It was narrated that Ibn Abbas رضی اللہ عنہم said:
Concerning the words of Allah, the Mighty and Sublime: Seven of Al-Mathani (seven repeatedly-recited): The seven long ones.
ہم سے علی بن حجر نے بیان کیا، ہم سے شریک نے ابواسحاق سے اور سعید بن جبیر سے, عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم سے
اللہ عزوجل کے قول: «سبعا من المثاني» کی تفسیر میں مروی ہے کہ اس سے مراد سات لمبی سورتیں ہیں۔
It was narrated that Imran bin Hussain رضی اللہ عنہما said:
The Prophet (ﷺ) prayed Zuhr and a man behind him recited: Glorify the Name of your Lord, the Most High. When he had finished praying, he said: 'Who recited: Glorify the Name of your Lord, the Most High? A man said: 'I did.' He said: 'I realized that some of you were disputing with me over it' .
ہم سے محمد بن مثنیٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ نے بیان کیا، ہم سے شعبہ نے قتادہ کی سند سے اور زرارہ کی سند سے بیان کیا, عمران بن حصین رضی اللہ عنہما کہتے ہیں
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر پڑھائی تو ایک آدمی نے آپ کے پیچھے سورۃ «سبح اسم ربك الأعلى» پڑھی، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھ لی تو پوچھا: سورۃ «سبح اسم ربك الأعلى» کس نے پڑھی؟ تو اس آدمی نے عرض کیا: میں نے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے ایسا لگا کہ تم میں سے کسی نے مجھے خلجان میں ڈال دیا ہے ۔
It was narrated from Imran bin Husain رضی اللہ عنہما that:
The Prophet (ﷺ) prayed Zuhr or Asr, and a man was reciting behind him. When he had finished he said: Which one of you recited: Glorify the Name of your Lord, the Most High? A man among the people said: I did, but I did not intend anything but good. The Prophet (ﷺ) said: I realized that some of you were disputing with me over it.
ہم سے قتیبہ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ابو عونہ نے قتادہ سے اور زرارہ بن اوفی سے روایت کی ہے, عمران بن حصین رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر یا عصر پڑھائی، اور ایک آدمی آپ کے پیچھے قرآت کر رہا تھا، تو جب آپ نے سلام پھیرا تو پوچھا: تم میں سے سورۃ «سبح اسم ربك الأعلى» کس نے پڑھی ہے؟ لوگوں میں سے ایک شخص نے کہا: میں نے، اور میری نیت صرف خیر کی تھی، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے ایسا لگا کہ تم میں سے بعض نے مجھ سے سورۃ پڑھنے میں خلجان میں دال دیا ۔
It was narrated from Abu Hurairah رضی اللہ عنہ :
The Messenger of Allah (ﷺ) finished a prayer in which he recited out loud, then he said: 'Did any one of you recite with me just now?' A man said: 'Yes, O Messenger of Allah.' He said: 'I was wondering what was distracting me in reciting Quran.' So the people stopped reciting in prayers in which the Messenger of Allah (ﷺ) recited out loud when they heard that.
ہم سے قتیبہ نے مالک کی سند سے، ابن شہاب کی سند سے، ابن اکیمہ لیثی کی سند سے , ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے جس میں آپ نے زور سے قرآت فرمائی تھی سلام پھیر کر پلٹے تو پوچھا: کیا تم میں سے کسی نے ابھی میرے ساتھ قرآت کی ہے؟ تو ایک شخص نے کہا: جی ہاں! اللہ کے رسول! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آج بھی میں کہہ رہا تھا کہ کیا بات ہے کہ مجھ سے قرآن چھینا جا رہا ہے ۔ زہری کہتے ہیں: جب لوگوں نے یہ بات سنی تو جن نمازوں میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم زور سے قرآت فرماتے تھے ان میں قرآت سے رک گئے ۔
It was narrated that Ubadah bin As-Samit رضی اللہ عنہ said:
The Messenger of Allah (ﷺ) led us in one of the prayers in which the recitation is done out loud, and he said: 'None of you should recite when I recite out loud, apart from the Umm Al_quran (Al Fatihah).'
