It was narrated that Abu Al-Hasan, the freed slave of Banu Nawfal, said: Ibn 'Abbas was asked about a slave who divorced his wife twice, then they were set free; could he marry her? He said: 'Yes.' He said: 'From whom (did you hear that)?' He said: 'The Messenger of Allah issued a Fatwa to that effect.' (One of the narrators) 'Abdur-Razzaq said: Ibn Al-Mubarak said to Ma'mar: 'Which Al-Hasan is this? He has taken on a heavy burden.'
بنی نوفل کے غلام حسن کہتے ہیں کہ
ابن عباس رضی اللہ عنہما سے ایک غلام کے متعلق جس نے اپنی بیوی کو دو طلاقیں دے دیں پھر وہ دونوں آزاد کر دیے گئے، پوچھا گیا: کیا وہ اس سے شادی کر سکتا ہے؟ تو انہوں نے کہا: ہاں، ( کر سکتا ہے ) کسی نے کہا کس سے سن کر یہ بات کہتے ہیں؟ انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس مسئلہ میں یہی فتویٰ دیا ہے۔ عبدالرزاق کہتے ہیں کہ ابن مبارک نے معمر سے کہا: یہ حسن کون ہیں؟ انہوں نے تو اپنے سر پر ایک بڑی چٹان لاد لی ہے ۱؎۔
It was narrated that Kathir bin As-Sa'ib said: The sons of Quraizah told me that they were presented to the Messenger of Allah on the Day of Quraizah, and whoever (among them) had reached puberty, or had grown pubic hair, was killed, and whoever had not reached puberty and had not grown pubic hair was left (alive).
قریظہ رضی الله عنہ کے دونوں بیٹے روایت کرتے ہیں کہ
وہ سب ( یعنی بنو قریظہ کے نوجوان ) قریظہ کے ( فیصلے کے ) دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش کیے گئے، تو جسے احتلام ہونے لگا تھا، یا جس کی ناف کے نیچے کے بال اگ آئے تھے اسے ( جوان قرار دے کر ) قتل کر دیا گیا۔ اور جسے ابھی احتلام ہونا شروع نہیں ہوا تھا یا جس کی ناف کے نیچے کے بال نہیں آئے تھے اسے چھوڑ دیا اور قتل نہیں کیا گیا ۱؎۔
It was narrated that 'Atiyyah Al-Qurazi said: On the day that Sa'd passed judgment on Banu Quraizah I was a young boy and they were not sure about me, but they did not find any pubic hair, so they let me live, and here I am among you.
عطیہ قرظی کہتے ہیں کہ
جب سعد رضی اللہ عنہ نے بنو قریظہ کے مردوں کے قتل کا فیصلہ دیا تو اس وقت میں بچہ تھا، لوگوں کو میرے متعلق شبہ ہوا ( کہ میں فی الواقع بچہ ہوں یا جوان؟ جب انہوں نے تحقیق کی ) تو مجھے زیر ناف کے بالوں والا نہیں پایا اور میں بچ رہا۔ چنانچہ میں آج تمہارے درمیان موجود ہوں۔
It was narrated from Ibn 'Umar that he presented himself to the Messenger of Allah on the Day of Uhud when he was fourteen years old, but he did not permit him (to join the army). He presented himself on the Day of Al-Khandaq when he was fifteen years old, and he permitted him (to join the army).
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ
انہوں نے اپنے آپ کو جنگ احد کے موقع پر ( جنگ میں شریک ہونے کے لیے ) ۱۴ سال کی عمر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش کیا تو آپ نے انہیں ( جنگ میں شرکت کی ) اجازت نہ دی۔ اور غزوہ خندق کے موقع پر جب کہ وہ پندرہ سال کے ہو چکے تھے اپنے آپ کو پیش کیا تو آپ نے اجازت دے دی ( اور مجاہدین میں شامل کر لیا ) ۔
It was narrated from 'Aishah that the Prophet said: The pen has been lifted from three: From the sleeper until he wakes up, from the minor until he grows up, and from the insane until he comes back to his senses or recovers.
