The Book of The At-Tatbiq (Clasping One's Hands Together)
كتاب التطبيق
Chapter 12
Asim bin Humaid رضی اللہ عنہ said:
I heard 'Awf bin Malik رضی اللہ عنہ say: 'I prayed Qiyam with the Messenger of Allah (ﷺ) one night, and when he bowed, he stayed as long as it takes to recite Surat Al-Baqarah, saying: Subhana Dhil-jabaruti wal-malakuti wal-kibriya' wal-'azamah (Glory be to the One Who has all power, sovereignty, magnificence and might).
ہم سے عمرو بن منصور، یعنی نسائی، نے بیان کیا: ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا: ہم سے لیث نے معاویہ کی سند سے بیان کیا، یعنی ابن صالح نے، ابن قیس کندی کی سند سے، جو عمرو بن قیس ہیں، انہوں نے کہا: میں نے عاصم بن حماء رضی اللہ عنہ کو کہتے سنا
میں نے عوف بن مالک رضی اللہ عنہ کو کہتے سنا:میں ایک رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ( نماز کے لیے ) کھڑا ہوا تو جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے رکوع کیا، تو سورۃ البقرہ پڑھنے کے بقدر رکوع میں ٹھہرے، آپ اپنے رکوع میں «سبحان ذي الجبروت والملكوت والكبرياء والعظمة» میں صاحب قدرت و بادشاہت اور صاحب بزرگی و عظمت کی پاکی بیان کرتا ہوں پڑھ رہے تھے۔
It was narrated from Ali bin Abi Talib رضی اللہ عنہ that:
When the Messenger of Allah (ﷺ) bowed, he said: Allahumma laka rak`atu was laka aslamtu wa bika amantu, khasha`a laka sam`i wa basri wa `izami wa mukhi wa `asabi (O Allah, to You I have bowed and to You I have submitted and in You I have believed. My hearing, sight, bones, brain and sinews are humbled before You).
ہم سے عمرو بن علی نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے عبدالرحمٰن بن مہدی نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے عبدالعزیز بن ابی سلمہ نے بیان کیا، کہا: ہم سے میرے چچا المجیشون بن ابی سلمہ نے عبدالرحمٰن عرج سے اور عبید اللہ بن ابی رافع کی سند سے بیان کیا, علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب رکوع کرتے تو «اللہم لك ركعت ولك أسلمت وبك آمنت خشع لك سمعي وبصري وعظامي ومخي وعصبي» اے اللہ! میں نے تیرے لیے اپنی پیٹھ جھکا دی، اور اپنے آپ کو تیرے حوالے کر دیا، اور میں تجھ پر ایمان لایا، میرے کان، میری آنکھیں، میری ہڈیاں، میرے بھیجے اور میرے پٹھوں نے تیرے لیے عاجزی کا اظہار کیا پڑھتے تھے۔
It was narrated from Jabir bin 'Abdullah رضی اللہ عنہم that:
When the Prophet (ﷺ) bowed, he said: Allahumma laka rak'atu wa bika amantu wa laka aslamtu wa alayka tawwakaltu, anta Rabbi, khasha'a sam'i wa basri wa dammi wa lahmi wa 'azmi wa 'asabi Lillahi Rabbil-'Alamin ( O Allah, to You I have bowed, in You I believe, to You I have submitted and in You I put my trust. You are my Lord. My hearing, my sight, my blood, my flesh, my bones and sinews are humbled before Allah, the Lord of the Worlds.)