ہم سے ہشام بن عمار نے صدقہ کی سند سے، زید بن واقد کی سند سے، حرام بن حکیم کی سند سے، نافع بن محمود بن ربیعہ کی سند سے, عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں کچھ نمازیں پڑھائیں جن میں قرآت بلند آواز سے کی جاتی ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب میں بآواز بلند قرآت کروں تو تم میں سے کوئی بھی سورۃ فاتحہ کے علاوہ کچھ نہ پڑھے ۔
It was narrated that Abu Hurairah رضی اللہ عنہ said:
The Messenger of Allah (ﷺ) said: 'The Imam is appointed to be followed, so when he says the takbir, say the takbir, and when he recites, be silent, and when he says: Sami' Allahu liman hamidah (Allah hears those who praise Him), say: Allahumma rabbana lakal-hamd (Our Lord, to You be praise).
ہم سے الجارود بن معاذ الترمذی نے بیان کیا: ہم سے ابو خالد الاحمر نے محمد بن عجلان کی سند سے، زید بن اسلم کی سند سے، ابو صالح کی سند سے, ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: امام تو بنایا ہی اس لیے گیا ہے کہ اس کی اقتداء کی جائے، تو جب وہ اللہ اکبر کہے تو تم بھی اللہ اکبر کہو، اور جب قرآت کرے تو تم خاموش رہو ۱؎، اور جب «سمع اللہ لمن حمده» کہے تو تم «اللہم ربنا لك الحمد» کہو ۔
It was narrated that Abu Hurairah رضی اللہ عنہ said:
The Messenger of Allah (ﷺ) said: 'The Imam is appointed to be followed, so when he says the takbir, say the takbir, and when he recites, be silent.' Abu Abdur Rehman said: Al-Mukharrimi would say: He his trustworthy-meaning- Muhammad bin Sad Al-Ansari.
ہم سے محمد بن عبداللہ بن المبارک نے بیان کیا، کہا ہم سے محمد بن سعد الانصاری نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے محمد بن عجلان نے زید بن اسلم کی سند سے اور ابوصالح کی سند سے, ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: امام بنایا ہی اس لیے گیا ہے کہ اس کی اقتداء کی جائے، تو جب وہ اللہ اکبر کہے تو تم بھی اللہ اکبر کہو، اور جب وہ قرآت کرے تو تم خاموش رہو ۔ ابوعبدالرحمٰن ( نسائی ) کہتے ہیں: مخرمی کہتے تھے: وہ یعنی محمد بن سعد الانصاری ثقہ ہیں۔
Kathir bin Murrah Al-Hadrami narrated that :
He heard Abu Ad-Darda رضی اللہ عنہ say: The Messenger of Allah (ﷺ) was asked: 'Is there recitation in every prayer?' He said: 'Yes.' A man among the Ansar said: 'Is that obligatory?' He (Abu Ad-Darda) turned to me (Kathir), as I was closest of the people to him, and said: 'I think that if the Imam leads the people, that is sufficient for them.'
مجھ سے ہارون بن عبداللہ نے بیان کیا، ہم سے زید بن الحبب نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے معاویہ بن صالح نے بیان کیا، مجھ سے ابو الظہیریہ نے بیان کیا، مجھ سے کثیر بن مرہ الحضرمی نے بیان کیا
ابو الدرداء رضی اللہ عنہ سے، جس نے انہیں یہ کہتے سناکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا: کیا ہر نماز میں قرآت ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں! ( اس پر ) انصار کے ایک شخص نے کہا: یہ ( قرآت ) واجب ہو گئی، تو ابو الدرداء رضی اللہ عنہ میری طرف متوجہ ہوئے اور حال یہ تھا کہ میں ان سے سب سے زیادہ قریب تھا، تو انہوں نے کہا: میں سمجھتا ہوں کہ امام جب لوگوں کی امامت کرے تو ( امام کی قرآت ) انہیں بھی کافی ہے۔ ابوعبدالرحمٰن ( امام نسائی ) کہتے ہیں: اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرنا غلط ہے، یہ تو صرف ابو الدرداء رضی اللہ عنہ کا قول ہے، اور اسے اس کتاب کے ساتھ انہوں نے نہیں پڑھا ہے ۔
It was narrated that Ibn Abi Awfa رضی اللہ عنہ said:
A man came to the Prophet (ﷺ) and said: 'I cannot learn anything of the Quran; teach me something that I can say instead of reciting the Quran.' He said: 'Say: SubhanAllah, wal-hamdulilah, wa la illaha ill-Allah, wa Allahu Akbar, wa la hawla wa la quwwata illa Billahil-aliy al-azim (Glory be to Allah, praise be to Allah, there is none worthy of worship except Allah, Allah is Most Great, and there is no power and no strength except with Allah the Exalted and Magnificent ).'