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تین طرح کے لوگوں سے قلم اٹھا لیا گیا ہے ۱؎ ایک تو سونے والے سے یہاں تک کہ وہ جاگے ۲؎، دوسرے نابالغ سے یہاں تک کہ وہ بالغ ہو جائے، تیسرے دیوانے سے یہاں تک کہ وہ عقل و ہوش میں آ جائے“۔
It was narrated from Abu Hurairah that -(one of the narrators) 'Abdur-Rahman said: The Messenger of Allah -said: 'Allah, the Most High, has forgiven my Ummah for everything that enters the mind, so long as it is not spoken of or put into action.'
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ، ( عبدالرحمٰن کی روایت میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ) نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے میری امت سے معاف کر دیا ہے جو وہ دل میں سوچتے ہیں جب تک کہ اسے زبان سے نہ کہیں اور اس پہ عمل نہ کریں“۔
It was narrated that Abu Hurairah said: The Messenger of Allah said: 'Allah, the Mighty and Sublime, has forgiven my Ummah for what is whispered to them or what enters their minds, so long as they do not act upon it or speak of it.'
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ عزوجل نے ہماری امت کے وسوسوں اور جی میں گزرنے والے خیالات سے درگزر فرما دیا ہے جب تک کہ اسے زبان سے نہ کہیں یا اس پہ عمل نہ کریں“۔
It was narrated from Abu Hurairah that the Prophet said: Allah, the Most High, has forgiven my Ummah for whatever enters the mind, so long as it is not spoken of or put into action.
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میری امت کے لوگوں کے دل میں جو بات کھٹکتی اور گزرتی ہے اللہ تعالیٰ نے اس سے درگزر فرما دیا ہے جب تک کہ اسے زبان سے نہ کہیں یا اس پہ عمل نہ کریں“۔
It was narrated that Anas said: The Messenger of Allah had a Persian neighbor who was good at making soup. He came to the Messenger of Allah one day when 'Aishah was with him, and gestured to him with his hand to come. The Messenger of Allah gestured toward 'Aishah -meaning: 'What about her?'- and the man gestured to him like this, meaning, 'No,' two or three times.
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک فارسی پڑوسی تھا جو اچھا شوربہ بناتا تھا۔ ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس عائشہ رضی اللہ عنہا بھی موجود تھیں، اس نے آپ کو اپنے ہاتھ سے اشارہ کر کے بلایا، آپ نے عائشہ رضی اللہ عنہا کی طرف اشارہ کر کے پوچھا: ”کیا انہیں بھی لے کر آؤں“، اس نے ہاتھ سے اشارہ سے منع کیا دو یا تین بار کہ نہیں ۱؎۔
It was narrated that 'Umar bin Al-Khattab, may Allah be pleased with him, said that the Messenger of Allah said: Actions are but by intentions, and each man will have but that which he intended. Whoever emigrated for the sake of Allah and His Messenger, his emigration was for the sake of Allah and His Messenger, and whoever emigrated for the sake of some worldly gain or to marry some woman, his emigration was for that for which he emigrated.
عمر بن خطاب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اعمال کا دارومدار نیت پر ہے۔ آدمی جیسی نیت کرے گا ویسا ہی پھل پائے گا، جو اللہ و رسول کے لیے ہجرت کرے گا تو اس کی ہجرت اللہ اور اس کے رسول کے لیے سمجھی جائے گی ( اللہ اور اس کے رسول کی طرف ہجرت کرنے کا ثواب ملے گا ) اور جو کوئی دنیا حاصل کرنے کے لیے ہجرت کرے گا تو اسے دنیا ملے گی، یا عورت حاصل کرنے کے لیے ہجرت کرے گا تو اسے عورت ملے گی۔ ہجرت جس قصد و ارادے سے ہو گی اس کا حاصل اس کے اعتبار سے ہو گا“۔
Abu Hurairah narrated that the Messenger of Allah said: Look at how Allah diverts the insults and curses of Quraish from me. They insult 'Mudhammam' and curse 'Mudhammam' -but I am Muhammad.
