The Book of Mosques and Places of Prayer
كتاب الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاة
Chapter 5
Rafi' bin Khadij رضی اللہ عنہ reported:
We used to observe the evening prayer with the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) and then one of us would go away and he could see the (distant) place where his arrow would fall.
ہم سے محمد بن مہران الرازی نے بیان کیا, ولید بن مسلم نے کہا : ہم سے اوزاعی نے حدیث بیان کی ، کہا : ہم سے ابو نجاشی نے حدیث بیان کی ، کہا : میں نے حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے سنا ، کہہ رہے تھے
ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ مغرب کی نماز پڑھتے تو ہم میں سے کوئی شخص لوٹتا اور وہ اپنے تیر کے گرنے کی جگہیں دیکھ سکتا تھا ۔
A hadith like this, i. e. We used to observe evening prayer.... so on and so forth, has been narrated by Rafi' bin Khadij رضی اللہ عنہ by another chain of transmitters:
We used to pray Maghrib..." a similar Hadith (as no. 1441).
ہم سے اسحاق بن ابراہیم الحنظَلی نے بیان کیا، انہوں نے کہا, شعیب بن اسحاق دمشقی نے اوزاعی سے سابقہ سند کےساتھ رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سےحدیث بیان کی ، کہا
ہم مغرب کی نماز ادا کر تے ۔ ۔ ۔ ( آگے ) پچھلی حدیث کی طرح ہے ۔
A'isha the wife of the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ), reported:
The Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) deferred one night the 'Isya' prayer. And this is called 'Atama. And the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) did not come out till Umar bin Khattab رضی اللہ عنہ told (him) that the women and children had gone to sleep. So the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) came out towards them and said to the people of the mosque: None except you from the people of the earth waits for it (for the night prayer at this late hour), and it was before Islam had spread amongst people. And in the narration transmitted by Ibn Shihab the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) is reported to have said: It is not meant that you should compel the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) for prayer. And (this he said) when 'Umar bin Khattab رضی اللہ عنہ called (the Holy Prophet) in a loud voice.
عمرو بن سوّاد عامری اور حرملہ بن یحییٰ دونوں نے کہا : ہمیں ابن وہب نے خبر دی ، انھوں نے کہا : مجھے یونس نےخبر دی کہ انھیں ابن شہاب نے خبر دی ، کہا : مجھے عروہ بن زبیر نے خبر دی کہ نبی اکرم ﷺ کی زوجہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا
ایک رات رسول اللہ ﷺ نے عشاء کی نماز خوب اندھیرا ہونے تک مؤخر فرمائی اور اسی نماز کو عتمہ ( گہری تاریکی کے وقت کی نماز ) کہا جاتا تھا ۔ رسول اللہﷺ ( اس وقت تک ) گھر سے نہ نکلے یہاں تک کہ حضرت عمربن خطاب رضی اللہ عنہ نے کہا : ( مسجد میں آنے والی ) عورتیں اور بچے سو گئے ہیں ۔ اس پر رسول اللہ ﷺ باہر تشریف لائے اور نکل کر مسجد کے حاضرین سے فرمایا : ’’اہل زمین میں سے تمھارے سوا اس نماز کا اور کوئی بھی انتظار نہیں کررہا ‘ ‘ اور یہ لوگوں میں ( مدینہ سے باہر ) اسلام پھیلنے سے پہلے کی بات ہے ۔ حرملہ نے اپنی روایت میں اضافہ کیا کہ ابن شہاب نے کہا : مجھے بتایا گیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’تمھارے لیے مناسب نہ تھا کہ تم اللہ کے رسول ﷺ سے نماز کے لیے اصرار کرتے ۔ ‘ ‘ یہ تب ہوا جب عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے بلند آواز سے پکارا ۔ ( انھوں نے غالباً یہ سمجھا کہ آپ ﷺ بھول گئے ہیں یا سو گئے ہیں
A hadith like this has been narrated by Ibn Shihab with the same chain of transmitters, but therein no mention has been made of the words of al-Zuhri:
It was narrated to me, and that which followed.
