The Book of the Merits of the Companions
كتاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ
Chapter 45
Abdullah رضی اللہ عنہ reported:
Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) as saying: The best of my Umma would be those of the generation nearest to mine. Then those nearest to them, then those nearest to them, then people would come whose witness would precede the oath and the oath will precede the witness. Hannad has not made the mention of Qarn in his narration. Qutaiba said that, instead of the word Qaum, the word Aqwam has been used.
قتیبہ بن سعید اور ہناد بن سری نے کہا : ہمیں ابواحوص نے منصور سے حدیث بیان کی ، انھوں نے ابراہیم بن یزید سے ، انھوں نے عبیدہ سلیمانی سے ، انھوں نے حضرت عبداللہ ( بن مسعود رضی اللہ عنہ ) سے روایت کی ، کہا
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " میر ی امت میں سے بہترین اس دور کے لوگ ہیں جو میرے ساتھ ہیں ( صحابہ ) ، پھر وہ ہیں جو ان کےساتھ ( کے دور میں ) ہوں گے ( تابعین ) ، پھر وہ جوان کے ساتھ ( کے دور میں ) ہوں گے ( تبع تابعین ) ، پھر ایسے لوگ آئیں گے کہ ان کی گواہی ان کی قسم سے پہلے ہوگی ۔ اور ان کی قسم ان کی گواہی سے پہلے ہوگی ۔ " ہناد نے اپنی حدیث میں قرن ( دور ) کا ذکر نہیں کیا ۔ اور قتیبہ نے کہا : " پھر ایسی اقوام آئیں گی ۔ "
Abdullah رضی اللہ عنہ reported:
It was asked from Allah's Apostle ( صلی اللہ علیہ وسلم ) who amongst the people were the best. He said: (People) of my generation, then those next to them, then those next to them, then there would come a people whose evidence would precede their oath and their oath would precede their evidence. Ibrahim said: They forbade us to make vows and bear witness when we were too young.
ہم سے عثمان بن ابی شیبہ اور اسحاق بن ابراہیم الحنظَلی نے بیان کیا - اسحاق نے کہا کہ ہمیں خبر دی اور عثمان نے کہا, جریر نے منصور سے ، انھوں نے ابراہیم سے ، انھوں نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا گیا : لوگوں میں سب سے بہتر کون ہیں؟آپ نے فرمایا : "" میرے دور کے لوگ پھر وہ جو ان کے ساتھ ( کے دور میں ) ہوں گے ، پھر وہ جو ان کے ساتھ ہوں گے ، پھر ایک ایسی قوم آئے گی کہ ان کی شہادت ان کی قسم سے جلدی ہوگی اور ان کی قسم انکی شہادت سے جلدی ہوگی ۔ "" ابراہیم ( نخعی ) نے کہا : جس وقت ہم کم عمر تھے ( تو بڑی عمرکے ) لوگ ہمیں قسم کھانے اور شہادت دینے سے منع کرتے تھے ۔
This hadith has been transmitted by Mansur on the authority of Abu al-Ahwas and Jarir with a slight variation of wording.
شعبہ اور سفیان دونوں نے منصور سے ابو احوص اور جریر کی سند کے ساتھ انھی دونوں کی حدیث کے ہم معنی حدیث روایت کی ، دونوں کی حدیث میں " رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیاگیا " ( کے الفاظ ) نہیں ۔
Abdullah (bin Mas'ud) رضی اللہ عنہ reported:
Allah's Apostle ( صلی اللہ علیہ وسلم ) as saying: The best among people are of my generation, then those next to them. (The narrator said): I do not know whether (he said) it three times or four times. Then there would fellow after them such persons whose evidence would precede the oath, and in case of some others, the oath (would precede) the evidence.
مجھ سے الحسن بن علی الحلوانی نے بیان کیا، کہا ہم سے اظہر بن سعد السمان نے بیان کیا, ابن عون نے ابراہیم سے ، انھوں نے عبیدہ سے ، انھوں نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے ، انھوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ
آپ نے فرمایا؛ " لوگوں میں سے بہترین میرے دور کے لوگ ( صحابہ رضوان اللہ عنھم اجمعین ) ہیں ، پھر وہ جو ان کے ساتھ ( کے دورکے ) ہوں گے ( تابعین رحمۃ اللہ علیہ ) ، پھر وہ جوان کے ساتھ ( کے دور کے ) ہوں گے ( تبع تابعین ۔ ) " ( عبیدہ سلیمانی نے کہا : ) مجھے یاد نہیں ( کہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ) تیسری بار کہا یاچوتھی بار : " پھر ان کے جانشین ایسے لوگ ہوں گے کہ ان میں سے کسی ایک کی گواہی قسم سے پہلے ہوگی اوراور اس کی قسم اس کی گواہی سے پہلے ہوگی ۔ "
Abu Huraira رضی اللہ عنہ reported:
Allah's Messenger (ﷺ) as saying: The best age of my Umma is one in which I was sent (by Allah as an Apostle), then the one next to that. (The narrator said): And Allah knows best whether he stated this third (time) or not. Then there would come people who would love (to look) bulky and they would hasten to the witness box before they are asked to bear witness.
