A similar report was narrated with the chain 'Uqayl, from Az-Zuhri.
مجھ سے احمد بن عیسیٰ نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے ابن وہب نے بیان کیا، مجھ سے عمرو نے بیان کیا، مجھ سے زہیر بن حرب نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے یحییٰ بن سعید نے بیان کیا، وہ الاوزاعی ح، ح کی روایت سے، اور مجھ سے حرملہ بن یحییٰ نے بیان کیا، ان سے ابن وہب نے بیان کیا۔ ہم سے یونس نے بیان کیا، مجھ سے یہ سب ابن شہاب کی سند سے، عقیل کی سند کے ساتھ، زہری کی سند سے اسی طرح بیان کیا۔
Ibn Abbas رضی اللہ عنہ reported:
The Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) dressed himself, and then went out for prayer, when he was presented with bread and meat. He took three morsels out of that, and then offered prayer along with other people and did not touch water.
مجھ سے علی بن حجر نے بیان کیا، ہم سے اسماعیل بن جعفر نے بیان کیا,محمد بن عمرو بن حلحلہ نے محمد بن عمرو بن عطاء سے ، انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ
رسول اللہﷺ نے اپنے کپڑے زیب تن فرمائے ، پھر نماز کے لیے نکلے تو آپ کو روٹی اور گوشت کا تحفہ پیش کیا گیا ، آپ نے تین لقمے تناول فرمائے ، پھر لوگوں کو نماز پڑھائی اور پانی کو نہیں چھوا ۔
This hadith is narrated by Muhammad bin 'Amr bin Ata' with these words:
I was with Ibn 'Abbas رضی اللہ عنہ , and Ibn 'Abbas رضی اللہ عنہ saw the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) doing like this, and it is also said that the words are: He (the Holy Prophet) offered prayer; and the word people is not mentioned.
ہم سے ابو کریب نے بیان کیا، ہم سے ابو اسامہ نے بیان کیا۔امام مسلم نے ایک دوسری سند سے ولید بن کثیر کے واسطے سے محمد بن عمرو بن عطاء سے روایت کی ، کہا
میں ابن عباس رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھا .... اس کے بعد انہوں نے ابن حلحلہ کی روایت کے ہم معنیٰ حدیث بیان کی ہے اور اس میں یہ اضافہ ہے کہ ابن عباس ؓ موجود تھے اور یہ کہ انہوں نے ( ابن عباس ) نے صلى بالناس ( آپﷺ نے لوگوں کو نماز پڑھائی ) کے بجائے صلى ( آپﷺ نے نماز پڑھی ) کہا ۔
Jabir bin Samura reported:
A man asked the Messenger of Allah (may peace he upon him) whether he should perform ablution after (eating) mutton. He (the Messenger of Allah) said: Perform ablution it you so desire, and if you do not wish, do not perform it. He (again) asked: Should I perform ablution (after eating) camel's flesh? He said: Yes, perform ablution (after eating) camel's flesh. He (again) said: May I say prayer in the sheepfolds? He (the Messenger of Allah) said: Yes. He (the narrator) again said: May I say prayer where camels lie down? He (the Holy Prophet) said: No.
ابو کامل فضیل بن حسین جحدری نے کہا : ہمیں ابو عوانہ نے عثمان بن عبد اللہ بن موہب سے حدیث سنائی ، انہوں نے جعفر بن ابی ثور سے اور انہوں نے حضرت جابر بن سمرہ سے روایت کی کہ
ایک آدمی نے رسول اللہﷺ سے پوچھا : کیا میں بکری کے گوشت سے وضو کروں؟ آپ نے فرمایا : چاہو تو وضو کر لو اور چاہو تو نہ کرو ۔ ‘ ‘ اس نے کہا : اونٹ کے گوشت سے وضو کروں؟ آپ نے فرمایا : ہاں ، اونٹ کے گوشت سے وضو کرو ۔ ‘ ‘ اس نے کہا : کیا بکریوں کے باڑے میں نماز پڑھ لوں؟ آپ نے فرمایا : ’’ہاں ۔ ‘ ‘ اس نے کہا : اونٹوں کے بٹھانے ک جگہ میں نماز پڑھ لوں؟ آپ نے فرمایا : ’’نہیں ۔ ‘ ‘
A Hadith similar to that of Abu Kamil from Abu Awanah was narrated from Jabir bin Samurah رضی اللہ عنہ from the Prophet (ﷺ).
