The Book of the Merits of the Companions
كتاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ
Chapter 45
Abu Ishaq reported:
He heard Abu'l-Ahwas say: I was along with Abu Musa and Abu Mas'ud رضی اللہ عنہ as Ibn Mas'ud رضی اللہ عنہ died and one of them said to the other: Do you find one like him besides him? Thereupon he said: Do you say this (no one can be his rival)? He was admitted (to the company of the Holy Prophet) whereas we were detained and he had been present in the company of Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) whereas we had been absent.
ہم سے محمد بن المثنیٰ اور ابن بشار نے بیان کیا - اور یہ لفظ ابن المثنیٰ کا ہے - انہوں نے کہا: ہم سے محمد بن جعفر نے بیان کیا، ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ابو اسحٰق سے روایت ہے انھوں نے کہا
میں نے ابو حوص سے سنا ، انھوں نے کہا : جس وقت حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا میں نے اس وقت حضرت ابو موسیٰ اور حضرت مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ہاں حاضری دی تو ان میں سے ایک نے دوسرے سے پو چھا : کیا آپ سمجھتے ہیں کہ وہ اپنے بعد کو ئی ایسا شخص چھوڑ گئے ہیں جو ان جیسا ہو ؟انھوں نے جواب دیا : جب آپ نے یہ بات کہہ دی تو حقیقت یہ ہے کہ انھیں اس وقت ( رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ) حاضری کی اجا زت ہو تی تھی ، جب ہمیں روک لیا جا تاتھا ، اور وہ اس وقت بھی حاضر رہتے تھےجب ہم مو جو دنہ ہو تے تھے ۔
Abu Ahwas reported:
We were in the house of Abu Musa رضی اللہ عنہ along with some of the companions of 'Abdullah رضی اللہ عنہ and they were looking at the Holy Book. 'Abdullah رضی اللہ عنہ stood up, whereupon Abu Mas'ud رضی اللہ عنہ said: I do not know whether Allah's Messenger, ( صلی اللہ علیہ وسلم ) has left after him one having a better knowledge (of Islam) than the man who is standing. Abu Musa رضی اللہ عنہ said: If you say this, that is correct, because he had been present when we had been absent and he was permitted when we were detained.
ہم سے ابو کریب محمد بن العلاء نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ بن آدم نے بیان کیا, قطبہ بن عبدالعزیز نے اعمش سے ، انھوں نے مالک بن حارث سے ، انھوں نے ابو احوص سے روایت کی ، کہا
ہم حضرت عبداللہ ( بن مسعود ) رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے چند ساتھیوں ( شاگردوں ) کے ہمراہ حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ کے گھر میں تھے ۔ وہ سب ایک مصحف ( قرآن مجید کا نسخہ ) دیکھ رہے تھے ، اس اثناءمیں حضرت عبداللہ ( بن مسعود ) رضی اللہ عنہ اٹھ کھڑے ہوئے تو حضرت ابو مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا : میں نہیں جانتا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے بعد اس شخص سے ، جو ( ابھی ) اٹھا ہے ، زیادہ اللہ کے نازل کردہ قرآن کو جاننے والا کوئی اور آدمی چھوڑا ہو! حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اگر آپ نے یہ کہا ہے تو ( اس کی وجہ یہ ہے کہ ) یہ اس وقت حاضر ر ہتے جب ہم موجود نہ ہوتے اورا نھیں ( اس وقت بھی ) حاضری کی اجازت دی جاتی جب ہمیں اجازت نہ ہوتی تھی ۔
Zaid bin Wahab reported:
I was sitting along with Hudhaifa and Abu Musa, and the rest of the hadith is the same.
مجھ سے القاسم بن زکریا نے بیان کیا، ہم سے عبید اللہ نے بیان کیا: وہ موسیٰ کے بیٹے ہیں، وہ شیبان کی سند سے، اعمش کی سند سے، مالک بن حارث کی سند سے، ابو کے واسطہ سے۔ احواس، انہوں نے کہا: میں ابو موسیٰ کے پاس آیا، میں عبداللہ اور ابو موسیٰ کو پایا، اور ہم سے ابو کریب نے، محمد بن ابو عبیدہ نے اعمش سے ، انھوں نے زید بن وہب سے روایت کی ، کہا : میں حضرت حذیفہ اورابو موسیٰ رضوان اللہ عنھم اجمعین کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا ، اور ( یہی ) حدیث بیان کی ۔ قطبہ کی حدیث مکمل اور زیادہ ہے ۔
Abdullah (bin Mas'ud) رضی اللہ عنہ reported:
He (said to his companions to conceal their copies of the Qur'an) and further said: He who conceals anything he shall have to bring that which he had concealed on the Day of judgment, and then said: After whose mode of recitation you command me to recite? I in fact recited before AIlah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) more than seventy chapters of the Qur'an and the Companions of Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) know it that I have better understanding of the Book of Allah (than they do), and if I were to know that someone had better understanding than I, I would have gone to him. Shaqiq said: I sat in the company of the Companions of Muhammad ( صلی اللہ علیہ وسلم ) but I did not hear anyone having rejected that (that is, his recitation) or finding fault with it.
