Back to Sahih Muslim

The Book of the Merits of the Companions

كتاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ

Chapter 45

Hadith 6209
Sahih
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، وَيَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، وَقُتَيْبَةُ، وَابْنُ حُجْرٍ - قَالَ: يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا، وقَالَ الْآخَرُونَ: حَدَّثَنَا - إِسْمَاعِيلُ يَعْنُونَ ابْنَ جَعْفَرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي حَرْمَلَةَ، عَنْ عَطَاءٍ، وَسُلَيْمَانَ، ابْنَيْ يَسَارٍ، وَأَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّ عَائِشَةَ، قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُضْطَجِعًا فِي بَيْتِي، كَاشِفًا عَنْ فَخِذَيْهِ، أَوْ سَاقَيْهِ، فَاسْتَأْذَنَ أَبُو بَكْرٍ فَأَذِنَ لَهُ، وَهُوَ عَلَى تِلْكَ الْحَالِ، فَتَحَدَّثَ، ثُمَّ اسْتَأْذَنَ عُمَرُ، فَأَذِنَ لَهُ، وَهُوَ كَذَلِكَ، فَتَحَدَّثَ، ثُمَّ اسْتَأْذَنَ عُثْمَانُ، فَجَلَسَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَسَوَّى ثِيَابَهُ - قَالَ مُحَمَّدٌ: وَلَا أَقُولُ ذَلِكَ فِي يَوْمٍ وَاحِدٍ - فَدَخَلَ فَتَحَدَّثَ، فَلَمَّا خَرَجَ قَالَتْ عَائِشَةُ: دَخَلَ أَبُو بَكْرٍ فَلَمْ تَهْتَشَّ لَهُ وَلَمْ تُبَالِهِ، ثُمَّ دَخَلَ عُمَرُ فَلَمْ تَهْتَشَّ لَهُ وَلَمْ تُبَالِهِ، ثُمَّ دَخَلَ عُثْمَانُ فَجَلَسْتَ وَسَوَّيْتَ ثِيَابَكَ فَقَالَ: «أَلَا أَسْتَحِي مِنْ رَجُلٍ تَسْتَحِي مِنْهُ الْمَلَائِكَةُ».
English

`Aisha رضی اللہ عنہا reported:

Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) was lying in the bed in my apartment with his thigh uncovered and Abu Bakr رضی اللہ عنہ sought permission to enter. It was given to him and he conversed in the same very state (the Prophet's thigh or shank uncovered). Then `Umar رضی اللہ عنہ sought permission for entering and it was given to him and he conversed in that very state. Then `Uthman رضی اللہ عنہ sought permission to enter; Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) sat down and he set right his clothes. Muhammad (one of the narrators) said: I do not say that it happened on the same day. He (`Uthman رضی اللہ عنہ) then entered and conversed and as he went out, `Aisha رضی اللہ عنہا said: Abu Bakr رضی اللہ عنہ entered and you did not stir and did not observe much care (in arranging your clothes), then `Umar رضی اللہ عنہ entered and you did not stir and did not arrange your clothes, then `Uthman رضی اللہ عنہ entered and you got up and set your clothes right, so he ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) said: Should I not show modesty to one whom even the Angels show modesty.

Urdu

ہم سے یحییٰ بن یحییٰ، یحییٰ بن ایوب، قتیبہ اور ابن حجر نے بیان کیا، انہوں نے کہا: ہم سے یحییٰ بن یحییٰ نے بیان کیا، اور دوسروں نے کہا: اس نے ہم سے کہا کہ اسماعیل سے مراد ابن جعفر ہے, محمد بن ابی حرملہ نے یسار کے دونوں بیٹوں عطاء اور سلیمان اور ابوسلمہ بن عبدالرحمان سے روایت کی کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا : کہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گھر میں لیٹے ہوئے تھے ، رانیں یا پنڈلیاں کھولے ہوئے تھے کہ اتنے میں سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اجازت مانگی ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی حالت میں اجازت دے دی اور باتیں کرتے رہے ۔ پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اجازت چاہی تو انہیں بھی اسی حالت میں اجازت دے دی اور باتیں کرتے رہے ۔ پھر سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے اجازت چاہی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھ گئے اور کپڑے برابر کر لئے ۔ پھر وہ آئے اور باتیں کیں ۔ ( راوی محمد کہتا ہے کہ میں نہیں کہتا کہ تینوں کا آنا ایک ہی دن ہوا ) جب وہ چلے گئے تو ام المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ خیال نہ کیا ، پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ آئے تو بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ خیال نہ کیا ، پھر سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھ گئے اور اپنے کپڑے درست کر لئے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کیا میں اس شخص سےحیا نہ کروں جس سے فرشتے حیاکرتے ہیں؟

Hadith 6210
Sahih
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ جَدِّي، حَدَّثَنِي عُقَيْلُ بْنُ خَالِدٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ، أَنَّ سَعِيدَ بْنَ الْعَاصِ، أَخْبَرَهُ أَنَّ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَعُثْمَانَ، حَدَّثَاهُ أَنَّ أَبَا بَكْرٍ اسْتَأْذَنَ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُضْطَجِعٌ عَلَى فِرَاشِهِ، لَابِسٌ مِرْطَ عَائِشَةَ، فَأَذِنَ لِأَبِي بَكْرٍ وَهُوَ كَذَلِكَ، فَقَضَى إِلَيْهِ حَاجَتَهُ، ثُمَّ انْصَرَفَ، ثُمَّ اسْتَأْذَنَ عُمَرُ، فَأَذِنَ لَهُ وَهُوَ عَلَى تِلْكَ الْحَالِ فَقَضَى إِلَيْهِ حَاجَتَهُ، ثُمَّ انْصَرَفَ، قَالَ عُثْمَانُ: ثُمَّ اسْتَأْذَنْتُ عَلَيْهِ فَجَلَسَ، وَقَالَ لِعَائِشَةَ: «اجْمَعِي عَلَيْكِ ثِيَابَكِ» فَقَضَيْتُ إِلَيْهِ حَاجَتِي، ثُمَّ انْصَرَفْتُ، فَقَالَتْ عَائِشَةُ: يَا رَسُولَ اللهِ مَالِي لَمْ أَرَكَ فَزِعْتَ لِأَبِي بَكْرٍ، وَعُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، كَمَا فَزِعْتَ لِعُثْمَانَ؟ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ عُثْمَانَ رَجُلٌ حَيِيٌّ، وَإِنِّي خَشِيتُ، إِنْ أَذِنْتُ لَهُ عَلَى تِلْكَ الْحَالِ، أَنْ لَا يَبْلُغَ إِلَيَّ فِي حَاجَتِهِ».
English

A'isha رضی اللہ عنہا , the wife of Allah's Apostle (ﷺ), and Uthman رضی اللہ عنہ both reported:

Abu Bakr رضی اللہ عنہ sought permission from Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) for entrance (in his apartment) as he had been lying on his bed covered with the bed-sheet of A'isha رضی اللہ عنہا , and he gave permission to Abu Bakr رضی اللہ عنہ in that very state and he, having his need fulfilled, went back. Then Umar sought permission and it was given to him in that very state and, after having his need fulfilled, he went back. And 'Uthman رضی اللہ عنہreported: Then I sought permission from him and he got up and raid to A'isha: Wrap yourself well with your cloth, then I got my need fulfilled and came back. And A'isha رضی اللہ عنہا said: Allah's Messenger, why is it that I did not see you feeling any anxiety in case of dressing properly in the presence of Abu Bakr رضی اللہ عنہ and 'Umar ( رضی اللہ عنہ ) as you showed in case of 'Uthman رضی اللہ عنہ . Thereupon Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) said: Verily Uthman رضی اللہ عنہ is a person who is very modest and I was afraid that if I permitted him to enter in this very state he would not inform me of his need.

Urdu

ہم سے عبد الملک بن شعیب بن لیث بن سعد نے بیان کیا، مجھ سے میرے والد نے میرے دادا کی سند سے بیان کیا,عقیل بن خالد نے ابن شہاب سے ، انھوں نے یحییٰ بن سعید بن عاص سے روایت کی ، انھیں سعید بن عاص نے بتایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اہلیہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے ان سے بیان کیا کہ

حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت طلب کی ، اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے بستر پر لیٹے ہوئے تھے ، حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی چادر اوڑھ رکھی تھی ۔ آپ نے حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو اس حالت میں اندر آنے کی اجازت دے دی ، حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنی بات کی ، پھر چلے گئے ، ان کے بعد حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اجازت طلب کی ، آپ نے اجازت دے دی ۔ وہ بھی جس کام کے لئے آئے تھے ، وہ کیا ، پھر چلے گئے ۔ حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : پھر میں نے آپ کے پاس حاضری کی اجازت چاہی تو آپ اٹھ کر بیٹھ گئے اور حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے کہا : " اپنے کپڑے اپنے اوپر اکھٹے کرلو ۔ " پھر میں جس کام کے لئے آیا تھا وہ کیا اور واپس آگیا توحضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے پوچھا : اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا وجہ ہے میں نے آپ کو نہیں دیکھا کہ آپ ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے لئے اس طرح ہڑ بڑا کے اٹھے ہوں جس طرح عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے لئے اٹھے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " عثمان انتہائی حیادار ہیں ، مجھے ڈر تھا کہ میں نے اسی حالت میں ان کو آنے کی اجازت دی تو وہ اپنی ضرورت کے بارے میں مجھ سے بات نہیں کرسکیں گے ۔ "

Hadith 6211
Sahih
حَدَّثَنَاهُ عَمْرٌو النَّاقِدُ، وَالْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ كُلُّهُمْ، عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي يَحْيَى بْنُ سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ، أَنَّ سَعِيدَ بْنَ الْعَاصِ، أَخْبَرَهُ أَنَّ عُثْمَانَ، وَعَائِشَةَ، حَدَّثَاهُ أَنَّ أَبَا بَكْرٍ الصِّدِّيقَ اسْتَأْذَنَ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَ بِمِثْلِ حَدِيثِ عُقَيْلٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ.
English

This hadith has been transmitted on the authority of Uthman رضی اللہ عنہ and A'isha رضی اللہ عنہا with the same wording.

