The Book of The At-Tatbiq (Clasping One's Hands Together)
كتاب التطبيق
Chapter 12
It was narrated from Hudhaifah رضی اللہ عنہ that:
He prayed with the Messenger of Allah (ﷺ) one night and he heard him say when he said the takbir: Allahu Akbara dhal-jabaruti wal-malakuti wal-kibriya'i wal-'azamah (Allah is Most Great, the One Who has all power, sovereignty, magnificence and might.) When bowing he would say: Subhana Rabbial-'Azim (Glory be to my Lord Almighty). When he raised his head from bowing he would say: Lirabbil-hamd, Lirabbil-hamd (To my Lord be praise, to my Lord be praise). And when he prostrated (he said): Subhana Rabbial-A'la (Glory be to my Lord Most High). And between the two prostrations (he said): Rabbighfirli, Rabbighfirli (Lord forgive me, Lord forgive me). His standing, his bowing, when he raised his head from bowing, his prostration and the time between the two prostrations, were almost the same.
ہم سے حمید بن مسعدہ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے یزید بن زرعی نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے شعبہ نے عمرو بن مرہ سے، ابو حمزہ کے واسطہ سے، بنو عباس کے ایک شخص سے,حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
ایک رات انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی، جب آپ نے تکبیر کہی تو انہوں نے آپ کو کہتے سنا:«اللہ أكبر ذا الجبروت والملكوت والكبرياء والعظمة» اللہ سب سے بڑا صاحب قدرت و سطوت اور صاحب بزرگی و عظمت ہے ، اور آپ رکوع میں «سبحان ربي العظيم» کہتے، اور جب رکوع سے اپنا سر اٹھاتے تو: «لربي الحمد لربي الحمد»، شکر میرے رب کے لیے، شکر میرے رب کے لیے کہتے، اور سجدے میں «سبحان ربي الأعلى» کہتے، اور دونوں سجدوں کے درمیان «رب اغفر لي رب اغفر لي» اے میرے رب! میری مغفرت فرما، اے میرے رب! میری مغفرت فرما کہتے، اور آپ کا قیام کرنا، رکوع کرنا، اور رکوع سے سر اٹھانا، اور آپ کا سجدہ کرنا، اور دونوں سجدوں کے درمیان ٹھہرنا، تقریباً سب برابر برابر ہوتا۔
It was narrated that Anas bin Malik رضی اللہ عنہ said:
The Messenger of Allah (ﷺ) prayed (saying the) Qunut after bowing for a month, supplicating against Ri'l, Dhakwan and 'Usayyah who had disobeyed Allah and His Messenger. (Sahih).
ہم سے اسحاق بن ابراہیم نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے جریر نے سلیمان تیمی کی سند سے اور ابومجلاز کی سند سے بیان کیا, انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مہینے تک رکوع کے بعد دعائے قنوت پڑھی، آپ اس میں رعل، ذکوان اور عصیہ نامی قبائل پر جنہوں نے اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کی تھی، بد دعا کرتے رہے۔
It was narrated that Anas bin Malik رضی اللہ عنہ was asked:
Did the Messenger of Allah (ﷺ) say the Qunut in Subh prayer? He said: Yes. He was asked: Was that before bowing or after? He said: After bowing.
ہم سے قتیبہ نے بیان کیا، کہا: ہم سے حماد نے ایوب کی سند سے بیان کیا, ابن سیرین سے روایت ہے کہ انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے پوچھا گیا
کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز فجر میں قنوت پڑھی ہے؟ انہوں نے کہا: جی ہاں! ( پڑھی ہے ) پھر ان سے پوچھا گیا، رکوع سے پہلے یا رکوع کے بعد؟ رکوع کے بعد ۔
It was narrated that Ibn Sirin said:
Some of those who prayed the Subh prayer with the Messenger of Allah (ﷺ) narrated to me that when he said: Sami'Allahu liman hamidah (Allah hears those who praise Him)' in the second rak'ah, he stood for a while.
