Abu Huraira رضی اللہ عنہ reported:
Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) as saying: The rider should first greet the pedestrian, and the pedestrian the one who is seated and a small group should greet a larger group (with as-Salam-o-'Alaikum).
مجھ سے عقبہ بن مکرم نے بیان کیا، ہم سے ابو عاصم نے ابن جریج کی سند سے اور مجھ سے محمد بن مرزوق نے بیان کیا، ہم سے روح نے بیان کیا، ہم سے ابن جریج نے بیان کیا۔ زیاد نے مجھے بتایا کہ ثابت ایک بندہ ہے, عبد الرحمٰن بن زید کے آزاد کردہ غلام ثابت نے بتا یا کہ انھوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا ، کہہ رہے تھے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " سوار پید ل کو سلام کرے ، چلنے والا بیٹھے ہو ئے کو سلام کرے اور کم لو گ زیادہ لوگوں کو سلام کریں ۔
Abu Talha رضی اللہ عنہ reported:
While we were sitting in front of the houses and talking amongst ourselves, Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) happened to come there. He stood by us and said: What about you and your meetings on the paths? Avoid these meetings on the paths. We said: We were sitting here without (any intention of doing harm to the passers-by) ; we are sitting to discuss matters and to hold conversation amongst ourselves. Thereupon he said: If there is no help (for you but to sit on these paths), then give the paths their rights and these are lowering of the gaze, exchanging of greetings and good conversation.
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے عفان نے بیان کیا، کہا ہم سے عبد الواحد بن زیاد نے بیان کیا، کہا ہم سے عثمان بن حکیم نے بیان کیا, اسحاق بن عبد اللہ بن ابی طلحہ نے اپنے والد سے روایت کی ، انھوں نے کہا کہ حضرت ابو طلحہ رضی اللہ عنہ نے کہا
ہم مکانوں کے سامنے کی کھلی جگہوں میں بیٹھے باتیں کر رہے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے آئے اور ہمارے پاس کھڑے ہو گئے ۔ آپ نے فر ما یا : " تمھا را راستوں کی خالی جگہوں پر مجلسوں سے کیا سروکار؟ راستوں کی مجا لس سے اجتناب کرو ۔ " ہم ایسی باتوں کے لیے بیٹھے ہیں جن میں کسی قسم کی کو ئی قباحت نہیں ، ہم ایک دوسرے سے گفتگو اور بات چیت کے لیے بیٹھے ہیں ، آپ نے فر ما یا : " اگر نہیں ( رہ سکتے ) تو ان ( جگہوں ) کے حق ادا کرو ( جو یہ ہیں ) : آنکھ نیچی رکھنا ، سلام کا جواب دینا اور اچھی گفتگو کرنا ۔ "
Abu Sa'id Khudri رضی اللہ عنہ reported:
Allah's Apostle ( صلی اللہ علیہ وسلم ) as saying: Avoid sitting on the paths. They (the Companions) said: Allah's Messenger, we cannot help but holding our meetings (in these paths) and discuss matters (there). Thereupon Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) said: If you insist on holding meetings, then give the path its due right. They said: What are its due rights? Upon this he said: Lowering the gaze, refraining from doing harm, exchanging of greetings. commanding of good and forbidding from evil.
ہم سے سوید بن سعید نے بیان کیا,حفص بن میسرہ نے زید بن اسلم سے ، انھوں نے عطاء بن یسار سے ، انھوں نے حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے ، انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ
آپ نے فر ما یا : " راستوں میں بیٹھنے سے اجتنا ب کرو ۔ " صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین نے کہا : اے اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !ہمارے لیے ( را ستے کی ) مجلسوں کے بغیر جن میں ( بیٹھ کر ) ہم باتیں کرتے ہیں ، کو ئی چارہ نہیں ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : اگر تم مجا لس کے بغیر نہیں رہ ہو سکتے تو را ستے کا حق ادا کرو ۔ " لوگوں نے کہا : اس کا حق کیا ہے ؟آپ نے فر ما یا : " نگاہ نیچی رکھنا تکلیف دہ چیزوں کو ( را ستے سے ) ہٹانا ، سلام کا جواب دینا ، اچھا ئی کی تلقین کرنا اور بر ائی سے روکنا ۔ "
This hadith has been narrated on the authority of Zaid bin Aslam with the same chain of transmitters.
