The Book of Mosques and Places of Prayer
كتاب الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاة
Chapter 5
Warrad, the scribe of Mughira bin Shu'ba رضی اللہ عنہ , reported:
Mu'awiya رضی اللہ عنہ wrote to Mughira رضی اللہ عنہ (the contents) of the hadith as transmitted by Mansur and A'mash.
ہم سے حمید بن عمر البکراوی نے بیان کیا، ان سے بشر یعنی ابن المفضل نے بیان کیا، انہوں نے کہا: ہم سے محمد بن المثنیٰ نے بیان کیا، مجھ سے ازہر نے بیان کیا، یہ سب ابن عون کی روایت سے ہیں۔ ابو سعید کی سند سے، المغیرہ بن شعبہ کے مصنف نے کہا
معاویہ نے المغیرہ کو منصور اور الاعمش جیسی حدیث لکھی۔
Warrad, the scribe of Mughira bin Shu'ba رضی اللہ عنہ , reported Mu'awiya رضی اللہ عنہ wrote to Mughira رضی اللہ عنہ : :
Write to me anything which you heard from the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ). So he (Mughira) wrote to him (Mu'awiya): I heard the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) uttering (these words) at the completion of prayer: There is no god but Allah. He is alone and there is no partner with Him. Sovereignty belongs to Him and to Him is praise due and He is Potent over everything. O Allah! no one can withhold what Thou givest, or give what Thou withholdest, and riches cannot avail a wealthy person with Thee.
ہم سے ابن ابی عمر المکی نے بیان کیا, سفیان نے کہا : ہمیں عبدہ بن ابی لبابہ اور عبدالملک بن عمیر نے حدیث سنائی ، انھوں نے مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کے کاتب ورّاد سے سنا ، وہ کہتے تھے : حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے مغیرہ رضی اللہ عنہ کو خط لکھا کہ
مجھے کوئی ایسی چیز لکھ بھیجیں جو آپ نے رسول اللہ ﷺ سے سنی ہو ، تو انھوں نے لکھ بھیجا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ، جب آپ نماز ختم کر لیتے تو فرماتے : لاإله إلا الله وحده لاشريك له ، له مالملك ولاه الحمد ، وهو علي كل شيء قدير ، اللهم لا مانع لما أعطيت ولا معطي لما منعت ولا ينفع ذالجد منك الجد ’’ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ، وہ اکیلا اور یکتا ہے ، اس کا کوئی شریک نہیں ، حکومت اور فرمانروائی اسی کی ہے ، وہی شکرو ستائش کا حقدار ہے اور وہی ہر چیز پر قدرت رکھنے والا ہے ۔ اے اللہ ! جو کچھ تو کسی کو دینا چاہے اسے کوئی روک سکنے والا نہیں اور تیرے سامنے کسی شان والے کو اس کی شان کوئی فائدہ نہیں دے سکتی ۔ ‘ ‘
Abu Zubair reported:
Ibn Zubair رضی اللہ عنہما uttered at the end of every prayer after pronouncing salutation (these words): There is no god but Allah. He is alone. There is no partner with Him. Sovereignty belongs to Him and He is Potent over everything. There is no might or power except with Allah. There is no god but Allah and we do not worship but Him alone. To Him belong all bounties, to Him belongs all Grace, and to Him is worthy praise accorded. There is no god but Allah, to Whom we are sincere in devotion, even though the unbelievers should disapprove it. (The narrator said): He (the Holy Prophet ﷺ) uttered it at the end of every (obligatory) prayer.
