The Book of the Merits of the Companions
كتاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ
Chapter 45
Sahl bin Sa`d رضی اللہ عنہ reported:
A person from the offspring of Marwan was appointed as the governor of Medina. He called Sahl bin Sa`d رضی اللہ عنہ and ordered him to abuse `Ali رضی اللہ عنہ . Sahl رضی اللہ عنہ refused to do that. He (the governor) said to him: If you do not agree to it (at least) say: May Allah curse Abu Turab. Sahl رضی اللہ عنہ said: There was no name dearer to `Ali رضی اللہ عنہ than Abu Turab (for it was given to him by the Prophet himself) and he felt delighted when he was called by this name. He (the governor) said to him: Narrate to us the story of his being named as Abu Turab. He said: Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) came to the house of Fatima and he did not find `Ali رضی اللہ عنہ in the house; whereupon he said: Where is your uncle's son? She said: (There cropped up something) between me and him which had annoyed him with me. He went out and did not rest here. Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) asked a person to find out where he was. He came and said: Allah's Messenger, he is sleeping in the mosque. Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) came to him and found him lying in the mosque and saw that his mantle had slipped from his back and his back was covered with dust and Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) began to wipe it away from him (from the body of Hadrat `Ali رضی اللہ عنہ) saying: Get up, covered with dust (Abu Turab); get up, covered with dust.
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالعزیز نے بیان کیا, ابو حازم نے حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا : کہ
مدینہ میں مروان کی اولاد میں سے ایک شخص حاکم ہوا تو اس نے سیدنا سہل رضی اللہ عنہ کو بلایا اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو گالی دینے کا حکم دیا ۔ سیدنا سہل رضی اللہ عنہ نے انکار کیا تو وہ شخص بولا کہ اگر تو گالی دینے سے انکار کرتا ہے تو کہہ کہ ابوتراب پر اللہ کی لعنت ہو ۔ سیدنا سہل رضی اللہ عنہ نے کہا کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو ابوتراب سے زیادہ کوئی نام پسند نہ تھا اور وہ اس نام کے ساتھ پکارنے والے شخص سے خوش ہوتے تھے ۔ وہ شخص بولا کہ اس کا قصہ بیان کرو کہ ان کا نام ابوتراب کیوں ہوا؟ سیدنا سہل رضی اللہ عنہ نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سیدہ فاطمۃالزہراء رضی اللہ عنہا کے گھر تشریف لائے تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو گھر میں نہ پایا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ تیرے چچا کا بیٹا کہاں ہے؟ وہ بولیں کہ مجھ میں اور ان میں کچھ باتیں ہوئیں اور وہ غصہ ہو کر چلے گئے اور یہاں نہیں سوئے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی سے فرمایا کہ دیکھو وہ کہاں ہیں؟ وہ آیا اور بولا کہ یا رسول اللہ! علی مسجد میں سو رہے ہیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس تشریف لے گئے ، وہ لیٹے ہوئے تھے اور چادر ان کے پہلو سے الگ ہو گئی تھی اور ( ان کے بدن سے ) مٹی لگ گئی تھی ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ مٹی پونچھنا شروع کی اور فرمانے لگے کہ اے ابوتراب! اٹھ ۔ اے ابوتراب! اٹھ ۔
A'isha رضی اللہ عنہا reported:
Allah's Messenger (ﷺ) lay on bed during one night and said: Were there a pious person from amongst my companions who should keep a watch for me during the night? She said: We heard the noise of arms, whereupon Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) said: Who is it? And Sa'd bin Abi Waqqas رضی اللہ عنہ said: Allah's Messenger. I have come to serve as your sentinel. 'A'isha رضی اللہ عنہا said: Allah' s Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) slept (such a sound sleep) that I heard the noise of his snoring.
