Back to Sahih Muslim

The Book of the Merits of the Companions

كتاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ

Chapter 45

Hadith 6289
Sahih
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ النَّاسَ كَانُوا يَتَحَرَّوْنَ بِهَدَايَاهُمْ يَوْمَ عَائِشَةَ، يَبْتَغُونَ بِذَلِكَ مَرْضَاةَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
English

A'isha رضی اللہ عنہا reported:

People sent their gifts when it was the turn of 'A'isha رضی اللہ عنہا seeking thereby the pleasure of Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌).

Urdu

ہم سے ابو کریب نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدہ نے، ہشام کی سند سے، اپنے والد سے, حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ

لوگ اپنے ہدیے بھیجنے کے لئے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا ( کی باری ) کا دن ڈھونڈا کرتے تھے ، اس طرح وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خوش کرناچاہتے تھے ۔

Hadith 6290
Sahih
حَدَّثَنِي الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ النَّضْرِ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ - قَالَ عَبْدٌ: حَدَّثَنِي وقَالَ الْآخَرَانِ: حَدَّثَنَا - يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ صَالِحٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ، أَنَّ عَائِشَةَ، زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: أَرْسَلَ أَزْوَاجُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاطِمَةَ بِنْتَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَاسْتَأْذَنَتْ عَلَيْهِ وَهُوَ مُضْطَجِعٌ مَعِي فِي مِرْطِي، فَأَذِنَ لَهَا، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّ أَزْوَاجَكَ أَرْسَلْنَنِي إِلَيْكَ يَسْأَلْنَكَ الْعَدْلَ فِي ابْنَةِ أَبِي قُحَافَةَ، وَأَنَا سَاكِتَةٌ، قَالَتْ فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «أَيْ بُنَيَّةُ أَلَسْتِ تُحِبِّينَ مَا أُحِبُّ؟» فَقَالَتْ: بَلَى، قَالَ «فَأَحِبِّي هَذِهِ» قَالَتْ: فَقَامَتْ فَاطِمَةُ حِينَ سَمِعَتْ ذَلِكَ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَرَجَعَتْ إِلَى أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَخْبَرَتْهُنَّ بِالَّذِي قَالَتْ، وَبِالَّذِي قَالَ لَهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْنَ لَهَا: مَا نُرَاكِ أَغْنَيْتِ عَنَّا مِنْ شَيْءٍ، فَارْجِعِي إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُولِي لَهُ: إِنَّ أَزْوَاجَكَ يَنْشُدْنَكَ الْعَدْلَ فِي ابْنَةِ أَبِي قُحَافَةَ فَقَالَتْ فَاطِمَةُ: وَاللهِ لَا أُكَلِّمُهُ فِيهَا أَبَدًا، قَالَتْ عَائِشَةُ، فَأَرْسَلَ أَزْوَاجُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَيْنَبَ بِنْتَ جَحْشٍ، زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَهِيَ الَّتِي كَانَتْ تُسَامِينِي مِنْهُنَّ فِي الْمَنْزِلَةِ عِنْدَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَمْ أَرَ امْرَأَةً قَطُّ خَيْرًا فِي الدِّينِ مِنْ زَيْنَبَ. وَأَتْقَى لِلَّهِ وَأَصْدَقَ حَدِيثًا، وَأَوْصَلَ لِلرَّحِمِ، وَأَعْظَمَ صَدَقَةً، وَأَشَدَّ ابْتِذَالًا لِنَفْسِهَا فِي الْعَمَلِ الَّذِي تَصَدَّقُ بِهِ، وَتَقَرَّبُ بِهِ إِلَى اللهِ تَعَالَى، مَا عَدَا سَوْرَةً مِنْ حِدَّةٍ كَانَتْ فِيهَا، تُسْرِعُ مِنْهَا الْفَيْئَةَ، قَالَتْ: فَاسْتَأْذَنَتْ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَرَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعَ عَائِشَةَ فِي مِرْطِهَا، عَلَى الْحَالَةِ الَّتِي دَخَلَتْ فَاطِمَةُ عَلَيْهَا وَهُوَ بِهَا، فَأَذِنَ لَهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّ أَزْوَاجَكَ أَرْسَلْنَنِي إِلَيْكَ يَسْأَلْنَكَ الْعَدْلَ فِي ابْنَةِ أَبِي قُحَافَةَ، قَالَتْ: ثُمَّ وَقَعَتْ بِي، فَاسْتَطَالَتْ عَلَيَّ، وَأَنَا أَرْقُبُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَرْقُبُ طَرْفَهُ، هَلْ يَأْذَنُ لِي فِيهَا، قَالَتْ: فَلَمْ تَبْرَحْ زَيْنَبُ حَتَّى عَرَفْتُ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَكْرَهُ أَنْ أَنْتَصِرَ، قَالَتْ: فَلَمَّا وَقَعْتُ بِهَا لَمْ أَنْشَبْهَا حَتَّى أَنْحَيْتُ عَلَيْهَا، قَالَتْ: فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: وَتَبَسَّمَ إِنَّهَا «ابْنَةُ أَبِي بَكْرٍ».
English

A'isha رضی اللہ عنہا , the wife of Allah's Apostle ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌) said:

The wives of Allah's Apostle ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌) sent Fatima رضی اللہ عنہا, the daughter of Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ), to Allah's Apostle ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌). She sought permission to get in as he had been lying with me in my mantle. He gave her permission and she said: Allah's Messenger, verily, your wives have sent me to you in order to ask you to observe equity in case of the daughter of Abu Quhafa. She (`A'isha رضی اللہ عنہا) said: I kept quiet. Thereupon Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) said to her (Fatima): O daughter, don't you love whom I love? She said: Yes, (I do). Thereupon he said: I love this one. Fatima رضی اللہ عنہا then stood up as she heard this from Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌) and went to the wives of Allah's Apostle ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) and informed them of what she had said to him and what Allah's messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) had said to her. Thereupon they said to her: We think that you have been of no avail to us. You may again go to Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) and tell him that his wives seek equity in case of the daughter of Abu Quhafa. Fatima رضی اللہ عنہا said: By Allah, I will never talk to him about this matter. `A'isha رضی اللہ عنہا (further) reported: The wives of Allah's Apostle ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) then sent Zainab bin Jahsh رضی اللہ عنہا, the wife of Allah's Apostle ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ), and she was one who was somewhat equal in rank with me in the eyes of Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) and I have never seen a woman more advanced in religious piety than Zainab رضی اللہ عنہا, more God-conscious, more truthful, more alive to the ties of blood, more generous and having more sense of self-sacrifice in practical life and having more charitable disposition and thus more close to God, the Exalted, than her. She, however, lost temper very soon but was soon calm. Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) permitted her to enter as she (`A'isha رضی اللہ عنہا) was along with Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) in her mantle, in the same very state when Fatima رضی اللہ عنہا had entered. She said: Allah's Messenger, your wives have sent me to you seeking equity in case of the daughter of Abu Quhafa. She then came to me and showed harshness to me and I was seeing the eyes of Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) whether he would permit me. Zainab went on until I came to know that Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) would not disapprove if I retorted. Then I exchanged hot words until I made her quiet. Thereupon Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) smiled and said: She is the daughter of Abu Bakr رضی اللہ عنہ .

