A'isha reported:
Whenever the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) intended to sleep after having sexual intercourse, he performed ablution as for the prayer before going to sleep.
ہم سے یحییٰ بن یحییٰ التمیمی اور محمد بن روم نے بیان کیا، انہوں نے کہا: لیث، ح، ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے لیث نے بیان کیا,ابوسلمہ بن عبد الرحمن نے حضرت عائشہ ؓ سےروایت کی کہ
رسول اللہﷺ جب جنابت کی حالت میں سونا چاہتے توسونے سے پہلے نماز کے وضو کی طرح وضو کر لیتے تھے ۔
A'isha reported:
Whenever the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) had sexual intercourse and intended to eat or sleep, he performed the ablution of prayer.
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا,ابن علیہ ، وکیع اور عندر نے شعبہ سے ، انہوں نے حکم سے ، انہوں نے ابراہیم سے ، انہوں نے اسود سے اور انہوں نے حضرت عائشہ ؓ سےروایت کی انہوں نے کہا کہ
رسول اللہ ﷺ جب حالت جنابت میں ہوتے او رکھانا یا سونا چاہتے تو نماز کے وضو کی طرح وضو کر لیتے تھے ۔
This hadith has been transmitted by Shu'ba with the same chain of transmitters. Ibn at-Muthanna said in his narration: AI-Hakam narrated to us who heard from Ibrahim narrating that.
محمد بن مثنیٰ اور ابن بشار دونوں نے کہا : ہمیں محمد بن جعفر نے حدیث سنائی ، اسی طرح عبیداللہ بن معاذ نے حدیث سنائی ، کہا : مجھے میرے والد نے حدیث سنائی ۔ ان دونوں نے کہا : ہمیں شعبہ نے حدیث سنائی ۔ ابن مثنیٰ کی حدیث میں ہے ، حکم نے کہا : میں نے ابراہیم کو حدیث بیان کرتے ہوئے سنا ۔ ( آگے وہی حدیث ہے جو اوپر بیان ہو ئی ۔ )
Ibn 'Umar reported:
Umar رضی اللہ عنہ said: Is one amongst us permitted to sleep in a state of impurity (i. e. after having sexual intercourse)? He (the Holy Prophet) said: Yes, after performing ablution.
مجھ سے محمد بن ابی بکر المقدمی اور زہیر بن حرب نے بیان کیا، کہا: ہم سے یحییٰ نے بیان کیا جو ابن سعید ہیں,عبید اللہ نے نافع سے ، انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سےر وایت کی کہ
حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے پوچھا : اے اللہ کے رسول ! ہم میں سے کوئی جنابت کی حالت میں ہو تو کیا وہ ( اسی طرح ) سو سکتا ؟ آپ نے فرمایا : ’’ہاں ، جب وضو کر لے ۔ ‘ ‘
Ibn 'Umar رضی اللہ عنہ said:
'Umar رضی اللہ عنہ asked the verdict of the Shari'ah from the Apostle ( صلی اللہ علیہ وسلم ) thus: Is it permissible for any one of us to sleep in a state of impurity? He (the Prophet said: Yes, he must perform ablution and then sleep and take a bath when he desires.
ہم سے محمد بن رافع نے بیان کیا، ہم سے عبدالرزاق نے بیان کیا،ابن جریج سے روایت ہے ( کہا : ) مجھے نافع نے ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہوئے خبر دی کہ
حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ ﷺ سے فتویٰ دریافت کیا اور کہا : کیا ہم میں سے کوئی شخص جنابت کی حالت میں سو سکتا ہے ؟ آپ نے فرمایا : ’’ہاں ، وضو کر لے پھر ( اس وقت تک کے لیے ) سو جائے جب وہ غسل کرنا چاہے ۔ ‘ ‘
Ibn Umar رضی اللہ عنہ reported:
Umar bin al-Khattab رضی اللہ عنہ said to the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ), that he became Junbi during the night. The Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) said to him: Perform ablution, wash your sexual organ and then go to sleep.