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے معاویہ بن عمرو نے بیان کیا، ہم سے زیدہ نے بیان کیا,سماک ، عثمان بن عبد اللہ بن موہب اور اشعث بن ابی شعثاء سب نے جعفر بن ابی ثور سے ، انہوں نے جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے اسی طرح حدیث بیان کی جس طرح ابو عوانہ سے ابو کامل نے روایت کی ۔
Abbad bin Tamim reported from his uncle:
A person made a complaint to the Apostle ( صلی اللہ علیہ وسلم ) that he entertained (doubt) as it something had happened to him breaking his ablution. He (the Holy Prophet) said: He should not return (from prayer) unless he hears a sound or perceives a smell (of passing wind). Abu Bakr and Zuhair bin Harb have pointed out in their narrations that it was 'Abdullah bin Zaid رضی اللہ عنہ .
عمرو ناقد ، زہیر بن حرب اور ابو بکر بن ابی شیبہ نے سفیان بن عیینہ سے ، انہوں نے زہری سے ، انہوں نے سعید ( بن مسیب ) اور عباد بن تمیم سے اور انہوں نے ان ( عباد ) کے چچا سے روایت کی کہ
نبیﷺ سے ایک آدمی کے حوالے سے شکایت کی گئی کہ اسے یہ خیال آتا رہتا ہے کہ وہ نماز کے دوران میں کوئی چیز محسوس کرتا ہے ۔ آپ نے فرمایا : ’’ ( وہ نماز سے ) نہ ہٹے یہاں تک کہ کوئی آواز سنے یا کوئی بو محسوس کرے ۔ ‘ ‘ ابو بکر اور زہیر بن حرب نے اپنی روایت میں ( عباد بن تمیم کے چچا کے بارے میں ) بتایا کہ وہ عبد اللہ بن زید رضی اللہ عنہ ہیں ۔
Abu Huraira رضی اللہ عنہ reported:
The Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) said: If any one of you has pain in his abdomen, but is doubtful whether or not anything has issued from him, be should not leave the mosque unless he hears a sound or perceives a smell.
مجھ سے زہیر بن حرب نے بیان کیا، ہم سے جریر نے سہیل سے اور اپنے والد سے,حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، کہا
رسول اللہﷺ نے فرمایا : ’’جب تم میں سے کسی کو اپنے پیٹ میں کچھ محسوس ہو اور اسے شبہ ہو جائے کہ اس میں سے کچھ نکلا ہے یا نہیں تو ہر گز مسجد سے نہ نکلے یہاں تک کہ آواز سنے یا بو محسوس کر لے ۔ ‘ ‘
It was narrated that Ibn Abbas said:
The freed slave-girl of Maimuna was given a goat in charity but it died. The Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) happened to pass by that (carcass). Upon this be said: Why did you not take off its skin? You could put it to use, after tanning it. They (the Companions) said: It was dead. Upon, this he (the Messenger of Allah) said: Only its eating is prohibited. Abu bakr and Ibn Umar in their narrations said: It is narrated from Maimuna ( رضی اللہ عنہا).
یحییٰ بن یحییٰ ، ابوبکر بن ابی شیبہ ، عمرو ناقد او رابن ابی عمر سب نے سفیان بن عیینہ سے ، انہوں نے زہری سے ، انہوں عبید اللہ بن عبد اللہ سے ، انہوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا
سیدہ میمونہ ؓ کی آزاد کردہ لونڈی کو صدقے میں بکری دی گئی ، وہ مر گئی ، رسول اللہﷺ اس کے پاس سے گزرے تو آپ نے فرمایا : ’’تم نے اس چمڑا کیوں نہ اتارا ، اس کو رنگ لیتے اور اس سے فائدہ اٹھا لیتے! ‘ ‘ لوگوں نے بتایا : یہ مردار ہے ۔ آپ نے فرمایا : بس اس کا کھانا حرام ہے ۔ ‘ ‘ ابو بکر اور ابن ابی عمر نے اپنی روایت میں عن ابن عباس ، انہو ں میمونہ رضی اللہ عنہا کہا ( سند میں روایت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے آگے میمونہؓ کی طرف منسوب کی ۔ )
Ibn 'Abbas رضی اللہ عنہ said:
The Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) saw a dead goat, which had been given in charity to the freed slave-girl of Maimuna. The Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) said: Why don't you make use of its skin? They (the Companions around the Holy Prophet) said: It is dead. Upon this he said: It is the eating (of the dead animal) which is prohibited.