مجھ سے عبدالملک بن شعیب بن لیث نے بیان کیا، میرے والد نے مجھ سے میرے دادا کی سند سے بیان کیا, عقیل نے ابن شہاب سے اسی سنج کے ساتھ مذکورہ بالا روایت بیان کی لیکن اس میں زہر ی کا قول
وذکرلی ( مجھے بتایا گیا ) اور اس کے بعد کا حصہ بیان نہیں کیا ۔
A'isha رضی اللہ عنہ reported:
The Apostle of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) one night delayed (observing the 'Isya' prayer) till a great part of the night was over and the people in the mosque had gone to sleep. He (the Holy Prophet) then came out and observed prayer and said: This is the proper time for it; were it not that I would impose a burden on my people (I would normally pray at this time). In the hadith transmitters by 'Abdul-Razzaq (the words are): Were it not that it would impose burden on my people.
مجھ سے اسحاق بن ابراہیم اور محمد بن حاتم نے کہا, محمد بن بکر ، حجاج بن محمد اور عبدالرزاق ۔ سب کے الفاظ باہم ملتے جلتے ہیں ۔ سب نے کہا : ابن جریج سے روایت ہے ، انھوں نے کہا : مجھے مغیرہ بن حکیم نے ام کلثوم بنت ابی بکر سے خبر دی کہ انھوں نے انھیں ( مغیرہ کو ) حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہوئے خبر دی ، انھوں نے کہا
ایک رات نبی اکرم ﷺ ےعشاء کی نماز میں دیر کر دی یہاں تک کہ رات کا بڑا حصہ گزر گیا اور اہل مسجد سو گئے ، پھر آپ باہر تشریف لے گئے ، نماز پڑھائی اور فرمایا : ’’ اگر ( مجھے ) یہ ( ڈر ) نہ ہوتا کہ میں اپنی امت کو مشقت میں ڈالوں گا تو یہی اس کا ( بہترین ) وقت ہے ۔ ‘ ‘ اور عبدالرزاق کی حدیث میں ہے : ’’ اگریہ ( ڈر ) نہ ہوتا کہ یہ میری امت کے لیے مشقت کا سبب بنے گا ۔ ‘ ‘
Abdullah bin Umar رضی اللہ عنہ reported:
We waited one night in expectation of the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) for the last prayer of the night, and he came out to us when a third of the night had passed even after that. We do not know whether he had been occupied with family business or something else. When he came cut he said: You are waiting for prayer, for which the followers of no other religion wait. except you. Were it not a burden for my Ummah, I would have led them (in the 'Isya' prayer) at this hour. He then ordered the Mu'adhdin (to call for prayer) and then stood up for prayer and observed prayer.
مجھ سے زہیر بن حرب اور اسحاق بن ابراہیم نے بیان کیا، انہوں نے کہا: ہم سے انہوں نے بیان کیا، اور زہیر نے کہا: ہم سے جریر نے منصور سے بیان کیا, حکم نےنافع سے اور انھوں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ
ایک رات ہم عشاء کی آخری نماز کے لیے رسول اللہ ﷺ کا انتظار کرتے رہے ، جب رات کا تہائی حصہ گزر گیا یا اس کے ( بھی ) بعد آپ تشریف لائے ، ہمیں معلوم نہیں کہ آپ کو گھر والوں ( کے معاملے ) میں کسی چیز نے مشغول رکھا تھا یا کوئی اور بات بھی ، جب آپ باہر آئے تو فرمایا : ’’بلا شبہ تم ایسی نماز کا انتظار کررہے ہو جسکا تمھارے سوا کسی اور دین کے پیرو کار انتظار نہیں کر رہے ، اور اگر مجھے یہ ڈر نہ ہوتا کہ یہ میری امت کے لیے گراں ہو گا تو میں انھیں اسی گھڑی میں ( یہ ) نماز پڑھایا کرتا ۔ ‘ ‘ پھر آپ نے مؤذن کو حکم دیا ، اس نے اقامت کہی اور آب نے نماز پڑھائی ۔
Abdullah bin 'Umar رضی اللہ عنہ reported:
The Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) was one night occupied (in some work) and he delayed it ('Isya' prayer) till we went to sleep in the mosque. We then woke up and again went to sleep and again woke up. The Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) then came to us and said: None among the people of the earth except you waits for prayer in the night.
