Back to Sahih Muslim

The Book of the Merits of the Companions

كتاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ

Chapter 45

Hadith 6409
Sahih
حَدَّثَنِي عَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْعَظِيمِ الْعَنْبَرِيُّ، وَأَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْمَعْقِرِيُّ، قَالَا: حَدَّثَنَا النَّضْرُ وَهُوَ ابْنُ مُحَمَّدٍ الْيَمَامِيُّ، حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ، حَدَّثَنَا أَبُو زُمَيْلٍ، حَدَّثَنِي ابْنُ عَبَّاسٍ، قَالَ: كَانَ الْمُسْلِمُونَ لَا يَنْظُرُونَ إِلَى أَبِي سُفْيَانَ وَلَا يُقَاعِدُونَهُ، فَقَالَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَا نَبِيَّ اللهِ ثَلَاثٌ أَعْطِنِيهِنَّ، قَالَ: «نَعَمْ» قَالَ: عِنْدِي أَحْسَنُ الْعَرَبِ وَأَجْمَلُهُ، أُمُّ حَبِيبَةَ بِنْتُ أَبِي سُفْيَانَ، أُزَوِّجُكَهَا، قَالَ: «نَعَمْ» قَالَ: وَمُعَاوِيَةُ، تَجْعَلُهُ كَاتِبًا بَيْنَ يَدَيْكَ، قَالَ: «نَعَمْ» قَالَ: وَتُؤَمِّرُنِي حَتَّى أُقَاتِلَ الْكُفَّارَ، كَمَا كُنْتُ أُقَاتِلُ الْمُسْلِمِينَ، قَالَ: «نَعَمْ» قَالَ أَبُو زُمَيْلٍ: وَلَوْلَا أَنَّهُ طَلَبَ ذَلِكَ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا أَعْطَاهُ ذَلِكَ، لِأَنَّهُ لَمْ يَكُنْ يُسْأَلُ شَيْئًا إِلَّا قَالَ: «نَعَمْ».
English

Ibn Abbas رضی اللہ عنہ reported:

The Muslims neither looked to Abu Sufyan رضی اللہ عنہ (with respect) nor did they sit in his company. he (Abu Sufyan) said to Allah's Apostle ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ): Allah's Apostle, confer upon me three things. He replied in the affirmative. He (further) said: I have with me the most handsome and the best (woman) Umm Habiba رضی اللہ عنہا , daughter of Abu Sufyan; marry her, whereupon he said: Yes. And he again said: Accept Mu'awiya to serve as your scribe. He said: Yes. He again said: Make me the commander (of the Muslim army) so that I should fight against the unbelievers as I fought against the Muslims. He said: Yes. Abu Zumnail said: If he had not asked for these three things from Allah's Apostle ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ), he would have never conferred them upon him, for it was (his habit) to accede to everybody's (earnest) request

Urdu

مجھ سے عباس بن عبدالعظیم العنبری اور احمد بن جعفر المقری نے بیان کیا، کہا: ہم سے الندر نے جو محمد الیمامی کے بیٹے ہیں، بیان کیا, عکرمہ نے کہا : ہمیں ابو زمیل نے حدیث بیان کی ، انھوں نے کہا : مجھے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے حدیث بیان کی ، کہا

مسلمان نہ حضرت ابو سفیان رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے بات کرتے تھے نہ ان کے ساتھ بیٹھتے اٹھتے تھے ۔ اس پر انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کی : اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم !آپ مجھے تین چیزیں عطا فر ما دیجیے ۔ ( تین چیزوں کے بارے میں میری درخواست قبول فرما لیجیے ۔ ) آپ نے جواب دیا : " ہاں ۔ " کہا میری بیٹی ام حبیبہ رضی اللہ عنہا عرب کی سب سے زیادہ حسین و جمیل خاتون ہے میں اسے آپ کی زوجیت میں دیتا ہوں ۔ آپ نے فر مایا : " ہاں ۔ " کہا : اور معاویہ ( میرابیٹا ) آپ اسے اپنے پاس حاضر رہنے والا کا تب بنا دیجیے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " ہاں ۔ " پھر کہا : آپ مجھے کسی دستے کا امیر ( بھی ) مقرر فرمائیں تا کہ جس طرح میں مسلمانوں کے خلاف لڑتا تھا اسی طرح کافروں کے خلا ف بھی جنگ کروں ۔ آپ نے فرمایا : " ہاں ۔ " ابو زمیل نے کہا : اگر انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ان باتوں کا مطالبہ نہ کیا ہو تا تو آپ ( از خود ) انھیں یہ سب کچھ عطا نہ فر ما تے کیونکہ آپ سے کبھی کو ئی چیز نہیں مانگی جا تی تھی مگر آپ ( اس کے جواب میں ) " ہاں " کہتے تھے ۔

Hadith 6410
Sahih
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ بَرَّادٍ الْأَشْعَرِيُّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ الْهَمْدَانِيُّ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، حَدَّثَنِي بُرَيْدٌ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى، قَالَ: بَلَغَنَا مَخْرَجُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَنَحْنُ بِالْيَمَنِ، فَخَرَجْنَا مُهَاجِرِينَ إِلَيْهِ، أَنَا وَأَخَوَانِ لِي، أَنَا أَصْغَرُهُمَا، أَحَدُهُمَا أَبُو بُرْدَةَ وَالْآخَرُ أَبُو رُهْمٍ - إِمَّا قَالَ بِضْعًا وَإِمَّا قَالَ: ثَلَاثَةً وَخَمْسِينَ أَوِ اثْنَيْنِ وَخَمْسِينَ رَجُلًا مِنْ قَوْمِي - قَالَ فَرَكِبْنَا سَفِينَةً، فَأَلْقَتْنَا سَفِينَتُنَا إِلَى النَّجَاشِيِّ بِالْحَبَشَةِ، فَوَافَقْنَا جَعْفَرَ بْنَ أَبِي طَالِبٍ وَأَصْحَابَهُ عِنْدَهُ، فَقَالَ جَعْفَرٌ: إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَنَا هَاهُنَا، وَأَمَرَنَا بِالْإِقَامَةِ فَأَقِيمُوا مَعَنَا، فَأَقَمْنَا مَعَهُ حَتَّى قَدِمْنَا جَمِيعًا، قَالَ: فَوَافَقْنَا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ افْتَتَحَ خَيْبَرَ، فَأَسْهَمَ لَنَا، أَوْ قَالَ أَعْطَانَا مِنْهَا، وَمَا قَسَمَ لِأَحَدٍ غَابَ عَنْ فَتْحِ خَيْبَرَ مِنْهَا شَيْئًا، إِلَّا لِمَنْ شَهِدَ مَعَهُ، إِلَّا لِأَصْحَابِ سَفِينَتِنَا مَعَ جَعْفَرٍ وَأَصْحَابِهِ، قَسَمَ لَهُمْ مَعَهُمْ، قَالَ فَكَانَ نَاسٌ مِنَ النَّاسِ يَقُولُونَ لَنَا - يَعْنِي لِأَهْلِ السَّفِينَةِ -: نَحْنُ سَبَقْنَاكُمْ بِالْهِجْرَةِ.
English