مجھ سے یعقوب بن ابراہیم نے کہا, ہشیم نے ابو بشر سے ، انھوں نے عبداللہ بن شقیق سے ، انھوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " میری امت کے بہترین لوگ اس زمانے کے ہیں جن میں میری بعثت ہوئی ہے ، پھر وہ لوگ ہیں جو ان کے ساتھ ( کے دور کے ) ہیں ۔ " اللہ ہی خوب جانتا ہے کہ آپ نے تیسرے زمانے کا ذکر کیاتھا یا نہیں ، فرمایا؛ " پھر ایک ایسی قوم آئے گی جو موٹا ہونا پسند کریں گے ، وہ شہادت طلب کیے جانے سے پہلے شہادت دیں گے ۔ "
This hadith has been reported on the authority of Abu Huraira رضی اللہ عنہ through another chain of transmitters (but with this variation) that Abu Huraira رضی اللہ عنہ said:
I do not know whether he (the Holy Prophet) said (these words: Then next ) twice or thrice.
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا، کہا ہم سے محمد بن جعفر نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوبکر بن نافع نے بیان کیا، ہم سے غندر نے بیان کیا, شعبہ اور ابو عوانہ دونوں نے ابو بشر سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند روایت کی ، مگر شعبہ کی حدیث میں ہے : ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا
میں نہیں جانتا ( کہ آپ نے ) دوبار ( کہا ) یا تین بار ۔
Imran bin Husain رضی اللہ عنہ reported:
Allah's-Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) as saying: The best among you (are) the people (who belong to) my age. Then those next to them, then those next to them, then those next to them. 'Imran رضی اللہ عنہ said: I do not know whether Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) said twice or thrice (the words: Then next ) after (saying) about his (own age but he then said): Then after them (after successors or those who would succeed them) would come a people who would give evidence before they are asked for it, and would be dishonest and not trustworthy, who would make vows but would not fulfil them, and would be significant in being bulky.
ابوبکر بن ابی شیبہ، محمد بن المثنی اور ابن بشار نے غندر کے بارے میں کہا, محمد بن جعفر نے کہا : ہمیں شعبہ نے حدیث بیان کی ، انھوں نے کہا : میں نے ابو جمرہ سے سنا ، انھوں نےکہا : مجھے زہدم بن مضرب نے حدیث بیان کی ، انھوں نے کہا : میں نے حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے سنا ، وہ حدیث بیان کررہے تھے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " تم میں سب سے اچھے میرے دور کے لوگ ہیں ، پھر وہ جو ان کے ساتھ ہیں ۔ پھر وہ جو ان کے ساتھ ہیں ، پھر وہ لوگ جو ان کے ساتھ ہیں ، " حضرت عمران رضی اللہ عنہ نے کہا : مجھے یاد نہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دور کے بعد دوبار فرمایا یا تین بار؟ ( پھر آپ نے فرمایا : ) " پھر ان کے بعد وہ لوگ ہوں گے کہ وہ گواہی دیں گے جبکہ ان سے گواہی مطلوب نہیں ہوگی اورخیانت کریں جبکہ ان کو امانت دار نہیں بنایا جائے گا ( جس مال کی ذمہ داری ان کے پاس نہیں ہوگی اس میں بھی خیانت کے راستے نکالیں گے ) ، وہ نذر مانیں گے لیکن اپنی نذریں پوری نہیں کریں گے اور ان میں موٹاپا ظاہر ہوجائے گا ۔ "
It was narrated from Shubah with this chain of narrators (a Hadith similar to no. 6775). In their hadith it says:
I do not know whether he made a mention of two generations after his generation or of the third one too. Shababa said: I heard this from Zahdam bin Mudarrib as he came to me riding a horse for some need and he narrated it to me that he had heard it from 'Imran bin Husain رضی اللہ عنہ , and in the hadith transmitted on the authority of Yahya and Shababa (the words are): They take an oath but they do not fulfil it, and in the hadith transmitted on the authority of Bahz there the word is Yafun as transmitted on the authority of Ibn Ja'far.