ہم سے یحییٰ بن یحییٰ نے بیان کیا, عبد العزیزبن محمد مدنی اور ہشام بن سعد دونوں نے زید بن اسلم سے اسی سند کے ساتھ روایت کی ۔
Abu Huraira رضی اللہ عنہ reported:
Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) as saying: Five are the rights of a Muslim over his brother: Returning the salam, replying by saying Yarhamuk Allah (may Allah have mercy on you) to one who sneezes accepting an invitation, visiting the sick nd attending funeral. responding to salutation, saying Yarhamuk Allah when anybody sneezes and says al-Hamdulillah, visiting the sick. following the bier. ' Abdul-Razzaq said that this hadith has been transmitted as mursal hadith from Zuhri and he then substantiated it on the authority of Ibn Musayyib. Abdul Razzaq said: Mu'mar used to transmit this hadith (without mentioning the names of the Tabi'i and the Companions) and sometimes he would narrate it (from Sa'id bin Al-Musayyib) and then from Abu Hurairah (رضی اللہ عنہ ).
مجھ سے حرملہ بن یحییٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے ابن وہب نے بیان کیا, یو نس نے ابن شہاب ( زہری ) سے انھوں نے ابن مسیب سے روایت کی کہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : مسلمان کے مسلمان پر پا نچ حق ہیں ۔ "" نیز عبد الرزاق نے کہا : ہمیں معمر نے ( ابن شہاب ) زہری سے خبر دی ، انھوں نے ابن مسیب سے ، انھوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہا
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر مایا : "" ایک مسلمان کے لیے اس کے بھا ئی پر پانچ چیزیں واجب ہیں : سلام کا جواب دینا چھینک مارنے والے کے لیے رحمت کی دعا کرنا دعوت قبول کرنا ، مریض کی عیادت کرنا اور جنازوں کے ساتھ جا نا ۔ "" عبدالرزاق نے کہا : معمر اس حدیث ( کی سند ) میں ارسال کرتے تھے ( تابعی اور صحابی کا نام ذکر نہیں کرتے تھے ) اور کبھی اسے ( سعید ) بن مسیب اور آگے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی سند سے ( متصل مرفوع ) روایت کرتے تھے ۔
Abu Huraira رضی اللہ عنہ reported:
Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) as saying: Six are the rights of a Muslim over another Muslim. It was said to him: Allah's Messenger, what are these? Thereupon he said: When you meet him, offer him greetings; when he invites you to a feast accept it. when he seeks your council give him, and when he sneezes and says: All praise is due to Allah, you say Yarhamuk Allah (may Allah show mercy to you) ; and when he fails ill visit him; and when he dies follow his bier.
ہم سے یحییٰ بن ایوب، قتیبہ اور ابن حجر نے بیان کیا، انہوں نے کہا: اسماعیل بن جعفر نے اپنے والد سے ، انھوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے ، روایت کی ، کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " مسلمان کے دوسرے مسلمان پر چھ حق ہیں ۔ " پوچھا گیا : اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !وہ کو ن سے ہیں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : جب تم اس سے ملو تو اس کو سلام کرو اور جب وہ تم کو دعوت دے تو قبول کرو اور جب وہ تم سے نصیحت طلب کرے تو اس کو نصیحت کرو ، اور جب اسے چھینک آئے اور الحمدللہ کہے تو اس کے لیے رحمت کی دعاکرو ۔ جب وہ بیمار ہو جا ئے تو اس کی عیادت کرو اور جب وہ فوت ہو جا ئے تو اس کے پیچھے ( جنازے میں ) جاؤ ۔ "
Anas bin Malik رضی اللہ عنہ reported:
Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) as saying: When the People of the Book offer you salutations, you should say: The same to you.
ہم سے یحییٰ بن یحییٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے ہشیم نے بیان کیا, عبید اللہ بن ابی بکر نے اپنے داداحضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہو ئے خبر دی کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " جب اہل کتاب تم کوسلام کریں تو تم ان کے جواب میں " وعلیکم " ( اورتم پر ) کہو ۔ "
Anas رضی اللہ عنہ reported:
The Companions of Allah's Apostle ( صلی اللہ علیہ وسلم ) said to him: The People. of the Book offer us salutations (by saying as-Salamu- 'Alaikum). How should we reciprocate them? Thereupon he said: Say: Wa 'Alaikum (and upon you too).
