The Book of the Merits of the Companions
كتاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ
Chapter 45
This hadith has been transmitted on the authority of al-A'mash and there is no mention by Shu'ba and Waki' of 'Abdul-Rahman bin Auf and Khalid رضی اللہ عنہ.
ہم سے ابو سعید اشجج اور ابو کریب نے بیان کیا، کہا: ہم سے وکیع نے بیان کیا، ان سے اعمش نے بیان کیا، ہم سے عبید اللہ بن معاذ نے بیان کیا، ہم سے ابی نے بیان کیا، انہوں نے کہا: ہم سے ابن المثنیٰ اور ابن بشار نے بیان کیا، کہتے ہیں۔ابن ابی عدی نے شعبہ کی سند سے، الاعمش کی سند سے، جریر کی سند سے اور ابو معاویہ نے اسی حدیث سے بیان کیا، نہ کہ کسی حدیث میں۔ شعبہ اور وکیع، عبدالرحمٰن بن عوف اور خالد بن ولید کا تذکرہ نہیں ہے۔
Usair bin Jabir رضی اللہ عنہ reported:
A delegation from Kufa came to 'Umar رضی اللہ عنہ and there was a person amongst them who jeered at Uwais رضی اللہ عنہ. Thereupon Umar رضی اللہ عنہ said: Is there amongst us one from Qaran? That person came and Umar رضی اللہ عنہ said: Verily Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) has said: There would come to you a person from Yemen who would be called Uwais and he would leave none in Yemen (behind him) except his mother, and he would have the whiteness (due to leprosy) and he supplicated Allah and it was cured except for the size of a dinar or dirham. He who amongst you meets him should ask him to supplicate for forgiveness (from Allah) for you.
مجھ سے زہیر بن حرب نے بیان کیا، کہا ہم سے ہاشم بن القاسم نے بیان کیا, سلیمان بن مغیرہ نے کہا : مجھے سعید جریری نے ابو نضرہ سے حدیث بیان کی ، انھوں نے اُسیر بن جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ
اہل کوفہ ایک وفد میں حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے پاس آئے ، ان میں ایک ایسا آدمی بھی تھا جو حضرت اویس رضی اللہ عنہ کا ٹھٹا اڑاتا تھا ، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے پوچھا : یہاں قرن کے رہنے والوں میں سے کوئی ہے؟وہ شخص ( آگے ) آگیاتوحضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا : " تمھارے پاس یمن سے ایک شخص آئے گا ، اس کا نام اویس ہوگا ، یمن میں اس کی والدہ کےسوا کوئی نہیں جسے وہ چھوڑ کرآئے ۔ اس ( کے جسم ) پرسفید ( برص کے ) نشان ہیں ۔ اس نے اللہ سے دعا کی تو اللہ نے ایک دینار یا درہم کے برابر چھوڑ کر باقی سارا نشان ہٹادیا ، وہ تم میں سے جس کو ملے ( وہ اس سے درخواست کرےکہ ) وہ تم لوگوں کےلیے مغفرت کی دعاکرے ۔ "
Umar bin Khattab رضی اللہ عنہ reported:
I heard Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) as saying: Worthy amongst the successors would be a person who would be called Uwais. He would have his mother (living with him) and he would have (a small) sign of leprosy. Ask him to beg pardon for you (from Allah).
