The Book of the Merits of the Companions
كتاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ
Chapter 45
Abu Dharr رضی اللہ عنہ reported:
Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) as saying: Go to your people and say that the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) says: Ghifar (is a tribe) to whom Allah granted pardon, and Aslam (is the tribe) to whom Allah granted safety.
ہم سے حداب بن خالد نے بیان کیا، ہم سے سلیمان بن المغیرہ نے بیان کیا، ہم سے حمید بن ہلال نے بیان کیا، انہوں نے عبداللہ بن صامت کی سند سے، انہوں نے کہا: حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ نے کہا
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما یا : " غفار ، اللہ ان کی مغفرت کرے اور اسلم ، اللہ انھیں سلامت رکھے ۔ "
Abu Dharr رضی اللہ عنہ reported:
Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) as saying: To the tribe of Aslam Allah has granted safety and to the tribe of Ghifar Allah has granted pardon.
عبید اللہ بن عمر القواری، محمد بن المثنی اور ابن بشار نے ہمیں ابن مہدی کی سند سے بیان کیا، انہوں نے کہا: ابن المثنی نے کہا, عبد الرحمٰن ابن مہدی نے کہا , ہمیں شعبہ نے ابو عمران جونی سے حدیث بیان کی ، انھوں نے عبد اللہ بن صامت سے ، انھوں نے حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سےفرمایا : " اپنی قوم کے پاس جاؤاور ( ان سے ) کہو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نےفرما یا ہے ۔ " اسلم کو اللہ تعا لیٰ سلامت رکھے ۔ " اورغفار کی اللہ تعالیٰ مغفرت فرمائے !
This hadith has been reported on the authority of Shu'ba with the same chain of transmitters.
ہم سے محمد بن المثنا اور ابن بشار نے بیان کیا، انہوں نے کہا: ابو داؤد نے کہا : ہمیں شعبہ نے یہ حدیث اسی سند سے بیان کی ۔
This hadith has been narrated through other chains of transmitters on the authority of Jabir رضی اللہ عنہ and Abu Huraira رضی اللہ عنہ :
Allah's Apostle ( صلی اللہ علیہ وسلم ) said: To the tribe of Aslam Allah has granted safety and to the tribe of Ghifar Allah has granted pardon.
ہم سے محمد بن المثنی، ابن بشار، سوید بن سعید اور ابن ابی عمر نے بیان کیا، انہوں نے کہا: ہم سے عبدالوہاب ثقفی نے ایوب رضی اللہ عنہ کی سند سے بیان کیا۔ محمد نے ابوہریرہ سے، ہم سے عبید اللہ بن معاذ نے بیان کیا، ہم سے میرے والد نے بیان کیا، ہم سے محمد بن المثنی نے بیان کیا، ہم سے عبدالرحمٰن بن مہدی نے بیان کیا، انہوں نے کہا: ہم سے شعبہ نے بیان کیا, محمد ( بن سیرین ) محمد بن زیاد اور اعرج نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، نیز ابن جریج اور معقل نے ابو زبیر سے انھوں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، سب نے کہا :نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت ہےکہ
آپ نے فرمایا : " اسلم کو اللہ تعالیٰ سلامتی عطاکرے ۔ " اورغفار کی اللہ تعالیٰ مغفرت فرمائے ! "
Abu Huraira رضی اللہ عنہ reported:
Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) as saying: To the tribe of Aslam Allah has granted safety and to the tribe of Ghifar Allah has granted pardon. Verily it is not I that say this, but (it is) Allah the Exalted and Glorious. (who) says this.
مجھ سے حسین بن حارث نے بیان کیا، ہم سے الفضل بن موسیٰ نے بیان کیا, خثیم بن عراک نے اپنے والد سے ، انھوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما یا : اسلم کو اللہ تعا لیٰ نےسلامتی عطا کی ۔ " اورغفار کی اللہ تعالیٰ نے مغفرت فرمادی ، یہ میں نے نہیں کہا ، اللہ تعا لیٰ نے فرما یا ہے ۔
Khufaf bin Jura' رضی اللہ عنہreported:
Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) said in prayer: O Allah, hurl curse upon the tribe of Lihyan and Ri'l aid Dhakwan and Usayya for they disobeyed Allah and His Messenger, (and for) Ghifar Allah has granted pardon and for the tribe of Aslam Allah has granted safety.