یحییٰ بن یحییٰ ، ابوبکر بن ابی شیبہ ، عمرو ناقد او رابن ابی عمر سب نے سفیان بن عیینہ سے ، انہوں نے زہری سے ، انہوں عبید اللہ بن عبد اللہ سے ، انہوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا
سیدہ میمونہ ؓ کی آزاد کردہ لونڈی کو صدقے میں بکری دی گئی ، وہ مر گئی ، رسول اللہﷺ اس کے پاس سے گزرے تو آپ نے فرمایا : ’’تم نے اس چمڑا کیوں نہ اتارا ، اس کو رنگ لیتے اور اس سے فائدہ اٹھا لیتے! ‘ ‘ لوگوں نے بتایا : یہ مردار ہے ۔ آپ نے فرمایا : بس اس کا کھانا حرام ہے ۔ ‘ ‘ ابو بکر اور ابن ابی عمر نے اپنی روایت میں عن ابن عباس ، عن میمونہ کہا ( سند میں روایت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے آگے میمونہؓ کی طرف منسوب کی ۔ )
This hadith is narrated by Ibn Shihab with the same chain of transmitters as transmitted by Yunus.
ہم سے حسن الحلوانی اور عبد بن حمید نے یہ سب بیان کیا، یعقوب بن ابراہیم بن سعد کی سند سے، میرے والد نے مجھ سے صالح کی سند سے، ابن شہاب کی سند سے بیان کیا۔ یونس کی روایت پر
Ibn Abbas reported:
The Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) happened to pass by a goat thrown (away) which had been in fact given to the freed slave-girl of Maimuna as charity. Upon this the Messenger of Allah (way peace he upon him) said: Why did they not get its skin? They had better tan it and make use of it.
ہم سے ابن ابی عمر اور عبداللہ بن محمد الزہری نے بیان کیا - اور یہ لفظ ابن ابی عمر کا ہے - انہوں نے کہا,سفیان نے عمرو سے ، انہوں نے عطاء سے ، انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ
رسول اللہﷺ ایک مردہ پڑی ہوئی بکری کے پاس سے گزرے جو میمونہؓ کی باندی کو بطور صدقہ دی گئی تھی تو نبی اکرمﷺ نے فرمایا : ’’انہوں نے اس کے چمڑے کو کیوں نہ اتارا ، وہ اس کو رنگ لیتے اور فائدہ اٹھا لیتے! ‘ ‘
Ibn'Abbas رضی اللہ عنہ reported on the authority of Maimuna:
Someone amongst the wives of the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) had a domestic animal and it died. Upon this the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) said: Why did you not take off its skin and make use of that?
ہم سے احمد بن عثمان النو فلی نے بیان کیا، کہا ہم سے ابو عاصم نے بیان کیا,ابن جریج نے عمرو بن دینار سے باقی ماندہ سابقہ سند کے ساتھ ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ حضرت میمونہؓ نے انہیں بتایا کہ
ایک بکری ، جو رسول اللہﷺ کی ایک بیوی کی تھی ، مر گئی تو رسول اللہﷺ نے فرمایا : ’’تم نے اس کا چمڑا اتار کر اس سے فائدہ کیوں نہیں اٹھایا! ‘ ‘
Ibn 'Abbas رضی اللہ عنہ reported:
The Apostle of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) happened to pass by (the dead body) of the goat which belonged to the freed slave-girl of Maimuna and said: Why did you not make use of its skin?
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالرحیم بن سلیمان نے بیان کیا,عبد الملک بن ابی سلیمان نے عطاء کے حوالے سے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ
نبی اکرمﷺ سیدہ میمونہؓ کی باندی کی ( مردہ ) بکری کے پاس سے گزرے تو آپ نے فرمایا : ’’تم نے اس کے چمڑے سے فائدہ کیوں نہ اٹھایا! ‘ ‘
Abdullah bin Abbas said:
I heard the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) say: When the skin is tanned it becomes purified.
ہم سے یحییٰ بن یحییٰ نے بیان کیا,سلیمان بن بلال نے زید بن اسلم سے ، انہوں نے عبد الرحمن بن وعلہ سے ، انہوں نے حضرت عبد اللہ بن عباسؓ کے حوالے سے خبر دی ، کہا
میں نے رسول اللہﷺ سے سنا ، آپ نے فرمایا : ’’جب چمڑے کو رنگ لیا جاتا ہے تو وہ پاک ہو جاتا ہے ۔ ‘ ‘
A hadith similar to that of Yahya bin Yahya was narrated from the prophet ﷺ.