محمد کے والد عبداللہ بن نمیر نے کہا : ہمیں ہشام نے ابو زبیر سے حدیث سنائی ، کہا
( عبداللہ ) زبیر رضی اللہ عنہما سلام پھیر کر ہر نماز کے بعد یہ کلمات کہتے تھے : ’’ ایک اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ، اس کا کوئی شریک نہیں ، حکومت اور فرمانروائی اسی کی ہے اور وہی شکر و ستائش کا حقدار ہے اور وہی ہر چیز پر قادر ہے ۔ گناہوں سے بچنے کی توفیق اور نیکی کرنے کی قوت اللہ ہی سے ( ملتی ) ہے ، اس کے سوا کوئی الہ و معبود نہیں ۔ ہم اس کےسوا کسی کی بندگی نہیں کرتے ، ہر طرح کی نعمت اور سارا فضل و کرم اسی کا ہے ، خوبصورت تعریف کا سزا وار بھی وہی ہے ، اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ، ہم اس کے لیے دین میں اخلاص رکھنے والے ہیں ، چاہے کافر اس کو ( کتنا ہی ) نا پسند کریں ۔ ‘ ‘ اور کہا کہ رسو ل اللہ ﷺ ہر نماز کے بعد بلند آواز سے لا الہ الا اللہ والے یہ کلمات کہا کرتے تھے ۔
Abu Zubair reported:
Abdullah bin Zubair رضی اللہ عنہ used to say La ilaha il-Allah at the end of every prayer like the hadith narrated by Ibn Numair and he reported it in the end, and then reported Ibn Zubair saying: The Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) uttered La ilaha il-Allah at the end of every prayer.
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا, عبدہ بن سلیمان نے ہشام بن عروہ سے اور انھوں نے اپنے خاندان کے مولیٰ ابو زبیر سے روایت کی کہ
حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ ہر نماز کے بعد بلند آواز سے پڑھتے تھے ( آگے ) ابن نمیر کی روایت کے مانند ہے اور انھوں نے اپنی حدیث کے آخر میں کہا : پھر ابن زبیر کہتےکہ رسول اللہ ﷺہر نماز کے بعد ان ( کلمات ) کو بلند آواز سے کہتے تھے ۔
Abu Zubair reported:
I heard Abdullah bin Zubair رضی اللہ عنہ addressing (people) on the pulpit and saying: When the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) pronounced salutation at the end of the prayer or prayers, and then he made a mention of the hadith as transmitted by Hisham bin 'Urwa.
مجھ سے یعقوب بن ابراہیم الدورقی نے بیان کیا، کہا ہم سے ابن اوعلیہ نے بیان کیا, (ہشام کے بجائے ) حجاج بن ابی عثمان نے مجھے حدیث بیان کی ، کہا : مجھ سے ابو زبیر نے حدیث بیان کی کہا
میں نے عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ سے سنا ، وہ اس منبر پر خطبہ دے رہے تھے اور کہہ رہے تھے کہ رسول اللہ ﷺ نماز یا نمازوں کے آخر میں سلام پھیرنے کے بعد کہا کرتے تھے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ( آگے ) ہشام بن عروہ کی حدیث کی طرح بیان کیا ۔
Abu Zubair al-Makki reported:
He had heard 'Abdullah bin Zubair رضی اللہ عنہ uttering (the words) like that of the hadith (narrated above) at the end of the prayer after pronouncing salutation. He at the conclusion also said that he was making a mention of that from the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ).
مجھ سے محمد بن سلمہ المرادی نے بیان کیا، کہا ہم سے عبداللہ بن وہب نے بیان کیا، وہ یحییٰ بن عبداللہ بن سالم کی سند سے,موسیٰ بن عقبہ سے روایت ہے کہ ابو زبیر مکی نے انھیں حدیث سنائی کہ
انھوں نے عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ سے سنا ، جب وہ نماز کے بعد سلام پھیرتے تو کہتے ۔ ۔ ۔ ( بقیہ روایت ) ان دونوں ( ہشام اور حجاج ) کی ( مذکورہ بالا ) روایت کے مانند ہے ، اور آخر میں کہا : وہ اسے رسو ل اللہ ﷺ سے بیان کیا کرتے تھے.
