The Book of the Merits of the Companions
كتاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ
Chapter 45
Abu Sa'id Khudri رضی اللہ عنہ reported:
Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) as saying: While I was asleep I saw people being presented to me (in a dream) and they wore shirts and some of these reached up to the breasts and some even beyond them. Then there happened to pass 'Umar bin Khattab and his shirt had been trailing. They said: Allah's Messenger, how do you interpret the dream? He said: (As strength of) faith.
ہم سے منصور بن ابی مزاحم نے بیان کیا، ہم سے ابراہیم بن سعد نے بیان کیا، ان سے صالح بن کیسان نے، ہم سے زہیر بن حرب اور حسن بن علی نے بیان کیا۔ الحلوانی اور عبد بن حمید - اور قول ان کا ہے - کہا: ہم سے یعقوب بن ابراہیم نے بیان کیا، ہم سے میرے والد نے، صالح کی سند سے، ابن شہاب کی سند سے، ابو امامہ بن سہل نے حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے سنا ، کہتے تھے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما یا : " میں سویا ہوا تھا : میں نے دیکھا کہ لو گ میرے سامنے لا ئے جا رہے ہیں ۔ انھوں نے قمیص پہنی ہو ئی ہیں ، کسی کی قمیص چھا تی تک پہنچتی ہے کسی کی اس سے نیچے تک پہنچتی ہے اور عمر بن خطاب گزرے تو ان پر جو قمیص ہے وہ اسے گھسیٹ رہے ہیں ۔ " لوگوں نے عرض کی : اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ نے اس کی کیا تعبیر فرما ئی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " دین ۔ "
Hamza bin Abdullah bin 'Umar bin Khattab reported on the authority of his father:
Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) said: While I was asleep I saw (in a dream) a cup containing milk being presented to me. I took out of that until I perceived freshness being reflected through my nails. Then I presented the leftover to 'Umar b. Khattab. They said: Allah's Messenger: How do you interpret it? He said: This implies knowledge.
مجھ سے حرملہ بن یحییٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے ابن وہب نے بیان کیا,یو نس نے کہا : کہ ابن شہاب نے انھیں بتا یا ، انھوں نےحمزہ بن عبد اللہ بن عمربن خطاب سے روایت کی ، انھوں نے اپنے والد سے انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ
آپ نے فرمایا : " میں سویا ہوا تھا کہ میں نے ایک پیا لہ دیکھا جو میرے پاس لا یا گیا ۔ اس میں دودھ تھا ۔ میں نے اس میں سے پیا یہاں تک کہ مجھے محسوس ہوا کہ سیرابی میرے ناخنوں سے نکل رہی ہے ۔ پھر اپنا بچا ہوا دودھ میں نے عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو دے دیا ۔ " ( حاضرین نے ) کہا : اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ نے اس کی کیا تعبیر فر ما ئی ؟آپ نے فرما یا : " علم ۔ "
This hadith has been narrated on the authority of Yunus with the same chain of transmitters.
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، ہم سے لیث نے بیان کیا، ان سے عقیل کی سند سے، ہم سے ایچ الحلوانی اور عبد بن حمید نے بیان کیا، ان دونوں نے یعقوب بن ابراہیم کی سند سے۔ ہمارے والد ابن سعد نے ہم سے کہا, صالح نے یونس کی سند کے ساتھ اسی کی حدیث کے مانند حدیث بیان کی ۔
Abu Huraira رضی اللہ عنہ reported:
Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) as saying: While I was asleep I saw myself on a well with a leathern bucket on a pulley. I drew (water) out of that as Allah wished me (to draw). Then the son of Abu Quhafa (Abu Bakr) drew from it one bucketful or two and there was some weakness in drawing that (may Allah forgive him). Then that bucket (changed into a large bucket) and Ibn Khattab drew it. I did not see any strongest man drawing it like 'Umar bin Khattab. He brought out so much water that the camels of the people had enough to drink and then laid down (for rest).