مجھ سے یحییٰ بن یحییٰ نے بیان کیا، انہوں نے کہا: میں نے مالک رضی اللہ عنہ کو پڑھا,عبداللہ بن دینار سے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ
عمر رضی اللہ عنہ نے رسو ل اللہ ﷺ کے سامنے ذکر کیا کہ رات کے وقت وہ جنابت سے دو چار ہو جاتے ہیں ۔ تو رسول اللہ ﷺنے ان سے کہا : ’’وضو کر اور ( اس سے پہلے ) اپناعضو مخصوص دھولو ، پھر سو جاؤ ۔ ‘ ‘
Abdullah bin Abu'l-Qais reported:
I asked 'A'isha about the Witr (prayer) of the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) and made mention of a hadith, then I said: What did he do after having sexual intercourse? Did he take a bath before going to sleep or did he sleep before taking a bath? She said: He did all these. Some- times he took a bath and then slept, and sometimes he performed ablution only and went to sleep. I (the narrator) said: Praise be to Allah Who has made things easy (for human beings).
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا,لیث نے معاویہ بن صالح سے ، انہوں نے عبد اللہ بن ابی قیس سے روایت کی ، انہوں نے کہا
میں نے حضرت عائشہ ؓ سے رسول اللہ ﷺ کے وتر کے بارے میں سوال کیا ..... پھر آگے حدیث بیان کی کہ میں نے پوچھا : آپ ﷺ جنابت کی صورت میں کیا کرتے تھے؟ کیا سونے سے پہلے غسل فرماتے تھے یا غسل سے پہلے سوجاتے تھے ؟ انہوں نے جواب دیا : آپ یہ سب کر لیتے تھے ، بسااوقات نہا کرسوتےاور بسا اوقات وضو کر کے سو جاتے ۔ میں نے کہا : اللہ تعالیٰ کا شکر ہے جس نے ( دین کے ) معاملے میں وسعت رکھی ہے ۔
This hadith has been transmitted with the same chain of transmitters from Mu'awyia bin Salih by Zuhair bin Harb, 'Abd al-Rahman bin Mahdi, Harun bin Sa'id al-'Aili and Ibn Wahb.
مجھ سے زہیر بن حرب نے کہا,عبدالرحمن بن مہدی اور ابن وہب دونوں نے معاویہ بن صالح سے سابقہ سند کے ساتھ یہی روایت بیان کی.
Abu Sa'id al-Khudri رضی اللہ عنہ reported:
The Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) said: When anyone amongst you has sexual intercourse with his wife and then he intends to repeat it, he should perform ablution. In the hadith transmitted by Abu Bakr. (the words are): Between the two (acts) there should be an ablution, or he (the narrator) said: Then he intended that it should be repeated.
ابو بکر بن ابی شیبہ نے کہا : ہمیں حفص بن غیاث نے حدیث سنائی ، نیز ابو کریب نے کہا : ہمیں ابن ابی زائدہ نے خبر دی ، نیز عمرو ناقد اور ابن نمیر نے کہا : ہمیں مروان بن معاویہ فزاری نے حدیث سنائی ، ان سب ( حفص ، ابن ابی زائدہ اور مروان ) نے عاصم سے ، انہوں نے ابومتوکل سے اور انہو ں نے حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’جب تم میں سے کسی نے اپنی بیوی سے مباشرت کر لی ، پھر سے کرنا چاہے تو وہ وضو کر لے ۔ ‘ ‘ ( حفص بن غیاث سے روایت کرنے والے ) ابو بکر نے اپنی حدیث میں یہ اضافہ کیا : دونوں بار کے درمیان وضو کر لے ، نیز أن يعود ( پھر سے ) کے بجائےأن يعاود ( دوبارہ ) کے الفاظ استعمال کیے ۔
Anas رضی اللہ عنہ reported:
The Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) used to have sexual intercourse with his wives with a single bath.