ہم سے عبداللہ بن مسلمہ بن قنعب نے بیان کیا, سلیمان بن بلال نے یحییٰ بن سعید سے ، انھوں نے عبداللہ بن عامر بن ربیعہ سے ، انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی ، کہا
ایک رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سو نہ سکے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" کاش! میرے ساتھیوں میں سے کوئی صالح شخص آج پہرہ دے ۔ "" حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے کہا : اچانک ہم نے ہتھیاروں کی آوازسنی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" یہ کون ہے؟حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ نے کہا : اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! میں آپ کا پہرہ دینے کے لئے آیا ہوں ۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا : تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سو گئے حتیٰ کہ میں نے آپ کے خراٹوں کی آواز سنی ۔
A'isha رضی اللہ عنہا reported:
Allah's Messenger (ﷺ) laid down on bed during one night on his arrival at Medina and said: Were there a pious person from amongst my Companions who should keep a watch for me during the night? She (A'isha رضی اللہ عنہا ) reported: We were in this state that we heard the clanging noise of arms. lie (the Holy Prophet) said: Who is it? He said: This is Sa'd bin Abi Waqqas. Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) said to him: What brings you here? Thereupon he said: I harboured fear (lest any harm should come to) Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ), so I came to serve as your sentinel. Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) invoked blessings upon him. He then slept. This hadith has been transmitted on the authority of Ibn Rumh with a slight variation of wording.
قتیبہ بن سعید اور محمد بن رمح نے لیث سے حدیث بیان کی ، انھوں نے یحییٰ بن سعید سے ، انھوں نے عبداللہ بن عامر بن ربیعہ سے روایت کی کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا : کہ
ایک رات مدینہ کے راستے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھ کھل گئی اور نیند اچاٹ ہو گئی ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کاش میرے اصحاب میں سے کوئی نیک بخت رات بھر میری حفاظت کرے ۔ ام المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ اتنے میں ہمیں ہتھیاروں کی آواز معلوم ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کون ہے؟ آواز آئی کہ یا رسول اللہ! سعد بن ابی وقاص ہوں ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم کیوں آئے؟ وہ بولے کہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر اپنے نفس میں ڈر ہوا تو میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی حفاظت کرنے کو آیا ہوں ۔ پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لئے دعا کی اور پھر سو رہے ۔یہ حدیث ابن روم رحمہ اللہ سے الفاظ کے معمولی تغیر کے ساتھ نقل ہوئی ہے۔
Abdullah bin 'Amir bin Rabi reported:
A'isha رضی اللہ عنہا as saying: Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) went to bed one night; the rest of the hadith is the same.
ہم سے محمد بن المثنی نے بیان کیا, عبد الواہاب نے کہا : میں نے یحییٰ بن سعید کو کہتے ہو ئے سنا کہا : میں نے عبد اللہ بن عامر بن ربیعہ کو کہتے ہو ئے سنا کہ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا : ایک رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سونہ سکے ۔ ( آگے ) سلیمان بن بلال کی حدیث کے مانند ( ہے )
Abdullah bin Shaddad reported:
He heard `Ali رضی اللہ عنہ saying: Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) did not gather his parents except in case of Sa`d bin Malik رضی اللہ عنہ that he said to him on the Day of Uhud: Shoot an arrow, may my father and mother be taken as ransom for you.
منصور بن ابی مزاحم نے کہا : ہمیں ابرا ہیم بن سعد نے اپنے والد سے حدیث بیان کی ، انھوں نے عبد اللہ بن شداد سے روایت کی ، انھوں نے کہا
میں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے سنا ، کہ حضرت سعد بن مالک ( سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ ) کے سوا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی کے لیے اکٹھا اپنے ماں باپ کا نام نہیں لیا ۔ جنگ اُحد کے دن آپ بار بار ان سے کہہ رہے تھے ۔ " تیر چلا ؤ تم پرمیرے ماں باپ فداہوں ۔ "
This hadith has been narrated on the authority of 'Ali رضی اللہ عنہ through another chain of transmitters.