Urdu

ہم سے عمرو ناقد، حسن بن علی الحلوانی اور عبد بن حمید نے بیان کیا، ان سے یعقوب بن ابراہیم بن سعد نے بیان کیا، ہم سے میرے والد نے بیان کیا، صالح بن کیسان نے ابن شہاب سے روایت کی ، انھوں نے کہا : مجھے یحییٰ بن سعید بن عاص نے بتایا ، انھیں سعید بن عاص نے خبر دی کہ حضرت عثمان اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے انھیں حدیث سنائی کہ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ( حاضر ہونے کی ) اجازت طلب کی ، پھر زہری سے عقیل کی حدیث کے مانند بیان کیا ۔

Hadith 6212
Sahih
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى الْعَنَزِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ غِيَاثٍ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ، عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ، قَالَ: بَيْنَمَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فِي حَائِطٍ مِنْ حَائِطِ الْمَدِينَةِ وَهُوَ مُتَّكِئٌ يَرْكُزُ بِعُودٍ مَعَهُ بَيْنَ الْمَاءِ وَالطِّينِ، إِذَا اسْتَفْتَحَ رَجُلٌ، فَقَالَ: «افْتَحْ وَبَشِّرْهُ بِالْجَنَّةِ» قَالَ: فَإِذَا أَبُو بَكْرٍ، فَفَتَحْتُ لَهُ وَبَشَّرْتُهُ بِالْجَنَّةِ، قَالَ ثُمَّ اسْتَفْتَحَ رَجُلٌ آخَرُ، فَقَالَ: «افْتَحْ وَبَشِّرْهُ بِالْجَنَّةِ» قَالَ: فَذَهَبْتُ فَإِذَا هُوَ عُمَرُ، فَفَتَحْتُ لَهُ وَبَشَّرْتُهُ بِالْجَنَّةِ، ثُمَّ اسْتَفْتَحَ رَجُلٌ آخَرُ، قَالَ فَجَلَسَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «افْتَحْ وَبَشِّرْهُ بِالْجَنَّةِ عَلَى بَلْوَى تَكُونُ» قَالَ: فَذَهَبْتُ فَإِذَا هُوَ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ، قَالَ: فَفَتَحْتُ وَبَشَّرْتُهُ بِالْجَنَّةِ، قَالَ وَقُلْتُ الَّذِي قَالَ، فَقَالَ: اللهُمَّ صَبْرًا، أَوِ اللهُ الْمُسْتَعَانُ.
English

Abu Musa al-Ash'ari رضی اللہ عنہ reported:

While Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) was in one of the gardens of Medina, reclining against a pillow and fixing a stick in a mud, that a person came asking for the gate to be opened, whereupon he said: Open it for him and give him glad tidings of Paradise and, lo, it was Abu Bakr رضی اللہ عنہ . I opened (the gate) for him and gave him the glad tidings of Paradise. Then another person asked for the door to be opened, whereupon he said: Open it and give him the glad tidings of Piradise. He said: I went away and, lo, it was 'Umar. I opened it for him and gave him the glad tidings of Paradise. Then still another man asked for the door to be opened, and thereupon Allah's Apostle ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) said: Open it and give him the glad tidings of Paradise after a trial would afflict him. I went and, saw, it was 'Uthman bjn 'Affan رضی اللہ عنہ. I opened the door and gave him the glad tidings of Paradise and informed him (what the Prophet had said). Thereupon he said: O Allah, grant me steadfastness. Allah is one Whose help is to be sought.

Urdu

عثمان بن غیاث نے ابو عثمان نہدی سے ، انھوں نے حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا

ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ کے باغوں میں سے ایک باغ میں ٹیک لگائے بیٹھے ہوئے تھے آپ کے پاس جو لکڑی تھی اس ( کی نوک ) کو پانی اور مٹی کے درمیان ماررہے تھے کہ ایک شخص نے ( باغ کا دروازہ ) کھولنے کی درخواست کی ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " دروازہ کھول دو اور اس ( آنے والے ) کو جنت کی خوشخبری سنادو ۔ " ( ابو موسیٰ علیہ السلام نے ) کہا : وہ ابو بکر رضی اللہ عنہ تھے ، میں نے ان کے لئے دروازہ کھولا اور انھیں جنت کی بشارت دی ، کہا : پھر ایک اور شخص نے دروازہ کھولنے کی درخواست کی ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " دروازہ کھول دو اور اسے ( بھی ) جنت کی خوشخبری سنادو ۔ " میں گیا تو وہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ تھے ۔ میں نے ان کے لیے دروازہ کھولا اور انھیں جنت کی بشارت دی ، اس کے بعد ایک اور شخص نے دروازہ کھولنے کی درخواست کی ، کہا : تو آپ ( سیدھے ہوکر ) بیٹھ گئے ، پھر فرمایا : " دروازہ کھولو اور فتنے پر جو ( برپا ) ہوگا ، انھیں جنت کی خوشخبری دے دو ۔ " کہا : میں گیا تو وہ عثمان بن عفان رضی اللہ تعالیٰ عنہ تھے ۔ کہا : میں نے دروازہ کھولا اور انھیں جنت کی خوشخبری دی اور آپ نے جو کچھ فرمایا تھا ، انھیں بتایا ۔ انھوں نے کہا : اے اللہ صبر عطا فرمانا اور اللہ ہی ہے جس سے مدد طلب کی جاتی ہے ۔

Hadith 6213
Sahih
حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ الْعَتَكِيُّ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ، عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ حَائِطًا وَأَمَرَنِي أَنْ أَحْفَظَ الْبَابَ، بِمَعْنَى حَدِيثِ عُثْمَانَ بْنِ غِيَاثٍ.
English

It was narrated from Abu Musa al-Ash'ari رضی اللہ عنہ that the Messenger of Allah ﷺ entered a garden and told me to watch the gate... a Hadith like that of Uthman bin Ghiyath (no. 6212).

Urdu

ہم سے ابو الربیع العتکی نے بیان کیا، ہم سے حماد نے بیان کیا، ایوب نے ابو عثمان نہدی سے ، انھوں نے حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم باغ میں گئے اور مجھے حکم دیا کہ میں دروازے کی حفاظت کروں ۔ ( پھر ) عثمان بن غیاث کی حدیث کے ہم معنی ( حدیث بیا ن کی ۔ )