Abu Huraira رضی اللہ عنہ reported:
The poor amongst the emigrants came to the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) and said: The possessors of great wealth have obtained the highest ranks and the lasting bliss. He (the Holy Prophet ﷺ) said: How is that? They said: They pray as we pray, and they observe fast as we observe fast, and they give charity but we do not give charity, and they set slaves free but we do not set slaves free. Upon this the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) said: Shall I not teach you something by which you will catch upon those who have preceded you, and get ahead of those who come after you, only those who do as you do being more excellent than you? They said: Yes, Messenger of Allah. He (the Holy Prophet ﷺ) said: Extol Allah, declare His Greatness, and Praise Him thirty-three times after every prayer. Abu Salih said: The poor amongst the emigrants returned to the Messenger of Allah (may peace upon him) saying: Our brethren, the possessors, of property have heard what we have done and they did the same. So the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) said: This is Allah's Grace which He gives to whom He wishes. Sumayy reported: I made a mention of this hadith to some members of my family (and one of them) said: You have forgotten; he (the Holy Prophet) had said (like this): Extol Allah thirty-three time, praise Allah thirty-three times and declare His Greatness thirty-three times. Ibn `Ajlan said: I made a mention of this hadith to Raja' bin Haiwa and he narrated to me a hadith like this from Abu Salih from the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) on the authority of Abu Huraira رضی اللہ عنہ .
عاصم بن نضر تیمی نے کہا : ہمین معتمر نے حدیث سنائی ، کہا : ہمین عبیداللہ نے حدیث سنائی نیز ( ایک اور سند سے ) قتیبہ بن سعید نے کہا : ہمیں لیث نے ابن عجلان سے حدیث سنائی ، ان دونوں ( عبیداللہ اور ابن عجلان ) نے سًمَیّ سے ، انھوں نے ابو صالح سے اور انھوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ۔ ۔ یہ قتیبہ کی روایت کردہ حدیث ہے ۔ کہ
کچھ تنگدست مہاجر رسو ل اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور گزارش کی : بلند درجے اور دائمی نعمت تو زیادہ مال والے لوگ لے گئے ! آپ نے پوچھا : ’’ وہ کیسے ؟ ‘ ‘ انھوں نے کہا : وہ اسی طرح نمازیں پڑھتے ہیں جس طرح ہم پڑھتے ہیں ، وہ اسی طرح روزے رکھتے ہیں جیسے ہم رکھتے ہیں اور وہ صدقہ کرتے ہیں جبکہ ہم صدقہ نہیں کر سکتے ، وہ ( بندھے ہوؤں اور غلاموں کو ) آزاد کرتے ہیں جبکہ ہم آزاد نہیں کر سکتے تو رسو ل اللہ ﷺ نے فرمایا ’’تو کیا پھر میں تمھیں اسی چیز نہ سکھاؤں جس سے تم ان لوگوں کو پالو گے جو تم سے سبقت لے گے ہیں اور اس کے ذریعے سے ان سے بھی سبقت لے جاؤ گے جو تم سے بعد ( آنے والے ) ہیں ؟ اور تم سے وہی افضل ہو گا جو تمھاری طرح عمل کرے گا ۔ ‘ ‘ انھوں نے کہا : کیوں نہیں اے اللہ کے رسول ! ( ضرور بتائیں ۔ ) آپ نے فرمایا : ’’تم ہر نماز کے بعد تینتیس مرتبہ تسبیح : تکبیر اور تحمید ( سبحان اللہ : اللہ اکبر ، اور الحمد اللہ ) کا ورد کیا کرو ‘ ‘ ابو صالح نےکہا : فقرائے مہاجرین دوبارہ رسو ل اللہ ﷺ کے پاس حاضر ہوئے اور کہنے لگے : ہمارے مالدار بھائیوں نے بھی جو ہم کرتے ہیں اس کے بارے میں سن لیا ہے اور اسی طرح عمل کرنا شروع کر دیا ہے ( وہ بھی تسبیح ، تکبیر اور تحمید کرنے لگے ہیں ۔ ) تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’ یہ اللہ کا فضل ہے جسے چاہے عنایت فرمادے ۔ ‘ ‘ قتیبہ کے علاوہ لیث سے ابن عجلان کے حوالے سے دیگر روایت کرنے والوں نے یہ اضافہ کیا کہ سمی نے کہا : میں نے یہ حدیث اپنے گھر کے ایک فرد کو سنائی تو انھوں نے کہا : تمھیں وہم ہوا ہے ، انھوں ( ابو صالح ) نے تو کہا تھا : ’’تینتیس مرتبہ سبحان اللہ کہو ، تینتیس بار الحمد اللہ کہو اور تینتیس بار اللہ اکبر کہو ۔ ‘ ‘ میں دوبارہ ابو صالح کی خدمت میں حاضر ہوا اور انھیں یہ بتا یا تو انھوں نے میرا ہاتھ پکڑ کر کہا : اللہ اکبر ، سبحان اللہ اور الحمد اللہ ، اللہ اکبر ، سبحان اللہ اور الحمد اللہ ( اس طرح کہو ) کہ سب کی تعداد تینتیس ہو جائے ۔ ابن عجلان نے کہا : میں نے یہ حدیث رجاء بن حیوہ کو سنائی تو انھوں نے مجھے ابو صالح کے واسطے سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے ، انھوں نے رسول اللہ ﷺ سے ( روایت کرتے ہوئے ) اسی کی مانند حدیث سنائی ۔
Abu Huraira رضی اللہ عنہ narrated it from the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) that :
They (the poor among the emigrants) said Messenger of Allah, the possessors of great wealth have obtained the highest ranks and lasting bliss, and the rest of the hadith is the same as transmitted by Qutaiba on the authority of Laith except that he inserted the words of Abu Salih in the narration of Abu Huraira رضی اللہ عنہ that the poor of the emigrants came back, to the end of the hadith,, but this addition was made that Suhail said (that every part of the supplication, i. e. Glorification of Allah, His Praise and declaration of His Greatness) should be uttered eleven times making the total as thirty-three.