ہم سے یحییٰ بن عثمان الحمصی نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ابو حیوہ نے بیان کیا، کہا: ہم سے شعیب نے، محمد بن المنکدر کی سند سے بیان کیا, جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب رکوع کرتے تو اس میں «اللہم لك ركعت وبك آمنت ولك أسلمت وعليك توكلت أنت ربي خشع سمعي وبصري ودمي ولحمي وعظمي وعصبي لله رب العالمين» اے اللہ! میں نے تیرے لیے ہی اپنا سر جھکا دیا، تیرے اوپر ہی ایمان لایا، میں نے اپنے آپ کو تیرے ہی حوالے کر دیا، تیرے ہی اوپر بھروسہ کیا، تو میرا رب ہے، میرے کان، میری آنکھ، میرا خون، میرا گوشت، میری ہڈیاں اور میرے پٹھے نے اللہ کے لیے جو سارے جہانوں کا رب ہے عاجزی کا اظہار کیا ہے پڑھتے تھے۔
It was narrated from Muhammad bin Maslamah رضی اللہ عنہ that:
When the Messenger of Allah (ﷺ) stood to offer a voluntary prayer, he would say when he bowed: Allahumma laka rak'atu wa bika amantu wa laka aslamtu wa alayka tawwakaltu, anta Rabbi, khasha'a sam'i wa basri wa lahmi wa dammi wa mukhi wa 'asabi Lillahi Rabbil-'Alamin ( O Allah, to You I have bowed, in You I believe, to You I have submitted and in You I put my trust. You are my Lord. My hearing, my sight, my flesh, my blood, my brain and my sinews are humbled before Allah, the Lord of the Worlds).
ہم سے یحییٰ بن عثمان نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ابن حمیار نے بیان کیا، کہا: ہم سے شعیب نے محمد بن المنکدر کی سند سے بیان کیا، اور انہوں نے عبدالرحمٰن عراج کی سند سے ان سے پہلے ایک اور کا ذکر کیا, محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب نفل پڑھنے کھڑے ہوتے تو جب رکوع میں جاتے تو «اللہم لك ركعت وبك آمنت ولك أسلمت وعليك توكلت أنت ربي خشع سمعي وبصري ولحمي ودمي ومخي وعصبي لله رب العالمين» اے اللہ! میں نے تیرے لیے اپنی پیٹھ جھکا دی، تیرے اوپر ایمان لایا، میں نے اپنے آپ کو تیرے سپرد کر دیا، اور تجھ پر بھروسہ کیا، تو میرا رب ہے، میرا کان، میری آنکھ، میرا گوشت، میرا خون، میرا دماغ اور میرے پٹھے نے اللہ رب العالمین کے لیے عاجزی کا اظہار کیا ہے پڑھتے۔
It was narrated that Rifa'ah bin Rafi' رضی اللہ عنہ - who had been present at Badr- said:
We were with the Messenger of Allah (ﷺ) when a man entered the Masjid and prayed. The Messenger of Allah (ﷺ) watched him without him realizing, then he finished, came to the Messenger of Allah (ﷺ) and greeted him with salam. He returned the salam and said: Go back and pray, for you have not prayed.' He (the narrator) said: I do not know if it was the second or third time,- (the man) said: 'By the One Who revealed the Book to you, I have tried my best. Teach me and show me.' He said: 'When you want to pray, perform wudu' and do it well, then stand up and face the qiblah. Then say the takbir, then recite, then bow until you are at ease in bowing. Then stand up until you are standing up straight. Then prostrate until you are at ease in prostration, then raise your head until you are at ease in sitting, then prostrate until you are at ease in prostration. If you do that then you will have done your prayer properly, and whatever you failed to do properly is going to detract from your prayer.