ہم سے حرملہ نے بیان کیا، کہا ہم سے ابن وہب نے بیان کیا, یو نس نے ابن شہاب سے روایت کی کہ سعید بن مسیب نے انھیں خبر دی ، انھوں نے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا ، کہتے تھے میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا
آپ فر ما رہےتھے ۔ " میں سویا ہوا تھا کہ میں نے خود ایک کنویں پر دیکھا اس پر ایک ڈول تھا میں نے اس میں جتنا اللہ نے چا ہا پانی نکالا ، پھر ابن ابی قحافہ نے اس سے ایک یا دوڈول نکالے ، اللہ ان کی مغفرت کرے!ان کے پانی نکا لنے میں کچھ کمزوری تھی ، پھر وہ ایک بڑا ڈول بن گیا تو عمر بن خطاب نے اسے پکڑ لیا ، چنانچہ میں نے لوگوں میں کو ئی ایسا عبقری ( غیر معمولی صلاحیت کا مالک ) نہیں دیکھا جو عمر بن خطاب کی طرح سے پانی نکا لے حتی کہ لو گ اونٹوں کو ( سیراب کر کے گھاٹ سے سے باہر ) آرام کرنے کی جگہ پر لے گئے ۔ "
This hadith has been narrated on the authority of Yunus through another chain of transmitters.
مجھ سے عبدالملک بن شعیب بن لیث نے بیان کیا، مجھ سے میرے والد نے بیان کیا، مجھ سے میرے دادا نے بیان کیا، مجھ سے عقیل بن خالد نے بیان کیا اور ہم سے عمرو نقید نے بیان کیا۔ الحلوانی اور عبد بن حمید، یعقوب بن ابراہیم بن سعد کی سند سے، میرے والد نے ہم سے کہا, صالح نے یو نس کی سند کے ساتھ انھی کی حدیث کے مانند حدیث بیان کی .
Abu Huraira رضی اللہ عنہ reported:
Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) as saying: I saw Ibn Abu Quhafa drawing (water) ; the rest of the hadith is the same.
ہم سے الحلوانی اور عبد بن حمید نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے یعقوب نے بیان کیا, صالح نے کہا : اعرج وغیرہ نے کہا : کہ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما یا : " میں نے ابن ابی قحافہ کو ڈول کھینچتے دیکھا ۔ " زہری کی حدیث کی طرح ۔
Abu Huraira رضی اللہ عنہ reported:
Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) as saying: While I was asleep I saw myself drawing water from my tank in order to quench the thirst of the people that there came to me Abu Bakr. He took hold of the leathern bucket from my hand so that he should serve water to the people. He drew two bucketfuls and there was some weakness in his drawing (Allah may forgive him). Then there came Ibn Khattab رضی اللہ عنہ and he took hold of that, and I did not see a person stronger than he (drawing water) until the people went away with their thirst quenched and the tank filled with water.
مجھ سے احمد بن عبدالرحمٰن بن وہب نے بیان کیا، مجھ سے میرے چچا عبداللہ بن وہب نے بیان کیا، مجھ سے عمرو بن حارث نے بیان کیا کہ ابو یونس,ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کے آزاد کردہ غلام ابو یونس نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کی ، انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " میں سویا ہوا تھا تو مجھے خواب میں دکھا یا گیا کہ میں اپنے حوض سے پانی نکال کر لوگوں کو پلا رہا ہوں ، پھر ابو بکر آئے اور انھوں نے مجھے آرام پہنچانے کے لیے میرے ہاتھ سے ڈول لے لیا ، انھوں نے دو ڈول پانی نکا لا ، ان کے پانی نکا لنے میں کچھ کمزوری تھی ، اللہ ان کی مغفرت کرے!پھر ابن خطاب رضی اللہ عنہ آئے تو انھوں نے ان سے ڈول لے لیا ، میں نے کسی شخص کو ان سے زیادہ قوت کے ساتھ ڈول کھینچتےنہیں دیکھا ، یہاں تک کہ لوگ ( سیراب ہو کر ) چلے گئے ۔ اور حوض پوری طرح بھراہوا تھا ( اس میں سے ) پانی امڈ رہا تھا ۔ "
Abdullah bin 'Umar رضی اللہ عنہ reported:
Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) as saying: I saw (in a dream) as if I was drawing water with a leathern bucket on a wooden pulley. There came Abu Bakr and he drew out a bucketful or two and as he drew out, some weakness (was perceived in it) (may Allah, the Exalted and Glorious, forgive him). Then Umar came in order to serve water -and the bucket was changed into a large leather bucket and I did not see such a wonderful man amongst persons (drawing water) and he went on serving water to the people until they were fully satisfied and then went to their resting places.
