِ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ﴾تلاوت کی اور﴿فَقِنَا عَذَابَ النَّارِ﴾تک پہنچے ۔ پھر گھر لوٹے اور اچھی طرح مسواک کی اور وضو فرمایا ، پھر کھڑے ہوئے اور نماز پڑھی ، پھر لیٹ گئے ، پھر کھڑے ہوئے ، باہر آسمان کی طرف دیکھا ، پھر ( دوبارہ ) یہ آیت پڑھی ، پھر واپس آئے ، مسواک کی اور وضو فرمایا ، پھر کھڑے ہوئے اور نماز پڑھی ۔
Abu Huraira رضی اللہ عنہ reported:
Five are the acts quite akin to the Fitra, or five are the acts of Fitra: circumcision, shaving the pubes, cutting the nails, plucking the hair under the armpits and clipping the moustache.
ابوبکر بن ابی شیبہ، عمرو الناقد اور زہیر بن حرب نے سفیان کی سند سے کہا,ابن عیینہ نے زہری سے حدیث بیان کی ، انہوں نے سعید بن مسیب سے ، انہوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی ﷺ سے روایت کی کہ
آپ نے فرمایا : ’’فطرت ( کے خصائل ) پانچ ہیں ( یا پانچ چیزیں فطرت کا حصہ ہیں ) : ختنہ کرانا ، زیر ناف بال مونڈنا ، ناخن تراشنا ، بغل کے بال اکھیڑنا اور مونچھ کترنا ۔ ‘ ‘
Abu Huraira رضی اللہ عنہ reported:
Five are the acts of fitra: circumcision, removing the pubes, clipping the moustache, cutting the nails, plucking the hair under the armpits.
مجھ سے ابو الطاہر اور ہرملہ بن یحییٰ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ابن وہب نے بیان کیا,مجھے یونس نے ابن شہاب زہری سے خبر دی ، انہوں نے سعید بن مسیب سے ، انہوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے روایت کی کہ
آپ نے فرمایا : ’’ ( خصائل ) فطرت پانچ ہیں : ختنہ کرانا ، زیر ناف بال مونڈنا ، مونچھ کترنا ، ناخن تراشنا اور بغل کے بال اکھیڑنا ۔ ‘ ‘
Anas رضی اللہ عنہ reported:
A time limit has been prescribed for us for clipping the moustache, cutting the nails, plucking hair under the armpits, shaving the pubes, that it should not be neglected far more than forty nights.
ہم سے یحییٰ بن یحییٰ اور قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، ان دونوں نے جعفر کی سند سے بیان کیا، انہوں نے کہا: ہم سے یحییٰ، جعفر بن سلیمان نے ابو عمران الجونی کی سند سے بیان کیا,حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، انہوں نے کہا
ہمارے لیے مونچھیں کترنے ، ناخن تراشنے ، بغل کے بال اکھیڑنے اور زیر ناف بال مونڈنے کے لیے وقت مقرر کر دیا گیا کہ ہم ان کو چالیس دن سےزیادہ نہ چھوڑیں ۔
Ibn Umar رضی اللہ عنہ said:
The Apostle of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) said: Trim closely the moustache, and let the beard grow.
ہم سے محمد بن المثنیٰ نے بیان کیا، ہم سے یحییٰ نے بیان کیا، یعنی ابن سعید ایچ نے، ہم سے ابن نمیر نے بیان کیا، ہم سے میرے والد نے بیان کیا،عبید اللہ نےنافع سے ، انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبیﷺ سے روایت کی کہ
آپ نے فرمایا : ’’مونچھیں اچھی طرح تراشو اور داڑھیاں بڑھاؤ.
Ibn Umar رضی اللہ عنہ said:
The Apostle of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) ordered us to trim the moustache closely and spare the beard.
ہم سے قتیبہ بن سعید نے مالک بن انس سے روایت کی ہے,ابو بکر بن نافع نے اپنے والد سے ، انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی ﷺروایت کی کہ
آپ نے مونچھیں اچھی طرح تراشنے اور داڑھی بڑھانے کا حکم دیا ۔
Ibn Umar رضی اللہ عنہ said:
The Messenger of Allah ( ﷺ) said: Act against the polytheists, trim closely the moustache and grow beard.