ہم سے قتیبہ نے بیان کیا، کہا: ہم سے بکر بن مضر نے ابن عجلان کی سند سے، علی بن یحییٰ الزرقی نے اپنے والد کی سند سے بیان کیا, رفاعہ بن رافع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ اپنے چچا، رفاعہ بن رافع، جو بدری (جنگ بدر میں شریک) تھے، کی سند سے فرمایا
ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے کہ ایک شخص مسجد میں داخل ہوا، اور اس نے نماز پڑھی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اسے دیکھ رہے تھے لیکن وہ جان نہیں رہا تھا، وہ نماز سے فارغ ہوا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، اور آپ کو سلام کیا، تو آپ نے سلام کا جواب دیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جاؤ تم پھر سے نماز پڑھو کیونکہ تم نے نماز نہیں پڑھی ، میں نہیں جان سکا کہ اس نے دوسری بار میں یا تیسری بار میں کہا کہ قسم ہے اس ذات کی جس نے آپ پر قرآن نازل کیا ہے، میں اپنی کوشش کر چکا، آپ مجھے نماز پڑھنا سکھا دیں، اور پڑھ کر دکھا دیں کہ کیسے پڑھوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم نماز کا ارادہ کرو تو وضو کرو اور اچھی طرح وضو کرو، پھر قبلہ رخ کھڑے ہو، پھر اللہ اکبر کہو، پھر قرأت کرو، پھر رکوع کرو یہاں تک کہ تم رکوع کی حالت میں مطمئن ہو جاؤ، پھر اٹھو یہاں تک کہ سیدھے کھڑے ہو جاؤ، پھر سجدہ کرو یہاں تک کہ سجدہ کی حالت میں مطمئن ہو جاؤ، پھر اپنا سر اٹھاؤ یہاں تک کہ اطمینان سے بیٹھ جاؤ، پھر سجدہ کرو یہاں تک کہ سجدہ کی حالت میں مطمئن ہو جاؤ، جب تم ایسا کرو گے تو اپنی نماز پوری کر لو گے، اور اس میں جو کمی کرو گے تو اپنی نماز ہی میں کمی کرو گے ۔
It was narrated that Qatadah said:
I heard Anas رضی اللہ عنہ narrate that the Prophet (ﷺ) said: Bow and prostrate properly when you bow and prostrate.'
ہم سے محمد بن عبد الاعلی نے بیان کیا، کہا: ہم سے خالد نے بیان کیا، کہا: ہم سے شعبہ نے، قتادہ کی سند سے بیان کیا، کہا
میں نے انس رضی اللہ عنہ کو بیان کرتے ہوئے سنا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم رکوع اور سجدہ کرو تو انہیں اچھی طرح کرو ۔
Alqamah bin Wa'il رضی اللہ عنہ said: My father told me:
'I prayed behind the Messenger of Allah (ﷺ) and I saw him raise his hands when he started to pray, and when he bowed, and when he said: Sami' Allahu liman hamidah (Allah hears the one who praises Him) like this.' And (one of the narrators) Qais pointed towards his ears.
ہم سے سوید بن نصر نے بیان کیا، کہا: ہمیں عبداللہ بن مبارک نے قیس بن سلیم الانباری کی سند سے خبر دی، انہوں نے کہا: مجھ سے علقمہ بن وائل رضی اللہ عنہ نے بیان کیا، کہا: مجھ سے میرے والد نے بیان کیا
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے نماز پڑھی، تو دیکھا کہ جب آپ نماز شروع کرتے تو رفع یدین کرتے، اور جب رکوع کرتے، اور «سمع اللہ لمن حمده» کہتے تو بھی اسی طرح کرتے۔ قیس بن سلیم ( راوی حدیث ) نے دونوں کانوں تک اشارہ کر کے دکھایا۔
It was narrated from Malik bin Al-Huwairith رضی اللہ عنہ that:
He saw the Prophet (ﷺ) raise his hands when he bowed, and when he raised his head from bowing, until they were in level with the highest part of his ears.
