It was narrated that Ash-Sha'bi said: I came to Fatimah bint Qais and asked her about the ruling of the Messenger of Allah concerning her. She said that her husband divorced her irrevocably, and she referred her dispute with him, concerning accommodation and maintenance, to the Messenger of Allah. She said: 'He did not give me (the right to) accommodation and maintenance, and he told me to observe my 'Iddah in the house of Ibn Umm Maktum,'
شعبی کہتے ہیں کہ
میں فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا کے پاس آیا اور ان سے ان کے معاملہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فیصلہ پوچھا؟ انہوں نے کہا: میرے شوہر نے مجھے طلاق بتہ ( تین طلاق قطعی ) دی تو میں ان سے نفقہ و سکنیٰ حاصل کرنے کا اپنا مقدمہ لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئی تو آپ نے مجھے نفقہ و سکنیٰ پانے کا حقدار نہ ٹھہرایا اور مجھے حکم دیا کہ میں اب ابن ام مکتوم کے گھر میں عدت کے دن گزاروں۔
It was narrated that Fatimah bint Qais said: My husband divorced me and I wanted to move, so I went to the Messenger of Allah and he said: 'Move to the house of your paternal cousin 'Amr bin Umm Maktum, and observe your 'Iddah there.' Al-Aswad hit him (Ash-Sha'bi) with a pebble and said: Woe be to you! Why do you issue such a Fatwa? 'Umar said: 'If you bring two witnesses who will testify that they heard that from the Messenger of Allah (we will believe you), otherwise, we will not leave the Book of Allah for the word of a woman.' 'And turn them not out of their (husband's) homes nor shall they (themselves) leave, except in case they are guilty of some open Fahishah.'
فاطمہ بنت قیس رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ
میرے شوہر نے مجھے طلاق دے دی تو میں نے ( شوہر کے گھر سے ) منتقل ہو جانے کا ارادہ کیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ( اجازت طلب کرنے کی غرض سے ) آئی، آپ نے ( اجازت عطا فرمائی ) فرمایا: ”اپنے چچا زاد بھائی عمرو بن ام مکتوم کے گھر منتقل ہو جاؤ اور وہیں عدت کے دن گزارو“۔ ( یہ سن کر ) اسود نے ان کی طرف ( انہیں متوجہ کرنے کے لیے ) کنکری پھینکی اور کہا: تمہارے لیے خرابی ہے ایسا فتویٰ کیوں دیتی ہو۔ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اگر تم دو ایسے گواہ پیش کر دو جو اس بات کی گواہی دیں کہ جو تم کہہ رہی ہو اسے انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے تو ہم تمہاری بات قبول کر لیں گے۔ اور اگر دو گواہ نہیں پیش کر سکتیں تو ہم کسی عورت کے کہنے سے کلام پاک کی آیت: «لا تخرجوهن من بيوتهن ولا يخرجن إلا أن يأتين بفاحشة مبينة» ”نہ تم انہیں ان کے گھروں سے نکالو اور نہ وہ خود نکلیں، ہاں یہ اور بات ہے کہ وہ کھلی برائی کر بیٹھیں“۔ ( الطلاق: ۱ ) پر عمل کرنا ترک نہیں کر سکتے۔
It was narrated from Jabir that his maternal aunt was divorced, and she wanted to go out to some date palms of hers, but she met a man who told her not to do that. She went to the Messenger of Allah and he said: Go out and take the harvest of your date palms, for perhaps you will give Zakah or do some good (give voluntary charity).
جابر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
میری خالہ کو طلاق ہو گئی ( اسی دوران ) انہوں نے اپنے کھجوروں کے باغ میں جانے کا ارادہ کیا تو ان کی ملاقات ایک ایسے شخص سے ہوئی جس نے انہیں باغ میں جانے سے روکا۔ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں ( آپ سے اس بارے میں پوچھا ) تو آپ نے فرمایا: ”تم اپنے باغ میں جا سکتی ہو، توقع ہے ( جب تم اپنے باغ میں جاؤ گی، پھل توڑو گی تو ) تم صدقہ کرو گی اور ( دوسرے ) اچھے بھلے کام کرو گی“۔
It was narrated that Abu Bakr bin Hafs said: Abu Salamah and I entered upon Fatimah bint Qais, who said: My husband divorced me and he did not give me any accommodation or maintenance. She said: He left with me ten measures (Aqfizah) (of food) with a cousin of his: Five of barley and five of dates. I went to the Messenger of Allah and told him about that. He said: 'He has spoken the truth.' And he told me to observe my 'Iddah in the house of so-and-so. And her husband had divorced her irrevocably.
