The Book of Mosques and Places of Prayer
كتاب الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاة
Chapter 5
This hadith has been narrated by Hisham with the same chain of transmitters.
ہم سے محمد بن ابی بکر المقدمی نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے اسحاق بن ابراہیم نے بیان کیا، کہا ہم سے معتمر بن سلیمان نے بیان کیا، اس سند کے ساتھ ہشام کی سند کے ساتھ جیم نے بیان کیا۔
Ali رضی اللہ عنہ reported:
The Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) said: On the day (of the Battle) of Ahzab we were diverted from the middle prayer, till the sun set. May Allah fill their graves or their houses, or their stomachs with fire. The narrator is in doubt about houses and stomachs .
ہم سے محمد بن مثنیٰ اور محمد بن بشار نے بیان کیا، کہا: ہم سے محمد بن جعفر نے بیان کیا, شعبہ نے کہے : ہمیں قتادہ سے سنا ، وہ ابو حسان سے حدیث بیان کررہےتھے ، انھوں نے عبیدہ سے اور انھوں حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہا
رسول اللہ ﷺ نے جنگ احزاب کے دن فرمایا : ’’ان لوگوں نے ہمیں درمیانی نماز سے مشغول کیے رکھا حتی کہ سورج غروب ہو گیا ‘ اللہ تعالیٰ ان کی قبروں کو اور گھروں کو یا ( فرمایا : ) ان کے پیٹوں کو آگ سے بھر دے ۔ ’’گھروں یا پیٹوں کے بارےمیں شعبہ کو شک ہوا ۔
This hadith has heed narrated by Qatada with the same chain of transmitters. And he said:
Their houses and their graves (be filled with fire), and did not express doubt over the words, houses and graves .
ہم سے محمد بن المثنی نے بیان کیا، کہا ہم سے ابن ابی عدی نے بیان کیا, سعید نے قتادہ سے اسی سند کے ساتھ مذکورہ بالا روایت بیان کی
ان کے گھر اور ان کی قبریں (آگ سے بھر جائیں) اور الفاظ، گھروں اور قبروں پر شک کا اظہار نہ کیا۔
Yahya heard 'Ali رضی اللہ عنہ saying:
The Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) said on the day (of the Battle) of Ahzab, while sitting in one of the openings of the ditch: They (the enemies) have diverted us from the middle prayer till the sun set. May Allah fill their graves and their houses with fire, or their graves and stomachs with fire.
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ اور زہیر بن حرب نے بیان کیا، کہا: ہم سے وکیع نے شعبہ کی سند سے، الحکم کی سند سے بیان کیا, یحییٰ بن جزار نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا
رسول اللہ ﷺ نے غزوہ احزاب کے موقع پر جب آپ خندق کی گزر گاہوں میں سے کسی گزر گا ہ پر تشریف فرما تھے ، فرمایا : انھوں نے ہمیں درمیانی نما ( عصر ) سے مشغول کر دیا حتی کہ سورج ڈوب گیا ، اللہ تعالیٰ ان کی قبروں اور گھروں کو یا فرمایا : ان کی قبروں او ر پیٹوں کو آگ سے بھر دے ۔ ‘ ‘
Ali رضی اللہ عنہ reported:
The Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) said on the day (of the Battle) of Ahzab: They diverted us from saying the middle prayer, i.e. the 'Asr prayer. May Allah fill their houses and graves with fire; he then observed this prayer between the evening prayer and the night prayer.
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ، زہیر بن حرب اور ابو کریب نے بیان کیا، انہوں نے کہا: ہم سے ابو معاویہ نے الاعمش کی سند سے اور مسلم بن صبیح کی سند سے بیان کیا, شتیر بن شکل نےحضرت علی رضی اللہ عنہ سےروایت کی ، کہا
رسول اللہ ﷺ نےاحزاب کے دن فرمایا : ’’انھوں نے ہمیں درمیانی نماز ( یعنی ) عصر کی نماز سے مشغول رکھا ، اللہ تعالیٰ ان کے گھروں اور قبروں کو آگ سے بھر دے ۔ ‘ ‘ پھر آپ نے اسے رات کے دونوں نمازوں مغرب اور عشاء کے درمیان پڑھا ۔ ( مغرب کا وقت جارہا تھا اس لیے آخری وقت میں پہلے مغرب پڑھی ، پھر عصر کی قضا پڑھی ، پھر عشاء پڑھی ۔ )
Abdullah (bin Mas'ud) رضی اللہ عنہ reported:
The polytheists detained the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) from observing the afternoon prayer till the sun became red or it became yellow. Upon this the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) said: They have diverted us from (offering) the middle prayer. i. e. the 'Asr prayer. May Allah fill their bellies and their graves with fire, or he said: May Allah stuff their bellies and their graves with fire.