ہم سے زہیر بن حرب اور محمد بن المثنیٰ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے عفان بن مسلم نے بیان کیا، حماد بن سلمہ نے سعید جریری سے اسی سند کےساتھ حدیث بیان کی ، کہا : سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہا : کہ
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے کہ تابعین میں ایک بہترین شخص ہے جس کو اویس کہتے ہیں ، اس کی ایک ماں ہے ( یعنی رشتہ داروں میں سے صرف ماں زندہ ہو گی ) اور اس کو ایک سفیدی ہو گی ۔ تم اس سے کہنا کہ تمہارے لئے دعا کرے ۔
Usair bin Jabir رضی اللہ عنہ reported:
When people from Yemen came to help (the Muslim army at the time of jihad) he asked them: Is there amongst you Uwais bin 'Amir? (He continued finding him out) until he met Uwais. He said: Are you Uwais bin Amir? He said: Yes. He said: Are you from the tribe of Qaran? He said: Yes. He (Hadrat) 'Umar رضی اللہ عنہ (again) said: Did you suffer from leprosy and then you were cured from it but for the space of a dirham? He said: Yes. He ('Umar رضی اللہ عنہ ) said: Is your mother (living)? He said: Yes. He ('Umar رضی اللہ عنہ ) said: I heard Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) say: There would come to you Uwais bin Amir with the reinforcement from the people of Yemen. (He would be) from Qaran, (the branch) of Murid. He had been suffering from leprosy from which he was cured but for a spot of a dirham. His treatment with his mother would have been excellent. If he were to take an oath in the name of Allah, He would honour that. And if it is possible for you, then do ask him to beg forgiveness for you (from your Lord). So he (Uwais) begged forgiveness for him. Umar رضی اللہ عنہ said: Where do you intend to go? He said: To Kufa. He ('Umar رضی اللہ عنہ ) said: Let me write a letter for you to its governor, whereupon he (Uwais) said: I love to live amongst the poor people. When it was the next year, a person from among the elite (of Kufa) performed Hajj and he met Umar رضی اللہ عنہ . He asked him about Uwais. He said: I left him in a state with meagre means of sustenance. (Thereupon) Umar رضی اللہ عنہ said: I heard Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) as saying: There would come to you Uwais bin 'Amir, of Qaran, a branch (of the tribe) of Murid, along with the reinforcement of the people of Yemen. He had been suffering from leprosy which would have been cured but for the space of a dirham. His treatment with his mother would have been very kind. If he would take an oath in the name of Allah (for something) He would honour it. Ask him to beg forgiveness for you (from Allah) in case it is possible for you. So he came to Uwais and said.: Beg forgiveness (from Allah) for me. He (Uwais) said: You have just come from a sacred journey (Hajj) ; you, therefore, ask forgiveness for me. He (the person who had performed Hajj) said: Ask forgiveness for me (from Allah). He (Uwais again) said: You have just come from the sacred journey, so you ask forgiveness for me. (Uwais further) said: Did you meet Umar رضی اللہ عنہ ? He said: Yes. He (Uwais) then begged forgiveness for him (from Allah). So the people came to know about (the status of religious piety) of Uwais. He went away (from that place). Usair said: His clothing consisted of a mantle, and whosoever saw him said: From where did Uwais get this mantle?
ہم سے اسحاق بن ابراہیم الحنظَلی، محمد بن المثنیٰ اور محمد بن بشار نے بیان کیا - کہا کہ ہم سے اسحاق بن ابراہیم نے بیان کیا اور باقی دو نے کہا: ہم سے اس نے بیان کیا اور یہ قول ابن المثنیٰ کا ہے، ہم سے معاذ بن ہشام نے بیان کیا، مجھ سے میرے والد نے قتادہ کی سند سے بیان کیا, زرارہ بن اوفیٰ نے اُسیر بن جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : کہ
