The Book of Mosques and Places of Prayer
كتاب الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاة
Chapter 5
Abu Huraira رضی اللہ عنہ reported:
The Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) said: The Fire made a complaint before the Lord saying. O Lord, some parts of mine have consumed the others. So it was allowed to take two exhalations, one exhalation in winter and the other exhalation in summer. That is why you find extreme heat (in summer) and extreme cold (in winter).
مجھ سے عمرو بن سواد اور حرملہ بن یحییٰ نے بیان کیا اور ہم سے حرملہ کا لفظ ابن وہب نے بیان کیا، مجھ سے یونس نے بیان کیا, ابن شہاب سے روایت ہے ، کہا : مجھ سے ابو سلمہ بن عبدالرحمن نے حدیث نے حدیث بیان کی کہ انھوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے ہوئے سنا
رسو ل اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’آگ نےاپنے رب کے حضور شکایت کی اور کہا : اے میرے رب ! میرا ایک حصہ دوسرے کو کھارہا ہے ۔ تو اللہ نے اسے دو سانس لینے کی اجازت عطا کردی : ایک سانس سردی میں اور ایک سانس گرمی ، گرمی اور سردی کے موسم میں جو تم شدید ترسین گرمی اور شدید ترین سردی محسوس کرتے ہو تو یہ وہی ( چیز ) ہے ۔ ‘ ‘
Abu Huraira رضی اللہ عنہ reported:
The Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) said: When it is hot, make delay (in the noon prayer) till it cools down, for the intensity of beat is from the Exhalation of Hell; and he also mentioned that Hellfire complained to the Lord (about the congested atmosphere) and so it was permitted to take two exhalations during the whole year, one exhalation during the winter and one exhalation during the summer.
مجھ سے اسحاق بن موسیٰ الانصاری نے بیان کیا، ہم سے معن نے بیان کیا، ہم سے مالک نے بیان کیا، عبداللہ بن یزید کے ایک خادم سے, اسود بن سفیان کے آزاد کردہ غلام عبداللہ بن یزید نے ابو سلمہ بن عبدالرحمن اور محمد بن عبدالرحمن بن ثوبان سے اور انھوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ
رسو ل اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’جب گرمی ہو تو نماز ٹھنڈے وقت تک مؤخر کر کے پڑھوکیونکہ گرمی کی شدت جہنم کی لپٹ سے ہوتی ہے ۔ ‘ ‘ اور آپ ﷺ نے یہ ( یہ بھی ذکر فرمایا : ) ’’جہنم کی ) آگ نے اپنے رب کےحضور شکایت کی تو اللہ نےاسے سال میں دو سانس لینے کی اجازت دی : ایک سانس سردی مین اور ایک سانس گرمی میں ۔ ‘ ‘
Abu Huraira رضی اللہ عنہ reported:
The Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) said: The Fire said to the Lord: O Lord! some parts of mine have consumed the others, so allow me to exhale (in order to find some relief from this congestion). It was granted permission to take two exhalations, one exhalation during the winter and the other exhalation during the summer So whatever you perceive in the form of intense cold or hurting cold is from the exhalation of Hell. And whatever you perceive in the form of extreme heat or intense beat is from the exhalation of Hell.
ہم سے حرملہ بن یحییٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے عبداللہ بن وہب نے بیان کیا، کہا ہم سے حیوہ نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے یزید بن عبداللہ بن اسامہ بن الحاد نے بیان کیا،محمد بن ابراہیم نےابو سلمہ سے ، انھوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے اور انھوں نے رسول اللہ ﷺسے روایت کی
آپ نے فرمایا : ’’آگ نے عرض کی : اے میرے رب ! میرا ایک حصہ دوسرے کو کھا رہا ہے ، مجھے سانس لینے کی اجازت مرحمت فرما ۔ تو ( اللہ نے ) اسے دو سانس لینے کی اجازت دی : ایک سانس سردی میں اور ایک سانس گرمی میں ۔ تم جو سردی یا ٹھنڈک کی شدت پاتے ہو ، وہ جہنم کی سانس سے ہے اور جو تم حرارت یا گرمی کی شدت پاتے ہو تو وہ ( بھی ) جہنم کی سانس سے ہے ۔ ‘ ‘
Jabir bin Samura رضی اللہ عنہ reported:
The Apostle of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) used to offer the noon prayer when the sun declined.
