The Book of Mosques and Places of Prayer
كتاب الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاة
Chapter 5
Muhammad bin 'Amr al-Hasan bin 'Ali رضی اللہ عنہما reported:
Hajjaj used to delay the prayers, and so we asked Jabir bin 'Abdullah رضی اللہ عنہ , and the rest of the hadith is the same.
ہم سے عبید اللہ بن معاذ نے بیان کیا، ہم سے میرے والد نے بیان کیا، ہم سے شعبہ نے بیان کیا، وہ سعد رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے محمد بن عمرو بن الحسن بن علی رضی اللہ عنہما سے سنا، انہوں نے کہا
حجاج نمازوں میں تاخیر کر دیتا تھا تو ہم نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے پوچھا ۔ ۔ ۔ ( آگے ) غندر کی روایت کی طرح ہے ۔
Sayyar bin Salama reported:
I heard my father asking Abu Barza (al- Aslami) رضی اللہ عنہ about the prayer of Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) I (Shu'ba, one of the narrators) said: Did you hear it (from Abu Barza رضی اللہ عنہ )? He said: 1 feel as if I am bearing you at this very time. He said: I heard my father asking about the prayer of the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) and he (Abu Barza رضی اللہ عنہ ) making this reply: He (the Holy Prophet) did not mind delaying-some (prayer) i. e. 'Isya' prayer, even up to the midnight and did not like sleeping before observing it, and talking after it. Shu'ba said: I met him subsequently and asked him (about the prayers of the Holy Prophet) and he said: He observed the noon prayer when the sun was past the meridian, he would pray the afternoon prayer, after which a person would o to the outskirts of Medina and the sun was still bright; (I forgot what he said about the evening prayer) ; I then met him on a subsequent occasion and asked him (about the prayers of the Holy Prophet; and he said: He would observe the morning prayer (at such a time) so that a man would go back and would recognize his neighbour by casting a glance at his face, and he would recite from sixty to one hundred verses in it.
ہم سے یحییٰ بن حبیب الحارثی نے بیان کیا، انہوں نے بیان کیا, خالد بن حارث نے ہمیں حدیث سنائی ، کہا : شعبہ نے ہمیں حدیث بیان کی ، کہا : مجھے سیار بن سلامہ نے خبر دی ، کہا
میں نے سنا کہ میرے والد ، حضرت ابو برزہ اسلمی رضی اللہ عنہ سے رسول اللہ ﷺ کی نماز کے بارے میں پوچھ رہے تھے ۔ ( شعبہ نے ) کہا : میں نے پوچھا : کیا آپ نے خود انھیں سنا ؟ انھوں نے کہا : ( اسی طرح ) جیسے میں ابھی تمھیں سن رہا ہوں ، کہا : میں نے سنا ، میرے والد ان سے رسول اللہ ﷺ کی نماز کے بارے میں سوال کر رہے تھے ، انھوں نے بتایا کہ آپ اس ، یعنی عشاء کی نماز کو کچھ ( تقریباً ) آدھی رات تک مؤخر کرنے میں مضائقہ نہ سمجھتے تھے اور اس نماز سے پہلے سونے اور اس کے بات چیت کرنے کو نا پسند فرماتے تھے ۔ شعبہ نے کہا : میں بعد ازاں ( دوبارہ ) ان سے ملاتو میں نے ان سے ( پھر ) پوچھا تو انھوں ( سیار ) نے کہا : آپ ظہر کی نماز سورج ڈھلنے کے وقت پڑھتے تھے اور عصر ایسے وقت میں پڑھتے کہ انسان نماز پڑھ کر مدینہ کے دور ترین حصے تک پہنچ جاتا اور سورج ( اسی طرح ) زندہ ( روشن اور گرم ) ہوتا تھا اور انھوں نے کہا : مغرب کے لیے میں نہیں جانتا ، انھوں نے کون سا وقت بتایا تھا ۔ ( شعبہ نے ) کہا : میں اس کے بعد ( پھر ) سیار سے ملا اور ان سے پوچھا تو انھوں نے بتایا : ( آپ ﷺ ) صبح کی نماز ایسے وقت میں پڑھتے کہ انسان سلام پھیرتا اور اپنے ساتھ بیٹھے ہوئے انسان کے چہرے کو ، جسے وہ جانتا ہوتا ، دیکھتا تو اسے پہچان لیتا اور آپ اس ( نماز ) میں ساٹھ سے سو تک آیتیں تلاوت فرماتے تھے ۔
Sayyar bin Salama reported:
I heard Abu Barza saying that the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) did not mind some delay in the 'Isha' prayer even up to midnight and he did not like sleeping before (observing it) and talking after it. Shu'ba said: I again met him (Sayyar b. Salama) for the second time and he said: Even up to the third (part) of the night.
