Abu Huraira رضی اللہ عنہ reported:
He saw people perform ablution with the help of a water jar and he said: Complete the Wudu for i heard Abu al-Qasim ( صلی اللہ علیہ وسلم ) say: Woe to the hamstrings because of hell-fire.
ہم سے قتیبہ، ابوبکر بن ابی شیبہ اور ابو کریب نے بیان کیا، انہوں نے کہا: ہم سے وکیع نے بیان کیا,شعبہ نےمحمد بن زیاد سے ، انہوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سےروایت کی کہ
انہوں نے کچھ لوگوں کو وضو کے برتن سے وضو کرتے دیکھا تو کہا : وضواچھی طرح کرو میں نے حضرت ابو القاسم ( محمد ) ﷺ سےسنا ، آپ فرما رہے تھے : ’’کونچوں کے لیے آگ کاعذاب ہے ۔ ‘ ‘
Abu Huraira رضی اللہ عنہ reported:
The Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) said: Woe to the heels because of hell-fire.
مجھ سے زہیر بن حرب نے بیان کیا، کہا ہم سے جریر نے بیان کیا,سہیل کے والد ابو صالح نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’ایڑیوں کے لیے آگ کا عذاب ہے
Jabir رضی اللہ عنہ reported 'Umar bin Khattab رضی اللہ عنہ said:
A person performed ablution and left a small part equal to the space of a nail (unwashed). The Apostle of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) saw that and said: Go back and perform ablution well. He then went back (performed ablution well) and offered the prayer.
مجھ سے سلمہ بن شبیب نے بیان کیا، ہم سے حسن بن محمد بن عیان نے بیان کیا، ہم سے معقل نے بیان کیا، ابو الزبیر رضی اللہ عنہ سے,حضرت جابر رضی اللہ عنہ سےروایت ہے ، انہوں نے کہا : مجھے حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ
ایک شخص نے وضو کیا تو اپنے پاؤں پر ایک ناخن جتنی جگہ چھوڑ دی ، تو نبی ﷺ نے اس کو دیکھ لیا اور فرمایا : ’’واپس جاؤ اور اپنا وضو خوب اچھی طرح کرو- ‘ ‘ وہ واپس گیا ، ( حکم پر عمل کیا ) پھر نماز پڑھی ۔
Abu Huraira رضی اللہ عنہ reported:
Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) said: When a bondsman-a Muslim or a believer-washes his face (in course of ablution), every sin he contemplated with his eyes, will be washed away from his face along with water, or with the last drop of water; when he washes his hands, every sin they wrought will be effaced from his hands with the water, or with the last drop of water; and when he washes his feet, every sin towards which his feet have walked will be washed away with the water or with the last drop of water with the result that he comes out pure from all sins.
ہم سے سوید بن سعید نے بیان کیا، انہوں نے مالک بن انس سے اور ہم سے ابو الطاہر نے بیان کیا، اور ہم سے عبداللہ بن وہب نے بیان کیا، انہوں نے مالک بن انس کی سند سے، سہیل کی سند سے بن ابی صالح، اپنے والد کی طرف سے،حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’جب ایک مسلم ( یامومن ) بندہ وضو کرتا ہے اور اپنا چہرہ دھوتا ہے تو پانی ( یاپانی کے آخری قطرے ) کے ساتھ اس کے چہرے سے وہ سارے گناہ ، جنہیں اس نے اپنی آنکھوں سے دیکھتے ہوئے کیا تھا ، خارج ہو جاتے ہیں اور جب وہ اپنے ہاتھ دھوتا ہے تو پانی ( یا پانی کے آخری قطرے ) کے ساتھ وہ سارے گناہ ، جو اس کے ہاتھوں نے پکڑ کر کیے تھے ، خارج ہو جاتے ہیں اور جب وہ اپنے دونوں پاؤں دھوتا ہے تو پانی ( یا پانی کے آخری قطرے ) کے ساتھ وہ تمام گناہ ، جو اس کے پیروں نے چل کر کیے تھے ، خارج ہو جاتے ہیں حتی کہ وہ گناہوں سے پاک ہو کر نکلتا ہے ۔ ‘ ‘
Uthman bin 'Affan رضی اللہ عنہ reported:
The Messenger of Allah (way peace be upon him) said: He who performed ablution well, his sins would come out from his body, even coming out from under his nails.