ہم سے حسن بن احمد بن ابی شعیب الحرانی نے بیان کیا، ان سے مسکین نے، یعنی ابن بکیر الشوعی نے، ہم سے شعبہ کی سند سے، انہوں نے ہشام بن زید کی سند سے بیان کیا,حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
نبی اکرمﷺ ایک ہی غسل سے اپنی ( ایک سے زیادہ ) بیویوں کے پاس جاتے تھے ۔
Anas bin Malik رضی اللہ عنہ reported:
Umm Sulaim رضی اللہ عنہ who was the grandmother of Ishaq came to the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) in the presence of 'A'isha and said to him: Messenger of Allah, in case or woman sees what a man sees in dream and she experiences in dream what a man experiences (i. e. experiences orgasm)? Upon this 'A'isha remarked: O Umm Sulaim, you brought humiliation to women;may your right hand be covered with dust. He (the Holy Prophet) said to 'A'isha: Let your hand be covered with dust, and (addressing Umm Sulaim) said: Well, O Umm Sulaim, she should take a bath if she sees that (i. e. she experiences orgasm in dream).
ہم سے زہیر بن حرب نے بیان کیا، کہا ہم سے عمر بن یونس حنفی نے بیان کیا، کہا ہم سے عکرمہ بن عمار نے بیان کیا، انہوں نے کہا,اسحاق بن ابی طلحہ نےکہاکہ مجھے حضرت انس رضی اللہ عنہ نے یہ حدیث سنائی کہ
ام سلیم رضی اللہ عنہ جو ( حضرت انس رضی اللہ عنہ کی والدہ اور ) اسحاق کی دادی تھیں ، رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور آپ سے کہنے لگیں جبکہ حضرت عائشہ ؓ بھی آپ کے پاس موجود تھیں ، اے اللہ کے رسول ! عورت بھی نیند کے عالم میں اسی طرح خواب دیکھتی ہے جس طرح مرد دیکھتا ہے ، وہ اپنے آپ سے وہی چیز ( نکلتی ہوئی ) دیکھتی ہے جو مرد اپنے حوالے سے دیکھتا ہے ( تو وہ کیا کرے ؟ ) حضرت عائشہ ؓ کہنے لگیں : ام سلیم ! تو نے عورتوں کو رسوا کر دیا ، تیرا دایاں ہاتھ خاک آلود ہو ( ان کا یہ کہا کہ تیرادایاں ہاتھ خاک آلود ہو ، بری نہیں بلکہ اچھی بات تھی ) تو آپﷺ نے عائشہ ؓ سےفرمایا : ’’بلکہ تمہارا دایاں ہاتھ خاک آلود ہو ۔ ہاں ام سلیم!جب وہ یہ دیکھے تو غسل کرے ۔ ‘ ‘
Anas bin Malik رضی اللہ عنہ reported that Umm Sulaim narrated it:
She asked the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) about a woman who sees in a dream what a man sees (sexual dream). The Messenger of Allah (may peace be upon bi m) said: In case a woman sees that, she must take a bath. Umm Sulaim said: I was bashful on account of that and said: Does it happen? Upon this the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) said: Yes (it does happen), otherwise how can (a child) resemble her? Man's discharge (i. e. sperm) is thick and white and the discharge of woman is thin and yellow; so the resemblance comes from the one whose genes prevail or dominate.