Urdu

مجھ سے حسن بن علی الحلوانی، ابوبکر بن النضر اور عبد بن حمید نے بیان کیا - عبد نے کہا: اس نے مجھ سے بیان کیا، اور باقی دو نے کہا: اس نے ہمیں بتایا - میرے والد یعقوب بن ابراہیم بن سعد نے مجھ سے کہا, صالح نے ابن شہاب سے روایت کی ، کہا : مجھے محمد بن عبدالرحمن بن حارث بن ہشام نے بتایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اہلیہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا : کہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات رضی اللہ عنہن نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی سیدہ فاطمۃالزہراء رضی اللہ عنہا کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بھیجا ۔ انہوں نے اجازت مانگی ، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم میرے ساتھ میری چادر میں لیٹے ہوئے تھے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اجازت دی تو انہوں نے کہا کہ یا رسول اللہ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات نے مجھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بھیجا ہے ، وہ چاہتی ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے ساتھ ابوقحافہ کی بیٹی میں انصاف کریں ( یعنی جتنی محبت ان سے رکھتے ہیں اتنی ہی اوروں سے رکھیں ۔ اور یہ امر اختیاری نہ تھا اور سب باتوں میں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم انصاف کرتے تھے ) اور میں خاموش تھی ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اے بیٹی! کیا تو وہ نہیں چاہتی جو میں چاہوں؟ وہ بولیں کہ یا رسول اللہ! میں تو وہی چاہتی ہوں جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم چاہیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تو عائشہ سے محبت رکھ ۔ یہ سنتے ہی فاطمہ اٹھیں اور ازواج مطہرات کے پاس گئیں اور ان سے جا کر اپنا کہنا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمانا بیان کیا ۔ وہ کہنے لگیں کہ ہم سمجھتیں ہیں کہ تم ہمارے کچھ کام نہ آئیں ، اس لئے پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جاؤ اور کہو کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج ابوقحافہ کی بیٹی کے مقدمہ میں انصاف چاہتی ہیں ( ابوقحافہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے والد تھے تو عائشہ رضی اللہ عنہا کے دادا ہوئے اور دادا کی طرف نسبت دے سکتے ہیں ) ۔ سیدہ فاطمۃالزہراء رضی اللہ عنہا نے کہا کہ اللہ کی قسم! میں تو اب عائشہ رضی اللہ عنہا کے مقدمہ میں کبھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے گفتگو نہ کروں گی ۔ ام المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ آخر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج نے ام المؤمنین زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بھیجا اور میرے برابر کے مرتبہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے وہی تھیں اور میں نے کوئی عورت ان سے زیادہ دیندار ، اللہ سے ڈرنے والی ، سچی بات کہنے والی ، ناطہٰ جوڑنے والی اور خیرات کرنے والی نہیں دیکھی اور نہ ان سے بڑھ کر کوئی عورت اللہ تعالیٰ کے کام میں اور صدقہ میں اپنے نفس پر زور ڈالتی تھی ، فقط ان میں ایک تیزی تھی ( یعنی غصہ تھا ) اس سے بھی وہ جلدی پھر جاتیں اور مل جاتیں اور نادم ہو جاتی تھیں ۔ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت چاہی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی حال میں اجازت دی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم میری چادر میں تھے ، جس حال میں سیدہ فاطمۃالزہراء رضی اللہ عنہا آئی تھیں ۔ انہوں نے کہا کہ یا رسول اللہ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج ابوقحافہ کی بیٹی کے مقدمہ میں انصاف چاہتی ہیں ۔ پھر یہ کہہ کر مجھ پر آئیں اور زبان درازی کی اور میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نگاہ کو دیکھ رہی تھی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے جواب دینے کی اجازت دیتے ہیں یا نہیں ، یہاں تک کہ مجھے معلوم ہو گیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جواب دینے سے برا نہیں مانیں گے ، تب تو میں بھی ان پر آئی اور تھوڑی ہی دیر میں ان کو لاجواب کر دیا یا ان پر غالب آ گئی ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسکرائے اور فرمایا کہ یہ ابوبکر رضی اللہ عنہ کی بیٹی ہے ۔

Hadith 6291
Sahih
وحَدَّثَنِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ قُهْزَاذَ، قَالَ: عَبْدُ اللهِ بْنُ عُثْمَانَ، حَدَّثَنِيهِ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ الْمُبَارَكِ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ، مِثْلَهُ فِي الْمَعْنَى، غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ: فَلَمَّا وَقَعْتُ بِهَا لَمْ أَنْشَبْهَا أَنْ أَثْخَنْتُهَا غَلَبَةً.
English

A similar report (as Hadith no. 6260) was narrated from Az-Zuhri with this chain of narrators, except that he said:

(Aishah said...) ''When I started responding, I defeated her (in argument)."

Urdu

اور مجھ سے محمد بن عبداللہ بن قحزاز نے بیان کیا، کہا: عبداللہ بن عثمان نے مجھ سے عبداللہ بن مبارک کی سند سے بیان کیا، یونس نے زہری سے اسی سند کے ساتھ ، معنی میں بالکل اسی کے مانند روایت کی ، مگر انھوں نے یوں کہا

جب میں نے ان کے بارے میں بات کی تو انھیں مہلت تک نہ دی کہ میں نے غالب آکر ان کو بے بس کردیا ۔

Hadith 6292
Sahih
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، قَالَ: وَجَدْتُ فِي كِتَابِي عَنْ أَبِي أُسَامَةَ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: إِنْ كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، لَيَتَفَقَّدُ يَقُولُ: «أَيْنَ أَنَا الْيَوْمَ؟ أَيْنَ أَنَا غَدًا؟» اسْتِبْطَاءً لِيَوْمِ عَائِشَةَ، قَالَتْ: فَلَمَّا كَانَ يَوْمِي قَبَضَهُ اللهُ بَيْنَ سَحْرِي وَنَحْرِي.
English

A'isha رضی اللہ عنہا reported:

Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌) during his last illness) inquired: Where I would be tomorrow, where I would be tomorrow (thinking, that the turn of 'A'isha رضی اللہ عنہا was not very near) and when it was my turn, Allah called him to his Heavenly Home and his head was between my neck and chest.

Urdu

ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا: میں نے اپنی کتاب میں ابو اسامہ کی سند سے، ہشام سے اور ان کے والد سے, عروہ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی ، کہا

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ( بیماری کے دوران میں ) دریافت کرتے فرماتے تھے : " آج میں کہاں ہوں؟کل میں کہاں ہوں گا؟ " آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو لگتا تھا کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی باری کا دن آہی نہیں رہا ۔ انھوں نےکہا : جب میری باری کا دن آیاتو اللہ نے آپ کو اس طرح اپنے پاس بلایا کہ آپ میرے سینے اور حلق کے درمیان ( سر رکھے ہوئے ) تھے ۔

Hadith 6293
Sahih
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، فِيمَا قُرِئَ عَلَيْهِ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّهَا أَخْبَرَتْهُ أَنَّهَا سَمِعَتْ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: قَبْلَ أَنْ يَمُوتَ وَهُوَ مُسْنِدٌ إِلَى صَدْرِهَا وَأَصْغَتْ إِلَيْهِ وَهُوَ يَقُولُ: «اللهُمَّ اغْفِرْ لِي وَارْحَمْنِي، وَأَلْحِقْنِي بِالرَّفِيقِ».
English

A'isha رضی اللہ عنہا reported:

Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌) at the time of breathing his last was reclining against her chest and she was leaning over him and listening to him as he was saying: O Allah, grant me pardon, show mercy to me, enjoin me to companions (on High).