ہم سے سہل بن عثمان نے بیان کیا، کہا ہم سے یزید بن زرعی نے بیان کیا,عمر بن محمد نے نافع کے حوالے سے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سےروایت کی ، انہوں نے کہا کہ
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’مشرکوں کی مخالفت کرو ، مونچھیں اچھی طرح تراشو اور داڑھیاں بڑھاؤ ۔ ‘ ‘
Abu Huraira رضی اللہ عنہ reported:
The Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) said: Trim closely the moustache, and grow beard, and thus act against the fire-worshippers.
مجھ سے ابوبکر بن اسحاق نے بیان کیا، کہا ہم سے ابن ابی مریم نے بیان کیا، کہا ہم سے محمد بن جعفر نے بیان کیا، مجھ سے علاء بن عبدالرحمٰن بن یعقوب نے بیان کیا، ان سے مولا حرقا نے اپنے والد سے,حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سےروایت ہے ، انہوں نے کہا
رسول ا للہ ﷺ نے فرمایا : ’’ مونچھیں اچھی طرح کاٹو اور داڑھیاں بڑھاؤ ، مجوس کی مخالفت کرو ۔ ‘ ‘
A'isha reported:
The Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) said: Ten are the acts according to fitra: clipping the moustache, letting the beard grow, using the tooth-stick, snuffing water in the nose, cutting the nails, washing the finger joints, plucking the hair under the armpits, shaving the pubes and cleaning one's private parts with water. The narrator said: I have forgotten the tenth, but it may have been rinsing the mouth
قتیبہ بن سعید ، ابو بکر بن ابی شیبہ او رزہیر بن حرب نے کہا : ہمیں وکیع نے زکریا بن ابی زائدہ سےحدیث بیان کی ، انہوں نے مصعب بن شیبہ سے ، انہوں نے طلق بن حبیب سے ، انہوں نے عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے حضرت عائشہ ؓ سے روایت کی ، انہوں نے کہا
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’دس چیزیں ( خصائل ) فطرت میں سے ہیں : مونچھیں کترنا ، داڑھی بڑھانا ، مسوک کرنا ، ناک میں پانی کھینچنا ، ناخن تراشنا ، انگلیوں کے جوڑوں کودھونا ، بغل کے بال اکھیڑنا ، زیر ناف بال مونڈنا ، پانی سے استنجا کرنا ۔ ‘ ‘ زکریا نے کہا : مصعب نے بتایا : دسویں چیز میں بھول گیا ہوں لیکن وہ کلی کرنا ہو سکتا ہے ۔ قتیبہ نے یہ اضافہ کیا کہ وکیع نے کہا : انتقاض الماء کے معنی استنجا کرنا ہیں ۔
This hadith has been narrated by Mus'ab bin Shaiba with the same chain of transmitters except for these words:
His father said: I forgot the tenth one.
ابو کریب نے بیان کیا ، ہمیں ابو زائدہ کے بیٹے نے اپنے والد ( ابو زائدہ ) سے خبر دی ، انہوں نے مصعب بن شیبہ سے اسی سند کے ساتھ یہی حدیث روایت کی ، البتہ ابن ابی زائدہ نےکہا : ان کے والد نے کہا
میں دسویں بات بھول گیا ہوں
Salman reported that it was said to him:
Your Apostle ( صلی اللہ علیہ وسلم ) teaches you about everything, even about excrement. He replied: Yes, he has forbidden us to face the Qibla at the time of excretion or urination, or cleansing with right hand or with less than three pebbles, or with dung or bone.
