The Book of Mosques and Places of Prayer
كتاب الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاة
Chapter 5
Abu Huraira reported:
The Messenger of Allah (ﷺ) said: He who purified himself in his house, and then he walked to one of the houses of Allah for the sake of performing a Fard (obligatory act) out of the Fara'id (obligatory acts) of Allah, both his steps (would be significant) as one of them would obliterate his sin and the second one would raise his status.
مجھ سے اسحاق بن منصور نے بیان کیا، کہا ہم سے زکریا بن عدی نے بیان کیا، کہا ہم سے عبید اللہ نے، یعنی ابن عمرو نے، کہا ہم سے زید بن ابی انیسہ نے، عدی بن ثیب کی سند سے، وہ ابوحازم اشجعی کی سند سے۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، کہا
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ‘ ‘ جس نے اپنے گھر میں وضو کیا ، پھر اللہ کے گھروں میں سے اس کے کسی گھر کی طرف چل کر گیا تاکہ اللہ کے فرضوں میں سے ایک فریضے کو ادا کرے تو اس کے دونوں قدم ( یہ کرتے ہیں کہ ) ان میں سے ایک گناہ نٹاتا ہے اور دوسرا درجہ بلند کرتا ہے
In the hadith narrated of the authority of Abu Huraira رضی اللہ عنہ the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) is reported to have said. while in the hadith narrated by Bakr (the words are like this):
He heard the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) as saying: just see, can anything of his filthiness remain (on the body of) any one of you if there were a river at his door in which he washed himself five times daily? They, said: Nothing of his filthiness will remain (on his body). He said: That is like the five prayers by which Allah obliterates sins.
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا,لیث اور بکر دونوں نے ہاد سے ، انھوں نے محمد بن ابراہیم سے ، انھوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا-اور بکر کی روایت میں ہے کہ
انھوں ( ابوہریرہ رضی اللہ عنہ ) نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ، آ پ نے فرمایا- ‘ ‘ تم کیا سمجھتے ہو اگر تم میں سے کسی کے گھر کے سامنے نہر ہو جس سے وہ ہر روز پانچ مرتبہ نہاتا ہو ، کیا اس ( کے جسم ) کا کوئی میا کچیل باقی رہ جائے گا؟’’ صحابہ نے عرض کی : اس کا کوئی میل کچیل باقی نہیں رہے گا ۔ آپ نے فرمایا یہی پانچ نمازوں کی مثال ہے ، اللہ تعالیٰ ان کے ذریعے سے گناہوں کو صاف کر دیتا ہے ۔ ’’
Jabir bin 'Abdullah رضی اللہ عنہ reported:
The Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) said: The similitude of five prayers is like an overflowing river passing by the gate of one of you in which he washes five times daily Hasan said: No filthiness can remain on him.
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ اور ابو کریب نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ابو معاویہ نے بیان کیا، اعمش نے ابو سفیان ( طلحہ بن نافع ) سے ، انھوں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا
رسول اللہ رضی اللہ عنہ ﷺ نے فرمایا : ‘ ‘ پانچ نمازوں کی مثال تم میں سے کسی ایک کے دروازے پر چلتی ہویئ بہت بڑی نہر کی سی ہے ، وہ اس میں سے روزانہ پانچ دفعہ غسل کرتا ہو ۔ ’’ ( اعمش نے ابوسفیان کی بجائے حسن کے حوالے سے روایت کرتے ہوئے ) کہا : حسن نے کہا : یہ غسل اس کے جسم پر کوئی میل کچیل نہیں چھوڑے گا ۔
Ata' bin Yasar reported, on the authority of Abu Huraira رضی اللہ عنہ :
The Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) as saying: He who went towards the mosque in the morning or evening, Allah would arrange a feast for him morning or evening in Paradise.