امیہ بسطام عیشی نے مجھے حدیث سنائی ، کہا : ہمیں یزید بن زریع نےحدیث سنائی ، کہا ہمیں روح نے سہیل سے حدیث سنائی انھون نے اپنے والد ( ابو صالح سے ) سے ، انھوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے اور انھوں نے رسو اللہ ﷺ سے روایت کی کہ
لوگوں نے کہا : اے اللہ کے رسول ! بلند مراتب اور دائمی نعمتیں تو زیادہ مال والے لوگ لے گئے ۔ ۔ ۔ جس طرح لیث سےقتیبہ کی بیان کی ہوئی حدیث ہے ، مگر انھوں نے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث میں ابو صالح کا یہ قول داخل کر دیا ہے کہ پھر فقراء مہاجرین لوٹ کر آئے ، حدیث کے آخر تک ۔ اور حدیث میں اس بات کا اضافہ کیا : سہیل کہتے تھے : ( ہر کلمہ ) گیارہ گیارہ دفعہ اور یہ سب ملا کر تینتیس بار ۔ ( یہ سہیل کا اپنا فہم تھا ۔ )
Ka'b bin 'Ujra رضی اللہ عنہ reported:
Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) as saying: There are certain ejaculations, the repeaters of which or the performers of which after every prescribed prayer will never be caused disappointment: Glory be to Allah thirty-three times. Praise be to Allah thirty-three times, and Allah is most Great thirty-four times.
ہم سے حسن بن عیسیٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے ابن مبارک نے بیان کیا، انہوں نے بیان کیا, مالک بن مغول نے ہمیں خبر دی ، کہا : میں نے حکم بن عتیبہ سے سنا ، وہ عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ سے حدیث بیان کررہے تھے ، انھوں نے حضرت کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ سے اور انھوں نے رسو ل اللہ سے روایت کی
آپ نے فرمایا : ’’ ( نماز کے یا ) ایک دوسرے کے پیچھے کہے جانے والے ایسے کلمات ہیں کہ ہرفرض نماز کے بعد انھیں کہنے والا ۔ ۔ یا ان کو ادا کرنے والا ۔ کبھی نامراد و ناکام نہیں رہتا ، تینتیس بار سبحان اللہ ، تینتیس بار الحمد اللہ اورچونتیس با ر اللہ اکبر ۔ ‘ ‘
Ka'b bin 'Ujra رضی اللہ عنہ reported:
Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) as saying: There are certain ejaculations, the repeaters of which or the performers of which at the end of every prayer will never be caused disappointment: Glory be to Allah thirty-three times, Praise be to Allah thirty-three times, and Allah is most Great thirty-four times.