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ اور محمد بن عبداللہ بن نمیر نے بیان کیا اور یہ لفظ ابوبکر کا ہے، انہوں نے کہا: ہم سے محمد بن بشر نے بیان کیا، ہم سے عبید اللہ بن عمر نے بیان کیا, ابو بکر بن سالم نے سالم بن عبد اللہ سے ، انھوں نے عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما یا : " میں نے ( خواب میں دیکھا ) کہ جیسے میں ایک کنویں پر چرخی والے ڈول سے پانی نکا ل رہا ہوں ، پھر ابو بکر آگئے ، انھوں نے ایک یا دوڈول نکا لے اللہ تبارک وتعا لیٰ ان کی مغفرت فرما ئے ، انھوں نے کچھ کمزوری سے ڈول نکالے ۔ پھر عمر آئے انھوں نے پانی نکا لا تو وہ بہت بڑا ڈول بن گیا ، میں نے لوگوں میں کو ئی غیر معمولی آدمی بھی ایسا نہیں دیکھا جوان جیسی طاقت کا مظاہرہ کرسکتا ہو یہاں تک کہ لو گ سیراب ہو گئے اور انھوں نے جانوروں کو سیراب کرکے ) آرام کرنے کی جگہ پہنچادیا ۔ "
Salim bin 'Abdullah reported on the authority of his father some of the dreams of Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) pertaining to Abu Bakr and Umar bin Khattab (رضی اللہ عنہ) and a hadith like this.
ہم سے احمد بن عبداللہ بن یونس نے بیان کیا، کہا ہم سے زہیر نے بیان کیا, موسیٰ بن عقبہ نے سالم بن عبداللہ سے ، انھوں نے اپنے والد سے حضرت ابو بکر اور عمربن خطاب رضی اللہ عنہ کے بارے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا خواب ان سب کی حدیث کی طرح روایت کیا ۔
Jabir رضی اللہ عنہ reported:
Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) as saying: I entered Paradise and saw in it a house or a palace. I said: For whom is it reserved? They (the Angels) said: It is for 'Umar b. Khattab. (The Prophet said to 'Umar bin Khattab): I intenied to get into it but I thought of your feelings. Thereupon 'Umar رضی اللہ عنہ wept and said: Apostle of Allah, could I feel any jealousy in your case?
محمد بن عبد اللہ بن نمیر اور زہیر بن حرب نے کہا : ۔ الفاظ انھی ( زہیر ) کے ہیں ۔ ہمیں سفیان بن عیینہ نے حدیث بیان کی ، انھوں نے عمرواور ابن منکدر سے انھوں نے جابر رضی اللہ عنہ سے انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ۔ کہ
آپ نے فرما یا : " میں جنت میں داخل ہوا تو میں نے وہاں ایک گھر یا محل دیکھا میں نے پو چھا : یہ کس کا ہے؟فرشتوں نے کہا : یہ عمر بن خطاب کا ( محل ) ہے ، میں نے اس میں داخل ہو نے کا ارادہ کیا ، پھر مجھے تمھا ری غیرت یاد آگئی ۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ رونے لگے اور عرض کی : اے اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا آپ سے غیرت کی جا تی ہے؟
It was narrated from Ibn-Munkadir: "I heard Jabir رضی اللہ عنہ (narrate) from the prophet (ﷺ).." a Hadith like that of Ibn Numair nd Zahair (no. 6199).