ہم سے محمد بن معمر بن ربیع القیسی نے بیان کیا، کہا ہم سے ابو ہشام المخزومی نے بیان کیا، انہوں نے عبد الواحد کی سند سے جو ابن زیاد ہیں,حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، انہوں نے کہا
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’جس نے وضو کیا اور خوب اچھی طرح وضو کیا ، تو اس کے جسم سے اس کےگناہ خارج ہو جاتے ہیں حتی کہ اس کے ناخنوں کےنیچے سے بھی نکل جاتے ہیں ۔ ‘ ‘
Nu'aim bin 'Abdullah al-Mujmir reported:
I saw Abu Huraira perform ablution. He washed his face and washed it well. He then washed his right hand including a portion of his arm. He then washed his left hand including a portion of his arm. He then wiped his head. He then washed his right foot including his shank, and then washed his left foot including shank, and then said: This is how I saw Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) perform his ablution. And (Abu Huraira) added that the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) had observed: You shall have your faces hands and feet bright on the Day of Resurrection because of your perfect ablution. He who can afford among you, let him increase the brightness of his forehead and that of hands and legs.
مجھ سے ابو کریب محمد بن الاعلٰی، القاسم بن زکریا بن دینار اور عبد بن حمید نے بیان کیا، انہوں نے کہا: ہم سے خالد بن مخلد نے سلیمان بن بلال کی روایت سے بیان کیا,عمارہ بن غزیہ انصاری نےنعیم بن عبداللہ مجمر سے روایت کی ، انہوں نے کہا
میں نے ابوہریرہ ﷺ کو وضو کرتے دیکھا ، انہوں نے اپنا چہرہ دھویا اور اچھی طرح وضو کیا ، پھر اپنا دایاں بازو دھویا حتیٰ کہ اوپر بازو کی ابتداء تک پہنچے ، پھر اپنا بایاں بازو دھویا حتیٰ کہ اوپر بازو کی ابتداء تک پہنچے ، پھر اپنے سر کا مسح کیا ، پھر اپنا دایاں پاؤں دھویا حتی کہ اوپر پنڈلی کی ابتداء تک پہنچے ، پھر اپنا بایاں پاؤں دھویا حتیٰ کہ اوپر پنڈلی کی ابتداء تک پہنچے ، پھر کہا : رسول اللہ ﷺ کو اسی طرح وضو کرتے دیکھا ، اور کہا : رسول اللہﷺ نے فرمایا : ’’قیامت کےدن اچھی طرح وضو کرنے کی وجہ سے تم لوگ ہی روشن چہروں اور سفید چمکدار ہاتھ پاؤں والے ہو گے ، لہٰذا تم میں سے جو اپنے چہرے اور ہاتھ پاؤں کی روشنی اور سفیدی کو آگے تک بڑھا سکے ، بڑھا لے ۔ ‘ ‘
Nu'aim bin 'Abdallah reported:
He saw Abu Huraira perform ablution. He washed his face and washed his hands up to the arms. He then washed his feet and reached up to the shanks and then said: I heard Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) say: My people would come with bright faces and bright hands and feet on account of the marks of ablution, so he who can increase the lustre of his forehead (and that of his hands and legs) should do so.
مجھ سے ہارون بن سعید العیلی نے بیان کیا، مجھ سے ابن وہب نے بیان کیا، مجھ سے عمرو بن حارث نے بیان کیا,سعید بن ابی ہلال نے نعیم بن عبداللہ سےروایت کی کہ
انہوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کو وضو کرتے ہوئے دیکھا ، انہوں نے اپنا چہرہ اور بازو دھوئےیہاں تک کہ کندھوں کے قریب پہنچ گئے ، پھر انہوں نے اپنے پاؤں دھوئے ، یہاں تک کہ اوپر پنڈلیوں تک لے گئے ، پھر کہا : میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا : ’’ میری امت کے لوگ قیامت کے دن وضو کے اثر سے روشن چہروں اور سفید چمکدار ہاتھ پاؤں کے ساتھ آئیں گے ، لہٰذا تم میں سے جو اپنی روشنی کو آگے تک بڑھا سکتا ہے ، بڑھا لے ۔ ‘ ‘
Abu Huraira رضی اللہ عنہ reported:
Verily Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) said: My Cistern has its dimensions wider than the distance between Aila and Aden, and its water is whiter than ice and sweeter than the honey diluted with milk, and its cups are more numerous than the numbers of the stars. Verily I shall prevent the (faithless) people therefrom just as a man prevents the camels of the people from his fountain. They said: Messenger of Allah, will you recognise us on that day? He said: Yes, you will have distinctive marks which nobody among the peoples (except you) will have; you would come to me with blazing forehead and bright hands and feet on account of the traces of ablution.