ہم سے نصر بن علی الجہضمی نے بیان کیا، کہا ہم سے ابو احمد نے بیان کیا, حمزہ زیات نے ہمیں حکم سے حدیث بیان کی ، انھوں نے عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ سے ، انھوں نے حضرت کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ سے اور انھوں نے رسو ل اللہ ﷺسے روایت کی
آپ نے فرمایا : ’’ ایک دوسرے کےبعد کہے جانے والے ( کچھ ) کلمات ہیں ، ان کو کہنے والا ۔ یا ادا کرنے والا ۔ نا کام یا نامراد نہیں رہتا ۔ ہر ( فرض ) نماز کے بعد تینتیس دفعہ سبحان اللہ ، تینتیس مرتبہ الحمد اللہ اور چونتیس بار اللہ اکبر کہنا ۔ ‘ ‘
A similar report (no. 1350) was narrated from Al-Hakam with this chain.
مجھ سے محمد بن حاتم نے بیان کیا، کہا ہم سے اصبط بن محمد نے بیان کیا,عمرو بن قیس ملائی نے حکم سے اسی سند کے ساتھ اسی کی مانند حدیث بیان کی ۔
Abu Huraira رضی اللہ عنہ reported:
Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) as saying: If anyone extols Allah after every prayer thirty-three times, and praises Allah thirty-three times, and declares His Greatness thirty-three times, ninety-nine times in all, and says to complete a hundred: There is no god but Allah, having no partner with Him, to Him belongs sovereignty and to Him is praise due, and He is Potent over everything, his sins will be forgiven even If these are as abundant as the foam of the sea.
خالد بن عبداللہ نے ہمیں سہیل سے خبر دی ، انھوں نے ابو عبید مذحجی سے روایت کی ۔ امام مسلم رحمۃ اللہ نے کہا : ابو عبید سلیمان بن عبدالملک کے مولیٰ تھے ۔ انھوں نے عطاء بن یزید لیثی سے ، انھوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے اور انھوں نے رسو ل اللہ ﷺ سے روایت کی
رسو ل اللہ ﷺنے فرمایا: ’’جس نے ہر نماز کے بعد تینتیس مرتبہ سبحان اللہ تینتیس دفعہ الحمد اللہ اور تینتیس بار اللہ اکبر کہا ، یہ ننانوے ہو گے اور سو پورا کرنے کے لیے لا الہ الا اللہ وحد ہ لا شریک لہ ، لہ الملک ولاہ الحمد ، وہو علی کل شیء قدیر ‘ ‘ کیا اس کے گناہ معاف کر دیے جائیں گے ، چاہے وہ سمندر کے جھاگ کے برابر ہوں ۔ ‘ ‘
It was narrated that Abu Huraira رضی اللہ عنہ said:
"The Messenger of Allah said..." a similar repot (as no.1353).
ہم سے محمد بن الصباح نے بیان کیا, اسماعیل بن زکریا نے سہیل سے ، انھوں نے ابو عبید سے ، انھوں نے عطاء سے اور انھوں نے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا
رسول اللہﷺ نے فرمایا ، آگے ( مذکورہ بالا روایت ) کے مانند روایت کی ۔
Abu Huraira رضی اللہ عنہ reported:
Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) used to observe, silence for a short while between the takbir (at the time of opening the prayer) and the recitation of the Qur'an. I said to him: Messenger of Allah, for whom I would give my father and mother in ransom, what do you recite during your period of silence between the takbir and the recitation? He said: I say (these words): O Allah, remove my sins from me as Thou hast removed the East from the West. O Allah purify me from sins as a white garment is purified from filth. O Allah! wash away my sins with snow, water, and ice.