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ اور عمرو نقید نے بیان کیا، کہا,سفیان بن عیینہ ، عبد العزیز بن محمد اور سفیان ثوری نے مختلف سندوں کے ساتھ زید بن اسلم کی سابقہ سند کے ساتھ نبیﷺ سے اسی طرح روایت بیان کی ، یعنی یحییٰ بن یحییٰ کی حدیث کی طرح ۔
Abu al-Khair reported:
I saw Ibn Wa'la al-Saba'i wear a fur. I touched it. He said: Why do you touch it? I asked Ibn 'Abbas saying: We are the inhabitants of the western regions, and there (live) with us Berbers and Magians. They bring with them rams and slaughter them, but we do not eat (the meat of the animals) slaughtered by them, and they come with skins full of fat. Upon this Ibn 'Abbas said: We asked the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) about this and he said: Its tanning makes it pure.
مجھ سے اسحاق بن منصور نے بیان کیا، اور مجھ سے ابوبکر بن اسحاق نے بیان کیا، انہوں نے کہا: ہم سے ابوبکر نے بیان کیا، اور ہم سے ابن منصور نے بیان کیا, ہم سے عمرو بن ربیع نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے یحییٰ بن ایوب نے بیان کیا،یزید بن ابی حبیب نے ابو خیر سے روایت کی کہ
میں نے علی بن وعلہ سبائی کو ایک پوستین ( چمڑے کا کوٹ ) پہنے ہوئے دیکھا ، میں نے اسے چھوا تو اس نے کہا : اسے کیوں چھوتے ہو؟ میں نے عبد اللہ بن عباسؓ سے پوچھا تھا : ہم مغرب میں ہوتے ہیں اور ہمارے ساتھ بربر اور مجوسی ہوتے ہیں ، ہمارے پاس مینڈھا لایا جاتا ہے جسے انہوں نے ذبح کیا ہوتا ہے اور ہم ان کے ذبح کیے ہوئے جانور نہیں کھاتے ، وہ ہمارے پاس مشکیزہ لاتے ہیں جس میں وہ چربی ڈالتے ہیں ۔ تو ابن عباسؓ نے جواب دیا : ہم نے رسول اللہﷺ سے اس کے بارے میں پوچھا تھا ۔ آپ نے فرمایا : ’’ اس کو رنگنا اس کو پاک کر دیتا ہے ۔ ‘ ‘
Ibn Wa'la al-Saba'i reported:
I asked 'Abdullah bin 'Abbas saying: We are the inhabitants of the western regions. The Magians come to us with skins full of water and fat. He said: Drink. I said to him: Is it your own opinion? Ibn Abbas said: I heard the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) say: Tanning purifies it (the skin).
مجھ سے اسحاق بن منصور اور ابوبکر بن اسحاق نے بیان کیا، عمرو بن ربیع کی سند سے، ہم سے یحییٰ بن ایوب نے بیان کیا,جعفر بن ربیعہ نے ابو خیر سے روایت کی ، کہا : مجھ سے ابن وعلہ سبائی نے بیان کیا کہ
میں نے عبد اللہ بن عباسؓ سے پوچھا : ہم مغرب میں ہوتے ہیں تو مجوسی ہمارے پاس پانی اور چربی کے مشکیزے لاتے ہیں ۔ انہوں نے کہا : پی لیا کرو ۔ میں نے پوچھا : کیا آپ اپنی رائےبتا رہے ہیں؟ ابن عباسؓ نے جواب دیا : میں نے رسول اللہﷺ کو فرماتے ہوئے سناے : ’’ اس کو رنگنا اس کو پاک کر دیتا ہے ۔ ‘ ‘
A'isha reported:
We went with the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) on one of his journeys and when we reached the place Baida' or Dhat al-jaish, my necklace was broken (and fell somewhere). The Messenger of Allah (way peace be upon him) along with other people stayed there for searching it. There was neither any water at that place nor was there any water with them (the Companions of the Holy Prophet). Some persons came to my father Abu Bakr and said: Do you see what 'A'isha has done? She has detained the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) and persons accompanying him, and there is neither any water here or with them. So Abu Bakr came there and the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) was sleeping with his head on my thigh. He (Abu Bakr) said: You have detained the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) and other persons and there is neither water here nor with them. She ('A'isha) said: Abu Bakr رضی اللہ عنہ scolded me and uttered what Allah wanted him to utter and nudged my hips with his hand. And there was nothing to prevent me from stirring but for the fact that the messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) was lying upon my thigh. The Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) slept till it was dawn at a waterless place. So Allah revealed the verses pertaining to tayammum and they (the Prophet and his Companions) performed tayammum. Usaid bin al-Hudair رضی اللہ عنہ who was one of the leaders said: This is not the first of your blessings,0 Family to Abu Bakr رضی اللہ عنہ . 'A'isha said: We made the came) stand which was my mount and found the necklace under it.