Urdu

ہم سے قتیبہ بن سعید نےمالک بن انس نے ہشام بن عروہ سے ، انھوں نے عباد بن عبداللہ بن زبیر سے ، عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وفات سے پہلے فرمارہے تھے اور آپ ان کے سینے سے ٹیک لگائے ہوئے تھے اور انھوں نے کان لگا کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بات سنی ، آپ فرمارہے تھے : " اللہ!مجھے بخش دے ، مجھ پر رحم فرما اور مجھے رفیق ( اعلیٰ ) کے ساتھ ملادے ۔ "

Hadith 6294
Sahih
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَأَبُو كُرَيْبٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، ح وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ كُلُّهُمْ، عَنْ هِشَامٍ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ.
English

This hadith has been narrated on the authority of Hisham through another chain of transmitters.

Urdu

ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ اور ابو کریب نے بیان کیا، انہوں نے کہا: ابواسامہ ، عبداللہ بن نمیر اورعبدہ بن سلیمان ، سب نے ہشام سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند روایت کی ۔

Hadith 6295
Sahih
وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَابْنُ بَشَّارٍ - وَاللَّفْظُ لِابْنِ الْمُثَنَّى - قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: كُنْتُ أَسْمَعُ أَنَّهُ لَنْ يَمُوتَ نَبِيٌّ حَتَّى يُخَيَّرَ بَيْنَ الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ، قَالَتْ: فَسَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فِي مَرَضِهِ الَّذِي مَاتَ فِيهِ، وَأَخَذَتْهُ بُحَّةٌ يَقُولُ: «مَعَ الَّذِينَ أَنْعَمَ اللهُ عَلَيْهِمْ مِنَ النَّبِيِّينَ وَالصِّدِّيقِينَ، وَالشُّهَدَاءِ، وَالصَّالِحِينَ وَحَسُنَ أُولَئِكَ رَفِيقًا» قَالَتْ: فَظَنَنْتُهُ خُيِّرَ حِينَئِذٍ.
English

A'isha رضی اللہ عنہا reported:

I heard that never a prophet dies until he is given an option to opt the life of (this) world or that of the Hereafter. She further said: I heard Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) say in his last illness in which he' died. I heard him saying in gruffness of the voice: Along with those persons upon whom Allah bestowed favours from amongst the Apostles, the testifiers of truth, the martyrs, the pious and goodly company are they (iv. 69). (It was on bearing these words) that I thought that he had been given choice (and he opted to live with these pious persons in the Paradise).

Urdu

ہم سے محمد بن المثنیٰ اور ابن بشار نے بیان کیا اور یہ قول ابن المثنیٰ کا ہے انہوں نے کہا: محمد بن جعفر نے کہا : ہمیں شعبہ نے سعد بن ابرا ہیم سے حدیث بیان کی ، انھوں نے عروہ سے ، انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی ، فر ما یا

میں سناکرتی تھی ۔ کہ کو ئی نبی فوت نہیں ہو تا یہاں تک کہ اس کو دنیا آخرت کے درمیان اختیار دیا جا تا ہے کہا : تو میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو مرض الموت میں یہ فر ما تے ہو ئے سنا ۔ اس وقت آپ کی آواز بھا ری ہو گئی تھی آپ فر ما رہے تھے : " ان لوگوں کے ساتھ جن پر اللہ تعا لیٰ نے انعام فر ما یا : " یعنی انبیاء ، صدیقین شہداء اور صالحین ( کے ساتھ ) اور یہی بہترین رفیق ہیں ۔ " کہا : تو میں نے سمجھ لیا کہ اس وقت آپ کو اختیا ردے دیا گیا ہے ۔

Hadith 6296
Sahih
حَدَّثَنَاهُ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، وَحَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُعَاذٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، قَالَا: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سَعْدٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ.
English

This hadith has been narrated on the authority of Sa'd with the same chain of transmitters.

Urdu

ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا, وکیع اور معاذ نے کہا : ہمیں شعبہ نےسعد ( بنابرا ہیم ) سے اسی سند کے ساتھ اسکے مانند روایت کی ۔

Hadith 6297
Sahih
حَدَّثَنِي عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ جَدِّي، حَدَّثَنِي عُقَيْلُ بْنُ خَالِدٍ، قَالَ: قَالَ ابْنُ شِهَابٍ، أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ، وَعُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، فِي رِجَالٍ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ أَنَّ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ وَهُوَ صَحِيحٌ: «إِنَّهُ لَمْ يُقْبَضْ نَبِيٌّ قَطُّ حَتَّى يُرَى مَقْعَدُهُ فِي الْجَنَّةِ ثُمَّ يُخَيَّرُ» قَالَتْ عَائِشَةُ: فَلَمَّا نَزَلَ بِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرَأْسُهُ عَلَى فَخِذِي غُشِيَ عَلَيْهِ سَاعَةً، ثُمَّ أَفَاقَ فَأَشْخَصَ بَصَرَهُ إِلَى السَّقْفِ، ثُمَّ قَالَ: «اللهُمَّ الرَّفِيقَ الْأَعْلَى» قَالَتْ عَائِشَةُ: قُلْتُ: إِذًا لَا يَخْتَارُنَا. قَالَتْ عَائِشَةُ: وَعَرَفْتُ الْحَدِيثَ الَّذِي كَانَ يُحَدِّثُنَا بِهِ وَهُوَ صَحِيحٌ فِي قَوْلِهِ: «إِنَّهُ لَمْ يُقْبَضْ نَبِيٌّ قَطُّ حَتَّى يَرَى مَقْعَدَهُ مِنَ الْجَنَّةِ، ثُمَّ يُخَيَّرُ» قَالَتْ عَائِشَةُ: فَكَانَتْ تِلْكَ آخِرُ كَلِمَةٍ تَكَلَّمَ بِهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَوْلَهُ: «اللهُمَّ الرَّفِيقَ الْأَعْلَى».
English

A'isha رضی اللہ عنہا the wife of Allah's Apostle ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌), reported:

He used to say: Never a prophet dies in a state that he is not made to see his abode in Paradise, and then given a choice. 'A'isha رضی اللہ عنہا said that when Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) was about to leave the world, his head was over her thigh and he had fallen into swoon three times. When he felt relief his eyes were fixed at the ceiling. He then said: O Allah, along with the high companions (i.e. along with the Apostles who live in the most elevated place of the Paradise). (On hearing these words), I then said (to myself) He is not going to opt us and I remembered a hadith which he had narrated to us as he was healthy and in which he said: No prophet dies until he sees his abode in Paradise, he is then given a choice. 'A'isha رضی اللہ عنہا said: These were the last words which Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) spoke (the words are): O Allah, with companions on High.

Urdu

مجھ سے عبدالملک بن شعیب بن لیث بن سعد نے بیان کیا، مجھ سے میرے والد نے بیان کیا، مجھ سے میرے دادا عقیل بن خالد نے بیان کیا، انہوں نے کہا: ابن شہاب نے کہا , مجھے سعید بن مسیب اور عروہ بن زبیر نے بہت سے اہل علم لوگوں کی مو جو دگی میں خبردی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اہلیہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی تندرستی کے زمانے میں فرما یا کرتے تھے ۔ "" کسی نبی کی روح اس وقت تک قبض نہیں کی جا تی ۔ یہاں تک کہ اسے جنت میں اپنا مقام دکھا دیا جا تا ہے ، پھر اس کو اختیا ر دیا جا تا ہے ۔ "" حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے کہا : جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رحلت کا وقت آیا اور اس وقت آپ کاسر میرے زانو پر تھا ۔ آپ کچھ دیر غشی طاری رہی پھر آپ کو افاقہ ہوا تو آپ نے چھت کی طرف نگا ہیں اٹھا ئیں ، پھر فر ما یا : "" اے اللہ !رفیق اعلیٰ! "" حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے کہا : میں نے ( دل میں ) ) کہا : اب آپ ہمیں نہیں چنیں گے ۔ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے فر ما یا : اور میں نے وہ حدیث پہچان لی جو آپ ہم سے بیان فر ما یا کرتے تھے ۔ وہ آپ کےاپنے الفاظ میں بالکل صحیح تھی : کسی نبی کو اس وقت تک کبھی موت نہیں آئی یہاں تک کہ اسے جنت میں اس کا ٹھکا نا دکھایا جا تا ہے اور اسے ( موت کو قبول کرنے یا مؤخرکرانے کا ) اختیار دیا جا تا ہے ۔ "" حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے کہا : آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فر ما ن : "" اے اللہ !رفیق اعلیٰ ! "" وہ آخری بات تھی جو آپ نے کہی ۔