ہم سے یوسف بن عیسیٰ اور محمود بن غیلان نے الفضل بن موسیٰ کی سند سے بیان کیا، انہوں نے کہا: ہم سے مسعر نے ابراہیم السکسکی کی سند سے بیان کیا, ابن ابی اوفی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، اور اس نے عرض کیا: میں قرآن کچھ بھی نہیں پڑھ سکتا، تو مجھے کوئی ایسی چیز سکھا دیجئیے جو میرے لیے قرآن کے بدلے کافی ہو، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «سبحان اللہ والحمد لله ولا إله إلا اللہ واللہ أكبر ولا حول ولا قوة إلا باللہ» اللہ پاک ہے اور اللہ ہی کے لیے حمد ہے، اور اللہ کے سوا کوئی معبود ( برحق ) نہیں، اور اللہ سب سے بڑا ہے، اور طاقت و قوت صرف اللہ ہی کی توفیق سے ہے پڑھ لیا کرو۔
It was narrated that Abu Hurairah رضی اللہ عنہ said:
The Messenger of Allah (ﷺ) said: 'When the reciter says Amin, then say: Amin too, for the angels say Amin and if a person's Amin coincides with the Amin of the angels, Allah will forgive his previous sins
ہم سے عمرو بن عثمان نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے بقیع نے بیان کیا، انہوں نے الزبیدی کی سند سے، انہوں نے کہا: مجھ سے زہری نے ابوسلمہ کی سند سے بیان کیا, ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب قاری ( امام ) آمین کہے، تو تم بھی آمین کہو کیونکہ فرشتے بھی آمین کہتے ہیں، جس کا آمین کہنا فرشتوں کے آمین کہنے کے موافق ہو جائے گا تو اللہ تعالیٰ اس کے سابقہ گناہ بخش دے گا ۔
It was narrated from Abu Hurairah رضی اللہ عنہ that:
The Prophet (ﷺ) said: When the reciter says Amin, then say: Amin too, for the angels say Amin and if a person's Amin coincides with the Amin of the angels, Allah will forgive his previous sins
ہم سے محمد بن منصور نے بیان کیا: ہم سے سفیان نے زہری کی سند سے اور سعید بن المسیب کی سند سے بیان کیا, ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب قاری ( امام ) آمین کہے تو تم بھی آمین کہو، کیونکہ فرشتے بھی آمین کہتے ہیں، جس کا آمین کہنا فرشتوں کے آمین کہنے کے موافق ہو جائے گا، اس کے تمام سابقہ گناہ بخش دیئے جائیں گے ۔
It was narrated that Abu Hurairah رضی اللہ عنہ said:
The Messenger of Allah (ﷺ) said: 'When the Imam says: Not (the way) of those who earned Your anger, nor of those who went astray, say: 'Amin' for the angels say Amin and the Imam says Amin, and if a person's Amin coincides with the Amin of the angels, his previous sins will be forgiven.'