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس جب یمن سے مدد کے لوگ آتے ( یعنی وہ لوگ جو ہر ملک سے اسلام کے لشکر کی مدد کے لئے جہاد کرنے کو آتے ہیں ) تو وہ ان سے پوچھتے کہ تم میں اویس بن عامر بھی کوئی شخص ہے؟ یہاں تک کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ خود اویس کے پاس آئے اور پوچھا کہ تمہارا نام اویس بن عامر ہے؟ انہوں نے کہا کہ ہاں ۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ تم مراد قبیلہ کی شاخ قرن سے ہو؟ انہوں نے کہا کہ ہاں ۔ انہوں نے پوچھا کہ تمہیں برص تھا وہ اچھا ہو گیا مگر درہم برابر باقی ہے؟ انہوں نے کہا کہ ہاں ۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ تمہاری ماں ہے؟ انہوں نے کہا کہ ہاں ۔ تب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے کہ تمہارے پاس اویس بن عامر یمن والوں کی کمکی فوج کے ساتھ آئے گا ، وہ قبیلہ مراد سے ہے جو قرن کی شاخ ہے ۔ اس کو برص تھا وہ اچھا ہو گیا مگر درہم باقی ہے ۔ اس کی ایک ماں ہے ۔ اس کا یہ حال ہے کہ اگر اللہ کے بھروسے پر قسم کھا بیٹھے تو اللہ تعالیٰ اس کو سچا کرے ۔ پھر اگر تجھ سے ہو سکے تو اس سے اپنے لئے دعا کرانا ۔ تو میرے لئے دعا کرو ۔ پس اویس نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے لئے بخشش کی دعا کی ۔ تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ تم کہاں جانا چاہتے ہو؟ انہوں نے کہا کہ کوفہ میں ۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں تمہیں کوفہ کے حاکم کے نام ایک خط لکھ دوں؟ انہوں نے کہا کہ مجھے خاکساروں میں رہنا اچھا معلوم ہوتا ہے ۔ جب دوسرا سال آیا تو ایک شخص نے کوفہ کے رئیسوں میں سے حج کیا ۔ وہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے ملا تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس سے اویس کا حال پوچھا تو وہ بولا کہ میں نے اویس کو اس حال میں چھوڑا کہ ان کے گھر میں اسباب کم تھا اور ( خرچ سے ) تنگ تھے ۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے کہ اویس بن عامر تمہارے پاس یمن والوں کے امدادی لشکر کے ساتھ آئے گا ، وہ مراد قبیلہ کی شاخ قرن میں سے ہے ۔ اس کو برص تھا وہ اچھا ہو گیا صرف درہم کے برابر باقی ہے ۔ اس کی ایک ماں ہے جس کے ساتھ وہ نیکی کرتا ہے ۔ اگر وہ اللہ پر قسم کھا بیٹھے تو اللہ تعالیٰ اس کو سچا کرے ۔ پھر اگر تجھ سے ہو سکے کہ وہ تیرے لئے دعا کرے تو اس سے دعا کرانا ۔ وہ شخص یہ سن کر اویس کے پاس آیا اور کہنے لگا کہ میرے لئے دعا کرو ۔ اویس نے کہا کہ تو ابھی نیک سفر کر کے آ رہا ہے ( یعنی حج سے ) میرے لئے دعا کر ۔ پھر وہ شخص بولا کہ میرے لئے دعا کر ۔ اویس نے یہی جواب دیا پھر پوچھا کہ تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے ملا؟ وہ شخص بولا کہ ہاں ملا ۔ اویس نے اس کے لئے دعا کی ۔ اس وقت لوگ اویس کا درجہ سمجھے ۔ وہ وہاں سے سیدھے چلے ۔ اسیر نے کہا کہ میں نے ان کو ان کا لباس ایک چادر پہنائی جب کوئی آدمی ان کو دیکھتا تو کہتا کہ اویس کے پاس یہ چادر کہاں سے آئی ہے؟ ( وہ ایسے تھے کہ ایک مناسب چادر بھی ان کے پاس ہونا باعث تعجب تھا ۔ )
Abu Dharr رضی اللہ عنہ reported:
Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) as saying: You would soon conquer a land where people are in the habit of using foul language. They have a right of kinship upon you. And when you see two persons fighting for the space of a brick, then get out of that. He (Abu Dharr) then happened to pass by Rabila and 'Abd al-Rahman, the two sons of Shurahbil bin Hasana رضی اللہ عنہ, and they had been disputing for the space of a brick. So he left the land.
ابو الطاہر نے مجھ سے کہا, ابن وہب نے کہا : ہمیں حرملہ بن عمران تحبیی نے عبدالرحمٰن بن شماسہ مہری سے حدیث بیان کی ، انھوں نے کہا : میں نے حضرت ابوذر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ، کہتے تھے
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا؛ "" تم عنقریب ایک زمین کو فتح کرو گےجس میں قیراط کا نام لیا جاتا ہوگا ( یہ ان کے چھوٹے سکے کا نام ہوگا ) تم اس سرزمین کے رہنے والوں کے ساتھ اچھا سلوک کرنے کی بات سن رکھو ، کیونکہ ان کا ( ہم پر ) حق بھی ہے اور رشتہ بھی ، پھر جب تم دو انسانوں کو ایک اینٹ کی جگہ کے لئے قتال پر آمادہ دیکھو تو وہاں سے چلے آنا ۔ "" ( حرملہ بن عمران نے ) کہا : تو ( عبدالرحمان بن شماسہ ) حضرت شرحبیل بن حسنہ رضی اللہ عنہ کے دو بیٹوں ربیعہ اور عبدالرحمان کے قریب سے گزرے ، وہ ایک اینٹ کی جگہ پر جھگڑ رہے تھے تو وہ وہاں ( مصر ) سے نکل آئے ۔
Abu Dharr reported:
Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) as saying: You would soon conquer Egypt and that is a land which is known (as the land of al-qirat). So when you conquer it, treat its inhabitants well. For there lies upon you the responsibility because of blood-tie or relationship of marriage (with them). And when you see two persons falling into dispute amongst themselves for the space of a brick, than get out of that. He (Abu Dharr رضی اللہ عنہ ) said: I saw Abdul-Rahman bin Shurahbil bin Hasana and his brother Rabi'a disputing with one another for the space of a brick. So I left that (land).