ہم سے اسماعیل بن مسعود نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے بشر بن المفضل نے یونس کی سند سے بیان کیا, ابن سیرین کہتے ہیں کہ
مجھ سے ایک ایسے شخص نے جس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز فجر پڑھی تھی، بیان کیا کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دوسری رکعت میں «سمع اللہ لمن حمده» کہا تو آپ تھوڑی دیر کھڑے رہے۔
It was narrated that Abu Hurairah رضی اللہ عنہ said:
When the Messenger of Allah (ﷺ) raised his head in the second rak'ah of the subh prayer, he said: 'O Allah, save Al-Walid bin Al-Walid and Salamah bin Hisham and 'Ayyshah bin Abi Rabi'ah and those who are weak and oppressed in Makkah. O Allah, intensify Your punishment in Mudar and give them years (of famine) like the years of Yusuf.'
ہم سے محمد بن منصور نے بیان کیا، کہا: ہم سے سفیان نے بیان کیا، کہا: ہم نے اسے سعید کی سند سے زہری سے حفظ کیا, ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فجر میں دوسری رکعت سے اپنا سر اٹھایا تو آپ نے دعا کی: اے اللہ! ولید بن ولید، سلمہ بن ہشام، عیاش بن ابی ربیعہ اور مکہ کے کمزور لوگوں کو دشمنوں کے چنگل سے نجات دے، اے اللہ! قبیلہ مضر پر اپنی پکڑ سخت کر دے، اور ان کے اوپر یوسف علیہ السلام ( کی قوم ) جیسا سا قحط مسلط کر دے ۔
Abu Hurairah narrated that:
The Messenger of Allah (ﷺ) used to supplicate in prayer when he said: Sami' Allahu liman hamidah, Rabbana wa lakal-hamd (Allah hears those who praise Him; O our Lord, and to You be praise), then he said while standing, before he prostrated: O Allah, save Al-Walid bin Al-Walid and Salamah bin Hisham and 'Ayyshah bin Abi Rabi'ah and those who are weak and oppressed in Makkah. O Allah, intensify Your punishment in Mudar and give them years (of famine) like the years of Yusuf. Then he would say: Allah is Most Great and then he prostrated. The people of Mudar and their environs were opposed to the Messenger of Allah (ﷺ) at the time.
ہم سے محمد بن منصور نے بیان کیا، کہا: ہم سے سفیان نے بیان کیا، کہا: ہم نے اسے سعید کی سند سے زہری سے حفظ کیا, ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز میں جس وقت «سمع اللہ لمن حمده ربنا ولك الحمد» کہتے تو دعا کرتے، سجدہ میں جانے سے پہلے کھڑے ہو کر، کہتے: «اللہم أنج الوليد بن الوليد وسلمة بن هشام وعياش بن أبي ربيعة والمستضعفين من المؤمنين اللہم اشدد وطأتك على مضر واجعلها عليهم كسني يوسف» اے اللہ! ولید بن ولید، سلمہ بن ہشام، عیاش بن ابی ربیعہ اور کمزور مسلمانوں کو دشمنوں کے چنگل سے نجات دے، اے اللہ! قبیلہ مضر پر اپنی پکڑ سخت کر دے، اور ان پر یوسف سا قحط مسلط کر دے ، پھر آپ اللہ اکبر کہتے اور سجدہ کرتے، ان دنوں قبیلہ مضر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا مخالف تھا۔
It was narrated from Abu Salamah, that Abu Hurairah رضی اللہ عنہ said:
I shall explain to you the prayer of the Messenger of Allah (ﷺ). He said: Abu Hurairah رضی اللہ عنہ used to say the Qunut in the last rak'ah of the Zuhr prayer, and the later Isha' prayer, and the Subh, after saying 'Sami Allahu liman hamidah.' He would pray for the believers and curse the disbelievers.'
ہم سے سلیمان بن سلم بلخی نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے نضر نے بیان کیا، کہا: ہمیں ہشام نے یحییٰ سے اور ابوسلمہ رضی اللہ عنہ سے خبر دی ہے, ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ
انہوں نے کہا کہ میں تمہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز قریب تر کر کے دکھاؤں گا، چنانچہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ «سمع اللہ لمن حمده» کہنے کے بعد ظہر کی آخری رکعت میں اور عشاء میں، اور فجر میں دعائے قنوت پڑھتے، تو مومنوں کے لیے دعا کرتے اور کافروں پر لعنت بھیجتے تھے۔
It was narrated from Al-Bara' bin 'Azib رضی اللہ عنہم that:
The Prophet (ﷺ) used to say the Qunut in Subh and Maghrib. (One of the narrators) 'Ubaidullah said: Allah's Messenger (ﷺ) used to.