ہم سے محمد بن المثنی اور محمد بن بشار نے بیان کیا، دونوں نے یحییٰ القطان اور ابن مہدی نے کہا: مجھ سے یحییٰ بن سعید نے شعبہ کی سند سے بیان کیا، انہوں نے کہا: سماک بن حرب نے ہم سے کہا, حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
نبی اکرم ﷺ ظہر کی نماز اس وقت پڑھتے تھے جب سورج ڈھلتا تھا.
Khabbab رضی اللہ عنہ reported:
We complained to the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) (the difficulty of) saying prayer on the intensely heated (ground or sand), but he paid no heed to our complaint.
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا, ابو احوص سلام بن سلیم نے ہمیں حدیث سنائی ، انھوں نے ابو اسحاق سے ، انھوں نے سعید بن وہب سے اور انھوں حضرت خباب رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا
ہم نے رسول اللہ ﷺ سے شدید گرم ریت پر نماز ادا کرنے کی شکایت کی تو آپ نے ہماری شکایت کا ازالہ نہ فرمایا ۔
Khabbab رضی اللہ عنہ reported:
We came to the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) and we complained to the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) about (saying prayer) on the extremely heated ground (or sand), but he paid no heed to us. Zuhair said: I asked Abu Ishaq whether it was about the noon prayer. He said: Yes. I again said whether it concerned the (offering) of the noon (prayer) in earlier hours. He said: Yes. I said: Did it concern expediting it? He said: Yes.
ہم سے احمد بن یونس اور عون بن سلام نے بیان کیا، عون نے کہا: انہوں نے بیان کیا، اور ابن یونس نے کہا: اور تلفظ ان کا ہے, زہیر نے کہا : ہمیں ابو اسحاق نے سعید بن وہب سے حدیث سنائی اور انھوں نے حضرت خباب رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ
ہم رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ سے ریت کی گرمی کی شکایت کی تو آپ نے ہماری شکایت کا ازالہ نہ فرمایا ۔ زہیر نے کہا : میں نے ابو اسحاق سے پوچھا : کیا ظہر کے بارے میں ( شکایت کی ؟ ) انھوں نے جواب دیا : ہاں ۔ میں نےکہا : کیا اس کو جلد ی پڑھنے ( کی مشقت ) کے بارے میں ؟ انھوں نے جواب دیا : ہاں ۔
Anas bin Malik reported:
We used to say (the noonprayer) with the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) in the intense heat, but when someone amongst us found it hard to place his forehead on the ground, he spread his cloth and prostrated on it.
ہم سے یحییٰ بن یحییٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے بشر بن المفضل نے بیان کیا، انہوں نے غالب القطان سے اور بکر بن عبداللہ کی سند سے, حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
ہم گرمی کی شدت میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نماز پڑھتے تھے ، جب ہم میں سے کوئی اپنی پیشانی زمین پر نہ رکھ سکتا تو اپنا کپڑا پھیلا کر اس پر سجدہ کر لیتا.
Anas bin Malik رضی اللہ عنہ reported:
The Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) used to pray the afternoon prayer when the sun was high and bright, then one would go off to al-'Awali and get there while the sun was still high. Ibn Qutaiba made no mention of one would go off to al-'Awali .