مجھ سے محمد بن رافع نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالرزاق نے بیان کیا,ہمیں ابن جریج نے خبر دی ، کہا : مجھے نافع نے خبر دی ، انھوں نے کہا : ہم سے حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے حدیث بیان کی کہ
ایک رات رسول اللہ ﷺ ( کسی بنا پر ) اس ( عشاء کی نماز ) سے مشغول ہو گئے ، آپ نے اسے مؤخر کر دیا یہاں تک کہ ہم مسجد میں سو گئے ، پھر بیدار ہوئے ، پھر سو گئے ، پھر بیدار ہوئے ، پھر آپ ( گھر سے ) نکل کر ہمارے پاس تشریف لائے اور فرمایا : ’’آج رات تمھارے سوا اہل زمین میں سے کوئی نہیں جو نماز کا انتظار کر رہا ہو ۔ ‘ ‘
Thabit reported:
They (the believers) asked Anas رضی اللہ عنہ about the ring of the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) and he said: One night the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) delayed (observing) the 'Isya' prayer up to the midnight or midnight was about to be over. He then came and said: (Other) people have offered prayers and slept, but you are constantly in prayer as long as you wait for prayer. Anas رضی اللہ عنہ said: I perceive as if I am seeing the lustre of his silver ring, and lifted his, small left finger (in order to show how the Prophet had lifted it).
مجھ سے ابوبکر بن نافع العبدی نے بیان کیا، ہم سے بہز بن اسد العمی نے بیان کیا، ہم سے حماد بن سلمہ نے بیان کیا، ثابت سے روایت ہےکہ
انھوں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے رسول اللہ ﷺ یک مہر ( یا انگوٹھی ) کے بارے میں پوچھا تو ( حضرت انس رضی اللہ عنہ نے ) کہا : ایک رات رسول اللہ ﷺ نے عشاء کی نماز آدھی رات تک مؤخر کی یا آدھی رات گزرنےکو تھی ، پھر آپ تشریف لائے اور فرمایا : ’’بلاشبہ ( دوسرے ) لوگوں نے نماز پڑھ لی اور سوچکے ، اور تم ہو کہ نماز ہی میں ہو جب تک نماز کے انتظار میں بیٹھے ہو ۔ ‘ ‘ حضرت انس رضی اللہ عنہ نے بتایا : جیسے میں ( اب بھی ) آپ کی چاندی سے بنی انگوٹھی کی چمک دیکھ رہا ہوں اور انھوں نے بائیں ہاتھ کی انگلی اٹھاتے ہوئے چھوٹی انگلی سے ( اشارہ کیاکہ انگوٹھی اس میں تھی ۔ )
Anas bin Malik رضی اللہ عنہ reported:
We waited for the Messenger of Allah (ﷺ) one night, till it was about midnight. He (the Holy Prophet) came and observed prayer and then turned his face towards us, as it I was seeing the lustre of the silver ring on his finger.
حجاج بن الشاعر نے مجھ سے کہا, ابوزید سعید بن ربیع نے ہمیں حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں قرہ بن خالد نے قتادہ سےحدیث سنائی ، انھوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا
ہم نے ایک رات رسول اللہ ﷺ کا انتظار کیا حتی کہ آدھی رات کے قریب ( کا وقت ) ہوگیا ، پھر آپ آئے اور نماز پڑھائی ۔ پھر آپ نے ہمارے طرف رخ فرمایا ، ایسا لگتا ہے کہ میں ( اب بھی ) آپ کی انگوٹھی کی چمک دیکھ رہا ہوں ، وہ آپ کے ہاتھ میں تھی ، چاندی کی بنی ہوئی تھی.