Hadith 6214
Sahih
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مِسْكِينٍ الْيَمَامِيُّ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَسَّانَ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ وَهُوَ ابْنُ بِلَالٍ، عَنْ شَرِيكِ بْنِ أَبِي نَمِرٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، أَخْبَرَنِي أَبُو مُوسَى الْأَشْعَرِيُّ، أَنَّهُ تَوَضَّأَ فِي بَيْتِهِ ثُمَّ خَرَجَ، فَقَالَ: لَأَلْزَمَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَأَكُونَنَّ مَعَهُ يَوْمِي هَذَا، قَالَ: فَجَاءَ الْمَسْجِدَ، فَسَأَلَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالُوا: خَرَجَ، وَجَّهَ هَاهُنَا، قَالَ فَخَرَجْتُ عَلَى أَثَرِهِ أَسْأَلُ عَنْهُ، حَتَّى دَخَلَ بِئْرَ أَرِيسٍ، قَالَ: فَجَلَسْتُ عِنْدَ الْبَابِ، وَبَابُهَا مِنْ جَرِيدٍ، حَتَّى قَضَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَاجَتَهُ وَتَوَضَّأَ، فَقُمْتُ إِلَيْهِ، فَإِذَا هُوَ قَدْ جَلَسَ عَلَى بِئْرِ أَرِيسٍ وَتَوَسَّطَ قُفَّهَا، وَكَشَفَ عَنْ سَاقَيْهِ، وَدَلَّاهُمَا فِي الْبِئْرِ، قَالَ: فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ، ثُمَّ انْصَرَفْتُ فَجَلَسْتُ عِنْدَ الْبَابِ، فَقُلْتُ: لَأَكُونَنَّ بَوَّابَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْيَوْمَ، فَجَاءَ أَبُو بَكْرٍ فَدَفَعَ الْبَابَ، فَقُلْتُ: مَنْ هَذَا؟ فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: فَقُلْتُ: عَلَى رِسْلِكَ، قَالَ: ثُمَّ ذَهَبْتُ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ هَذَا أَبُو بَكْرٍ يَسْتَأْذِنُ، فَقَالَ: «ائْذَنْ لَهُ، وَبَشِّرْهُ بِالْجَنَّةِ» قَالَ فَأَقْبَلْتُ حَتَّى قُلْتُ: لِأَبِي بَكْرٍ ادْخُلْ، وَرَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُبَشِّرُكَ بِالْجَنَّةِ، قَالَ: فَدَخَلَ أَبُو بَكْرٍ، فَجَلَسَ عَنْ يَمِينِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مَعَهُ فِي الْقُفِّ، وَدَلَّى رِجْلَيْهِ فِي الْبِئْرِ، كَمَا صَنَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَكَشَفَ عَنْ سَاقَيْهِ، ثُمَّ رَجَعْتُ فَجَلَسْتُ، وَقَدْ تَرَكْتُ أَخِي يَتَوَضَّأُ وَيَلْحَقُنِي، فَقُلْتُ: إِنْ يُرِدِ اللهُ بِفُلَانٍ - يُرِيدُ أَخَاهُ - خَيْرًا يَأْتِ بِهِ، فَإِذَا إِنْسَانٌ يُحَرِّكُ الْبَابَ، فَقُلْتُ: مَنْ هَذَا؟ فَقَالَ: عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ فَقُلْتُ: عَلَى رِسْلِكَ، ثُمَّ جِئْتُ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ وَقُلْتُ: هَذَا عُمَرُ يَسْتَأْذِنُ، فَقَالَ: «ائْذَنْ لَهُ وَبَشِّرْهُ بِالْجَنَّةِ» فَجِئْتُ عُمَرَ فَقُلْتُ: أَذِنَ وَيُبَشِّرُكَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِالْجَنَّةِ، قَالَ فَدَخَلَ فَجَلَسَ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْقُفِّ، عَنْ يَسَارِهِ، وَدَلَّى رِجْلَيْهِ فِي الْبِئْرِ، ثُمَّ رَجَعْتُ فَجَلَسْتُ فَقُلْتُ: إِنْ يُرِدِ اللهُ بِفُلَانٍ خَيْرًا - يَعْنِي أَخَاهُ - يَأْتِ بِهِ، فَجَاءَ إِنْسَانٌ فَحَرَّكَ الْبَابَ، فَقُلْتُ: مَنْ هَذَا؟ فَقَالَ: عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ فَقُلْتُ: عَلَى رِسْلِكَ، قَالَ وَجِئْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرْتُهُ، فَقَالَ: «ائْذَنْ لَهُ وَبَشِّرْهُ بِالْجَنَّةِ، مَعَ بَلْوَى تُصِيبُهُ» قَالَ فَجِئْتُ فَقُلْتُ: ادْخُلْ، وَيُبَشِّرُكَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْجَنَّةِ مَعَ بَلْوَى تُصِيبُكَ، قَالَ فَدَخَلَ فَوَجَدَ الْقُفَّ قَدْ مُلِئَ، فَجَلَسَ وِجَاهَهُمْ مِنَ الشِّقِّ الْآخَرِ. قَالَ شَرِيكٌ: فَقَالَ سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ: فَأَوَّلْتُهَا قُبُورَهُمْ.
English

Abu Musa Ash'ari رضی اللہ عنہ reported:

He performed ablution in his house and then came out saying: I would remain with Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) the whole day long. He came to the mosque, and asked about Allah's Apostle ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ). They (his Companions) said: He has gone in this direction. He (Abu Musa Ash'ari) said: I followed his steps asking about him until I came to Bi'r Aris (it is a well in the suburb of Medina). I sat by its wooden door until Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) had relieved himself and then performed ablution. I went to him and he was sitting with his shanks uncovered hp to the knees and his legs dangl- ing in that well. I offered him salutations. I then came back and sat at the door as if I had been a chamberlain at the door of Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) that day. There came Abu Bakr رضی اللہ عنہ and knocked the door and I said: Who is it? He said: This is Abu Bakr. I said: Wait, please. I went and said: Allah's Messenger, here is Abu Bakr seeking permission. Thereupon he said: Admit him and give him glad tidings of Paradise. I came and I said to Abu Bakr to get in (and also told him) that Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) was giving him the glad tidings of Paradise. Abu Bakr got in and sat on the right side of Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) and dangled his feet in the well as Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) had done, and he uncovered his shanks. I then returned and sat there and I had left my brother as he had been performing ablution and he was to meet me and I said: If Allah would intend goodness for such and such he would intend goodness for his brother and He would bring him. I was thinking this that a person stirred the door. I said: Who is it. He said: This is Umar bin Khattab. I said: Wait. Then I came to Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ), greeted him and said: Here is 'Umar seeking your. permission to get in. Thereupon he said: Let him come in and give him glad tid- ings of Paradise. I came to Umar and said: There is permission for you and glad tidings for you from Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) for Paradise. He got in and sat on the left side of Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) with his feet dangling in the well. I then returned and sat and said: If Allah would intend goodness for such and such (that is for his brother), He would bring him. And I was contemplat- ing over it that a man stirred the door and I said: Who is it? He said: This is Uthman bin Affan. I said: Wait, please. I then came to Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) and informed him. and he said: Admit him and give him glad tidings (and inform) him of the turmoil which he shall have to face. I came and said: Get in, Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) gives you the glad tidings of Paradise along with the trial which you shall have to face. He got in and saw the elevated plan round the well fully occupied. He sat on the other side. Sharik said that Sa'id bin al-Musayyib reported: I drew a conclusion from it that their groves would be (in this very state, the graves of Hadrat Abu Bakr, 'Umar Faruq by the tide of the Prophet [may peace be upon him] and the grave of Hadrat 'Uthman رضی اللہ عنہ away from their graves).

Urdu

ہم سے محمد بن مسکین الیمامی نے بیان کیا, یحییٰ بن حسان نے کہا : ہمیں سلیمان بن بلال نے شریک بن ابی نمر سے ، انھوں نے سعید بن مسیب سے روایت کی ، کہا : کہ مجھے سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ

انہوں نے اپنے گھر میں وضو کیا ، پھر باہر نکلے ۔ سیدنا ابوموسیٰ کہتے ہیں کہ میں نے کہا کہ آج میں دن بھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ساتھ نہ چھوڑوں گا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ہی رہوں گا ۔ کہتے ہیں کہ پھر مسجد میں آیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں پوچھا ۔ لوگوں نے کہا کہ باہر اس طرف تشریف لے گئے ہیں ۔ میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قدموں کے نشان پر چلا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں لوگوں سے پوچھتا جاتا تھا ۔ چلتے چلتے معلوم ہوا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مقام اریس پر باغ میں گئے ہیں ۔ میں دروازے کے قریب بیٹھ گیا جو کھجور کی ڈالیوں کا بنا ہوا تھا ، یہاں تک کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حاجت سے فارغ ہوئے اور وضو کر چکے تو میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف چل دیا ۔ میں نے دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اریس کنوئیں کی منڈیر پر بیٹھے ہیں اور دونوں پنڈلیاں کھول کر کنوئیں میں لٹکا دی ہیں ۔ پس میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کیا اور پھر لوٹ کر دروازے کے قریب بیٹھ گیا ۔ میں نے ( دل میں ) کہا کہ میں آج نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا دربان ، چوکیدار رہوں گا ۔ اتنے میں سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ آئے اور دروازے کو دھکیلا ۔ میں نے پوچھا کون ہے؟ انہوں نے کہا کہ ابوبکر ہوں ، میں نے کہا ذرا ٹھہرو ۔ پھر میں گیا اور کہا کہ یا رسول اللہ! ابوبکر اندر آنے کی اجازت چاہتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ان کو آنے دو اور جنت کی خوشخبری دو ۔ میں آیا اور سیدنا ابوبکر سے کہا کہ اندر داخل ہو ، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کو جنت کی خوشخبری دی ہے ۔ پس سیدنا ابوبکر داخل ہوئے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی داہنی طرف اسی منڈیر پر دونوں پاؤں لٹکا کر پنڈلیاں کھول کر جیسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھے تھے ، بیٹھ گئے ۔ میں لوٹ آیا اور پھر بیٹھ گیا اور میں اپنے بھائی ( عامر ) کو گھر میں وضو کرتے چھوڑ آیا تھا ، میں نے کہا کہ اگر اللہ تعالیٰ کو فلاں ( یعنی ) میرے بھائی کی بھلائی منظور ہے تو اس کو یہاں لے آئے گا ۔ اتنے میں ( کیا دیکھتا ہوں کہ ) کوئی دروازہ ہلانے لگا ہے ۔ میں نے پوچھا کون ہے؟ جواب آیا کہ عمر بن خطاب ۔ میں نے کہا ٹھہر جا ۔ پھر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا ، سلام کیا اور کہا کہ سیدنا عمر بن خطاب اندر آنے کی اجازت چاہتے ہیں؟ فرمایا کہ انہیں اجازت دو اور جنت کی خوشخبری بھی دو ۔ پس میں گیا اور کہا کہ اندر داخل ہو اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تجھے جنت کی خوشخبری دی ہے ۔ پس وہ بھی داخل ہوئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بائیں طرف اسی منڈیر پر بیٹھ گئے اور دونوں پاؤں کنوئیں میں لٹکا دئیے ۔ پھر میں لوٹ آیا اور ( دروازے پر ) بیٹھ گیا ۔ میں نے کہا کہ اگر اللہ کو فلاں آدمی ( عامر ) کی بھلائی منظور ہے تو اس کو بھی لے آئے گا ۔ اتنے میں ایک اور آدمی نے دروازہ ہلایا ۔ میں نے کہا کہ کون ہے؟ جواب دیا کہ عثمان بن عفان ۔ میں نے کہا کہ ٹھہر جا ۔ پھر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور بتایا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ انہیں اجازت دو اور جنت کی خوشخبری دو مگر وہ ایک مصیبت میں مبتلا ہوں گے ۔ میں آیا اور ان سے کہا کہ داخل ہو اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تجھے جنت کی خوشخبری دی ہے مگر ایک بلا کے ساتھ جو تم پر آئے گی ۔ پس وہ بھی داخل ہوئے اور دیکھا کہ منڈیر کا ایک حصہ بھر گیا ہے ، پس وہ دوسرے کنارے پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے بیٹھ گئے ۔ شریک نے کہا کہ سعید بن مسیب نے کہا کہ میں نے اس حدیث سے یہ نکالا کہ ان کی قبریں بھی اسی طرح ہوں گی ۔ ( ویسا ہی ہوا کہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو اس حجرہ میں جگہ نہ ملی ، تو وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے بقیع میں دفن ہوئے ) ۔

