It was narrated that Zaid bin Arqam said: Three men were brought to 'Ali while he was in Yemen; they all had intercourse with a woman during a single menstrual cycle. He asked two of them: 'Do you affirm that this child belongs to (the third man)?' And they said: 'No.' He asked another two of them: 'Do you affirm that this child belongs to (the third man)?' And they said: 'No.' So he cast lots between them, and attributed the child to the one whom the lot fell, and obliged him to pay two-thirds of the Diyah. The Prophet was told of this, and he laughed so much that his back teeth became visible.
زید بن ارقم رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
علی رضی اللہ عنہ جب یمن میں تھے ان کے پاس تین آدمی لائے گئے، ایک ہی طہر ( پاکی ) میں ان تینوں نے ایک عورت کے ساتھ جماع کیا تھا ( جھگڑا لڑکے کے تعلق سے تھا کہ ان تینوں میں سے کس کا ہے ) انہوں نے دو کو الگ کر کے پوچھا: کیا تم دونوں یہ لڑکا تیسرے کا تسلیم و قبول کرتے ہو، انہوں نے کہا: نہیں، پھر انہوں نے دو کو الگ کر کے تیسرے کے بارے میں پوچھا: کیا تم دونوں لڑکا اس کا مانتے ہو، انہوں نے کہا: نہیں، پھر انہوں نے ان تینوں کے نام کا قرعہ ڈالا اور جس کے نام پر قرعہ نکلا بچہ اسی کو دے دیا، اور دیت کا دو تہائی اس کے ذمہ کر دیا ( اور اس سے لے کر ایک ایک تہائی ان دونوں کو دے دیا ) ۱؎ یہ بات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ذکر کی گئی تو آپ ہنس پڑے اور ایسے ہنسے کہ آپ کی داڑھ دکھائی دینے لگی ۲؎۔
It was narrated that Zaid bin Arqam said: While we were with the Messenger of Allah, a man came to him from Yemen and started telling him (about an incident) while 'Ali was still in Yemen. He said: 'O Messenger of Allah, three men were brought to 'Ali who were disputing about a child, and they all had intercourse with a woman during a single menstrual cycle.' And he quoted the same Hadith.
زید بن ارقم رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
ایک دن ہم لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے اسی اثناء میں یمن سے ایک شخص آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور آپ کو وہاں کی باتیں بتانے اور آپ سے باتیں کرنے لگا، ان دنوں علی رضی اللہ عنہ یمن ہی میں تھے، اس نے کہا: اللہ کے رسول! تین اشخاص ایک لڑکے کے لیے جھگڑتے ہوئے علی رضی اللہ عنہ کے پاس آئے۔ ان تینوں نے ایک عورت سے ایک ہی طہر میں جماع کیا تھا اور آگے وہی حدیث بیان کی جو گزر چکی ہے۔
It was narrated that Zaid bin Arqam said: I was with the Messenger of Allah, and 'Ali, may Allah be pleased with him, was in Yemen at that time. A man came to him and said: 'I saw 'Ali when three men were brought to him who all claimed (to be the father) of a child. 'Ali said to one of them: Will you give the child up to him? And he refused. He said to (the next one): Will you give the child up to him? And he refused. He said to (the next one): Will you give the child up to him? And he refused. 'Ali said: You are disputing partners. I will cast lots among you, and whoever wins the draw, the child is for him, and he has to pay two-thirds of the Diyah.' The Messenger of Allah laughed so much that his back teeth became visible.
زید بن ارقم رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھا اور علی رضی اللہ عنہ ان دنوں یمن میں تھے، ایک آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہنے لگا: میں ایک دن علی رضی اللہ عنہ کے پاس موجود تھا، ان کے پاس تین آدمی آئے وہ تینوں ایک عورت کے بیٹے کے دعویدار تھے ( کہ یہ بیٹا ہمارا ہے ) علی رضی اللہ عنہ نے ان میں سے ایک سے کہا: کیا تم ان دونوں کے حق میں اس بیٹے سے دستبردار ہوتے ہو؟ اس نے کہا: نہیں، علی رضی اللہ عنہ نے ( دوسرے سے ) کہا: کیا تم ان دونوں کے حق میں اس بیٹے سے دستبردار ہوتے ہو؟ کہا: نہیں، اور تیسرے سے کہا: کیا تم ان دونوں کے حق میں اس بیٹے سے دستبردار ہوتے ہو؟ کہا نہیں، علی رضی اللہ عنہ نے کہا: تم سب آپس میں جھگڑتے اور ایک دوسرے کی مخالفت کرتے ہو، میں تم لوگوں کے درمیان قرعہ اندازی کر دیتا ہوں تو جس کے نام قرعہ نکل آئے لڑکا اسی کا مانا جائے گا اور اسے دیت کا دو تہائی دینا ہو گا ( جو لڑکے سے محروم دونوں کو ایک ایک ثلث تہائی کر کے دے دیا جائے گا ) یہ قصہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہنس پڑے ( اور ایسے زور سے ہنسے ) کہ آپ کی داڑھ دکھائی پڑنے لگی۔
It was narrated from a man from Hadramawt, that Zaid bin Arqam said: The Messenger of Allah sent 'Ali to (be the governor of) Yemen, and a child was brought to him concerning whom three men were disputing. Then he quoted the same Hadith. Salamah bin Kuhail contradicted them.