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ اور زہیر بن حرب نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے یزید بن ہارون نے بیان کیا، کہا ہم سے محمد بن مطرف نے بیان کیا، انہوں نے زید بن اسلم کی سند سے عطاء بن یسار سے, حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے نبی ﷺ سے روایت کی
‘ ‘ جو شخص دن کے پہلے حصے میں یا دن کے دوسرے حصے میں مسجد کی طرف گیا اللہ تعالیٰ ( ہر دفعہ آنے پر ) اس کے لئے جنت میں میزبانی کا انتظام فرماتا ہے ، جب بھی وہ ( آئے ) صبح کو آئے یا شام کو آئے ۔ ’’
Simak bin Harb reported:
I said to Jabir bin Samura رضی اللہ عنہ : Did you sit in the company of the Messenger of Allah (ﷺ)? He said: Yes, very often. He (the Holy Prophet ﷺ) used to sit at the place where he observed the morning or dawn prayer till the sun rose or when it had risen; he would stand, and they (his Companions) would talk about matters (pertaining to the days) of ignorance, and they would laugh (on these matters) while (the Holy Prophet ﷺ) only smiled.
ہم سے احمد بن عبداللہ بن یونس نے بیان کیا، ہم سے زہیر نے بیان کیا، ان سے سماک نے، کہا ہم سے ح نے بیان کیا اور ہم سے یحییٰ بن یحییٰ نے بیان کیا اور اس کا تلفظ ,ابو حیثمہ نے سماک بن حرب سے روایت کرتے ہوئے خبر دی ، کہا
میں نے حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے کہا : کیا آپ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ مجالس میں شریک ہوتے تھے؟ کہا : ہاں! بہت ۔ آپ جس جگہ صبح یا دن کے ابتدائی حصے کی نماز ادا فرماتے ، سورج طلوع ہونے تک وہاں سے نہ اٹھتے ۔ جب سورج طلوع ہو جاتا تو اٹھ کھڑے ہوتے ، لوگ دور جاہلیت میں کیے کاموں کے متعلق باتیں کرتے اور ہنستے تھے اور آپ ( بھی ان کی باتیں سن کر ) مسکراتے تھے ۔
Simak narrated on the authority of Jabir b. Samura that when the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) observed the dawn prayer, he sat at the place of worship till the sun had risen enough.
سفیان اور زکریا دونوں نے سماک سے اور انھوں نے حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ نبی ﷺ جب فجر پڑھتے تھے تو اپنی نماز کی جگہ پر بیٹھے رہتے حتی کہ سورج اچھی طرح نکل آتا ۔
This hadith has been narrated by Simak with the same chain of transmitters, but no mention has been made of, enough .
ہم سے قتیبہ اور ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا, ابواحوص اور شعبہ دونوں نے سماک سے اسی سند کے ساتھ یہی روایت بیان کی لیکن حسنا ‘ ‘ اچھی طرح’’ ( سورج نکل آتا ) نہیں کہا.
Abu Huraira رضی اللہ عنہٗ reported:
The Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) said: The parts of land dearest to Allah are its mosques, and the parts most hateful to Allah are markets.
ہم سے ہارون بن معروف اور اسحاق بن موسیٰ الانصاری نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے انس بن عیاض نے بیان کیا، مجھ سے ابن ابی ذباب نے بیان کیا، حر کی روایت میں اور انصاری کی حدیث میں حارث نے بیان کیا۔ میں، عبدالرحمٰن بن مہران کی طرف سے،حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہٗ سے روایت ہے کہ
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ‘شہروں میں پیاری جگہ اللہ کے نزدیك مسجدیں ہیں اور ‘ اللہ کے نزدیک ( انسانی ) آبادیوں کا سب سے ناپسندیدہ حصہ ان کے بازار ہیں ۔ ’’
Abu Sa'id al-Khudri رضی اللہ عنہ reported:
Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) as saying: When there are three persons, one of them should lead them. The one among them most worthy to act as Imam is one who is best versed in the Qur'an.
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا, ابوعوانہ نے ہمیں قتادہ سے حدیث سنائی ، انھوں نے ابو نضرہ سے اور انھوں نے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ‘ ‘ جب ( نماز پڑھنے والے ) تین ہوں تو ان میں سے ایک ان کی امامت کرائے اور ان میں سے امامت کا زیادہ حقدار وہ ہے جو ان میں سے زیادہ ( قرآن ) پڑھا ہو ۔ ’’
A hadith like this has been narrated by Qatida with the same chain of transmitters.