مجھ سے ابو الطاہر نے بیان کیا، ہم سے ابن وہب نے لیث کی سند سے اور عمران بن ابی انس کی سند سے بیان کیا, حنظلہ بن علی نے حضرت خفاف بن ایماء غفاری رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز میں دعا کرتےہو ئے فرما یا : اے اللہ !بنو لحیان ، رعل ، ذکوان اور عصیہ پر لعنت فر ما جنھوں نے اللہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی کی ، اورغفار کی اللہ مغفرت فر ما ئے اسلم کو اللہ سلامتی عطا کرے! "
Ibn 'Umar رضی اللہ عنہ reported:
Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) as saying: Allah has granted pardon to the tribe of Ghifar and to the tribe of Aslam Allah has granted safety and as for Usayya tribe, they disobeyed Allah and His Messenger.
ہم سے یحییٰ بن یحییٰ، یحییٰ بن ایوب، قتیبہ اور ابن حجر نے بیان کیا، انہوں نے کہا: ہم سے یحییٰ بن یحییٰ نے بیان کیا، اور دوسروں نے کہا: ہم سے اسمٰعیل بن جعفر نے بیان کیا, عبد اللہ بن دینار سے روایت ہے کہ انھوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے سنا ، انھوں نے کہا
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " غفار کی اللہ نے مغفرت فرمائی اور اسلم کو اللہ سلامتی عطا کیاور عصیہ نے اللہ اور اس کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نافر ما نی کی ۔
This hadith has been transmitted on the authority of Ibn Umar رضی اللہ عنہ with a slight variation of wording (and the wording):
Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) said this on the pulpit.
ہم سے ابن المثنی نے بیان کیا، کہا ہم سے عبد الوہاب نے بیان کیاعبید اللہ ، اسامہ اور ابو صالح سب نے نافع سے ، انھوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سےانھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کے مانند روایت کی صالح اور اسامہ کی حدیث میں ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات منبر پر ارشاد فر ما ئی ۔
This hadith has been reported on the authority of Ibn Umar رضی اللہ عنہ but through another chain of transmitters.
مجھ سے حجاج بن شعر نے بیان کیا، ہم سے ابوداؤد طیالسی نے بیان کیا، ہم سے حرب بن شداد نے بیان کیا، یحییٰ کی سند سے, ابو سلمہ نے کہا : مجھے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ نے حدیث بیان کی ، کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرما تے ہو ئے سنا ، ان سب ( سابقہ حدیث کے راویوں ) کی حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کردہ حدیث کے مانند.
Abu Ayyub رضی اللہ عنہ reported:
Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) as saying: The tribes of Ansar, Muzaina and Juhaina and Ghifar and Ashja' and those from Banu 'Abdullah, they are my friends amongst the people and Allah and His Messenger are their protectors.
مجھ سے زہیر بن حرب نے بیان کیا، کہا ہم سے یزید نے جو ہارون کے بیٹے ہیں، بیان کیا، کہا ہم سے ابو مالک اشجعی نے بیان کیا، وہ موسیٰ بن طلحہ سے, حضرت ابو ایوب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہا
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " انصار مزینہ ، جہینہ ، غفار ، اشجع اور جو بھی بنو عبد اللہ میں سے ہیں ( ان کے علاقے میں رہنے والے ) باقی لوگوں کو چھوڑ کر میرے اپنے مدد گار ہیں اور اللہ اور اس کا رسول ان کے مددگار ہیں ۔ "
Abu Huraira رضی اللہ عنہ reported:
Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) as saying: Quraish, Ansar, Muzaina, Juhaina and Ghifar, they are my friends and there is no friend of theirs besides Allah and His Messenger.
ہم سے محمد بن عبداللہ بن نمیر نے بیان کیا، کہا ہم سے میرے والد نے بیان کیا, سفیان ( بن سعید ) نے سعد بن ابرا ہیم سے ، انھوں نے عبد الرحمن بن ہر مز اعرج سے ، انھوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما یا : " قریش ، انصار مزینہ جہینہ ، اسلم ، غفار اور اشجع ( میرے ) مدد گار ہیں اور ان کا اللہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سوا کو ئی اور مددگار نہیں ہے ۔ ( انھیں خالصتاً اللہ اور اس کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حمایت حاصل ہے ۔ )
A similar report was narrated from Sad bin Ibrahim with this chain of narrators, except that in Hadith (it says):
"Sa'd said concerning some of this: 'As far as I know."
عبید اللہ بن معاذ کے والد نے کہا : ہمیں شعبہ نے سعد بن ابرا ہیم سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند روایت کی ، مگر اس حدیث میں یہ ہے کہ
سعد نے ان میں سے بعض قبائل کے بارے میں کہا : " میرے علم کے مطابق ۔ "
Abu Huraira رضی اللہ عنہ reported:
Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) as saying: The tribes of Ashja', Ghifar and Muzaina and from the tribe of Juhaina they are better than Banu Tamim, Banu Amir and the allies of Asad and Ghatfan.