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ذرا دیکھو تو ( غور کرو ) اللہ تعالیٰ قریش کی گالیوں اور لعنتوں سے مجھے کس طرح بچا لیتا ہے، وہ لوگ مجھے مذمم کہہ کر گالیاں دیتے اور مذمم کہہ کر مجھ پر لعنت بھیجتے ہیں اور میں محمد ہوں“ ۱؎۔
It was narrated that 'Aishah, the wife of the Prophet, said: When the Messenger of Allah was commanded to give his wives the choice, he started with me and said: 'I am going to say something to you and you do not have to rush (to make a decision) until you consult your parents.' She said: He knew that my parents would never tell me to leave him. She said: Then he recited this Verse: 'O Prophet! Say to your wives: If you desire the life of this world, and its glitter, then come! I will make a provision for you and set you free in a handsome manner.' I said: 'Do I need to consult my parents concerning this? I desire Allah, the Mighty and Sublime, and His Messenger, and the home of the Hereafter.' 'Aishah said: Then the wives of the Prophet all did the same as I did, and that was not counted as a divorce, when the Messenger of Allah gave them the choice and they chose him.
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ
جب اللہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی بیویوں کو اختیار دینے کا حکم دیا ۱؎ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس ( اختیار دہی ) کی ابتداء مجھ سے کی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں تم سے ایک بات کہنے والا ہوں تو ماں باپ سے مشورہ کیے بغیر فیصلہ لینے میں جلدی نہ کرنا“ ۲؎، آپ صلی اللہ علیہ وسلم بخوبی سمجھتے تھے کہ میرے ماں باپ آپ سے جدا ہونے کا کبھی مشورہ نہ دیں گے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت: «يا أيها النبي قل لأزواجك إن كنتن تردن الحياة الدنيا» ”اے نبی! اپنی بیویوں سے کہہ دو کہ اگر تم زندگانی دنیا اور زینت دنیا چاہتی ہو تو آؤ میں تمہیں کچھ دے دلا دوں اور تمہیں اچھائی کے ساتھ رخصت کر دوں“۔ ( الاحزاب: ۲۸ ) تک پڑھی ( یہ آیت سن کر ) میں نے کہا: میں اس بات کے لیے اپنے ماں باپ سے صلاح و مشورہ لوں؟ ( مجھے کسی سے مشورہ نہیں لینا ہے ) میں اللہ عزوجل، اس کے رسول اور آخرت کے گھر کو پسند کرتی ہوں ( یہی میرا فیصلہ ہے ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دوسری بیویوں نے بھی ویسا ہی کیا ( اور کہا ) جیسا میں نے کیا ( اور کہا ) تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ان سے کہنے اور ان کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو منتخب کر لینے سے طلاق واقع نہیں ہوئی ۴؎۔
It was narrated that 'Aishah said: When the following was revealed: 'But if you desire Allah and His Messenger,' the Prophet came and started with me. He said: 'O 'Aishah, I am going to say something to you and you do not have to rush (to make a decision) until you consult your parents.' She said: He knew, by Allah, that my parents would never tell me to leave him. Then he recited to me: 'O Prophet! Say to your wives: If you desire the life of this world, and its glitter.' I said: 'Do I need to consult my parents concerning this? I desire Allah and His Messenger.'
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ
جب آیت: «إن كنتن تردن اللہ ورسوله» اتری تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے اور اس سلسلے میں سب سے پہلے مجھ سے بات چیت کی، آپ نے فرمایا: ”عائشہ! میں تم سے ایک بات کہنے والا ہوں، تو تم اپنے ماں باپ سے مشورہ کیے بغیر جواب دینے میں جلدی نہ کرنا۔“ آپ بخوبی جانتے تھے کہ قسم اللہ کی میرے ماں باپ مجھے آپ سے جدائی اختیار کر لینے کا مشورہ و حکم دینے والے ہرگز نہیں ہیں، پھر آپ نے مجھے یہ آیت پڑھ کر سنائی: «يا أيها النبي قل لأزواجك إن كنتن تردن الحياة الدنيا وزينتها» میں نے ( یہ آیت سن کر ) آپ سے عرض کیا: کیا آپ مجھے اس بارے میں اپنے والدین سے مشورہ کر لینے کے لیے کہہ رہے ہیں، میں تو اللہ اور اس کے رسول کو چاہتی ہوں ( اس بارے میں مشورہ کیا کرنا؟ ) ۔ ابوعبدالرحمٰن نسائی کہتے ہیں: یہ ( یعنی حدیث «معمر عن الزہری عن عائشہ» غلط ہے اور اول ( یعنی حدیث «یونس و موسیٰ عن ابن شہاب، عن أبی سلمہ عن عائشہ» زیادہ قریب صواب ہے۔ واللہ أعلم۔
It was narrated that 'Aishah said: The Messenger of Allah gave us the choice and we chose him; was that a divorce?