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ بن سعید نے بیان کیا, شعبہ ، سعید بن ابی عروبہ اور معاذ ( بن ہشام ) نے اپنے والد کے واسطے سے ، سب نے قتادہ سے اپنے اپنے شاگردوں کی اسی سند کے ساتھ اس کے مانند روایت بیان کی ۔
This hadith has been narrated by Abu Sa'id al-Khudri رضی اللہ عنہ by another chain of transmitters.
ہم سے محمد بن المثنیٰ نے بیان کیا، ہم سے سالم بن نوح نے بیان کیا، ہم سے حسن بن عیسیٰ نے بیان کیا، ہم سے ابن المبارک نے بیان کیا، جریدی نے ابو نضرہ سے ، انھوں نے حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے اور انھوں نے نبی ﷺ سے اسی طرح روایت کی ۔
Abu Mas'ud al-Ansari رضی اللہ عنہ reported:
Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) as saying: The one who is most versed in Allah's Book should act as Imam for the people, but If they are equally versed in reciting it, then the one who has most knowledge regarding Sunnah if they are equal regarding the Sunnah, then the earliest one to emigrate; it they emigrated at the same time, then the earliest one to embrace Islam. No man must lead another in prayer where (the latter) has authority, or sit in his place of honour in his house, without his permission. Ashajj in his narration used the word, age in place of Islam .
ابوبکر بن ابی شیبہ اور ابوسعید اشج نے ابو خالد احمر سے ، انھوں نے اوس بن ضمعج سے اور انھوں نے حضرت ابو مسعود انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ‘ ‘ لوگوں کی امامت وہ کرائے جو ان میں سے کتاب اللہ کو زیادہ پڑھنے والا ہو ، اگر پڑھنے میں برابر ہو ں تو وہ جو ان میں سے سنت کا زیادہ عالم ہو ، اگر وہ سنت ( کے علم ) میں بھی برابر ہوں تو وہ جس نے ان سب کی نسبت پہلے ہجرت کی ہو ، اگر وہ ہجرت میں برابر ہوں تو وہ جو اسلام قبول کرنے میں سبقت رکھتا ہو ۔ کوئی انسان وہاں دوسرے انسان کی امامت نہ کرے جہاں اس ( دوسرے ) کا اختیار ہو اور اس کے گھر میں اس کی قابل احترام نشست پر اس کی اجازت کے بغیر کوئی نہ بیٹھے ۔ ’’ ( ابوسعید ) اشج نے اپنی روایت میں ’’اسلام قبول کرنے میں’’ ( سبقت ) کے بجائے ’’عمر میں’’ ( سبقت ) رکھتا ہے
A hadith like this has been narrated by A'mash by the same chain of transmitters
ہم سے ابو کریب نے بیان کیا, ابو معاویہ ، جریر ، ابن فضیل اور سفیان سب نے اعمش سے اسی سند کے ساتھ اسی مانند روایت بیان کی ہے
Abu Mas'ud al-Ansari رضی اللہ عنہ reported:
The Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) said to us: The one who is well grounded in Allah's Book and is distinguished among them in recitation should act as; Imam for the people. and if they are equally versed in reciting it, then the one who has most knowledge regarding Sunnah; if they are equal regarding the Sunnah, then the earliest one to emigrate; If they emigrated at the same time, then the oldest one in age. No man must lead another in prayer in latter's house or where (the latter) has authority, or sit in his place of honour in his house, except that he gives you permission or with his permission.