Hadith 6298
Sahih
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ، وَحَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، كِلَاهُمَا عَنْ أَبِي نُعَيْمٍ، قَالَ عَبْدٌ: حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ أَيْمَنَ، حَدَّثَنِي ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا خَرَجَ أَقْرَعَ بَيْنَ نِسَائِهِ فَطَارَتِ الْقُرْعَةُ عَلَى عَائِشَةَ وَحَفْصَةَ فَخَرَجَتَا مَعَهُ جَمِيعًا، وَكَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِذَا كَانَ بِاللَّيْلِ، سَارَ مَعَ عَائِشَةَ يَتَحَدَّثُ مَعَهَا، فَقَالَتْ حَفْصَةُ لِعَائِشَةَ: أَلَا تَرْكَبِينَ اللَّيْلَةَ بَعِيرِي وَأَرْكَبُ بَعِيرَكِ، فَتَنْظُرِينَ وَأَنْظُرُ؟ قَالَتْ: بَلَى، فَرَكِبَتْ عَائِشَةُ عَلَى بَعِيرِ حَفْصَةَ، وَرَكِبَتْ حَفْصَةُ عَلَى بَعِيرِ عَائِشَةَ، فَجَاءَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى جَمَلِ عَائِشَةَ وَعَلَيْهِ حَفْصَةُ، فَسَلَّمَ ثُمَّ سَارَ مَعَهَا، حَتَّى نَزَلُوا، فَافْتَقَدَتْهُ عَائِشَةُ فَغَارَتْ، فَلَمَّا نَزَلُوا جَعَلَتْ تَجْعَلُ رِجْلَهَا بَيْنَ الْإِذْخِرِ وَتَقُولُ يَا رَبِّ سَلِّطْ عَلَيَّ عَقْرَبًا أَوْ حَيَّةً تَلْدَغُنِي رَسُولُكَ وَلَا أَسْتَطِيعُ أَنْ أَقُولَ لَهُ شَيْئًا.
English

A'isha رضی اللہ عنہا reported:

When Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌) set on a journey, he used to cast lots amongst his wives. Once this lot came out in my favour and that of Hafsa رضی اللہ عنہا . They (Hafsa, and 'A'isha رضی اللہ عنہا ) both went along with him and Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) used to travel (on camel) when it was night along with 'A'isha and talked with her. Hafsa رضی اللہ عنہا said to 'A'isha رضی اللہ عنہا : Would you like to ride upon my camel tonight and allow me to ride upon your camel and you would see (what you do not generally see) and I would see (what I do not see) generally? She said: Yes. So 'A'isha رضی اللہ عنہا rode upon the camel of Hafsa رضی اللہ عنہا and Hafsa رضی اللہ عنہا rode upon the camel of 'A'isha رضی اللہ عنہا and Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) came near the camel of 'A'isha رضی اللہ عنہا. (whereas) Hafsa رضی اللہ عنہا had been riding over that. He greeted her and then rode with her until they came down. She ('A'isha رضی اللہ عنہا) thus missed (the company of the Holy Prophet) and when they sat down, 'A'isha رضی اللہ عنہا felt jealous. She put her foot in the grass and said: O Allah, let the scorpion sting me or the serpent bite me. And so far as thy Messenger is concerned, I cannot say anything about him.

Urdu

ہم سے اسحاق بن ابراہیم الحنظَلی نے بیان کیا اور ہم سے عبد بن حمید نے بیان کیا، ان دونوں نے ابو نعیم کی سند سے کہا: ہم سے ابو نعیم نے بیان کیا۔ ہم سے عبد الواحد بن ایمن نے بیان کیا، مجھ سے ابن ابی ملیکہ نے بیان کیا, قاسم بن محمد نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی ، کہا

جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لے جا تے تو اپنی ازواج کے درمیان قرعہ اندازی کرتے ، ایک مرتبہ حضرت عائشہ اور حضرت حفصہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کےنام قرعہ نکلا ، وہ دونوں آپ کے ساتھ سفر پر نکلیں ، جب را ت کا وقت ہو تا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے ساتھ سفر کرتے اور ان کے ساتھ باتیں کرتے تو حضرت حفصہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے کہا : آج رات تم میرے اونٹ پر کیوں نہیں سوار ہو جا تیں ۔ اور میں تمھا رے اونٹ پر سوار ہو جا تی ہوں ، پھر تم بھی دیکھو اور میں بھی دیکھتی ہوں ۔ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے کہا : کیوں نہیں !پھر حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا حضرت حفصہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے اونٹ پر سوار ہو گئیں اور حضرت حفصہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے اونٹ پر سوار ہو گئیں ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے اونٹ کے پاس آئے تو اس پر حضرت حفصہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا ( سوار ) تھیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام کیا اور ان کے ساتھ چلتے رہے حتی کہ منزل پر اتر گئے ، حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے پاس نہیں پا یا تو انھیں سخت رشک آیا ، جب سب لوگ اترے تو حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا اپنے پاؤں اذخر ( کی گھاس ) میں مار مارکر کہنے لگیں : یارب! مجھ پر کو ئی بچھو یا سانپ مسلط کردے جو مجھے ڈس لے وہ تیرے رسول ہیں اور میں انھیں کچھ کہہ بھی نہیں سکتی ۔

Hadith 6299
Sahih
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ مَسْلَمَةَ بْنِ قَعْنَبٍ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ يَعْنِي ابْنَ بِلَالٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: «فَضْلُ عَائِشَةَ عَلَى النِّسَاءِ كَفَضْلِ الثَّرِيدِ عَلَى سَائِرِ الطَّعَامِ».
English

Anas bin Malik رضی اللہ عنہ reported:

Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) as saying: The excellence of 'A'isha over women is like the excellence of Tharid over all other foods.

Urdu

ہم سے عبداللہ بن مسلمہ بن قعنب نے بیان کیا, سلیمان بن بلال نے عبد اللہ بن عبد الرحمٰن سے ، انھوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا

میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فر ما تے ہو ئے سنا ، " عورتوں پر عائشہ کی فضیلت ایسی ہے جیسی کھا نوں پر ثرید کی فضیلت ۔ "

Hadith 6300
Sahih
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، وَقُتَيْبَةُ، وَابْنُ حُجْرٍ، قَالُوا: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ يَعْنُونَ ابْنَ جَعْفَرٍ، ح وَحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ، كِلَاهُمَا عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَنَسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ، وَلَيْسَ فِي حَدِيثِهِمَا: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَفِي حَدِيثِ إِسْمَاعِيلَ: أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ.
English

This hadith has been narrated on the authority of Anas bin Malik رضی اللہ عنہ through other chains of transmitters.