ہم سے اسحاق بن ابراہیم الحنظَلی نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدہ بن سلیمان نے بیان کیا، کہا ہم سے اعمش نے بیان کیا, شقیق نے حضرت عبداللہ ( بن مسعود ) رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ
انھوں نے پڑھا : "" ”اور جو کوئی چیز چھپا رکھے گا ، وہ اس کو قیامت کے دن لائے گا“ ( سورۃ : آل عمران : 161 ) پھر کہا کہ تم مجھے کس شخص کی قرآت کی طرح قرآن پڑھنے کا حکم کرتے ہو؟ میں نے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ستر سے زیادہ سورتیں پڑھیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب یہ جانتے ہیں کہ میں ان سب میں اللہ کی کتاب کو زیادہ جانتا ہوں اور اگر میں جانتا کہ کوئی مجھ سے زیادہ اللہ کی کتاب کو جانتا ہے تو میں اس شخص کی طرف سفر اختیار کرتا ۔ شفیق نے کہا کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب کے حلقوں میں بیٹھا ہوں ، میں نے کسی کو سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کی اس بات کو رد کرتے یا ان پر عیب لگاتے نہیں سنا ۔
Abdullah رضی اللہ عنہ reported:
By Him besides Whom there is no god, there is no chapter in the Book of Allah about which I do not know as to where it was revealed and there is no verse about which I do not know in what context it was revealed, and if I were to know of one having a better understanding of the Book of Allah than I (and I could reach him) on the back of the mule, I would have definitely gone to him on camel's back.
ہم سے ابو کریب نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ بن آدم نے بیان کیا، کہا ہم سے قطبہ نے بیان کیا، انہوں نے الاعمش کی سند سے اور مسلم کی سند سے,مسروق نے حضرت عبداللہ ( بن مسعود ) رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انھوں نے کہا
اس ذات کی قسم جس کے سواکوئی معبود نہیں!کتاب اللہ کی کوئی صورت نہیں مگر میں اسکے متعلق جانتاہوں کہ وہ کب نازل ہوئی ، اور کتاب اللہ کی کوئی آیت نہیں مگر مجھے علم ہے کہ کس کے بارے میں نازل ہوئی ، اور اگر مجھے یہ معلوم ہوکہ کوئی شخص مجھ سے زیادہ کتاب اللہ کو جاننے والاہے ۔ اور اونٹ اس تک پہنچ سکتے ہیں تو میں ( اونٹوں پر سفر کرکے ) اس کے پاس جاؤں ( اور قرآن کا علم حاصل کروں ۔ )
Masruq reported:
We used to go to Abdullah bin 'Amr رضی اللہ عنہ and talk to him, Ibn Numair said: One day we made a mention of Abdullah bin Mas'ud رضی اللہ عنہ , whereupon he said: You have made mention of a person whom I love more than anything else. I heard Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) as saying: Learn Qur'an from four persons: Ibn Umm 'Abd (i. e. 'Abdullah bin Mas'ud) رضی اللہ عنہ he started from him-then Mu'adh bin Jabal رضی اللہ عنہ and Ubayya bin Ka'b رضی اللہ عنہ , then Salim the ally of Abu Hudhaifa رضی اللہ عنہ .