مجھ سے زہیر بن حرب نے کہا, جریر نےعمارہ بن قعقاع سے ، انھوں نے ابوزرعہ سے اور انھوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انھوں نے کہا
رسو ل اللہ ﷺ جب ( آغاز ) نماز کے لیے تکبیر کہتے تو قراءات کرنے سے پہلے کچھ دیر سکوت فرماتے ، میں نےعرض کی : اے اللہ کے رسو ل ! میرے ماں باپ آپ پر قربان ! دیکھیے یہ جو تکبیر اور قراءت کے درمیان آپ کی خاموشی ہے ( اس کے دوران میں ) آپ کیا کہتے ہیں ؟ آپ نے فرمایا : ’’میں کہتا ہوں : اللہم باعدبینی وبین خطایای کما باعدت بین المشرق والمغرب اللہم نقنی من خطایای کما ینقی الثوب الابیض من الدنس ، اللم اغسلنی من خطایای بالثلج والماء والبرد’’ اے اللہ! میرے اور میرے گناہوں کے درمیان اس طرح دوری ڈال دے جس طرح تونے مشرق اور مغرب کے درمیان دوری ڈالی ہے ۔ اے اللہ ! مجھے میرے گناہوں سے اس طرح پاک صاف کر دے جس طرح سفید کپڑا میل کچیل سے صاف کیا جاتا ہے ۔ اے اللہ ! مجھے میرے گناہوں سے پاک کر دے برف کے ساتھ ، پانی کےساتھ اور اولوں کے ساتھ ۔ ‘ ‘
A hadith similar to that of Jarir (no. 1354) was narrated from Umrah bin Al-Qaba with this chain.
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ اور ابن نمیر نے بیان کیا، کہا ابن فضیل اور عبدالواحد بن یاد دونوں نے ، عمارہ بن قعقاع سے ، اسی سند کے ساتھ ، جریر کی حدیث کی طرح روایت کی.
Abu Huraira رضی اللہ عنہ reported:
When the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) stood up for the second rak'ah he opened it with the recitation of the praise of Allah, the Lord of universe (al-Fatiha), and he did not observe silence (before the recitation of al-Fatiha).
مسلم نے کہا: میں نے یحییٰ بن حسن، یونس المودب اور دوسرے لوگوں سے روایت کی، انہوں نے کہا: ہم سے عبد الواحد بن زیاد نے بیان کیا، انہوں نے کہا: مجھ سے عمارہ بن قعقا ع نے بیان کیا، ابو زرع نے ہمیں بتایا، حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ
رسول اللہ ﷺ جب دوسری رکعت سے اٹھتے تو ( الحمد اللہ رب العٰلمین ) سے قراءت کا آغاز کر دیتے ( کچھ دیر ) خاموشی اختیار نہ فرماتے ۔
Anas رضی اللہ عنہ reported:
A man came panting and entered the row of worshippers and said: Praise be to Allah, much praised and blessed. When the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) finished the prayer he said: Who amongst you uttered these words? The people remained silent. He (the Prophet again said) -: Who amongst you uttered these words? He said nothing wrong. Then a man said: I came and had a difficulty in breathing, so I uttered them. He replied: I saw twelve angels facing one another as to who will take them up (to Allah).
ہم سے زہیر بن حرب نے بیان کیا، کہا ہم سے عفان نے بیان کیا، کہا ہم سے حماد نے بیان کیا، کہا ہم سے قتادہ، ثابت اور ہم سے حمید نے بیان کیا, حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
ایک آدمی آیا اور صف میں شریک ہوا جبکہ اس کی سانس چڑھی ہوئی تھی ، اس نے کہا : الحمد اللہ حمد کثیر طیبا مبارکا فیہ ’’ تمام حمد اللہ ہی کے لیے ہے ، حمد بہت زیادہ ‘ پاک اور برکت والی حمد ۔ ‘ ‘ جب رسو ل اللہ ﷺ نےنماز پوری کرلی تو آپ نے پوچھا ’’تم میں سے یہ کلمات کہنے والا کون تھا ؟ ‘ ‘ سب لوگوں نے ہونٹ بند رکھے ۔ آپ نے دوبارہ پوچھا ’’تم میں یہ کلمات کہنے والا کون تھا؟ اس نے کوئی ممنوع بات نہیں کہی ۔ ‘ ‘ تب ایک شخص نے کہا : میں اس حالت میں آیا کہ میری سانس پھولی ہوئی تھی تو میں نے اس عالم میں یہ کلمات کہے ۔ آپ نے فرمایا : میں نے بارہ فرشتوں کو دیکھا جو ( اس میں ) ایک دوسرے سے سبقت لے جانے کی کوشش کر رہے تھے کہ کون اسے اوپر لے جاتا ہے ۔ ‘ ‘
Ibn 'Umar رضی اللہ عنہ reported:
While we said prayer with the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ), one among the people said: Allah is truly Great, praise be to Allah in abundance. Glory be to Allah in the morning and the evening. The Messenger of Allah (may peace be upon, him) said: Who uttered such and such a word? A person among the people said: It is I, Messenger of Allah (who have recited these words). He (the Holy Prophet) said: It (its utterance) surprised me, for the doors of heaven were opened for It. Ibn 'Umar رضی اللہ عنہ said: I have not abandoned them (these words) since I heard the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) saying this.