Urdu

ہم سے یحییٰ بن یحییٰ، قتیبہ اور ابن حجر نے بیان کیا، انہوں نے کہا: اسماعیل بن جعفر اور عبد العزیز بن محمد دونوں نے عبد اللہ بن عبدالرحمٰن سے ، انھوں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے ، انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کے مانند حدیث روایت کی ۔ ان دونوں کی حدیث ( کی سند ) میں یہ الفاظ نہیں " میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا " اور اسماعیل کی حدیث میں یہ الفا ظ ہیں : " انھوں نے انس بن مالک سے سنا ۔ "

Hadith 6301
Sahih
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ سُلَيْمَانَ، وَيَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ، عَنْ زَكَرِيَّاءَ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّهَا حَدَّثَتْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهَا: «إِنَّ جِبْرِيلَ يَقْرَأُ عَلَيْكِ السَّلَامَ» قَالَتْ: فَقُلْتُ: وَعَلَيْهِ السَّلَامُ وَرَحْمَةُ اللهِ.
English

A'isha رضی اللہ عنہا reported:

Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) said to her: Gabriel offered you greetings and I said: So there should be peace and mercy of Allah upon him.

Urdu

ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا, عبد الرحیم بن سلیمان اور یعلیٰ بن عبید نے زکریا سے حدیث بیان کی ، انھوں نےس ( عامر ) شعبی سے ، انھوں نے ابو سلمہ سے انھوں نےحضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ انھوں نے ان ( ابو سلمہ ) کو بتا یا کہ

نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فر مایا : " جبرا ئیل تم کو سلام کہتے ہیں ۔ " کہا : تو میں نے ( جواب میں ) کہا : وعليه السلام ورحمة الله " اور ان پر بھی سلامتی ہو اور اللہ کی رحمت ہو! "

Hadith 6302
Sahih
وَحَدَّثَنَاهُ إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا الْمُلَائِيُّ، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّاءُ بْنُ أَبِي زَائِدَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ عَامِرًا، يَقُولُ: حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّ عَائِشَةَ حَدَّثَتْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهَا، بِمِثْلِ حَدِيثِهِمَا.
English

This hadith has been narrated on the authority of 'A'isha رضی اللہ عنہا through another chain of transmitters.

Urdu

ہم سے اسحاق بن ابراہیم نے بیان کیا, ( ابو بکر کو فی ) ملائی نے کہا : ہمیں زکریا بن ابی زائد ہ نے حدیث بیان کی ۔ انھوں نے کہا : میں عامر ( شعبی ) کو یہ کہتے ہو ئے سنا : مجھے ابو سلمہ بن عبد الرحمٰن نے حدیث بیان کی کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے انھیں حدیث سنائی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فر ما یا ، ان دونوں کی حدیث کے مانند ۔

Hadith 6303
Sahih
وحَدَّثَنَاهُ إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا أَسْبَاطُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ زَكَرِيَّاءَ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ.
English

This hadith has been narrated on the authority of Zakriyya' through another chain of transmitters.

Urdu

اور ہم سے اسحاق بن ابراہیم نے بیان کیا, اسباط بن محمد نے زکریا سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند خبر دی.

Hadith 6304
Sahih
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ، أَخْبَرَنَا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّ عَائِشَةَ، زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَا عَائِشُ هَذَا جِبْرِيلُ يَقْرَأُ عَلَيْكِ السَّلَامَ» قَالَتْ: فَقُلْتُ: وَعَلَيْهِ السَّلَامُ وَرَحْمَةُ اللهِ. قَالَتْ: وَهُوَ يَرَى مَا لَا أَرَى.
English

A'isha رضی اللہ عنہ the wife of Allah's Apostle ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌) reported:

Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌) said: 'A'isha رضی اللہ عنہا , here is Gabriel offering you greetings. She said: 1 made a reply: Let there be peace and blessings of Allah upon him, and added: He sees what I do not see.

Urdu

ہم سے عبداللہ بن عبدالرحمٰن الدارمی نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، کہا ہم سے شعیب نے بیان کیا, زہری نے کہا : مجھے ابو سلمہ بن عبد الرحمٰن نے حدیث بیان کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اہلیہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " اے عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا !یہ جبرا ئیل علیہ السلام ہیں تمھیں سلام کہہ رہے ہیں ۔ " میں نے کہا : ( وعليه السلام ورحمة الله ) ( اور ان پر بھی سلامتی ہو اور اللہ کی رحمت ہو! ) ( حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے ) کہا : آپ وہ کچھ دیکھتے تھے جو میں نہیں دیکھتی تھی ۔