ابو بکر بن ابی شیبہ اور محمد بن عبداللہ بن نمیر نے کہا : ہمیں وکیع نے حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں اعمش نے ( ابو وائل ) شقیق سے حدیث بیان کی ، انھوں نے مسروق سے روایت کی ، کہا
ہم حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس جاتے تھے اور ان کے ساتھ ( علمی ) گفتگو کیاکرتے تھے ۔ اور ابن نمیر نے کہا : ان کے پاس ( گفتگو کیا کرتے تھے ) چنانچہ ایک دن ہم نے ( ان کے سامنے ) حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا ذکر کیا تو انھوں نےکہا : تم نے مجھ سے اس شخص کا ذکر کیا ہے کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک بات سننے کے بعد سے مسلسل اس سے محبت کرتا ہوں ، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا : " قرآن چار آدمیوں سے سیکھو : ابن ام عبد ( حضرت ابن مسعود ) رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ۔ آپ نے ابتداء ان سے کی ۔ معاذ بن جبل رضی اللہ تعالیٰ عنہ ، ابن ابی کعب رضی اللہ تعالیٰ عنہ ، اور ابو حذیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کےآزاد کردہ غلام سالم سے ۔ "
Masruq reported:
We were in the company of Abdullah bin 'Amr رضی اللہ عنہما that we made a mention of a hadith from Abdullah bin Mas'ud رضی اللہ عنہما ; thereupon he said: That is a person whose love ever remains (fresh in my heart) after I heard Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) as saying: Learn Qur'an from four persons: Ibn Umm 'Abd, i.e. Abdullah bin Mas'ud رضی اللہ عنہما and he started from his name-then Ubayy bin Ka'b and Mu'adh bin Jabal رضی اللہ عنہما . Zuhri did not make a mention of the words yaquluhu in his narration
قتیبہ بن سعید ، زہیر بن حرب اور عثمان بن ابی شیبہ نے کہا : ہمیں جریر نے اعمش سے حدیث بیان کی ، انھوں نے ابو وائل ( شقیق ) سے ، انھوں نے مسروق سے روایت کی ، مسروق کہتے ہیں کہ
ہم سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کے پاس تھے کہ ہم نے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہما کا ذکر کیا تو انہوں نے کہا کہ تم نے ایک ایسے شخص کا ذکر کیا جس سے میں ( اس وقت سے ) محبت کرتا ہوں جب سے میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک حدیث سنی ہے ۔ میں نے سنا آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے کہ تم قرآن چار آدمیوں سے سیکھو ۔ ایک ام عبد کے بیٹے ( یعنی سیدنا عبداللہ بن مسعود ) سے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان ہی سے شروع کیا اور ابی بن کعب سے اور سالم مولیٰ ابوحذیفہ سے اور معاذ بن جبل رضی اللہ عنہما سے ۔ اور زہیر بن حرب نے ( حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی طرف سے ) جو ایک لفظ بیان نہیں کیا وہ ہے : جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمائی تھی ۔
This hadith has been reported on the authority of Abu Bakr bin Abu Shaiba and Abu Kuraib, and both of them said: Abu Mu'awiya narrated to us from A'mash on the authority of Jarir and Waki', and in a narration of Abu Bakr transmitted on the authority of Abu Mu'awiya the mention of Mu'adh رضی اللہ عنہ has preceded Ubayy's رضی اللہ عنہ , and in the narration transmitted on the authority of Abu Kuraib, the name of Ubayy preceded Mu'ddh's.
ابو بکر بن ابی شیبہ اور ابو کریب نے کہا : ہمیں ابو معاویہ نے اعمش سے جریر اور وکیع کی سند کے ساتھ حدیث بیان کی ۔ ابو معاویہ سے ابو بکر کی روایت میں انھوں نے معاذ رضی اللہ عنہ کو ابی رضی اللہ عنہ سے مقدم رکھا اورابو کریب کی روایت میں ابی ( بن کعب رضی اللہ عنہ ) معاذ رضی اللہ عنہ سے پہلے ہیں ۔
This tradition has been transmitted on the authority of Shu'ba through A'mash, but there is a difference of order of the four.
ہم سے ابن المثنیٰ اور ابن بشار نے بیان کیا، انہوں نے کہا: ابن ابی عدی اور محمد بن جعفر دونوں نے شعبہ سے ، انھوں نے اعمش سے انھی کی سندکے ساتھ روایت کی ، شعبہ سے روایت کرتے ہوئے ان دونوں نے چاروں کی ترتیب میں اختلاف کیا ہے ۔
Masruq reported:
They made a mention of Ibn Mas'ud رضی اللہ عنہ before 'Abdullah bin Amr رضی اللہ عنہ , whereupon he said: He is a person whose love is always fresh in my heart after I heard Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) as saying: Learn the recitation of the Qur'an from four persons: from Ibn Mas'ud رضی اللہ عنہ, Salim, the ally of Abu Hudhaifa رضی اللہ عنہ, Ubayy bin Ka'b رضی اللہ عنہ, Mu'adh bin Jabal رضی اللہ عنہ .