زید بن ارقم رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے علی رضی اللہ عنہ کو یمن کا گورنر بنا کر بھیجا۔ ان کے پاس ایک بچہ لایا گیا، جس کا باپ ہونے کے تین دعویدار تھے اور آگے وہی حدیث پوری بیان کر دی ( جو پہلے گزر چکی ہے ) نسائی کہتے ہیں: «خالفہم سلمۃ بن کہیل» سلمہ بن کہیل نے ان لوگوں کے خلاف روایت کی ہے۔
Salamah bin Kuhail said: I heard Ash-Sha'bi narrating from Abu Al-Khalil or Ibn Abi Al-Khalil that three men had intercourse (with the same woman) during a single menstrual cycle; and he mentioned something similar, but he did not mention Zaid bin Arqam or attribute anything to the Prophet.
سلمہ بن کہیل کہتے ہیں کہ
میں نے شعبی کو ابوالخیل سے یا ابن ابی الخیل سے بیان کرتے ہوئے سنا ہے کہ تین آدمی ( ایک عورت سے ) ایک ہی طہر میں ( جماع کرنے میں ) شریک ہوئے۔ انہوں نے حدیث کو اسی طرح بیان کیا ( جیسا کہ اوپر بیان ہوئی ) لیکن زید بن ارقم کا ذکر نہیں کیا اور نہ ہی حدیث کو مرفوع روایت کیا ہے۔ ابوعبدالرحمٰن نسائی کہتے ہیں: یہی صحیح ہے، واللہ أعلم۔
It was narrated that 'Aishah said: The Messenger of Allah came to me looking happy and cheerful, and he said: 'Did you not see that Mujazziz looked at Zaid bin Harithah and Usamah and said: These feet belong to one another.'
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس خوش خوش آئے، آپ کے چہرے کے خطوط خوشی سے چمک دمک رہے تھے، آپ نے فرمایا: ”ارے تمہیں نہیں معلوم؟ مجزز ( قیافہ شناس ہے ) نے زید بن حارثہ اور اسامہ کو دیکھا تو کہنے لگا: ان کے پیروں کے بعض حصے ایک دوسرے سے ملتے جلتے ہیں“ ۱؎۔
It was narrated that 'Aishah, may Allah be pleased with her, said: The Messenger of Allah came to me one day looking happy and said: 'O 'Aishah! Did you not see that Mujazziz Al-Mudliji came to me when Usamah bin Zaid was with me. He saw Usamah bin Zaid and Zaid with a blanket over them; their heads were covered but their feet were exposed, and he said: These feet belong to one another.'
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ
ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس خوش خوش آئے اور کہا: عائشہ! ارے تم نے نہیں دیکھا مجزز مدلجی ( قیافہ شناس ) میرے پاس آیا اور ( اس وقت ) میرے پاس اسامہ بن زید تھے، اس نے اسامہ بن زید اور ( ان کے والد ) زید بن حارثہ رضی اللہ عنہما دونوں کو دیکھا، ان کے اوپر ایک چھوردار چادر پڑی ہوئی تھی جس سے وہ دونوں اپنا سر ڈھانپے ہوئے تھے اور ان کے پیر دکھائی پڑ رہے تھے، اس نے ان کے پیر دیکھ کر کہا: یہ وہ پیر ہیں جن کا بعض بعض سے ہے ۱؎۔
It was narrated from 'Abdul-Hamid bin Salamah Al-Ansari, from his father, from his grandfather, that he became Muslim but his wife refused to become Muslim. A young son of theirs, who had not yet reached puberty, came, and the Prophet seated the father on one side and the mother on the other side, and he gave him the choice. He said: O Allah, guide him, and (the child) went to his father.