اسحٰق بن ابرا ہیم ، ابو بکر بن ابی شیبہ اور عمرو ناقد نے سفیان بن عیینہ سے حدیث بیان کی ، انھوں نے عمرو اور ابن منکدر سے روایت کی ، انھوں نے کہا : میں نے جابر رضی اللہ عنہ سے سنا ، انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ابن نمیر اور زہیر کی حدیث کے مانند روایت کی ۔
Abu Huraira رضی اللہ عنہ reported:
Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) as saying: While I was asleep I saw myself in Paradise and a woman performing ablution by the side of a palace. I said: For whom is it meant? They said: It is meant for 'Umar bin Khattab رضی اللہ عنہ . (The Holy Prophet) said: There came across my mind the feeling of Umar رضی اللہ عنہ and so I turned back and went away. Abu Huraira رضی اللہ عنہ said: 'Umar رضی اللہ عنہ wept as we were present in that meeting with Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) amongst us and Umar رضی اللہ عنہ said: Allah's Messenger, may my father and mother be taken as ransom for you. Could I at all feel any jealousy about you?
مجھ سے حرملہ بن یحییٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے ابن وہب نے بیان کیا, یونس نے کہا : ابن شہاب نے انھیں سعید بن مسیب سے خبر دی ، انھوں نے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے ، انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ
آپ نے فر ما یا : " میں سویا ہوا تھا کہ میں نے خود کو جنت میں دیکھا تو وہاں ایک عورت ، ایک محل کے جانبی حصے میں وضو کر رہی تھی ۔ میں نے پو چھا : یہ کس کا ( محل ) ہے ؟انھوں نے بتا یا یہ عمر خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا ہے ۔ مجھے عمر کی غیر ت یاد آئی تو میں پیٹھ پھیر کر واپس آگیا ۔ " ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : اس پر عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ رونے لگے جبکہ ہم اس مجلس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے پھر عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : میرے ماں باپ آپ پر قربان !کیا میں آپ پر غیرت کروں گا ؟
This hadith has been narrated on the authority of Ibn Shihab with the same chain of transmitters.
مجھ سے عمرو ناقد، حسن الحلوانی اور عبد بن حمید نے بیان کیا، کہا: ہم سے یعقوب بن ابراہیم نے بیان کیا، ہم سے میرے والد نے بیان کیا, صالح نے ابن شہاب سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانندروایت کی ۔
Sa'd bin Waqqas narrated that his father sa'd رضی اللہ عنہ said:
Umar رضی اللہ عنہ sought permission from Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) to visit him when some women of the Quraish were busy in talking with him and raising their voices above his Voiee. When 'Umar رضی اللہ عنہ sought permission they stood up and went hurriedly behind the curtain. Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) gave him permission smilingly. Thereupon 'Umar رضی اللہ عنہ said: Allah's Messenger, may Allah keep you happy all your life. Then Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) said: I wonder at these women who were with me and no sooner did they hear your voice, they immediately went behind the curtain. Thereupon 'Umar رضی اللہ عنہ said: Allah's Messenger, you have more right that they should fear you. Then Umar رضی اللہ عنہ (addressing the women) said: O ye enemies of yourselves, do you fear me and fear not the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم )? They said: Yes, you are harsh and strict as compared to the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ). Thereupon, Allah's Messenger (ﷺ) said: By Him in Whose Hand is my life, if satan would encounter you in the way he would certainly take a different way from that of yours.