ہم سے محمد بن المثنیٰ نے بیان کیا، اور ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا، انہوں نے کہا: ہم سے ابن المثنیٰ نے بیان کیا، ہم سے محمد بن جعفر نے بیان کیا، ہم سے شعبہ نے بیان کیا، سعد بن ابرا ہیم سے روایت ہے ، کہا : میں نے ابو سلمہ سے سنا ، وہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کر رہے تھے کہ
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اسلم ، غفاراور مزینہ اور جو لوگ جہینہ سے ہیں یاآپ نے جہینہ فرما یا ، بنو تمیم اور بنو عامر اور دو باہمی حلیفوں اسد اور غطفان سے بہتر ہیں ۔ "
Abu Huraira رضی اللہ عنہ reported:
Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) as saying: By Him in Whose Hand is the life of Muhammad, (the tribes of) Ghifar, Aslam, Muzaina, or from the tribe of Juhaina or from the tribe of Muzaina, they would be better in the eye of Allah than Asad, Tayyi, and Ghatfan on the Day of Resurrection.
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے المغیرہ یعنی الحز امی نے بیان کیا, ابو زناد العرج کی سند سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہم سے عمرو نقید، حسن الحلوانی اور عبد بن حمید نے بیان کیا۔ عبدل نے کہا: اس نے مجھے بتایا، اور دوسرے دو نے کہا: اس نے ہم سے بیان کیا، یعقوب بن ابراہیم بن سعد، ہم سے میرے والد نے بیان کیا، صالح نے اعرج سے ، انھوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما یا : " اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جا ن ہے! یقیناً غفار ، اسلم مزینہ اورجو لوگ جہینہ سے ہیں یا آپ نے فرمایا : " جہینہ اور جو لو گ مزینہ سے ہیں ( خود آکر اسلام قبول کرنے کی بنا پر ) قیامت کے دن اللہ کے نزدیک اسد طے اور غطفان سے بہتر ہوں گے ۔ "
Abu Huraira رضی اللہ عنہ reported:
Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) as saying: Aslam, Ghifar or some people from Muzaina, Juhaina (with the variation of words) are better in the eye of Allah than Asad, Ghatfan, Hawizin and Tamim. The narrator said: I think he also said: On the Day of Resurrection.
مجھ سے زہیر بن حرب اور یعقوب الدورقی نے بیان کیا، انہوں نے کہا: ہم سے اسماعیل یانیان بن اولیاء نے بیان کیا, ایوب نے محمد ( بن سیرین ) سے ، انھوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما یا : " اسلم ، غفار اور مزینہ کے کچھ گھرا نے اور جہینہ یا جہینہ کے کچھ گھرا نے اور مزینہ ، اللہ کے نزدیک ۔ کہا : میرا خیال ہے ( محمد بن سیرین نے ) کہا ۔ ۔ قیامت کے دن اسد ، غطفان ، ہوازن اور تمیم سے ( جنھوں نے خود آکر اسلام قبول نہ کیا ) بہتر ہوں گے ۔ "
Abu Bakra reported from his father:
Al-Aqra' bin Habis رضی اللہ عنہ reported that he came to Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) and said to him: How did the tribes of Aslam, Ghifar, Muzaina (and I think he also said Juhaina and the narrator is in doubt about it) owe allegiance to you, whereas they plundered the pilgrims? Thereupon Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) said: you were to say that Aslam, Ghifar, Muzaina and I think Juhaina are better than Banu Tamim, Banu 'Amir and Asad, Ghatfan, then would these people (of latter group of tribes) be in loss? He said: Yes. Thereupon he (the Holy Prophet) said: By Him in Whose Hand is my life, these people are better than Banu Tamim, Banu Amir, Asad and Ghatfan, and in this hadith of Abu Shaiba (these words are not found) that Muhammad (the narrator) had a doubt about.
