The Book of Mosques and Places of Prayer
كتاب الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاة
Chapter 5
This hadith has been narrated on the authority of Abu Huraira رضی اللہ عنہ by another chain of transmitters up to the words:
And cause them a famine like that (which broke out at the time) of Joseph, but the subsequent portion was not mentioned.
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ اور عمرو ناقد نے بیان کیا، انہوں نے کہا, ابن عینیہ نے زہری سے ، انھوں نے سعید بن مسیب سے ، انھوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اور انھوں نے نبی ﷺ سے ان الفاظ تک روایت کی
‘ ‘ اس سختی کو ان پر یوسف علیہ السلام کے زمانے کے قحط کی طرح کر دے’’ جو اس کے بعد ہے اسے بیان نہیں کیا ۔
Abu Salama reported it on the authority of Abu Huraira رضی اللہ عنہ :
The Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) recited Qunut after ruku' in prayer for one mouth at the time of reciting (these words): Allah listened to him who praised Him, and he said in Qunut: 0 Allah! rescue al-Walid bin al-Walid; O Allah! rescue Salama b. Hisham; O Allah! rescue 'Ayyash bin Abu Rabi'a; O Allah! rescue the helpless amongst the Muslims; O Allah! trample Mudar severely; O Allah! cause them a famine like that (which was caused at the time) of Joseph. Abu Huraira رضی اللہ عنہ (further) said: I saw that the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) afterwards abandoned this supplication. I, therefore said: I see the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) abandoning this blessing upon them. It was raid to him (Abu Huraira): Don't you see that (those for whom was blessing invoked by the Holy Prophet) have come (i. e. they have been rescued)?
ہم سے محمد بن مہران الرازی نے بیان کیا، کہا ہم سے ولید بن مسلم نے بیان کیا، ہمیں اوزاعی نے یحییٰ بن ابی کثیر سے حدیث سنائی ، انھوں نے ابو سلمہ سے روایت کی کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے انھیں حدیث بیان کی کہ
نبی ﷺ نے ایک مہینے تک رکوع کے بعد قنوت ( عاجزی سے دعا ) کی ، جب آپ سمع اللہ لمن حمدہ کہہ لیتے ( تو ) اپنی قنوت میں یہ ( الفاظ ) کہتے : اے اللہ! ولید بن ولیدکو نجات دے ، اے اللہ عیاش بن ابی ربیعہ کو نجات دے ، اے اللہ کمزور سمجھے جانے والے ( دوسرے ) مومنوں کو نجات عطا کر ، اے اللہ ! ان پر اپنے روندنے کو سخت تر کر اور اسے ان پر ، یوسف علیہ السلام کے ( زمانے کے ) قحط کے مانند کر دے ۔ ’’ مسجدوں اور نماز کی جگہوں کے احکام ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا : پھر میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا کہ آپ نے یہ دعا چھوڑ دی ، میں نے ( ساتھیوں سے ) کہا : میں دیکھتا ہوں کہ رسول اللہ ﷺ نے یہ دعا چھوڑ دی ہے ۔ کہا : ( جواب میں ) مجھ سے کہا گیا ، تم انھیں دیکھتے نہیں ، ( جن کے لیے دعا ہوئی تھی ) وہ سب آچکے ہیں ۔
Abu Salama narrated that Abu Huraira رضی اللہ عنہ told him:
When the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) pronounced: Allah listened to him who praised Him. and before prostration, he would recite this in the 'Isya' prayer: O Allah! rescue 'Ayyash bin Abu Rabi'a, and the rest of the hadith is the same as narrated by Auza'i to the words: Like the famine (at the time) if Joseph. but he made no mention of that which follows afterwards.
مجھ سے زہیر بن حرب نے بیان کیا، ہم سے حسین بن محمد نے بیان کیا، ہم سے شیبان نے بیان کیا، وہ یحییٰ سے، ابو سلمہ رضی اللہ عنہ سےکہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے انھیں خبر دی کہ
( ایک روز ) رسول اللہ ﷺ عشاء کی نماز پڑھ رہے تھے ، جب آپ نے فرمایا : سمع اللہ لمن حمدہ تو سجدے میں جانے سے پہلے آپ نے ( دعا مانگتے ہوئے ) فرمایا : ‘ ‘ اے اللہ عیاش بن ابی ربیعہ کو نجات عطا فرما ۔ ’’ کے الفاظ تک اوزاعی کی روایت کردہ حدیث کی طرح حدیث بیان کی ، بعد کے الفاظ بیان نہیں کیےاوزاعی کے بجائے ) شیبان نے یحییٰ سے ، انھوں نے ابوسلمہ سے روایت کی.