مجھ سے زہیر بن حرب اور عبید اللہ بن سعید نے بیان کیا، انہوں نے کہا: ہم سے وہب بن جریر نے بیان کیا، کہا ہم سے میرے والد نے بیان کیا، میں نے حرملہ المصری رضی اللہ عنہ سے سنا۔ عبدالرحمٰن بن شماسہ، ابو بصرہ سے، ابوذر کی سند سے، انہوں نے کہا
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم عنقریب مصر کو فتح کر لو گے اور وہ ایک ایسی سرزمین ہے جو (قیراط کی سرزمین کے نام سے) مشہور ہے۔ پس جب تم اسے فتح کر لو تو اس کے باشندوں کے ساتھ اچھا سلوک کرو۔ کیونکہ خونی رشتہ یا رشتہ ازدواج کی وجہ سے (ان کے ساتھ) ذمہ داری تم پر ہے۔ اور جب تم دو آدمیوں کو دیکھو کہ ایک اینٹ کی جگہ پر آپس میں جھگڑ رہے ہیں تو وہاں سے نکل جاؤ۔ ابوذر رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے عبدالرحمٰن کو دیکھا۔ شورابیل بی۔ حسنہ اور اس کا بھائی ربیعہ ایک اینٹ کی جگہ کے لیے ایک دوسرے سے جھگڑ رہے ہیں۔ چنانچہ میں نے وہ زمین چھوڑ دی۔
Abu Barza رضی اللہ عنہ reported:
Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) sent a person to a tribe amongst the tribes of Arabia. They reviled him and beat him. He came to Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) and narrated to him (the story of atrocities perpetrated upon him by the people of the tribe). Thereupon he (the Holy Prophet) said: If you were to come to the people of 'Uman, they would have neither reviled you nor beaten you.
ہم سے سعید بن منصور نے بیان کیا، کہا ہم سے مہدی بن میمون نے بیان کیا، ابو الوازی کی سند سے, جابر بن عمرو راسبی نے کہا : میں نے حضرت ابو برزہ رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے ہوئے سنا
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو قبائل عرب میں سے ایک قبیلے کے پاس بھیجا تو ان لوگوں نے ان کو گالیاں دیں اور مارا ، وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور آپ کوخبر دی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اگر تم اہل عمان کے پاس جاتے تو وہ تمھیں گالیاں دیتے نہ مارتے ۔ "
Abu Naufal reported:
I saw (the dead body) of Abdullah bin Zubair رضی اللہ عنہ hanging on the road of Medina (leading to Mecca). The Quraish passed by it and other people too, that Abdullah bin Umar رضی اللہ عنہ happened to pass by it. He stood up there and said: May there be peace upon you, Abu Khubaib (the Kunya of Hadrat 'Abdullah bin Zubair رضی اللہ عنہ ), may there be peace upon you Abu Khubaib, may there be peace upon you, Abu Khubaib! By Allah, I used to forbid you from this; by Allah, I used to forbid you from this, by Allah I used to forbid you from this. By Allah, so far as I know, you had been very much devoted to fasting and prayer and you had been paying very much care to cementing the ties of blood. By Allah, the group to which you belong (are labelled) as (a) wicked (person) is indeed a fine group. Then 'Abdullah bin 'Umar رضی اللہ عنہ went away. The stand 'Abdullah (bin 'Umar رضی اللہ عنہ ) took in regard to the inhuman treatment (meted out to 'Abdullah bin Zubair رضی اللہ عنہ ) and his words (in that connection) were conveyed to Hajjaj (bin Yusuf) and (as a consequence of that) he (the body of Abdullah bin Zubair رضی اللہ عنہ ) was brought down from the stump (the scaffold) by which it was hanging and thrown into the graves of the Jews. He (Hajjaj) sent (his messenger) to Asma' رضی اللہ عنہا (bint Abu Bakr, 'Abdullah's mother). But she refused to come. He again sent the messenger to her with the message that she must come, otherwise he would bring her forcibly catching hold of her hair. But she again refused and said: By Allah, I will not come to you until you send one to me who would drag me by pulling my hair. Thereupon he said: Bring me my shoes. He put on his shoes and walked on quickly swollen with vanity and pride until he came to her and said: How do you find what I have done with the enemy of Allah? She said: I find that you wronged him in this world, whereas he has spoiled your next life. It has been conveyed to me that you used to call him ('Abdullah bin Zubair رضی اللہ عنہ ) as the son of one having two belts. By Allah, I am indeed (a woman) of two belts. One is that with the help of which I used to suspend high the food of Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) and that of Abu Bakr رضی اللہ عنہ (making it out of the reach) of animals and, so far as the second belt is concerned, that is the belt which no woman can dispense with. Verily Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) told us that in Thaqif, there would be born a great liar and great murderer. The liar we have seen, and as far as the murderer is concerned, I do not find anyone else besides you. 'Thereupon he (Hajjaj) stood up and did not give any reply to her.