ہم سے محمد بن المثنیٰ اور ابن بشار نے بیان کیا، کہا: ہم سے محمد بن جعفر نے بیان کیا، شعبہ ، وکیع اور مسعر ، سب نے سعد بن ابرا ہیم سے ، انھوں نے عبد اللہ بن شدادسے ، انھوں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے ، انھوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کے مانند روایت کی ۔
Sa'd bin Abi Waqqqs رضی اللہ عنہ said:
Allah's Messenger (ﷺ) gathered his parents for me on the Day of Uhud.
ہم سے عبداللہ بن مسلمہ بن قعنب نے بیان کیا, سلیمان بن بلال نے یحییٰ بن سعید سے انھوں نے سعید سے انھوں نے حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہا
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جنگ اُحد کے دن میرے لیے ایک ساتھ اپنے ماں باپ کا نام نہیں لیا ۔
This hadith has been narrated on the authority of Yahya bin Sa'id with the same chain of transmitters.
ہم سے قتیبہ بن سعید اور ابن روم نے بیان کیا, لیث بن سعد اور عبد الوہاب دونوں نے یحییٰ بن سعید سے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی ۔
Amir bin Sa'd reported on the authority of his father:
Allah's Apostle ( صلی اللہ علیہ وسلم ) gathered for him on the Day of Uhud his parents when a polytheist had set fire to (i.e. attacked fiercely) the Muslims. Thereupon Allah's Apostle ( صلی اللہ علیہ وسلم ) said to him: (Sa'd رضی اللہ عنہ), shoot an arrow, (Sa'd رضی اللہ عنہ), may my mother and father be taken as ransom for you. I drew an arrow and I shot a featherless arrow at him aiming his side that lie fell down and his private parts were exposed. Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) laughed that I saw his front teeth.
ہم سے محمد بن عباد نے بیان کیا، ان سے حاتم نے، یعنی ابن اسماعیل نے، ہم سے بکیر بن مسمار نے بیان کیا, عامر بن سعد نے اپنے والد سے روایت کی ، کہ
جنگ اُحد کےدن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لیے ایک ساتھ اپنے ماں باپ کا نام لیا ۔ مشرکوں میں سے ایک شخص نے مسلمانوں کو جلا ڈالا تھا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سعد سے کہا : " تیر چلا ؤ تم پرمیرے ماں باپ فداہوں ! " حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے کہا : میں نے اس کے لیے ( ترکش سے ) ایک تیر کھینچا ، اس کے پرَہی نہیں تھے ۔ میں نے وہ اس کے پہلو میں مارا تو وہ گر گیا اور اس کی شرمگاہ ( بھی ) کھل گئی تو ( اس کے اس طرح گرنے پر ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہنس پڑے ، یہاں تک کے مجھے آپ کے اگلے دانت نظر آنے لگیں ( آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھل کھلاکرہنسے ۔ )
Mus'ab bin Sa'd reported on the authority of his father:
Many verses of the Qur'an had been revealed in connection with him. His mother Umm Sa'd had taken oath that she would never talk with him until he abandoned his faith and she neither ate nor drank and said: Allah has commanded you to treat well your parents and I am your mother and I command you to do this. She passed three days in this state until she fainted because of extreme hunger and at that time her son whose name was Umara stood up and served her drink and she began to curse Sa'd رضی اللہ عنہ that Allah, the Exalted and Glorions, revealed these verses of the Holy Qur'an: And We have enjoined upon a person goodness to his parents but if they contend with thee to associate (others) with Me of which you have no knowledge, then obey them not (xxix. 8) ; Treat thein with customary good in this world (xxxi. 15). He also reported that there fell to the lot of Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) huge spoils of war and there was one sword in them. I picked that up and came to Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) and said: Bestow this sword upon me (as my share in the spoils of war) and you know my state. Thereupon he said: Return it to the place from where you picked it up. I went back until I decided to throw it in a store but my soul repulsed me so I came back and asked him to give that sword to me. He said in a loud voice to return it to the place from where I had picked it up. It was on this occasion that this verse was revealed: They asked about the spoils of war (viii. 1). He further said: I once fell ill and sent a message to Allah's Apostle ( صلی اللہ علیہ وسلم ). He visited me and I said to him: Permit me to distribute (in charity) my property as much as I like. He did not agree. I said: (Permit me to distribute) half of it. He did not agree. I said: (Permit me to distribute) the third part, whereupon he kept quiet and it was after this (that the distribution of one's property in charity) to the extent of one-third was held valid. He further said: I came to a group of persons of the Ansir and Muhajirin and they said: Come, so that we may serve you wine, and it was before the use of wine had been prohibited. I went to them in a garden and there had been with them the roasted head of a camel and a small water-skin containing wine. I ate and drank along with them and there came under discussion the Ansr (Helpers) and Muhajirin (immigrants). I said: The immigrants are better than the Ansar, that a person picked up a portion of the head (of the camel and struck me with it that my nose was injured. I came to Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) and informed him of the situation that Aliah, the Exalted and Glorious, revealed verses pertaining to wine: Intoxicants and the games of chance and (sacrificing to) stones set up and (divining by) arrows are only an uncleanliness, the devil's work (v. 90).
ابو بکر بن ابی شیبہ اور زہیر بن حرب نے کہا : ہمیں حسن بن موسیٰ نے حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں زہیر نےسماک بن حرب سے حدیث بیان کی کہ مجھے مصعب بن سعد نے اپنے والد سے روایت کیا کہ