ہم سے اسماعیل بن مسعود نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے یزید بن زریع نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے سعید نے قتادہ کی سند سے اور نصر بن عاصم کی سند سے بیان کیا کہ انہوں نے ان سے کہا: مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ رکوع کرتے، اور رکوع سے سر اٹھاتے، تو اپنے دونوں ہاتھ اٹھاتے یہاں تک کہ انہیں اپنے کانوں کی لو کے برابر کر لیتے۔
It was narrated from Salim, from his father, that:
The Messenger of Allah (ﷺ) used to raise his hands until they were in level with his shoulders when he started to pray, and when he raised his head from bowing he did likewise, and when he said: Sami' Allahu liman hamidah (Allah hears the one who praises Him) he said: Rabbana wa lakal-hamd (Our Lord, to You be praise) and he did not raise his hands between the two prostrations
ہم سے عمرو بن علی نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے یحییٰ بن سعید نے بیان کیا، کہا: ہم سے مالک بن انس نے زہری کی سند سے، سالم کی سند سے، اپنے والد سے
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز شروع کرتے تو اپنے ہاتھ اپنے کندھوں کے بالمقابل اٹھاتے، اور جب رکوع سے سر اٹھاتے تو بھی اسی طرح کرتے، اور جب «سمع اللہ لمن حمده» کہتے تو «ربنا لك الحمد» کہتے، اور دونوں سجدوں کے درمیان اپنے ہاتھ نہیں اٹھاتے تھے۔
It was narrated from Abdullah رضی اللہ عنہ that he said:
Shall I not show you how the Messenger of Allah (ﷺ) prayed? So he prayed, and he only raised his hands once.
بخاری نے کہا: ہم سے محمود بن غیلان المروزی نے بیان کیا: وکیع نے بیان کیا: ہم سے سفیان نے عاصم بن کلیب کی سند سے، عبدالرحمٰن بن اسود سے، علقمہ کی سند سے, عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
کیا میں تمہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز نہ پڑھاؤں؟ چنانچہ انہوں نے ہمیں نماز پڑھائی، تو انہوں نے صرف ایک بار رفع یدین کیا۔
It was narrated from Ibn 'Umar رضی اللہ عنہم that:
When the Messenger of Allah (ﷺ) started to pray, he raised his hands until they were in level with his shoulders, and when he said the takbir before bowing, and when he raised his head from bowing he raised (his hands) likewise, and said: Sami Allahu liman hamidah Rabbana wa lakal-hamd (Allah hears the one who praises Him; Our Lord, and to You be praise), and he did not do that when prostrating.
ہم سے سوید بن نصر نے بیان کیا، کہا: ہمیں عبداللہ نے مالک کی سند سے، ابن شہاب کی سند سے، سلیم کی سند سے, عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز شروع کرتے تو اپنے دونوں ہاتھ اپنے کندھوں کے بالمقابل اٹھاتے، اور جب رکوع کے لیے اللہ اکبر کہتے، اور جب رکوع سے اپنا سر اٹھاتے تب بھی اسی طرح اپنے دونوں ہاتھ اٹھاتے، اور «سمع اللہ لمن حمده ربنا ولك الحمد»کہتے، اور سجدے میں رفع یدین نہیں کرتے تھے۔
It was narrated that Abu Hurairah رضی اللہ عنہ said:
When the Prophet (ﷺ) raised his head from bowing, he said: 'Allahumma Rabbana wa lakal-hamd (O Allah, our Lord and to You be the praise).'
ہم سے اسحاق بن ابراہیم نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے عبدالرزاق نے بیان کیا، کہا: ہم سے معمر نے زہری کی سند سے اور ابو سلمہ سے, ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب رکوع سے اپنا سر اٹھاتے تو «اللہم ربنا ولك الحمد» کہتے۔
It was narrated from Anas رضی اللہ عنہ that:
The Prophet (ﷺ) fell from a horse onto his right side, and they entered upon him to visit him. The time for prayer came, and when he had finished praying he said: The Imam is appointed to be followed, so when he bows, then bow, and when he stands up, then stand up, and when he says: 'Sami' Allahu liman hamidah (Allah hears the one who praises Him)' then say: 'Rabbana wa lakal-hamd (Our Lord, and to You be the praise).'