ہمیں عبید اللہ بن سعید نے عبدالرحمٰن کی سند سے، سفیان اور شعبہ کی سند سے اور عمرو بن مرہ کی سند سے۔ اور ہمیں عمرو بن علی نے خبر دی، کہا: ہم سے یحییٰ نے شعبہ اور سفیان کی سند سے بیان کیا، انہوں نے کہا: ہم سے عمرو بن مرہ نے ابن ابی لیلیٰ کی سند سے بیان کیا, براء بن عازب رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فجر میں اور مغرب میں دعائے قنوت پڑھتے تھے۔ عبیداللہ بن سعید کی روایت میں «أن النبي صلى اللہ عليه وسلم» کے بجائے «أن رسول اللہ صلى اللہ عليه وسلم» ہے۔
It was narrated from Anas رضی اللہ عنہ :
The Messenger of Allah (ﷺ) said the Qunut for a month. - (One of the narrators) Shu'bah said: He cursed some men. Hisham said: He supplicated against some of the tribes of Arabs. - Then he stopped doing that after bowing. This is what Hisham said. Shu'bah said, narrating from Qatadah, from Anas that the Prophet (ﷺ) said the Qunut for a month, cursing Ri'l, Dhawkan and Lihyan.
ہم سے محمد بن مثنیٰ نے بیان کیا، کہا: ہم سے ابوداؤد نے بیان کیا، کہا: ہم سے شعبہ نے، قتادہ کی سند سے اور انس رضی اللہ عنہ سے۔ اور ہشام، قتادہ کی سند سے, انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مہینہ تک دعائے قنوت پڑھی۔ شعبہ کی روایت میں ہے آپ نے چند لوگوں پر لعنت بھیجی، اور ہشام کی روایت میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم عرب کے کچھ قبیلوں پر رکوع کے بعد بد دعا فرماتے تھے، پھر آپ نے اسے چھوڑ دیا، یہ قول ہشام کا ہے، اور شعبہ قتادہ سے اور قتادہ انس رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مہینہ تک قنوت پڑھی، آپ رعل، ذکوان اور لحیان قبائل پر لعنت بھیج رہے تھے۔
It was narrated from Salim, from his father, that:
He heard the Prophet (ﷺ), when he raised his head in the last rak'ah of the subh prayer, say: O Allah, curse so-and-so and so-and-so, supplicating against some of the hypocrites. Then Allah revealed the words: Not for you is the decision; whether He turns in mercy to (pardon) them or punishes them; verily, they are the wrongdoers.
ہم سے اسحاق بن ابراہیم نے بیان کیا، کہا: ہمیں عبدالرزاق نے خبر دی، کہا: ہم سے معمر نے زہری سے، سالم نے اپنے والد سے
انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو جس وقت آپ نے فجر کی نماز میں آخری رکعت سے اپنا سر اٹھایا کچھ منافقوں پر لعنت بھیجتے ہوئے سنا، آپ کہہ رہے تھے: «اللہم العن فلانا وفلانا» اے اللہ! تو فلاں فلاں کو رسوا کر ، تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: «ليس لك من الأمر شىء أو يتوب عليهم أو يعذبهم فإنهم ظالمون» اے محمد! آپ کے اختیار میں کچھ نہیں، اللہ چاہے تو ان کی توبہ قبول کرے یا عذاب دے، کیونکہ وہ ظالم ہیں ( آل عمران: ۱۲۸ ) ۔
It was narrated from Anas رضی اللہ عنہ that:
The Messenger of Allah (ﷺ) said the Qunut for one month, supplicating against one of the 'Arab tribes, then he stopped doing that.