قتیبہ بن سعید اور محمد بن رمح نے کہا : لیث نے ہمیں ابن شہاب سے روایت کی ، انھوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ انھوں نے ان کو بتایا کہ
رسول اللہ ﷺ عصرکی نماز ( ایسے وقت میں ) پڑھتے تھے جب سورج بلند اور زندہ ( روشنی میں کمی کے بغیر ) ہوتا تھا ، عوالی کی طرف جانے والا ( عصر پڑھ کر ) چلتا اور عوالی ( مدینہ کے بالائی حصے کی بستیوں میں ) پہنچتا تو سورج ابھی بلند ہوتا تھا ۔ یہ بستیاں مدینہ سے دو تا آٹھ میل کی میل کی مسافت پر تھیں ۔ قتیبہ نے ( اپنی حدیث میں ) عوالی پہنچنے کا ذکر نہیں کیا ۔
It was narrated from Anas رضی اللہ عنہ :
The Messenger of Allah ﷺ used to pray 'Asr... a similar report (as no. 1408).
مجھ سے ہارون بن سعید العیلی نے بیان کیا، ہم سے ابن وہب نے بیان کیا, عمرو نے ابن شہاب سے ، انھوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ
رسول اللہ ﷺ عصر کی نماز پڑھتے تھے ۔ ۔ ۔ ( آگے ) بالکل ( اوپرکی روایت ) کے مطابق ہے ۔
Anas bin Malik رضی اللہ عنہ reported:
We used to offer the 'Asr prayer, then one would go to Quba' and reach there and the sun would be still high.
ہم سے یحییٰ بن یحییٰ نے بیان کیا، کہا, امام مالک نے ابن شہاب سے ، انھوں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ
ہم عصر کی نماز پڑھتے تھے ، پھر جانے والا قباء جاتا ، ان لوگوں کے پاس پہنچتا اور سورج ابھی اونچا ہوتا ۔ ( قباء مدینہ سے دو میل کی مسافت پر ہے ۔ )
Anas bin Malik رضی اللہ عنہ reported:
We used to offer the afternoon prayer (at such a time) that a person would go to Bani 'Amr bin Auf and he would find them busy offering the afternoon prayer.
ہم سے یحییٰ بن یحییٰ نے بیان کیا، کہا: میں نے مالک رضی اللہ عنہ سے پڑھا, اسحاق بن عبداللہ بن ابی طلحہ نے حضرت اسن بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ
کہا ہم عصر کی نماز پڑھتے ، پھر ایک انسان بنو عمرو بن عوف کے محلے ( قباء میں ) جاتا تو انھیں عصر کی نماز پڑھتے ہوئے پاتا ۔
Ala' bin 'Abdul-Rahman reported:
They came to the house of Anas bin Malik رضی اللہ عنہ in Basra after saying the noon prayer. His (Anas) house was situated by the side of the mosque. As revisited him he (Anas) said: Have you said the afternoon prayer? We said to him: It is just a few minutes before that we finished the noon prayer. He said: Offer the afternoon prayer. So we stood up and said our prayer. And when we completed it, he said: I have heard the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) saying: This is how the hypocrite prays: he sits watching the sun, and when it is between the horns of devil, he rises and strikes the ground four times (in haste) mentioning Allah a little during it.
ہم سے یحییٰ بن ایوب، محمد بن الصباح، قتیبہ اور ابن حجر نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے اسماعیل بن جعفر نے بیان کیا،علاء بن عبدالرحمن سے روایت ہے کہ
وہ نماز ظہر سے فارغ ہو کر حضرت انس رضی اللہ عنہ کے ہاں بصرہ میں ان کے گھر حاضر ہوئے ، ان کا گھر مسجد کے پہلو میں تھا ، جب ہم ان کی خدمت میں پہنچے تو انھوں نے پوچھا : کیا تم لوگوں نے عصر کی نماز پڑھ لی ہے ؟ ہم نے ان سے عرض کی : ہم تو ابھی ظہر کی نماز پڑھ کر لوٹے ہیں ۔ انھوں نے فرمایا : تو عصر پڑھ لو ۔ ہم نے اٹھ کر ( عصر کی ) نماز پڑھ لی ، جب ہم فارغ ہوئے تو انھوں نےکہا : میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ’’ یہ منافق کی نماز ہے ، وہ بیٹھا ہوا سورج کو دیکھتا رہتا ہے یہاں تک کہ ( جب وہ زرد پڑ کر ) شیطان کے دو سنگوں کے درمیان چلا جاتا ہے تو کھڑا ہو کر اس ( نماز ) کی چار ٹھونگیں مار دیتا ہے اور اس میں اللہ کو بہت ہی کم یاد کرتا ہے ۔ ‘ ‘
Abu Umama bin Sahl رضی اللہ عنہ reported:
We offered the noon prayer with Umar bin 'Abdul-'Aziz. We then set out till we came to Anas bin Malik رضی اللہ عنہ and found him busy in saying the afternoon prayer. I said to him: O uncle! which is this prayer that you are offering? He said: It is the afternoon prayer and this is the prayer of the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) that we offered along with him.