معاذ عنبری نے شعبہ سے حدیث بیان کی اور انھوں نے سیار بن سلامہ سے روایت کی کہ
میں نے ابو برزہ کو کہتے ہوئے سنا ، رسول اللہ عشاء کی نماز میں کچھ ( یعنی ) آدھی رات تک تا خیر کی پروانہ کرتے تھے اور اس سے پہلے سونے اور اس کے بعد گفتگو کرنے کو پسند نہیں فرماتے تھے ۔ شعبہ نے کہا : پھر میں انھیں دوبارہ ملاتو انھوں نے کہا : یا تہائی رات تک ۔
Abu Barza bin Aslami رضی اللہ عنہ is reported to have said:
The Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) delayed the night prayer till a third of the night had passed and he did not approve of sleeping before it, and talking after it, and he used to recite in the morning prayer from one hundred to sixty verses (and completed the prayer at such hours) when we recognized the faces of one another.
ہم سے ابو کریب نے بیان کیا، کہا ہم سے سوید بن عمرو کلبی نے بیان کیا، انہوں نے حماد بن سلمہ سے، انہوں نے سیار بن سلمہ ابی المنہال سے، انہوں نے کہا: میں نے ابو بر زازہ اسلمی رضی اللہ عنہ کو کہتے سنا
رسول اللہ ﷺ عشاء کو تہائی رات تک مؤخر کر دیتے تھے اور اس سے پہلے سونے اور بعد میں گفتگو کرنے کو ناپسند فرماتے تھے اور صبح کی نماز میں سو سے لے کر ساٹھ تک آیتیں تلاوت فرماتے اور ایسے وقت میں سلام پھیرتے تھے جب ہم ایک دوسرے کے چہرے کو پہچان سکتے تھے.
Abu Dharr رضی اللہ عنہ reported:
The Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) said to me: How would you act when you are under the rulers who would delay the prayer beyond its prescribed time, or they would make prayer a dead thing as far as its proper time is concerned? I said: What do you command? He (the Holy Prophet) said: Observe the prayer at Its proper time, and if you can say it along with them do so, for it would be a superetogatory prayer for you. Khalaf (one of the narrators in the above hadith) has not mentioned beyond their (prescribed) time .
خلف بن ہشام ، ابوربیع زہرانی اور ابو کامل جحدری نے حدیث بیان کی کی ، کہا ہمیں حماد بن زید نے حدیث سنائی ، انھوں نے ابو عمران جونی سے ، انھوں نے عبداللہ بن صامت سے اور انھوں نے حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا
رسول اللہ ﷺ نے مجھے فرمایا : ’’تمھارا کیا حال ہوگا جب تم پر ایسے لوگ حکمران ہوں گے جو نماز کو اس کے وقت سے مؤخر کریں گے یا نماز کو اس کے وقت سے ختم کردیں گے ؟ ‘ ‘ میں نے عرض کیگ تو آپ مجھے ( اس کے بارے میں ) کیا حکم دیتے ہیں ؟ آپ نے فرمایا : ’’تم اپنے وقت پر نماز پڑھ لینا اگر تمھیں ان کے ساتھ ( بھی ) نماز مل جائے تو پڑھ لینا ، وہ تمھارے لیے نفل ہو جائے گی ۔ ‘ ‘ خلف نےعن وقتھا ( اس کے وقت سے ) کے الفاظ بیان نہیں کیے ۔
Abu Dharr رضی اللہ عنہ reported:
The Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) said to me: O Abu Dharr, you would soon find after me rulers who would make their prayers dead. You should say prayer at its prescribed time. If you say prayer at its prescribed time that would be a supererogatory prayer for you, otherwise you saved your prayer.