قرآن مجید میں ان کے حوالے سے کئی آیات نازل ہوئیں کہا : ان کی والدہ نے قسم کھائی کہ وہ اس وقت تک ان سے بات نہیں کریں گی یہاں تک کہ وہ اپنے دین ( اسلام ) سے کفر کریں اور نہ ہی کچھ کھا ئیں گی اور نہ پئیں گی ان کا خیال یہ تھا کہ اللہ تعالیٰ نے تمھیں حکم دیا ہے کہ اپنے والدین کی بات مانو اور میں تمھا ری ماں ہوں لہٰذا میں تمھیں اس دین کو چھوڑ دینے کا حکم دیتی ہوں ۔ کہا : وہ تین دن اسی حالت میں رہیں یہاں تک کہ کمزوری سے بے ہوش ہو گئیں تو ان کا بیٹا جو عمارہ کہلا تا تھا کھڑا ہوا اور انھیں پانی پلا یا ۔ ( ہوش میں آکر ) انھوں نے سعد رضی اللہ عنہ کو بددعائیں دینی شروع کر دیں تو اللہ تعا لیٰ نے قرآن میں یہ آیت نازل فر ما ئی : " ہم نے انسان کو اس کے والدین کے ساتھ حسن سلوک کا حکم دیا ہے اور اگر وہ دونوں یہ کو شش کریں کہ تم میرے ساتھ شریک ٹھہراؤ جس بات کو تم ( درست ہی ) نہیں جانتے تو تم ان کی اطاعت نہ کرواور دنیا میں ان کے ساتھ اچھے طریقے سے رہو ۔ " کہا : اور ( دوسری آیت اس طرح اتری کہ ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بہت زیادہ غنیمت حاصل ہوئی ۔ اس میں ایک تلوار بھی تھی ۔ میں نے وہ اٹھا لی اور اسے لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ۔ اور عرض کی : ( میرےحصے کے علاوہ ) یہ تلوارمزید مجھے دے دیں ، میری حالت کا تو آپ کو علم ہے ہی آپ نے فر ما یا : " اسے وہیں رکھ دو جہاں سے تم نے اٹھائی ہے ۔ " میں چلا گیا جب میں نے اسے مقبوضہ غنائم میں واپس پھینکنا چا ہا تو میرے دل نے مجھے ملا مت کی ( کہ واپس کیوں کر رہے ہو؟ ) تو میں آپ کے پاس واپس آگیا ۔ میں نے کہا : یہ مجھے عطا کر دیجئے ، آپ نے میرے لیے اپنی آواز کو سخت کیا اور فر ما یا : " جہاں سے اٹھا ئی ہے وہیں واپس رکھ دو ۔ " کہا : اس پر اللہ عزوجل نے یہ نازل فر ما یا : " یہ لو گ آپ سے غنیمتوں کے بارے میں سوال کرتے ہیں ۔ " کہا : ( ایک موقع نزول وحی کا یہ تھا کہ ) میں بیمار ہو گیا ۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف پیغام بھیجا ۔ آپ میرے پاس تشریف لے آئے ۔ میں نے کہا : مجھے اجازت دیجیے کہ میں اپنا ( سارا ) مال جہاں چاہوں تقسیم کر دوں ۔ کہا : آپ نے انکا ر فر مادیا ۔ میں نے کہا : تو آدھا؟ آپ اس پر بھی نہ مانے ، میں نے کہا : تو پھر تیسرا حصہ ؟اس پر آپ خاموش ہوگئے ۔ اس کے بعد تیسرے حصے کی وصیت جا ئز ہو گئی ۔ کہا : اور ( ایک اور موقع بھی آیا ) میں انصار اور مہاجرین کے کچھ لوگوں کے پاس آیا انھوں نے کہا : آؤ ہم تمھیں کھانا کھلا ئیں اور شراب پلا ئیں اور یہ شراب حرام کیے جا نے سے پہلے کی بات ہے ۔ کہا : میں کھجوروں کے ایک جھنڈکے درمیان خالی جگہ میں ان کے پاس پہنچا دیکھا تو اونٹ کا ایک بھنا ہوا سران کے پاس تھا اور شراب کی ایک مشک تھی ۔ میں نے ان کے ساتھ کھا یا ، شراب پی ، پھر ان کے ہاں انصار اور مہاجرین کا ذکر آگیا ۔ میں نے ( شراب کی مستی میں ) کہہ دیا : مہاجرین انصار سے بہتر ہیں تو ایک آدمی نے ( اونٹ کا ) ایک جبڑا پکڑا ، اس سے مجھے ضرب لگا ئی اور میری ناک زخمی کردی ، میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور آپ کو یہ ( ساری ) بات بتا ئی تو اللہ تعا لیٰ نے میرے بارے میں ۔ ۔ ۔ ان کی مراد اپنے آپ سے تھی ۔ ۔ ۔ شراب کے متعلق ( یہ آیت ) نازل فر ما ئی : " بے شک شراب ، جوا بت اور پانسے شیطان کے گندے کام ہیں ۔ "
This hadith has been transmitted on the authority of Simak and the hadith transmitted on the authority of Shu'ba (the words are):
When they intended to feed her (Sa'd's mother), they opened her mouth with the help of a stick and then put the feed in her mouth, and in the same hadith the words are: He struck the nose of Sa'd رضی اللہ عنہ and it was injured and Sa'd رضی اللہ عنہ had (the mark) of wound on his nose.