مجھ سے محمد بن حاتم نے کہا, یحییٰ بن سعید ، بہز اور شبابہ سب نے شعبہ سے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی اور ان سب کی حدیث میں ہے ( حضرت عمران بن حصین رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ) کہا
مجھے یاد نہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے زمانے کےبعد دو زمانوں کا ذکر کیا یا تین کا ، شبابہ کی حدیث میں ہے کہ ( ابو جمرہ نے ) کہا : میں نے زہدم بن مضرب سےسنا ، وہ گھوڑے پرسوارہوکرمیرے پاس ایک کام کے لئے آئے تھے ، انھوں نے مجھے حدیث سنائی کہ انھوں نے حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے سنا ، نیز یحییٰ ( بن سعید ) اورشبابہ کی حدیث میں ہے : " وہ نذریں مانیں گے لیکن وفا نہیں کریں گے ۔ " اور بہز کی حدیث میں اسی طرح ہے جس طرح ابن جعفر کی حدیث میں ہے : " وہ ( اپنی نذریں ) پوری نہیں کریں گے ۔ "
This hadith has been narrated on the authority of 'Imran bin Husain رضی اللہ عنہ through another chain of transmitters (and the words are):
The best generation of this Umma is the generation to which I have been sent, then the next one, and there is an addition in the hadith transmitted on the authority of Abu 'Awana (and the words are): And Allah knows best whether he made a mention of the third (generation) or not; the rest of the hadith is the same as transmitted by Zahdam on the authority of 'Imran رضی اللہ عنہ . And in the hadith transmitted by Hisham on the authority of Qatada there is an addition of these words: They take an oath whereas they are not asked to take.
ہم سے قتیبہ بن سعید اور محمد بن عبد الملک اموی نے بیان کیا، کہا: ابو عوانہ اور ہشام دونوں نے قتادہ سے ، انھوں نے زرارہ بن اوفیٰ سے ، انھوں نے حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے ، انھوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ حدیث ( ان الفاظ میں ) روایت کی
" اس امت کے بہترین لوگ اس دور کے ہیں جس میں مجھے ان میں بھیجاگیا ہے ، پھر وہ جوان کےساتھ ( کے دور میں ) ہوں گے ۔ " ۔ ۔ ۔ ابو عوانہ کی حدیث میں مزید یہ ہے کہ ( حضرت عمران رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ) کہا : اللہ زیادہ جاننے والا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تیسرے ( دور ) کا ذکر کیا یا نہیں ، جس طرح حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سےزہدم کی روایت کردہ حدیث ہے ۔ اور قتادہ سے ہشام کی روایت کردہ حدیث میں یہ الفاظ زائد ہیں : " وہ قسمیں کھائیں گے جبکہ ان سے قسم کھانے کا مطالبہ نہیں کیا جائے گا ۔ "
A'isha رضی اللہ عنہا reported:
A person asked Allah's Apostle ( صلی اللہ علیہ وسلم ) as to who amongst the people were the best. He said: Of the generation to which I belong, then of the second generation (generation adjacent to my generation), then of the third generation (generation adjacent to the second generation).
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ اور شجاع بن مخلد نے بیان کیا - اور یہ لفظ ابوبکر کے لیے ہے - انہوں نے کہا: حسین نے جو علی کے بیٹے ہیں، بیان کیا۔ الجوفی، زیدہ کے اختیار پر، السدی کے اختیار پر، عبداللہ بہی نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی ، کہا
ایک آدمی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا کہ کون سے لوگ سب سے بہتر ہیں؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اس دور میں جس میں ہوں ، پھر دوسرے ( دورکے ) ، پھر تیسرے ( دور کے ۔ ) "
Abdullah bin Umar رضی اللہ عنہ reported:
Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) led us 'Isha' prayer at the latter part of the night and when he had concluded it by salutations he stood up and said: Have you seen this night of yours? At the end of one hundred years after this none would survive on the surface of the earth (from amount my Companions). Ibn Umar رضی اللہ عنہ said: People were (not understanding) these words of the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) which had been uttered pertaining to one hundred years. Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) in fact meant (by these words) that on that day none from amongst those who had been living upon the earth (from amongst his Companions) would survive (after one hundred years) and that would be the end of this generation.