ہم سے سوید بن سعید اور ابن ابی عمر نے بیان کیا,مروان نے ابو مالک اشجعی سعد بن طارق سے ، انہوں نے ابو حازم سے اور انہوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’میرا حوض عدن سے ایلہ تک کے فاصلے سے زیادہ وسیع ہے اور ( اس کا پانی ) برف سے زیادہ سفید اور شہد سے ملے دودھ سے زیادہ شیریں ہے اور اس کے برتن ستاروں کی تعداد سے زیادہ ہیں ، ( یہ خالصتاً میری امت کے لیے ہے ، اس لیے ) میں ( امت کے علاوہ دوسرے ) لوگوں کو اس سے روکوں گا ، جیسےآدمی اپنےحوض سے لوگوں کے اونٹوں کو روکتا ہے ۔ ‘ ‘ صحابہ کرام نے پوچھا : اے اللہ کے رسول !کیا اس دن آپ ہمیں پہچانیں گے؟ آپ نے فرمایا : ’’ہاں ، تمہاری ایک علامت ہو گی جو دوسری کسی امت کی نہیں ہو گی ، تم وضو کے اثر سے چمکتے ہوئے چہرے اور ہاتھ پاؤں کے ساتھ میرے پاس آؤ گے ۔ ‘ ‘
Abu Huraira رضی اللہ عنہ reported:
The Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) said: My people would come to me on the Cistern and I would drive away persons (from it) just as a person drives away other people's camels from his camels. They (the hearers) said: Apostle of Allah, would you recognize us? He replied: Yea, you would have a mark which other people will not have. You would come to me with a white blaze on your foreheads and white marks on your feet because of the traces of ablution. A group among you would be prevented from coming to me, and they would not meet me, and I would say: O my Lord, they are my companions. Upon this an angel would reply to me saying: Do you know what these people did after you.
ابو کریب اور واصل بن عبدا لاعلی - اور تلفظ واصل ہے - نے ہم سے بیان کیا، کہا,( مروان کے بجائے ) ابن فضیل نے ابو مالک اشجعی سے ، انہوں نے ابو حازم سے اور انہوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’میری امت میرے پاس حوض پر آئے گی اور میں اسی طرح ( دوسرے ) لوگوں کو اس ( حوض ) سے دور ہٹاؤں گا جیسےایک آدمی دوسرے آدمی کے اونٹوں کو اپنے اونٹوں سے ہٹاتا ہے ۔ ‘ ‘ صحابہ کرام نے عرض کی : اے اللہ کے نبی !کیا آپ ہمیں پہچانیں گے؟ آپ نے فرمایا : ’’ہاں ، تمہاری ایک نشانی ہو گی جو تمہارے سوا کسی اور کی نہیں ہو گی ، تم میرے پا س وضو کےاثرات سے روشن چہرے اور چمکدارہاتھ پاؤں کے ساتھ آؤ گے ۔ تم میں سےایک گروہ کو زبردستی میرے پاس آنے سےروک دیا جائے گا ، تو وہ مجھ تک نہیں پہنچ سکیں گے ۔ اس پر میں کہوں گا : اے میرے رب !یہ میرے ساتھیوں میں سے ہیں ۔ ایک فرشتہ مجھے جواب دے گا او رکہے گا : کیا آپ جانتے ہیں انہوں نےآپ کے بعد کیا کیا کام ایجاد کیے تھے؟ ‘ ‘
Hudhaifa رضی اللہ عنہ reported:
The Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) said: My Cistern is bigger than the space between Aila and Aden. By Him in Whose Hand is my life, I will drive away persons (from it) just as a person drives away unknown camels from his cistern. They (the companions) said: Messenger of Allah, would you recognise us? He said: Yes, you would come to me with white faces, and white hands and feet on account of the traces of ablution. None but you would have (this mark).
