The Book of the Merits of the Companions
كتاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ
Chapter 45
Adi bin Hatim reported:
I came to Umar bin Khattab رضی اللہ عنہ and he said to me: The first consignment of Sadaqa brought to Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) which brightened the face of Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) and the faces of his Companions was that of Tayyi.
ہم سے زہیر بن حرب نے بیان کیا، کہا ہم سے احمد بن اسحاق نے بیان کیا، کہا ہم سے ابو عونہ نے بیان کیا، وہ مغیرہ کی سند سے، انہوں نے عامر کی سند سے, عدی بن حاتم سے روایت ہے ، کہا
میں حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس آیا تو انھوں نے مجھ سے کہا : سب سے پہلا صدقہ ( باقاعدہ وصول شدہ زکاۃ ) جس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحا بہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین کے چہروں کو روشن کر دیا تھا بنو طے کا صدقہ تھا ، جس کو آپ ( عدی رضی اللہ عنہ ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لے کر آئے تھے ۔
Abu Huraira رضی اللہ عنہ reported:
Tufail رضی اللہ عنہ and his companions said: Allah's Messenger ﷺ, the tribe of Daws has disbelieved and has belied you, so invoke curse upon them. It was said: Let Daws be destroyed, whereupon he (Allah's Messenger ﷺ) said: Allah guide aright the tribe of Daws and direct them to me.
ہم سے یحییٰ بن یحییٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے المغیرہ بن عبدالرحمٰن نے بیان کیا، انہوں نے ابو الزناد سے، انہوں نے العرج کی سند سے, حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہا
حضرت طفیل ( بن عمرو دوسی ) رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھی آئے اور آکر عرض کی : اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ( ہمارے قبیلے ) دوس نے کفر کیا اور ( اسلام لا نے سے ) انکا ر کیا ، آپ ان کے خلا ف دعا کیجیے! ( بعض لوگوں کی طرف سے ) کہا گیا ۔ کہ اب دوس ہلا ک ہو گئے ۔ ( لیکن ) آپ نے ( دعا کرتے ہو ئے ) فر ما یا : " اے اللہ !دوس کو ہدایت دےاور ان کو ( یہاں ) لےآ ۔ "
It was narrated that Abu Zur'ah that Abu Hurairah رضی اللہ عنہ said:
"I still love Banu Tamim for three things that I heard from the Messenger of Allah (ﷺ). I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: "They will put up the strongest resistance of me Ummah against the Dajjal." Their charity (Zakat) came and the prophet ﷺ said: 'This is the charity of our people.' And he said: 'Aishah رضی اللہ عنہا had a slave girl from among them,' and the Messenger of Allah ﷺ said: for she is from the children of Ismail.' "
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، ہم سے جریر نے بیان کیا، مغیرہ کی سند سے, حارث نے ابو زرعہ سے روایت کی ، انھوں نے کہا : حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا
میں بنو تمیم کے ساتھ تین باتوں کی وجہ سے جو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنیں محبت کرتا آرہا ہوں ۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرما تے ہو ئے سنا ، یہ میری امت میں سے دجال کے خلا ف زیادہ سخت ہوں گے ۔ کہا : اور ان لوگوں کے صدقات ( زکاۃ کے اموال ) آئے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نےفرمایا : " یہ ہماری اپنی قوم کے صدقات ہیں ۔ کہا : ان میں سے جنگ میں پکڑی ہو ئی ایک باندی حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس تھی ۔ آپ نے ان سے فرما یا : " اسے آزاد کردو ۔ یہ حضرت اسماعیل علیہ السلام کی اولا د میں سے ہے ۔
The other hadith has been transmitted on the authority of Abu Huraira رضی اللہ عنہ with a slight variation of wording.