ہم سے ہناد بن السری نے ابن عیینہ کی سند سے اور زہری کی سند سے بیان کیا, انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم گھوڑے سے اپنے داہنے پہلو پر گر پڑے، تو لوگ آپ کی عیادت کرنے آپ کے پاس آئے کہ ( اسی دوران ) نماز کا وقت ہو گیا، ( تو آپ نے انہیں نماز پڑھائی ) جب آپ نے نماز پوری کر لی تو فرمایا: امام بنایا ہی اس لیے گیا ہے کہ اس کی اقتداء کی جائے، تو جب وہ رکوع کرے تو تم بھی رکوع کرو، اور جب وہ سر اٹھائے تو تم بھی سر اٹھاؤ، اور جب وہ «سمع اللہ لمن حمده» کہے، تو تم «ربنا ولك الحمد» کہو ۔
It was narrated that Rifa'ah bin Rafi رضی اللہ عنہ said:
We were praying behind the Messenger of Allah (ﷺ) one day and when he raised his head from bowing he said: 'Sami Allahu liman hamidah (Allah hears the one who praises Him).' A man behind him said: 'Rabbana wa lakal-hamd, hamdan kathiran tayyiban mubarakan fih. (O our Lord, and to You be praise, much blessed and pure praise.)' When the Messenger of Allah (ﷺ) had finished, he said: Who is the one who spoke just now? The man said: 'I did, O Messenger of Allah.' The Messenger of Allah (ﷺ) said: 'I saw thirty-some angels rushing to see which of them would write it down first.'
ہم سے محمد بن سلمہ نے بیان کیا، کہا کہ ہمیں ابن القاسم نے مالک کی سند سے خبر دی، انہوں نے کہا: مجھ سے نعیم بن عبداللہ نے اپنے والد سے علی بن یحییٰ الزرقی سے بیان کیا,رفاعہ بن رافع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
ایک دن ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے نماز پڑھ رہے تھے، جب آپ نے رکوع سے اپنا سر اٹھایا تو «سمع اللہ لمن حمده» کہا، تو آپ کے پیچھے ایک شخص نے «ربنا ولك الحمد حمدا كثيرا طيبا مباركا فيه» اللہ کے لیے بہت زیادہ تعریفیں ہیں جو پاکیزہ و بابرکت ہیں کہا، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام پھیرا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ابھی ابھی ( نماز میں ) کون بول رہا تھا؟ تو اس شخص نے عرض کیا: میں تھا اللہ کے رسول! تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں نے تیس سے زائد فرشتوں کو دیکھا ان میں سے ہر ایک سبقت لے جانے کی کوشش کر رہا تھا کہ اسے کون پہلے لکھے ۔
It was narrated from Abu Hurairah رضی اللہ عنہ that:
The Messenger of Allah (ﷺ) said: When the Imam says: 'Sami Allahu liman hamidah (Allah hears the one who praises Him),' then say: 'Rabbana wa lakal-hamd,' (Our Lord, and to You be the praise).' Whoever says that and it coincides with the angels saying it, his previous sins will be forgiven.
ہم سے قتیبہ نے مالک کی سند سے، سمیی کی سند سے، ابوصالح کی سند سے, ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب امام «سمع اللہ لمن حمده» کہے، تو تم «ربنا ولك الحمد» کہو کیونکہ جس کا کہنا فرشتوں کے کہنے کے موافق ہو گا، اس کے پچھلے تمام گناہ بخش دیئے جائیں گے ۔
It was narrated from Hittan bin 'Abdullah that:
He heard Abu Musa رضی اللہ عنہ say: The Prophet of Allah (ﷺ) addressed us and taught us our Sunnah and our prayer. He said: 'When you pray, make your rows straight and let one of you lead you in prayer. When the Imam says the takbir, then say the takbir. When he recites 'Not (the way) of those who earned Your anger, nor those who went astray' then say: Amin and Allah will answer you. When he says the takbir and bows, then say the takbir and bow. The Imam bows before you do and stands up before you do.' The Prophet of Allah (ﷺ) said: 'This makes up for that. And when he says: 'Sami Allahu liman hamidah (Allah hears the one who praises Him),' then say: Allahumma Rabbana wa lakal-hamd (O Allah, our Lord, and to You be the praise), Allah will hear you, for Allah has said on the lips of His Prophet (ﷺ): Allah hears the one who praises Him. And when he (the Imam) says the takbir and prostrates, then say the takbir and prostrate. The Imam prostrates before you do and sits up before you do.' The Prophet of Allah (ﷺ) said: 'This makes up for that. And when he is sitting, let the first thing that any one of you says be: At-tahiyaatut-tayyibatus-salawatuLillah, salamun 'alayka ayyuhanabiyyu wa rahmatullahi wa barakatuhu, salamun 'alayna wa 'ala 'ibadillahis-salihin, ashhadu an la ilaha ill-Allah wa ashhadu anna Muhammadan 'abduhu wa rasuluh (All compliments, good words and prayers are due to Allah, peace be upon you O Prophet, and the mercy of Allah and His blessings. Peace be upon us and upon the righteous slaves of Allah. I bear witness that there is none worthy of worship except Allah and I bear witness that Muhammad is His slave and Messenger)- seven phrases which are the greeting of the prayer.'