ہم سے یحییٰ بن یحییٰ نے بیان کیا,جعفر بن سلیمان نے ابو عمران جونس سے اسی سند کے ساتھ حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا
رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے کہا : ’’ابو ذر! میرے بعد ایسے حکمران آئیں گے جو نماز کو ماردیں گے ( ان کا وقت ختم کردیں گے ) تو تم نماز کو اس کے وقت پر پڑھ لینا ، اگر تم نے نماز وقت پرپڑھ لی تو ( ان کے ساتھ ادا کی گئی دوسری نماز ) تمھارے لیے نفل ہو جائے گی ورنہ تم نے اپنی نماز تو بچا ہی لی ہے.
Abu Dharr رضی اللہ عنہ reported:
My friend (the Holy Prophet ﷺ) bade me to hear and obey (the ruler) even if he is a slave having his feet and arms cut off, and observe prayer at its prescribed time. (And further said): It you find people having observed the prayer, you in fact saved your prayer, otherwise (if you join with them) that would be a Nafl prayer for you.
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے عبداللہ بن ادریس نے بیان کیا,شعبہ نے ابو عمران سے باقی ماندہ سابقہ سند کے ساتھ حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا
میرے خلیل نے مجھے حکم دیا تھا کہ میں سنوں اور فرمانبرداری کروں ، چاہے کٹے ہوئے بازوں والا غلام ( ہی حکمران ) ہو اور یہ کہ میں نماز وقت پر پڑھوں ( آپ ﷺ نے فرمایا : ) ’’پھر اگر تم لوگوں کو اس حالت میں پاؤ کہ انھوں نے نماز پڑھ لی ہے تو تم اپنی نماز بچا چکے ہو ( وقت پر پہلے پڑھ چکے ہو ) ، اور اگر ( انھوں نے نہیں پڑھی اور تم ان کے ساتھ شریک ہوئے ) تو تمھاری یہ نماز نفل ہو گی ۔ ‘ ‘
Abu Dharr رضی اللہ عنہ reported:
The Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) struck my thigh and said: How would you act if you survive among the people who would delay prayers beyond their (prescribed) time? He (Abu Dharr) said: What do you command (under this situation)? He (the Holy Prophet) slid: Observe prayer at its prescribed time, then go (to meet) your needs, and if the Iqama is pronounced, and you are present in the mosque, then observe prayer (along with the Jama'at).
مجھ سے یحییٰ بن حبیب الحارث نے بیان کیا، ہم سے خالد بن حارث نے بیان کیا، ہم سے شعبہ نے بیان کیا،بدیل سے روایت ہے ، انھوں نے کہا : میں نے ابو عالیہ سے سنا ، وہ عبداللہ بن صامت سے اور وہ حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ سے روایت کر رہے تھے ، کہا
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اور میری ران پر ہاتھ مارا : ’’تمھارا کیاحال ہو گا جب تم ایسے لوگوں میں اپنی بقیہ زندگی گزار رہے ہو گے جو نماز کو اس کے وقت سے مؤخر کردیں گے ؟ ‘ ‘ ( عبداللہ بن صامت نے ) کہا : انھوں نے کہا : آپ کیا حکم دیتے ہیں ؟فرمایا : ’’تم نماز کواس کے وقت پر ادا کرلینا ، اور اپنی ضرورت کے لیے چلے جانا ، پھر اگر نماز کی اقامت کہی گئی اور تم مسجد میں ہوئے تو ( دوبارہ ) پڑھ لینا ۔ ‘ ‘
Abu'l-'Aliyat al-Bara reported:
Ibn Ziyad delayed the prayer. 'Abdullah bin Samit came to me and I placed a chair for him and he sat in it and I made a mention of whit Ibn Ziyad had done. He bit hit lips (as a sign of extreme anger and annoyance) and struck at my thigh and said: I asked Abu Dharr رضی اللہ عنہ as you have asked me, and he struck my thigh just as I have struck your thigh, and said: I asked the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) as you have asked me and he struck my thigh just as I have struck your thigh, and he (the Holy Prophet) said: Observe prayer at its prescribed time, and if you can say prayer along with them. do so, and do not say. I have observed prayer and so I shall not pray.