ہم سے عثمان بن ابی شیبہ نے بیان کیا، ہم سے علی بن مشر نے بیان کیا، ان سے سعد بن طارق نے، وہ رباعی بن حارث کی سند سے,حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، انہوں نے کہا
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’بلاشبہ میرا حوض ایلہ سے عدن تک کے فاصلے سے زیادہ وسیع ہے ، اس ذات کی قسم جس کےہاتھ میں میری جان ہے ! میں اس سے اسی طرح ( دوسرے ) لوگوں کو ہٹاؤں گا ، جس طرح آدمی اجنبی اونٹوں کو اپنے حوض سے ہٹاتا ہے ۔ ‘ ‘ صحابہ نے عرض کی : اےاللہ کے رسول ! اور کیا آپ ہمیں پہچان لیں گے؟آپ نے فرمایا : ’’ہاں ، تم میرے پاس روشن چہرے اور چمکتے ہوئے سفید ہاتھ پاؤں کے ساتھ آؤگے ، یہ علامت تمہارے سوا کسی اور میں نہیں ہو گی ۔ ‘ ‘
Abu Huraira رضی اللہ عنہ reported:
The Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) came to the graveyard and said: Peace be upon you! The abode of the believing people and we, if God so wills, are about to join you. I love to see my brothers. They (the hearers) said: Aren't we your brothers, O Messenger of Allah? He said: You are my companions, and our brothers are those who have, so far, not come into the world. They said: Messenger of Allah, how would you recognise those persons of your Ummah who have not yet been born? He said: Supposing a man had horses with white blazes on foreheads and legs among horses which were all black, tell me, would he not recognise his own horses? They said: Certainly, O Messenger of Allah. He said: They would come with white faces and arms and legs owing to ablution, and I would arrive at the Cistern before them. Some people would be driven away from my Cistern as the stray camel is driven away. I would call out: Come, come. Then it would be said (to me): These people changed themselves after you, and I would say: Be off, be off.
ہم سے یحییٰ بن ایوب، سریج بن یونس، قتیبہ بن سعید اور علی بن حجر نے بیان کیا,اسماعیل ( بن جعفر ) نے علاء سے ، انہوں نے اپنے والد سےاور انہوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ
رسو ل اللہﷺقبرستان میں آئے اور فرمایا : ’’اے ایمان والی قوم کے گھرانے ! تم سب پر سلامتی ہو اور ہم بھی ان شاء اللہ تمہیں ساتھ ملنے والے ہیں ، میری خواہش ہے کہ ہم نے اپنے بھائیوں کو ( بھی ) دیکھا ہوتا ۔ ‘ ‘ صحابہ نے عرض کی : اے اللہ کے رسول ! کیا ہم آپ کے بھائی نہیں ؟ آپ نے جواب دیا : ’’تم میرے ساتھی ہو اور ہمارے بھائی وہ لوگ ہیں جو ابھی تک ( دنیا میں ) نہیں آئے ۔ ‘ ‘ اس پر انہوں نے عرض کی : اے اللہ کے رسول ! آپ اپنی امت کے ان لوگوں کو ، جو ابھی ( دنیامیں ) نہیں آئے ، کیسے پہچانیں گے؟ تو آپ نے فرمایا : ’’بتاؤ! اگر کالے سیاہ گھوڑوں کے درمیان کسی کے سفید چہرے ( اور ) سفید پاؤں والے گھوڑے ہوں تو کیا وہ اپنے گھوڑوں کو نہیں پہچانے گا؟ ‘ ‘ انہوں نے کہا : کیوں نہیں ، اے اللہ کےرسول! آپ نے فرمایا : ’’وہ وضو کی بناپر روشن چہروں ، سفید ہاتھ پاؤں کے ساتھ آئیں گے اور میں حوض پر ان کا پیشروہوں گا ، خبردار ! کچھ لوگ یقیناً میرے حوض سے پرے ہٹا ئے جائیں گے ، جیسے ( کہیں اور کا ) بھٹکا ہوا اونٹ ( جوگلے کا حصہ نہیں ہوتا ) پرے ہٹا دیا جاتا ہے ، میں ان کی آوازدوں گا ، دیکھو! ادھر آ جاؤ ۔ تو کہاجائے گا ، انہوں نے آپ کے بعد ( اپنے قول و عمل کو ) بدل لیا تھا ۔ تو میں کہوں گا : دور ہو جاؤ ، دور ہو جاؤ ۔ ‘ ‘
Abu Huraira رضی اللہ عنہ reported:
The Messenger of Allah ( ﷺ) went out to the graveyard and said: Peace be upon you, the abode of the believing people. and If Allah so wills we shall join you.... (and so on and so forth) like the hadith narrated by Isma'il bin Ja'far except the words of Malik: Then some persons would be driven away from my Cistern.