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ابو معاویہ اور وکیع نے بیان کیا، انہیں الاعمش ایچ کی سند سے، اور ہم سے یحییٰ بن یحییٰ نے بیان کیا اور اس کا لفظ، ہم سے ابو معاویہ نے بیان کیا، ان کی سند سے۔ الاعمش، ابراہیم کی سند سے، عبدالرحمٰن بن یزید کی سند سے، سلمان کی سند سے، انہوں نے کہا
ان ( سلمان رضی اللہ عنہ ) سے ( طنزاً ) کہا گیا : تمہارے نبی نے تم لوگوں کو ہر چیز کی تعلیم دی ہے یہاں تک کہ قضائے حاجت ( کےطریقے ) کی بھی ۔ کہا : انہوں نے جواب دیا : ہاں ( ہمیں سب کچھ سکھایا ہے ، ) آپ نے ہمیں منع فرمایا ہے ہم پاخانے یا پیشاب کے وقت قبلے کی طرف رخ کریں یا دائیں ہاتھ سے استنجا کریں یا استنجے میں تین پتھروں سے کم استعمال کریں یاہم کوپر یا ہڈی سے استنجا کریں ۔
Salman رضی اللہ عنہ said:
(one among) the polytheists remarked: I see that your friend even teaches you about the excrement. He replied; Yes, he has in fact forbidden us that anyone amongst us should cleanse himself with his right hand, or face the Qibla. He has forbidden the use of dung or bone for it, and he has also instructed us not to use less than three pebbles (for this purpose).
ہم سے محمد بن المثنی نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالرحمٰن نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا،اعمش کے ایک اور شاگرد سفیان نے ان سے اور منصور سے ، ان دونوں نے ابراہیم سے ، انہوں نے عبد الرحمن بن یزید سے ، انہوں نے حضرت سلمان رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا
مشرکوں نے ہم سے کہا : میں دیکھتا ہوں کہ تمہارا ساتھی ( ہر چیز سکھاتا ہے یہاں تک کہ تمہیں قضائے حاجت کا طریقہ بھی سکھاتا ہے ۔ تو سلمان رضی اللہ عنہ نے کہا : ہاں ، انہوں ہمیں منع فرمایا ہے کہ ہم میں کوئی اپنے دائیں ہاتھ سے استنجا کرے یا قبلے کی طرف منہ کرے اور آپ نے ہمیں گوبر اور ہڈی ( سے استنجاکرنے ) سے روکا ہے اور آپ نے یہ بھی فرمایا ہے : ’’تم میں سے کوئی تین پتھروں سے کم کے ساتھ استنجا نہ کرے ۔ ‘ ‘
Jabir رضی اللہ عنہ reported:
The Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) forbade the use of bone or the droppings of camels for wiping (after excretion).
ہم سے زہیر بن حرب نے بیان کیا، کہا ہم سے روح بن عبادہ نے بیان کیا، کہا ہم سے زکریا بن اسحاق نے بیان کیا,ابوزبیر نے بیان کیا کہ انہوں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے ہوئے سنا
رسول اللہ ﷺ نے ہمیں ہڈی یالید کے ذریعے سےاستنجا کرنے سے منع فرمایا ۔
Abu Ayyub reported:
The Apostle of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) said: Whenever you go to the desert, neither turn your face nor turn your back towards the Qibla while answering the call of nature, but face towards the east or the west. Abu Ayyub رضی اللہ عنہ said: When we came to Syria we found that the latrines already built there were facing towards the Qibla. We turned our faces away from them and begged forgiveness of the Lord. He said: Yes.
زہیر بن حرب اور ابن نمیر دونوں نے کہا ، ہمیں سفیان بن عیینہ نے حدیث سنائی ، نیز یحییٰ بن یحییٰ نے ہمیں حدیث سنائی ( الفاظ انہی کے ہیں ) کہا : میں نے سفیان بن عیینہ سے پوچھا : کیا آپ نے زہری سے سنا کہ انہوں نے عطاء بن یزید لیثی سے ، انہوں نے حضرت ابوایوب سے روایت کی کہ
نبی ﷺ نے فرمایا : ’’جب تم قضائے حاجت کی جگہ پر آؤ تو نہ قبلے کی طرف منہ کرو اور نہ اس کی طرف پشت کرو ، پیشاب کرنا ہو یا پاخانہ ، بلکہ مشرق یا مغرب کی طرف منہ کیا کرو ۔ ‘ ‘ ابو ایوب رضی اللہ عنہ نے کہا : ہم شام گئے تو ہم نے بیت الخلا قبلہ رخ بنے ہوئے پائے ، ہم اس سے رخ بدلتے اور اللہ سے معافی طلب کرتے تھے ؟ ( سفیان نے ) کہا : ہاں ۔
Abu Huraira رضی اللہ عنہ said:
When any one amongst you squats for answering the call of nature, he should neither turn his face towards the Qibla nor turn his back towards it.