Hadith 6215
Sahih
حَدَّثَنِيهِ أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عُفَيْرٍ، حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ، حَدَّثَنِي شَرِيكُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي نَمِرٍ، سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيِّبِ، يَقُولُ: حَدَّثَنِي أَبُو مُوسَى الْأَشْعَرِيُّ، هَاهُنَا - وَأَشَارَ لِي سُلَيْمَانُ إِلَى مَجْلِسِ سَعِيدٍ نَاحِيَةَ الْمَقْصُورَةِ - قَالَ أَبُو مُوسَى، خَرَجْتُ أُرِيدُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَوَجَدْتُهُ قَدْ سَلَكَ فِي الْأَمْوَالِ، فَتَبِعْتُهُ فَوَجَدْتُهُ قَدْ دَخَلَ مَالًا، فَجَلَسَ فِي الْقُفِّ، وَكَشَفَ عَنْ سَاقَيْهِ وَدَلَّاهُمَا فِي الْبِئْرِ، وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِمَعْنَى حَدِيثِ يَحْيَى بْنِ حَسَّانَ، وَلَمْ يَذْكُرْ قَوْلَ سَعِيدٍ: فَأَوَّلْتُهَا قُبُورَهُمْ.
English

Abu Musa رضی اللہ عنہ reported:

I set out with the intention (of meeting) Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) and came to know that he had gone to the gardens (in the suburb of Medina). I followed him and found him in a garden sitting upon an elevated place round the well with his shanks uncovered which had been dangling in the well. The rest of the hadith is the same but with this variation that there is no mention of the words of Sa'id: all drew a conclusion from it pertaining to their graves.

Urdu

ابوبکر بن اسحاق نے مجھ سے کہا, سعید بن عفیر نے کہا , مجھے سلیمان بن بلال نے حدیث بیان کی ، کہا : مجھے شریک بن عبداللہ بن ابی نمر نے حدیث بیان کی ، کہا : میں نے سعید بن مسیب کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ مجھے حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے اس جگہ ۔ اور سلیمان نے سعید بن مسیب کے بیٹھنے کی جگہ کی جانب اشارہ کیا ۔ حدیث سنائی ۔ ابو موسیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا

میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضری کے لئے نکلا ۔ میں نے دیکھا کہ آپ ( لوگوں کے ) باغات کے اندر سے گزر کرگئے ہیں ۔ میں آپ کے پیچھے ہولیا ، میں نے دیکھا کہ آپ ایک باغ کے اندر تشریف لے گئے ہیں ، کنویں کی منڈیر پر بیٹھ گئے ہیں اور اپنی پنڈلیوں سے کپڑا ہٹا کر انھیں کنویں میں لٹکا لیا ہے ، پھر یحییٰ بن حسان کی حدیث کے ہم معنی حدیث بیان کی اور ( اس میں ) حضرت سعید بن مسیب کا قول : " میں نے ان کی قبریں مراد لیں " بیان نہیں کیا ۔

Hadith 6216
Sahih
حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، قَالَا: حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، أَخْبَرَنِي شَرِيكُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي نَمِرٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ، قَالَ: خَرَجَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا إِلَى حَائِطٍ بِالْمَدِينَةِ لِحَاجَتِهِ، فَخَرَجْتُ فِي إِثْرِهِ، وَاقْتَصَّ الْحَدِيثَ بِمَعْنَى حَدِيثِ سُلَيْمَانَ بْنِ بِلَالٍ، وَذَكَرَ فِي الْحَدِيثِ: قَالَ ابْنُ الْمُسَيِّبِ فَتَأَوَّلْتُ ذَلِكَ قُبُورَهُمُ اجْتَمَعَتْ هَاهُنَا وَانْفَرَدَ عُثْمَانُ.
English

Sa'id bin al-Musayyib reported:

Abu Musa Ash'ari رضی اللہ عنہ having said that Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) set out one day to the suburbs of Medina for relieving himself. I followed his steps. The rest of the hadith is the same. Ibn Musayyib said: I concluded (from the manner of their sitting) the (order) of their graves. (The three) would be together (the graves of the Holy Prophet, Hadrat Abu Bakr and Hadrat Umar) and that of 'Uthman رضی اللہ عنہ would be separate (from them).

Urdu

ہم سے حسن بن علی الحلوانی اور ابوبکر بن اسحاق نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے سعید بن ابی مریم نے بیان کیا، محمد بن جعفر بن ابی کثیر نے ہمیں حدیث بیان کی ، کہا : مجھے شریک بن عبداللہ بن ابی نمر نے سعید بن مسیب سے خبر دی ، انھوں نے حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا

ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی ضرورت کے لئے مدینہ کے ایک باغ میں تشریف لے گئے ، میں آپ کے پیچھے پیچھے نکل پڑا ، اور سلیمان بن بلال کی حدیث کے ہم معنی حدیث بیان کی اور حدیث میں یہ بیا ن کیاکہ ابن مسیب نےکہا : میں نے ان سے ان کی قبریں مراد لیں ( جو ) یہاں اکھٹی ہیں اورحضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی الگ ہے ۔

Hadith 6217
Sahih
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى التَّمِيمِيُّ، وَأَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ، وَعُبَيْدُ اللهِ الْقَوَارِيرِيُّ، وَسُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ كُلُّهُمْ، عَنْ يُوسُفَ الْمَاجِشُونِ، - وَاللَّفْظُ لِابْنِ الصَّبَّاحِ - حَدَّثَنَا يُوسُفُ أَبُو سَلَمَةَ الْمَاجِشُونُ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِعَلِيٍّ: «أَنْتَ مِنِّي بِمَنْزِلَةِ هَارُونَ مِنْ مُوسَى، إِلَّا أَنَّهُ لَا نَبِيَّ بَعْدِي» قَالَ سَعِيدٌ: فَأَحْبَبْتُ أَنْ أُشَافِهَ بِهَا سَعْدًا، فَلَقِيتُ سَعْدًا فَحَدَّثْتُهُ بِمَا حَدَّثَنِي عَامِرٌ، فَقَالَ: أَنَا سَمِعْتُهُ، فَقُلْتُ آنْتَ سَمِعْتَهُ؟ فَوَضَعَ إِصْبَعَيْهِ عَلَى أُذُنَيْهِ فَقَالَ: نَعَمْ، وَإِلَّا، فَاسْتَكَّتَا.
English

Amir bin Sa'd bin Abi Waqqas reported (on the authority of his father:

Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) addressing 'Ali رضی اللہ عنہ said: You are in the same position with relation to me as Aaron (Harun) was in relation to Moses but with (this explicit difference) that there is no prophet after me. Sa'd said: I had an earnest desire to hear it directly from Sa'd, so I met him and narrated to him what (his son) Amir had narrated to me, whereupon he said: Yes, I did hear it. I said: Did you hear it yourself? Thereupon he placed his fingers upon his ears and said: Yes, and if not, let both my ears become deaf.

Urdu

یحییٰ بن یحییٰ تمیمی، ابوجعفر محمد بن الصباح، عبید اللہ القواریری اور سوریج بن یونس سب نے یوسف کی سند سے بیان کیا۔ المجشن، - اور کلام ابن الصباح نے کیا ہے - ہم سے یوسف ابو سلمہ المجشن نے بیان کیا، ہم سے محمد بن المنکدر نے بیان کیا، سعید بن مسیب نے عامر بن سعد بن ابی وقاص سے ، انھوں نے ا پنے والد سے روایت کی ، کہا

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سےفرمایا : "" تمھارا میرے ساتھ وہی مقام ہے جو ہارون علیہ السلام کاموسیٰ علیہ السلام کےساتھ تھا مگر یہ کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں ۔ "" سعید ( بن مسیب ) نے کہا : میں نے چاہا کہ یہ بات میں خود حضرت سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے منہ سے سنوں تو میں حضرت سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے جا کر ملا اور جو حدیث مجھے عامر نے سنائی تھی ، ان کے سامنے بیان کی ، انھوں نے کہا : میں نے ( آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے خود ) یہ بات سنی تھی ، میں نے کہا : آپ نے خود سنی تھی؟کہا : تو انھوں نے اپنی انگلیاں اپنے دونوں کانوں پر رکھیں اورکہا : ہاں ، ورنہ ( اگر یہ بات نہ سنی ہو ) تو ان دونوں کو سنائی نہ دے ۔

Hadith 6218
Sahih
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ، عَنْ شُعْبَةَ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَابْنُ بَشَّارٍ قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، قَالَ: خَلَّفَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ تُخَلِّفُنِي فِي النِّسَاءِ وَالصِّبْيَانِ؟ فَقَالَ: «أَمَا تَرْضَى أَنْ تَكُونَ مِنِّي بِمَنْزِلَةِ هَارُونَ مِنْ مُوسَى؟ غَيْرَ أَنَّهُ لَا نَبِيَّ بَعْدِي».
English

Sa'd bin Abi Waqqas رضی اللہ عنہ reported:

Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) left 'Ali bin Abi Talib behind him (as he proceeded) to the expedition of Tabuk, whereupon he ('Ali رضی اللہ عنہ) said: Allah's Messenger, are you leaving me behind amongst women and children? Thereupon he (the Holy Prophet) said: Aren't you satisfied with being unto me what Aaron was unto Moses but with this exception that there would be no prophet after me?