ہم سے محمد بن رافع نے بیان کیا، اور ہم سے عبد بن حمید نے بیان کیا، انہوں نے کہا: ہم سے محمد بن رافع نے بیان کیا، اور ہم سے عبدالرزاق نے بیان کیا، انہوں نے کہا: معمر نے زہری سے روایت کی ، انھوں نے کہا : مجھے سالم بن عبداللہ اور ابو بکر بن سلیمان نے بتا یا کہ عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے کہا
نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی حیات مبا رکہ کے آخری حصے میں ایک را ت ہمیں عشاء کی نما ز پڑھا ئی ، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلا م پھیرا تو کھڑے ہو گئے تو فرما یا : " کیا تم لوگوں نے اپنی اس را ت کو دیکھا ہے؟ ( اسے یا د رکھو ) بلا شبہ اس رات سے سو سال کے بعد جو لو گ ( اس را ت میں ) روئے زمین پر مو جودہیں ان میں سے کو ئی بھی باقی نہیں ہو گا ۔ " حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا : ( بعض ) لو گ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فر ما ن کے متعلق غلط فہمیوں میں مبتلا ہوئے ہیں جو اس میں سو سال کے حوالے سے مختلف باتیں کر رہے ہیں ( کہ سو سال بعد زندگی کا خاتمہ ہو جا ئے گا ۔ ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرما یا تھا ۔ " آج جو لوگ روئےزمین پر مو جو د ہیں ان میں سے کو ئی باقی نہیں ہو گا ۔ " آپ کا مقصود یہ تھا کہ اس قرن ( اس دور میں رہنے والے لوگوں ) کا خاتمہ ہو جائے گا ۔
This hadith has been transmitted by Zuhri on the authority of Ma'mar.
مجھ سے عبداللہ بن عبدالرحمٰن دارمی نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا, شعیب اور عبد الرحمٰن بن خالد بن مسافر دونوں نے زہری سے معمر کی سند کے ساتھ انھی کی حدیث کے مانند روایت کی ۔
Jabir bin 'Abdullah رضی اللہ عنہ reported:
I heard Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) as saying this one month before his death: You asked me about the Last Hour whereas its knowledge is with Allah. I, however, take an oath and say that none upon the earth, the created beings (from amongst my Companions), would survive at the end of one hundred years.
مجھ سے ہارون بن عبداللہ نے کہا, حجاج بن محمد نے کہا : ابن جریج نے کہا : مجھے ابو زبیر نے بتا یا ، انھوں نے حضرت جا بر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ کو کہتے ہو ئے سناکہ
میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی وفات سے ایک مہینہ قبل یہ فر ما تے ہو ئے سنا : " تم مجھ سے قیامت کے بارے میں سوال کرتے ہو ؟اس کا علم صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کے پاس ہے ( البتہ اس بات پر ) میں اللہ کی قسم کھا تا ہوں کہ اس وقت کو ئی زندہ نفس موجود نہیں جس پر سوسال پورے ہوں ۔ "
This hadith has been narrated on the authority of Ibn Juraij with the same chain of transmitters, but there is no mention of the words:
one month before his death .
مجھ سے محمد بن حاتم نے بیان کیا، ہم سے محمد بن بکر نے بیان کیا، ابن جریج نے اسی سند کے ساتھ ہمیں خبر دی اور اس بات کا ذکر نہیں کیا کہ
( آپ نے ) اپنی وفات سے ایک ماہ قبل ( یہ ارشاد فرمایا تھا ۔ )
Jabir bin 'Abdullah رضی اللہ عنہ reported:
Allah's Apostle ( صلی اللہ علیہ وسلم ) as saying one mouth before his death (or something like it): None amongst the created beings who had been living by that time (during the lifetime of Allah's Apostle).... 'Abdul-Rahman has interpreted these words of Allah's Apostle ( صلی اللہ علیہ وسلم ) as: The ages (of the people) would be diminished.
مجھ سے یحییٰ بن حبیب اور محمد بن عبد الاعلی نے کہا, معتمر بن سلیمان نے کہا : میں نے اپنے والد سے سنا ، کہا : ابو نضرہ نے ہمیں حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے ، انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیث بیان کی ، انھوں نے کہا
آپ نے اپنی وفات سے ایک مہینہ یا قریباًاتنا عرصہ پہلے فرما یا : " آج کو ئی ایسا سانس لیتا ہوا انسان موجود نہیں کہ اس پر سوسال گزریں تو وہ اس دن بھی زندہ ہو ۔ اور لوگوں کو پانی پلا نے والے عبدالرحمن ( بن آدم ) سے روایت ہے انھوں نے حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کے مانند روایت کی ۔ عبدالرحمان نے اس کا مفہوم بتا یا اور کہا : عمر کی کمی ( مراد ہے )
This hadith has been reported on the authority of Sulaiman Taimi through other chains of transmitters.