ہم سے اسحاق بن ابراہیم نے بیان کیا، کہا کہ ہمیں معاذ بن ہشام نے خبر دی، انہوں نے کہا: مجھ سے میرے والد نے قتادہ کی سند سے بیان کیا, انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مہینہ تک دعائے قنوت پڑھی، آپ عرب کے ایک قبیلے پر بد دعا کر رہے تھے، پھر آپ نے اسے ترک کر دیا۔
It was narrated from Abu Malik Al-Ashja'i that his father said:
I prayed behind the Messenger of Allah (ﷺ) and he did not say the Qunut, and I prayed behind Abu Bakr رضی اللہ عنہ and he did not say the Qunut, and I prayed behind Umar and he did not say the Qunut, and I prayed behind Uthman and he did not say the Qunut, and I prayed behind Ali رضی اللہ عنہ and he did not say the Qunut. Then he said: O my son, this is an innovation.
ہم سے قتیبہ نے خلف کی سند سے بیان کیا جو ابن خلیفہ ہیں, ابو مالک اشجعی (سعد) اپنے والد (طارق بن اشیم) سے کہتے ہیں کہ
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے نماز پڑھی تو آپ نے دعائے قنوت نہیں پڑھی، ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پیچھے نماز پڑھی تو انہوں نے بھی دعائے قنوت نہیں پڑھی، عمر رضی اللہ عنہ کے پیچھے نماز پڑھی تو انہوں نے بھی دعائے قنوت نہیں پڑھی، عثمان رضی اللہ عنہ کے پیچھے نماز پڑھی تو انہوں نے بھی دعائے قنوت نہیں پڑھی، اور علی رضی اللہ عنہ کے پیچھے نماز پڑھی تو انہوں نے بھی دعائے قنوت نہیں پڑھی، پھر انہوں نے کہا: میرے بیٹے! یہ ( یعنی: مداومت ) بدعت ہے ۱؎۔
It was narrated that Jabir bin 'Abdullah رضی اللہ عنہم said:
We used to pray Zuhr with the Messenger of Allah (ﷺ) and I would take a handful of pebbles in my hand to cool them down, then I would pass them from one hand to the other, and when I prostrated I would put them down to lay my forehead on them.
ہم سے قتیبہ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے عباد نے محمد بن عمرو کی سند سے اور سعید بن حارث کی سند سے بیان کیا, جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ
ہم ظہر کی نماز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ پڑھتے تھے، میں نماز میں ہی ایک مٹھی کنکری اپنے ہاتھ میں لے لیتا، اسے ٹھنڈا کرتا، پھر اسے دوسرے ہاتھ میں پلٹ دیتا، تو جب سجدہ کرتا تو اسے اپنی پیشانی کے نیچے رکھ لیتا۔
It was narrated that Mutarrif said:
Imran bin Husain رضی اللہ عنہما and I prayed behind Ali bin Abi Talib رضی اللہ عنہ. When he prostrated he said the Takbir, and when he raised his head from prostration he said the takbir, and when he stood up following two rak'ahs he said the takbir, and when he had finished praying, 'Imran took my hand and said: 'This reminded me of- he said a word meaning- the prayer of Muhammad (ﷺ).'
ہم سے یحییٰ بن حبیب بن عربی نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے حماد نے غیلان بن جریر کی سند سے بیان کیا, مطرف کہتے ہیں کہ
میں نے اور عمران بن حصین رضی اللہ عنہما دونوں نے علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے پیچھے نماز پڑھی، جب وہ سجدہ کرتے تو اللہ اکبر کہتے، اور جب سجدہ سے اپنا سر اٹھاتے تو اللہ اکبر کہتے، اور جب دو رکعتیں پڑھ کر اٹھتے تو اللہ اکبر کہتے، جب وہ نماز پڑھ چکے تو عمران رضی اللہ عنہ نے میرا ہاتھ پکڑا اور کہا: انہوں نے مجھے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز یاد دلا دی۔
It was narrated that Abdullah bin Mas'ud رضی اللہ عنہ said:
The Messenger of Allah (ﷺ) used to say the takbir every time he went down and came up, and he would say the Salam to his right and his left. And Abu Bakr and 'Umar رضی اللہ عنہم used to do likewise.