ہم سے عبید اللہ بن معاذ نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوحنیف نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ بن حبیب نے بیان کیا، کہا ہم سے خالد نے بیان کیا، یعنی ابن حارث نے، انہوں نے کہا: شعبہ نے کہا کہ میں نے قتادہ سے سنا ، وہ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کرتےہو ئے حدیث بیان کر رہے تھے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کی : اہل کتاب ہمیں سلام کرتے ہیں ۔ ہم ان کو کیسے جواب دیں ، آپ نے فر ما یا : " تم لوگ " وعلیکم " ( اور تم پر ) کہو ۔ "
Ibn 'Umar رضی اللہ عنہ reported:
Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) as saying: When the Jews offer you salutations, some of them say as-Sam-u-'Alaikum (death be upon you). You should say (in response to it): Let it be upon you.
ہم سے یحییٰ بن یحییٰ نے بیان کیا، ہم سے یحییٰ بن ایوب، قتیبہ اور ابن حجر نے بیان کیا، اور یہ قول یحییٰ بن یحییٰ سے ہے: ہم نے بتایا اور دوسروں نے بتایا, اسماعیل بن جعفر نے عبد اللہ بن دینار سے روایت کی ، انھوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے سنا ، کہہ رہے تھے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : جب یہود تم کو سلام کرتے ہیں تو ان میں سے کو ئی شخص ( اَلسَامُ عَلَيكُم ) ( تم پر موت نازل ہو ) کہتا ہے ۔ " ( اس پر ) تم ( عَلَيكُم ) ( تجھ پر ہو ) کہو ۔ "
A similar report (as no. 5654) was narrated from Ibn Umar from the prophet ﷺ, except that he said: "Say: 'Wa'aalikum (and also upon you).'"
مجھ سے زہیر بن حرب نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالرحمٰن نے بیان کیا, سفیان نے عبد اللہ بن دینار سے ، انھوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے ، انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے مانند روایت کی مگر اس میں ہے ۔ " تو تم پر کہو : " وعلیکم " ( تم پرہو ۔ )
A'isha رضی اللہ عنہا reported:
A group of Jews came to Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) and sought his audience and said: As-Sam-u-'Alaikum. A'isha رضی اللہ عنہا said in response: As-Sam-u-'Alaikum (death be upon you) and curse also, whereupon Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) said: 'A'isha رضی اللہ عنہا , verily Allah loves kindness in every matter. She said: Did you bear what they said? Thereupon he said: Did you not hear that I said (to them): Wa 'Alaikum.
مجھ سے عمرو ناقد اور زہیر بن حرب نے بیان کیا اور یہ لفظ زہیر کا ہے, سفیان بن عیینہ نے ہمیں زہری سے حدیث بیان کی انھوں نے عروہ سے ، انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی ، کہا
یہودیوں کی ایک جماعت نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملنے کے لیے اجازت طلب کی اور انھوں نے کہا ( اَسا مُ عَلَيكُم ) ( آپ پر مو ت ہو! ) حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا : بلکہ تم پر موت ہو اور لعنت ہو ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : عائشہ !اللہ تعا لیٰ ہر معا ملے میں نرمی پسند فر ما تا ہے ۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے عرض کی : کیا آپ نے سنانہیں کہ انھوں نے کیا کہا تھا ؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : میں نے ( وَ عَلَيكُم ) ( اور تم پرہو ) کہہ دیاتھا ۔ "
This hadith has been transmitted on the authority of Zuhri that Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) said: I said 'Alaikum, and the transmitter did not make mention of the word and .