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا, یزید بن ہارون نے کہا : ہمیں سلیمان تیمی نے دونوں سندوں سے اسی کے مانند حدیث بیان کی ۔
Abu Sa'id رضی اللہ عنہ reported:
When Allah's Apostle ( صلی اللہ علیہ وسلم ) came back from Tabuk they (his Companions) asked about the Last Hour. Thereupon Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) said: There would be none amongst the created beings living on the earth (who would survive this century).
ہم سے ابن نمیر نے بیان کیا، ہم سے ابوخالد نے بیان کیا، داؤد کی سند سے اور ان کا تلفظ ہ ہے، اور ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا، ان سے سلیمان بن حیان، داود کے اختیار پر، ابو نضر ہ نے حضرت ابو سعید رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا
جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم غزوہ تبوک سے واپس آئے تو اس کے بعد لوگوں نے آپ سے قیامت کے بارے میں سوال کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " سو سال نہیں گزریں گے ۔ کہ آج زمین پر سانس لیتا ہوا کو ئی شخص موجود ہو ۔ " ( اس سے پہلے یہ سب ختم ہو جا ئیں گے ۔ )
Jabir bin 'Abdullah رضی اللہ عنہ reported:
Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) said: None amongst the created beings (from my Companions) would survive after one hundred years. Salim said: We made a mention of it to him (Jabir رضی اللہ عنہ ), whereupon he said: It means those who had been living on that day.
مجھ سے اسحاق بن منصور نے بیان کیا، کہا ہم سے ابو الولید نے بیان کیا، ہم سے ابو عوانہ نے بیان کیا, حصین نے سالم سے ، انھوں نے حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا
نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما یا : " ( آج ) سانس لیتا ہوا شخص سو سال ( کی مدت ) تک نہیں پہنچےگا ۔ " سالم نے کہا : ہم نے ان ( حضرت جابر رضی اللہ عنہ ) کے سامنے اس کے بارے میں گفتگو کی اس سے مراد ہر وہ شخص ہے جو اس وقت پیدا ہو چکا تھا ۔
Abu Huraira رضی اللہ عنہ reported:
Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) as saying: Do not revile my Companions, do not revile my Companions. By Him in Whose Hand is my life, if one amongst you would have spent as much gold as Uhud it would not amount to as much as one much on behalf of one of them or half of it.
ہم سے یحییٰ بن یحییٰ التمیمی، ابوبکر بن ابی شیبہ اور محمد بن علاء نے بیان کیا - یحییٰ نے کہا: ہم سے انہوں نے بیان کیا اور باقی دو نے کہا, ابو معاویہ نے اعمش سے ، انھوں نے ابو صالح سے ، انھوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " میرے صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین کو برا مت کہو ، میرے صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین کہو ، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ۔ !اگر تم میں سے کو ئی شخص اُحد پہا ڑ جتنا سونا بھی خرچ کرے تو وہ ( صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین ) میں سے کسی ایک کے دیے ہو ئے مد بلکہ اس کے آدھے کے برابر بھی ( اجر ) نہیں پاسکتا ۔ "
Abu Sa'id رضی اللہ عنہ reported:
There was some altercation between Khalid bin Walid and Abd al-Rahman bin 'Auf رضی اللہ عنہ and Khalid رضی اللہ عنہ reviled him. Thereupon Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) said: None should revile my Companions. for if one amongst you were to spend as much gold as Uhud, it would not amount to as much as one mudd of one of them or half of it.
ہم سے عثمان بن ابی شیبہ نے بیان کیا, جریر نے اعمش سے ، انھوں نے ابو صالح سے ، انھوں نے حضرت ابو سعید ( خدری ) رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ
حضرت خالد بن ولید اور عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کے درمیان کو ئی مناقشہ تھا ، حضرت خالد رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ان کو برا کہا : تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " میرے صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین میں سے کسی کو برا نہ کہو ، کیونکہ تم میں سے کسی شخص نے اگر اُحدپہاڑ کے برابرسونا بھی خرچ کیاتو وہ ان میں سے کسی کے دیے ہو ئے ایک مدکے برابر بلکہ اس کے آدھے کے برابر بھی ( اجر ) نہیں پاسکتا ۔ "