ہم سے منصور بن ابی مزاحم نے بیان کیا, ابرا ہیم بن سعد نے صالح سے ، انھوں نے ابن شہاب سے روایت کی ، کہا : مجھے عبد الحمید بن عبد الرحمٰن بن زید نے بتا یا کہ انھیں محمد بن سعد بن ابی وقاص نے خبر دی ، ان کے والد سعد رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ
حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضری کی اجازت طلب کی ، اس وقت قریش کی کچھ خواتین آپ کے پاس ( بیٹھی ) آپ سے گفتگو کر رہی تھیں ، بہت بول رہی تھیں ، ان کی آوازیں بھی اونچی تھیں ، جب حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اجازت مانگی تو وہ کھڑی ہو کر جلدی سے پردے میں جا نے لگیں ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نےان کو اجازت دی ، آپ اس وقت ہنس رہے تھے ۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! اللہ تعا لیٰ آپ کے دندان مبارک کو مسکراتا رکھے!اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " میں ان عورتوں پر حیران ہوں جو میرے پاس بیٹھی ہو ئی تھیں تمھا ری آواز سنی تو فوراً پردے میں چلی گئیں ۔ " حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کی : اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !آپ کا زیادہ حق ہے کہ یہ آپ سے ڈریں پھر حضرت عمر کہنے لگے ۔ اپنی جان کی دشمنو!مجھ سے ڈرتی ہو اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نہیں ڈرتی ہو؟ان عورتوں نے کہا : ہاں تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت سخت اور درشت مزاج ہو ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جا ن ہے!جب کبھی شیطان تمھیں کسی راستے میں چلتے ہو ئے ملتا ہے تو تمھا را راستہ چھوڑ کر دوسرا راستہ اختیار کر لیتا ہے ۔
Abu Huraira رضی اللہ عنہ reported:
Umar bin Khattab رضی اللہ عنہ came to Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) while there were some women with him and they were raising their voices above the voice of Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) and when Umar رضی اللہ عنہ sought permission to get into the house they went behind the curtain hurriedly. The rest of the hadith is the same.
ہم سے ہارون بن معروف نے بیان کیا، ہم سے عبدالعزیز بن محمد نے بیان کیا، سہیل نے اپنے والد صالح سے ، انھوں نے ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ
عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو ئے اور ( اس وقت ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کچھ خواتین تھیں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے بلند آواز سے باتیں کر رہی تھیں ۔ جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ( اندر آنےکی ) اجازت مانگی تو وہ جلدی سے پردے میں چلی گئیں ۔ پھر انھوں نے زہری کی حدیث کے مانند بیان کیا ۔
A'isha رضی اللہ عنہا reported:
Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) as saying: There had been among the people before you inspired persons and if there were any such among my Umma Umar bin Khattab would be one of them. Ibn Wahb explained the word Muhaddathun as those who receive hint from the High (Mulhamun).
مجھ سے ابو الطاہر احمد بن عمرو بن سرح نے بیان کیا، کہا ہم سے عبداللہ بن وہب نے بیان کیا, ابرا ہیم سعد نے اپنے والد سعد بن ابرا ہیم سے ، انھوں نے ابو سلمہ سے ، انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے اور انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ، کہ
آپ نے فر ما یا کرتے تھے ۔ " تم سے پہلے کی امتوں میں ایسے لوگ تھے جن سے بات کی جا تی تھیں اگر ان میں سے کو ئی میری امت میں ہے تو عمر خطاب انھی میں سے ہے ۔ " ابن وہب نے کہا : مُحَدَّثُونَکا مطلب ہے جن پر الہام کیا جا تا ہو ۔
This hadith has been narrated on the authority of Sa'd bin Ibrahim with the same chain of transmitters.
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے لیث نے بیان کیا، ہم سے عمرو ناقد نے بیان کیا اور ہم سے زہیر بن حرب نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ابن عیینہ نے بیان کیا، ان دونوں سے ان دونوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سند سے ابن عجلان، سعد ابرا ہیم نے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند روایت کی ۔
Ibn Umar رضی اللہ عنہ reported:
Umar رضی اللہ عنہ as saying: My lord concorded with (my judgments) on three occasions. In case of the Station of Ibrahim, in case of the observance of veil and in case of the prisoners of Badr.