ہم سے عباس بن ولید نے بیان کیا، کہا ہم سے یزید بن زرعی نے بیان کیا، کہا ہم سے سعید نے بیان کیا,قتادہ سےروایت ہے کہ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے انہیں حدیث سنائی کہ ام سلیم ؓ نے ( انہیں ) بتایا کہ
انہوں نے نبی اکرمﷺ سے ایسی عورت کے بارے میں پوچھا جونیند میں وہی چیز دیکھتی ہے جو مرد دیکھتا ہے تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’جب عورت یہ چیز دیکھے تو غسل کرے ۔ ‘ ‘ ام المومنین حضرت ام سلمہ ؓ نے فرمایا : میں اس بات پر شرما گئی ۔ ( پھر ) آپ بولیں : کیا ایسا بھی ہوتا ہے ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ’’ہاں ، ( ورنہ ) پھر مشابہت کیسے پیدا ہوتی ہے ؟مرد کا پانی گاڑھا سفید ہوتا ہے اور عورت کا پانی پتلا اور زرد ہوتا ہے ، ان دونوں میں سے جس ( کے حصے ) کو غلبہ مل جائے یا ( نئی تشکیل میں ) سبقت لے جائے تو اسی سے ( بچے کی ) مشابہت ہوتی ہے ۔ ‘ ‘
Anas bin Malik reported:
A woman asked the Messenger of Allah (ﷺ ) about a woman who sees in her dream what a man sees in his dream (sexual dream). He (the Holy Prophet) said: If she experiences what a man experiences, she should take a bath.
ہم سے داؤد بن راشد نے بیان کیا، کہا ہم سے صالح بن عمر نے بیان کیا،ابو مالک اشجعی نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا
ایک عورت نے رسول اللہ ﷺ سے اس عورت کےبارے میں پوچھا جو نیند میں وہی چیز دیکھتی ہے جو مرد اپنی نیند میں دیکھتا ہے تو آپ نے فرمایا : ’’ جب اس کو وہ صورت پیش آئے جو مرد کو پیش آتی ہے تو وہ غسل کرے ۔ ‘ ‘
Umm Salama reported:
Umm Sulaim went to the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) and said: Apostle of Allah, Allah is not ashamed of the truth. Is bathing necessary for a woman when she has a sexual dream? Upon this the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) said: Yes, when she sees the liquid (vaginal secretion). Umm Salama said: Messenger of Allah, does a woman have sexual dream? He (the Holy Prophet) said: Let your hand be covered with dust, in what way does her child resemble her?
ہم سے یحییٰ بن یحییٰ التمیمی نے بیان کیا،ابو معاویہ نے ہشام بن عروہ سے ، انہوں نے اپنےوالد سے ، انہوں نے زینب بنت ابی سلمہ سے اور انہوں نے ( اپنی والدہ ) حضرت ام سلمہ ؓسے روایت کی کہ
ام سلیم ؓ نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور عرض کی : اے اللہ کے رسول ! اللہ تعالیٰ حق سے حیا محسوس نہیں کرتا تو کیا عورت کو احتلام ہو جائے تو اس پر غسل ہے ؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’ ہاں ، جب ( منی کا ) پانی دیکھے ۔ ‘ ‘ ام سلمہؓ نے پوچھا : اے اللہ کے رسول! عورت کو بھی احتلام ہوتا ہے ؟آپ نے فرمایا : ’’تیرے دونوں ہاتھ خاک آلود ہوں ، اس کا بچہ اس کے مشابہ کیسے ہو جاتا ہے ! ‘ ‘ ( یعنی نطفے کی تشکیل میں دونوں کے مادے کا حصہ ہوتا ۔ )
This hadith with the same sense (as narrated above) bus been transmitted from Hisham bin 'Urwa with the same chain of narrators but with this addition that she (Umm Salama) said: You humiliated the women.
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ اور زہیر بن حرب نے بیان کیا، انہوں نے کہا: وکیع، ح، ہم سے ابن ابی عمر نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا,ہشام کے دو شاگردوں وکیع اور سفیان نے باقی ماندہ سابقہ سند کے ساتھ اسی ( سابقہ حدیث ) کے ہم معنی حدیث بیان کی لیکن انہوں نے یہ اضافہ کیا ہے : ام سلمہ ؓ نے بتایا کہ میں نے کہا : تو نے عورتوں کو رسوا کر دیا ۔ ( حضرت عائشہ اور حضرت ام سلمہ ؓ دونوں موجود تھیں ، تعجب کی بنا پر دونوں کے منہ سے یہی بات نکلی ۔ )
A'isha the wife of the Apostle ( صلی اللہ علیہ وسلم ) narrated:
Umm Sulaim, the mother of Bani Abu Talha, came to the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ), and a hadith (like that) narrated by Hisham was narrated but for these words. A'isha said: I expressed disapproval to her, saying: Does a woman see a sexual dream?