Abu Salama bin 'Abdul-Rahman is reported to have said that he had heard Abu Huraira رضی اللہ عنہ saying:
I would say prayer along with you which is near to the prayer of the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ). and Abu Huraira رضی اللہ عنہ recited Qunut in the noon and in the 'Isya' and in the morning prayer, and invoked blessing (of Allah) upon Muslims-and curse upon the unbelievers.
ہم سے محمد بن المثنیٰ نے بیان کیا، ہم سے معاذ بن ہشام نے بیان کیا، ان سے میرے والد نے بیان کیا، ان سے یحییٰ بن ابی کثیر نے بیان کیا، انہوں نے کہا, ابو سلمہ بن عبدالرحمان نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے ہوئے سنا
اللہ کی قسم! ضرور رسول اللہ ﷺ کی نماز کو تم لوگوں کے بہت قریب کروں گا ، اس کے بعد حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ ظہر ، عشاء اور صبح کی نماز میں قنوت کرتے اور مسلمانوں کے حق میں رضی اللہ عنہ دعا کرتے اور کافروں پر لعنت بھیجتے.
Anas bin Malik رضی اللہ عنہ reported:
The Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) invoked curse in the morning (prayer) for thirty days upon those who killed the Companions (of the Holy Prophet) at Bi'r Ma'una. He cursed (the tribes) of Ri'l, Dhakwan, Lihyan, and Usayya, who had disobeyed Allah and His Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ). Anas رضی اللہ عنہ said: Allah the Exalted and Great revealed (a verse) regarding those who were killed at Bi'r Ma'una, and we recited it, till it was abrogated later on (and the verse was like this):, convey to it our people the tidings that we have met our Lord, and He was pleased with us and we were pleased with Him .
ہم سے یحییٰ بن یحییٰ نے بیان کیا، کہا: میں نے مالک رضی اللہ عنہ سے پڑھا, اسحاق بن عبداللہ بن ابی طلحہ نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا
رسول اللہ ﷺ نے ان لوگوں کے خلاف کنھوں نے بئر معونہ والوں کو قتل کیا تھا ، تیس ( دن تک ) صبح ( کی نمازوں ) میں بدعا کی ۔ آپ نے رعل ، ذکوان ، لحیان اور عصیہ کے خلاف ، جنھوں نے اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کی ، بد دعا کی ۔ انس رضی اللہ عنہ نے کہا : اللہ نے ان لوگوں کے متعلق جو بئر معونہ پر قتل ہوئے ، قرآن ( کا کچھ حصہ ) نازل فرمایا جو بعد میں منسوخ ہو نے تک ہم پڑھتے رہے ( اس میں شہداء کا پیغام تھا ) کہ ہماری قوم کو بتا دیں کہ ہم اپنے رب سے جا ملے ہیں ، وہ ہم سے راضی ہو گیا ہے اور ہم اس سے راضی ہیں ۔
Muhammad reported:
I asked Anas رضی اللہ عنہ whether the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) observed Qunut in the dawn prayer. He said: Yes, (he did so) after the ruku', for a short while.
مجھ سے عمرو ناقد اور زہیر بن حرب نے بیان کیا، کہا: ہم سے اسماعیل نے ایوب کی سند سے بیان کیا, محمد ( بن سیرین ) سے روایت ہے ، کہا
میں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے پوچھا : کیا رسول اللہ ﷺ نے ( کبھی ) صبح کی نماز میں قنو ت کی تھی؟ کہا : ہاں ، رکوع سے تھوڑی دیر بعد ۔
Anas bin Malik رضی اللہ عنہ reported:
The Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) observed Qunut for a month in the dawn prayer after ruku' and invoked curse upon Ri'l, Dhakwan, and said that 'Usayya had disobeyed Allah and His Apostle ( صلی اللہ علیہ وسلم ).