Hadith 6305
Sahih
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ، وَأَحْمَدُ بْنُ جَنَابٍ، كِلَاهُمَا عَنْ عِيسَى، وَاللَّفْظُ لِابْنِ حُجْرٍ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَخِيهِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّهَا قَالَتْ: جَلَسَ إِحْدَى عَشْرَةَ امْرَأَةً، فَتَعَاهَدْنَ وَتَعَاقَدْنَ أَنْ لَا يَكْتُمْنَ مِنْ أَخْبَارِ أَزْوَاجِهِنَّ شَيْئًا. قَالَتِ الْأُولَى: زَوْجِي لَحْمُ جَمَلٍ غَثٍّ، عَلَى رَأْسِ جَبَلٍ لَا سَهْلٌ فَيُرْتَقَى، وَلَا سَمِينٌ فَيُنْتَقَلَ [ص:1897]. قَالَتِ الثَّانِيَةُ: زَوْجِي لَا أَبُثُّ خَبَرَهُ، إِنِّي أَخَافُ أَنْ لَا أَذَرَهُ، إِنْ أَذْكُرْهُ أَذْكُرْ عُجَرَهُ وَبُجَرَهُ. قَالَتِ الثَّالِثَةُ: زَوْجِي الْعَشَنَّقُ، إِنْ أَنْطِقْ أُطَلَّقْ، وَإِنْ أَسْكُتْ أُعَلَّقْ. قَالَتِ الرَّابِعَةُ: زَوْجِي كَلَيْلِ تِهَامَةَ لَا حَرَّ وَلَا قُرَّ، وَلَا مَخَافَةَ وَلَا سَآمَةَ. قَالَتِ الْخَامِسَةُ: زَوْجِي إِنْ دَخَلَ فَهِدَ، وَإِنْ خَرَجَ أَسِدَ، وَلَا يَسْأَلُ عَمَّا عَهِدَ. قَالَتِ السَّادِسَةُ: زَوْجِي إِنْ أَكَلَ لَفَّ، وَإِنْ شَرِبَ اشْتَفَّ، وَإِنِ اضْطَجَعَ الْتَفَّ، وَلَا يُولِجُ الْكَفَّ لِيَعْلَمَ الْبَثَّ [ص:1898]. قَالَتِ السَّابِعَةُ: زَوْجِي غَيَايَاءُ أَوْ عَيَايَاءُ طَبَاقَاءُ، كُلُّ دَاءٍ لَهُ دَاءٌ، شَجَّكِ أَوْ فَلَّكِ أَوْ جَمَعَ كُلًّا لَكِ. قَالَتِ الثَّامِنَةُ: زَوْجِي الرِّيحُ رِيحُ زَرْنَبٍ، وَالْمَسُّ مَسُّ أَرْنَبٍ. قَالَتِ التَّاسِعَةُ: زَوْجِي رَفِيعُ الْعِمَادِ طَوِيلُ النِّجَادِ عَظِيمُ الرَّمَادِ، قَرِيبُ الْبَيْتِ مِنَ النَّادِ [ص:1899]. قَالَتِ الْعَاشِرَةُ: زَوْجِي مَالِكٌ، وَمَا مَالِكٌ؟ مَالِكٌ خَيْرٌ مِنْ ذَلِكَ، لَهُ إِبِلٌ كَثِيرَاتُ الْمَبَارِكِ، قَلِيلَاتُ الْمَسَارِحِ، إِذَا سَمِعْنَ صَوْتَ الْمِزْهَرِ أَيْقَنَّ أَنَّهُنَّ هَوَالِكُ. قَالَتِ الْحَادِيَةَ عَشْرَةَ: زَوْجِي أَبُو زَرْعٍ، فَمَا أَبُو زَرْعٍ؟ أَنَاسَ مِنْ حُلِيٍّ أُذُنَيَّ، وَمَلَأَ مِنْ شَحْمٍ عَضُدَيَّ، وَبَجَّحَنِي فَبَجِحَتْ إِلَيَّ نَفْسِي، وَجَدَنِي فِي أَهْلِ غُنَيْمَةٍ بِشِقٍّ، فَجَعَلَنِي فِي أَهْلِ صَهِيلٍ وَأَطِيطٍ وَدَائِسٍ وَمُنَقٍّ، فَعِنْدَهُ أَقُولُ فَلَا أُقَبَّحُ، وَأَرْقُدُ فَأَتَصَبَّحُ، وَأَشْرَبُ فَأَتَقَنَّحُ [ص:1900] أُمُّ أَبِي زَرْعٍ، فَمَا أُمُّ أَبِي زَرْعٍ؟ عُكُومُهَا رَدَاحٌ وَبَيْتُهَا فَسَاحٌ، ابْنُ أَبِي زَرْعٍ، فَمَا ابْنُ أَبِي زَرْعٍ؟، مَضْجَعُهُ كَمَسَلِّ شَطْبَةٍ وَيُشْبِعُهُ ذِرَاعُ الْجَفْرَةِ بِنْتُ أَبِي زَرْعٍ، فَمَا بِنْتُ أَبِي زَرْعٍ؟ طَوْعُ أَبِيهَا وَطَوْعُ أُمِّهَا، وَمِلْءُ كِسَائِهَا وَغَيْظُ جَارَتِهَا، جَارِيَةُ أَبِي زَرْعٍ، فَمَا جَارِيَةُ أَبِي زَرْعٍ؟ لَا تَبُثُّ حَدِيثَنَا تَبْثِيثًا، وَلَا تُنَقِّثُ مِيرَتَنَا تَنْقِيثًا، وَلَا تَمْلَأُ بَيْتَنَا تَعْشِيشًا [ص:1901]. قَالَتْ: خَرَجَ أَبُو زَرْعٍ وَالْأَوْطَابُ تُمْخَضُ، فَلَقِيَ امْرَأَةً مَعَهَا وَلَدَانِ لَهَا كَالْفَهْدَيْنِ، يَلْعَبَانِ مِنْ تَحْتِ خَصْرِهَا بِرُمَّانَتَيْنِ فَطَلَّقَنِي وَنَكَحَهَا، فَنَكَحْتُ بَعْدَهُ رَجُلًا سَرِيًّا، رَكِبَ شَرِيًّا، وَأَخَذَ خَطِّيًّا، وَأَرَاحَ عَلَيَّ نَعَمًا ثَرِيًّا، وَأَعْطَانِي مِنْ كُلِّ رَائِحَةٍ زَوْجًا، قَالَ: كُلِي أُمَّ زَرْعٍ وَمِيرِي أَهْلَكِ، فَلَوْ جَمَعْتُ كُلَّ شَيْءٍ أَعْطَانِي مَا بَلَغَ أَصْغَرَ آنِيَةِ أَبِي زَرْعٍ. قَالَتْ عَائِشَةُ: قَالَ لِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «كُنْتُ لَكِ كَأَبِي زَرْعٍ لِأُمِّ زَرْعٍ».
English

A'isha رضی اللہ عنہا reported:

(one day) there sat together eleven women making an explicit promise amongst themselves that they would conceal nothing about their spouses. The first one said: My husband is a sort of the meat of a lean camel placed at the top of a hill, which it is difficult to climb up, nor (the meat) is good enough that one finds in oneself the urge to take it away (from the top of that mountain). The second one said: My husband (is so bad) that I am afraid I would not be able to describe his faults-both visible and invisible completely. The third one said: My husband is a long-statured fellow (i. e. he lacks intelligence). If I give vent to my feelings about him, he would divorce me, and if I keep quiet I would be made to live in a state of suspense (neither completely abandoned by him nor entertained as wife). The fourth one said: My husband is like the night of Tihama (the night of Hijaz and Mecca), neither too cold nor hot, neither there is any fear of him nor grief. The fifth one said: My husband is (like) a leopard as he enters the house, and behaves like a lion when he gets out, and he does not ask about that which he leaves in the house. The sixth one said: So far as my husband is concerned, he eats so much that nothing is left back and when he drinks he drinks that no drop is left behind. And when he lies down he wraps his body and does not touch me so that he may know my grief. The seventh one said: My husband is heavy in spirit, having no brightness in him, impotent, suffering from all kinds of conceivable diseases, heaving such rough manners that he may break my head or wound my body, or may do both. The eighth one said: My husband is as sweet as the sweet-smelling plant, and as soft as the softness of the hare. The ninth one said: My husband is the master of a lofty building, long-statured, having heaps of ashes (at his door) and his house is near the meeting place and the inn. The tenth one said: My husband is Malik, and how fine Malik is, much above appreciation and praise (of mine). He has many folds of his camel, more in number than the pastures for them. When they (the camels) hear the sound of music they become sure that they are going to be slaughtered. The eleventh one said: My husband is Abu Zara'. How fine Abu Zara' is! He has suspended in my ears heavy ornaments and (fed me liberally) that my sinews and bones are covered with fat. So he made me happy. He found me among the shepherds living in the side of the mountain, and he made me the owner of the horses, camels and lands and heaps of grain and he finds no fault with me. I sleep and get up in the morning (at my own sweet will) and drink to my heart's content. The mother of Abu Zara', how fine is the mother of Abu Zara'! Her bundles are heavily packed (or receptacles in her house are filled to the brim) and the house quite spacious. So far as the son of Abu Zara' is concerned, his bed is as soft as a green palm-stick drawn forth from its bark, or like a sword drawn forth from its scabbard, and whom just an arm of a lamb is enough to satiate. So far as the daughter of Abu Zara' is concerned, how fine is the daughter of Abu Zara', obedient to her father, obedient to her mother, wearing sufficient flesh and a source of jealousy for her co-wife. As for the slave-girl of Abu Zara', how fine is she; she does not disclose our affairs to others (outside the four walls of the house). She does not remove our wheat, or provision, or take it forth, or squander it, but she preserves it faithfully (as a sacred trust). And she does not let the house fill with rubbish. One day Abu Zara' went out (of his house) when the milk was churned in the vessels, that he met a woman, having two children like leopards playing with her pomegranates (chest) under her vest. He divorced me (Umm Zara') and married that woman (whom Abu Zara') met on the way. I (Umm Zara') later on married another person, a chief, who was an expert rider, and a fine archer: he bestowed upon me many gifts and gave me one pair of every kind of animal and said: Umm Zara', make use of everything (you need) and send forth to your parents (but the fact) is that even if I combine all the gifts that he bestowed upon me, they stand no comparison to the least gift of Abu Zara'. 'A'isha رضی اللہ عنہا reported that Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) said to me: I am for you as Abu Zara' was for Umm Zara'.