Abu Musa رضی اللہ عنہ reported:

We were in Yemen when we heard of the migration of Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ). We also set out as immigrants to him. And I was accompanied by two brothers of mine, I being the youngest of them; one of them was Abu Burda and the other one was Abu Ruhm, and there were some other persons with them. Some say they were fifty-three or fifty-two persons of my tribe. We embarked upon a boat, and the boat sailed away to the Negus of Abyssinia. There we met Ja'far bin Abu Talib رضی اللہ عنہ and his companions. Ja'far رضی اللہ عنہ said: Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) has sent us here and has commanded us to stay here and you should also stay with us. So we stayed with him and we came back (to Medina) and met Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) when Khaibar had been conquered. He (the Holy Prophet) allocated a share to us and in the ordinary course he did not allocate the share to one who had been absent on the occasion of the conquest of Khaibar but conferred (a share) upon him only who had been present there with him. He, however, made an exception for the people of the boat, viz. for Ja'far رضی اللہ عنہ and his companions. He allocated a share to them, and some persons from amongst the people said to us, viz. the people of the boat: We have preceded you in migration.

Urdu

ہم سے عبداللہ بن براد اشعری اور محمد بن علاء الہمدانی نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ابو اسامہ نے بیان کیا،بُرَید نے ابو بُردہ سے انھوں نے حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا

ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ( مکہ سے ) نکلنے کی خبر ملی تو ہم یمن میں تھے ۔ ہم ( بھی ) آپ کی طرف ہجرت کرتے ہو ئے نکل پڑے ۔ میں میرے دو بھا ئی جن سے میں چھوٹا تھا ۔ ایک ابو بردہ اور دوسرا ابو رہم ۔ ۔ ۔ اور میری قوم میں سے پچاس سے کچھ اوپریا کہا : تریپن یا باون لوگ ( نکلے ) ۔ ۔ کہا : ہم کشتی میں سوار ہو ئے تو ہماری کشتی نے ہمیں حبشہ میں نجا شی کے ہاں جا پھینکا ۔ اس کے ہاں ہم حضرت جعفر بن ابی طالب رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور ان کے ساتھیوں کے ساتھ اکٹھے ہو گئے ۔ جعفر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں یہاں بھیجا ہے اور ہمیں یہاں ٹھہرنے کا حکم دیا ہے تم لو گ بھی ہمارے ساتھ یہیں ٹھہرو ۔ کہا : ہم ان کے ساتھ ٹھہرگئے ۔ حتی کہ ہم سب اکٹھے ( واپس ) آئے ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ( عین ) اس وقت آکر ملے جب آپ نے خیبر فتح کیا تو آپ نے ہمارا بھی حصہ نکا لا یا کہا : ہمیں بھی اس مال میں سے عطا فر ما یا : آپ نے کسی شخص کو بھی جو فتح خیبر میں مو جود نہیں تھا کو ئی حصہ نہیں دیا تھا ، سوائے ان لوگوں کے جو آپ کے ساتھ ( فتح میں ) شریک تھے مگر حضرت جعفر رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھیوں کے ہمراہ ہماری کشتی والوں کو دیا ، ان کے لیے ان ( فتح میں شریک ہو نے والوں ) کے ساتھ ہی حصہ نکا لا ۔ کہا : تو ان میں سے کچھ لوگ ہمیں ۔ ۔ ۔ یعنی کشتی والوں کو ۔ ۔ ۔ کہتے تھے ، ہم نے ہجرت میں تم سے سبقت حاصل کی ۔

Hadith 6411
Sahih
قَالَ فَدَخَلَتْ أَسْمَاءُ بِنْتُ عُمَيْسٍ، وَهِيَ مِمَّنْ قَدِمَ مَعَنَا، عَلَى حَفْصَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَائِرَةً، وَقَدْ كَانَتْ هَاجَرَتْ إِلَى النَّجَاشِيِّ فِيمَنْ هَاجَرَ إِلَيْهِ، فَدَخَلَ عُمَرُ عَلَى حَفْصَةَ، وَأَسْمَاءُ عِنْدَهَا، فَقَالَ عُمَرُ حِينَ رَأَى أَسْمَاءَ: مَنْ هَذِهِ؟ قَالَتْ: أَسْمَاءُ بِنْتُ عُمَيْسٍ، قَالَ عُمَرُ: الْحَبَشِيَّةُ هَذِهِ؟ الْبَحْرِيَّةُ هَذِهِ؟ فَقَالَتْ أَسْمَاءُ: نَعَمْ، فَقَالَ عُمَرُ: سَبَقْنَاكُمْ بِالْهِجْرَةِ، فَنَحْنُ أَحَقُّ بِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْكُمْ، فَغَضِبَتْ، وَقَالَتْ كَلِمَةً: كَذَبْتَ يَا عُمَرُ كَلَّا، وَاللهِ كُنْتُمْ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُطْعِمُ جَائِعَكُمْ، وَيَعِظُ جَاهِلَكُمْ، وَكُنَّا فِي دَارِ، أَوْ فِي أَرْضِ الْبُعَدَاءِ الْبُغَضَاءِ فِي الْحَبَشَةِ، وَذَلِكَ فِي اللهِ وَفِي رَسُولِهِ، وَايْمُ اللهِ لَا أَطْعَمُ طَعَامًا وَلَا أَشْرَبُ شَرَابًا حَتَّى أَذْكُرَ مَا قُلْتَ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَنَحْنُ كُنَّا نُؤْذَى وَنُخَافُ، وَسَأَذْكُرُ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَسْأَلُهُ، وَوَاللهِ لَا أَكْذِبُ وَلَا أَزِيغُ وَلَا أَزِيدُ عَلَى ذَلِكَ، قَالَ: فَلَمَّا جَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ: يَا نَبِيَّ اللهِ إِنَّ عُمَرَ قَالَ: كَذَا وَكَذَا، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَيْسَ بِأَحَقَّ بِي مِنْكُمْ، وَلَهُ وَلِأَصْحَابِهِ هِجْرَةٌ وَاحِدَةٌ، وَلَكُمْ أَنْتُمْ، أَهْلَ السَّفِينَةِ، هِجْرَتَانِ» قَالَتْ: فَلَقَدْ رَأَيْتُ أَبَا مُوسَى وَأَصْحَابَ السَّفِينَةِ يَأْتُونِي أَرْسَالًا، يَسْأَلُونِي عَنْ هَذَا الْحَدِيثِ، مَا مِنَ الدُّنْيَا شَيْءٌ هُمْ بِهِ أَفْرَحُ وَلَا أَعْظَمُ فِي أَنْفُسِهِمْ مِمَّا قَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. قَالَ أَبُو بُرْدَةَ: فَقَالَتْ أَسْمَاءُ: فَلَقَدْ رَأَيْتُ أَبَا مُوسَى، وَإِنَّهُ لَيَسْتَعِيدُ هَذَا الْحَدِيثَ مِنِّي.
English