This hadith has been narrated by Qurra with the same chain of transmitters, but therein he did not mention:
He turned his face towards us.
عبداللہ بن الصباح العطار نے مجھ سے کہا, عبیداللہ بن عبدالمجید حنفی نے قرہ سے اسی سند کے ساتھ ( یہی ) حدیث بیان کی اور یہ بیان نہ کیا
’’پھر آپ نے ہمار ی طرف رخ فرمایا ۔ ‘ ‘
Abu Musa رضی اللہ عنہ reported:
I and my companions who had sailed along with me in the boat landed with me in the valley of Buthan while the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) was staying in Medina. A party of people amongst them went to the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) every night at the time of the 'Isya' prayer turn by turn. Abu Musa رضی اللہ عنہ said: (One night) we (I and my companions) went to the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) and he was occupied in some matter till there was a delay in prayer so much so that it was the middle of the night. The Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) then came out and led them (Musa's companions) in prayer. And when he had observed his prayer he said to the audience present: Take it easy, I am going to give you information and glad tidings that it is the blessing of Allah upon you for there is none among the people, except you, who prays at this hour (of the night), or he said: None except you observed prayer at this. (late) hour. He (i. e. the narrator) said: I am not sure which of these two sentences he actually uttered. Abu Musa رضی اللہ عنہ , said: We came back happy for what we heard from the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ).
641) ہم سے ابوعامر اشعری اور ابو کریب نے بیان کیا، کہا: ہم سے ابو اسامہ نے بریدہ سے اور ابو بردہ سے,حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، انھوں نے کہا
میں اور میرے ( وہ ) ساتھ ۔ جو میرے ساتھ بڑی کشتی میں ( حبشہ سے واپس ) آئے تھے ۔ بطحان کے نشیبی میدان میں اترے ہوئے تھے ، رسول اللہ ﷺ مدینہ میں تھے اور ہر رات ان میں سے ایک جماعت باری باری عشاء کی نمازمیں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوتی تھی ۔ ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ مجھے اور میرے ساتھیوں کو رسول اللہ ﷺ کے ساتھ یوں اتفاق پیش آیا کہ آپ اپنے کسی معاملے میں ( اتنے ) مشغول ہو گئے کہ آپ نے نماز کو مؤخر کر دیا حتی کہ آدھی رات ہو گئی ۔ اس کے بعد رسول اللہ ﷺ تشریف لائے اور لوگوں کو نماز پڑھائی ۔ جب آپ نے ناز مکمل کر لی تو ان لوگوں سے جو آپ کے سامنے حاضر تھے ، فرمایا : ’’ذرا ٹھہر و میں تمھیں بتاتا ہوں اور تم خوش ہو جاؤ یہ تم پر اللہ تعالیٰ کی ایک نعمت ہے کہ لوگوں میں اس وقت ، تمھارے سوا ، کوئی بھی نماز نہیں پڑھ رہا ۔ ‘ ‘ یا آپ نے فرمایا : ’’اس وقت تمھارے سوا کسی نے نماز نہیں پڑھی ۔ ‘ ‘ ہمیں یاد نہیں کہ آپ ﷺ نے کون سا جملہ کہا تھا ۔ ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ نے بتایا : ہم رسول اللہ ﷺ کی بات سن کر خوش خوش واپس آئے ۔
Ibn Juraij reported:
I said to Ata': Which time do you deem fit for me to say the 'Isya' prayer, -as an Imam or alone, -that time which is called by people 'Atama? He said: I heard Ibn 'Abbas رضی اللہ عنہ saying: The Apostle of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) one night delayed the 'Isya' prayer till the people went to sleep. They woke up and again went to sleep and again woke up. Then 'Umar bin Khattab رضی اللہ عنہ stood up and said (loudly) Prayer. Ata' further reported that Ibn 'Abbas رضی اللہ عنہ said: The Apostle of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) came out, and as if I am still seeing him with water trickling from his head, and with his hand placed on one side of the head, and he said: Were it not hard for my Ummah, I would have ordered them to observe this prayer like this (i. e. at late hours). I inquired from 'Ata' how the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) placed his hand upon his head as Ibn Abbas had informed. So Ata' spread his fingers a little and then placed the ends of his fingers on the side of his head. He then moved them like this over his head till the thumb touched that part of the ear which is near the face and then it (went) to the earlock and the part of the heard. It (the bind) neither held nor caught anything but this is how (it moved oil). I said to Ata': Was it mentioned to you (by Ibn Abbas) how long did the Apostle ( صلی اللہ علیہ وسلم ) delay it (the prayer) during that eight? He said: I do not know (I cannot give you the exact time). Ali' said: I love that I should say prayer, whether as an Imam or alone at delayed hours as the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) said that night, but if It is hard upon you in your individual capacity or upon people in the congregation and you are their Imam, then say prayer ('Isha') at the middle hours neither too early nor too late.