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالعزیز نے بیان کیا، کہا ہم سے الدراوردی نے بیان کیا، کہا ہم سے اسحاق بن موسیٰ الانصاری نے بیان کیا، کہا ہم سے معن نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے مالک نے بیان کیا، ان سب نے علاء بن عبدالرحمٰن کی سند سے بیان کیا۔ اپنے والد سے، ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے
رسول اللہ ﷺ قبرستان کی طرف تشریف لے گئے اور فرمایا : ’’اے ایمان والی قوم کے دیار! تم سب پر سلامتی ہو ، ہم بھی اگر اللہ نےچاہا تو تمہارے ساتھ ملنے والے ہیں ۔ ‘ ‘ اس کے بعد اسماعیل بن جعفر کی روایت کی طرح ہے ۔ ہاں مالک کی روایت میں یہ الفاظ ہیں : ’’ تو کچھ لوگوں کو میرے حوض سے ہٹایا جائے گا ۔ ‘ ‘ ( الا ، یعنی خبردار کے بجائے ف ، یعنی ’تو ‘ کا لفظ ہے ۔ )
Abu Hazim reported:
I was (standing) behind Abu Huraira رضی اللہ عنہ and he was performing the ablution for prayer. He extended the (washing) of his hand that it went up to his armpit. I said to him: O Abu Huraira, what is this ablution? He said: O of the tribe of Faruukh, you are here; if I knew that you were here, I would have never performed ablution like this; I have heard my Friend ( صلی اللہ علیہ وسلم ) say. In a believer adornment would reach the places where ablution reaches.
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، ان سے خلف، یعنی ابن خلیفہ نے، ہم سے ابومالک اشجعی نے بیان کیا,ابو حازم سے روایت ہے ، انہوں نےکہا
میں ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کے پیچھے کھڑا تھا اور وہ نماز کے لیے وضو کر رہے تھے ، وہ اپنا ہاتھ آگے بڑھاتے ، یہاں تک کہ بغل تک پہنچ جاتا ، میں نے ان سے پوچھا : اے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ ! یہ کس طرح کا وضو ہے؟ انہوں نے جواب دیا : اے فروخ کی اولاد ( اے بنی فارس ) ! تم یہاں ہو ؟ اگر مجھے پتہ ہوتا کہ تم لوگ یہاں کھڑے ہو تو میں اس طرح وضو نہ کرتا ۔ میں نے ا پنے خلیل ﷺ کو فرماتے ہوئے سناتھا : ’’ مومن کازیور وہاں پہنچے گا جہاں اس کے وضو کا پانی پہنچے گا ۔ ‘ ‘
Abu Huraira رضی اللہ عنہ reported:
The Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) said: Should I not suggest to you that by which Allah obliterates the sins and elevates the ranks (of a man). They (the hearers) said: Yes, Messenger of Allah. He said: Performing the ablution thoroughly despite odds, tranverside of more paces towards the mosque, and waiting for the next prayer after observing a prayer, and that is mindfulness.