Asma' bint 'Umais رضی اللہ عنہا who had migrated to Abyssinia and had come back along with them (along with immigrants) visited Hafsa رضی اللہ عنہا , the wife of Allah's Apostle ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ). (Accordingly), Umarv رضی اللہ عنہ had been sitting with her (Hafsa). As 'Umar رضی اللہ عنہ saw Asma رضی اللہ عنہا, he said: Who is she? She (Hafsa رضی اللہ عنہا ) said: She is Asma, daughter of 'Umais. He said: She is an Abyssinian and a sea-woman. Asma رضی اللہ عنہا said: Yes, it is so. Thereupon 'Umar said: We preceded you in migration and so we have more right to Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌) as compared with you. At this she felt annoyed and said: 'Umar رضی اللہ عنہ, you are not stating the fact; by Allah, you had the privilege of being in the company of the Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) who fed the hungry among you and instructed the ignorant amongst you, whereas we had been far (from here) in the land of Abyssinia amongst the enemies and that was all for Allah and Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) and, by Allah, I would never take food nor take water unless I make a mention to Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) of what you have said. We remained in that country in constant trouble and dread and I shall talk about it to Allah's Messenger (ﷺ) and ask him (about it). By Allah, I shall not tell a lie and deviate (from the truth) and add anything to that. So, when Allah's Apostle ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) came, she said: Allah's Apostle, 'Umar رضی اللہ عنہا says so and so. Upon this Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌) said: His right is not more than yours, for him and his companions there is one migration, but for you, i.e. for the people of the boat, there are two migrations. She said: I saw Abu Musa رضی اللہ عنہ and the people of the boat coming to me in groups and asking me about this hadith, because there was nothing more pleasing and more significant for them than this. Abu Burda reported that Asma رضی اللہ عنہا said: I saw Abu Musa رضی اللہ عنہ, asking me to repeat this hadith to him again and again.

Urdu

کہا : ( تو ایسا ہوا کہ حضرت جعفر رضی اللہ عنہ کی بیوی ) اسماء بن عمیس رضی اللہ عنہا وہ ان لوگوں میں سے تھیں جو ہمارے ساتھ آئے تھے ۔ ملنے کے لئے ام المومنین حضت حفصہ رضی اللہ عنہا کے پا س گئیں ۔ ہی بھی نجاشی کی طرف ہجرت کرنے والوں کے ساتھ ہجرت کرکے گئی تھیں ۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ ام المؤمنین حفصہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئے اور سیدہ اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا ان کے پاس موجود تھیں ۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اسماء رضی اللہ عنہا کو دیکھ کر پوچھا کہ یہ کون ہے؟ ام المؤمنین حفصہ رضی اللہ عنہا نے جواب دیا کہ یہ اسماء بنت عمیس ہے ۔ تو انہوں نے کہا کہ جو حبش کے ملک میں گئی تھیں اور اب سمندر کا سفر کر کے آئی ہیں؟ اسماء رضی اللہ عنہا بولیں جی ہاں میں وہی ہوں ۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ ہم ہجرت میں تم سے سبقت لے گئے ، لہٰذا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر تم سے زیادہ ہمارا حق ہے ۔ یہ سن کر انہیں غصہ آ گیا اور کہنے لگیں ”اے عمر! اللہ کی قسم ہرگز نہیں ، تم نے جھوٹ کہا ۔ تم تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھے ، تم میں سے بھوکے کو کھانا کھلاتے اور تمہارے جاہل کو نصیحت کرتے تھے اور ہم ایک دور دراز دشمنوں کی زمین حبشہ میں تھے ، اور ہماری یہ سب تکالیف اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی راہ میں تھیں ۔ اللہ کی قسم! مجھ پر اس وقت تک کھانا پینا حرام ہے جب تک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے تمہاری بات کا ذکر نہ کر لوں اور ہم کو ایذا دی جاتی تھی اور ہمیں ہر وقت خوف رہتا تھا ۔ عنقریب میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ذکر کروں گی ، ان سے پوچھوں گی اور اللہ کی قسم نہ میں جھوٹ بولوں گی ، نہ میں کجروی کروں گی اور نہ میں اس سے زیادہ کہوں گی“ ۔ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا نے عرض کیا کہ یا نبی اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! عمر رضی اللہ عنہ نے اس اس طرح کہا ہے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم سے زیادہ کسی کا حق نہیں ہے ۔ کیونکہ عمر ( رضی اللہ عنہ ) اور ان کے ساتھیوں کی ایک ہجرت ہے اور تم کشتی والوں کی تو دو ہجرتیں ہوئیں ( ایک مکہ سے حبش کو اور دوسری حبش سے مدینہ طیبہ کو ) ۔ سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا نے کہا کہ میں نے سیدنا ابوموسیٰ اور کشتی والوں کو دیکھا کہ وہ گروہ در گروہ میرے پاس آتے اور اس حدیث کو سنتے تھے ۔ اور دنیا میں کوئی چیز ان کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان سے زیادہ خوشی کی نہ تھی نہ اتنی بڑی تھی ۔ سیدنا ابوبردہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا کہ سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا نے کہا کہ میں نے ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ وہ مجھ سے اس حدیث کو ( خوشی کے لئے ) باربار سننا چاہتے ۔

Hadith 6412
Sahih
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، حَدَّثَنَا بَهْزٌ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ، عَنْ عَائِذِ بْنِ عَمْرٍو، أَنَّ أَبَا سُفْيَانَ، أَتَى عَلَى سَلْمَانَ، وَصُهَيْبٍ، وَبِلَالٍ فِي نَفَرٍ، فَقَالُوا: وَاللهِ مَا أَخَذَتْ سُيُوفُ اللهِ مِنْ عُنُقِ عَدُوِّ اللهِ مَأْخَذَهَا، قَالَ فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: أَتَقُولُونَ هَذَا لِشَيْخِ قُرَيْشٍ وَسَيِّدِهِمْ؟، فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرَهُ، فَقَالَ: «يَا أَبَا بَكْرٍ لَعَلَّكَ أَغْضَبْتَهُمْ، لَئِنْ كُنْتَ أَغْضَبْتَهُمْ، لَقَدْ أَغْضَبْتَ رَبَّكَ» فَأَتَاهُمْ أَبُو بَكْرٍ فَقَالَ: يَا إِخْوَتَاهْ أَغْضَبْتُكُمْ؟ قَالُوا: لَا يَغْفِرُ اللهُ لَكَ يَا أَخِي.
English