ہم سے محمد بن مثنیٰ اور ابن بشار نے بیان کیا، انہوں نے کہا: ہم سے محمد بن جعفر نے بیان کیا, شعبہ نے اسماعیل بن رجاء سے روایت کی ، کہا : میں نے اوس بن ضمعج سے سنا ، کہتے تھے : میں نے حضرت ابو مسعود رضی اللہ عنہ سے سنا ، وہ کہتے تھے
رسول اللہ ﷺ نے ہم سے کہا : ‘ ‘ قوم کی امامت وہ کرے جو اللہ کی کتاب کو زیادہ پڑھنے والا اور پڑھنے میں دوسروں سے زیادہ قدیم ہو ، اگر ان سب کا پڑھنا ایک سا ہو تو وہ امامت کرے جو ہجرت میں قدیم تر ہو ، اگر ہجرت میں سب برابر ہوں تو وہ امامت کرے جو ان سب سے عمر میں بڑا ہو اور تم کسی شخص کے گھر اور اس کے دائرہ اختیار میں اس کے امام نہ ہی اس کے گھر میں اس کی قابل احترام نشست پر بیٹھو ، ہاں اس صورت میں کہ وہ تمھیں ( اس بات کی ) اجازت دے-یا ( فرمایا : ) اس کی اجازت سے ۔ ’’
Malik bin Huwairith رضی اللہ عنہ reported:
We came to the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) and we were all young men of nearly equal age. We stayed with him (the Holy Prophet) for twenty nights, and as the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) was extremely kind and tender of heart, he therefore, thought that we were eager (to see) our family (we felt homesick). So he asked us about the members of the family that we had left behind and when we informed him, he said: Go back to your family, stay with them, and teach them (beliefs and practices of Islam) and exhort them to good, and when the time for prayer comes, one amongst you should announce Adhan and then the oldest among you should lead the prayer.
مجھ سے زہیر بن حرب نے کہا, اسماعیل بن ابراہیم ( ابن علیہ ) نے ہمیں حدیث بیان کی ، کہا : ہم سے ایوب نے ابو قلابہ سے حدیث بیان کی ، انھوں نے مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا
ہم رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور ہم سب نوجوان اور ہم عمر تھے ، ہم نے آپ کے پاس بیس راتیں قیام کیا ۔ اللہ کے رسول ﷺ بہت مہربان اور نرم دل تھے ، آپ نے خیال فرمایا کہ ہمیں گھر والوں کے پاس جانے کا اشتیاق ہو گا ، آپ نے ہم سے ہمارے ان گھر والوں کے بارے میں سوال کیا جنھیں ہم چھوڑ آئے تھے ، ہم نے آپ کو بتایا تو آپ نے فرمایا : ‘ ‘ اپنے گھر والوں کے پاس لوٹ جاؤ ، انھی کے درمیان رہو ، انھیں تعلیم دو اور انھیں ( اچھائی پر چلنے کا ) حکم دو ، چنانچہ جب نماز کا وقت آئے تو ایک آدمی تم سب کے لئے اذان کہے ، پھر تم میں سے ( جو عمر میں ) سب سے بڑا ہو وہ تمھاری امامت کرے ۔
This hadith has been transmitted by Ayyub رضی اللہ عنہ with the same chain of narrator.
ہم سے ابو الربیع الزہرانی اور خلف بن ہشام نے بیان کیا، کہا: ہم سے حماد نے ایوب رضی اللہ عنہ سے اس سند کے ساتھ بیان کیا۔
Malik bin Huwairith Abu Sulaiman رضی اللہ عنہ reported:
I came to the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) along with other persons and we were young men of nearly equal age, and the rest of the hadith was transmitted like the hadith narrated before.
اور یہی حدیث ہمیں ابن ابی عمر نے سنائی ، کہا : عبدالوہاب نے بھی ایوب سے ہمیں حدیث بیان کی ، کہا : مجھ سے ابو قلابہ نے بیان کیا ، کہا : ہمیں ابو سلیمان مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ نے حدیث سنائی ، کہا
میں کچھ لوگوں ( کی معیت ) میں رسول اللہ ﷺ کے پاس حاضر ہوا ، ہم تقریبا ہم عمر نوجوان تھے......آگے دونوں ( حماد اور عبدالوہاب ) نے ابن علیہ کی حدیث کی طرح حدیث بیان کی ۔
Malik bin Huwairith رضی اللہ عنہ reported:
I came to the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) along with a companion of mine, and when we intended to return from him, he said: When there is time for prayer, announce prayer, pronounce Iqama, and the oldest amongst you should lead the prayer.