ہم سے محمد بن رافع نے بیان کیا، ہم سے عبدالرزاق نے بیان کیا، ابن جریج نے ہمیں خبر دی ، کہا
میں نے عطاء سے پوچھا : آپ کے نزدیک کون سی گھڑی زیادہ پسندیدہ ہے کہ میں اس میں عشاء کی نماز ، جسے لوگ عتمہ کہتے ہیں ، امام کے ساتھ یا انفرادی طور پر پڑھوں ؟ انھوں نے جواب دیا : میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہ کویہ فرماتے ہوئےسنا : ایک رات نبی ﷺ نے عشاء کی نماز میں دیر کر دی حتی کہ لوگ سوئے ، پھر بیدار ہوئے ، پھر سوئے اور بیدار ہوئے تو حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور بلند آواز سے کہا : نماز ! عطاء نے کہا : ابن عباس رضی اللہ عنہ نے بتایا : تو نبی اکرمﷺ نکلے ، ایسا لگتا ہے کہ میں اب بھی آپ کو دیکھ رہا ہوں ، آپ کے سر مبارک سے قطرہ قطرہ پانی ٹپک رہا تھا اور ( بالوں میں سے پانی نکالنے کے لیے ) آپ نے اپنا ہاتھ سر کے آدھے حصے پر رکھا ہوا تھا ، آپ ﷺ نے فرمایا : ’’اگر یہ بات نہ ہوتی کہ میری امت کےلیے مشقت ہو گی تو میں انھیں حکم دیتا کہ وہ اس نماز کو اسی وقت پڑھا کریں ۔ ‘ ‘ ( ابن جریج نے ) کہا : میں نے عطاء سے اچھی طرح چوچھا کہ ابن عباس رضی اللہ عنہ نے انھیں کس طرح بتایا کہ نبی ﷺ نے اپنا ہاتھ کس انداز سے اپنے سر پر رکھا تھا ؟ تو عطاء نے میرے سامنے اپنی انگلیاں کسی قدر کھولیں ، پھر اپنی انگلیوں کے کنارے سر کی ایک جانب رکھے ، پھر ان کو دباتے ہوئے اسطرح ان کو سر پر پھیرا یہا ں تک کہ ان کا انگوٹھا کان کے اس کنارے کو چھونے لگا جو چہرے کے قریب ہوتا ہے ، پھر کنپٹی اور داڑھی کے کنارے کو ( چھوا ) بس اس طرح کیا نہ ( دباؤ میں ) کمی کی نہ کسی چیز کو پکڑا ( اور نچوڑا ۔ ) میں نے عطاء سے پوچھا : آب کو کیا بتایا گیا کہ اس رات نبی اکرم ﷺ نے کتنی تخیر کی ؟ انھوں نے کہا : مجھے معلوم نہیں ۔ عطاء نے کہا : میرے نزدیک زیادہ پسندیدہ یہی ہےکہ میں امام ہوں یا اکیلا ، یہ نماز تاخیر سے پڑھوں ، جس طرح نبی اکرم ﷺ نے اس رات پڑھی تھی ۔ اگر یہ بات تمھارے لیے انفرادی طور پر با جماعت کی صورت میں لوگوں کےلیے جب تم ان کے امام ہو ، دشواری کا باعث ہو تو اس کو درمیان وقت میں پڑھو ، نہ جلد ی اور نہ مؤخر کرکے ۔
Jabir bin Samura رضی اللہ عنہ reported:
The Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) postponed the last 'Isha' prayer.