ہم سے عون بن سلام الکوفی نے بیان کیا، کہا ہم سے محمد بن طلحہ الیمی نے بیان کیا، انہوں نے زبید کی سند سے، مرہ کی سند سے۔حضرت عبداللہ ( بن مسعود ) رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، انھوں نے کہا
مشرکوں نے ( جنگ میں مشغول رکھ کر ) رسو ل اللہ ﷺ کو عصر کی نمازسے روکے رکھا یہاں تک کہ سورج سرخ یا زرد ہو گیا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’انھوں نےہمیں درمیانی نماز ، عصر کی نماز سے مشغول رکھا ، اللہ تعالیٰ ان کے پیٹوں اور قبروں میں آگ بھر دے ۔ ‘ ‘ یا فرمایا : ’’ اللہ تعالیٰ ان کے پیٹوں اور قبروں کو آگ سے بھر دے ۔
Abu Yunus, the freed slave of 'A'isha رضی اللہ عنہا said:
'A'isha رضی اللہ عنہا ordered me to transcribe a copy of the Qur'an for her and said: When you reach this verse: Guard the prayers and the middle prayer (ii. 238), inform me; so when I reached it, I informed her and she gave me dictation (like this): Guard the prayers and the middle prayer and the afternoon prayer, and stand up truly obedient to Allah. 'A'isha رضی اللہ عنہا said: This is how I have heard from the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ).
ہم سے یحییٰ بن یحییٰ التمیمی نے بیان کیا، انہوں نے کہا: میں نے مالک کو زید بن اسلم سے، قعقا ع بن حکیم کی سند سے، ابو یونس کی سند سے, حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے آزاد کردہ غلام ابو یونس سے روایت ہے ، کہا کہ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے مجھے حکم دیا: ان کے لیے قرآن مجید لکھوں فرمایا : جب تم اس آیت پر پہنچوں ( حفظو علی الصلوت والصلوۃ الوسطی ) تو مجھے بتانا چنانچہ جب میں آیت پر پہنچا تو انھیں آگاہ کیا ، انھوں نے مجھے لکھوایا : حافظ علی الصلوت والصلاۃ الوسطی وصلاۃ العصر ، قوموا اللہ قانتین ’’ نمازوں کی حفاظت کرو اور ( خاص کر ) درمیانی نماز کی ، یعنی نماز عصر کی اور اللہ کے حضور عاجزانہ قیام کرو ۔ ‘ ‘ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہانے فرمایا : میں نے اسے رسول اللہ ﷺ سےایسے ہی سنا ۔
Al-Bara' bin 'Azib رضی اللہ عنہ reported:
This verse was revealed (in this way): Guard the prayers and the 'Asr prayer. We recited it (in this very way) so long as Allah desired. Allah, then, abrogated it and it was revealed: Guard the prayers, and the middle prayer. A person who was sitting with Shaqiq (one of the narrators in the chain of transmitters) said: Now it implies the 'Asr prayer. Upon this al-Bara' رضی اللہ عنہ said: I have already informed you how this (verse) was revealed and how Allah abrogated it, and Allah knows best.
ہم سے اسحاق بن ابراہیم الحنظَلی نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ بن آدم نے بیان کیا, فضیل بن مرزوق نے شقیق بن عقبہ سے اور انھوں نے حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ
یہ آیت ( اس طرح ) حافظ علی الصلوٰت وصلاۃ العصر ) ) نازل ہوئی ، جب تک اللہ تعالیٰ کو منظور ہوا ہم نے اسے پڑھا ، پھر اللہ تعالیٰ نے اسےمنسوخ کر دیا اور آیت اس طرح اتری : ( حفظوا علی الصلوٰت والصلوٰۃ الوسطیٰ ) ’’نمازوں کی نگہداشت کرو اور ( خصوصا ) درمیان کی نماز کی ‘ ‘ اس پر ایک آدمی نے ‘ جو شقیق کے پاس بیٹھا ہوا تھا ، ان سے کہا : تو پھر اس سے مراد عصر کی نماز ہوئی ؟ حضرت براء رضی اللہ عنہ نے فرمایا : میں تمھیں بتا چکا ہوں کہ یہ آیت کیسے اتری اور اللہ تعالیٰ نے کیسے اسے منسوخ کیا ، ( اصل حقیقت ) اللہ ہی بہتر جانتا ہے
Imam Muslim said: Ashja'i narrated it from Sufyan al-Thauri, who narrated it from al-Aswad bin Qais, who narrated it from 'Uqba, who narrated it from al-Bara' bin 'Azib رضی اللہ عنہ who said:
We recited with the Prophet ( صلی اللہ علیہ وسلم ) (the above-mentioned verse like this, i. e. instead of Salat al- Wusta, Salat al-'Asr) for a certain period. as It has been mentioned (in the above-quoted hadith).