سلمہ انصاری اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں کہ
وہ اسلام لے آئے اور ان کی بیوی نے اسلام قبول کرنے سے انکار کر دیا، ان دونوں کا ایک چھوٹا بیٹا جو ابھی بالغ نہیں ہوا تھا آیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بٹھا لیا، باپ بھی وہیں تھا اور ماں بھی وہیں تھی۔ آپ نے اسے اختیار دیا ( ماں باپ میں سے جس کے ساتھ بھی تو ہونا چاہے اس کے ساتھ ہو جا ) اور ساتھ ہی کہا ( یعنی دعا کی ) اے اللہ اسے ہدایت دے تو وہ باپ کی طرف ہو لیا۔
It was narrated that Abu Maimunah said: While I was with Abu Hurairah he said: 'A woman came to the Messenger of Allah and said: May my father and mother be ransomed for you! My husband wants to take my son away, but he helps me, and brings me water from the well of Abu 'Inabah. Her husband came and said: Who is going to take my son from me? The Messenger of Allah said: O boy, this is your father and this is your mother; take the hand of whichever of them you want. He took his mother's hand and she left with him.'
ابومیمونہ کہتے ہیں کہ
ہم ایک دن ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے پاس تھے تو انہوں نے بتایا کہ ایک عورت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور کہا: میرے ماں باپ آپ پر قربان! میرا شوہر میرا بیٹا مجھ سے چھین لینا چاہتا ہے جب کہ مجھے اس سے فائدہ ( و آرام ) ہے، وہ مجھے عنبہ کے کنویں کا پانی ( لا کر ) پلاتا ہے، ( اتنے میں ) اس کا شوہر بھی آ گیا اور اس نے کہا: کون میرے بیٹے کے معاملے میں مجھ سے جھگڑا ( اور اختلاف ) کرتا ہے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( اس کے بیٹے سے کہا: ) اے لڑکے! یہ تمہارا باپ ہے اور یہ تمہاری ماں ہے، تو تم جس کے ساتھ رہنا چاہو اس کا ہاتھ پکڑ لو چنانچہ اس نے اپنی ماں کا ہاتھ تھام لیا اور وہ اسے اپنے ساتھ لے گئی۔
Ar-Rubayy' bint Mu'awwidh bin 'Afra' narrated that Thabit bin Qais bin Shammas hit his wife and broke her arm --her name was Jamilah bint 'Abdullah bin Ubayy. Her brother came to the Messenger of Allah to complain about him, and the Messenger of Allah sent for Thabit and said: Take what she owes you and let her go. He said: Yes. And the Messenger of Allah ordered her to wait for one menstrual cycle and then go to her family.
ربیع بنت معوذ بن عفراء رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ
ثابت بن قیس بن شماس رضی اللہ عنہ نے اپنی بیوی کو مارا اور ( ایسی مار ماری کہ ) اس کا ہاتھ ( ہی ) توڑ دیا۔ وہ عورت عبداللہ بن ابی کی بیٹی جمیلہ تھی، اس کا بھائی اس کی شکایت لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ثابت بن قیس کو بلا بھیجا ( جب وہ آئے تو ) آپ نے ان سے فرمایا: ”تمہاری دی ہوئی جو چیز اس کے پاس ہے اسے لے لو اور اس کا راستہ چھوڑ دو“ ۱؎ انہوں نے کہا: اچھا، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ( یعنی عورت جمیلہ کو ) حکم دیا کہ ایک حیض کی عدت گزار کر اپنے گھر والوں کے پاس چلی جاؤ ۲؎۔
Ubadah bin Al-Walid bin 'Ubadah bin As-Samit narrated from Rubayy' bint Mu'awwidh. He said: I said to her: 'Tell me your Hadith.' She said: 'I was separated from husband by Khul', then I came to 'Uthman and asked him: What 'Iddah do I have to observe? He said: You do not have to observe any 'Iddah, unless you had intercourse with him recently, in which case you should stay with him until you have menstruated. He said: In that I am following the ruling of the Messenger of Allah concerning Mariam Al-Maghaliyyah, who was married to Thabit bin Qais and was separated by Khul' from him.'