A'idh bin Amr رضی اللہ عنہ reported:

Abu Sufyan رضی اللہ عنہ came to Salman, Suhaib and Bilal in the presence of a group of persons. They said: By Allah, the sword of Allah did not reach the neck of the enemy of Allah as it was required to reach. Thereupon Abu Bakr رضی اللہ عنہ said: Do you say this to the old man of the Quraish and their chief? Then he came to Allah's Apostle (ﷺ) and informed him of this. Thereupon he (the Holy Prophet ﷺ) said: Abu Bakr رضی اللہ عنہ, you have perhaps annoyed them and if you annoyed them you have in fact annoyed your Lord. So Abu Bakr رضی اللہ عنہ came to them and said: O my brothers, I have annoyed you. They said: No, our brother, may Allah forgive you

Urdu

ہم سے محمد بن حاتم نے بیان کیا، کہا ہم سے بہز نے بیان کیا، کہا ہم سے حماد بن سلمہ نے، ثابت کی سند سے, معاویہ بن قرہ نے عائذ بن عمرو رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ

ابوسفیان رضی اللہ عنہ چند اور لوگوں کی موجودگی میں حضرت سلیمان ، حضرت صہیب اور حضرت بلال رضوان اللہ عنھم اجمعین کے پاس سے گزرے تو انھوں نے کہا : اللہ کی قسم! اللہ کی تلواریں اللہ کے دشمن کی گردن میں اپنی جگہ تک نہیں پہنچیں ۔ کہا : اس پر ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فر ما یا : تم لوگ قریش کے شیخ اور سردار کے متعلق یہ کہتے ہو ۔ پھر حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور آپ کو یہ بات بتا ئی تو آپ نے فر ما یا : " ابو بکر رضی اللہ عنہ ! شاید تم نے ان کو ناراض کر دیا ہے ۔ اگر تم نے ان کو ناراض کر دیا ہے تو اپنے رب کو ناراض کر دیا ہے ۔ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ ان کے پاس آئے اور کہا : میرے بھائیو! کیا میں نے تم کو ناراض کردیا؟ انھوں نے کہا : نہیں بھا ئی ! اللہ آپ کی مغفرت فر ما ئے ۔

Hadith 6413
Sahih
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ، وَأَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ - وَاللَّفْظُ لِإِسْحَاقَ - قَالَا: أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، قَالَ: فِينَا نَزَلَتْ: {إِذْ هَمَّتْ طَائِفَتَانِ مِنْكُمْ أَنْ تَفْشَلَا وَاللهُ وَلِيُّهُمَا} [آل عمران: 122] بَنُو سَلِمَةَ وَبَنُو حَارِثَةَ، وَمَا نُحِبُّ أَنَّهَا لَمْ تَنْزِلْ، لِقَوْلِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ {وَاللهُ وَلِيُّهُمَا} [آل عمران: 122].
English

Jabir bin Abdullah رضی اللہ عنہ reported:

It was concerning them (the Ansar) that this verse was revealed, that when the two groups amongst you were about to lose heart and Allah was the Guardian of them both. This concerned Banu Salama and Banu Haritha and we did not like that Allah, the Exalted and Glorious, should not have revealed this verse for the fact that Allah (gave an assurance) of being the Guardian of both.

Urdu

ہم سے اسحاق بن ابراہیم الحنظَلی نے بیان کیا اور احمد بن عبدہ نے بیان کیا اور یہ لفظ اسحاق کے لیے ہے کہ ہم کو سفیان نے خبر دی , عمرو ( بن دینار ) نے حضرت جا بر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا

یہ آیت ہمارے بارے میں نازل ہو ئی " جب تم میں سے دوجماعتوں نے پیچھے ہٹنے کا ارادہ کیا اور اللہ ان دونوں کا مدد گا ر تھا " یہ آیت بنوسلمہ اور بنو حارثہ کے متعلق نازل ہو ئی ( اس کے اندر ) اللہ کے اس فر ما ن : " اللہ ان دونوں ( جماعتوں ) کا مددگار تھا " کی بنا پر ہمیں یہ بات پسند نہیں کہ یہ آیت نال نہ ہو ئی ہوتی ۔

Hadith 6414
Sahih
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، قَالَا: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ النَّضْرِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اللهُمَّ اغْفِرْ لِلْأَنْصَارِ، وَلِأَبْنَاءِ الْأَنْصَارِ، وَأَبْنَاءِ أَبْنَاءِ الْأَنْصَارِ».
English

Zaid bin Arqam رضی اللہ عنہ reported:

Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌) said: O Allah,, grant forgiveness to the Ansar, the offspring of the Ansar and the offspring of the offspring of the Ansar.

Urdu

ہم سے محمد بن المثنی نے بیان کیا, محمد بن جعفر اور عبد الرحمٰن بن مہدی نے کہا : ہمیں شعبہ نے قتادہ سے حدیث بیان کی ، انھوں نے نضر بن انس سے انھوں نے حضرت زید بن راقم رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( حنین کی غنیمتیں تقسیم کرنے کے بعد انصار کو خطبہ دیتے ہو ئے ) فر ما یا : " اے اللہ !انصار کی مغفرت فر ما ، انصار کے بیٹوں کی مغفرت فرما ، انصار بیٹوں کے بیٹوں کی مغفرت فر ما! "

Hadith 6415
Sahih
وحَدَّثَنِيهِ يَحْيَى بْنُ حَبِيبٍ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ يَعْنِي ابْنَ الْحَارِثِ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ.
English

This hadith has been narrated on the authority of Shulba with the same chain of transmitters.

Urdu

مجھ سے یحییٰ بن حبیب نے کہا, خالد بن حارث نے کہا : ہمیں شعبہ نے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی ۔

Hadith 6416
Sahih
حَدَّثَنِي أَبُو مَعْنٍ الرَّقَاشِيُّ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ وَهُوَ ابْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ وَهُوَ ابْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ أَنَّ أَنَسًا، حَدَّثَهُ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، اسْتَغْفَرَ لِلْأَنْصَارِ، قَالَ: وَأَحْسِبُهُ قَالَ: «وَلِذَرَارِيِّ الْأَنْصَارِ، وَلِمَوَالِي الْأَنْصَارِ» لَا أَشُكُّ فِيهِ.
English

Anas رضی اللہ عنہ reported:

Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌) sought forgiveness for the Ansar and he said: I think (he also sought forgiveness) for the children of the Ansar and the slaves and the freed men of the Ansar. I have no doubt about it.