مسلم نے کہا: اسے اشجعی نے سفیان ثوری کی سند سے،اسود بن قیس نے شقیق بن عبہ سے ، انہوں نے حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت کی انھوں نے کہا
ہم یہ آیت ایک عرصے تک نبی اکرم ﷺ کے ساتھ ( اسی طرح ) پڑھتے رہے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ( آگے ) فضیل بن مرزوق کی ( سابقہ ) حدیث کی مانند ہے ۔
Jabir bin 'Abdullah رضی اللہ عنہا reported:
Umar bin al-Khattab رضی اللہ عنہا had been cursing the pagans of the Quraish an the day (of the Battle) of Khandaq (Ditch). (He came to the Holy Prophet) and said: Messenger of Allah, by God, I could not say. the 'Asr prayer till the sun set. Upon this the Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) said: By Allah I, too, have not observed it. So we went to a valley. The Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) performed ablution and we too performed ablution, and then the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) said the 'Asr prayer after the sun had set. and then said the evening prayer after it.
ابو غسان المسمعی اور محمد بن المثنی نے مجھ سے کہا, معاذ بن ہشام نے حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں میرے والد نے یحییٰ بن ابی کثیر سے حدیث سنائی ، انھوں نے کہا : ہمیں ابو سلمہ بن عبدالرحمن نےحضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہوئے حدیث بیان کی کہ
خندق کے روز حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کفار قریش کو برا بھلا کہنے لگے اور عرض کی : اے اللہ کےرسول ! اللہ کی قسم ! میں عصر کی نماز نہیں پڑھ سکا تھا یہاں تک کہ سورج غروب ہونے کو آگیا ۔ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’ اللہ کی قسم ! میں نے ( بھی ) نہیں پڑھی ۔ ‘ ‘ پھر ہم ( وادی ) بطحان میں اترے ، رسول اللہ ﷺ نے وضول کیا اور ہم نے بھی وضو کیا ، پھر رسول اللہ ﷺ نے سورج کے غروب ہو جانے کے بعد عصرکی نماز پڑھی ، پھر اس کے بعد مغرب کی نماز ادا کی ۔
This hadith has been reported by Yahya bin Abi Kathir with the same chain of transmitters.
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ اور اسحاق بن ابراہیم نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ابوبکر نے بیان کیا، اور اسحاق نے کہا: ہم سے وکیع نے بیان کیا, علی بن مبارک نے یحییٰ بن ابی کثیر سے اسی سند کے ساتھ اسی کی مانند حدیث بیان کی.
Abu Huraira رضی اللہ عنہ reported:
The Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) said: Angels take turns among you by night and by day, and they all assemble at the dawn and afternoon prayers. Those (of the angels) who spend the night among you, then, ascend, and their Lord asks them, though He is the best informed about them: How did you leave My servants? -they say: We left them while they were praying and we came to them while they were praying.
ہم سے یحییٰ بن یحییٰ نے بیان کیا، انہوں نے کہا: میں نے مالک رضی اللہ عنہ سے پڑھا,ابو زناد نے اعراج سے ، انھوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’رات کے فرشتے اور دن کے فرشتے ایک دوسرے کے پیچھے تمھارے درمیان آتے ہیں اور فجر کی نماز اور عصری نماز کے وقت وہ اکٹھے ہو جاتے ہیں ، پھر جنھوں نے تمھارے درمیان رات گزاری ہوتی ہے وہ اوپر چلے جاتےہیں ، ان سے ان کا رب پوچھتا ہے ، حالانکہ وہ ان سے زیادہ جانتا ہے : تم میرے بندوں کو کس حال میں چھوڑ کر آئے ہو ؟ وہ جواب دیتےہیں : ہم انھیں ( اس حالت میں ) چھوڑ کر آئے ہیں کہ وہ نماز پڑھ رہے تھے اور ہم ان کے پاس ( کل عصر کے وقت ) اس حالت میں پہنچے تھے کہ وہ نماز پڑھ رہے تھے.