ہم سے اسماعیل بن مسعود نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے خالد نے بیان کیا، کہا: ہم سے سعید نے قتادہ کی سند سے، یونس بن جبیر سے، حطان بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے کہ انہوں نے ان سے بیان کیا
اس نے ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ کو کہتے سنا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں خطبہ دیا، اور ہمیں ہمارے طریقے بتائے، اور ہماری نماز سکھائی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم نماز پڑھو تو اپنی صفیں سیدھی کرو، پھر تم میں سے کوئی ایک امامت کرے، اور جب امام اللہ اکبر کہے تو تم بھی اللہ اکبر کہو، اور جب وہ «غير المغضوب عليهم ولا الضالين» کہے، تو تم آمین کہو، اللہ تمہاری دعا قبول کرے گا، اور جب وہ اللہ اکبر کہے، اور رکوع کرے تو تم بھی اللہ اکبر کہو اور رکوع کرو، امام تم سے پہلے رکوع کرے گا، اور تم سے پہلے رکوع سے سر بھی اٹھائے گا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو ادھر کی کمی ادھر پوری ہو جائے گی ، اور جب وہ«سمع اللہ لمن حمده» کہے، تو تم «اللہم ربنا ولك الحمد» کہو، اللہ تعالیٰ تمہاری پکار سن لے گا ؛ کیونکہ اللہ نے اپنے بنی کی زبان سے فرمایا ہے: اللہ نے اس کی سن لی جس نے اس کی حمد بیان کی، تو جب وہ اللہ اکبر کہے اور سجدہ کرے تو تم بھی اللہ اکبر کہو اور سجدہ کرو، امام تم سے پہلے سجدہ کرے گا، اور تم سے پہلے سجدہ سے سر بھی اٹھائے گا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو ادھر کی کمی ادھر پوری ہو جائے گی، جب وہ قعدے میں ہو تو تم میں سے ہر ایک کی پہلی دعا یہ ہو:«التحيات الطيبات الصلوات لله سلام عليك أيها النبي ورحمة اللہ وبركاته سلام علينا وعلى عباد اللہ الصالحين أشهد أن لا إله إلا اللہ وأشهد أن محمدا عبده ورسوله» آداب بندگیاں، پاکیزہ خیراتیں، اور صلاتیں اللہ ہی کے لیے ہیں، اے رسول! آپ پر سلام اور اللہ کی رحمت اور اس کی برکتیں نازل ہوں، اور سلام ہو ہم پر اور اللہ کے تمام نیک و صالح بندوں پر، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بندے اور رسول ہیں یہ سات کلمے ہیں اور یہ نماز کا سلام ہے ۔
It was narrated from Al-Bara' bin 'Azib رضی اللہ عنہم that:
The bowing of the Messenger of Allah (ﷺ), and when he raised his head from bowing, and his prostration, and the time between the two prostration, were almost equal in length.