عبادہ بن ولید ربیع بنت معوذ سے روایت کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ
میں نے ان سے کہا کہ آپ مجھ سے اپنا واقعہ ( حدیث ) بیان کیجئے انہوں نے کہا: میں نے اپنے شوہر سے خلع کیا اور عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس آ کر پوچھا کہ مجھے کتنی عدت گزارنی ہو گی؟ انہوں نے کہا: تمہارے لیے عدت تو کوئی نہیں لیکن اگر انہیں دنوں ( یعنی طہر سے فراغت کے بعد ) اپنے شوہر کے پاس رہی ہو تو ایک حیض آنے تک رکی رہو۔ انہوں نے کہا: میں اس سلسلے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فیصلے کی پیروی کر رہا ہوں جو آپ نے ثابت بن قیس کی بیوی مریم غالیہ کے خلع کرنے کے موقع پر صادر فرمایا تھا ۱؎۔
It was narrated from Ibn 'Abbas with regard to Allah's saying: Whatever a Verse (revelation) do We abrogate or cause to be forgotten, We bring a better one or similar to it. and He said: And when We change a Verse in place of another --and Allah knows best what He sends down. and He said: Allah blots out what He wills and confirms (what He wills). And with Him is the Mother of the Book. The first thing that was abrogated in the Qur'an was the Qiblah. And He said: And divorced women shall wait (as regards their marriage) for three menstrual periods. and He said: And those of your women as have passed the age of monthly courses, for them the 'Iddah, if you have doubt (about their periods), is three months. So (some) of that was abrogated, (according to) His, Most High, saying: And then divorce them before you have sexual intercourse with them, no 'Iddah have you to count in respect of them.
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما
۔ ( سورۃ البقرہ کی ) آیت: «ما ننسخ من آية أو ننسها نأت بخير منها أو مثلها» ”جس آیت کو ہم منسوخ کر دیں یا بھلا دیں اس سے بہتر یا اس جیسی اور لاتے ہیں“۔ ( البقرہ: ۱۰۶ ) ( اور سورۃ النمل کی ) آیت: «وإذا بدلنا آية مكان آية واللہ أعلم بما ينزل» ”اور جب ہم کسی آیت کی جگہ دوسری آیت بدل دیتے ہیں اور جو کچھ اللہ تعالیٰ نازل فرماتا ہے“۔ ( النحل: ۱۰۱ ) ( اور سورۃ الرعد کی ) آیت: «يمحو اللہ ما يشاء ويثبت وعنده أم الكتاب» ”اللہ جو چاہے مٹا دے اور جو چاہے ثابت رکھے لوح محفوظ اسی کے پاس ہے“۔ ( الرعد: ۳۹ ) کے بارے میں فرماتے ہیں: ان آیات کی روشنی میں پہلی چیز جو منسوخ ہوئی وہ قبلہ کی تبدیلی ہے ۱؎، اور ( اس کے بعد ) ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ( اور یہ جو سورۃ البقرہ کی ) آیت: «والمطلقات يتربصن بأنفسهن ثلاثة قروء» ”طلاق والی عورتیں اپنے آپ کو تین حیض تک روکے رکھیں“۔ ( البقرہ: ۲۲۸ ) اور ( سورۃ الطلاق کی ) آیت: «واللائي يئسن من المحيض من نسائكم إن ارتبتم فعدتهن ثلاثة أشهر» ”تمہاری عورتوں میں سے جو عورتیں حیض سے ناامید ہو گئی ہوں اگر تمہیں شبہ ہو تو ان کی عدت تین مہینے ہے“۔ ( الطلاق: ۴ ) آئی ہے تو ان دونوں آیات سے ( ان کا عموم ) منسوخ ہو گیا ( سورۃ الاحزاب کی اس ) آیت: «وإن طلقتموهن من قبل أن تمسوهن» سے ”اگر تم مومنہ عورتوں کو ہاتھ لگانے سے پہلے ہی طلاق دے دو تو ان پر تمہارا کوئی حق عدت کا نہیں جسے تم شمار کرو“۔ ( الاحزاب: ۴۹ ) ۔
It was narrated that Zainab bint Umm Salamah said: Umm Habibah said: 'I heard the Messenger of Allah say: It is not permissible for a woman who believes in Allah and the Last Day to mourn for anyone who dies for more than three days, except for a husband; (she mourns for him for) four months and ten (days).
ام المؤمنین ام حبیبہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھنے والی کسی بھی عورت کے لیے حلال نہیں ہے کہ شوہر کے سوا کسی بھی میت پر تین دن سے زیادہ سوگ منائے، وہ شوہر کے انتقال پر چار مہینہ دس دن سوگ منائے گی“۔
It was narrated from Zainab bint Umm Salamah -I (the narrator) said: From her mother? He said: Yes - that the Prophet was asked about a woman whose husband had died but they were worried about her eyes - could she use kohl? He said: One of you used to stay in her house wearing her shabbiest clothes for a year, then she would come out. No, (the mourning period is) four months and ten (days).