مجھ سے عبید اللہ بن معاذ العنبری، ابو کریب، اسحاق بن ابراہیم اور محمد بن عبد الاعلٰی نے بیان کیا، اور یہ قول ابن معاذ معمر بن سلیمان نے اپنے والد سے نقل کیا ہے, ابو مجلز نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کو کہ
رسول اللہ ﷺ نے ایک مہینے تک صبح کی نماز میں رکوع کے بعد قنوت کی ، آپ رعل اور ذکوان کے خلاف بددعا فرماتے تھے اور کہتے تھے : ‘ ‘ عصیہ نے اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کی ۔ ’’
Anas bin Malik رضی اللہ عنہ س reported:
The Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) observed Qunut for a month in the dawn prayer after ruku' and invoked curse upon Bani Usayya.
مجھ سے محمد بن حاتم نے بیان کیا، ہم سے بہز بن اسد نے بیان کیا، ہم سے حماد بن سلمہ نے بیان کیا، انس بن سیرین نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ
رسول اللہ ﷺ نے ایک مہینے تک نماز فجر میں رکوع کے بعد قنوت کی ، آپ بنو عصیہ کے خلاف بددعا کرتے رہے.
Asim reported:
I asked Anas رضی اللہ عنہ whether Qunut was observed (by the Holy prophet) before ruku' or after ruku'. He replied: Before ruku'. I said: People conceive that the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) observed Qunut after the ruku'. He said: The Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) observed Qunut (after the ruku' as the people conceive it) for a mouth invoking curse upon those persons who had killed men among his Companions who were called the reciter (of the Qur'an).
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ اور ابو کریب نے بیان کیا، کہا ابو معاویہ نے عاصم سے اور انھوں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا
میں نے ان ( انس رضی اللہ عنہ ) سے قنو ت کے بارے میں پوچھا : رکوع سے پہلے ہے یا رکوع کے بعد؟ تو انھوں نے کہا : رکوع سے پہلے ۔ کہا : میں نے عرض کی : بہت سے لوگ سمجھتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے رکوع کے بعد قنوت کی ۔ تو انھوں نے کہا : رسول اللہ ﷺ نے ایک مہینے کی ، ان لوگوں کو خلاف بددعا فرماتے رہے جنھوں نے آپ کے صحابہ میں سے کچھ لوگوں کو قتل کیا تھا جنھیں قراء ( قرآن پڑھنے والے ) کہا جاتا تھا ۔
Asim reported:
I heard Anas رضی اللہ عنہ saying: Never did I ace the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) so much grieved (at the loss of a) small army as I saw him grieved at those seventy men who were called reciters (and were killed) at Bi'r Ma'una; and he invoked curse for full one month upon their murderers.
ہم سے ابن ابی عمر نے بیان کیا, سفیان نے عاصم سے روایت کی ، کہا
میں نے انس رضی اللہ عنہ کو کہتے سنا ، میں نے رسول اللہ ﷺ کو نہیں دیکھا کہ آپ کو کسی اور جنگ پر اتنا غم محسوس ہوا ہو جتنا ان ستر ( ساتھیوں ) پر ہوا جو بئر معونہ کے واقعے کے روز شہید کیے گئے ، انھیں قراء کہا جاتا تھا ، آپ ایک مہینے تک ان کے قاتلوں کے خلاف بد دعا کرتے رہے ۔
This hadith has been narrated by Anas رضی اللہ عنہ with another chain of transmitters and with minor additions.
ابو کریب نے ہم سے کہا,حفص ، ابن فضیل اور مروان سب نے عاصم سے ، انھوں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے اور انھوں نے نبی اکرم ﷺ سے یہی حدیث روایت کی ، ان میں سے بعض نے بعض سے کچھ زیادہ روایت کیا ہے ۔
Anas bin Malik رضی اللہ عنہ reported:
The Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) observed Qunut for one month Invoking curse upon Ri'l, Dhakwan, 'Usayya. those who disobeyed Allah and His Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ).
ہم سے عمرو الناقد نے بیان کیا، کہا ہم سے اسود بن عامر نے بیان کیا، شعبہ نے قتادہ سے اور انھوں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ
نبی ﷺ نے ایک مہینے تک قنوت کی ، آپ رعل ، ذکوان اور عصیہ پر لعنت بھیجتے تھے جنھوں نے اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی معصیت کی تھی ۔
A hadith like this has been transmitted by Anas رضی اللہ عنہ from the Messenger of Allah (way peace be upon him).
) موسیٰ بن انس نے رضی اللہ عنہ سے اور انھوں نے نبی ﷺ سے اس طرح روایت کی ۔
Anas رضی اللہ عنہ reported:
The Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) observed Qunut for one month invoking curse upon some tribes of Arabia (those who were responsible for the murders in Bi'r Ma'una and Raji'), but then abandoned it.