ہم سے یحییٰ بن یحییٰ نے بیان کیا، انہوں نے کہا: میں نے مالک رضی اللہ عنہ کے پاس عبدالرحمٰن بن القاسم رضی اللہ عنہ کے والد کے واسطہ سے پڑھا,انہوں نے حضرت عائشہؓ سے روایت کی ، کہا
ہم رسول اللہﷺ کے ایک سفر میں آپ کے ساتھ نکلے ، جب ہم بیداء یا ذات الجیش کے مقام پر پہنچے تو میرا ہار ٹوٹ کر گر گیا ، رسول اللہﷺ اس کی تلاش کی خاطر ٹھہر گئے ، صحابہ کرام رضی اللہ عنہ بھی آپ کے ساتھ رک گئے ، نہ وہ پانی ( والی جگہ ) پر تھے نہ ان کے پاس پانی ( بچا ہوا ) تھا ۔ لوگ ابو بکر رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور کہا : کیا آپ کو پتہ نہیں ، عائشہؓ نے کیا کیا ہے؟ رسول اللہﷺ اور آپ کے ساتھ ( دوسرے ) لوگوں کو روک رکھا ہے ، نہ وہ پانی ( والی جگہ ) پر ہیں اور نہ لوگوں کے پاس پانی بچا ہے ۔ ابو بکر رضی اللہ عنہ تشریف لائے ( اس وقت ) رسول اللہﷺ میری ران پر سر رکھ کر سو چکے تھے اور کہا : تم نے رسول اللہﷺ کو اور آپ کے ساتھیوں کو روک رکھا ہے جبکہ نہ وہ پانی والی جگہ پر ہیں اور نہ ان کے پاس پانی ہے ۔ عائشہؓ نے فرمایا : حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے مجھے ڈانٹا اور جو کچھ اللہ کو منظور رتھا کہا اور اپنے ہاتھ سے میری کوکھ میں کچوکے لگانے لگے ، مجھے صرف اس بات نے حرکت کرنے سے روکے رکھا کہ رسو ل اللہﷺ کا سر میری ران پر تھا ، رسول اللہﷺ سوئے رہے اور پانی کے بغیر ہی صبح ہو گی ۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے تیمم کی آیت اتاری تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہ نے تیمم کیا ۔ اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ نے ، جو نقباء میں سے تھے ، کہا : اے ابو بکر رضی اللہ عنہ کے خاندان! یہ آپ کی پہلی برکت نہیں ہے ۔ حضرت عائشہؓ نے کہا : ہم نے اس اونٹ کو جس پر میں سوار تھی اٹھایا تو ہمیں اس کے نیچے سے ہار مل گیا ۔
A'isha reported:
She had borrowed from Asma' (her sister) a necklace and it was lost. The Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) sent men to search for it. As it was the time for prayer, they offered prayer without ablution (as water was not available there). When they came to the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ), they made a complaint about it, and the verses pertaining to tayammum were revealed. Upon this Usaid bin Hadair رضی اللہ عنہ said (to 'A'isha): May Allah grant you a good reward! Never has been there an occasion when you were beset with difficulty and Allah did not make you come out of that and made it an occasion of blessing for the Muslims.