مجھ سے زہیر بن حرب نے بیان کیا، ہم سے جریر نے بیان کیا، عمارہ نے ابو زرعہ سے ، انھوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا : تین باتوں کے بعد جو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنیں ، میں بنو تمیم سے مسلسل محبت کرتا آرہا ہوں ، پھر اسی ( سابقہ حدیث ) کے مانند بیان کیا ۔
Abu Huraira رضی اللہ عنہ reported:
There are some distinguishing features of Banu Tamim which I heard from Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) and my love for them is never on the decline after that and the words are: They are the bravest amongst people in the battlefield and there is no mention of (the word) Dajjal .
ہم سے حمید بن عمر البکراوی نے بیان کیا، کہا ہم سے مسجد داؤد کے امام مسلمہ بن علقمہ المازنی نے بیان کیا، کہا ہم سے داؤد نے بیان کیا, شعبی نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا
تین صفات ہیں جو میں نے بنوتمیم کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنیں اس کے بعد سے میں ان سے محبت کرتا ہوں اور ( آگے ) اسی معنی میں حدیث بیان کی ، البتہ ( شعبی نے ) یہ کہا : " وہ ( مستقبل میں ہو نے والی ) بڑی جنگوں کے دوران میں لڑنے میں سب لوگوں سے زیادہ سخت ہوں گے ۔ " اور انھوں نے دجال کا ذکر نہیں کیا ۔
Abu Huraira رضی اللہ عنہ reported:
Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) as saying: You would find people like those of mine, the good amongst you in the Days of Ignorance would be good amongst you in the days of Islam, provided they have an understanding of it and you will find good amongst people the persons who would be averse to position of authority until it is thrust upon them, and you will find the worst amongst persons one who has double face. He comes with one face to them and with the other face to the others.
مجھ سے حرملہ بن یحییٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے ابن وہب نے بیان کیا، مجھ سے یونس نے بیان کیا, ابن شہاب نے کہا : مجھے سعید بن مسیب نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کی کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم لوگوں کو کانوں کی طرح پاؤ گے ۔ پس جو جاہلیت میں بہتر تھے وہ اسلام میں بھی بہتر ہیں جب دین میں سمجھدار ہو جائیں اور تم بہتر اس کو پاؤ گے جو مسلمان ہونے سے پہلے اسلام سے بہت نفرت رکھتا ہو ( یعنی جو کفر میں مضبوط تھا وہ اسلام لانے کے بعد اسلام میں بھی ایسا ہی مضبوط ہو گا جیسے سیدنا عمر اور سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہما وغیرہ یا یہ مراد ہے کہ جو خلافت سے نفرت رکھے اسی کی خلافت عمدہ ہو گی ) ۔ اور تم سب سے برا اس کو پاؤ گے جو دو روّیہ ہو کہ ان کے پاس ایک منہ لے کر آئے اور ان کے پاس دوسرا منہ لے کر جائے ۔
It was narrated from Abu Hurairah رضی اللہ عنہ :
The Messenger of Allah ﷺ said: 'You will find that people are of different qualities'" a Hadith like that of Az-Zuhri (no.6454) except that in the Hadith of Abu Zurah and al Zurah abd Al-A'raj it says: "You will find the best of people in the matter are those who hate it the most until it is thrust upon them."
مجھ سے زہیر بن حرب نے بیان کیا، ہم سے جریر نے عمارہ کی سند سے بیان کیا,ابو زرعہ اور اعرج نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " تم لوگوں کو معدنیات کی کانوں کی طرح پاؤگے ۔ ۔ ۔ " ( آگے اسی طرح ہے ) جس طرح زہری کی حدیث ہے ، البتہ ابو زرعہ اور اعرج کی روایت میں ہے : " تم اس ( دین کے ) معاملے میں سب لوگوں سے بہتر انھیں پاؤگے جو اس ( دین ) میں داخل ہونے سے پہلے سب لوگوں سے بڑھ کر اس کو ناپسند کرتے تھے ۔ "
Abu Huraira رضی اللہ عنہ reported:
Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) as saying: Good amongst the women are those who ride camels. One of them said: They are pious women of the Quraish, and the other one said: The women of the Quraish are kind to the orphans in their childhood and look after the wealth of their spouses.