Urdu

مجھ سے ابو معن الرقاشی نے بیان کیا، کہا ہم سے عمر بن یونس نے بیان کیا, عکرمہ بن عمار نے کہا , ہمیں اسحٰق بن عبد اللہ بن ابی طلحہ نے حدیث بیان کی ، کہا : حضرت انس رضی اللہ عنہ نے ان سے حدیث بیان کی کہ

نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انصار کے لیے مغفرت کی دعاکی ۔ ( اسحاق نے ) کہا : میرا خیال ہے کہ انھوں ( انس رضی اللہ عنہ ) نے کہا : " اور انصارکی اولاد دوں اور انصارکے ساتھ نسبت رکھنے والوںکی بھی ( مغفرت فرما ۔ ) " مجھے اس کے بارےمیں کو ئی شک نہیں ۔

Hadith 6417
Sahih
حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، جَمِيعًا عَنِ ابْنِ عُلَيَّةَ - وَاللَّفْظُ لِزُهَيْرٍ -، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ وَهُوَ ابْنُ صُهَيْبٍ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، رَأَى صِبْيَانًا وَنِسَاءً مُقْبِلِينَ مِنْ عُرْسٍ، فَقَامَ نَبِيُّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُمْثِلًا، فَقَالَ: «اللهُمَّ أَنْتُمْ مِنْ أَحَبِّ النَّاسِ إِلَيَّ، اللهُمَّ أَنْتُمْ مِنْ أَحَبِّ النَّاسِ إِلَيَّ يَعْنِي الْأَنْصَارَ».
English

Anas رضی اللہ عنہ reported:

Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) saw children and women of the Ansar coming back from a wedding feast. Allah's Apostle ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) stood up motionless (as a mark of respect) and said: O Allah, (bear witness) (and addressing the Ansar), said: You are dearest to me amongst people, (and said: O Allah (bear witness) (and addressing the Ansar), said: You are dearest to me amongst people. And he meant Ansar.

Urdu

مجھے ابوبکر بن ابی شیبہ اور زہیر بن حرب نے ابن اُلیّہ کی سند سے بیان کیا ہے - اور لفظ اس کی تعریف ہے - اور لفظ اسماعیل کا ہے۔عبد العزیز بن صہیب نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ

نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ( انصارکے ) کچھ بچوں اور عورتوں کو شادی سے آتے ہو ئے دیکھا ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم سیدھے کھڑے ہو گئے ۔ اور فرما یا : " میرا اللہ! ( گواہ ہے ) تم ان لوگوں میں سے ہو جو مجھے سب سے زیادہ محبوب ہیں ۔ میرا اللہ ! ( گواہ ہے ) تم ان لوگوں میں سے ہوجو مجھے سب سے زیادہ محبوب ہیں ۔ " آپ کی مراد انصار سے تھی ۔

Hadith 6418
Sahih
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَابْنُ بَشَّارٍ، جَمِيعًا عَنْ غُنْدَرٍ، قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّى: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ هِشَامِ بْنِ زَيْدٍ، سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، يَقُولُ: جَاءَتِ امْرَأَةٌ مِنَ الْأَنْصَارِ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فَخَلَا بِهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَالَ: «وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ إِنَّكُمْ لَأَحَبُّ النَّاسِ إِلَيَّ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ».
English

Anas bin Malik رضی اللہ عنہ reported:

A woman from the Ansar came to Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) and Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌) stood aside with her and said: By Him in Whose Hand is my life, you are dearest to me amongst the people. He repeated it thrice.

Urdu

محمد بن المثنیٰ اور ابن بشار نے غندر کے بارے میں کہا , محمد بن جعفر نے کہا : ہمیں شعبہ نے ہشام بن زید سے حدیث بیان کی ، انھوں نے کہا : میں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کو کہتے ہو ئے سنا

انصار میں سے ایک عورت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے علیحدگی میں اس کی بات سنی اور تین بار فر ما یا : " اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میرے جان ہے! تم لو گ سب سے زیادہ پیارےہو ۔ "

Hadith 6419
Sahih
حَدَّثَنِيهِ يَحْيَى بْنُ حَبِيبٍ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَأَبُو كُرَيْبٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ، كِلَاهُمَا عَنْ شُعْبَةَ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ.
English

Anas bin Malik reported:

It was narrated from Shubah (a similar Hadith to no. 6418) with this chain of narrators.

Urdu

مجھ سے یحییٰ بن حبیب نے کہا, خالد بن حارث اور ابن ادریس نے شعبہ سے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی .

Hadith 6420
Sahih
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ - وَاللَّفْظُ لِابْنِ الْمُثَنَّى - قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، سَمِعْتُ قَتَادَةَ، يُحَدِّثُ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «إِنَّ الْأَنْصَارَ كَرِشِي وَعَيْبَتِي، وَإِنَّ النَّاسَ سَيَكْثُرُونَ وَيَقِلُّونَ، فَاقْبَلُوا مِنْ مُحْسِنِهِمْ وَاعْفُوا عَنْ مُسِيئِهِمْ».
English

Anas bin Malik رضی اللہ عنہ reported:

Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) as saying: The Ansar are my family and my trusted friends. and the people would increase in number whereas they (the Ansar) would become less and less, so appreciate the deeds of those from amongst them who do good and overlook their failings.

Urdu

ہم سے محمد بن المثنی نے بیان کیا اور محمد بن بشار نے بیان کیا اور یہ قول ابن المثنیٰ کا ہے انہوں نے کہا : ہم سے محمد بن جعفر نے بیان کیا , ہمیں شعبہ نے حدیث سنائی ، کہا : میں نے قتادہ سے سنا ، وہ حجرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کر رہے تھےکہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " انصار میرا پوٹا ہیں ( جہاں پرندوں کی غذا محفوظ رہتی ہے ) اور میرا قیمتی چیزیں رکھنے کا صندوق ( اثاثہ ) ہیں ۔ لو گ پڑھتے جا ئیں گے اور یہ کم ہو تے جائیں گے ۔ ان میں سے جواچھا کام کرے اسے قبول کرو اور جو غلط کرے اس سے در گزر کرو ۔

Hadith 6421
Sahih
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَابْنُ بَشَّارٍ - وَاللَّفْظُ لِابْنِ الْمُثَنَّى قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، سَمِعْتُ قَتَادَةَ، يُحَدِّثُ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي أُسَيْدٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «خَيْرُ دُورِ الْأَنْصَارِ بَنُو النَّجَّارِ، ثُمَّ بَنُو عَبْدِ الْأَشْهَلِ، ثُمَّ بَنُو الْحَارِثِ بْنِ الْخَزْرَجِ، ثُمَّ بَنُو سَاعِدَةَ وَفِي كُلِّ دُورِ الْأَنْصَارِ خَيْرٌ» فَقَالَ سَعْدٌ: مَا أَرَى رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا قَدْ فَضَّلَ عَلَيْنَا، فَقِيلَ: قَدْ فَضَّلَكُمْ عَلَى كَثِيرٍ.
English

Abu Usaid رضی اللہ عنہ reported:

Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌) as saying: The worthiest clans of the Ansar are Banu Najjar, thereafter Banu al-Ashhal; thereafter Banu Harith bin Banu Khazraj; thereafter Banu Sa'idah and there is goodness in all clans of the Ansar. Sa'd رضی اللہ عنہ said: I see that he (the Holy Prophet ﷺ) has placed others above us. It was said to (him): He has placed you above many others.