ہم سب سے حسن بن علی الحلوانی اور عبد بن حمید نے بیان کیا، یعقوب بن ابراہیم بن سعد کی سند سے، ہم سے میرے والد نے بیان کیا, صالح اور معمر دونوں نے زہری سے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی ، دونوں کی حدیث میں ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما یا : " میں نے علیکم کہہ دیا تھا ۔ " اور انھوں نے اس کے ساتھ واؤ ( اور ) نہیں لگا یا ۔
A'isha رضی اللہ عنہا reported:
Some Jews came to Allah's Apostle ( صلی اللہ علیہ وسلم ) and they said: Abu'l-Qasim (the Kunya of the Holy Prophet), as-Sam-u-'Alaikum, whereupon he (the Holy Prophet ﷺ) said: Wa 'Alaikum. A'isha رضی اللہ عنہا reported: In response to these words of theirs, I said: But let there be death upon you and disgrace also, whereupon Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) said: 'A'isha رضی اللہ عنہا , do not use harsh words. She said: Did you hear what they said? Thereupon he (the Holy Prophet ) said: Did I not respond to them when they said that; I said to them: Wa 'Alaikum (let it be upon you).
ہم سے ابو کریب نے بیان کیا, ابو معاویہ نے اعمش سے ، انھوں نے مسلم سے انھوں نے مسروق سے ، انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس یہود میں سے کچھ لو گ آئے ، انھوں نے آکر کہا : ( السام عليك يا أبا القاسم ) ( ابو القاسم !آپ پر موت ہو ) کہا آپ نے فر ما یا : " وَ عَلَيكُم ( تم لوگوں پر ہو! ) حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے فر ما یا : " بلکہ تم پر موت بھی ہو ذلت بھی ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " عائشہ رضی اللہ عنہا !زبان بری نہ کرو ۔ انھوں ( عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا ) نے کہا : آپ نے نہیں سنا ، انھوں نے کیا کہا تھا ؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " انھوں نے جو کہا تھا میں نے ان کو لوٹا دیا ، میں نے کہا : تم پر ہو ۔ "
Al-Amash with this chain of narrators (a hadith similar to no. 5658) but he said:
'A'isha رضی اللہ عنہا understood their meaning and cursed them and Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) said: 'A'isha رضی اللہ عنہا (do not do that) for Allah does not like the use of harsh words, and it was at this stage that this verse of Allah. the Exalted and Glorious was revealed: And when they come to thee, they greet thee with a greeting with which Allah greets thee not (viii. 8) to the end of the verse.
ہم سے اسحاق بن ابراہیم نے بیان کیا, یعلیٰ بن عبید نے ہمیں خبر دی کہا : ہمیں اعمش نے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی ، مگر انھوں نے کہا
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے ان کی بات سمجھ لی ( انھوں نے سلام کے بجا ئے سام کا لفظ بولا تھا ) اور انھیں برا بھلا کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " عائشہ رضی اللہ عنہا ! بس کرو ، اللہ تعا لیٰ برا ئی اور اسے اپنالینے کو پسند نہیں فرماتا ۔ " اور یہ اضافہ کیا تو اس پر اللہ عزوجل نے ( وَإِذَا جَاءُوكَ حَيَّوْكَ بِمَا لَمْ يُحَيِّكَ بِهِ اللَّهُ ) نازل فر ما ئی : " اور جب وہ آپ کے پاس آتے ہیں تو آپ کو اس طرح سلام نہیں کہتے جس طرح اللہ آپ کو سلام کہتا ہے ۔ " آیت کے آخر تک ( اور اپنے دلوں میں کہتے ہیں جو کچھ ہم کہتے ہیں اللہ اس پر ہمیں عذاب کیوں نہیں دیتا ؟ان کے لیے دوزخ کا فی ہے جس میں وہ جلیں گے اور وہ لوٹ کر جانے کا بدترین ٹھکا ناہے ۔ )
Jabir bin Abdullah رضی اللہ عنہ reported:
Some people from amongst the Jews said to Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) Abu'l-Qasim. as-Sam-u-'Alaikum, whereupon he said: Wa 'Alaikum, A'isha رضی اللہ عنہا was enraged and asked him (Allah's Apostle) whether he had not heard what they had said. He said, I did hear and I retorted to them (and the curse that I invoked upon them would receive response from Allah), but (the curse that they invoked upon us) would not be responded.