ہم سے احمد بن الحسن بن خراش نے بیان کیا، کہا ہم سے عمر بن عبد الوہاب نے بیان کیا، کہا ہم سے یزید نے بیان کیا، ان سے ابن زریع نے، کہا ہم سے روح نے بیان کیا، سہیل کی سند سے، انہوں نے القعْقَاعِ آقا کی سند سے, ابو صالح کی سند سے،حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے روایت کی
آپ نے فرمایا : ’’جب تم میں سے کوئی قضائے حاجت کی جگہ پر بیٹھے تو نہ قبلے کی طرف منہ کرے اور نہ ہی اس کی طرف پشت کرے.
Wasi' bin Habban reported:
I was offering my prayer in the mosque and Abdullah bin Umar رضی اللہ عنہ was sitting there reclining with his back towards the Qibla. After completing my prayer. I went to him from one side. Abdullah رضی اللہ عنہ said: People say when you go to the latrine, you should neither turn your face towards the Qibla nor towards Bait-ul-Maqdis. 'Abdullah رضی اللہ عنہ said (farther): I went up to the roof of the house and saw the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) squatting on two bricks for relieving himself with his face towards Bait-al-Maqdis.
ہم سے عبداللہ بن مسلمہ بن قعنب نے بیان کیا، ان سے سلیمان نے، یعنی ہم سے ابن بلال نے بیان کیا, یحییٰ بن سعید نے محمد بن یحییٰ سے ، انہوں نے اپنے چچا واسع بن حبان سے روایت کی ، انہوں نے کہا
میں مسجد میں نماز پڑھ رہاتھا اور عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ اپنی پست قبلے کی طرف لگا کر بیٹھے ہوئے تھے ۔ جب میں نے اپنی نماز پوری کر لی تو اپنا پہلو بدل کر ان کی طرف منہ کر لیا تو عبد اللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : کچھ لوگ کہتے ہیں : جب تم قضائے حاجت کے لیے بیٹھو ، جو بھی ہو ، قبلے کی طرف اور بیت المقدس کی طرف منہ کر کے نہ بیٹھو ۔ عبد اللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : حالانکہ میں گھر کی چھت پر چڑھا تو میں نے رسو ل اللہ ﷺ کودیکھا کہ قضائے حاجت کے لیے دو اینٹوں پر بیت المقدس کی طرف رخ کر کے بیٹھے ہوئے تھے ۔
Abdullah bin Umar said:
I went up to the roof of the house of my sister Hafsa and saw the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) relieving himself facing Syria. with his back to the Qibla.
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے محمد بن بشر العبدی نے بیان کیا، کہا ہم سے عبید اللہ بن عمر نے بیان کیا,محمد بن یحییٰ بن حبان اپنے چچا واسع بن حبان سے اور وہ حضرت ابن عمر سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نےکہا
میں اپنی بہن ( ام المومنین ) حفصہ ؓ کے گھر ( کی چھت ) پر چڑھا تو میں نے دیکھا کہ رسو ل اللہ ﷺ اپنی قضائے حاجت کےلیے بیٹھے تھے ، شام کی طرف رخ ، قبلے کی جانب پشت کیے ہوئے ۔
Abu Qatada رضی اللہ عنہ reported it from his father:
The Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) said: None of you should hold penis with his right hand while urinating, or wipe himself with his right hand in privy and should not breathe into the vessel (from which he drinks).
ہم سے یحییٰ بن یحییٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالرحمٰن بن مہدی نے بیان کیا، وہ ہمام کی سند سے، وہ یحییٰ بن ابی کثیر نے، وہ عبداللہ بن ابی قتادہ سے، وہ اپنے والد سے، انہوں نے کہا
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’تم میں سے کوئی پیشاب کرتے وقت اپنا عضو خاص دائیں ہاتھ میں نہ پکڑے ، نہ دائیں ہاتھ سے استنجا کرے اور نہ ( پانی پیتے وقت ) برتن میں سانس لے