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم ( ازواج مطہرات ) کو اختیار دیا تو ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہی کو چن لیا، تو کیا یہ طلاق ہوئی؟ ( نہیں، یہ طلاق نہیں ہوئی ) ۔
It was narrated that 'Aishah said: The Messenger of Allah gave his wives the choice but that was not a divorce.
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیویوں کو اختیار دیا تو یہ اختیار دینا طلاق نہیں ہوا۔
It was narrated from Masruq that 'Aishah said: The Prophet gave his wives the choice and that was not a divorce.
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیویوں کو اختیار دیا تو یہ اختیار طلاق نہیں تھا۔
It was narrated that 'Aishah said: The Messenger of Allah gave his wives the choice; was that a divorce?
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیویوں کو ( انتخاب کا ) اختیار دیا تو کیا یہ ( اختیار ) طلاق تھا؟ ( نہیں، یہ طلاق نہیں تھا ) ۔
It was narrated that 'Aishah said: The Messenger of Allah gave us the choice and we chose him, and that was not counted as anything.
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اختیار دیا تو ہم سب نے آپ کو منتخب اور قبول کر لیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ہم سے متعلق کچھ بھی شمار نہ کیا۔
It was narrated that Al-Qasim bin Muhammad said: Aishah had a male slave and a female slave. She said: 'I wanted to set them free, and I mentioned that to the Messenger of Allah. He said: Start with the male slave before the female slave.'
قاسم بن محمد کہتے ہیں کہ
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس ایک غلام اور ایک لونڈی تھی ( یہ دونوں میاں بیوی تھے ) میرا ارادہ ہوا کہ ان دونوں کو میں آزاد کر دوں۔ میں نے اس ارادہ کا اظہار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کر دیا تو آپ نے فرمایا: ”لونڈی سے پہلے غلام کو آزاد کرو ( پھر لونڈی کو ) “ ۱؎۔
It was narrated that 'Aishah, the wife of the Prophet, said: Three Sunan were established because of Barirah. One of those Sunan was that she was set free and was given the choice concerning her husband; the Messenger of Allah said: 'Al Wala' is to the one who set the slave free;' and the Messenger of Allah entered when some meat was being cooked in a pot, but bread and some condiments were brought to him. He said: 'Do I not see a pot in which some meat is being cooked?' They said: 'Yes, O Messenger of Allah, that is meat that was given in charity to Barirah and you do not eat (food given in) charity.' The Messenger of Allah said: 'It is charity for her and a gift for us.'
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ
بریرہ رضی اللہ عنہا سے تین سنتیں تھیں ۱؎، ایک یہ کہ وہ لونڈی تھیں آزاد کی گئیں، ( آزادی کے باعث ) انہیں ان کے شوہر کے سلسلہ میں اختیار دیا گیا ( اپنے غلام شوہر کے ساتھ رہنے یا علیحدگی اختیار کر لینے کا ) اور ( دوسری سنت یہ کہ ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ولاء ( میراث ) آزاد کرنے والے کا حق ہے“، اور ( تیسری سنت یہ کہ ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ( ان کے ) گھر گئے ( اس وقت ان کے یہاں ) ہنڈیا میں گوشت پک رہا تھا، آپ کے سامنے روٹی اور گھر کے سالنوں میں سے ایک سالن پیش کیا گیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا میں نے گوشت کی ہنڈیا نہیں دیکھی ہے؟“ ( تو پھر گوشت کیوں نہیں لائے؟ ) لوگوں نے عرض کیا: ہاں، اللہ کے رسول! ( آپ نے صحیح دیکھا ہے ) لیکن یہ گوشت وہ ہے جو بریرہ رضی اللہ عنہا کو صدقہ میں ملا ہے اور آپ صدقہ نہیں کھاتے ( اس لیے آپ کے سامنے گوشت نہیں رکھا گیا ہے ) ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ اس کے لیے صدقہ ہے لیکن ( جب تم اسے مجھے پیش کرو گے تو ) وہ میرے لیے ہدیہ ہو گا ( اس لیے اسے پیش کر سکتے ہو ) “ ۳؎۔