ہم سے اسماعیل بن مسعود نے بیان کیا، کہا ہم سے یزید بن زرعی نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے معمر نے زہری کی سند سے اور سعید بن مسیب کی سند سے بیان کیا, ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب امام «غير المغضوب عليهم ولا الضالين» کہے تو تم آمين کہو، کیونکہ فرشتے آمین کہتے ہیں اور امام آمین کہتا ہے تو جس کا آمین کہنا فرشتوں کے آمین کہنے کے موافق ہو جائے گا اس کے تمام سابقہ گناہ بخش دیئے جائیں گے ۔
It was narrated from Abu Hurairah رضی اللہ عنہ that:
The Messenger of Allah (ﷺ) said: When the Imam says Amin, say Amin, for if a person's Amin coincides with the Amin of the angels, his previous sins will be forgiven.'
ہم سے قتیبہ نے مالک کی سند سے، ابن شہاب کی سند سے، سعید اور ابو سلمہ سے, ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب امام آمین کہے تو تم بھی آمین کہو، کیونکہ جس کا آمین کہنا فرشتوں کے آمین کہنے کے موافق ہو جائے گا، اس کے تمام سابقہ گناہ بخش دیئے جائیں گے ۔
It was narrated that Abu Hurairah, may Allah be pleased with him, that:
The Messenger of Allah (ﷺ) said: When the Imam says: Not (the way) of those who earned Your anger, nor of those who went astray, say: 'Amin,' for if a person's Amin coincides with the Amin of the angels, his previous sins will be forgiven.'
ہم سے قتیبہ نے مالک کی سند سے، سمیہ کی سند سے، ابوصالح کی سند سے, ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب امام «غير المغضوب عليهم ولا الضالين» کہے تو تم لوگ آمین کہو، کیونکہ جس کا آمین کہنا فرشتوں کے آمین کہنے کے موافق ہو جائے گا اس کے تمام سابقہ گناہ بخش دیئے جائیں گے ۔
It was narrated from Abu Hurairah رضی اللہ عنہ that:
The Messenger of Allah (ﷺ) said: If any one of you says: 'Amin' and the angels in Heaven say Amin, and the one coincides with the other, his previous sins will be forgiven.
ہم سے قتیبہ نے مالک کی سند سے، ابو الزناد کی سند سے، العرج کی سند سے بیان کیا, ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی آمین کہے اور فرشتے بھی آسمان پر آمین کہیں اور ان دونوں میں سے ایک کی آمین دوسرے کے موافق ہو جائے تو اس کے سابقہ گناہ بخش دیئے جائیں گے ۔
It was narrated from Mu'adh bin Rifa'ah bin Rafi' رضی اللہ عنہ that : His father said:
I prayed behind the Prophet (ﷺ) and I sneezed and said: 'Al-hamdu lillahi, hamdan kathiran tayiban mubarakan fih, mubarakan'alaihi, kama yuhibbu rabbuna wa yarda (Praise be to Allah, much good and blessed praise as our Lord loves and is pleased with.)' When he finished praying, the Messenger of Allah (ﷺ) said: 'Who is the one who spoke during the prayer?' But no one said anything. Then he said it a second time: 'Who is the one who spoke during the prayer?' So Rifa'ah bin Rafi bin Afrah said: 'It was me, O Messenger of Allah.' He said: 'I said: Praise be to Allah, much good and blessed praise as our Lord loves and is pleased with.' The Prophet (ﷺ) said: 'By the One in Whose hand is my soul, thirty-odd angels hastened to see which of them would take it up.'