Urdu

ہم سے علی بن حجر السعدی اور احمد بن جناب نے بیان کیا، ان دونوں نے عیسیٰ علیہ السلام سے روایت کی ہے اور یہ قول ابن حجر کا ہے, عیسیٰ بن یونس نے کہا : ہمیں ہشام بن عروہ نے اپنے بھائی عبداللہ بن عروہ سے حدیث بیان کی ، انھوں نے عروہ سے ، انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی ، انھوں نے کہا

ہیں کہ گیارہ عورتیں بیٹھیں اور ان سب نے یہ اقرار اور عہد کیا کہ اپنے اپنے خاوندوں کی کوئی بات نہ چھپائیں گی ۔ پہلی عورت نے کہا کہ میرا خاوند گویا دبلے اونٹ کا گوشت ہے ، جو ایک دشوار گزار پہاڑ کی چوٹی پر رکھا ہو ۔ نہ تو وہاں تک صاف راستہ ہے کہ کوئی چڑھ جائے اور نہ وہ گوشت موٹا ہے کہ لایا جائے ۔ دوسری عورت نے کہا کہ میں اپنے خاوند کی خبر نہیں پھیلا سکتی میں ڈرتی ہوں کہ اگر بیان کروں تو پورا بیان نہ کر سکوں گی کیونکہ اس میں ظاہری و باطنی عیوب بہت زیادہ ہیں ۔ ( اور بعض نے یہ معنی کئے ہیں کہ میں ڈرتی ہوں کہ اگر بیان کروں گی تو اس کو چھوڑ دوں گی ۔ یعنی وہ خفا ہو کر مجھے طلاق دے گا اور اس کو چھوڑنا پڑے گا ) ۔ تیسری عورت نے کہا کہ میرا خاوند لمبا قد اور احمق ہے ، اگر میں اس کی برائی بیان کروں تو مجھے طلاق دیدے گا اور جو چپ رہوں تو اسی طرح معلق رہوں گی ( یعنی نہ نکاح کے مزے اٹھاؤں گی نہ بالکل محروم رہوں گی ) ۔ چوتھی نے کہا کہ میرا خاوند تو ایسا ہے جیسے تہامہ ( حجاز اور مکہ ) کی رات ۔ نہ گرم ہے نہ سرد ہے ( یعنی معتدل المزاج ہے ) نہ ڈر ہے نہ رنج ہے ( یہ اس کی تعریف کی یعنی اس کے اخلاق عمدہ ہیں اور نہ وہ میری صحبت سے ملول ہوتا ہے ) ۔ پانچویں عورت نے کہا کہ میرا خاوند جب گھر میں آتا ہے تو چیتا ہے ( یعنی پڑ کر سو جاتا ہے اور کسی کو نہیں ستاتا ) اور جب باہر نکلتا ہے تو شیر ہے ۔ اور جو مال اسباب گھر میں چھوڑ جاتا ہے اس کو نہیں پوچھتا ۔ چھٹی عورت نے کہا کہ میرا خاوند اگر کھاتا ہے تو سب ختم کر دیتا ہے اور پیتا ہے تو تلچھٹ تک نہیں چھوڑتا اور لیٹتا ہے تو بدن لپیٹ لیتا ہے اور مجھ پر اپنا ہاتھ نہیں ڈالتا کہ میرا دکھ درد پہچانے ( یہ بھی ہجو ہے یعنی سوا کھانے پینے کے بیل کی طرح اور کوئی کام کا نہیں ، عورت کی خبر تک نہیں لیتا ) ۔ ساتویں عورت نے کہا کہ میرا خاوند نامرد ہے یا شریر نہایت احمق ہے کہ کلام کرنا نہیں جانتا ، سب دنیا بھر کے عیب اس میں موجود ہیں ۔ ایسا ظالم ہے کہ تیرا سر پھوڑے یا ہاتھ توڑے یا سر اور ہاتھ دونوں مروڑے ۔ آٹھویں عورت نے کہا کہ میرا خاوند بو میں زرنب ہے ( زرنب ایک خوشبودار گھاس ہے ) اور چھونے میں نرم جیسے خرگوش ( یہ تعریف ہے یعنی اس کا ظاہر اور باطن دونوں اچھے ہیں ) ۔ نویں عورت نے کہا کہ میرا خاوند اونچے محل والا ، لمبے پرتلے والا ( یعنی قد آور ) اور بڑی راکھ والا ( یعنی سخی ہے ) اس کا باورچی خانہ ہمیشہ گرم رہتا ہے تو راکھ بہت نکلتی ہے اس کا گھر قوم کے مل بیٹھ کر مشورہ کرنے کی جگہ ( ڈیرہ وغیرہ ) ( یعنی سردار اور صاحب الرائے ہے ) ۔ دسویں عورت نے کہا کہ میرے خاوند کا نام مالک ہے ۔ اور مالک کیا خوب ہے ۔ مالک میری اس تعریف سے افضل ہے ۔ اس کے اونٹوں کے بہت سے شترخانے ہیں اور کم تر چراگاہیں ہیں ( یعنی ضیافت میں اس کے یہاں اونٹ بہت ذبح ہوا کرتے ہیں ، اس سبب سے شترخانوں سے جنگل میں کم چرنے جاتے ہیں ) جب اونٹ باجے کی آواز سنتے ہیں تو اپنے ذبح ہونے کا یقین کر لیتے ہیں ( ضیافت میں راگ اور باجے کا معمول تھا ، اس سبب سے باجے کی آواز سن کر اونٹوں کو اپنے ذبح ہونے کا یقین ہو جاتا تھا ) ۔ گیارھویں عورت نے کہا کہ میرے خاوند کا نام ابوذرع ہے سو واہ کیا خوب ابوذرع ہے ۔ اس نے زیور سے میرے دونوں کان جھلائے اور چربی سے میرے دونوں بازو بھرے ( یعنی مجھے موٹا کیا اور مجھے بہت خوش کیا ) ، سو میری جان بہت چین میں رہی مجھے اس نے بھیڑ بکری والوں میں پایا جو پہاڑ کے کنارے رہتے تھے ، پس اس نے مجھے گھوڑے ، اونٹ ، کھیت اور ڈھیریوں / خرمن کا مالک کر دیا ( یعنی میں نہایت ذلیل اور محتاج تھی ، اس نے مجھے باعزت اور مالدار کر دیا ) ۔ میں اس کی بات کرتی ہوں تو وہ مجھے برا نہیں کہتا ۔ سوتی ہوں تو فجر کر دیتی ہوں ( یعنی کچھ کام نہیں کرنا پڑتا ) اور پیتی ہوں تو سیراب ہو جاتی ہوں ۔ اور ابوزرع کی ماں ، پس ابوزرع کی ماں بھی کیا خوب ہے ۔ اس کی بڑی بڑی گٹھڑیاں اور کشادہ گھر ہیں ۔ ابوزرع کا بیٹا ، پس ابوزرع کا بیٹا بھی کیا خوب ہے ۔ اس کی خواب گاہ جیسے تلوار کا میان ( یعنی نازنین بدن ہے ) ، اس کو ( بکری ) حلوان کا ہاتھ آسودہ ( سیر ) کر دیتا ہے ( یعنی کم خور ہے ) ۔ ابوزرع کی بیٹی ، پس ابوزرع کی بیٹی بھی کیا خوب ہے ۔ اپنے والدین کی تابعدار اور اپنے لباس کو بھرنے والی ( یعنی موٹی ہے ) اور اپنی سوتن کی رشک ( یعنی اپنے خاوند کی پیاری ہے ، اس لئے اس کی سوتن اس سے جلتی ہے ) ۔ اور ابوزرع کی لونڈی ، ابوزرع کی لونڈی بھی کیا خوب ہے ۔ ہماری بات ظاہر کر کے مشہور نہیں کرتی اور ہمارا کھانا اٹھا کر نہیں لیجاتی اور ہمارا گھر کچرے سے آلودہ نہیں رکھتی ۔ ابوزرع باہر نکلا جب کہ مشکوں میں دودھ ( گھی نکالنے ) کے لئے بلوایا جا رہا تھا ۔ پس وہ ایک عورت سے ملا ، جس کے ساتھ اس کے دو لڑکے تھے جیسے دو چیتے اس کی گود میں دو اناروں سے کھیلتے ہوں ۔ پس ابوزرع نے مجھے طلاق دی اور اس عورت سے نکاح کر لیا ۔ پھر میں نے اس کے بعد ایک سردار مرد سے نکاح کیا جو ایک عمدہ گھوڑے کا سوار اور نیزہ باز ہے ۔ اس نے مجھے چوپائے جانور بہت زیادہ دئیے اور اس نے مجھے ہر ایک مویشی سے جوڑا جوڑا دیا اور اس نے مجھ سے کہا کہ اے ام زرع! خود بھی کھا اور اپنے لوگوں کو بھی کھلا ۔ پس اگر میں وہ چیزیں جمع کروں جو مجھے دوسرے شوہر نے دیں ، تو وہ ابوزرع کے چھوٹے برتن کے برابر بھی نہ پہنچیں ( یعنی دوسرے خاوند کا احسان پہلے خاوند کے احسان سے نہایت کم ہے ) ۔ ام المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا کہ میں تیرے لئے ایسا ہوں جیسے ابوزرع ام زرع کے لئے تھا ۔ ( لیکن نہ تجھے طلاق دی ہے اور نہ دوں گا ) ۔