ابن ابی عمر نے کہا : ہمیں سفیان بن عیینہ نے ابو زناد سے حدیث بیان کی ، انھوں نے اعرج سے ، انھوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی اور ابن طاوس نے اپنے والد سے اور انھوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " ان عورتوں میں سے بہترین جو اونٹوں پر سوار ہوتی ہیں ۔ ان دونوں ( اعرج اورطاؤس ) میں سے ایک نے کہا : قریش کی نیک عورتیں ہیں اور دوسرے نے کہا : قریش کی عورتیں ہیں ۔ جو یتیم بچے کی کم عمری میں اس پر سب سے زیادہ مہربان ہوتی ہیں اور اپنے شوہر کے مال کی سب سے زیادہ حفاظت کرنے والی ہوتی ہیں ۔ "
A similar report was narrated from Abu Hurairah رضی اللہ عنہ, and attributed to the prophet ﷺ, and from Ibn Tawus from his father, who attributed it to the prophet ﷺ, except that he said:
"They are kindest to the children when they are small" and he did not say: "orphans."
عمرو ناقد نےکہا : ہمیں سفیان نے ابو زناد سے حدیث بیان کی ، انھوں نے اعرض سے اور انھوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی جو اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچاتے تھے ( آپ سے روایت کرتے تھے ۔ ) اس ( سابقہ روایت ) کے مانند ، اور ابن طاوس نے اپنے والد سے روایت کی جو اسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچاتے تھے ، مگر انھوں نے اس طرح کہا
" وہ ا پنے بچے کی اس کی کم سنی میں سب سے زیادہ نگہداشت کرنے والی ہوتی ہیں ۔ " انھوں نے " یتیم ( پر ) " نہیں کہا ۔
Abu Huraira رضی اللہ عنہ reported:
I heard Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) as saying: The women of the Quraish are good amongst the womenfolk. They ride camels and show affection to their children and zealously guard the wealth of their husbands. Abu Huraira رضی اللہ عنہ said at the end of this narration that Maryam, the daughter of Imran, never rode the camel.
مجھ سے حرملہ بن یحییٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے ابن وہب نے بیان کیا, یونس نے ابن شہاب سے روایت کی ، انھوں نے کہا : مجھے سعید بن مسیب نے حدیث بیان کی کہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا : میں نے رسول اللہ سے سنا
آپ نے فرمایا : "" قریش کی عورتیں اونٹوں پر سواری کرنے والی تمام عورتوں میں سب سے اچھی ہیں ، بچے پر سب سے بڑھ کر مہربان ہیں اور اپنے خاوند کے لئے اس کے مال کی سب سے زیادہ حفاظت کرنے والی ہیں ۔ "" ( سعیدبن مسیب نے ) کہا : ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اس کے بعد کہا کر تے تھے : مریم بنت عمران علیہ السلام اونٹ پر کبھی سوار نہیں ہوئیں ۔
Abu Huraira رضی اللہ عنہ reported:
Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) gave a proposal of marriage to Umm Hani, the daughter of Abu Talib رضی اللہ عنہ , whereupon she said: Allah's Messenger, I am of an advanced age with a (large) family. Thereupon Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) said: The best women are those who ride (the camels) ; the rest of the hadith is the same but with this difference that, instead of the word Ar'a the word Ahna has been used (and the complete sentence is like this): That they treat children in their childhood with affection.
مجھ سے محمد بن رافع نے بیان کیا، اور مجھ سے عبد بن حمید نے بیان کیا - عبد نے کہا: ہم سے انہوں نے بیان کیا، اور ابن رافع نے کہا: ہم سے عبدالرزاق نے بیان کیا، معمر نے زہری سے ، انھوں نے ابن مسیب سے ، انھوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ام ہانی بنت ابی طالب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو نکاح کا پیغام بھجوایا ، انھوں نے کہا : اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !اب میں بوڑھی ہوگئی ہوں اور میرےبہت سے بچے ہیں ، اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " ( اونٹوں پر ) سوار ہونے والی عورتوں میں سے بہترین " پھر یونس کی حدیث کی طرح بیان کیا مگر یوں کیا : " اس کی کم سنی میں بچے پر سب سے زیادہ مہربان ہوتی ہیں ۔ "
Abu Huraira رضی اللہ عنہ reported:
Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) as saying: The best women who ride the camels are the pious women of the Quraish; they treat with affection children in their childhood and keep a strict watch on the wealth of their spouses.