ہم سے قتیبہ نے بیان کیا، کہا: ہم سے رفاعہ بن یحییٰ بن عبداللہ بن رفاعہ بن رافع نے اپنے چچا معاذ بن رفاعہ بن رافع سے اپنے والد کی سند سے بیان کیا، انہوں نے کہا
میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے نماز پڑھی، تو مجھے چھینک آ گئی، تو میں نے «الحمد لله حمدا كثيرا طيبا مباركا فيه مباركا عليه كما يحب ربنا ويرضى» اللہ کے لیے بہت زیادہ تعریفیں ہیں، جو پاکیزہ و بابرکت ہوں، جیسا ہمارا رب چاہتا اور پسند کرتا ہے کہا، تو جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھ چکے، اور سلام پھیر کر پلٹے تو آپ نے پوچھا: نماز میں کون بول رہا تھا؟ تو کسی نے جواب نہیں دیا، پھر آپ نے دوسری بار پوچھا: نماز میں کون بول رہا تھا؟ تو رفاعہ بن رافع بن عفراء رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کے رسول! میں تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: تم نے کیسے کہا تھا؟ انہوں نے کہا: میں نے یوں کہا تھا: «الحمد لله حمدا كثيرا طيبا مباركا فيه مباركا عليه كما يحب ربنا ويرضى» اللہ کے لیے بہت زیادہ تعریفیں ہیں، جو پاکیزہ و بابرکت ہوں، جیسا ہمارا رب چاہتا اور پسند کرتا ہے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، تیس سے زائد فرشتے اس پر جھپٹے کہ اسے لے کر کون اوپر چڑھے ۔
It was narrated from Abdul-Jabbar bin Wa'il that : His father said:
I prayed behind the Messenger of Allah (ﷺ) and when he said the takbir, he raised his hands to the bottom of his ears. When he recited: Not (the way) of those who earned Your anger, nor of those who went astray), he said: 'Amin,' and I could hear him although I was behind him. The Messenger of Allah (ﷺ) heard a man saying: 'Al-hamdu lillahi, hamdan kathiran tayiban mubarakan fih, (Praise be to Allah, much good and blessed praise.)' When the Prophet (ﷺ) said the salam and finished his prayer, he said: 'Who spoke those words during the prayer?' The man said: 'I did, O Messenger of Allah, but I did not mean anything bad thereby.' The Prophet (ﷺ) said: Twelve angels hastened (to take it) and nothing is stopping it going all the way to the Throne.'
ہم سے عبد الحامد بن محمد نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے مخلد نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے یونس بن ابی اسحاق نے اپنے والد سے، عبد الجبار بن وائل سے، اپنے والد سے، انہوں نے کہا: وائل بن حجر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے نماز پڑھی، جب آپ نے اللہ اکبر کہا تو اپنے دونوں ہاتھوں کو اپنے دونوں کانوں کے نیچے تک اٹھایا، پھر جب آپ نے «غير المغضوب عليهم ولا الضالين» کہا تو آپ نے آمین کہی جسے میں نے سنا، اور میں آپ کے پیچھے تھا ۱؎، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کو «الحمد لله حمدا كثيرا طيبا مباركا فيه» کہتے سنا، تو جب آپ اپنی نماز سے سلام پھیر لیا تو پوچھا: نماز میں کس نے یہ کلمہ کہا تھا؟ تو اس شخص نے کہا: میں نے اللہ کے رسول! اور اس سے میں نے کسی برائی کا ارادہ نہیں کیا تھا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس پر بارہ فرشتے جھپٹے تو اسے عرش تک پہنچنے سے کوئی چیز روک نہیں سکی ۔
It was narrated that Aishah رضی اللہ عنہا said:
Al-Harith bin Hisham رضی اللہ عنہ asked the Messenger of Allah (ﷺ): 'How does the Revelation come to you?' He said: 'Like the ringing of a bell, and when it departs I remember what he (the Angel) said, and this is the hardest on me. And sometimes he (the Angel) comes to me in the form of a man and gives it to me.'
ہم سے اسحاق بن ابراہیم نے بیان کیا کہ ہمیں سفیان نے ہشام بن عروہ سے اپنے والد کی سند سے خبر دی , ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ
حارث بن ہشام رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: آپ پر وحی کیسے آتی ہے؟ تو آپ نے جواب دیا: گھنٹی کی آواز کی طرح، پھر وہ بند ہو جاتی ہے اور میں اسے یاد کر لیتا ہوں، اور یہ قسم میرے اوپر سب سے زیادہ سخت ہوتی ہے، اور کبھی وحی کا فرشتہ میرے پاس نوجوان آدمی کی شکل میں آتا ہے، اور وہ مجھ سے کہہ جاتا ہے ۔
It was narrated from Aishah رضی اللہ عنہا that:
Al-Harith bin Hisham رضی اللہ عنہ asked the Messenger of Allah (ﷺ): 'How does the Revelation come to you?' He said: 'Like the ringing of a bell, and this is the hardest on me. When it departs I remember what he said. And sometimes the Angel appears to me in the form of a man and speaks to me, and I remember what he said. Aishah رضی اللہ عنہا said: I saw him when the Revelation came to him on a very cold day, and his forhead was dripping with sweat.