مجھ سے زہیر بن حرب نے بیان کیا، کہا ہم سے اسماعیل بن ابراہیم نے بیان کیا, ایوب نے ابو عالیہ برّاء سے روایت کی ، کہا
ابن زیاد نے نماز میں تاخیر کر دی تو میرے پاس عبداللہ بن صامت تشریف لے آئے ، میں نے ان کے لیے کرسی رکھوا دی ، وہ اس پر بیٹھ گئے ، میں نے ان کے سامنے ابن زیاد کی حرکت کا تذکرہ کیا تواس پر انھوں نے اپنا ( نچلا ) ہونٹ دانتوں میں دبایا اور میری ران پر ہاتھ مار کر کہا : جس طرح تم نے مجھ سے پوچھا ہے ، اسی طرح میں نے ابو ذر رضی اللہ عنہ سے پوچھا تھا ، انھوں نے بھی اسی طرح میری ران پر ہاتھ مارا تھا جس طرح میں نے تمھاری ران پر ہاتھ مارا ہے اور کہا : میں نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا تھا جس طرح تم نے مجھ سے پوچھا ہے تو آپ ﷺ نے میری ران پر ہاتھ مارا جس طرح میں نے تمھاری ران پر ہاتھ مارا ہے اور فرمایا : ’’تم نماز بروقت ادا کرلینا ، پھر اگرتمھیں ان کے ساتھ نماز پڑھنی پڑھ تو ( پھر سے ) نماز پڑھ لینا اور یہ نہ کہنا : میں نے نماز پڑھ لی ہے اس لیے اب نہیں پڑھوں گا ۔ ‘ ‘
Abu Dharr رضی اللہ عنہ reported:
(The Messenger of Allah ﷺ) said: How would you, or how would thou, act if you survive to live among people who defer prayer beyond the (prescribed) time? (The narrator said: Allah and His Messenger know best). whereupon he said: Observe prayer at its prescribed time, but if the Iqama is pronounced for (congregational) prayer, then observe prayer along with them. for herein is an excess of virtue.
ہم سے عاصم بن النضْدر التیمی نے بیان کیا، ہم سے خالد بن حارث نے بیان کیا، ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ابو نعامہ نے عبداللہ بن صامت سےاور انھوں نے حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا
آپ ﷺ نے فرمایا : ’’تم لوگوں کا کیا حال ہو گا ‘ ‘ یا فرمایا : ’’تمھاری کیفیت کیا ہو گی جب تم ایسے لوگوں میں رہ جاؤ گے جو نماز کو اس کے وقت سے مؤخر کریں گے ؟ تم وقت پر نماز پڑھ لینا ، پھر اگر ( تمھاری موجودگی میں ) نماز کی اقامت ہو تو تم ان کے ساتھ ( بھی ) پڑھ لینا کیونکہ یہ نیکی میں اضافہ ہے ۔ ‘ ‘
Abu'l-'Aliyat al-Bara' reported:
I said to 'Abdullah bin Samit: We say our Jumu'a prayer behind those rulers who defer the prayer. He ('Abdullah bin Samit), struck. my thigh that I felt pain and said: I asked Abu Dharr رضی اللہ عنہ about it, he struck my thigh and said: I asked the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) about it. Upon this he said: Observe prayer at its prescribed time, and treat prayer along with them (along with those Imams who deter prayer) as Nafl. 'Abdullah said: It was narrated to me that the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) struck the thigh of Abd Dharr رضی اللہ عنہ .