Hadith 6306
Sahih
وحَدَّثَنِيهِ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ: عَيَايَاءُ طَبَاقَاءُ، وَلَمْ يَشُكَّ، وَقَالَ: قَلِيلَاتُ الْمَسَارِحِ، وَقَالَ: وَصِفْرُ رِدَائِهَا، وَخَيْرُ نِسَائِهَا، وَعَقْرُ جَارَتِهَا وَقَالَ: وَلَا تَنْقُثُ مِيرَتَنَا تَنْقِيثًا، وَقَالَ: وَأَعْطَانِي مِنْ كُلِّ ذَابِحَةٍ زَوْجًا.
English

This hadith has been transmitted on the authority of Hisham bin 'Urwa but with a slight variation of wording.

Urdu

سعید بن سلمہ نے یہ حدیث ہشام بن عروہ سے اسی سند کے ساتھ بیان کی ، مگر ( ساتویں کے خاوندکے متعلق ) شک کے بغیر : " عاجز اور ماندہ ہے عقل پر حماقت کی تہیں لگی ہو ئی ہیں " کہا : اور ( دسویں کے خاوند کے متعلق ) کہا : ( اس کی اونٹنیاں ) چراگا ہوں میں کم بھیجی جا تی ہیں ( خدام باڑے میں چارہ مہیا کرتے ہیں ۔ ) اور ( ابو زرع کی بیٹی کےبارے میں ) کہا : اس کی اوڑھنے کی چادر خالی لگتی ہے ( اس کا پیٹ بڑھا ہوا نہیں ہے جبکہ ملء كسائهاسے مراد ہے کہ جسم کے باقی حصے لباس کو بھر دیتے ہیں ) قبیلے کی بہترین عورت ہے اور ( اپنی خوبصورتی اور وقار کی بناپر ) سوکن کے لیے نیزے کا زخم ( دردوتکلیف کا سبب ) ہے اور ( خادمہ کے بارے میں اس طرح ) کہا : " وہ ہمارا کھا نا ضائع نہیں کرتی ۔ " اور ( " وَأَعْطَانِي مِنْ كُلِّ رَائِحَةٍ زَوْجًا " کے بجائے ) وأعطاني من كل ذابحةٍ زوجاً ، ( اور مجھے ہر اعلیٰ درجے کی خوشبو دار چیز میں سے دگنا دگنا دیا ) کہا ۔

Hadith 6307
Sahih
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ يُونُسَ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، كِلَاهُمَا عَنِ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ، قَالَ: ابْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ الْقُرَشِيُّ التَّيْمِيُّ، أَنَّ الْمِسْوَرَ بْنَ مَخْرَمَةَ، حَدَّثَهُ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْمِنْبَرِ، وَهُوَ يَقُولُ: «إِنَّ بَنِي هِشَامِ بْنِ الْمُغِيرَةِ اسْتَأْذَنُونِي أَنْ يُنْكِحُوا ابْنَتَهُمْ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ، فَلَا آذَنُ لَهُمْ، ثُمَّ لَا آذَنُ لَهُمْ، ثُمَّ لَا آذَنُ لَهُمْ، إِلَّا أَنْ يُحِبَّ ابْنُ أَبِي طَالِبٍ أَنْ يُطَلِّقَ ابْنَتِي وَيَنْكِحَ ابْنَتَهُمْ، فَإِنَّمَا ابْنَتِي بَضْعَةٌ مِنِّي، يَرِيبُنِي مَا رَابَهَا وَيُؤْذِينِي مَا آذَاهَا».
English

Miswar bin Makhramali رضی اللہ عنہ reported:

He heard Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌) say, as he sat on the pulpit: The sons of Hisham bin Mughira have asked my permission to marry their daughter with 'Ali bin Abi Talib (that refers to the daughter of Abu Jahl for whom 'All had sent a proposal for marriage). But I would not allow them, I would not allow them, I would not allow them (and the only alternative possible is) that 'Ali should divorce my daughter (and then marry their daughter), for my daughter is part of me. He who disturbs her in fact disturbs me and he who offends her offends me.

Urdu

ہم سے احمد بن عبداللہ بن یونس اور قتیبہ بن سعید نے بیان کیا, لیث بن سعد نے کہا : ہمیں عبد اللہ بن عبید اللہ بن ابی ملیکہ قرشی تیمی نے حدیث بیان کی کہ حضرت مسوربن مخرمہ رضی اللہ عنہ نے انھیں حدیث سنائی

انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے منبر پر یہ سنا ، آپ فر ما رہے تھے : " بنو ہشام بن مغیرہ نےمجھ سے اجازت چا ہی ہے کہ وہ اپنی بیٹی کی شادی علی بن ابی طالب سے کردیں ، میں انھیں اس کی اجازت نہیں دیتا ، پھر میں انھیں اس کی اجازت نہیں دیتا ، پھر میں انھیں اس کی اجازت نہیں دیتا ، الایہ کہ ابن ابی طالب پسند کرے تو میری بیٹی کو طلا ق دے دے اور ان کی بیٹی سے شادی کر لے کیونکہ میری بیٹی میرے جسم کا حصہ ہے جو چیز اسے پریشان کرے وہ مجھے پریشان کرتی ہے ۔ جو چیز اس کو ایذا دے وہ مجھے ایذا دیتی ہے ۔ "

Hadith 6308
Sahih
حَدَّثَنِي أَبُو مَعْمَرٍ إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْهُذَلِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرٍو، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنِ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّمَا فَاطِمَةُ بَضْعَةٌ مِنِّي يُؤْذِينِي مَا آذَاهَا».
English

Miswar bin Makhramah رضی اللہ عنہ reported:

Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌) as saying: Fatima رضی اللہ عنہا is a part of me. He in fact tortures me who tortures her.

Urdu

مجھ سے ابو معمر اسماعیل بن ابراہیم ہذلی نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا, عمرو نے ابن ابی ملیکہ سے ، انھوں نے حضرت مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " فاطمہ رضی اللہ عنہا میرے جسم کا ایک ٹکڑا ہے جو چیز اس کو ایذا دے وہ مجھے ایذا دیتی ہے ۔ "