Urdu

ہم سے محمد بن المثنیٰ اور ابن بشار نے بیان کیا اور یہ قول ابن المثنیٰ کا ہے, محمد بن جعفر نے کہا , شعبہ نے حدیث بیان کی ، انھوں نے کہا : میں نے قتادہ سے سنا ، حضرت انس رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کر رہے تھے ۔ انھوں نے حضرت ابو اُسید رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : : " " انصار کے گھرانوں میں سے بہترین بنو نجا ر ہیں پھر بنو عبدالاشہل ہیں ، پھر بنو حارث بن خزرج ہیں پھر بنوساعدہ ہیں اور انصار کے تمام گھرانوں میں خیرہے ۔ " حضرت سعد ( بن عبادہ ) رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : میرا خیال ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( اور لوگوں کو ) ہم پر فضیلت دی ہے تو ان سے کہاگیا ۔ آپ کو بھی بہت لو گوں پر فضیلت دی ہے ۔

Hadith 6422
Sahih
حَدَّثَنَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، سَمِعْتُ أَنَسًا، يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي أُسَيْدٍ الْأَنْصَارِيِّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ.
English

A similar report (as Hadith no. 6421) was narrated from Abu Usaid Ansari رضی اللہ عنہ from the prophet ﷺ.

Urdu

ہم سے محمد بن المثنی نے بیان کیا, ابو داؤد نے کہا : ہمیں شعبہ نے قتادہ سے حدیث بیان کی ، انھوں نے کہا : میں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے سنا ، وہ حضرت ابو اسید انصاری رضی اللہ عنہ سے حدیث روایت کر رہے تھے ، اور وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ، اسی ( گزشتہ ) روایت کے مانند ۔

Hadith 6423
Sahih
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، وَابْنُ رُمْحٍ، عَنِ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ، ح وَحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ، ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ، كُلُّهُمْ عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ أَنَسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ غَيْرَ أَنَّهُ لَا يَذْكُرُ فِي الْحَدِيثِ قَوْلَ سَعْدٍ.
English

Anas رضی اللہ عنہ reported a hadith like this from Allah's Apostle ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) but he has made no mention in the hadith of the words of Sa'd رضی اللہ عنہ .

Urdu

ہم سے قتیبہ اور ابن رومح نے بیان کیا، ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا، ہم سے عبد العزیز نے بیان کیا، ہم سے ابن محمد نے بیان کیا۔ المثنا اور ابن ابی عمر کہتے ہیں: ہم سے عبد الوہاب ثقفی نے بیان کیا، یحییٰ بن سعید نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے اسی کے مانند روایت کی مگر انھوں نے حضرت سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی بات بیان نہیں کی ۔

Hadith 6424
Sahih
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ مِهْرَانَ الرَّازِيُّ - وَاللَّفْظُ لِابْنِ عَبَّادٍ - حَدَّثَنَا حَاتِمٌ وَهُوَ ابْنُ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حُمَيْدٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ طَلْحَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا أُسَيْدٍ، خَطِيبًا عِنْدَ ابْنِ عُتْبَةَ فَقَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «خَيْرُ دُورِ الْأَنْصَارِ دَارُ بَنِي النَّجَّارِ، وَدَارُ بَنِي عَبْدِ الْأَشْهَلِ، وَدَارُ بَنِي الْحَارِثِ بْنِ الْخَزْرَجِ، وَدَارُ بَنِي سَاعِدَةَ» وَاللهِ لَوْ كُنْتُ مُؤْثِرًا بِهَا أَحَدًا لَآثَرْتُ بِهَا عَشِيرَتِي.
English

Ibrahim bin Muhammad bin Talha reported:

I heard Abu Sa'id رضی اللہ عنہ delivering an address in the presence of Abu 'Utba that the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) said: The worthiest settlements of the Ansar are those of Banu Najjar, then of Banu 'Abu al-Ashhal and then of Banu Harith and then of Banu Khazraj and then of the clan of Banu Sa'idah, and if I were to give preference to anyone besides them I would have given preference to my relatives.

Urdu

ہم سے محمد بن عباد اور محمد بن مہران الرازی نے بیان کیا - اور یہ لفظ ابن عباد کا ہے - حاتم نے جو ابن اسماعیل ہیں عبد کی سند سے بیان کیا الرحمٰن بن حمید، ابرا ہیم بن محمد بن طلحہ سے روایت ہے کہا

میں نے حضرت ابواُسید رضی اللہ عنہ کو ( ولید ) ابن عتبہ ( بن ابی سفیان ) کے ہاں خطبہ دیتے ہو ئے سنا ۔ انھوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " انصار کے گھرانوں میں سے بہترین گھرانہ بنو نجار کا گھرا نہ ہے اور بنوعبد الا شہل کا گھرا نہ ہے اور بنوحارث بن خزرج کا گھرا نہ ہے اوربنوساعدہ کا گھرا نہ ہے ۔ " اللہ کی قسم! اگرمیں ( ابو اسید ) ان میں سے کسی کو خود ترجیح دیتا تو اپنے خاندان ( بنوساعدہ ) کو ترجیح دیتا ۔ ( لیکن میں انے اسی ترتیب سے بیان کیا جس ترتیب سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرما یا تھا ۔ )

Hadith 6425
Sahih
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى التَّمِيمِيُّ، أَخْبَرَنَا الْمُغِيرَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، قَالَ: شَهِدَ أَبُو سَلَمَةَ لَسَمِعَ أَبَا أُسَيْدٍ الْأَنْصَارِيَّ، يَشْهَدُ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «خَيْرُ دُورِ الْأَنْصَارِ، بَنُو النَّجَّارِ، ثُمَّ بَنُو عَبْدِ الْأَشْهَلِ، ثُمَّ بَنُو الْحَارِثِ بْنِ الْخَزْرَجِ، ثُمَّ بَنُو سَاعِدَةَ، وَفِي كُلِّ دُورِ الْأَنْصَارِ خَيْرٌ» قَالَ أَبُو سَلَمَةَ: قَالَ أَبُو أُسَيْدٍ: أُتَّهَمُ أَنَا عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ لَوْ كُنْتُ كَاذِبًا لَبَدَأْتُ بِقَوْمِي بَنِي سَاعِدَةَ، وَبَلَغَ ذَلِكَ سَعْدَ بْنَ عُبَادَةَ، فَوَجَدَ فِي نَفْسِهِ، وَقَالَ خُلِّفْنَا فَكُنَّا آخِرَ الْأَرْبَعِ، أَسْرِجُوا لِي حِمَارِي آتِي رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكَلَّمَهُ ابْنُ أَخِيهِ سَهْلٌ، فَقَالَ: أَتَذْهَبُ لِتَرُدَّ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ وَرَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَعْلَمُ، أَوَلَيْسَ حَسْبُكَ أَنْ تَكُونَ رَابِعَ أَرْبَعٍ، فَرَجَعَ وَقَالَ: اللهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، وَأَمَرَ بِحِمَارِهِ فَحُلَّ عَنْهُ.
English