Urdu

ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے گندر نے، شعبہ ح کی سند سے اور ہم سے محمد بن المثنیٰ اور ابن بشار نے بیان کیا، کہا: محمد بن جعفر ( غندر ) نے کہا : ہمیں شعبہ نے حکم سے حدیث بیان کی ، انھوں نے مصعب بن سعد بن ابی وقاص سے روایت کی ، انھوں نے حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا : کہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ تبوک کے موقعہ پر سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو ( مدینہ میں ) خلیفہ بنایا ، تو انہوں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! آپ مجھے عورتوں اور بچوں میں چھوڑے جاتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کیا تم اس بات سے خوش نہیں ہوتے کہ تمہارا درجہ میرے پاس ایسا ہو جیسے موسیٰ علیہ السلام کے پاس ہارون علیہ السلام کا تھا ، لیکن میرے بعد کوئی پیغمبر نہیں ہے ۔

Hadith 6219
Sahih
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُعَاذٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، فِي هَذَا الْإِسْنَادِ.
English

This hadith has been narrated on the authority of Shu'ba with the same chain of transmitters.

Urdu

ہم سے عبید اللہ بن معاذ نے کہا : ہمیں شعبہ نے اسی سند سے حدیث بیان کی ۔

Hadith 6220
Sahih
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ - وَتَقَارَبَا فِي اللَّفْظِ - قَالَا: حَدَّثَنَا حَاتِمٌ وَهُوَ ابْنُ إِسْمَاعِيلَ - عَنْ بُكَيْرِ بْنِ مِسْمَارٍ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: أَمَرَ مُعَاوِيَةُ بْنُ أَبِي سُفْيَانَ سَعْدًا فَقَالَ: مَا مَنَعَكَ أَنْ تَسُبَّ أَبَا التُّرَابِ؟ فَقَالَ: أَمَّا مَا ذَكَرْتُ ثَلَاثًا قَالَهُنَّ لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَنْ أَسُبَّهُ، لَأَنْ تَكُونَ لِي وَاحِدَةٌ مِنْهُنَّ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ حُمْرِ النَّعَمِ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَهُ، خَلَّفَهُ فِي بَعْضِ مَغَازِيهِ، فَقَالَ لَهُ عَلِيٌّ: يَا رَسُولَ اللهِ خَلَّفْتَنِي مَعَ النِّسَاءِ وَالصِّبْيَانِ؟ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَمَا تَرْضَى أَنْ تَكُونَ مِنِّي بِمَنْزِلَةِ هَارُونَ مِنْ مُوسَى؟ إِلَّا أَنَّهُ لَا نُبُوَّةَ بَعْدِي» وَسَمِعْتُهُ يَقُولُ يَوْمَ خَيْبَرَ «لَأُعْطِيَنَّ الرَّايَةَ رَجُلًا يُحِبُّ اللهَ وَرَسُولَهُ، وَيُحِبُّهُ اللهُ وَرَسُولُهُ» قَالَ فَتَطَاوَلْنَا لَهَا فَقَالَ: «ادْعُوا لِي عَلِيًّا» فَأُتِيَ بِهِ أَرْمَدَ، فَبَصَقَ فِي عَيْنِهِ وَدَفَعَ الرَّايَةَ إِلَيْهِ، فَفَتَحَ اللهُ عَلَيْهِ، وَلَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ: {فَقُلْ تَعَالَوْا نَدْعُ أَبْنَاءَنَا وَأَبْنَاءَكُمْ} [آل عمران: 61] دَعَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلِيًّا وَفَاطِمَةَ وَحَسَنًا وَحُسَيْنًا فَقَالَ: «اللهُمَّ هَؤُلَاءِ أَهْلِي».
English

Amir bin Sa'd bin Abi Waqqas reported on the authority of his father:

Muawiya bin Abi Sufyan رضی اللہ عنہ appointed Sa'd رضی اللہ عنہ as the Governor and said: What prevents you from abusing Abu Turab (Hadrat 'Ali رضی اللہ عنہ ), whereupon be said: It is because of three things which I remember Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌) having said about him that I would not abuse him and even if I find one of those three things for me, it would be more dear to me than the red camels. I heard Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌) say about 'Ali رضی اللہ عنہ as he left him behind in one of his campaigns (that was Tabuk). 'Ali رضی اللہ عنہ said to him: Allah's Messenger, you leave me behind along with women and children. Thereupon Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌) said to him: Aren't you satisfied with being unto me what Aaron was unto Moses but with this exception that there is no prophethood after me. And I (also) heard him say on the Day of Khaibar: I would certainly give this standard to a person who loves Allah and his Messenger, and Allah and his Messenger love him too. He (the narrator) said: We had been anxiously waiting for it, when he (the Holy Prophet) said: Call 'Ali. He was called and his eyes were inflamed. He applied saliva to his eyes and handed over the standard to him, and Allah gave him victory. (The third occasion is this) when the (following) verse was revealed: Let us summon our children and your children. Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌) called 'Ali رضی اللہ عنہ , Fatima رضی اللہ عنہا, Hasan رضی اللہ عنہ and Husain رضی اللہ عنہ and said: O Allah, they are my family.

Urdu

ہم سے قتیبہ بن سعید اور محمد بن عباد نے بیان کیا - اور وہ الفاظ میں ایک جیسے تھے - انہوں نے کہا: ہم سے حاتم نے جو ابن اسماعیل ہیں، بیان کیا: بکیر بن مسمار نے عامر بن سعد بن ابی وقاص سے ، انھوں نے اپنے والد سے روایت کی کہ

حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ نے حضرت سعد رضی اللہ عنہ کو حکم دیا ، کہا : آپ کو اس سے کیا چیز روکتی ہے کہ آپ ابوتراب ( حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) کو براکہیں ۔ انھوں نے جواب دیا : جب تک مجھے وہ تین باتیں یاد ہیں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان ( حضر ت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) سے کہی تھیں ، میں ہرگز انھیں برا نہیں کہوں گا ۔ ان میں سے کوئی ایک بات بھی میرے لئے ہوتو وہ مجھے سرخ اونٹوں سے زیادہ پسند ہوگی ، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سناتھا ، آپ ان سے ( اس وقت ) کہہ رہے تھے جب آپ ایک جنگ میں ان کو پیچھے چھوڑ کر جارہے تھے اور علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ان سے کہا تھا : اللہ کےرسول صلی اللہ علیہ وسلم !آپ مجھے عورتوں اوربچوں میں پیچھے چھوڑ کرجارہے ہیں؟تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا : " تمھیں یہ پسند نہیں کہ تمھارا میرے ساتھ وہی مقام ہو جوحضرت ہارون علیہ السلام کاموسیٰ علیہ السلام کےساتھ تھا ، مگر یہ کہ میرے بعد نبوت نہیں ہے ۔ " اسی طرح خیبر کے دن میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ کہتے ہوئے سناتھا : " اب میں جھنڈ ا اس شخص کو دوں گا جو اللہ اوراس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! سے محبت کرتا ہے اور اللہ اور اس کا ر سول صلی اللہ علیہ وسلم اس سے محبت کرتے ہیں ۔ " کہا : پھر ہم نے اس بات ( مصداق جاننے ) کے لئے اپنی گردنیں اٹھا اٹھا کر ( ہرطرف ) دیکھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " علی کو میرے پاس بلاؤ ۔ " انھیں شدید آشوب چشم کی حالت میں لایا گیا ۔ آپ نےان کی آنکھوں میں اپنا لعاب دہن لگایا اورجھنڈا انھیں عطافرمادیا ۔ اللہ نے ان کے ہاتھ پر خیبر فتح کردیا ۔ اورجب یہ آیت اتری : " ( تو آپ کہہ دیں : آؤ ) ہم اپنے بیٹوں اور تمھارے بیٹوں کو بلالیں ۔ " تورسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضر ت علی رضی اللہ عنہ ، حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا ، حضرت حسن رضی اللہ عنہ ، اورحضرت حسین رضی اللہ عنہ کو بلایا اور فرمایا : " اے اللہ! یہ میرے گھر والے ہیں ۔ "

Hadith 6221
Sahih
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ، عَنْ شُعْبَةَ، وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَابْنُ بَشَّارٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، سَمِعْتُ إِبْرَاهِيمَ بْنَ سَعْدٍ، عَنْ سَعْدٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ لِعَلِيٍّ «أَمَا تَرْضَى أَنْ تَكُونَ مِنِّي بِمَنْزِلَةِ هَارُونَ مِنْ مُوسَى؟»
English

Sa'd رضی اللہ عنہ reported:

Allah's Apostle ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌) as saying to 'Ali رضی اللہ عنہ : Aren't you satisfied with being unto me what Aaron was unto Moses?