ہم سے منصور بن ابی مزاحم نے بیان کیا، کہا ہم سے عبداللہ بن المبارک نے بیان کیا، وہ ابوبکر بن عثمان بن سہل بن حنیف کی سند سے، انہوں نے کہا: میں نے سناحضرت ابو اامامہ بن سہل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں
ہم نے عمر بن عبدالعزیز رحمۃ اللہ علیہ کے ساتھ ظہر کی نماز پڑھی ، پھر ہم باہر نکلے اور انس بن مالک رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو ہم نے انھیں حاصر کی نماز پڑھتے ہوئے پایا ، میں نے پوچھا : چچا جان! یہ کون سی نماز ہےجو آپ نے پڑھی ہے ؟ انھوں نے جواب دیا : عصر کی ہے ، اور یہی رسول اللہ ﷺ کی نماز ہے جو ہم آپ کے ساتھ پڑھا کرتے تھے ۔
Anas bin Malik رضی اللہ عنہ reported:
The Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) led us in the afternoon prayer. When he completed it, a person from Bani Salama came to him and said: Messenger of Allah, we intend to slaughter our came and we are desirous that you should also be present there (on this occasion). He (the Holy Prophet ﷺ) said: Yes. He (the person) went and we also went along with him and we found that the camel had not been slaughtered yet. Then it was slaughtered, and it was cut into pieces and then some of those were cooked, and then we ate (them) before the setting of the sun. This hadith has also been narrated by another chain of transmitters.
عمرو بن سواد عامری ، محمد بن سلمہ مرادی اور احم د بن عیسیٰ نےہمیں حدیث بیان کی ۔ اس سب کے الفاظ ملتے جلتے ہیں ۔ عمرو نے کیا : ہمیں خبر دی اور باقی دونوں نے کہا : ہمیں حدیث سنائی ابن وہب نے ، کہا : مجھے عمرو بن حارث نے یزید بن ابی حبیب سے خبر دی کہ موسیٰ بن سعد انصاری نےانھیں حدیث بیان کی ، انھوں نے حفص بن عبید اللہ سے اورانھوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ
رسول اللہ ﷺ نے ہمیں عصر کی نماز پڑھا ئی تو جب آپ فارغ ہوئے ، آپ کے پاس بنو سلمہ کا ایک آدمی آیا اور کہا : اللہ کے رسول ! ہم اپنا اونٹ نحر کرنے کا اردہ رکھتے ہیں ۔ اور ہم چاہتے ہیں آپ بھی اس موقع پر موجود ہوں ۔ آپ نے فرمایا : ’’ اچھا ۔ ‘ ‘ آپ نکل پڑے ، ہم بھی آپ کے ساتھ چل پڑے ، ہم نے دیکھا ، اونٹ ابھی ذبح نہیں کیا گیا تھا ، اسے ذبح کیا گیا ، پھر اس کا گوشت کاٹا گیا ، پھر اس میں سے کچھ پکایا گیا ، پھر ہم نے سورج غروب ہونے سے پہلے ( اسے ) کھا لیا ۔ مرادی کا قول ہے کہ ہمیں یہ حدیث ابن وہب نے ابن لہیعہ اورعمروبن حارث دونوں سے روایت کرتے ہوئے سنائی ۔
Rafi' bin Khadij رضی اللہ عنہ reported:
We used to say the afternoon prayer with the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ), and then the camel was slaughtered and ten parts of it were distributed; then it was cooked and then we ate this cooked meat before the sinking of the sun.