Abu Usaid Ansar رضی اللہ عنہ reported:

I bear witness to the fact that Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) said: The best settlements of the Ansar are of those of Banu Najjar, then of Banu 'Abu al-Aslihal and then of Banu Harith bin Khazraj, then of Banu Sa'ida and there is in every settlement of the Ansar good. Abu Salama reported that Abu Usaid said: Can I tell a Iie about Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌)? And if I were a liar, I would have started with my tribe Banu Sa'ida. This was conveyed to Sa'd bin 'Ubida رضی اللہ عنہ and he found (rankling) in his mind and said: We have been left behind (in the sense) that we have been (mentioned) last of the four. He (Sa'd) sid: Saddle my pony so that I should go to Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌). His nephew saw him and said: Are you going to contradict (the order of) precedence set by Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌), whereas Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌) has the best knowledge of it? Is it not sufficient for you that you are the fourth amongst the four (best tribes of the Ansar)? So he returned and said: Allah and His Messenger know best, and he commanded that his pony should be unsaddled.

Urdu

ہم سے یحییٰ بن یحییٰ التمیمی نے بیان کیا، کہا ہم سے المغیرہ بن عبدالرحمٰن نے بیان کیا, ابو زناد نے کہا : ابو سلمہ نے گواہی دی کہ انھوں نے حضرت ابواسید انصاری رضی اللہ عنہ کو یہ گو اہی دیتے ہو ئے سنا کہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " انصار کے گھرانوں میں سے بہترین بنو نجارہیں پھر بنوعبد الا شہل پھر بنوحارث بن خزرج پھر بنو ساعدہ کا گھرا نوں میں خیر ہے ۔ ابو سلمہ نے کہا : حضرت ابو اسید نے کہا : کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں مجھ پر تہمت لگا ئی جا رہی ہے؟ اگر میں جھوٹا ہو تا تو اپنی قوم بنوساعدہ کا نام پہلے لیتا ۔ ( انھوں نے کہا : ) سیہ بات حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ تک پہنچی تو ان کو رنج ہوا اور انھوں نے کہا : ہم کو پیچھے کر دیا گیا ہم چاروں خاندانوں کے آخر میں آگئے ، میرے گدھے پر زین کسور ، میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں جاؤں گا تو ان کے بھتیجے سہل رضی اللہ عنہ نے ان سے بات کی ، کہا آپ اس لیے جا رہے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بات کو رد کردیں؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم زیادہ جا نتے ہیں ۔ کیا آپ کے لیے یہ کافی نہیں کہ آپ چار میں سے چوتھے ہوں ( خیرو برکت میں شامل ہوں؟ ) تو وہ باز آئے اور کہا : اللہ اور اس کا رسول زیادہ جا ننے والے ہیں ۔ اور گدھے ( کی زین کھول دینے ) کے بارے میں حکم دیا تو وہ کھول دی گئی ۔

Hadith 6426
Sahih
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيِّ بْنِ بَحْرٍ، حَدَّثَنِي أَبُو دَاوُدَ، حَدَّثَنَا حَرْبُ بْنُ شَدَّادٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ، أَنَّ أَبَا أُسَيْدٍ الْأَنْصَارِيَّ، حَدَّثَهُ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «خَيْرُ الْأَنْصَارِ، أَوْ خَيْرُ دُورِ الْأَنْصَارِ» بِمِثْلِ حَدِيثِهِمْ، فِي ذِكْرِ الدُّورِ، وَلَمْ يَذْكُرْ قِصَّةَ سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ.
English

Abu Usaid Ansari رضی اللہ عنہ reported:

He heard Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌) as saying: The worthiest of the Ansar or the worthiest of the settlements and the clans of Ansar; the rest of the hadith is the same, but there is no mention of the story of Sa'd bin 'Ubida (رضی اللہ عنہ).

Urdu

ہم سے عمرو بن علی بن بحر نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوداؤد نے بیان کیا، کہا ہم سے حرب بن شداد نے بیان کیا, یحییٰ بن ابی کثیر نے کہا : مجھے ابو سلمہ نے حدیث بیان کی ، انھیں حضرت ابو اسید انصاری رضی اللہ عنہ نے حدیث سنائی کہ

انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فر ما تے ہو ئے سنا : " انصار میں سے یا ( فر ما یا : ) انصار کے گھرانوں میں سے بہترین ۔ ۔ ۔ " ( آگے انصار کے ) گھرا نوں کے بارے میں ان سب ( راویوں ) کی حدیث کے مانند ہے ۔ انھوں نے حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کا واقعہ بیان نہیں کیا ۔

Hadith 6427
Sahih
وحَدَّثَنِي عَمْرٌو النَّاقِدُ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ وَهُوَ ابْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ صَالِحٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ: قَالَ أَبُو سَلَمَةَ، وَعُبَيْدُ اللهِ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ، سَمِعَا أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: وَهُوَ فِي مَجْلِسٍ عَظِيمٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ «أُحَدِّثُكُمْ بِخَيْرِ دُورِ الْأَنْصَارِ» قَالُوا: نَعَمْ، يَا رَسُولَ اللهِ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «بَنُو عَبْدِ الْأَشْهَلِ» قَالُوا: ثُمَّ مَنْ؟ يَا رَسُولَ اللهِ ‍‍ قَالَ: «ثُمَّ بَنُو النَّجَّارِ» قَالُوا: ثُمَّ مَنْ؟ يَا رَسُولَ اللهِ قَالَ: ثُمَّ «بَنُو الْحَارِثِ بْنِ الْخَزْرَجِ» قَالُوا: ثُمَّ مَنْ؟ يَا رَسُولَ اللهِ قَالَ: ثُمَّ «بَنُو سَاعِدَةَ» قَالُوا: ثُمَّ مَنْ؟ يَا رَسُولَ اللهِ قَالَ: «ثُمَّ فِي كُلِّ دُورِ الْأَنْصَارِ خَيْرٌ» فَقَامَ سَعْدُ بْنُ عُبَادَةَ مُغْضَبًا، فَقَالَ: أَنَحْنُ آخِرُ الْأَرْبَعِ؟ حِينَ سَمَّى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَارَهُمْ، فَأَرَادَ كَلَامَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ لَهُ رِجَالٌ مِنْ قَوْمِهِ: اجْلِسْ، أَلَا تَرْضَى أَنْ سَمَّى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَارَكُمْ فِي الْأَرْبَعِ الدُّورِ الَّتِي سَمَّى؟ فَمَنْ تَرَكَ فَلَمْ يُسَمِّ أَكْثَرُ مِمَّنْ سَمَّى، فَانْتَهَى سَعْدُ بْنُ عُبَادَةَ عَنْ كَلَامِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
English