Urdu

ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا، ہم سے گندر نے، شعبہ کی سند سے اور ہم سے محمد بن المثنیٰ اور ابن بشار نے بیان کیا، کہا: ہم سے بیان کیا ہم سے محمد بن جعفر، شعبہ نے سعد بن ابراہیم کی سند سے بیان کیا, ابراہیم بن سعد نے حضرت سعد رضی اللہ عنہ سے اور انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روای کی کہ

آپ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا : " کیا تم اس پر راضی نہیں ہو کہ تم میرے لئے ایسےہو جیسے موسیٰ علیہ السلام کے لئے ہارون علیہ السلام تھے؟ "

Hadith 6222
Sahih
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْقَارِيَّ، عَنْ سُهَيْلٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ يَوْمَ خَيْبَرَ: «لَأُعْطِيَنَّ هَذِهِ الرَّايَةَ رَجُلًا يُحِبُّ اللهَ وَرَسُولَهُ، يَفْتَحُ اللهُ عَلَى يَدَيْهِ» قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ: مَا أَحْبَبْتُ الْإِمَارَةَ إِلَّا يَوْمَئِذٍ، قَالَ فَتَسَاوَرْتُ لَهَا رَجَاءَ أَنْ أُدْعَى لَهَا، قَالَ فَدَعَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ، فَأَعْطَاهُ إِيَّاهَا، وَقَالَ: «امْشِ، وَلَا تَلْتَفِتْ، حَتَّى يَفْتَحَ اللهُ عَلَيْكَ» قَالَ فَسَارَ عَلِيٌّ شَيْئًا ثُمَّ وَقَفَ وَلَمْ يَلْتَفِتْ، فَصَرَخَ: يَا رَسُولَ اللهِ عَلَى مَاذَا أُقَاتِلُ النَّاسَ؟ قَالَ: «قَاتِلْهُمْ حَتَّى يَشْهَدُوا أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللهِ، فَإِذَا فَعَلُوا ذَلِكَ فَقَدْ مَنَعُوا مِنْكَ دِمَاءَهُمْ وَأَمْوَالَهُمْ، إِلَّا بِحَقِّهَا وَحِسَابُهُمْ عَلَى اللهِ».
English

Suhail reported on the authority of Abu Huraira رضی اللہ عنہ :

Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌) said on the Day of Khaibar: I shall certainly give this standard in the hand of one who loves Allah and his Messenger and Allah will grant victory at his hand. Umar bin Khattab رضی اللہ عنہ said: Never did I cherish for leadership but on that day. I came before him with the hope that I may be called for this, but Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌) called 'Ali bin Abu Talib رضی اللہ عنہ and he conferred (this honour) upon him and said: Proceed on and do not look about until Allah grants you victory, and 'Ali رضی اللہ عنہ went a bit and then halted and did not look about and then said in a loud voice: Allah's Messenger, on what issue should I fight with the people? Thereupon he (the Prophet) said: Fight with them until they bear testimony to the fact that there is no god but Allah and Muhammad is his Messenger, and when they do that then their blood and their riches are inviolable from your hands but what is justified by law and their reckoning is with Allah.

Urdu

ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، ہم سے یعقوب نے بیان کیا، یعنی ہم سے ابن عبدالرحمٰن القاری نے بیان کیا, سہیل کے والد ( ابو صالح ) نے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ

ر سول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ خیبر کےدن فرمایا : " کل میں اس شخص کو جھنڈا دوں گا جو اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کرتا ہے ، اللہ اس کے ہاتھ پر فتح عطافرمائے گا ۔ " حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بن خطاب نے کہا : اس ایک دن کے علاوہ میں نے کبھی امارت کی تمنا نہیں کی ، کہا : میں نے اس امید کہ مجھے اس کے لئے بلایا جائے گا اپنی گردن اونچی کی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کو بلایا ، ان کو وہ جھنڈا دیا اور فرمایا : " جاؤ ، پیچھےمڑ کر نہ دیکھو ، یہاں تک کہ اللہ تمھیں فتح عطا کردے ۔ " کہا : حضرت علی رضی اللہ عنہ کچھ دور گئے ، پھر ٹھر گئے ، پیچھے مڑ کر نہ دیکھا اور بلند آواز سے پکار کر کہا : اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !کس بات پر لوگوں سے جنگ کروں؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " ان سے لڑو یہاں تک کہ وہ اس بات کی گواہی دیں کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں ، اگرانھوں نے ایسا کرلیا توانھوں نے اپنی جانیں اور اپنے مال تم سے محفوظ کرلیے ، سوائے یہ کہ اسی ( شہادت ) کاحق ہو اوران کاحساب اللہ پر ہوگا ۔ "

Hadith 6223
Sahih
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي ابْنَ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ سَهْلٍ، ح وَحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ - وَاللَّفْظُ هَذَا - حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، أَخْبَرَنِي سَهْلُ بْنُ سَعْدٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ يَوْمَ خَيْبَرَ: «لَأُعْطِيَنَّ هَذِهِ الرَّايَةَ رَجُلًا يَفْتَحُ اللهُ عَلَى يَدَيْهِ، يُحِبُّ اللهَ وَرَسُولَهُ وَيُحِبُّهُ اللهُ وَرَسُولُهُ» قَالَ: فَبَاتَ النَّاسُ يَدُوكُونَ لَيْلَتَهُمْ أَيُّهُمْ يُعْطَاهَا، قَالَ فَلَمَّا أَصْبَحَ النَّاسُ غَدَوْا عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، كُلُّهُمْ يَرْجُونَ أَنْ يُعْطَاهَا، فَقَالَ أَيْنَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ فَقَالُوا: هُوَ يَا رَسُولَ اللهِ يَشْتَكِي عَيْنَيْهِ، قَالَ فَأَرْسِلُوا إِلَيْهِ، فَأُتِيَ بِهِ، فَبَصَقَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي عَيْنَيْهِ، وَدَعَا لَهُ فَبَرَأَ، حَتَّى كَأَنْ لَمْ يَكُنْ بِهِ وَجَعٌ، فَأَعْطَاهُ الرَّايَةَ، فَقَالَ عَلِيٌّ: يَا رَسُولَ اللهِ أُقَاتِلُهُمْ حَتَّى يَكُونُوا مِثْلَنَا، فَقَالَ: «انْفُذْ عَلَى رِسْلِكَ، حَتَّى تَنْزِلَ بِسَاحَتِهِمْ، ثُمَّ ادْعُهُمْ إِلَى الْإِسْلَامِ، وَأَخْبِرْهُمْ بِمَا يَجِبُ عَلَيْهِمْ مِنْ حَقِّ اللهِ فِيهِ، فَوَاللهِ لَأَنْ يَهْدِيَ اللهُ بِكَ رَجُلًا وَاحِدًا خَيْرٌ لَكَ مِنْ أَنْ يَكُونَ لَكَ حُمْرُ النَّعَمِ».
English

Sahl bin Sa'd رضی اللہ عنہ reported:

Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌) said on the Day of Khaibar: I would certainly give this standard to a person at whose hand Allah would grant victory and who loves Allah and His Messenger and Allah and His Messenger love him also. The people spent the night thinking as to whom it would be given. When it was morning the people hastened to Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌) all of them hoping that that would be given to him. He (the Holy Prophet) said: Where is 'Ali bin Abu Talib? They said: Allah's Messenger, his eyes are sore. He then sent for him and he was brought and Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌) applied saliva to his eyes and invoked blessings and he was all right, as if he had no ailment at all, and conferred upon him the standard. 'Ali رضی اللہ عنہ said: Allah's Messenger, I will fight them until they are like us. Thereupon he (the Holy Prophet) said: Advance cautiously until you reach their open places, thereafter invite them to Islam and inform them what is obligatory for them from the rights of Allah, for, by Allah, if Allah guides aright even one person through you that is better for you than to possess the most valuable of the camels.