ہم سے محمد بن المثنیٰ اور محمد بن بشار نے بیان کیا، کہا:محمد بن جعفر نے کہا , ہمیں شعبہ نے سماک بن حرب سے حدیث بیان کی ، انھوں نے مصعب بن سعد سے ، انھوں نے اپنے والد ( ہم سے محمد بن المثنی اور محمد بن بشار نے بیان کیا، کہا:حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ ) سے روایت کی ، انھوں نے کہا : میرے بارے میں چار آیات نازل ہو ئیں پھر زبیر سے سماک کی حدیث کے ہم معنی بیان کیا اور شعبہ کی حدیث میں ( محمد بن جعفر نے ) مزید یہ بیان کیا کہ
لوگ جب میری ماں کو کھانا کھلا نا چاہتے تو لکڑی سے اس کا منہ کھولتے ، پھر اس میں کھا نا ڈالتے ، اور انھی کی حدیث میں یہ بھی ہے کہ حضرت سعد رضی اللہ عنہ کی ناک پر ہڈی ماری اور ان کی ناک پھاڑ دی ، حضرت سعد رضی اللہ عنہ کی ناک پھٹی ہوئی تھی ۔
It was narrated that Sa'd رضی اللہ عنہ said:
Concerning the Verse: "'And turn not away those who invoke their lord, morning and afternoon....' " "This verse was revealed in relation to six persons and I and Ibn Mas'ud رضی اللہ عنہ were amongst them. The polytheists said to him (the Holy Prophet ﷺ): Do not keep such persons near you. It was upon this that (this verse was revealed): Drive not away those who call upon their Lord morning and evening desiring only His pleasure (vi. 52).'"
ہم سے زہیر بن حرب نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالرحمٰن نے بیان کیا, سفیان نے مقدام بن شریح سے انھوں نے اپنے والد سے انھوں نے حضرت سعد رضی اللہ عنہ سے
( آیت ) " اور ان ( مسکین مو منوں ) کو خود سے دورنہ کریں جو صبح و شام اپنے رب کو پکا رتے ہیں " کے بارے میں روایت کی ، کہا یہ چھ لو گوں کے بارے میں نازل ہو ئی ۔ میں اور ابن مسعود رضی اللہ عنہ ان میں شامل تھے مشرکوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا تھا ۔ ان لوگوں کو اپنے قریب نہ کریں ۔
Sa'd رضی اللہ عنہ reported:
We were six men in the company of Allah's Messenger (ﷺ) that the polytheists said to Allah's Apostle ( صلی اللہ علیہ وسلم ): Drive them away so that they may not be overbold upon us. He said: I, Ibn Mas'ud and a person from the tribe of Hudhail, Bilal and two other persons, whose names I do not know (were amongst such persons). And there occurred to Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) what. Allah wished and he talked with himself that Allah, the Exalted and Glorious, revealed: Do not drive away those who call their Lord morning and evening desiring to seek His pleasure.
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے محمد بن عبداللہ الاسدی نے بیان کیا, اسرائیل نے مقدام بن شریح سے انھوں نے اپنے والد سے انھوں نے حضرت سعد رضی اللہ عنہ سےروایت کی ، کہا
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہم چھ شخص تھے تو مشرکین نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا : " ان لوگوں کو بھگا دیجیے ، یہ ہمارے سامنے آنے کی جرات نہ کریں ۔ ( حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے ) کہا : ( یہ لوگ تھے ) میں ابن مسعود ہذیل کا ایک شخص بلال اور دواور شخص جن کا نام میں نہیں لو ں گا ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دل میں جو اللہ نے چاہا سوآیا ، آپ نے اپنے دل میں کچھ کہا : بھی ، تب اللہ عزوجل نے یہ آیت نازل کی : " اور ان لوگوں کو دورنہ کیجیے جو صبح ، شام اپنے رب کو پکا رتے ہیں صرف اس کی رضا چاہتے ہیں ۔
It was narrated that Abu 'Uthman reported:
On one of the days when Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) was fighting and none remained with him save Talha رضی اللہ عنہ and Sa'd رضی اللہ عنہ .
ہم سے محمد بن ابی بکر المقدمی، حامد بن عمر البکراوی اور محمد بن عبد الاعلی نے بیان کیا، انہوں نے کہا: معتمر کے والد سلیمان نے کہا : میں نے حضرت ابو عثمان سے سنا ، کہا
ان ایام میں سے ایک میں جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جہاد کیا تو جنگ کے دوران میں آپ کے ساتھ حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ اور حضرت سعد رضی اللہ عنہ کے سوا اور کو ئی باقی نہیں رہا تھا ۔ ( یہ میں ) ان دونوں کی بتا ئی ہو ئی بات سے ( بیان کر رہا ہوںَ )
Jabir bin Abdullah رضی اللہ عنہ reported:
I heard Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) exhorting people on the Day of the Battle of the Ditch to fight. Zubair رضی اللہ عنہ said: I am ready (to participate). He then again exhorted and he again said: I am ready to participate. Thereupon Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) said: Behold. for every Prophet there is a helper and my helper is Zubair رضی اللہ عنہ .