مجھ سے محمد بن رافع نے بیان کیا اور مجھ سے عبد بن حمید نے بیان کیا - ابن رافع نے کہا : ہم سے انہوں نے بیان کیا اور عبد الرزاق نے کہا , معمر نے ابن طاوس سے اورانھوں نے اپنے والد سے روایت کی ، نیز معمر نے ہمام بن منبہ سے ، انھوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اونٹوں پر سفر کرنے والی عورتوں میں سے بہترین ، قریش کی نیک عورتیں ہیں جو بچے پر اس کی کم سنی میں زیادہ شفقت کرنے و الی ہوتی ہیں اور اپنے خاوند کے مال کی زیادہ حفاظت کرتی ہیں ۔ "
This hadith has been reported on the authority of Abu Huraira رضی اللہ عنہ with the same chain of transmitters.
مجھ سے احمد بن عثمان بن حکیم العودی نے بیان کیا، مجھ سے خالد یعنی ابن مخلد نے بیان کیا، مجھ سے سلیمان نے جو ابن بلال ہیں, سہیل ( بن ابی صالح ) نے اپنے والد سے ، انھوں نے حضرت ابو ہریرۃ رضی اللہ عنہ سے ، انھوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے معمر کی حدیث کے مانند روایت کی ۔
Anas رضی اللہ عنہ reported:
Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) established fraternity between Abu Ubaida bin Jarrah and Abu Talha رضی اللہ عنہ.
مجھ سے حجاج بن الشاعر نے بیان کیا، کہا ہم سے عبد الصمد نے بیان کیا، ہم سے حماد نے بیان کیا، یعنی ابن سلمہ نے, ثابت نے حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابوعبیدہ بن جراح اور حضرت ابو طلحہ رضی اللہ عنہ کو ایک دوسرے کا بھائی بنایا ۔
It was said to Anas bin Malik رضی اللہ عنہ :
Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) said: There is no alliance (hilf) of brotherhood in Islam. Anas رضی اللہ عنہ said: Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) established the bond of fraternity between the Quraish and the Ansar in his home.
ابو جعفر محمد بن الصباح نے مجھ سے کہا, حفص بن غیاث نے کہا : ہمیں عاصم احول نے حدیث بیان کی ، انھوں نے کہا : حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے پوچھا گیا : کیا آپ تک یہ بات پہنچی ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا؛ " اسلام میں حلیف بننا بنانا ( جائز ) نہیں " ؟حضرت انس رضی اللہ عنہ نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے مکان میں قریش اور انصار کو ایک دوسرے کا حلیف بنایا تھا ۔
Anas رضی اللہ عنہ reported:
Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) established fraternity between the Quraish and the Ansar in his house at Medina.
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ اور محمد بن عبداللہ بن نمیر نے بیان کیا، انہوں نے کہا: عبدہ بن سلیمان نے عاصم سے ، انھوں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ میں میرے گھر میں قریش اور انصار کو ایک دوسرے کا حلیف بنایا ۔
Jubair bin Mut'im رضی اللہ عنہ reported:
Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) as saying: There is no alliance (hilf) in Islam but (the hilf) established in the pre-Islamic days (for good). Islam intensifies and strengthens it.