ہم سے عقبہ بن مکرم عمی نے بیان کیا، ہم سے سعید بن عامر نے بیان کیا، انہوں نے کہا: جویریہ بن اسماء، نافع نے ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا
حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا : " میں نے تین باتوں میں اپنے رب کی موافقت کی ، مقام ابرا ہیم ( کو نماز کی جگہ بنا نے ) میں حجاب میں اور بدر کے قیدیوں میں ( کہ ان کو قتل کر دیا جا ئے ۔ )
Ibn Umar رضی اللہ عنہ reported:
When 'Abdullah bin Ubayy bin Salul (the hypocrite) died, his son Abdullah bin Abdullah came to Allah's Messenger (صلی اللہ علیہ وسلم ) and asked him to give his shirt which should be used for the coffin of his father. He gave that to him. Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) stood up to say prayer over him Thereupon I Umar رضی اللہ عنہ caught hold of the clothe of Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) and said: Allah's Messenger, are you going to offer prayer, whereas Allah has forbidden to offer prayer for him, whereupon Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) said: Allah has given me a choice saying: Ask forgiveness for them or you may not ask for them; even if you ask for them seventy times, I will make an addition to the seventy. He was a hypocrite and Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) said prayer over him that Allah, the Exalted and Glorious, revealed the verse: And never pray over any one of them that has died and never should you stand by his grave (ix. 84).
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا, ابو اسامہ نے کہا : ہمیں عبید اللہ نے نافع سے حدیث بیان کی ، انھوں نے ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا
جب ( رئیس المنافقین ) عبد اللہ بن ابی ابن سلول مر گیا تو اس کا بیٹا عبد اللہ بن عبد اللہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ سے درخواست کی کہ آپ اپنی قمیص عنایت فر ما ئیں جس میں وہ اپنے باپ کو کفن دے ، آپ نے اسے عنایت کر دی ، پھر اس نے یہ درخواست کی کہ آپ اس کا نماز جنازہ پڑھا ئیں ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کا جنازہ پڑھانے کے لیے کھڑے ہو ئے تو حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کھڑے ہو ئے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا کپڑا پکڑااور عرض کی : اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !کیا آپ اس شخص کی نماز جنازہ پڑھیں گے جبکہ اللہ تعا لیٰ نے آپ کو اس کی نماز جنازہ پڑھنے سے منع فر ما یا ہے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " اللہ نے مجھے اختیار دیا ہے اور فر ما یا ہے : " آپ ان کے لیے بخشش کی دعا کریں یا نہ کریں ۔ آپ ان کے لیے ستر بار بخشش کی دعا کریں گے ( تو بھی اللہ ان کو معاف نہیں کرے گا ۔ ) تو میں ستر سے زیادہ بار بخشش مانگ لوں گا ۔ انھوں ( حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) نے کہا : وہ منا فق ہے ۔ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی نماز جنازہ پڑھا دی ۔ اس پر اللہ تعا لیٰ نے یہ آیت نازل فر مائی : " ان میں سے کسی کی بھی ، جب وہ مرجائے کبھی نماز جنازہ نہ پڑھیں اور نہ ان کی قبر پر کھڑےہوں ۔ "
This hadith has been narrated on the authority of 'Ubaidullah with the same chain of transmitter but with the addition of the words:
He (ﷺ) abandoned saying prayer over the hypocrites who had died.
ہم سے محمد بن المثنی اور عبید اللہ بن سعید نے بیان کیا، کہا: یحییٰ قطان نے عبید اللہ سے اسی سند کے ساتھ ابو اسامہ کی حدیث کے ہم معنی روایت کی اور مزید بیان کیا : کہا
تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی نماز جنازہ پڑھنی چھوڑ دی ۔