عمرو الناقد نے ہمیں بتایا, سفیان بن عیینہ نے محمد بن منکدر سے انھوں نے حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہا
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جنگ خندق کے دن لوگوں کو پکارا ۔ ( کو ن ہے جو ہمیں دشمنوں کے اندر کی خبر دے گا ۔ ؟ ) تو زبیر رضی اللہ عنہ آگے آئے ( کہا : میں لا ؤں گا ) پھر آپ نے ان کو ( دوسری بار ) پکا را تو زبیر رضی اللہ عنہ ہی آگے بڑھے پھر ان کو ( تیسری بار ) پکا را تو بھی زبیر رضی اللہ عنہ ہی آگے بڑھے چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " ہر نبی کا حواری ( خاص مددگار ) ہو تا ہے اور میرا حواری زبیر ہے ۔ "
A hadith like that of Ibn Uyayanah (no. 6243) was narrated from Jabir رضی اللہ عنہ from the prophet ﷺ.
ہم سے ابو کریب نے بیان کیا، ہم سے ابو اسامہ نے بیان کیا, ہشام بن عروہ اور سفیان بن عیینہ نے محمد بن منکدر سے ، انھوں نے جا بر رضی اللہ عنہ سے انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ابن عیینہ کی حدیث کے ہم معنی روایت کی ۔
Abdullah bin Zubair رضی اللہ عنہ reported:
On the Day of the Battle of the Trench I and Umar bin Abu Salama رضی اللہ عنہ were with women folk in the fort of Hassan (bin Thabit) رضی اللہ عنہ . He at one time leaned for me and I cast a glance and at another time I leaned for him and he would see and I recognised my father as he rode on his horse with his arms towards the tribe of Quraizah. 'Abdullah bin 'Urwa reported from Abdullah bin Zubair رضی اللہ عنہ : I made a mention of that to my father, whereupon he said: My son, did you see me (on that occasion)? He said: Yes. Thereupon he said: By Allah, Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) addressed me saying: I would sacrifice for thee my father and my mother.
ہم سے اسماعیل بن الخلیل اور سوید بن سعید نے بیان کیا، ان دونوں نے ابن مشار سے، انہوں نے کہا: اسماعیل، علی بن مسہر نے ہشام بن عروہ سے انھوں نے اپنے والد سے ، انھوں نے حضرت عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہا
میں اور حضرت عمر بن ابی سلمہ رضی اللہ عنہ جنگ خندق کے دن عورتوں کے ساتھ حضرت حسان رضی اللہ عنہ کے قلعے میں تھے کبھی وہ میرے لیے کمر جھکا کر کھڑے ہو جا تے اور میں ( ان کی کمر پر کھڑا ہو کر مسلمانوں کے لشکر کو ) دیکھ لیتا کبھی میں کمر جھکا کر کھڑا ہو جا تا اور وہ دیکھ لیتے ۔ میں نے اس وقت اپنے والد کو پہچان لیا تھا جب وہ اپنے گھوڑے پر ( سوار ہو کر ) بنو قریظہ کی طرف جا نے کے لیے گزرے ۔ ( ہشام بن عروہ نے ) کہا : مجھے عبد اللہ بن عروہ نے حضرت عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ سے ( روایت کرتے ہو ئے ) بتا یا کہا : میں نے یہ بات اپنے والد کو بتا ئی تو انھوں نے کہا : میرے بیٹے !تم نے مجھے دیکھا تھا ؟ میں نے کہا : ہاں انھوں نے کہا : اللہ کی قسم! اس روز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے لیے اپنے ماں باپ دونوں کا ایک ساتھ ذکر کرتے ہو ئے کہا : تھا " میرے ماں باپ تم پر قربان ! "
Abdullah bin Zubair رضی اللہ عنہ reported:
When it was the Day of the Battle of the Ditch I and 'Umar bin Salama رضی اللہ عنہ were in the fort in which there were women, i.e. the wives of Allah's Apostle ( صلی اللہ علیہ وسلم ); the rest of the hadith is the same.