Abu Huraira رضی اللہ عنہ reported:
Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) as saying: Angels take turns among you by night and by day, and the rest of the hadith is the same.
ہم سے محمد بن رافع نے بیان کیا، ہم سے عبدالرزاق نے بیان کیا، ہم سے معمر نے بیان کیا, ہمام بن منبہ نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے اور انھوں نے نبی اکرمﷺ سے روایت کی
آپ نے فرمایا : ’’فرشتے ایک دوسرے کے پیچھے تمھار ے پاس آتے ہیں ۔ ‘ ‘ ( اس حدیث میں ملائکہ کا لفظ یتعاقبون سے پہلے ہے ۔ ) ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ( باقی روایت ) ابو زناد کی روایت کے مانند ہے
Jarir bin Abdullah رضی اللہ عنہ is reported to have said:
We were sitting with the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) that he looked at the full moon and observed: You shall see your Lord as you are seeing this moon, and you will not be harmed by seeing Him. So if you can, do not let -yourselves be overpowered in case of prayer observed before the rising of the sun and its setting, i. e. the 'Asr prayer and the morning prayer. Jarir رضی اللہ عنہ then recited it: Celebrate the praise of thy Lord before the rising of the sun and before Its setting (xx. 130).
زہیر بن حرب نے کہا : ہمیں مروان بن معاویہ فزاری نے حدیث سنائی ، انھوں کہا : ہمیں اسماعیل بن ابی خالد نے خبر دی ، انھوں نے کہا : ہمیں قیس بن ابی حازم نے حدیث سنائی ، انھوں نے کہا : میں نے حضرت جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے سنا ، وہ کہے رہے تھے
ہم رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں بیٹھے ہوئے تھے کہ آپ نے چودھویں رات کے چاند کی طرف نظر کی اور فرمایا : ’’سنو! تم لوگ اپنے رب کو اس طرح دیکھوں گے ، جس طرح اس پورے چاند کو دیکھ رہےہو ، اس کے دیکھنے میں تم بھیٹر نہ لگا ؤ گے ، اگر تم یہ کر سکو کہ سورج نکلنے سے پہلے کی اور سورج غروب ہونے سے پہلے کی نماز میں ( مصروفیت ، سستی وغیرہ سے ) مغلوب نہ ہو ( تو تمہیں یہ نعمت عظمیٰ مل جائے گئی ۔ ) ‘ ‘ آپ کی مراد عصر اور فجر کی نماز سے تھی ، پھر جریر رضی اللہ عنہ نے یہ آیت پڑھی ( وسبح بحمد ربک قبل طلوع الشمس وقبل غروبہا ) اور اپنے رب کی حمد کی تسبیح بیان کرو ، سورج کے نکلنے سے پہلے اور اس کے غروب ہونے سے پہلے ۔ ‘ ‘
Waki' reported (this hadith) with the same chain of transmitters (that the Holy Prophet) said:
You will be soon presented before your Lord, and you will see Him as you are seeing this moon, and then recited (the above-mentioned verse). But (in this hadith) no mention is made of Jarir رضی اللہ عنہ .
ابو بکر بن ابی شیبہ نےعبداللہ بن نمیر ، ابو اسامہ اور وکیع سے باقی ماندہ اسی سند کے ساتھ روایت کی ، اس میں ہے
سنو ! تم لوگ یقینا اپنے رب کے سامنے پیش کیے جاؤ گے اور اس کو اسی طرح دیکھوں گے ، جس طرح اس پور ے چا ند کو دیکھتے ہو ۔ ‘ ‘ پھر روای نے ( ثم قراء جریر کے بجائے ) ثم قراء ( پھر انھوں پڑھا ) کہا اور جریر رضی اللہ عنہ کا نام نہیں لیا ۔
Umara bin Ruwaiba is reported to have said on the authority of his father:
I heard the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) saying: He who observes prayer before the rising of the sun and its setting, i.e. the dawn prayer and the afternoon prayer, would not enter the (Hell) fire. A person belonging to Basra said to him: Did you yourself hear it from the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم )? He said: Yes. The person (from Basra) said: I bear witness that I heard it from the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ); my ears heard it and my heart retained it.