مجھ سے ہارون بن عبداللہ اور حجاج بن الشاعر نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے حجاج بن محمد نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھ سے ابن جریج نے بیان کیا, ابوزبیر نے کہا : انھوں نے حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ کو کہتے ہوئے سنا
یہود میں سے کچھ لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کیا اور کہا ( السام عليك يا أبا القاسم ) ( ابو القاسم ) آپ پر مو ت ہو!اس پر آپ نے فر ما یا : " تم پرہو ۔ " حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہنے لگیں اور وہ غصے میں آگئی تھیں ۔ کیا آپ نے نہیں سنا ، جو انھوں نے کہا ہے ؟ آپ نے فر ما یا : " کیوں نہیں !میں نے سنا ہے اور میں نے ان کو جواب دے دیا ہےاور ان کے خلاف ہماری دعاقبول ہو تی ہے اور ہمارے خلا ف ان کی دعا قبول نہیں ہو تی ۔ "
Abu Huraira رضی اللہ عنہ reported:
Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) as saying: Do not greet the Jews and the Christians before they greet you and when you meet any one of them on the roads force him to go to the narrowest part of it.
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا, عبد العزیز دراوردی نے سہیل سے ، انھوں نے اپنے والد سے ، انھوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما یا : " یہود نصاری ٰکو سلام کہنے میں ابتدانہ کرو اور جب تم ان میں سے کسی کو راستے میں ملو ( تو بجا ئے اس کے وہ یہ کام کرے ) تم اسے راستے کے تنگ حصے کی طرف جا نے پر مجبورکردو ۔ "
This hadith has been narrated on the authority of Suhail with the same chain of transmitters but with a slight variation of wording. The hadith transmitted on the authority of Waki', the words are:
When you meet the Jews. And in the hadith transmitted on the authority of Shu'ba, the words are: 'When you meet the People of the Book. And in the hadith transmitted on the authority of Jarir the words are: When you meet them, but none amongst the polytheists has been mentioned explicitly by name.
محمد بن مثنیٰ نے کہا , ہمیں محمد بن جعفر نے حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں شعبہ نے حدیث بیان کی ۔ ابو بکر بن ابی شیبہ اور ابو کریب نے کہا , ہمیں وکیع نے سفیان سے حدیث بیان کی ، زہیر بن حرب نے کہا , ہمیں جریر نے حدیث بیان کی ، ان سب ( شعبہ سفیان اور جریر ) نے سہیل سے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی ۔ وکیع کی حدیث میں ہے
" جب تم یہود سے ملو ۔ " شعبہ سے ابن جعفر کی روایت کردہ حدیث میں ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل کتاب کے بارے میں فرما یا ۔ اور جریر کی روایت میں ہے : " جب تم ان لوگوں سے ملو ، " اور مشرکوں میں سے کسی ایک ( گروہ ) کا نام نہیں لیا ۔
Anas bin Malik رضی اللہ عنہ reported:
When Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) happened to pass by young boys he would great them.
یحییٰ بن یحییٰ نے کہا : ہمیں ہشیم نے سیارے سے خبر دی ، انھوں نے ثابت بنا نی سے ، انھوں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان ( انصار ) کے لڑکوں کے پاس سے گزرے تو آپ نے ان کو سلام کیا ۔
This hadith has been narrated on the authority of Sayyar with the same chain of transmitters.
اسماعیل بن سالم نے کہا : ہمیں ہشیم نے خبر دی کہا : ہمیں سیار نے اسی سند کے ساتھ خبر دی ۔
Sayyar reported:
I was walking with Thabit al-Bunani that he happened to pass by children and he greeted them. And Thabit reported that he walked with Anas رضی اللہ عنہ and he happened to pass by children and he greeted them. and Anas رضی اللہ عنہ reported that he walked with Allah's Apostle (ﷺ) and he happened, to pass by children and he greeted them.
مجھ سے عمرو بن علی اور محمد بن ولید نے بیان کیا، کہا: ہم سے محمد بن جعفر نے بیان کیا, شعبہ نے سیار سے روایت کی ، کہا
میں ثابت بنانی کے ساتھ جا رہا تھا وہ کچھ بچوں کے پاس سے گزرے تو انھیں سلام کیا ، پھر ثابت نے یہ حدیث بیان کی کہ وہ حضرت انس رضی اللہ عنہ کے ساتھ جا رہے تھے وہ بچوں کے پاس سے گزرے تو انھوں نے ان کو سلام کیا ۔ اور حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حدیث بیان کی کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جا رہے تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم بچوں کے پاس سے گزرے تو ان کو سلام کیا .