ہم سے زہیر بن حرب نے بیان کیا، کہا ہم سے اسماعیل بن الیٰ نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے حجاج بن ابی عثمان نے بیان کیا، وہ ابو الزبیر کے واسطہ سے، وہ عون بن عبداللہ بن حدث کے واسطہ سے,حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، انھون نے کہا
ایک دفعہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نماز پڑھ رہے تھے کہ لوگوں میں سے ایک آدمی نے کہا : اللہ اکبر کبیرا ، والحمد للہ کثیرا ، وسبحان اللہ بکرۃ واصیلا ’’اللہ سب سے بڑا ہے بہت بڑا ، اور تمام تعریف اللہ کے لیے ہے بہت زیادہ اور تسبیح اللہ ہی کے لیے ہے ، صبح و شام ۔ ‘ ‘ رسول اللہ ﷺ نے پوچھا : ’’فلاں فلاں کلمہ کہنے والا کون ہے ؟ لوگوں میں سے ایک آدمی نے کہا : اللہ کےرسول ! میں ہوں آپ نے فرمایا ’’مجھے ان پر بہت حیرت ہوئی ، ان کے لیے آسمان کے دروازے کھول دیے گئے ۔ ‘ ‘ ابن عمر رضی اللہ عنہ نے کہا : میں نے جب سے آپ سے یہ بات سنی ، اس کےبعد سے ان کلمات کو کبھی ترک نہیں کیا ۔
Abu Huraira رضی اللہ عنہ reported:
I heard the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) saying: When the Iqama has been pronounced for prayer, do not go running to it, but go walking in tranquillity and pray what you are in time for, and complete what you have missed.
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ، عمرو النقید اور زہیر بن حرب نے بیان کیا، انہوں نے کہا: ہم سے سفیان بن عیینہ نے زہری کی سند سے، سعید سے اور ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے۔ ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سند سے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھ سے محمد بن جعفر بن زیاد نے بیان کیا، ہم سے ابراہیم نے بیان کیا، یعنی ابن سعد نے، زہری کی سند سے، سعید کی سند سے، اور ابو سلمہ نے، ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی سند سے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے ہرملہ بن یحییٰ نے بیان کیا اور ابن وہب نے مجھ سے بیان کیا، ابن شہاب نے۔مختلف سندوں سے سعید بن مسیب اور ابو سلمہ بن عبدالرحمن نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انھوں نے کہا
میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ’’جب نمازکھڑی ہو جائے تو اس کے لیے دوڑتے ہوئے نہ آؤ ، ( بلکہ اس طرح ) چلتے ہوئے آؤ کہ تم پر سکون طاری ہو ۔ ( نماز کا ) جو حصہ پالو اسے پڑھ لو اور جو رہ جائے اسے پورا کر لو ۔ ‘ ‘
Abu Huraira رضی اللہ عنہ reported:
The Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) said: When the words of Iqama are pronounced, do not come to (prayer) running, but go with tranquillity, and pray what you are in time for, and complete (what you have missed) for when one of you is preparing for prayer he is in fact engaged in prayer.
ہم سے یحییٰ بن ایوب، قتیبہ بن سعید اور ابن حجر نے اسماعیل بن جعفر کی سند سے بیان کیا، کہا: ہم سے اسماعیل نے بیان کیا، انہوں نے اپنے والد کی سند سے بیان کیا۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’جب نماز کی تکبیر کہہ دی جائے تو تم اس کےلیے بھاگتے ہوئے مت آؤ ، اس طرح آؤ کہ تم پر سکون ہو ، ( نماز کا ) جتنا حصہ پالو ، پڑھ لو اور جو رہ جائے اسے پورا کر لو کیونکہ جب کوئی شخص نماز کا ارادہ کرکے آتا ہےتو وہ نماز ( ہی ) میں ہوتا ہے ۔ ‘ ‘