ابوبکر بن حفص کہتے ہیں کہ
میں اور ابوسلمہ دونوں فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا کے پاس گئے، انہوں نے کہا: میرے شوہر نے مجھے طلاق دے دی اور میرے نفقہ و سکنیٰ کا انتظام نہ کیا، اور اپنے چچیرے بھائی کے یہاں میرے لیے دس قفیز رکھ دیئے: پانچ قفیز جو کے اور پانچ قفیز کھجور کے ۱؎، میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور آپ کو یہ ساری باتیں بتائیں تو آپ نے فرمایا: ”اس نے صحیح کہا ہے اور آپ نے مجھے حکم دیا کہ میں فلاں کے گھر میں رہ کر اپنی عدت پوری کروں، ان کے شوہر نے انہیں طلاق بائن دی تھی“۔
Ubaidullah bin 'Abdullah bin 'Utbah narrated that 'Abdullah bin 'Amr bin 'Uthman divorced the daughter of Sa'eed bin Zaid -whose mother was Hamnah bint Qais- irrevocably. Her maternal aunt Fatimah bint Qais told her to move from the house of 'Abdullah bin 'Amr. Marwan heard of that, so he sent word to her, telling her to go back to her home until her 'Iddah was over. She sent a word to him telling him that her maternal aunt Fatimah had issued a Fatwa to that effect, and she told her that the Messenger of Allah had issued a Fatwa to her, telling her to move when Abu 'Amr bin Hafs Al-Makhzumi divorced her. Marwan sent Qabisah bin Dhu'aib to Fatimah to ask her about that. She said that she had been married to Abu 'Amr when the Messenger of Allah appointed 'Ali bin Abi Talib as governor of Yemen, and he went out with him, then he sent word to her divorcing her, and that was the final divorce for her. He told her to ask Al-Harith bin Hisham and 'Ayyash for her provisions that her husband had allocated for her. They said: By Allah, she is not entitled to any provision. So, she sent to Al-Harith bin Hisham and 'Ayyash asking them for the provisions from us unless she is pregnant, and she has no right to live in our house unless we permit her. Fatimah said that she went to the Messenger of Allah and told him about that and he said that they had told the truth. She said: I said: 'Where shall I move to, O Messenger of Allah?' He said: 'Move to the house of Ibn Umm Maktum' -who was the blind man, concerning whom Allah rebuked him in His Book. I moved to his house, and I used to take off my outer garments. Then the Messenger of Allah married her to Usamah bin Zaid.
زہری کہتے ہیں کہ مجھ سے عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ نے بیان کیا کہ
عبداللہ بن عمرو بن عثمان نے سعید بن زید کی بیٹی کو طلاق بتہ دی ۱؎ لڑکی کی ماں کا نام حمنہ بنت قیس تھا، لڑکی کی خالہ فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا نے اس سے کہا کہ عبداللہ بن عمرو کے گھر سے ( کہیں اور ) منتقل ہو جا، یہ بات مروان ( مروان بن حکم ) نے سنی تو انہوں نے عبداللہ بن عمرو بن عثمان کی بیوی کو کہلا بھیجا کہ اپنے گھر میں آ کر اس وقت تک رہو جب تک کہ عدت پوری نہ ہو جائے، ( اس کے جواب میں ) اس نے مروان کو یہ خبر بھیجی کہ مجھے میری خالہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے گھر چھوڑ دینے کا فتویٰ دیا تھا اور بتایا تھا کہ جب ان کے شوہر ابوعمرو بن حفص مخزومی رضی اللہ عنہ نے انہیں طلاق دی تھی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں گھر سے منتقل ہو جانے کا حکم دیا تھا۔ ( یہ قصہ سن کر ) مروان نے قبیصہ بن ذویب ( نامی شخص ) کو ( تحقیق واقعہ کے لیے ) فاطمہ رضی اللہ عنہا کے پاس بھیجا۔ ( وہ آئے ) اور ان سے اس بارے میں سوال کیا، تو انہوں نے بیان کیا کہ وہ ابوعمرو کی بیوی تھیں اور وہ اس وقت جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے علی رضی اللہ عنہ کو یمن کا امیر ( گورنر ) بنا کر بھیجا تھا علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ یمن چلے گئے تھے اور وہاں سے انہوں نے انہیں وہ طلاق دے کر بھیجی جو باقی رہ گئی تھی اور حارث بن ہشام اور عیاش بن ابی ربیعہ رضی اللہ عنہما کو کہلا بھیجا تھا کہ وہ انہیں نفقہ دے دیں گے تو فاطمہ رضی اللہ عنہا نے حارث اور عیاش سے اس نفقہ کا مطالبہ کیا جسے انہیں دینے کے لیے ان کے شوہر نے ان سے کہا تھا، ان دونوں نے فاطمہ رضی اللہ عنہا کو جواب دیا: قسم اللہ کی! ان کے لیے ہمارے ذمہ کوئی نفقہ نہیں ہے، ( یعنی ان کے لیے نفقہ کا حق ہی نہیں تھا ) ہاں اگر وہ حاملہ ہوں ( تو انہیں بیشک وضع حمل تک نفقہ مل سکتا ہے ) اور اب ان کے لیے ہمارے گھر میں رہنے کا بھی حق نہیں بنتا، الا یہ کہ ہم انہیں ( ازراہ عنایت ) اپنے گھر میں رہنے کی اجازت دے دیں۔ فاطمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ وہ ( یہ باتیں سن کر ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں اور یہ ساری باتیں آپ کو بتائیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں کی تصدیق کی ( کہ انہوں نے صحیح بات بتائی ہے ) ۔ میں نے کہا: اللہ کے رسول! میں کہاں چلی جاؤں؟ آپ نے فرمایا: ”ابن ام مکتوم کے یہاں چلی جاؤ“۔ یہ ابن ام مکتوم وہی نابینا شخص ہیں جن کی خاطر اللہ نے اپنی کتاب ( قرآن پاک کی سورۃ عبس ) میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر عتاب فرمایا تھا۔ تو میں ان کے یہاں چلی گئی۔ ( ان کے نہ دیکھ پانے کی وجہ سے بغیر کسی دقت و پریشانی کے ) میں وہاں اپنے کپڑے اتار لیتی ( اور تبدیل کر لیتی ) تھی ۲؎ اور یہ سلسلہ اس وقت تک رہا جب تک کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی شادی اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما سے نہ کرا دی۔
It was narrated from 'Amr bin Az-Zubair that Fatimah bint Abi Hubaish told him that she came to the Messenger of Allah and complained to him about (continual) bleeding. The Messenger of Allah said to her: That is a vein. Look and when your period comes, do not pray, and when your period ends, then purify yourself and pray during the time between one period and the next.
فاطمہ بنت ابی حبیش رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ
وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں اور آپ سے خون آنے کی شکایت کی تو آپ نے ان سے کہا: یہ کسی رگ سے آتا ہے ( رحم سے نہیں ) تم دھیان سے دیکھتی رہو جب تمہیں «قرؤ» یعنی حیض آئے ۱؎ تو نماز نہ پڑھو اور جب حیض کے دن گزر جائیں تو ( نہا دھو کر ) پاک ہو جایا کرو اور پھر ایک حیض سے دوسرے حیض کے درمیان نماز پڑھا کرو۔
It was narrated from Ibn 'Abbas, regarding Allah's saying: Whatever a Verse do We abrogate or cause to be forgotten, We bring a better one or similar to it. and And when We change a Verse in place of another -and Allah knows best what He sends down (Al-Nahl 16:101) and Allah blots out what He wills and confirms (what He wills). And with Him is the Mother of the Book. The first thing that was abrogated in the Qur'an was the Qiblah. And He said: And divorced women shall wait (as regards their marriage) for three menstrual periods, and it is not lawful for them to conceal what Allah has created in their wombs, if they believe in Allah and the Last Day. And their husbands have better right to take them back in that period, if they wish for reconciliation. -that is because when a man divorced his wife, he had more right to take her back, even if he had divorced her three times. Then (Allah) abrogated that and said: The divorce is twice, after that, either you retain her on reasonable terms or release her with kindness.