ہم سے عبد الملک بن شعیب بن لیث نے بیان کیا، مجھ سے میرے والد نے بیان کیا، مجھ سے میرے دادا عقیل بن خالد نے بیان کیا,ابن شہاب نے کہا ,مجھے عروہ بن زبیر نے خبر دی کہ حضرت عائشہ ؓ نے انہیں بتایا کہ
ام سلیم ؓ جو ابو طلحہ کےبیٹوں کی ماں ہیں ، رسول اللہ ﷺ کے پاس آئیں .... آگے ہشام کی حدیث کے ہم معنی بیان کیا ۔ البتہ اس میں یہ ہے کہ انہوں ( عروہ ) نے کہا : حضرت عائشہ ؓ نے کہا : میں نے اس سے کہا : تجھ پر افسوس ! کیا عورت کو بھی ایسا نظر آتا ہے ؟
It is reported on the authority of 'A'isha:
A woman came to the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) and inquired: Should a woman wash herself when she sees a sexual dream and sees (the marks) of liquid? He (the Holy Prophet) said: Yes. 'A'isha said to her: May your hand be covered with dust and injured. She narrated: The Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) said: Leave her alone. In what way does the child resemble her but for the fact that when the genes contributed by woman prevail upon those of man, the child resembles the maternal family, and when the genes of man prevail upon those of woman the child resembles the paternal family.
ہم سے ابراہیم بن موسیٰ رازی، سہل بن عثمان اور ابو کریب نے بیان کیا - اور یہ قول ابو کریب سے ہے، انہوں نے کہا: ہم سے انہوں نے بیان کیا، اور باقی دو نے کہا - انہوں نے ہم سے ابن ابی زیدہ رضی اللہ عنہ سے بیان کیا۔ والد، مصعب بن شیبہ کی طرف سے،مسافع بن عبد اللہ نے عروہ بن زبیر سے ، انہوں نے حضرت عائشہ ؓ سے روایت کی کہ
ایک عورت نے رسول اللہ ﷺ سے عرض کی : کیا جب عورت کواحتلام ہو جائے اور وہ پانی دیکھے توغسل کرے ؟ آپ نے فرمایا : ’’ہاں ۔ ‘ ‘ عائشہ ؓ نے اس عورت سےکہا : تیرے ہاتھ خاک آلود اور زخمی ہوں ۔ انہوں ( عائشہ ؓ ) نے کہا : تو رسول اللہ ﷺ نےفرمایا : ’’اسے کچھ نہ کہو ، کیا ( بچے کی ) مشابہت اس کے علاوہ کسی اور وجہ سے ہوتی ہے ! جب ( نطفے کی تشکیل کے مرحلے میں ) اس کا پانی مرد کے پانی پر غالب آ جاتا ہے تو بچہ اپنے ماموؤں کے مشابہ ہوتا ہے اور جب مرد کاپانی عورت کے پانی پر غالب آتا ہے تو بچہ اپنے چچاؤں کےمشابہ ہوتا ہے ۔ ‘ ‘
Thauban رضی اللہ عنہ , the freed slave of the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ), said:
While I was standing beside the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) one of the rabbis of the Jews came and said: Peace be upon you, O Muhammad. I pushed him backwith a push that he was going to fall. Upon this he said: Why do you push me? I said: Why don't you say: O Messenger of Allah? The Jew said: We call him by the name by which he was named by his family. The Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) said: My name is Muhammad with which I was named by my family. The Jew said: I have come to ask you (something). The Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) said: Should that thing be of any benefit to you, if I tell you that? He (the Jew) said: I will lend my ears to it. The Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) drew a line with the help of the stick that he had with him and then said: Ask (whatever you like). Thereupon the Jew said: Where would the