ہم سے محمد بن المثنیٰ اور ابن بشار نے بیان کیا، کہا: ہم سے محمد بن جعفر نے بیان کیا، ہم سے شعبہ نے بیان کیا، عمرو بن مرہ سے, ابراہیم نے مسروق سے روایت کی ، کہا
لوگوں نےحضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ کے سامنے حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ کا ذکر کیا تو انھوں نے کہا : وہ ایسے ہیں جن سے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ( ایک بات ) سننے کے بعد سے مسلسل محبت کرتا آیا ہوں ، آپ نے فرمایا تھا؛ " چارآدمیوں سے قرآن پڑھنا سیکھو : ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ ، ابوحذیفہ رضی اللہ عنہ کے آزاد کردہ غلام سالم رضی اللہ عنہ ، ابی بن کعب رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے ۔ "
Ubaidullah bin Mu'adh reported it on the authority of his father Shu'ba with the same chain of transmitters and he made this addition. He made a mention of these two names but I do not know whose name he mentioned first.
ہمیں عبیداللہ بن معاذ نے حدیث سنائی ، کہا : ہمیں میرے والد نے حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں شعبہ نے اسی سند کےساتھ حدیث سنائی اور کچھ مزید بیان کیا ، شعبہ نے کہا : آپ نے ان دونوں کے نام سے ابتداء کی ، مجھے یاد نہیں کی ان دونوں میں سے کس کا نام پہلے لیا ۔
Anas رضی اللہ عنہ is reported to have said:
Four persons collected the Qur'an during the lifetime of Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) and all of them were Ansar: Mu'adh bin Jabal رضی اللہ عنہ , Ubayy bin Ka'b, Zaid bin Thabit رضی اللہ عنہ, Abu Zaid رضی اللہ عنہ. Qatada said: Anas رضی اللہ عنہ, who was Abu Zaid رضی اللہ عنہ ? He said: He was one of my uncles.
ہم سے محمد بن المثنی نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوداؤد نے بیان کیا, شعبہ نے قتادہ سے روایت کی ، کہا : میں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے ہوئے سنا
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کےعہد میں چاراشخاص نے قرآن مجید جمع کیا اور وہ سب کے سب انصار میں سے تھے : حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ ، حضرت ابی بن کعب رضی اللہ تعالیٰ عنہ ، حضرت زید بن ثابت رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور حضرت ابو زید رضی اللہ تعالیٰ عنہ ۔ قتادہ نے کہا : میں نے حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے پوچھا : ابو زید کون؟فرمایا : وہ میرے ایک چچا ہیں ۔
Anas bin Malik رضی اللہ عنہ :
Who collected the Qur'an during the lifetime of Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم )? He said: Four (persons), all of them belonging to Ansir: Ubayy bin Ka'b رضی اللہ عنہ , Mu'adh bin Jabal رضی اللہ عنہ , Zaid bin Thabit رضی اللہ عنہ and a person from the Ansar whose Kunya was Abu Zaid رضی اللہ عنہ.
مجھ سے ابوداؤد سلیمان بن معبد نے بیان کیا، کہا ہم سے عمرو بن عاصم نے بیان کیا, ہمام نے کہا : قتادہ نے ہمیں حدیث سنائی ، کہا میں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں قرآن کس نے جمع کیا تھا؟انھوں نے کہا : چار آدمیوں نے اور وہ چاروں انصار میں سے تھے : حضرت ابی ابن کعب رضی اللہ تعالیٰ عنہ ، حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ تعالیٰ عنہ ، حضرت زید بن ثابت رضی اللہ تعالیٰ عنہ ، اور انصار کے ایک شخص جن کی کنیت ابو زید رضی اللہ تعالیٰ عنہ تھی ۔
Anas bin Malik رضی اللہ عنہ reported:
Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) said to Ubayy رضی اللہ عنہ : Verily Allah, the Exalted and Glorious, has commanded me to recite the Qur'an to you, whereupon he said: (Has) Allah mentioned my name to you? He said: Allah has mentioned your name to me. Thereupon he began to shed tears (of joy).
ہم سے حداب بن خالد نے بیان کیا, ہمام نے کہا , ہمیں قتادہ نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کی کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابی رضی اللہ عنہ سے فرمایا؛ " اللہ عزوجل نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں تمھارے سامنے قرآن مجید پڑھوں ۔ " حضرت ابی رضی اللہ عنہ نے کہا : کیا اللہ تعالیٰ نے آپ سے میرا نام لے کرکہا؟آپ نے فرمایا : " اللہ تعالیٰ نے میرے سامنے تمھارا نام لیا ۔ " اس پر حضرت ابی رضی اللہ تعالیٰ عنہ پر گریہ طاری ہوگیا ۔
Anas bin Malik رضی اللہ عنہ reported:
Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) said to Ubayy bin Ka'b رضی اللہ عنہ : I have been commanded to recite to you the Sura (al-Bayyinah) which opens with these words (Lam Yakunil-ladhiyna Kafaruu) He said: Has he mentioned to you my name? He said: Yes; thereupon he shed tears of joy.