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما
قرآن پاک کی آیت: «ما ننسخ من آية أو ننسها نأت بخير منها أو مثلها» یعنی ”ہم جو کوئی آیت منسوخ کر دیتے ہیں یا بھلا دیتے ہیں تو ہم اس کی جگہ اس سے بہتر یا اسی جیسی کوئی اور آیت لے آتے ہیں“ ( البقرہ: ۱۰۶ ) اور دوسری آیت: «وإذا بدلنا آية مكان آية واللہ أعلم بما ينزل» یعنی ”جب ہم ایک آیت کی جگہ دوسری آیت بدل دیتے ہیں اور اللہ بہتر جانتا ہے کہ اس نے کیا چیز اتاری ہے تو وہ کہتے ہیں تو تو گڑھ لاتا ہے بلکہ حقیقت یہ ہے کہ وہ سب سمجھتے ہی نہیں ہیں“ ( النحل: ۱۰۱ ) ، اور تیسری آیت: «يمحو اللہ ما يشاء ويثبت وعنده أم الكتاب» ”اللہ جو چاہتا ہے مٹا دیتا ہے اور جو چاہتا ہے باقی اور ثابت رکھتا ہے اور اسی کے پاس اصل کتاب ( یعنی لوح محفوظ ) ہے“ ( الرعد: ۳۹ ) ۔ کی تفسیر میں فرماتے ہیں: پہلی چیز جو قرآن سے منسوخ ہوئی ہے وہ قبلہ ہے۔ اور عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما آیت: «والمطلقات يتربصن بأنفسهن ثلاثة قروء ولا يحل لهن أن يكتمن ما خلق اللہ في أرحامهن» سے لے کر «إن أرادوا إصلاحا» تک یعنی ”اور طلاق یافتہ عورتیں تین حیض کے آ جانے کا انتظار کریں گی اور ان کے لیے حلال نہیں ہے کہ ان کی بچہ دانیوں میں اللہ نے جو تخلیق کر دی ہو اسے چھپائیں اگر وہ اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتی ہیں، البتہ ان کے خاوند اگر اصلاح کا ارادہ رکھتے ہوں تو وہ انہیں لوٹا لینے کا پورا حق رکھتے ہیں“ ( البقرہ: ۲۲۸ ) کی تفسیر میں فرماتے ہیں ( پہلے معاملہ یوں تھا ) کہ اگر کوئی اپنی بیوی کو طلاق دے دیتا تھا تو اسے لوٹا لینے کا بھی پورا پورا حق رکھتا تھا خواہ اس نے اسے تین طلاقیں ہی کیوں نہ دی ہوں، ابن عباس کہتے ہیں: یہ چیز منسوخ ہو گئی کلام پاک کی اس آیت «الطلاق مرتان فإمساك بمعروف أو تسريح بإحسان» ”یہ طلاقیں دو مرتبہ ہیں پھر یا تو اچھائی کے ساتھ روک لینا ہے یا عمدگی کے ساتھ چھوڑ دینا ہے“ ( البقرہ: ۲۲۹ ) سے ( یعنی وہ صرف دو طلاق تک رجوع کر سکتا ہے اس سے زائد طلاق دینے پر رجوع کرنا جائز نہیں ) ۔
Ibn 'Umar said: I divorced my wife when she was menstruating. 'Umar went to the Prophet and told him about that. The Prophet said: 'Tell him to take her back, then when she becomes pure, if he wants to, let him divorce her.' I said to Ibn 'Umar: Did that count as one divorce? He said: Why not? What do you think if some becomes helpless and behaves foolishly.
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ
میری بیوی حالت حیض میں تھی اسی دوران میں نے اسے طلاق دے دی، عمر رضی اللہ عنہ نے جا کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے حکم دو کہ وہ رجوع کر لے، پھر جب وہ حالت طہر میں آ جائے تو اسے اختیار ہے، چاہے تو اسے طلاق دیدے“۔ یونس کہتے ہیں: میں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے پوچھا: کیا آپ نے ( پہلی طلاق ) کو شمار و حساب میں رکھا ہے تو انہوں نے کہا: نہ رکھنے کی کوئی وجہ؟ تمہیں بتاؤ اگر کوئی عاجز ہو جائے یا حماقت کر بیٹھے ( تو کیا شمار نہ ہو گی؟ ) ۔
It was narrated from Ibn 'Umar that he divorced his wife when she was menstruating. 'Umar, may Allah be pleased with him, mentioned that to the Prophet and he said: Tell him to take her back until she menstruates again, then when she becomes pure, if he wants he may divorce her and if he wants he may keep her. This is the divorce that Allah has enjoined. Allah, the Mighty and Sublime, says: 'The divorce is twice, after that, either you retain her on reasonable terms or release her with kindness.'