ہم سے عقبہ بن مکرم العمی نے بیان کیا، کہا ہم سے یعقوب نے بیان کیا، یعنی ابن اسحاق الحدرمی نے, ہمیں اسود بن شیبان نے ابو نوافل سے خبردی ، کہا
میں نے حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ ( کے جسد خاکی ) کو شہر کی گھاٹی میں ( کھجور کے ایک تنے سے لٹکا ہوا ) دیکھا ، کہا : تو قریش اور دوسرے لوگوں نے وہاں سے گزرنا شروع کردیا ، یہاں تک کہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ وہاں سے گزرے تو وہ ان ( ابن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) کے پاس کھڑے ہوگئے ، اور ( انھیں مخاطب کرتے ہوئے ) کہا : ابو خبیب!آپ پر سلام! ابو خبیب!آپ پر سلام! ابو خبیب!آپ پر سلام!اللہ گواہ ہے کہ میں آپ کو اس سے روکتا تھا ، اللہ گواہ ہے کہ میں آپ کو اس سے روکتا تھا ، اللہ گواہ ہے کہ میں آپ کو اس سے روکتا تھا ، اللہ کی قسم!آپ ، جتنا مجھے علم ہے بہت روزے رکھنے والے ، بہت قیام کرنے والے ، بہت صلہ رحمی کرنے و الے تھے ۔ اللہ کی قسم!وہ امت جس میں آپ سب سے بُرے ( قرار دیے گئے ) ہوں ، وہ امت تو پوری کی پوری بہترین ہوگی ( جبکہ اس میں تو بڑے بڑے ظالم ، قاتل اور مجرم موجود ہیں ۔ آپ کسی طور پر اس سلوک کے مستحق نہ تھے ۔ ) پھر عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ وہاں سے چلے گئے ۔ حجاج کو عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے وہاں کھڑے ہونے کی خبر پہنچی تو اس نے کارندے بھیجے ، ان ( کے جسدخاکی ) کو کھجور کے تنے سے اتارا گیا اور انھیں جاہلی دور کی یہود کی قبروں میں پھینک دیا گیا ، پھر اس نے ( ابن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی والدہ ) حضرت اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے پاس کارندہ بھیجا ۔ انھوں نے اس کے پاس جانے سے انکار کردیا ۔ اس نے دوبارہ قاصد بھیجا کہ یا تو تم میرے پاس آؤ گی یا پھر میں تمھارے پاس ان لوگوں کو بھیجو ں گا جو تمھیں تمھارے بالوں سے پکڑ کر گھسیٹتے ہوئے لے آئیں گے ۔ حضرت اسماء رضی اللہ عنہا نے پھر انکار کردیا اورفرمایا : میں ہرگز تیرے پاس نہ آؤں گی یہاں تک کہ تو میرے پاس ایسے شخص کو بھیجے جو مجھے میرے بالوں سے پکڑ کر گھسیٹتے ہوئے لےجائے ۔ کہا : توحجاج کہنے لگا : مجھے میرے جوتے دکھاؤ ، اس نے جوتے پہنے اور اکڑتا ہوا تیزی سے چل پڑا ، یہاں تک کہ ان کے ہاں پہنچا اور کہا : تم نے مجھے دیکھا کہ میں نے اللہ کے دشمن کے ساتھ کیا کیا؟انھوں نے جواب دیا : میں نے تمھیں دیکھا ہے کہ تم نے اس پر اس کی دنیا تباہ کردی جبکہ اس نے تمھاری آخرت برباد کردی ، مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ تو اسے دو پیٹیوں والی کا بیٹا ( ابن ذات النطاقین ) کہتا ہے ۔ ہاں ، اللہ کی قسم!میں دو پیٹیوں والی ہوں ۔ ایک پیٹی کے ساتھ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا کھانا سواری کے جانور پر باندھتی تھی اور دوسری پیٹی وہ ہے جس سے کوئی عورت مستغنی نہیں ہوسکتی ( سب کو لباس کے لیے اس کی ضرورت ہوتی ہے ۔ ) اور سنو!رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں بتایا تھا کہ بنو ثقیف میں ایک بہت بڑا کذاب ہوگا اور ایک بہت بڑا سفاک ہوگا ۔ کذاب ( مختار ثقفی ) کو تو ہم نے دیکھ لیا اور رہا سفاک تو میں نہیں سمجھتی کہ تیرے علاوہ کوئی اورہوگا ، کہا : تو وہ وہاں سے اٹھ کھڑا ہوا اور انھیں کوئی جواب نہ دے سکا ۔
Abu Huraira رضی اللہ عنہ reported:
Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) as saying: If the din were at the Pleiades, even then a person from Persia would have taken hold of it, or one amongst the Persian descent would have surely found it.