ہم سے یحییٰ بن ایوب، قتیبہ اور ابن حجر نے اسماعیل بن جعفر کی سند سے بیان کیا، ابن ایوب نے کہا,اسماعیل نے بیان کیا کہ انہیں علاء نے خبر دی ، انہوں نے اپنے والد سے روایت کی ، انہوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سےروایت کی کہ
رسول اللہ ﷺنے فرمایا : ’’کیا میں تمہیں ایسی جیز سے آگاہ نہ کروں جس کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ گناہ مٹا دیتا ہے او ر درجات بلند فرماتا ہے ؟ ‘ ‘ صحابہ نے عرض کی : اے اللہ کےر سول کیوں نہیں ! آپ نے فرمایا : ’’ناگواریوں باوجود اچھی طرح وضوکرنا ، مساجد تک زیادہ قدم چلنا ، ایک نماز کے بعد دوسری نماز کا انتظار کرنا ، سو یہی رباط ( شیطان کے خلاف جنگ کی چھاؤنی ( ہے ۔ ‘ ‘
This hadith has been narrated on the authority of `Ali bin `Abdul-Rahman with the same chain of transmitters and there is no mention of the word of al-Ribat in the hadith transmitted by Shu`ba and in the hadith narrated by Malik Ribat has been mentioned twice. This is the Ribat for you, this is the Ribat for you.
( بجائے اسماعیل کے ) مالک اور شعبہ نے اسی سند کے ساتھ علاء بن عبدالرحمن سے روایت کی ، شعبہ کی حدیث میں ’’رباط ‘ ‘ کا تذکرہ نہیں ہے جبکہ مالک کی حدیث میں دوبارہ ہے : ’’یہی رباط ہے ، یہی رباط ہے ۔ ‘ ‘
Abu Huraira رضی اللہ عنہ reported:
The Apostle ( صلی اللہ علیہ وسلم ) said: Were it not that I might over-burden the believers-and in the hadith transmitted by Zuhair people -I would have ordered them to use toothstick at every time of prayer.
ہم سے قتیبہ بن سعید، عمرو النقید اور زہیر بن حرب نے بیان کیا، کہا: ہم سے سفیان نے ابو الزناد سے اور العرج کی سند سے بیان کیا,حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
نبی ﷺ نےفرمایا : ’’اگر مجھے یہ ڈر نہ ہوتا کہ میں مسلمانوں کو ( زہیر کی روایت میں ہے : اپنی امت کو ) مشقت میں ڈال دوں گا تو میں انہیں ہر نماز کے وقت مسواک کرنے کا حکم دیتا ۔ ‘ ‘
Miqdam bim Shuraih narrated it from his father who said:
I asked A'isha what Allah's Apostle ( صلی اللہ علیہ وسلم ) did first when he entered his house, and she replied: He used tooth-stick (first of all).
ہم سے ابو کریب محمد بن العلاء نے بیان کیا، کہا ہم سے ابن بشر نے بیان کیا,مسعر نے مقدام بن شریح سے اور انہوں نے اپنے والد سے روایت کی ، انہوں نے کہا
میں نے حضرت عائشہ ؓ سے پوچھا ، میں نے کہا : نبی ﷺ جب گھر تشریف لاتے تو کس بات ( کام ) سے آغاز فرماتے تھے ؟انہوں نے فرمایا : مسواک سے ۔
A'isha reported:
Whenever Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) entered his house, he used tooth-stick first of all.
مجھ سے ابوبکر بن نافع العبدی نے بیان کیا، ہم سے عبدالرحمٰن نے بیان کیا،سفیان نے مقدام بن شریح سے باقی ماندہ سابقہ سند سے حضرت عائشہ ؓؓؓؓؓؓؓؓؓؓؓؓؓؓسے روایت کی کہ
نبی ﷺجب اپنے گھر تشریف لاتے تو مسواک سے آغاز فرماتے ۔
Abu Musa رضی اللہ عنہ reported:
I went to the Apostle ( صلی اللہ علیہ وسلم ) and found one end of the tooth-stick upon his tongue (i. e. he was rinsing his mouth).
ہم سے یحییٰ بن حبیب الحارثی نے بیان کیا، کہا ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا، انہوں نے غیلان کی سند سے، جو ابن جریر المعو لی ہیں، انہوں نے ابو بردہ کی سند سے,حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، انہوں نے کہا
میں رسول اللہﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا تو مسواک کا ایک کنارا آپ کی زبان پر تھا ۔
Huddaifa رضی اللہ عنہ reported:
Whenever the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) got up for Tahajjud prayer, he cleansed his mouth with the tooth-stick.
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا,ہشیم نے حصین سے ، انہوں نے ابو وائل سے ، انہوں نے حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا
جب رسول اللہ ﷺ رات کو تہجد کے لیے کھڑے ہوتے تو اپنا دہن مبارک مسواک سے اچھی طرح صاف فرماتے ۔