محمد بن جعفر نے کہا : ہمیں شعبہ نے حدیث بیان کی ، انھوں نے کہا : میں نے قتادہ سے سنا ، وہ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کررہے تھے ، انھوں نے کہا
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت ابی ابن کعب رضی اللہ عنہ سے فرمایا : " اللہ تعالیٰ نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں تمھارے سامنے ( قرآن مجید کی یہ سورت ) : ﴿لَمْ يَكُنِ الَّذِينَ كَفَرُوا﴾ ( البینہ 1 : 98 ) تلاوت کروں ۔ ( حضرت ابی رضی اللہ عنہ نے ) کہا : اور اللہ تعالیٰ نے میرا نام لیا ہے؟آپ نے فرمایا : " ہاں ۔ " تو وہ ( حضرت ابی رضی اللہ عنہ ) رونے لگے ۔
This hadith has been narrated on the authority of Anas رضی اللہ عنہ through another chain of transmitters.
مجھ سے یحییٰ بن حبیب نے کہا, خالد بن حارث نے کہا : ہمیں شعبہ نے قتادہ سے حدیث بیان کی ، کہا : میں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے ہوئے سنا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے فرمایا ، اسی کے مانند ( جو پچھلی روایات میں ہے ۔ )
Jabir bin 'Abdullah رضی اللہ عنہ reported:
Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) as saying while the bier of Sa'd bin Mu'adh رضی اللہ عنہ was placed before them: The Throne of the most Gracious shook at the death of Sa'd bin Mu'adh.
ہم سے عبد بن حمید نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالرزاق نے بیان کیا، کہا ہم سے ابن جریج نے بیان کیا, ابو زبیر نے بتایا کہ انھوں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے ہوئےسنا
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ، جب حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا جنازہ لوگوں کے سامنے رکھا ہوا تھا ، فرمایا : " ان کی ( موت کی ) وجہ سے رحمن کا عرش جنبش میں آگیا ۔ "
Jabir رضی اللہ عنہ reported:
The Throne of the most Compassionate shook because of the death of Sa'd bin Mu'adh.
ہم سے عمرو النقید نے بیان کیا، کہا ہم سے عبداللہ بن ادریس العودی نے بیان کیا، کہا ہم سے عماش نے بیان کیا, ابو سفیان نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " سعد بن معاذ کی موت کی وجہ سے رحمٰن کا عرش جنبش میں آگیا ۔ "
Anas bin Malik رضی اللہ عنہ reported:
Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) as saying: That his bier (that of Sa'd رضی اللہ عنہ) was placed (before them) and the Throne of the most Compassionate shook.
ہم سے محمد بن عبداللہ الرزی نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالوہاب بن عطاء الخفاف نے سعید کی سند سے اور قتادہ کی سند سے, حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے حدیث بیان کی کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جبکہ ان کے جنازے کی چار پائی رکھی ہوئی تھی ۔ ان کی مراد حضرت سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے تھی ۔ فرمایا : " اس کی وجہ سے رحمان کا عرش جنبش میں آگیا ۔ "
Al-Bara' رضی اللہ عنہ reported:
A garment of silk was presented to Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ). His Companions touched it and admired its softness; there- upon he said: Do you admire the softness of this (cloth)? The handkerchiefs of Sa'd bin Mu'adh in Paradise are better than this.
ہم سے محمد بن المثنا اور ابن بشار نے بیان کیا، انہوں نے کہا: محمد بن جعفر نے کہا : ہمیں شعبہ نے ابو اسحاق سے حدیث بیان کی ، انھوں نے کہا : میں نے حضرت براء رضی اللہ عنہ سے سنا ، کہہ رہے تھے
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ریشم کا ایک حلہ ہدیہ کیاگیا تو آپ کے صحابہ رضوان اللہ عنھم اجمعین اس کوچھونے اوراس کی گدازی پر تعجب کرنے لگے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " تم اس حلے کی گدازی پر تعجب کرتے ہو ، جنت میں سعد بن معاذ کے رومال اس سے بہت زیادہ اچھے اور زیادہ ملائم ہیں ۔ "