ہم سے محمد بن سلمہ اور حارث بن مسکین نے بیان کیا، جب میں سن رہا تھا تو ان سے پڑھ کر بیان کیا اور ان کا قول ابن القاسم کی روایت سے ہے، انہوں نے کہا: مجھ سے مالک نے ہشام بن عروہ سے، اپنے والد کی سند سے بیان کیا, ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ
حارث بن ہشام رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: آپ پر وحی کیسے آتی ہے؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کبھی میرے پاس گھنٹی کی آواز کی شکل میں آتی ہے، اور یہ قسم میرے اوپر سب سے زیادہ سخت ہوتی ہے، پھر وہ بند ہو جاتی ہے اور جو وہ کہتا ہے میں اسے یاد کر لیتا ہوں، اور کبھی میرے پاس فرشتہ آدمی کی شکل میں آتا ہے ۱؎ اور مجھ سے باتیں کرتا ہے، اور جو کچھ وہ کہتا ہے میں اسے یاد کر لیتا ہوں ، ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے کڑکڑاتے جاڑے میں آپ پر وحی اترتے دیکھا، پھر وہ بند ہوتی اور حال یہ ہوتا کہ آپ کی پیشانی سے پسینہ بہہ رہا ہوتا۔
It was narrated that Ibn Abbas رضی اللہ عنہم said:
Concerning the saying of Allah, the Mighty and Sublime: Move not your tongue concerning to make haste therewith. It is for Us to collect it and to give you the ability to recite it- The Prophet (ﷺ) used to suffer a great deal of hardship when the Revelation came to him, and he used to move his lips. Allah said: Move not your tongue concerning to make haste therewith. It is for Us to collect it and to give you the ability to recite it. He said: (This means) He will gather it in your heart, then you will recite it, And when We have recited it to you, then follow the recitation. He said: So listen to it and remain silent. So when Jibril came to him, the Messenger of Allah (ﷺ) listened, and when he left, he would recite it as he had taught him.
ہم سے قتیبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے ابو عوانہ نے موسیٰ بن ابی عائشہ رضی اللہ عنہا سے اور سعید بن جبیر رضی اللہ عنہ سے, عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم سے
اللہ تعالیٰ کے قول: «لا تحرك به لسانك لتعجل به * إن علينا جمعه وقرآنه» ( القیامۃ: ۱۶- ۱۷ ) کی تفسیر میں مروی ہے، کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم وحی اترتے وقت بڑی تکلیف برداشت کرتے تھے، اپنے ہونٹ ہلاتے رہتے تھے، تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اے نبی! آپ قرآن کو جلدی یاد کرنے کے لیے اپنی زبان کو حرکت نہ دیں، کیونکہ اس کا جمع کرنا اور پڑھانا ہمارے ذمہ ہے ۱؎، ابن عباس رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ «جمعه» کے معنی: اس کا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سینہ میں بیٹھا دینا ہے، اور «قرآنه» کے معنی اسے اس طرح پڑھوا دینا ہے کہ جب آپ چاہیں اسے پڑھنے لگ جائیں «فإذا قرأناه فاتبع قرآنه» میں «فاتبع قرآنه» کے معنی ہیں: آپ اسے غور سے سنیں، اور چپ رہیں، چنانچہ جب جبرائیل علیہ السلام آپ کے پاس وحی لے کر آتے تو آپ بغور سنتے تھے، اور جب روانہ ہو جاتے تو آپ اسے پڑھتے جس طرح انہوں نے پڑھایا ہوتا۔