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ
انہوں نے اپنی بیوی کو حالت حیض میں طلاق دے دی، اس بات کا ذکر عمر نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا تو آپ نے فرمایا: ”انہیں حکم دو کہ اسے لوٹا لے پھر جب دوسرا حیض آ کر پاک ہو جائے تو چاہے تو اسے طلاق دیدے اور چاہے تو اسے روکے رکھے، یہی وہ طلاق ہے جو اللہ عزوجل کے حکم کے مطابق ہے، اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: «فطلقوهن لعدتهن» ”انہیں طلاق دو ان کی عدت ( کے دنوں کے آغاز ) میں“ ( الطلاق: ۱ ) “۔
When Ibn 'Umar was asked about a man who divorced his wife when she was menstruating, he would say: If it is the first or second divorce, the Messenger of Allah would tell him to take her back and keep her until she has menstruated again and purified herself, then divorce her before having intercourse with her. But if it was three simultaneous divorces, then you have disobeyed Allah with regard to the way in which divorce should be conducted and your wife has become irrevocably divorced.
نافع کہتے ہیں کہ
جب ابن عمر رضی اللہ عنہما سے کسی ایسے شخص کے متعلق پوچھا جاتا جس نے اپنی بیوی کو حالت حیض میں طلاق دے دی ہو تو وہ کہتے: اگر اس نے ایک طلاق دی ہے یا دو طلاقیں دی ہیں ( تو ایسی صورت میں ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے رجوع کر لینے کا حکم دیا ہے پھر اسے دوسرے حیض آنے تک روکے رکھے پھر جب وہ ( دوسرے حیض سے ) پاک ہو جائے تو اسے جماع کرنے سے پہلے ہی طلاق دیدے اور اگر اس نے تین طلاقیں ( ایک بار حالت حیض ہی میں ) دے دی ہیں تو اس نے اپنی بیوی کو طلاق دینے کے معاملہ میں اللہ کے حکم کی نافرمانی کی ہے ۱؎ لیکن تین طلاق کی وجہ سے اس کی عورت بائنہ ہو جائے گی۔
It was narrated from Ibn 'Umar that he divorced his wife when she was menstruating, and the Messenger of Allah told him to take her back.
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ
انہوں نے اپنی بیوی کو طلاق دی اور بیوی اس وقت حیض سے تھی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں رجوع کر لینے کا حکم دیا چنانچہ انہوں نے اسے لوٹا لیا۔
Ibn Tawus narrated from his father that he heard 'Abdullah bin 'Umar being asked about a man who divorced his wife when she was menstruating. He said: Do you know 'Abdullah bin 'Umar? He said: Yes. He said: He divorced his wife when she was menstruating, and 'Umar went to the Prophet and told him about that. He ordered him to take her back until she became pure, and I did not hear him adding anything to that.
طاؤس کہتے ہیں کہ
انہوں نے عبداللہ بن عمر سے اس وقت سنا جب ان سے ایک ایسے آدمی کے بارے میں پوچھا گیا جس نے اپنی بیوی کو حالت حیض میں طلاق دے دی ہو۔ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے پوچھنے والے سے کہا: کیا تم عبداللہ بن عمر کو جانتے ہو؟ اس نے کہا: جی ہاں، کہا: ( انہیں کا واقعہ ہے ) کہ انہوں نے اپنی بیوی کو طلاق دے دی اور بیوی حیض سے تھی تو عمر رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور آپ کو اس بات کی خبر دی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس سے کہو کہ اپنی بیوی سے رجوع کر لے یہاں تک کہ ( حیض آئے اور پھر ) حیض سے پاک ہو جائے“ ( اب چاہے تو طلاق نہ دے اپنی زوجیت میں قائم رکھے ) طاؤس کہتے ہیں: میں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے اس سے مزید کچھ کہتے ہوئے نہیں سنا ہے۔
It was narrated from 'Umar that the Prophet -'Amr (one of the narrators) said: The Messenger of Allah- had divorced Hafsah, then he took her back. And Allah knows best.
عبداللہ بن عباس اور ابن عمر رضی الله عنہم سے روایت ہے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ( اور عمرو سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ) حفصہ رضی اللہ عنہا کو طلاق دی تھی اور پھر رجوع فرمایا تھا۔ واللہ اعلم، ( اللہ بہتر جانتا ہے ) ۔