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ، ابو کریب اور اسحاق بن ابراہیم سب نے وکیع کی سند سے بیان کیا، کہا: ہم سے وکیع نے بیان کیا, ( اسماعیل ) ابن ابی خالد ، مسعر اور بختری بن مختار نےیہ روایت ابو بکر بن عمارہ بن رویبہ سے سنی ، انھوں نے اپنے والد ( حضرت عمارہ بن رویبہ ثقفی رضی اللہ عنہ ) سے روایت کی ، انھوں نے کہا
میں نے رسول اللہ ﷺ کویہ فرماتے ہوئے سنا : ’’ وہ شخص ہرگز آگ میں داخل نہیں ہو گا جو سورج نکلنے اور اس کے غروب ہونے سے پہلے نماز پڑھتا ہے ۔ ‘ ‘ یعنی فجر اور عصر کی نمازیں ۔ اس پر بصرہ کے ایک آدمی نے ان سے کہا : کیا آپ نے یہ روایت رسول للہ ﷺ سے سنی تھی ؟ انھوں نے کہا : ہا ں ۔ اس آدمی نے کہا : میں شہادت دیتا ہوں کہ میں نے بھی یہ روایت رسول اللہ ﷺ سے سنی ۔ میرے دونوں کانوں نے اسے سنا اور میرے دل نے اسے یاد رکھا ۔
Umara bin Ruwaiba reported on the authority of his father:
The Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) said: He who said prayer before the rising of the sun and its setting would not enter the fire (of Hell), and there was a man from Basra (sitting) beside him who said: Did you hear it from the Messenger of Allah (way peace be upon him)? He said: Yes, I bear witness to it. The man from Basra said: I bear witness that I did hear from the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) saying it from the place that you heard from him.
مجھ سے یعقوب بن ابراہیم الدورقی نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ بن ابی بکر نے بیان کیا، کہا ہم سے شیبان نے بیان کیا,عبدالملک بن عمیر نے حضرت عمارۃ بن رویبہ کے بیٹے سے اور انھوں نے اپنے والد سے روایت کی ، کہا
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’ جو انسان سورج نکلنے اور اس کے غروب ہونے سے پہلے نماز پڑھتا ہے وہ آگ میں داخل نہیں ہو گا ۔ ‘ ‘ اور ان کے پاس بصرہ کا ایک باشندہ بھی موجود تھا ، اس نے پوچھا : کیا آپ نے یہ حدیث براہ راست نبی اکرم ﷺ سے سنی ؟ تو انھوں نے کہا : ہاں ، اور میں اس کی شہادت دیتا ہوں ۔ اس آدمی نے کہا : اور میں بھی شہادت دیتا ہوں کہ میں نے اسی جگہ ان کو یہ فرماتے ہوئے سنا جہاں آپ نے ان سے سنا تھا ۔
Abu Bakr رضی اللہ عنہ reported on the authority of his father:
The Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) said: He who observed two prayers at two cool (hours) would enter Paradise.
ہدّاب بن خالد ازدی نے کہا : ہمیں ہمام بن یحییٰ نے حدیث سنائی ، کہا : مجھے ابو جمرہ ضبعی نے ابوبکر ( بن ابی موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ ) سے حدیث سنائی اور انھوں نے اپنے والد سے روایت کی کہ
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’جس نے دو ٹھنڈے وقتوں کی نمازیں ادا کیں ، وہ جنت میں داخل ہو گا ۔ ‘ ‘ ( دن کا ٹھنڈا وقت عصر کا اور رات کا سب سے ٹھنڈا وقت فجر کا ہوتا ہے ۔ )
This hadith has been narrated by the same chain of transmitters by Hammam, and said about Abu Bakr رضی اللہ عنہ that he was Ibn Abu Musa.
ہم سے ابن ابی عمر نے بیان کیا, بشر بن سریّ اور عمر و بن عاصم دونوں نے کہا : ہم سے ہمام نے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی اور انھوں نے ابوبکر رضی اللہ عنہ کا نسب بیان کیا اور کہا : ابن ابی موسیٰ.
Salama bin al-Akwa' رضی اللہ عنہ reported:
The Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) used to pray the evening prayer when the sun had set and disappeared (behind the horizon).
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، ان سے حاتم نے جو کہ ابن اسماعیل ہیں، انہوں نے ہم سے یزید بن ابی عبید کی سند سے بیان کیا،حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
رسول اللہﷺ مغرب کی نماز اس وقت پڑھتے جب سورج غروب ہوتا اور پردے کی اوٹ میں چلا جاتا.