ام المؤمنین ام سلمہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس عورت کے متعلق پوچھا گیا جس کا شوہر مر گیا ہو اور سرمہ ( و کاجل ) نہ لگانے سے اس کی آنکھوں کے خراب ہو جانے کا خوف و خطرہ ہو تو کیا وہ سرمہ لگا سکتی ہے؟ آپ نے فرمایا: ” ( زمانہ جاہلیت میں ) تمہاری ہر عورت ( اپنے شوہر کے سوگ میں ) اپنے گھر میں انتہائی خراب، گھٹیا و گندا کپڑا ( اونٹ کی کاٹھ کے نیچے کے کپڑے کی طرح ) پہن کر سال بھر گھر میں بیٹھی رہتی تھی، پھر کہیں ( سال پورا ہونے پر ) نکلتی تھی۔ اور اب چار مہینے دس دن بھی تم پر بھاری پڑ رہے ہیں؟“ ۱؎۔
It was narrated from Zainab bint Umm Salamah, that Umm Salamah and Umm Habibah said: A woman came to the Prophet and said: 'My daughter's husband has died, and I am worried about her eyes. Can I apply kohl to her?' The Messenger of Allah said: 'One of you used to stay (in mourning) for a year. Rather (the mourning period is) four months and ten (days). And when that year had passed she would go out and fling a piece of dung behind her.'
ام المؤمنین ام سلمہ اور ام المؤمنین ام حبیبہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ
ایک عورت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور کہا: میری بیٹی کے شوہر ( یعنی میرے داماد ) کا انتقال ہو گیا ہے اور مجھے ( عدت میں بیٹھی ) بیٹی کی آنکھ کے خراب ہو جانے کا خوف ہے تو میں اس کی آنکھ میں سرمہ لگا سکتی ہوں؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں ( سوگ منانے والی ) عورت زمانہ جاہلیت میں سال بھر بیٹھی رہتی تھی، اور یہ تو چار مہینہ دس دن کی بات ہے، جب سال پورا ہو جاتا تو وہ باہر نکلتی اور اپنے پیچھے مینگنی پھینکتی“۔
It was narrated from Safiyyah bint Abi 'Ubaid that she heard Hafsah bint 'Umar, the wife of the Prophet, (narrate) that the Prophet said: It is not permissible for a woman who believes in Allah and the Last Day to mourn for anyone who dies for more than three days except for a husband; she should mourn for him for four months and ten (days).
ام المؤمنین حفصہ بنت عمر رضی الله عنہما کہتی ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کسی عورت کے لیے جو اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتی ہو کسی میت پر تین دن سے زیادہ سوگ منانے کی اجازت نہیں ہے سوائے شوہر کے، شوہر کے انتقال پر وہ چار ماہ دس دن سوگ منائے گی“۔
It was narrated from Safiyyah bint Abi 'Ubaid from one of the wives of the Prophet, and from Umm Salamah, that the Prophet said: It is not permissible for a woman who believes in Allah and the Last Day to mourn for anyone who dies for more than three days except for a husband; she should mourn for him for four months and ten (days).
بعض امہات المؤمنین اور ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کسی عورت کے لیے جو اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتی ہو حلال نہیں ہے کہ کسی میت پر تین دن سے زیادہ سوگ منائے سوائے شوہر کے، شوہر کے مرنے پر وہ چار ماہ دس دن سوگ منائے گی“۔
A similar report was narrated from Safiyyah bint Abi 'Ubaid from one of the wives of the Prophet -and she is Umm Salamah- from the Prophet.
صفیہ بنت ابو عبید نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک بیوی سے
اور بیوی سے مراد ام سلمہ رضی اللہ عنہا ہیں اور وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اوپر گزری ہوئی حدیث جیسی حدیث بیان کرتی ہیں۔
It was narrated from Al-Miswar bin Makhramah that Subai'ah Al-Aslamiyyah gave birth one day after her husband died. She came to the Messenger of Allah and asked his permission to marry, and he gave her permission to marry and she married.
مسور بن مخرمہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ
سبیعہ اسلمی رضی اللہ عنہا کو اپنے شوہر کے انتقال کے بعد بچہ جن کر حالت نفاس میں ہوئے کچھ ہی راتیں گزریں تھیں کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں اور آپ سے دوسری شادی کرنے کی اجازت چاہی تو آپ نے انہیں اجازت دے دی اور انہوں نے شادی کر لی۔
It was narrated from Al-Miswar bin Makhramah that the Prophet commanded Sabai'ah to get married when her Nifas ended.
مسور بن مخرمہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سبیعہ رضی اللہ عنہا کو اپنے نفاس سے فراغت کے بعد شادی کرنے کا حکم دیا۔