ہم سے یحییٰ بن یحییٰ، قتیبہ بن سعید اور ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا: ہم سے انہوں نے بیان کیا، اور باقی دو نے کہا, ابواحوص نے سماک سے ، انھوں نے حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ ، کہا
رسول اللہ ﷺ رات کی دوسری نماز تاخیر سے پڑھتے تھے.
Jabir bin Samura رضی اللہ عنہ reported:
The Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) used to observe prayers like your prayers, but he would delay the prayer after nightfall to a little after the time you observed it, and he would shorten the prayer.
قتیبہ بن سعید اور ابو کامل جحدری نے کہا : ہمیں ابو عوانہ نے سماک سے حدیث سنائی ، انھوں نے حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا
رسول اللہ ﷺ نمازیں تمھاری طرح ( اوقات میں ) پڑھتے تھے ، البتہ عشاء مؤخر کرکے تمھاری نماز سے کچھ دیر بعد پڑھتے تھے اور نماز میں تخفیف کرتےتھے ۔ اور ابو کامل کی روایت میں ( یخف فی الصلاۃ کے بجائے ) ’’ یخفف کے الفاظ ہیں ۔ ( مفہوم ایک ہی ہے ۔ )
Abdullah bin 'Umar رضی اللہ عنہ reported:
I heard the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) as saying: Let the bedouin not gain upper hand over you in regard to the name of your prayer. See I (The night prayer should be called) 'Isya' (and the bedouins call it Atama (because) they milk their camels late.
زہیر نے کہا : ہم سے سفیان بن عینہ نے ابو لبید سے ، انھوں نے ابو سلمہ سے اورانھوں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا
میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا : ’’تمھاری نماز کے نام پر تمھارے گنوار لوگ غالب نہ آجائیں ، خبردار !یہ عشاء ہے ، وہ اونٹنیوں کا دودھ دوہنے کی وجہ سے اندھیرا کر دیتے ہیں ( اور اندھیرے ( عتمہ ) کی بنا پر اس وقت پڑھی جانے والی نماز کو صلاۃ العتمہ ، یعنی اندھیرے کی نماز کہتےہیں.
Ibn 'Umar رضی اللہ عنہ said:
The Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) said: Let the bedouin not gain upper band over you In regard to the name of your prayer, i. e. night prayer, for it is mentioned 'Isya' in the Book of Allah (i. e. the Qur'an). (The bedouin call it 'Atama because) they make delay in milling their she-camels.
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا, وکیع نے سفیان سے باقی ماندہ سابقہ سند کے ساتھ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’تمھاری صلاۃ عشاء کے نام پر بدوتم پر غالب نہ آجائیں کیونکہ اللہ کی کتاب میں ا س کا نام عشاء ہے : اور بدو اونٹنیوں کا دودھ دوہنے میں اندھیرا کر دیتے ہیں ۔ ‘ ‘
A'isha رضی اللہ عنہا reported:
The believing women used to pray the morning prayer with the Messenger of Allah and then return wrapped in their mantles. No one could recognize them.
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ، عمرو ناقد اور زہیر بن حرب نے بیان کیا, سفیان بین عیینہ نے زہری سے ، انھوں نے عروہ سےاور انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ
مومن عورتیں صبح کی نماز نبی اکرم ﷺ کے ساتھ پڑھتی تھیں ، پھر اپنی چادریں اوڑھے ہوئے واپس آتیں اور ( اندھیرے کی وجہ سے ) کوئی انھیں پہچان نہیں سکتا تھا ۔
A'isha رضی اللہ عنہا , the wife of the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ), reported:
The believing women observed the morning prayer with the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) wrapped in their mantles. They then went back to their houses and were unrecognizable, because of the Messenger of Allah's ( صلی اللہ علیہ وسلم ) praying in the darkness before dawn.