Urdu

ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، انہیں عبدالعزیز نے، یعنی ابن ابی حازم نے بیان کیا, ابوحازم نے کہا : مجھے حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ نے کہ

خیبر کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " کہ میں یہ جھنڈا اس شخص کو دوں گا جس کے ہاتھ پر اللہ تعالیٰ فتح دے گا اور وہ اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرتا ہو گا اور اللہ اور اللہ کے رسول اس کو چاہتے ہوں گے ۔ پھر رات بھر لوگ ذکر کرتے رہے کہ دیکھیں یہ شان آپ صلی اللہ علیہ وسلم کس کو دیتے ہیں ۔ جب صبح ہوئی تو سب کے سب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس یہی امید لئے آئے کہ یہ جھنڈا مجھے ملے گا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ علی بن ابی طالب کہاں ہیں؟ لوگوں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! ان کی آنکھیں دکھتی ہیں ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بلا بھیجا اور ان کی آنکھوں میں تھوک لگایا اور ان کے لئے دعا کی تو وہ بالکل اچھے ہو گئے گویا ان کو کوئی تکلیف نہ تھی ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں جھنڈا دیا ۔ چنانچہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! میں ان سے لڑوں گا یہاں تک کہ وہ ہماری طرح ( مسلمان ) ہو جائیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ آہستہ چلتا جا ، یہاں تک کہ ان کے میدان میں اترے ، پھر ان کو اسلام کی طرف بلا اور ان کو بتا جو اللہ کا حق ان پر واجب ہے ۔ اللہ کی قسم اگر اللہ تعالیٰ تیری وجہ سے ایک شخص کو ہدایت کرے تو وہ تیرے لئے سرخ اونٹوں سے زیادہ بہتر ہے ۔

Hadith 6224
Sahih
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا حَاتِمٌ يَعْنِي ابْنَ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي عُبَيْدٍ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ، قَالَ: كَانَ عَلِيٌّ قَدْ تَخَلَّفَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فِي خَيْبَرَ وَكَانَ رَمِدًا، فَقَالَ: أَنَا أَتَخَلَّفُ عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَخَرَجَ عَلِيٌّ فَلَحِقَ بِالنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا كَانَ مَسَاءُ اللَّيْلَةِ الَّتِي فَتَحَهَا اللهُ فِي صَبَاحِهَا. قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَأُعْطِيَنَّ الرَّايَةَ، أَوْ لَيَأْخُذَنَّ بِالرَّايَةِ غَدًا رَجُلٌ يُحِبُّهُ اللهُ وَرَسُولُهُ، أَوْ قَالَ يُحِبُّ اللهَ وَرَسُولَهُ، يَفْتَحُ اللهُ عَلَيْهِ» فَإِذَا نَحْنُ بِعَلِيٍّ، وَمَا نَرْجُوهُ. فَقَالُوا: هَذَا عَلِيٌّ، فَأَعْطَاهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الرَّايَةَ. فَفَتَحَ اللهُ عَلَيْهِ.
English

Salama bin Akwa' رضی اللہ عنہ reported:

It was 'Ali رضی اللہ عنہ whom Allah's Apostle ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) left behind him (in the charge of his family and the Islamic State) on the occasion of the campaign of Khaibar, and his eyes were inflamed and he said: Is it for me to remain behind Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌)? So he went forth and rejoined Allah's Apostle ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) and on the evening of that night (after which) next morning Allah granted victory. Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌) said: I will certainly give this standard to a man whom Allah and His Messenger love. or he said: Who loves Allah or His Messenger and Allah will grant him victory through him, and, lo, we saw 'Ali رضی اللہ عنہ whom we least expected (to be present on that occasion). They (the Companions) said: Here is 'Ali رضی اللہ عنہ . Thereupon Allah's Messenger (ﷺ) gave him the standard. Allah granted victory at his hand.

Urdu

ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، ان سے حاتم، یعنی ابن اسماعیل نے، ہم سے یزید بن ابی عبید کی سند سے بیان کیا, حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، کہا

غزوہ خیبر میں حضرت علی رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پیچھے رہ گئے ، انھیں آشوب چشم تھا ۔ پھر انھوں نے کہا : میں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پیچھے رہ گیا!چنانچہ حضرت علی رضی اللہ عنہ ( وہاں سے ) نکلے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے آملے ، جب اس رات کی شام آئی جس کی صبح کو اللہ تعالیٰ نے خیبر فتح کرایا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " کل میں جھنڈا اس کودوں گایا ( فرمایا : ) کل جھنڈا وہ شخص لے گا جس سے اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو محبت ہے یا فرمایا : جواللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کرتاہے ، اللہ تعالیٰ اس کے ہاتھ پر فتح دے گا ۔ " پھر اچانک ہم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو دیکھا اور ہمیں اس کے بارے میں کوئی توقع نہیں تھی تو صحابہ رضوان للہ عنھم اجمعین نے کہا : یہ حضرت علی رضی اللہ عنہ ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو جھنڈا عطا کردیا اور اللہ نے ان کے ہاتھ پرفتح عطا کردی ۔

Hadith 6225
sahih
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَشُجَاعُ بْنُ مَخْلَدٍ، جَمِيعًا عَنِ ابْنِ عُلَيَّةَ، قَالَ زُهَيْرٌ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنِي أَبُو حَيَّانَ، حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ حَيَّانَ، قَالَ: انْطَلَقْتُ أَنَا وَحُصَيْنُ بْنُ سَبْرَةَ، وَعُمَرُ بْنُ مُسْلِمٍ، إِلَى زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ، فَلَمَّا جَلَسْنَا إِلَيْهِ قَالَ لَهُ حُصَيْنٌ: لَقَدْ لَقِيتَ يَا زَيْدُ خَيْرًا كَثِيرًا، رَأَيْتَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَسَمِعْتَ حَدِيثَهُ، وَغَزَوْتَ مَعَهُ، وَصَلَّيْتَ خَلْفَهُ لَقَدْ لَقِيتَ، يَا زَيْدُ خَيْرًا كَثِيرًا، حَدِّثْنَا يَا زَيْدُ مَا سَمِعْتَ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: يَا ابْنَ أَخِي وَاللهِ لَقَدْ كَبِرَتْ سِنِّي، وَقَدُمَ عَهْدِي، وَنَسِيتُ بَعْضَ الَّذِي كُنْتُ أَعِي مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَمَا حَدَّثْتُكُمْ فَاقْبَلُوا، وَمَا لَا، فَلَا تُكَلِّفُونِيهِ، ثُمَّ قَالَ: قَامَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا فِينَا خَطِيبًا، بِمَاءٍ يُدْعَى خُمًّا بَيْنَ مَكَّةَ وَالْمَدِينَةِ فَحَمِدَ اللهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ، وَوَعَظَ وَذَكَّرَ، ثُمَّ قَالَ: أَمَّا بَعْدُ، أَلَا أَيُّهَا النَّاسُ فَإِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ يُوشِكُ أَنْ يَأْتِيَ رَسُولُ رَبِّي فَأُجِيبَ، وَأَنَا تَارِكٌ فِيكُمْ ثَقَلَيْنِ: أَوَّلُهُمَا كِتَابُ اللهِ فِيهِ الْهُدَى وَالنُّورُ فَخُذُوا بِكِتَابِ اللهِ، وَاسْتَمْسِكُوا بِهِ فَحَثَّ عَلَى كِتَابِ اللهِ وَرَغَّبَ فِيهِ، ثُمَّ قَالَ: «وَأَهْلُ بَيْتِي أُذَكِّرُكُمُ اللهَ فِي أَهْلِ بَيْتِي، أُذَكِّرُكُمُ اللهَ فِي أَهْلِ بَيْتِي، أُذَكِّرُكُمُ اللهَ فِي أَهْلِ بَيْتِي» فَقَالَ لَهُ حُصَيْنٌ: وَمَنْ أَهْلُ بَيْتِهِ؟ يَا زَيْدُ أَلَيْسَ نِسَاؤُهُ مِنْ أَهْلِ بَيْتِهِ؟ قَالَ: نِسَاؤُهُ مِنْ أَهْلِ بَيْتِهِ، وَلَكِنْ أَهْلُ بَيْتِهِ مَنْ حُرِمَ الصَّدَقَةَ بَعْدَهُ، قَالَ: وَمَنْ هُمْ؟ قَالَ: هُمْ آلُ عَلِيٍّ وَآلُ عَقِيلٍ، وَآلُ جَعْفَرٍ، وَآلُ عَبَّاسٍ قَالَ: كُلُّ هَؤُلَاءِ حُرِمَ الصَّدَقَةَ؟ قَالَ: نَعَمْ
English

Yazid b. Hayyan reported, I went along with Husain b. Sabra and 'Umar b. Muslim to Zaid b. Arqam and, as we sat by his side, Husain said to him: Zaid. you have been able to acquire a great virtue that you saw Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) listened to his talk, fought by his side in (different) battles, offered prayer behind me. Zaid, you have in fact earned a great virtue. Zaid, narrate to us what you heard from Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ). He said: I have grown old and have almost spent my age and I have forgotten some of the things which I remembered in connection with Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ), so accept whatever I narrate to you, and which I do not narrate do not compel me to do that. He then said: One day Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) stood up to deliver sermon at a watering place known as Khumm situated between Mecca and Medina. He praised Allah, extolled Him and delivered the sermon and. exhorted (us) and said: Now to our purpose. O people, I am a human being. I am about to receive a messenger (the angel of death) from my Lord and I, in response to Allah's call, (would bid good-bye to you), but I am leaving among you two weighty things: the one being the Book of Allah in which there is right guidance and light, so hold fast to the Book of Allah and adhere to it. He exhorted (us) (to hold fast) to the Book of Allah and then said: The second are the members of my household I remind you (of your duties) to the members of my family. He (Husain) said to Zaid: Who are the members of his household? Aren't his wives the members of his family? Thereupon he said: His wives are the members of his family (but here) the members of his family are those for whom acceptance of Zakat is forbidden. And he said: Who are they? Thereupon he said: 'Ali and the offspring of 'Ali, 'Aqil and the offspring of 'Aqil and the offspring of Ja'far and the offspring of 'Abbas. Husain said: These are those for whom the acceptance of Zakat is forbidden. Zaid said: Yes.