مجھ سے ابو غسان المسمعی نے بیان کیا، معاذ نے جو ابن ہشام ہیں، مجھ سے میرے والد نے بیان کیا,مطر نے ابو عالیہ بّراء سے روایت کی ، کہا
میں نے عبداللہ بن صامت سے پوچھا کہ ہم جمعہ کے دن حکمرانوں کی اقتدا میں نماز پڑھتے ہیں اور وہ نماز کو مؤخر کر دیتے ہیں ۔ تو انھوں نے زور سے میری ران پر ہاتھ مارا جس سے مجھے تکلیف محسوس ہوئی اور کہا : میں نے اس کے بارےمیں ابو ذر رضی اللہ عنہ سے پوچھا تو انھوں نے ( بھی ) میری ران پر ہاتھ مارا تھا اور کہا تھا : میں نے اس کے بارے میں رسول اللہ ﷺ سے سوال کیا تھا تو آپ نے فرمایا : ’’نماز اس کے وقت پر ادا رکر لو ، پھر ان ( حکمرانوں ) کے ساتھ اپنی نماز کو نفل بنالو ۔ ‘ ‘ کہا : عبداللہ نے کہا : مجھے بتایا گیا کہ نبی اکرم ﷺ نے ( بھی ) ابو ذر رضی اللہ عنہ کی ران پر ہاتھ مارا تھا ۔
Abu Huraira رضی اللہ عنہ reported:
Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) as saying: Prayer said in a congregation is twenty-five degrees more excellent than prayer said by a single person.
ہم سے یحییٰ بن یحییٰ نے بیان کیا، انہوں نے کہا, مالک نےابن شہاب ( زہری ) سے ، انھوں نے سعید بن مسیب سے اور انھوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت یک کہ
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’ باجماعت نماز تمھارے اکیلے کی نماز سے پچیس گنا ہ افضل ہے
Abu Huraira رضی اللہ عنہ reported:
Allah's Apostle ( صلی اللہ علیہ وسلم ) as saying: Prayer said in a congregation is twenty-five degrees more excellent than prayer said by a single person. He (Abu Huraira رضی اللہ عنہ further) said: The angels of the night and the angels of the day meet together. Abu Huraira رضی اللہ عنہ said: Recite it you like: Surely the recital of the Qur'an at dawn is witnessed (al-Qur'an, xvii. 78).
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا, عبدالاعلی نے معمر سے ، انھوں نے زہری سے ، اسی سند کے ساتھ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے اور انھوں نے نبی ﷺ سے روایت کی
آپ نے فرمایا : ’’ سب کے ساتھ مل کر نماز پڑھنا اکیلے انسان کی نماز سے پچیس درجے افضل ہے ۔ ’’آپ نے فرمایا : ’’رات کے فرشتے اور دن کے فرشتے فجر کی نماز میں جمع ہوتے ہیں ۔ ‘ ‘ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا : تم چاہو تو یہ آیت پڑھ لو ( جو اس بات کی تصدیق کرتی ہے ) : ’’ اور فجر کے وقت قرآن پڑھنا بلاشبہ فجر کی قراءت میں حاضری دی جاتی ہے.
Abu Huraira رضی اللہ عنہ said:
I heard the prophet ﷺ say..." a hadith lie that Abdul-Ala from Mamar (no. 1473), except that he said, Twenty five times better in reward."
مجھ سے ابوبکر بن اسحاق نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا, شعیب نے زہری سے روایت کی ، کہا : مجھے سعیداور ابو سلمہ نے خبر دی کہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نےکہا
میں نے نبی ﷺ سے سنا ، آپ فرما رہے تھے ۔ ۔ ۔ ۔ آگے معمر سے عبدالاعلیٰ کی ( مذکورہ بالا ) حدیث کی رضی اللہ عنہ طرح ہے ، اس کے سوا کہ انھوں نے ( درجے کی بجائے ) ’’پچیس جز ‘ ‘ کہا ۔
Abu Huraira reported:
Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) as saying: Prayer said in a congregation is equivalent to twenty-five (prayers) as compared with the prayer said by a single person.