human beings be on the Daywhen the earth would change into another earth and the heavens too (would change into other heavens)? The Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) said: They would be in darkness beside the Bridge. He (the Jew) again said: Who amongst people would be the first to cross (this bridge).? He said: They would be the poor amongst the refugees. The Jew said: What would constitute their breakfast when they would enter Paradise? He (the Holy Prophet) replied: A caul of the fish-liver. He (the Jew) said. What would be their food alter this? He (the Holy Prophet) said: A bullockwhich was fed in the different quarters of Paradise would be slaughtered for them. He (the Jew) said: What would be their drink? He (the Holy Prophet) said: They would be given drink from the fountain which is named Salsabil . He (the Jew) said: I have come to ask you about a thing which no one amongst the people on the earth knows except an apostle or one or two men besides him. He (the Holy Prophet) said: Would it benefit you if I tell you that? He (the Jew) said: I would lend ears to that. He then said: I have come to ask you about the child. He (the Holy Prophet) said: The reproductive substance of man is white and that of woman (i. e. ovum central portion) yellow, and when they have sexual intercourse and the male's substance (chromosomes and genes) prevails upon the female's substance (chromosomes and genes), it is the male child that is created by Allah's Decree, and when the substance of the female prevails upon the substance contributed by the male, a female child is formed by the Decree of Allah. The Jew said: What you have said is true; verily you are an Apostle. He then returned and went away. The Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) said: He asked me about such and such things of which I have had no knowledge till Allah gave me that.
الحسن بن علی الحلوانی نے مجھ سے کہا,ابو توبہ نے ، جو ربیع بن نافع ہیں ، ہم سے حدیث بیان کی ، کہا : معاویہ بن سلام نے ہمیں اپنےبھائی زید سے حدیث سنائی ، کہا : انہوں نے ابوسلام سے سنا ، کہا : مجھ سے ابو اسماء رحبی نے بیان کیا کہ نبی اکرمﷺ کے آزادکردہ غلام ثوبان رضی اللہ عنہ نے انہیں یہ حدیث سنائی ، کہا
میں رسول ا للہ ﷺ کے پاس کھڑا تھا ایک یہودی عالم ( حبر ) آپ کے پاس آیا اورکہا : اے محمد! آپ پر سلام ہو ، میں نے اس کو اتنے زور سے دھکا دیا کہ وہ گرتے گرتے بچا ۔ اس نے کہا : مجھے دھکا کیوں دیتے ہو؟ میں نے کہا : تم یا رسول اللہ ! نہیں کہہ سکتے ؟ یہودی نے کہا : ہم تو آپ کو اسی نام سے پکارتے ہیں جو آپ کے گھر والوں نے آپ کا رکھا ہے تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’یقیناً میرا نام محمد ( ﷺ ) ہے جو میرے گھر والوں نے رکھا ہے ۔ ‘ ‘ یہودی بولا : میں آپ سے پوچھنے آیا ہوں ۔ رسول اللہ ﷺ نے اسے فرمایا : ’’اگر میں تمہیں کچھ بتاؤں گا تو کیا تمہیں اس سے فائدہ ہو گا؟ ‘ ‘ اس نے کہا : میں اپنے دونوں کانو ں سے توجہ سے سنوں گا ۔ تورسول اللہ ﷺ نے ایک چھڑی ، جو آپ کے پاس تھی ، زمین پر آہستہ آہستہ ماری اور فرمایا : ’’پوچھو ۔ ‘ ‘ یہودی نے کہا : جس دن زمین دوسری زمین سے بدلے گی اور آسمان ( بھی ) بدلے جائیں گے تو لوگ کہاں ہوں گے؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’ وہ پل ( صراط ) سے ( ذرا ) پہلے اندھیرے میں ہوں گے؟ آپ نے فرمایا : ’’فقرائے مہاجرین ۔ ‘ ‘ یہودی نے پوچھا : جب وہ جنت میں داخل ہوں گے تو ان کو کیا پیش کیا جائےگا؟ تو آپ نے فرمایا : ’’مچھلی کےجگر کا زائد حصہ ۔ ‘ ‘ اس نے کہا : اس کے بعد ان کا کھانا کیا ہوگا؟ آپ نے فرمایا : ’’ان کے لیے جنت میں بیل ذبح کیا جائے گا جو اس کے اطراف میں چرتا پھرتا ہے ۔ ‘ ‘ اس نے کہا : اس ( کھانے ) پر ان مشروب کیا ہو گا؟آپ نے فرمایا : ’’اس ( جنت ) کے سلسبیل نامی چشمے سے ۔ ‘ ‘ اس نے کہا : آپ نے سچ کہا ، پھر کہا : میں آپ سے ایک چیز کے بارے میں پوچھنے آیا ہوں جسے اہل زمین سے محض ایک بنی جانتا ہے یاایک دو اور انسان ۔ آپ نےفرمایا : ’’اگر میں تمہیں بتا دیا تو کیا تمہیں اس سے فائدہ ہوگا؟ ‘ ‘ اس نے کہا : میں کان لگا کر سنوں گا ۔ اس نے کہا : میں آپ سے اولاد کے بارے میں پوچھنے آیا ہوں ۔ آپ نےفرمایا : ’’ مرد کا پانی سفید ہوتا ہے اور عورت کا پانی زرد ، جب دونوں ملتے ہیں اور مرد کا مادہ منویہ عورت کی منی سے غالب آ جاتا ہے تو اللہ کے حکم سے دونوں کے ہاں بیٹا پیدا ہوتا ہے اور جب عورت کی منی مرد کی منی پر غالب آ جاتی ہے تو اللہ عزوجل کے حکم سے دونوں کےہاں بیٹی پیدا ہوتی ۔ ‘ ‘ یہودی نے کہا : آپ نے واقعی صحیح فرمایا اور آپ یقیناً نبی ہیں ، پھر وہ پلٹ کر چلا گیا ۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’اس نے مجھ سے جس چیز کے بارے میں سوال کیا اس وقت تک مجھے اس میں سے کسی چیز کا کچھ علم نہ تھاحتی کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے اس کا علم عطا کر دیا ۔ ‘ ‘
This tradition has been narrated by Mu'awyia bin Salim with the same chain of transmitters except for the words: I was sitting beside the Messenger of Allah and some other minor alterations.
مجھ سے عبداللہ بن عبدالرحمٰن دارمی نے بیان کیا، ہم سے معاویہ بن سلام نے روایت کی، سوائے نح کے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کبد النون کا ضمیمہ، اور فرمایا: مرد اور عورت، اور آپ نے نر اور مادہ نہیں کہا۔
A'isha reported:
When Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) bathed because of sexual intercourse, he first washed his hands: he then poured water with his right hand on his left hand and washed his private parts. He then performed ablution as is done for prayer'. He then took some water and put his fingers and moved them through the roots of his hair. And when he found that these had been properly mois- tened, then poured three handfuls on his head and then poured water over his body and subsequently washed his feet.
ہم سے یحییٰ بن یحییٰ التمیمی نے بیان کیا،ابو معاویہ نے ہشام بن عروہ سے ، انہوں نے اپنے والد سے اور انہوں نے حضرت عائشہ ؓ سے ر وایت کی کہ
جب رسول اللہ ﷺ غسل جنابت فرماتے تو پہلے اپنے ہاتھ دھوتے ، پھر دائیں ہاتھ سے بائیں ہاتھ پر پانی ڈال کر اپنی شرم گاہ دھوتے ، پھر نماز کے وضو کی مانند وضو فرماتے ، پھر پانی لے کر انگلیوں کو بالوں کی جڑوں میں داخل کرتے ، جب آپ سمجھتے کہ آپ نے اچھی طرح جڑوں میں پانی پہنچا دیا ہے ۔ تواپنے سر پر دونوں ہاتھوں سے تین چلو ڈالتے ۔ پھر سارے جسم پر پانی ڈالتے ( اور جسم دھوتے ) پھر ( آخر میں ) اپنے دونوں پاؤں دھو لیتے ۔