ہم سے عمرو بن علی نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے معاذ اور یحییٰ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے زہیر نے بیان کیا، کہا: مجھ سے ابو اسحاق نے عبدالرحمٰن بن اسود سے، انہوں نے علقمہ اور اسود کی سند سے بیان کیا, عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہر جھکنے اور اٹھنے میں اللہ اکبر کہتے تھے ۱؎، اور آپ اپنے دائیں اور بائیں دونوں طرف سلام پھیرتے، ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہم بھی ایسا ہی کرتے تھے۔
It was narrated that Abu Bushr said:
I heard Yusuf-meaning Ibn Mahak- narrating that Hakim رضی اللہ عنہ said: 'I gave my pledge of allegiance to the Messenger of Allah (ﷺ), pledging that I would go down (in prostration) only after standing up from bowing.'
ہم سے اسماعیل بن مسعود نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے خالد نے شعبہ کی سند سے اور ابو بشر سے روایت کی، انہوں نے کہا
میں نے یوسف بن مہک کو بیان کرتے ہوئے سنا,حکیم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بات پر بیعت کی کہ میں کھڑے کھڑے ہی سجدے میں گروں گا ۔
It was narrated from Malik bin Al-Huwairith رضی اللہ عنہ that:
He saw the Prophet (ﷺ) raise his hands when praying, when he bowed, when he raised his head from bowing, when he prostrated and when he raised his head from prostrating, until they were in level with the top part of his ears.
ہم سے محمد بن مثنیٰ نے بیان کیا، کہا: ہم سے ابن ابی عدی نے شعبہ کی سند سے، قتادہ کی سند سے اور نصر بن عاصم کی سند سے بیان کیا, مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز میں جب آپ رکوع کرتے، اور جب رکوع سے اپنا سر اٹھاتے، اور جب سجدہ کرتے، اور جب سجدہ سے اپنا سر اٹھاتے رفع یدین کرتے دیکھا، یہاں تک کہ آپ اپنے دونوں ہاتھوں کو اپنے دونوں کانوں کی لو کے بالمقابل کر لیتے ۔
It was narrated from Malik bin Al-Huwairith رضی اللہ عنہ that:
He saw the Prophet (ﷺ) raise his hands, a similar report.
ہم سے محمد بن مثنیٰ نے بیان کیا، کہا: ہم سے عبد العلا نے بیان کیا، کہا: ہم سے سعید نے قتادہ کی سند سے اور نصر بن عاصم کی سند سے بیان کیا, مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے دونوں ہاتھ اٹھاتے ہوئے دیکھا، انہوں نے اسی کے مثل روایت ذکر کی۔
It was narrated from Malik bin Al-Huwairith رضی اللہ عنہ that:
He saw the Prophet of Allah (ﷺ) raise his hands when he started to pray, and he narrated a similar report and added: When he bowed he did likewise, and when he raised his head from bowing he did likewise, and when he raised his head from prostration he did likewise.
ہم سے محمد بن مثنیٰ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے معاذ بن ہشام نے بیان کیا، کہا: مجھ سے میرے والد نے قتادہ کی سند سے اور نصر بن عاصم کی سند سے بیان کیا, مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز میں داخل ہو جاتے .... پھر آگے انہوں نے اسی طرح کی حدیث ذکر کی، اس میں انہوں نے یہ اضافہ کیا ہے کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم رکوع کرتے تو بھی ایسا ہی کرتے، اور جب رکوع سے سر اٹھاتے تو بھی، اور جب سجدہ سے سر اٹھاتے تو بھی ۔
It was narrated that Ibn 'Umar رضی اللہ عنہم said:
The Messenger of Allah (ﷺ) used to raise his hands when he started to pray, and when he bowed, and when he stood up, but he did not do that when he prostrated.
ہم سے محمد بن عبید الکوفی المحاربی نے بیان کیا، کہا: ہم سے ابن مبارک نے معمر کی سند سے، زہری کی سند سے، سالم کی سند سے, عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز شروع کرتے، اور جب رکوع کرتے، اور جب رکوع سے اپنا سر اٹھاتے، تو اپنے دونوں ہاتھ اٹھاتے اور سجدہ کرنے میں ایسا نہیں کرتے تھے۔