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے عبداللہ بن نمیر اور ابو اسامہ نے بیان کیا، زکریا سے, سعد بن ابراہیم نے ا پنے والد سے ، انھوں نے حضرت جبیربن مطعم رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نےفرمایا : " اسلام میں ایک دوسرے کو حلیف بنانے کی ضرورت نہیں ، جو شخص کا جاہلیت میں جو حلف تھا ، اسلام نے اس کی مضبوطی میں اور اضافہ کیا ۔ "
Abu Burda رضی اللہ عنہ reported on the authority of his father:
We offered the sunset prayer along with Allah's Apostle ( صلی اللہ علیہ وسلم ). We then said: If we sit (along with Allah's Messenger) and observe night prayer with him it would be very good, so we sat down and he came to us and said: You are still sitting here. I said: Allah's Messenger, we observed evening prayer with you, then we said: Let us sit down and observe night prayer along with you, whereupon he said: You have done well or you have done right. He then lifted his head towards the sky and it often happened that as he lifted his head towards the sky, he said: The stars are a source of security for the sky and when the stars disappear there comes to the sky, i. e. (it meets the same fate) as it has been promised (it would plunge into darkness). And I am a source of safety and security to my Companions and when I would go away there would fall to the lot (of my Companions) as they have been promised with and my Companions are a source of security for the Umma and as they would go there would fall to the lot of my Umma as (its people) have been promised.
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ، اسحاق بن ابراہیم اور عبداللہ بن عمر بن ابان نے بیان کیا، ان سب نے حسین رضی اللہ عنہ سے کہا: ابوبکر! ہمیں حسین بن علی الجوفی نے مجمع بن یحییٰ کی سند سے بیان کیا, سعید بن ابی بردہ نے ابو ہریرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ، انھوں نے ا پنے والد ( ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ ) سے روایت کی ، کہا
ہم نے مغرب کی نماز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ پڑھی ، پھر ہم نے کہا کہ اگر ہم بیٹھے رہیں یہاں تک کہ عشاء آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ پڑھیں تو بہتر ہو گا ۔ پھر ہم بیٹھے رہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لائے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم یہیں بیٹھے رہے ہو؟ ہم نے عرض کیا کہ جی ہاں یا رسول اللہ! ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز مغرب پڑھی ، پھر ہم نے کہا کہ اگر ہم بیٹھے رہیں یہاں تک کہ عشاء کی نماز بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ پڑھیں تو بہتر ہو گا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم نے اچھا کیا یا ٹھیک کیا ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا سر آسمان کی طرف اٹھایا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اکثر اپنا سر آسمان کی طرف اٹھایا کرتے تھے ، پھر فرمایا کہ ستارے آسمان کے بچاؤ ہیں ، جب ستارے مٹ جائیں گے تو آسمان پر بھی جس بات کا وعدہ ہے وہ آ جائے گی ( یعنی قیامت آ جائے گی اور آسمان بھی پھٹ کر خراب ہو جائے گا ) ۔ اور میں اپنے اصحاب کا بچاؤ ہوں ۔ جب میں چلا جاؤں گا تو میرے اصحاب پر بھی وہ وقت آ جائے گا جس کا وعدہ ہے ( یعنی فتنہ اور فساد اور لڑائیاں ) ۔ اور میرے اصحاب میری امت کے بچاؤ ہیں ۔ جب اصحاب چلے جائیں گے تو میری امت پر وہ وقت آ جائے گا جس کا وعدہ ہے ( یعنی اختلاف و انتشار وغیرہ ) ۔
Abu Sa'id Khudri رضی اللہ عنہ reported:
Allah's Apostle ( صلی اللہ علیہ وسلم ) as saying: A time would come for the people when groups of people would set out for fighting in the cause of Allah and it would be said to them: Is there one amongst you who saw Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم )? And they would say: Yes, and they would be victorious. Then the people would set out for fighting in the cause of Allah and it would be said to them: Is there one amongst you who saw those (who have had the privilege of sitting in the company of Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم )? And they would say: Yes, and victory would be granted to them. Then a group of persons would set out for fighting in the cause of Allah and it would be said to them: Is there one amongst you who saw one of those who saw those who (had the privilege) of sitting in the company of Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم )? And they would say: Yes, and the Victory would be granted to them.