ہم سے یعقوب بن ابراہیم نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ابن علیہ نے بیان کیا، کہا: ہم کو شعبہ نے حکم کی سند سے اور عبدالرحمٰن بن ابی لیلیٰ کی سند سے, براء بن عازب رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا رکوع کرنا، اور رکوع سے سر اٹھانا اور سجدہ کرنا، اور دونوں سجدوں کے درمیان ٹھہرنا، تقریباً برابر برابر ہوتا تھا ۔
It was narrated from Ibn 'Abbas رضی اللہ عنہم that:
When the Prophet (ﷺ) said: Sami Allahu liman hamidah (Allah hears the one who praises Him),' he said: Allahumma Rabbana wa lakal-hamd, mil'as-samawati wa mil'al-ardi wa mil'ama shi'ta min shai'in ba'd ( O Allah, our Lord, to You be the Praise, filling the heavens, filling the Earth, and filling whatever else You will.)
ہم سے ابوداؤد سلیمان بن سیف حرانی نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے سعید بن عامر نے بیان کیا، کہا: ہم سے ہشام بن حسن نے قیس بن سعد سے اور عطاء کی سند سے, عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب «سمع اللہ لمن حمده» کہتے، تو «اللہم ربنا لك الحمد ملء السموات وملء الأرض وملء ما شئت من شىء بعد» اے اللہ! تیری تعریف ہے، آسمانوں بھر، زمین بھر اور اس کے بعد تو جس چیز بھر چاہے کہتے۔
It was narrated from Ibn 'Abbas رضی اللہ عنہم that:
When the Prophet (ﷺ) wanted to prostrate after bowing, he would say: Allahumma, Rabbana wa lakal-hamd, mil'as-samawati wa mil'al-ardi wa mil'ama shi'ta min shai'in ba'd ( O Allah, our Lord, to You be the Praise, filling the heavens, filling the Earth, and filling whatever else You will.)
ہم سے محمد بن اسماعیل بن ابراہیم نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے یحییٰ بن ابی بکر نے بیان کیا، کہا: ہم سے ابراہیم بن نافع نے وہب بن مناس العدنی سے اور سعید بن جبیر کی سند سے, عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب رکوع کے بعد سجدے کا ارادہ کرتے تو «اللہم ربنا ولك الحمد ملء السموات وملء الأرض وملء ما شئت من شىء بعد» اے ہمارے رب! تیری تعریف ہے، تیرا شکر ہے آسمان و زمین بھر اور اس کے بعد تو جس چیز بھر چاہے کہتے۔
It was narrated from Abu Sa'eed رضی اللہ عنہ that:
The Messenger of Allah (ﷺ) used to say: Sami Allahu liman hamidah, Rabbana wa lakal-hamd, mil'as-samawati wa mil'al-ardi wa mil'ama shi'ta min shai'in ba'd. Athlath-thana'i wal-majdi khairu ma qalal-'abdu wa kulluna laka 'abdun la mani'a lima a'taita wa la yanfa'u dhal-jaddi minkal-jadd (Allah hears the one who praises Him; Our Lord, to You be the Praise, filling the heavens, filling the Earth, and filling whatever else You will, Lord of Glory and Majesty, the truest thing a slave had said, and we are all slaves to You. None can withhold what You grant, nor can the possession of an owner benefit him before You.)
مجھ سے عمرو بن ہشام ابو امیہ حرانی نے بیان کیا: ہم سے مخلد نے سعید بن عبد العزیز سے، عطیہ بن قیس سے، قزع بن یحییٰ سے, ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب «سمع اللہ لمن حمده» کہتے، تو «ربنا لك الحمد ملء السموات وملء الأرض وملء ما شئت من شىء بعد أهل الثناء والمجد خير ما قال العبد وكلنا لك عبد لا مانع لما أعطيت ولا ينفع ذا الجد منك الجد» اے اللہ، ہمارے رب! تیرا شکر ہے آسمان و زمین بھر، اور اس کے بعد تو جس چیز بھر چاہے، اے لائق تعریف و لائق مجد و شرف! بہتر ہے جو بندے نے کہا، اور ہم سب تیرے بندے ہیں، کوئی روکنے والا نہیں جسے تو دیدے، تیرے مقابلے میں مالداروں کی مالداری کچھ بھی فائدہ نہیں پہنچائے گی کہتے۔