مجھ سے حرملہ بن یحییٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے ابن وہب نے بیان کیا, یونس نے ابن شہاب سے باقی ماندہ سابقہ سند کے ساتھ نبی اکرم ﷺ کی زوجہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی ، انھوں نےکہا
کچھ مومن عورتیں فجر کی نماز میں اپنی چادریں اوڑھے ہوئے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ شریک ہوتی تھیں ، پھر وہ اپنے گھروں کو لوٹتیں تو رسول اللہ ﷺ کے اندھیرے میں نماز پڑھنے کی بنا پر وپہچانی نہ جا سکتی تھیں.
A'isha رضی اللہ عنہ reported:
The Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) used to observe the morning prayer, and the women would go back wrapped in their mantles being unrecognisable because of the darkness before dawn. (Ishaq bin Musa) al-Ansari (one of the transmitters in this chain of narration) narrated wrapped (only) in his narration. (No mention was made of mantles.)
نصر بن علی جہضمی اور اسحاق بن موسیٰ انصاری نے کہا : ہمیں معن نے مالک سے حدیث بیان کی ، انھوں نے یحییٰ بن سعید سے ، انھوں نے عمرہ سے اور انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا ایسا تھا کہ
رسول اللہ ﷺ صبح کی نماز پڑھتے تو عورتیں اپنی چادریں اوڑھے ہوئے گھروں کو لوٹتیں ، ( اور ) اندھیرےکی وجہ سے پہچانی نہیں جاتی تھیں ۔ انصاری کی روایت میں ( متلفعات کے بجائے ) متلففات ( چادروں میں لپٹی ہوئی ) کے الفاظ ہیں ۔
Muhammad bin 'Amr bin al-Hasan bin 'Ali رضی اللہ عنہ reported:
When Hajjaj came to Medina we asked Jabir bin Abdullah رضی اللہ عنہ (about the timings of prayer as observed by the Holy Prophet). He said: The Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) used to pray afternoon prayer in the midday heat; the afternoon prayer when the sun was bright; the evening prayer when the sun had completely set; and as for the night prayer, he sometimes delayed and sometimes (observed it) at earlier hours. When he found them (his Companions) assembled (at earlier hours) he (prayed) early. and when he saw them coming late, he delayed the (prayer). and the morning prayer the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) observed in the darkness before dawn.
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا, محمد بن جعفر غندر نے ہمیں حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں شعبہ نے حدیث سنائی ، انھوں نے سعد بن ابراہیم سے اور انھوں نے محمد بن عمرو بن حسن بن علی ( بن ابی طالب ) رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا
جب حجاج مدینہ منورہ آیا ( اور تاخیر سے نمازیں پڑھنے لگا ) تو ہم نے ( نماز کےاوقات کے بارے میں ) جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے پوچھا ، انھوں نے بتایا کہ رسول اللہ ﷺ ظہر کی نما دوپہر کو ( زوال کے فورا بعد ) پڑھتے تھے اور عصر ایسے وقت میں پڑھتے تھے کہ سورج بالکل صاف ( اور روشن ہوتا ) تھا اور مغرب کی نماز سورج غروب ہوتے ہی پڑھتے اور عشاء کی نماز کو کبھی مؤخر کرتے اور کبھی جلدی ادا کرتے ، جب آپ دیکھتے کہ لوگ جمع ہو گے ہیں تو جلدی پڑھ لیتے ارو جب انھیں دیکھتے کہ دیر کر دی ہے تو تاخیر کر دیتے ۔ اور صبح ( کی نماز ) یہ لوگ ۔ ۔ یا کہا : نبی ﷺ اندھیرے میں پڑھتے تھے ۔