ہم سے ابو خیثمہ، زہیر بن حرب اور احمد بن عبدہ الذہبی نے بیان کیا اور اس کا لفظ زہیر ہے، ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا: عمرو ( بن دینار ) نے حضرت جابر ( بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) سے سنا ، وہ حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے خبر دیتے تھے ، انھوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نےفرمایا : " ایک زمانہ آئے گا کہ آدمیوں کے جھنڈ جہاد کریں گے تو ان سے پوچھیں گے کہ کوئی تم میں سے وہ شخص ہے جس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ہو؟ تو وہ لوگ کہیں گے کہ ہاں! تو ان کی فتح ہو جائے گی ۔ پھر لوگوں کے گروہ جہاد کریں گے تو ان سے پوچھیں گے کہ تم میں سے کوئی وہ ہے جس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی کو دیکھا ہو ( یعنی تابعین میں سے کوئی ہے؟ ) لوگ کہیں کے کہ ہاں! پھر ان کی فتح ہو جائے گی ۔ پھر آدمیوں کے لشکر جہاد کریں گے تو ان سے پوچھا جائے گا کہ تم میں سے کوئی وہ ہے جس نے صحابی کے دیکھنے والے کو دیکھا ہو ( یعنی تبع تابعین میں سے ) ؟ تو لوگ کہیں گے کہ ہاں ۔ پھر لوگوں کے گروہ جہاد کریں گے تو پوچھیں گے کہ کیا تم میں کوئی ایسا آدمی ہے جس نے اتباع تابعین کو دیکھا ہو؟
Abu Sa'id Khudri رضی اللہ عنہ reported:
Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) as saying: There would come to the people a time when a detachment would be sent for fighting in the cause of Allah and they would say: See, if you can find amongst them someone from amongst the Companions of Allah's Apostle ( صلی اللہ علیہ وسلم ). They would find a person and they would be granted victory because of him. Then a second detachment would be sent to them and they would say: Do you find amongst them one who had had the privilege of seeing the Companions of the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم )? -and the victory would be granted to them because of him. Then the third detachment would be sent and it would be said to them: See, if you find amongst them (who had had the honour of seeing one) who saw those who saw the Companions of Allah's Apostle ( صلی اللہ علیہ وسلم ). Then the fourth detachment would be sent and it would be said to them: See it you find amongst them one who had the privilege (of seeing) one who saw those who saw those who saw the Companions of Allah's Apostle ( صلی اللہ علیہ وسلم ), and a person would be found and they would be granted victory because of him.
مجھ سے سعید بن یحییٰ بن سعید امو ی نے بیان کیا، کہا ہم سے میرے والد نے بیان کیا، ہم سے ابن جریج نے بیان کیا, ابو زبیر نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انھوں نے کہا : حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کو یقین تھا ، انھوں نے کہا
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا؛ " لوگوں پر ایسا زمانہ آئے گا کہ ان میں سے کوئی لشکر بھیجاجائے گا تو لوگ کہیں گے : دیکھو ، کیا تم میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ میں سے کوئی فرد ہے؟تو ایک شخص مل جائے گا ، چنانچہ اس کی وجہ سے انھیں فتح مل جائے گی ، پھر ایک اور لشکر بھیجا جائے گا تو لوگ ( آپس میں ) کہیں گے : کیا ان میں کوئی ایسا شخص ہے جس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کو دیکھا ہو؟تو انھیں اس ( شخص ) کی بنا پر فتح حاصل ہوجائےگی ، پھر تیسرا لشکر بھیجاجائے گا تو کہا جائے گا : دیکھو ، کیا ان میں کوئی ایسا دیکھتے ہو جس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کو دیکھنے والوں کو دیکھا ہو؟پھر چوتھا لشکر بھیجاجائے گاتو کہا جائے گا : دیکھو ، کیا ان میں کوئی ایسا شخص دیکھتے ہو جس نے کسی ایسے آدمی کو دیکھا ہو جس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کو دیکھنے والوں میں سے کسی کو دیکھا ہو؟تو وہ آدمی مل جائے گا اور اس کی وجہ سے انھیں فتح مل جائے گی ۔ "