ابو بکربن ابی شیبہ نے ہمیں حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں غندر نے شعبہ سے حدیث بیان کی ، اسی طرح محمد بن مثنیٰ اور ابن بشار نے حدیث بیان کی ، دونوں نے کہا : ہمیں محمد بن جعفر نے حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں شعبہ نے محمد بن ابی یعقوب سے حدیث بیان کی ، کہا : میں نے عبدالرحمن بن ابی بکرہ سے سنا ، وہ اپنے والد سے حدیث بیان کررہے تھے کہ
حضرت اقرع بن حابس ( تمیمی ) رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور کہا : آپ سے حاجیوں کا سامان چرا نے والے ( قبائل ) اسلم اور غفار اور مزینہ اور میرا خیال ہے جہینہ ( کابھی نام لیا ) ۔ ۔ ۔ محمد ( بن یعقوب ) ہیں جنھیں شک ہوا ۔ نے بیعت کر لی ہے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " تمھا را کیا خیال ہے کہ اگر اسلم اور غفار اور مزینہ اور میرا خیال ہے ( آپ نے فرما یا ) جہینہ بنو تمیم ، بنو عامر بنو اسد اور غطفان سے بہتر ہوں تو کیا یہ ( قبیلے لوگوں کی نظر میں مرتبے کے اعتبار سے ) ناکام ہو جا ئیں گے ، خسارے میں رہیں گے؟ " اس نے کہا : جی ہاں ۔ آپ نے فرما یا : " مجھے اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! وہ ان سے بہت بہتر ہیں ۔ " ابن ابی شیبہ کی حدیث میں : " محمد ( بن یعقوب ) ہیں جنھیں شک ہوا ۔ " ( کے الفاظ ) نہیں ۔
The chief of Banu Tamim, Muhammad bin Abdullah bin Abi Yaqub Ad-Dabbi narrated a similar report (as Hadith no. 6444) with this chain of narrators, and he said: "and Juhainah" and he did not say: "I think."
عبد الصمد نے ہمیں حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں شعبہ نے حدیث سنائی کہا : مجھے بنو تمیم کے سردار محمد بن عبد اللہ بن ابی یعقوب ضبی نے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند حدیث سنائی اور انھوں نے صرف جہینہ کہا : ۔ " میرا خیال ہے " ( کاجملہ ) نہیں کہا ۔
Abu Bakra reported:
The Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) that Aslam, Ghifar, Muzaina and Juhaina are better than Banu Tamim, Banu Amir and their allies Banu Asad and Ghatfan.
نصر بن علی جہضمی کے والد نے ہمیں حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں شعبہ نے ابو بشر سے ، انھوں نے عبد الرحمن بن ابی بکرہ سے انھوں نے اپنے والد سے اور انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیث بیان کی کہ
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر مایا : " " اسلم ، غفار مزینہ اور جہینہ بنو تمیم ، بنو عامر اور دو حلیف قبیلوں بنو اسد اور بنو غطفان سے بہتر ہیں ۔
This hadith has been reported on the authority of Abu Bishr with the same chain of transmitters.
ہم سے محمد بن المثنی اور ہارون بن عبداللہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا: عبد الصمد اور شبابہ بن سوار نے کہا : ہمیں شعبہ نے ابوبشر سے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی ۔
Abu Bakra reported on the authority of his father:
Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) said: What is your view if Juhaina, Aslam, Ghifar were better than Banu Tamim, Banu 'Abdullah bin Ghatfan and 'Amir bin Sa'sa'a' respectively (then what would be status of the latter one)? He said this in a loud voice. They said: Allah's Messenger, they would be definitely at a loss and disadvantage. Thereupon he said: They (the first group) are decidedly better than the others; and in the hadith transmitted on the authority of Abu Kuraib the words are: It you were to find that Juhaina, Muzaina and Aslam and Ghifar (are better than...).
ابو بکر بن ابی شیبہ اور کریب نے ۔ ۔ ۔ اور الفاظ ابو بکر کے ہیں ۔ ۔ ۔ حدیث بیان کی ، دونوں نے کہا : ہمیں وکیع نے سفیان سے حدیث بیان کی ، انھوں نے عبد الملک بن عمیر سے ، انھوں نے عبد الرحمٰن بن ابی بکرہ سے انھوں نے اپنے والد سے روایت کی ، انھوں نے کہا
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " تم لوگ کیا سمجھتے ہو اگر جہینہ ، اسلم اور غفار بنو تمیم ، بنو عبد اللہ بن غطفان اور عامر بن صعصہ سے بہتر ہوں ۔ " اور ( پوچھتے ہو ئے ) آپ نے آواز بلند کی تو صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین نے کہا : اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! پھر وہ ( لوگوں کے نزدیک اپنی عزت بڑھانے میں ) ناکام ہوں گے اورکم مرتبہ ہو جائیں گے ۔ آپ نے فرما یا : " بے شک وہ ان سے بہتر ہیں ۔ " ابو کریب کی روایت میں ہے : " تم کیا سمجھتے ہو اگر جہینہ اور مزینہ اور اسلم اور غفار " ( مزینہ کے نام کا اضافہ ہے جس طرح متعدد دوسری روایات میں بھی مزینہ کا نا م شامل ہے )