ہم سے محمد بن مہران الرازی نے بیان کیا, ہمیں ولید بن مسلم نےحدیث سنائی ، کہا : اوزاعی نےہمیں حدیث بیان کی ، انھوں نے ابو نجاشی سے روایت کی ، انھوں نے کہا : میں نےحضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے سنا ، کہہ رہے تھے
ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نماز عصر پڑھتے ، پھر اونٹ ذبح کیا جاتا ، اس کے دس حصے کیے جاتے ، پھر ہم اسے پکاتے اور سورج کےغروب ہونے سے پہلے ہم اچھی طرح پکا ہوا گوشت کھا لیتے ۔
This hadith has been reported by 'Auza'i with the same chain of transmitters:
We used to slaughter the camel during the lifetime of the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم) after the 'Asr prayer, but he made no mention of: We used to pray along with him.
اسحاق بن ابراہیم نے کہا : ہمیں عیسیٰ بن یونس اور شعیب بن اسحاق دمشقی نے خبر دی ، ان دونوں نے کہا : ہمیں اوزاعی نے اسی سند کے ساتھ یہی حدیث بیان کی ، البتہ انھوں ( اسحاق ) نے کہا
ہم رسول اللہ ﷺ کےعہدمیں عصر کے بعد اونٹ ذبح کرتےتھے ، نہیں کہا : ہم آپ کے ساتھ نماز پڑھتے تھے ۔
Ibn Umar رضی اللہ عنہ reported:
The Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) said: He who misses the afternoon prayer, it is as though he has been deprived of his family and his property.
ہم سے یحییٰ بن یحییٰ نے بیان کیا، کہا: میں نے مالک رضی اللہ عنہ سے پڑھا, نافع نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’جس شخص کی نماز عصر رہ گئی تو گیا اس کے اہل وعیال اور اس کا مال تباہ وبرباد ہو گئے ۔ ‘ ‘
This hadith has been narrated as Marfu by another chain of transmitters.
ابو بکر بن ابی شبیہ اور عمرو الناقد نے کہا : ہمیں سفیان نے زہر سے ، انھوں نے سالم سے اور انھوں نے اپنے والد ( ابن عمر رضی اللہ عنہ ) سے حدیث بیان کی ۔ عمرو نے کہا : ( ابن عمر رضی اللہ عنہ ) اس حدیث کی سند کو ( رسول اللہ ﷺ تک ) پہنچاتے تھے ۔ ابو بکر نے کہا : ( انھوں نے ) اس حدیث کو مرفوعا بیان کیا ۔
Abdullah relates on the authority of his father:
He who missed his afternoon prayer it is as though he was deprived of his family and property.
مجھ سے ہارون بن سعید الایلی نے بیان کیا، اور ان کا قول ہے، انہوں نے کہا: ہم سے ابن وہب نے بیان کیا, عمرو بن حارث نے ابن شہاب سے ، انھوں نے سالم بن عبداللہ سے اور انھوں نے اپنے والد سے روایت کی کہ
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’جس شخص کی عصر کی نماز رہ گئی تو گویا اس کے ہل وعیال اور اسکا مال بتاہ و برباد ہو گئے ۔ ‘ ‘
Ali رضی اللہ عنہ reported:
When it was the day (of the Battle) of Ahzab, the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) said: May Allah fill their graves and houses with fire, as they detained us and diverted us from the middle prayer, till the sun set.
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا ,ابوسامہ نے ہمیں حدیث سنائی ، انھوں نے ہشام سے ، انھوں نے محمد سے انھوں نے عبیدہ سے اور انھوں نےحضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ
رسول اللہﷺ نے غزوہ احزاب کےدن فرمایا : ’’اللہ تعالٰی ان ( مشرکین ) کی قبروں اور گھروں کو آگ سے بھر دے ، جس طرح انھوں نے ہمیں درمیانی نماز ( عصر ) سے روکا اور ( جنگ میں ) مشغول کیے رکھا حتی کہ سورج غروب ہو گیا ۔ ‘ ‘