Urdu

زہیر بن حرب اور شجاع بن مخلد نے اسماعیل بن ابراہیم ( ابن علیہ ) سے روایت کی ، انھوں نے کہا : مجھے ابوحیان نے حدیث بیان کی ، کہا : یزید بن حیان نے مجھ سے بیان کیا کہ میں ، حصین بن سبرہ اور عمر بن مسلم ( تینوں ) حضرت زید بن ارقم کے پاس گئے ۔ جب ہم ان کے قریب بیٹھ گئے تو حصین نے ان سے کہا : زید!آ پ کو خیر کثیرحاصل ہوئی ، آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت کی ، ان کی بات سنی ، ان کے ساتھ مل کر جہاد کیا اور ان کی اقتداء میں نمازیں پڑھیں ۔ زید!آپ کوخیر کثیرحاصل ہوئی ۔ زید!ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہوئی ( کوئی ) حدیث سنایئے ۔ ( حضرت زید رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ) کہا : بھتیجے!میری عمر زیادہ ہوگی ، زمانہ بیت گیا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی جو احادیث یاد تھیں ان میں سے کچھ بھول چکا ہوں ، اب جو میں بیان کروں اسے قبول کرو ۔ اور جو ( بیان ) نہ کرسکوں تو اس کا مجھےمکلف نہ ٹھہراؤ ۔ پھر کہا : کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک دن مکہ اور مدینہ کے درمیان واقع مقام ”خم“کے پانی کے مقام پر خطبہ سنانے کو کھڑے ہوئے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ کی حمد کی اور اس کی تعریف کو بیان کیا اور وعظ و نصیحت کی ۔ پھر فرمایا کہ اس کے بعد اے لوگو! میں آدمی ہوں ، قریب ہے کہ میرے رب کا بھیجا ہوا ( موت کا فرشتہ ) پیغام اجل لائے اور میں قبول کر لوں ۔ میں تم میں دو بڑی چیزیں چھوڑے جاتا ہوں ۔ پہلے تو اللہ کی کتاب ہے اور اس میں ہدایت ہے اور نور ہے ۔ تو اللہ کی کتاب کو تھامے رہو اور اس کو مضبوط پکڑے رہو ۔ غرض کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ کی کتاب کی طرف رغبت دلائی ۔ پھر فرمایا کہ دوسری چیز میرے اہل بیت ہیں ۔ میں تمہیں اپنے اہل بیت کے بارے میں اللہ تعالیٰ یاد دلاتا ہوں ، تین بار فرمایا ۔ اور حصین نے کہا کہ اے زید! آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اہل بیت کون سے ہیں ، کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات اہل بیت نہیں ہیں؟ سیدنا زید رضی اللہ عنہ نے کہا کہ ازواج مطہرات بھی اہل بیت میں داخل ہیں لیکن اہل بیت وہ ہیں جن پر زکوٰۃ حرام ہے ۔ حصین نے کہا کہ وہ کون لوگ ہیں؟ سیدنا زید رضی اللہ عنہ نے کہا کہ وہ علی ، عقیل ، جعفر اور عباس کی اولاد ہیں ۔ حصین نے کہا کہ ان سب پر صدقہ حرام ہے؟ سیدنا زید رضی اللہ عنہ نے کہا کہ ہاں ۔

Hadith 6226
Sahih
وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكَّارِ بْنِ الرَّيَّانِ، حَدَّثَنَا حَسَّانُ يَعْنِي ابْنَ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ مَسْرُوقٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ حَيَّانَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِنَحْوِهِ، بِمَعْنَى حَدِيثِ زُهَيْرٍ.
English

This hadith has been narrated on the authority of Zaid bin Arqam رضی اللہ عنہ through another chain of transmitters.

Urdu

ہم سے محمد بن بکر بن الریان نے بیان کیا، کہا ہم سے حسن نے بیان کیا، یعنی ابن ابراہیم نے, سعید بن مسروق نے یزید بن حیان سے ، انھوں نے زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے ، انھوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ، نیز ( سعید بن مسروق نے ) ان ( ابوحیان ) کی حدیث کے مانند زہیر کی حدیث کے ہم معنی روایت کی ۔

Hadith 6227
Sahih
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، ح وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ، كِلَاهُمَا، عَنْ أَبِي حَيَّانَ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ، نَحْوَ حَدِيثِ إِسْمَاعِيلَ، وَزَادَ فِي حَدِيثِ جَرِيرٍ «كِتَابُ اللهِ فِيهِ الْهُدَى وَالنُّورُ، مَنِ اسْتَمْسَكَ بِهِ، وَأَخَذَ بِهِ، كَانَ عَلَى الْهُدَى، وَمَنْ أَخْطَأَهُ، ضَلَّ».
English

This hadith has been transmitted on the authority of Abu Hayyan but with this addition:

The Book of Allah contains right guidance, the light, and whoever adheres to it and holds it fast, he is upon right guidance and whosoever deviates from it goes astray.

Urdu

ابو بکر بن ابی شیبہ نے کہا : ہمیں محمد بن فضیل نے حدیث بیان کی ، اسحاق بن ابراہیم نے کہا : ہمیں جریر نے خبر دی ، ان دونوں ( محمد بن فضیل اورجریر ) نے ابوحیان سے اسی سند کےساتھ اسماعیل کی حدیث کے مانند بیان کیا اور ( اسحاق بن ابراہیم نے ) جریر کی روایت میں مزید یہ بیان کیا

" اللہ کی کتاب جس میں ہدایت اورنور ہے ، جس نے اس کو مضبوطی سےتھام لیا اور اسے لےلیا وہ ہدایت پر ہوگا اور جو اس سے ہٹ گیا وہ گمراہ ہوجائے گا ۔ "

Hadith 6228
Sahih
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكَّارِ بْنِ الرَّيَّانِ، حَدَّثَنَا حَسَّانُ يَعْنِي ابْنَ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ سَعِيدٍ وَهُوَ ابْنُ مَسْرُوقٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ حَيَّانَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ، قَالَ: دَخَلْنَا عَلَيْهِ فَقُلْنَا لَهُ: لَقَدْ رَأَيْتَ خَيْرًا، لَقَدْ صَاحَبْتَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَصَلَّيْتَ خَلْفَهُ، وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِنَحْوِ حَدِيثِ أَبِي حَيَّانَ، غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ: أَلَا وَإِنِّي تَارِكٌ فِيكُمْ ثَقَلَيْنِ: أَحَدُهُمَا كِتَابُ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ، هُوَ حَبْلُ اللهِ، مَنِ اتَّبَعَهُ كَانَ عَلَى الْهُدَى، وَمَنْ تَرَكَهُ كَانَ عَلَى ضَلَالَةٍ وَفِيهِ فَقُلْنَا: مَنْ أَهْلُ بَيْتِهِ؟ نِسَاؤُهُ؟ قَالَ: لَا، وَايْمُ اللهِ إِنَّ الْمَرْأَةَ تَكُونُ مَعَ الرَّجُلِ الْعَصْرَ مِنَ الدَّهْرِ، ثُمَّ يُطَلِّقُهَا فَتَرْجِعُ إِلَى أَبِيهَا وَقَوْمِهَا أَهْلُ بَيْتِهِ أَصْلُهُ، وَعَصَبَتُهُ الَّذِينَ حُرِمُوا الصَّدَقَةَ بَعْدَهُ
English

Yazid bin Hayyan reported:

We went to him (Zaid bin Arqam رضی اللہ عنہ) and said to him. You have found goodness (for you had the honour) to live in the company of Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌) and offered prayer behind him, and the rest of the hadith is the same but with this variation of wording that lie said: Behold, for I am leaving amongst you two weighty things, one of which is the Book of Allah, the Exalted and Glorious, and that is the rope of Allah. He who holds it fast would be on right guidance and he who abandons it would be in error, and in this (hadith) these words are also found: We said: Who are amongst the members of the household? Aren't the wives (of the Holy Prophet) included amongst the members of his house hold? Thereupon he said: No, by Allah, a woman lives with a man (as his wife) for a certain period; he then divorces her and she goes back to her parents and to her people; the members of his household include his ownself and his kith and kin (who are related to him by blood) and for him the acceptance of Zakat is prohibited.

Urdu

ہم سے محمد بن بکر بن الریان نے بیان کیا، کہا ہم سے حسن نے بیان کیا، یعنی ابن ابراہیم نے, سعید بن مسروق نے یزید بن حیان سے ، انھوں نے زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا

ہم ان ( زید بن ارقم رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) کے پاس آئے اور اُن سے عرض کی : آپ نے بہت خیر دیکھی ہے ۔ آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے نمازیں پڑھیں ہیں ، اور پھر ابو حیان کی حدیث کی طرح حدیث بیان کی ، مگرانھوں نے ( اس طرح ) کہا : ( رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ) " دیکھو ، میں تمھارے درمیان دو عظیم چیزیں چھوڑے جارہا ہوں ۔ ایک اللہ کی کتاب ہے وہ اللہ کی رسی ہے جس نے ( اسے تھام کر ) اس کا اتباع کیا وہ سیدھی راہ پر رہے گا اور جو اسے چھوڑ دے گا وہ گمراہی پر ہوگا ۔ " اور اس میں یہ بھی ہے کہ ہم نے ان سے پوچھا : آپ کے اہل بیت کون ہیں؟ ( صرف ) آپ کی ازواج؟انھوں نے کہا : نہیں ، اللہ کی قسم!عورت اپنے مرد کے ساتھ زمانے کا بڑا حصہ رہتی ہے ، پھر وہ اسے طلاق دے دیتا ہے تو وہ اپنے باپ اور اپنی قوم کی طرف واپس چلی جاتی ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد آپ کے اہل بیت وہ ( بھی ) ہیں جو آپ کے خاندان سے ہیں ، آپ کے وہ ددھیال رشتہ دار جن پر صدقہ حرام ہے ۔