Abu Huraira رضی اللہ عنہ reported:

Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ) as saying in a large gathering of the Muslims: Should I not tell you of the best clans of the Ansar? They said: Allah's Messenger, (kindly) do this. Thereupon Allah's Messenger said: That is Banu Abd al-Ashhal. They said: Allah's Messenger, then next? He said: Banu Najjar. They again said: Allah's Messenger, then next? He said: Then of Banu Harith bin Khazraj. They then said: Allah's Messenger, then next? He said. Then of Banu Sa'ida. They said: Allah's Messenger, then next? He said: There is good in all the clans of the Ansar. It was upon this that Sa'd bin Ubida رضی اللہ عنہ stood up in annoyance and said: Are we the last of the four as Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) has determined (the order of precedence) of their clans? He decided to talk with Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) on this issue, but the people Of his tribe said to him: Be seated, are you not happy with this that Allah's Messenger' ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) has mentioned your clan as one of the four (best) clans and those whom he left and did not mention (the order of their precedence) are more than those whom he mentioned? And Sa'd bin 'Ubada رضی اللہ عنہ dropped the idea of talking to Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) (on this issue).

Urdu

مجھ سے عمرو ناقد اور عبد بن حمید نے بیان کیا، کہا: ہم سے یعقوب نے، جو ابراہیم بن سعد کے بیٹے ہیں، ہم سے میرے والد نے، صالح کی سند سے، ابن کی سند سے بیان کیا، اس نے کہا: ابو سلمہ اور عبید اللہ بن عبد اللہ بن عتبہ بن مسعود نے کہا : کہ ان دونوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کو کہتے ہو ئے سنا

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب آپ مسلمانوں کی ایک بڑی مجلس میں تھے فرما یا : " میں تم کو انصار کا بہترین گھرا نہ بتاؤں؟ " صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین نے کہا : جی ہاں اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ نے فر ما یا : " بنو عبدالاشہل ۔ " صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین نے کہا : اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! پھر کون ہیں ؟فرما یا : " بنو نجا ر ۔ ۔ " صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین نے کہا : اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! پھر کو ن ہیں؟فر ما یا : " پھر بنو حارث بن خزرج ۔ " صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین نے کہا : اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! پھر کو ن ؟فر ما یا : " پھر بنو ساعدہ ۔ " صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین نے کہا : اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! پھر کون ہیں ؟فر ما یا : " پھر انصار کے تمام گھرا نوں میں خیر ہے ۔ " جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے گھرانےکا نا م لیا تو حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ غصے میں کھڑے ہو گئے اور کہا : کیا ہم چاروں میں سے آخری ہیں ؟انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بات کرنی چا ہی تو ان کی قوم کے لوگوں نے کہا : بیٹھ جاؤ کیا تم اس پر راضی نہیں ہو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تمھا رے گھرا نے کا نام ان چار گھرانوں میں لیا ہے جن کا آپ نے نام لیا ہے ۔ حالانکہ جن گھرانوں کو آپ نے چھوڑ دیا اور ان کا نام نہیں لیا ، ان کی تعداد ان سے زیادہ ہے جن کا نام لیا ۔ پھر حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بات کرنے سے رک گئے ۔

Hadith 6428
Sahih
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَابْنُ بَشَّارٍ، جَمِيعًا عَنِ ابْنِ عَرْعَرَةَ - وَاللَّفْظُ لِلْجَهْضَمِيِّ - حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَرْعَرَةَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ يُونُسَ بْنِ عُبَيْدٍ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: خَرَجْتُ مَعَ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ الْبَجَلِيِّ فِي سَفَرٍ فَكَانَ يَخْدُمُنِي فَقُلْتُ لَهُ: لَا تَفْعَلْ، فَقَالَ: «إِنِّي قَدْ رَأَيْتُ الْأَنْصَارَ تَصْنَعُ بِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا، آلَيْتُ أَنْ لَا أَصْحَبَ أَحَدًا مِنْهُمْ إِلَّا خَدَمْتُهُ». زَادَ ابْنُ الْمُثَنَّى، وَابْنُ بَشَّارٍ فِي حَدِيثِهِمَا: وَكَانَ جَرِيرٌ أَكْبَرَ مِنْ أَنَسٍ، وَقَالَ ابْنُ بَشَّارٍ: أَسَنَّ مِنْ أَنَسٍ.
English

Anas bin Malik رضی اللہ عنہ reported:

I set out along with Jarir bin 'Abdullah al-Bajali رضی اللہ عنہ on a journey and he used to serve me. I said to him: Don't do that. Thereupon he said: I have seen Ansar doing this with Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌). I swore by Allah whenever I accompany any one of the Ansar, I would serve him and Ibn Muthanni, and Ibn Bashshir made this addition in their narrations: Jarir رضی اللہ عنہ was older than Anas رضی اللہ عنہ , and Ibn Bashshir said: He was of a more advanced age as compared with Anas رضی اللہ عنہ.

Urdu

نصر بن علی جہضمی ، محمد بن مثنیٰ اور ابن بشار نے ابن عرعرہ سے روایت کی ۔ الفاظ جہضمی کے ہیں ۔ انھوں نے کہا : مجھے عرعرہ نے حدیث بیان کی ، انھوں نے کہا : ہمیں شعبہ نے یو نس بن عبید سے حدیث بیان کی ، انھوں نے ثابت بنانی سے ، انھوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا

میں حضرت جریر بن عبد اللہ بجلی رضی اللہ عنہ کے ساتھ سفر کے لیے نکلا ، وہ ( اس سفر میں ) میری خدمت کرتے تھے ، میں نے ان سے کہا : ایسا نہ کریں ، انھوں نے کہا کہ میں نے ( جب ) انصار کو دیکھا کہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ( خدمت و تواضع ) کا سلوک کرتے ہیں تو میں نے قسم کھا ئی کہ میں جب بھی کسی انصاری کے ساتھ ہوں گا تو اس کی خدمت کروں گا ۔ ابن مثنیٰ اور ابن بشار نے اپنی اپنی حدیث میں مزید یہ بیان کیا ، ( ابن مثنیٰ نے کہا ) حضرت جریر رضی اللہ عنہ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے بڑے تھے ابن بشار نے کہا : حضرت انس رضی اللہ عنہ سے عمر میں زیادہ تھے ۔