ہم سے محمد بن المثنی نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالرحمٰن نے بیان کیا، ہشام نے قتادہ کے حوالے سے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ
رسول اللہ ﷺ نے ایک مہینے تک عرب کے قبائل میں سے کچھ قبیلوں کے خلاف بددعا کرتے ہوئے قنوت کی ، پھر چھوڑ دی ۔
Al-Bari' bin 'Azib رضی اللہ عنہا reported:
The Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) observed Qunut in the morning and evening (prayers).
ہم سے محمد بن المثنیٰ اور ابن بشار نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے محمد بن جعفر نے بیان کیا، شعبہ نے عمروہ بن مرہ سے روایت کی ، کہا : میں نے ابن ابی لیلی ٰ سے سنا ، کہا : ہمیں حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہا نے حدیث سنائی کہ
رسول اللہ ﷺ فجر اور مغرب ( کی نمازوں ) مین قنوت کیا کرتے تھے.
Al-Bari' رضی اللہ عنہ reported:
The Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) observed Qunut in the dawn and evening (prayers).
ہم سے ابن نمیر نے بیان کیا، ہم سے میرے والد نے بیان کیا,سفیان نے عمرو بن مرہ سے ، انھوں نے عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ سے اور انھوں نےحضرت براء رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا
رسول اللہ ﷺ نےفجر اور مغرب ( کی نمازوں ) میں قنوت کی.
Khufaf bin Ima' al-Ghifari رضی اللہ عنہ reported:
The Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) aid in prayer: O Allah I curse the tribes of Lihyan, Ri'l, Dhakwan, and 'Usayya for they disobeyed Allah and His Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ). Allah pardoned (the tribe of) Ghifar and Allah granted protection to (the tribe of) Aslam.
مجھ سے ابو الطاہر احمد بن عمرو بن سرح المصری نے بیان کیا، انہوں نے کہا: ہم سے ابن وہب نے لیث کی سند سے بیان کیا,عمران بن ابی انس نے حنظلہ بن علی سے اور انھوں نے خفاف بن ایما ء غفاری رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا
رسول اللہ ﷺ نے نماز میں ( دعا کرتے ہوئے ) کہا : ’’ اے اللہ ! بنو لحیان : رعل ، ذکوان اور عصیہ پر لعنت بھیج جنھوں نے اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی نافرمانی کی ۔ غفار کی اللہ مغفرت کر ے اور اسلم کو اللہ سلامتی عطا فرمائے ۔ ‘ ‘
Khufaf bin Ima' رضی اللہ عنہ reported:
The Messenger of Allah (ﷺ), bowed (in prayer) and then lifted his head and then said: So far as the tribe of Ghifar is concerned, Allah had pardoned it, and Allah had granted protection to the tribe of Aslam, and as for the tribe of Usayya, It had disobeyed Allah and His Messenger, (and further said): O Allah! curse the tribe of Lihyan curse Ri'l, and Dhakwan, and then fell in prostration. It is after this that the cursing of the unbelievers got a sanction.
ہم سے یحییٰ بن ایوب، قتیبہ اور ابن حجر نے بیان کیا، کہا کہ ابن ایوب نے کہا: ہم سے اسماعیل نے بیان کیا، انہوں نے کہا: مجھ سے محمد نے جو کہ ابن عمرو ہیں، نے خالد بن عبداللہ بن حرملہ کے بارے میں بیان کیا,حارث بن خفاف سے روایت ہے ، انھوں نے کہا : حضرت خفاف بن ایما رضی اللہ عنہ نے کہا
رسول اللہ ﷺ نے رکوع کیا ، پھر سر اٹھا کر فرمایا : غفار کی اللہ مغفرت کرے ، اسلم کو اللہ سلامتی عطا کرے ۔ اور عصیہ نے اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کی ۔ اے اللہ ! بنو لحیان پر لعنت بھیج اور رعل اور ذکوان پر لعنت بھیج ۔ ‘ ‘ پھر آپ سجدے میں چلے گئے ۔ خفاف رضی اللہ عنہ نے کہا : کافروں پر اسی کے سبب سے لعنت کی گئی ۔ ( لعنت کا طریقہ اختیار کیا گیا ۔ )
A hadith like this has been transmitted by Khufaf bin Ima' رضی اللہ عنہ except this that he did not mention (these words):
"Cursing of unbelievers was prescribed as a result of that."