مجھ سے اسحاق بن ابراہیم الحنظَلی نے بیان کیا، انہوں نے ہم سے بیان کیا, عبدالوہاب ثقفی نے خالد حذاء سے ، انھوں نے ابو قلابہ سے اور انھوں نے حضرت مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا
میں اور میرا ساتھی نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے ، جب ہم نے آپ کے ہاں سے واپسی کا ارادہ کیا تو آپ نے ہم سے فرمایا : ‘ ‘ جب نماز ( کا وقت ) آئے تو اذان کہو ، پھر اقامت کہو اور تم دونوں میں جو بڑا ہو وہ تمھاری امامت کر لے ۔ ’’
It was narrated from Hafs, Ibn Ghiyath "Khalid Al-Hadhdha" narrated it to us with this chain." And he added: "Al Hadhdha' said:
'And they were similar with (knowledge of) the Quran .
ہم سے ابوسعید اشج نے بیان کیا، ان سےحفص بن غیاث نے خالد حذاء سے اسی سند کے ساتھ روایت کی اور ( اپنی روایت میں ) یہ اضافہ کیا کہ حذاء نے کہا
دونوں قراءت میں ایک جیسے تھے ۔
Abu Salama bin Abdul-Rahman bin 'Auf heard Abu Huraira رضی اللہ عنہ say:
(When) Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) (wished to invoke curse or blessing on someone, he would do so at the end) of the recitation in the dawn prayer, when he had pronounced Allah-o-Akbar (for bending) and then lifted his head (saying): Allah listened to him who praised Him; our Lord! to Thee is all praise ; he would then stand up and say: Rescue al-Walid b. Walid, Salama bin Hisham, and 'Ayyash bin Abd Rabi'a, and the helpless among the Muslims. O Allah! trample severely Mudar and cause them a famine (which broke out at the time) of Joseph. O Allah! curse Lihyan, Ri'l, Dhakwan, 'Usayya, for they disobeyed Allah and His Messenger. (The narrator then adds): The news reached us that he abandoned (this) when this verse was revealed: Thou but no concern in the matter whether He turns to them (mercifully) or chastises them; surely they are wrongdoers (ill. 127)
مجھ سے ابو الطاہر اور حَرملہ بن یحییٰ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ابن وہب نے بیان کیا, یونس بن یزید نے ابن شہاب سے روایت کرتے ہوئے خبر دی ، کہا : مجھے سعید بن مسیب اور ابو سلمہ بن عبدالرحمن بن عوف نے بتایا کہ ان دونوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ
رسول اللہ ﷺ جب نماز فجر کی قراءت سے فارغ ہوتے اور ( رکوع میں جانے کے لیے ) تکبیر کہتے تو سر اٹھانے کے بعد سمع اللہ لمن حمدہ ربنا ولک الحمد ( اللہ نے سن لیا جس نے اس کی حمد کی ، اے ہمارے رب! اور ٰحمدتیرے ہی لیے ہے ) کہتے ، پھر حالت قیام ہی میں آپ فرماتے : ‘ ‘ اے اللہ!ولید بن ولید ، سلمہ بن ہشام ، عیاش بن ابی ربیعہ اور مومنوں میں سے ان لوگوں کو جنھیں ( کافروں نے ) کمزور پایا ، نجات عطا فرما ۔ اے اللہ!قبیلہ مضر پر اپنے روندنے کو سخت کر ، ان پر اپنے اس مؤاخذے کو یوسف علیہ السلام کے زمانے کے قحط کی طرح کر د ۔ اے اللہ! الحیان ، رعل ، ذکوان اور عصیہ پر ، جنھوں نے اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کی ، لعنت نازل کر ۔ ’’پھر ہم تک یہ بات پہنچی کہ اس کے بعد جب آپ پر یہ آیت اتری : ‘ ‘ آپ کا اس معاملے سے کوئی سروکار نہیں ، ( اللہ تعالیٰ ) چاہے ان کو توبہ کا موقع عطا کرے ، چاہے ان کو عذاب دے کہ و ہ یقینا ظلم کرنے والے ہیں’’ تو آپ نے یہ دعا چھوڑ دی ۔