مجھ سے محمد بن رافع اور عبد بن حمید نے بیان کیا - عبد نے کہا : ہم سے انہوں نے بیان کیا اور ابن رافع نے کہا : ہم سے عبد الرزاق نے بیان کیا ، ہم سے معمر نے ، جعفر الجزری، یزید بن اصم جزری نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا؛ " اگر دین ثریا پر ہوتا تب بھی فارس کا کوئی شخص ۔ ۔ ۔ یا آپ نے فرمایا ۔ ۔ ۔ فرزندان فارس میں سے کوئی شخص اس تک پہنچتا اور اسے حاصل کرلیتا ۔ "
Abu Huraira رضی اللہ عنہ reported:
We were sitting in the company of Allah's Apostle ( صلی اللہ علیہ وسلم ) that Sura al-Jumu'a was revealed to him and when he recited (these words): Others from amongst them who have not yet joined them, a person amongst them (those who were sitting there) said: Allah's Messenger! But Allah's Apostle ( صلی اللہ علیہ وسلم ) made no reply, until he questioned him once, twice or thrice. And there was amongst us Salman رضی اللہ عنہ the Persian. The Apostle of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) placed his hand on Salman رضی اللہ عنہ and then said: Even if faith were near the Pleiades, a man from amongst these would surely find it.
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، انہیں عبدالعزیز نے، یعنی ابن محمد نے، ہم سے ایک بیل کے بارے میں بیان کیا, ابو غیث نے حضرت ابو ہریر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا
ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر سورۃ الجمعہ نازل ہوئی اور آپ نے یہ پڑھا : ﴿ وَآخَرِينَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوا﴾ "" ان میں اور بھی لوگ ہیں جو اب تک آکر ان سے نہیں ملے ہیں ۔ "" ( الجمعۃ 62 : 3 ) تو ایک نے عرض کی : اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !وہ کون لوگ ہیں؟نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا کوئی جواب نہ دیا ، حتیٰ کہ اس نے آپ سے ایک یا دو یا تین بار سوال کیا ، کہا : اس وقت ہم میں حضرت سلمان فارسی رضی اللہ تعالیٰ عنہ بھی موجود تھے ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت سلمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ پر ہاتھ رکھا ، پھر فرمایا؛ "" اگر ایمان ثریا کے قریب بھی ہوتا تو ان میں سے کچھ لوگ اس کو حاصل کرلیتے ۔ ""
Ibn 'Umar رضی اللہ عنہ reported:
Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) as saying: You would find people like one hundred camels and you would not find even one (camel) fit for riding.
مجھ سے محمد بن رافع اور عبد بن حمید نے بیان کیا - اور یہ لفظ محمد کے لیے ہے عبد نے کہا : اس نے ہمیں خبر دی ، اور ابن رافع نے کہا : ہم سے عبد الرزاق نے بیان کیا ۔ ہم سے معمر نے الزہری کی سند سے بیان کیا, سالم نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " تم لوگوں کو ایسے سواونٹوں کی مثل پاؤ گے کہ آدمی ان میں سے ایک بھی سواری کے لائق نہیں پاتا ۔ "