ابو کریب نے ہم سے کہا, ابو اسامہ نے ہشام سے انھوں نے اپنے والد سے انھوں نے حضرت عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا
خندق کے دن میں اور عمر بن ابی سلمہ رضی اللہ عنہ اس قلعے میں تھے جس میں عورتیں یعنی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج تھیں اس کے بعد ابن مسہر کی اسی سند کے ساتھ روایت کردہ حدیث کی طرح حدیث بیان کی اور حدیث ( کی سند ) میں عبد اللہ بن عروہ کا ذکر نہیں کیا لیکن ( ان کا بیان کیا ہوا سارا ) قصہ اس روایت میں شامل کردیا جو ہشام نے اپنے والد سے اور انھوں نے ( عبد اللہ ) ابن زبیر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ۔
Abu Huraira رضی اللہ عنہ reported:
Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) was upon the mountain of Hira, ' and there were along with him Abu Bakr رضی اللہ عنہ , Umarرضی اللہ عنہ , Uthman رضی اللہ عنہ . 'Ali رضی اللہ عنہ , Talha رضی اللہ عنہ , 'Zubair رضی اللہ عنہ , that the mountain stirred; thereupon Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) said: Be calm, there is none upon you but a Prophet, a Fiddle (the testifier of truth) and a Martyr.
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا, عبد العزیزبن محمد نے سہیل ( بن ابی صالح ) سے ، انھوں نے اپنے والد سے ، انھوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حراء پہاڑ پر تھے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم خود حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ ، حضرت عمر رضی اللہ عنہ ، حضرت عثمان رضی اللہ عنہ ، حضرت علی رضی اللہ عنہ ، حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ اور حضرت زبیر رضی اللہ عنہ تو چٹان ( جس پر یہ سب تھے ) ہلنے لگی ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " ٹھہرجاؤ ، تجھ پر نبی یا صدیق یا شہید کے علاوہ اور کو ئی نہیں ۔ "
Abu Huraira رضی اللہ عنہ reported:
Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) was on the mountain of Hira' that it stirred; thereupon Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) said: Hira! be calm, for there is none upon you but a Prophet, a Siddiq, a Shahid, and there were upon it Allah's Prophet ( صلی اللہ علیہ وسلم ), Abu Bakr رضی اللہ عنہ, 'Umar رضی اللہ عنہ, Uthman رضی اللہ عنہ, 'Ali رضی اللہ عنہ , Talha رضی اللہ عنہ, Zubair, Sa'd bin Abi Waqqas (رضی اللہ عنہ).
ہم سے عبید اللہ بن محمد بن یزید بن خنیس اور احمد بن یوسف الا زدی نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے اسماعیل بن ابی اویس نے بیان کیا۔ سلیمان بن بلال, یحییٰ بن سعید نے سہیل بن ابی صالح سے ، انھوں نے اپنے والد سے ، انھوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کوہ حراء پر تھے ۔ وہ ہلنے لگا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " ٹھہرجا ، تجھ پر نبی یا صدیق یا شہید کے سوااور کو ئی نہیں ۔ " اس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم تھے اور ( آپ کے ساتھ ) حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ، حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ، حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ ، حضرت طلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور حضرت زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور سعد بن ابی وقاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ تھے ۔