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے ابو اسامہ ایچ نے بیان کیا، کہا ہم سے ابو کریب نے بیان کیا، کہا ہم سے ابو اسامہ اور ابن بشر نے بیان کیا,ہشام کے والد عروہ بن زبیر نے حضرت عائشہؓ سے روایت کی کہ
انہوں نے حضرت اسماء ؓ سے عاریتاً ہار لیا ، وہ گم ہو گیا تو رسول اللہﷺ نے اپنے کچھ ساتھیوں کو اس کی تلاش کے لیے بھیجا ۔ ان کی نماز کا وقت آ گیا تو انہوں نے بغیر وضو کے نماز پڑھ لی اور جب نبی اکرمﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ سے اس بات کی شکایت کی ، ( اس پر ) تیمم کی آیت اتری تو اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ نے ( حضرت عائشہؓ سے ) کہا : اللہ آپ کو بہترین جزا دے ، اللہ کی قسم! آپ کو کبھی کوئی مشکل معاملہ پیش نہیں آیا مگر اللہ تعالیٰ نے آپ کے لیے اس سے نکلنے کی سبیل پیدا کر دی اور اسی میں مسلمانوں کے لیے برکت رکھ کر دی ۔
Shaqiq reported:
I was sitting in the company of Abdullah and Abu Musa when Abu Musa said: O 'Abd al-Rahman (kunya of 'Abdullah bin Mas'ud رضی اللہ عنہ), what would you like a man to do about the prayer if he experiences a seminal emission or has sexual intercourse but does not find water for a month? 'Abdullah رضی اللہ عنہ said: He should not perform tayammum even if he does not find water for a month. 'Abdullah رضی اللہ عنہ said: Then what about the verse in Sura Ma'ida: If you do not find water, betake yourself to clean dust ? 'Abdullah said: If they were granted concession on the basis of this verse, there is a possibility that they would perform tayammum with dust on finding water very cold for themselves. Abu Musa رضی اللہ عنہ said to Abdullah: You have not heard the words of 'Ammar: The Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) sent me on an errand and I had a seminal emission, but could find no water, and rolled myself in dust just as a beast rolls itself. I came to the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) then and made a mention of that to him and he (the Holy Prophet) said: It would have been enough for you to do thus. Then he struck the ground with his hands once and wiped his right hand with the help of his left hand and the exterior of his palms and his face. 'Abdullah رضی اللہ عنہ said: Didn't you see that Umar رضی اللہ عنہ was not fully satisfied with the words of 'Ammar only?
یحییٰ بن یحییٰ، ابوبکر بن ابی شیبہ اور ابن نمیر نے ابومعاویہ کی سند سے کہا,ابو معاویہ نے اعمش سے ، انہوں نے شقیق سے روایت کی ، کہا
میں حضرت عبد اللہ ( بن مسعود ) اور ابو موسیٰ ؓ کے بیٹھا ہوا تھا ۔ حضرت ابو موسیٰ نے پوچھا : ابو عبد الرحمن! بتائیےاگر انسان حالت جنابت میں ہو اور ایک ماہ تک اسے پانی نہ ملے تو وہ نماز کا کیا کرے؟ اس پر حضرت عبد اللہ ( بن مسعود رضی اللہ عنہ ) نے جواب دیا : وہ تیمم نہ کرے ، چاہے اسے ایک ماہ تک پانی نہ ملے ۔ اس پر ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ نے کہا : تو سورہ مائدہ کی اس آیت کا کیا مطلب ہے : ’’تم پانی نہ پاؤ تو پاک مٹی سے تیمم کرو؟ ‘ ‘ اس پر عبد اللہ رضی اللہ عنہ نے جواب دیا : اگر انہیں اس آیت کی بنا پر رخصت دے دی گئی تو خطرہ ہے جب انہیں پانی ٹھنڈا محسوس ہو گا تو وہ مٹی سے تیمم کر لیں گے ۔ ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ نے عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے کہا : کیا آپ نے عمار کی یہ بات نہیں سنی کہ مجھے رسول اللہﷺ نے کسی کام کے لیے بھیجا ، مجھے جنابت ہو گئی اور پانی نہ ملا تو میں چوپائے کی طرح مٹی میں لوٹ پوٹ ہوا ( اور نماز پڑھ لی ) ، پھر میں نبی اکرمﷺ کے پاس آیا اور آپ سے اس کا تذکرہ کیا تو آپ نے فرمایا : ’’تمہارے لیے بس اپنے دونوں ہاتھوں سے اس طرح کرنا کافی تھا ۔ ‘ ‘ پھر آپﷺ نے اپنے دونوں ہاتھ ایک بار زمین پر مارے ، پھر بائیں ہاتھ کو دائیں پر اور اپنی دونوں ہتھیلیوں کی پشت پر اور اپنے چہرے پر ملا ۔ تو عبد اللہ ( بن مسعود رضی اللہ عنہ ) نے جواب دیا : کیا تمہیں معلوم نہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ عمار کی بات پر مطمئن نہیں ہوئے تھے ۔ ( تفصیل آگے حدیث : 820 میں ہے ۔ )