ہم سے یحییٰ بن ایوب نے بیان کیا، کہا ہم سے اسماعیل نے بیان کیا، انہوں نے کہا,(عمران کے بجائے ) عبدالرحمان بن حرملہ نے حنظلہ بن علی بن اسقع سے اور انھوں نے حضرت خفاف بن ایماء رضی اللہ عنہ سے اسی کے مانند روایت کی ، سوائے اس کے کہ
انھوں نے ’’کافروں پر اسی کے سبب لعنت کی گئی ‘ ‘ کے الفاظ نہیں کہے ۔
Abu Huraira رضی اللہ عنہ reported:
When the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) returned from the expedition to Khaibar, he travelled one night, and stopped for rest when he became sleepy. He told Bilal to remain on guard during the night and he (Bilal) prayed as much as he could, while the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) and his Companions slept. When the time for dawn approached Bilal leaned against his camel facing the direction from which the dawn would appear but he was overcome by sleep while he was leaning against his camel, and neither the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) nor Bilal, nor anyone else among his Companions got up, till the sun shone on them. Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) was the first of them to awake and, being startled, he called to Bilal who said: Messenger of Allah I may my father and mother be offered as ransom for thee, the same thing overpowered me which overpowered you. He (the Holy Prophet, then) said: Lead the beasts on: so they led their camels to some distance. The Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) then performed ablution and gave orders to Bilal who pronounced the Iqama and then led them in the morning prayer. When he finished the prayer he said: When anyone forgets the prayer, he should observe it when he remembers it, for Allah has said: And observe the prayer for remembrance of Me (Qur'an. xx. 14). Yunus said: Ibn Shilab used to recite it like this: (And observe the prayer) for remembrance.
مجھ سے حرملہ بن یحییٰ التجیبی نے بیان کیا، کہا ہم سے ابن وہب نے بیان کیا,یونس نے ابن شہاب کے حوالے سے خبردی ، انھوں نے سعید بن مسیب سے اور انھوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ
رسول اللہ ﷺ جب جنگ خیبر سے واپس ہوئے تو رات بھر چلتے رہے یہاں تک کہ جب آپ کو نیند نے آلیا ، آپ نے ( سواری سے ) اتر کر پڑاؤ کیا اور بلال رضی اللہ عنہ سے کہا : ’’ہمارے لیے رات کا پہرہ دو ( نظر رکھو کہ کب صبح ہوتی ہے ؟ ) ‘ ‘ بلال رضی اللہ عنہ نے مقدور بھر نماز پڑھی ، رسول اللہ ﷺ اور آپ کے صحابہ سو گئے ۔ جب فجر قریب ہوئی تو بلال رضی اللہ عنہ نے ( مطلع ) فجر کی طرف رخ کرتے ہوئے اپنی سواری کے ساتھ ٹیک لگائی ، جب وہ ٹیک لگائے ہوئے تھے تو ان پر نیند غالب آگئی ، چنانچہ رسول اللہ ﷺ بیدار ہوئے نہ بلال اور نہی ہی ان کے صحابہ میں سے کوئی بیدار ہوا یہاں تک کہ ان پر دھوپ پڑنے لگی ، سب سے پہلے رسول اللہ ﷺ بیدار ہوئے اور گھبرا گئے ۔ فرمانے لگے : ’’اے بلال! ‘ ‘ تو بلال رضی اللہ عنہ نے کہا : میری جان کو بھی اسی نے قبضے میں لیا تھا جس نے ۔ میرے ماں باپ آپ پر قربان اے اللہ کے رسول ! ---آپ کی جان کو قبضے میں لے لیا تھا ۔ آپ ﷺ نے فرمایا : ’’سواریاں آگے بڑھاؤ ۔ ‘ ‘ وہ اپنی سواریوں کو لے کر کچھ آگے بڑھے ، پھر رسول اللہ ﷺ نے وضو کیا اور بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا ، انھوں نے نماز کی اقامت کہی ، پھر آپ نے ان کو صبح کی نماز پڑھائی ، جب نماز ختم کی تو فرمایا : ’’ جو شخص نماز ( پڑھنا ) بھول جائے تو جب اسے یاد آئے اسے پڑھے ، اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ’’ میری یاد کے وقت نماز قائم کرو ۔ ‘ ‘ یونس نے کہا : ابن شہاب سے ’’للذکرٰی ‘ ‘ ( یاد کرنے کےلیے ) پڑھتے تھے.