ہم سے عبداللہ بن مسلمہ بن قنب نے بیان کیا، کہا ہم سے افلح نے بیان کیا، وہ ابوبکر بن محمد بن عمرو بن حزم رضی اللہ عنہ سے,سلمان اغر نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’باجماعت نماز اکیلے کی پچیس نمازوں کے برابر ہے
Abu Huraira رضی اللہ عنہ reported:
The Messenger of Allah (ﷺ) said: Prayer along with the Imam is twenty-five times more excellent than prayer said by a single person.
مجھ سے ہارون بن عبداللہ اور محمد بن حاتم نے بیان کیا، کہا: ہم سے حجاج بن محمد نے بیان کیا، کہا: ابن جریج نے کہا, عمر بن عطاء بن ابی خوار نے خبر دی کہ میں نے نافع بن جبیر بن مطعم کے پاس بیٹھا ہوا تھا کہ اس اثنا میں ہمارے پاس سے جہنیوں کے آزاد کردہ غلام زید بن زبان کے بہنوئی ابو عبداللہ گزرے ، نافع نے انھیں بلایا ( اور حدیث سنا نے کو کہا ۔ ) انھوں نے کہا : میں نے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کو کہتے ہوئے سنا
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’امام کے ساتھ ( پڑھی گئی ) نماز ایسی پچیس نمازوں سے افضل ہے جو انسان اکیلے پڑھتا ہے ۔ ‘ ‘
Ibn Umar رضی اللہ عنہ reported:
Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) assaying: Prayer said in a congregation is twenty-seven degrees more excellent than prayer said by a single person.
ہم سے یحییٰ بن یحییٰ نے بیان کیا: میں نے پڑھا مالک نے نافع سے اورانھوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ
رسول اللہ ﷺنے فرمایا : ’’با جماعت نماز پڑھنا اکیلے کی نماز سے ستائیس درجے افضل ہے ۔ ‘ ‘
Ibn 'Umar رضی اللہ عنہ reported:
Allah's Apostle ( صلی اللہ علیہ وسلم ) as saying: The prayer of a person in congregation is twenty-seven times in excess to the prayer said alone.
مجھ سے زہیر بن حرب اور محمد بن المثنیٰ نے بیان کیا، کہا یحییٰ نے عبید اللہ سے حدیث بیان کی ، کہا : مجھے نافع نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے خبر دی ، انھوں نے نبی اکرم ﷺ سے روایت کی کہ
آپ نے فرمایا : ’’آدمی کی جماعت کے ساتھ نماز اسکی اکیلے پڑھی گئی ستائیس نمازوں سے بڑھ کر ہے.
It was narrated from 'Ubaidullah from this chain (a hadith similar to. 1478). Ibn Numair said, narrated from his father:
"Twenty-odd." (degrees) and Abu Bakr in his narration (has narrated it) twenty-seven degrees.
ابو بکر بن ابی شیبہ نےہمیں حدیث سنائی ، کہا : ہمیں ابو اسامہ اور ( محمد بن عبداللہ ) ابن نمیر نے حدیث سنائی ، نیز ابن نمیر نے ( کہا : ) ہمیں میرے والد نے حدیث سنائی ، ان دونوں ) ( ابو اسامہ اور ابن نمیر ) نے کہا : ہمیں عبیداللہ نے اسی سندکے ساتھ یہی حدیث بیان کی ۔ ابن نمیر نے اپنےوالد سے روایت کردہ حدیث میں بضعا و عشرین ( بیس سے زائد ) کے الفاظ روایت کیے
اور ابوبکر بن ابی شبیہ نے اپنی روایت میں ستائیس درجے کہا ۔
Ibn 'Umar رضی اللہ عنہ reported:
The Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) as some and twenty (degrees).
ہم سے ابن رافع نے بیان کیا، ہم سے ابن ابی فدیک نے بیان کیا, ضحاک نے نافع سے ، انھوں نے ابن عمر رضی اللہ عنہ سے اور
انھوں نے نبی اکرم ﷺ سے روایت کی ، فرمایا : ’’بیس سے زائد ۔ ‘ ‘