It was narrated from Al-Fari'ah bint Malik that her husband went out to pursue some slaves and they killed him. Shu'bah and Ibn Juraij said: She was in a remote house. She came with her brothers to the Messenger of Allah and told him (about the situation) and he granted her a concession. When she was leaving he called her back and said: 'Stay in your house until the term prescribed is fulfilled.'
فارعہ بنت مالک رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ
ان کے شوہر ( بھاگے ہوئے ) غلاموں کی تلاش میں نکلے ( جب وہ ان کے سامنے آئے ) تو انہوں نے انہیں قتل کر دیا۔ ( شعبہ اور ابن جریج کہتے ہیں: اس عورت کا گھر دور ( آبادی کے ایک سرے پر ) تھا، وہ عورت اپنے ساتھ اپنے بھائی کو لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور آپ سے گھر کے الگ تھلگ ہونے کا ذکر کیا ( کہ وہاں گھر والے کے بغیر عورت کا تنہا رہنا ٹھیک نہیں ہے ) آپ نے اسے ( وہاں سے ہٹ کر رہنے کی ) رخصت دے دی۔ پھر جب وہ ( گھر جانے کے لیے ) لوٹی تو آپ نے اسے بلایا اور فرمایا: ”تم اپنے گھر ہی میں رہو یہاں تک کہ کتاب اللہ ( قرآن ) کی مقرر کردہ عدت کی مدت پوری ہو جائے۔“ ( اس کے بعد تم آزاد ہو جہاں چاہو رہو ) ۔
It was narrated from Al-Furai'ah bint Malik that her husband hired some slaves to work for him and they killed him. She mentioned that to the Messenger of Allah and said: I am not living in a house that belongs to him, and I do not receive maintenance from him; should I move to my family with my two orphans and stay with them? He said: Do that. Then he said: What did you say? So she told him again and he said: Observe your 'Iddah where the news came to you.
فریعہ بنت مالک رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ
ان کے شوہر نے کچھ غلام اپنے یہاں کام کرانے کے لیے اجرت پر لیے تو انہوں نے انہیں مار ڈالا چنانچہ میں نے اس کا ذکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا اور میں نے یہ بھی کہا کہ میں اپنے شوہر کے کسی مکان میں بھی نہیں ہوں اور میرے شوہر کی طرف سے میرے گزران کا کوئی ذریعہ بھی نہیں ہے تو میں اپنے گھر والوں ( یعنی ماں باپ ) اور یتیموں کے پاس چلی جاؤں اور ان کی خبرگیری کروں؟ آپ نے فرمایا: ”ایسا کر لو“، پھر ( تھوڑی دیر بعد ) آپ نے فرمایا: ”کیسے بیان کیا تم نے ( ذرا ادھر آؤ تو ) “؟ تو میں نے اپنی بات آپ کے سامنے دہرا دی۔ ( اس پر ) آپ نے فرمایا: ”جہاں رہتے ہوئے تمہیں اپنے شوہر کے انتقال کی خبر ملی ہے وہیں رہ کر اپنی عدت کے دن بھی پوری کرو“۔
It was narrated from Furai'ah that her husband went out to pursue some slaves of his and he was killed on the edge of Al-Qadum. She said: I came to the Prophet and mentioned moving to (join) my family. She told him about her situation. She said: He allowed me, then, when I turned to leave, he called me back and said: 'Stay with your family until the term prescribed is fulfilled.'
فریعہ بنت مالک رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ
ہمارے شوہر اپنے ( بھاگے ہوئے کچھ ) غلاموں کی تلاش میں نکلے تو وہ قدوم کے علاقے میں قتل کر دیئے گئے، چنانچہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور آپ سے اپنے گھر والوں کے پاس منتقل ہو جانے کی خواہش ظاہر کی اور آپ سے ( وہاں رہنے کی صورت میں ) اپنے کچھ حالات ( اور پریشانیوں ) کا ذکر کر دیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ( منتقل ہو جانے کی ) اجازت دے دی۔ پھر میں جانے لگی تو آپ نے مجھے بلایا اور فرمایا: ”عدت کی مدت پوری ہونے تک اپنے شوہر کے گھر ہی میں رہو“
It was narrated from Ibn 'Abbas that this Verse abrogated the woman's 'Iddah among her family, and she may observe her 'Iddah wherever she wants. That is the saying of Allah, the Mighty and Sublime: without turning them out.
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ
آیت «متاعا الی الحول غیر اخراج» ... «الی آخرہ» جس میں متوفیٰ عنہا زوجہا کے لیے یہ حکم تھا کہ وہ اپنے شوہر کے گھر میں عدت گزارے تو یہ حکم منسوخ ہو گیا ہے ( اور اس کا ناسخ اللہ تعالیٰ کا یہ قول: «فإن خرجن فلا جناح عليكم في ما فعلن في أنفسهن من معروف» ( البقرة: 240 ) ہے، اب عورت جہاں چاہے اور جہاں مناسب سمجھے وہاں عدت کے دن گزار سکتی ہے ۱؎۔
Furai'ah bint Malik, the sister of Abu Sa'eed Al-Khudri, said: My husband died in Al-Qadum, so I went to the Prophet and told him that our house was remote. He gave her permission then he called her back and said: Stay in your house for four months and ten days, until the term prescribed is fulfilled.
ابو سعید خدری رضی الله عنہ کی بہن فریعہ بنت مالک رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ
میرے شوہر کا قدوم ( بستی ) میں انتقال ہو گیا تو میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور آپ کو بتایا کہ میرا گھر ( بستی سے ) دور ( الگ تھلگ ) ہے ( تو میں اپنے ماں باپ کے گھر عدت گزار لوں؟ ) تو آپ نے انہیں اجازت دے دی۔ پھر انہیں بلایا اور فرمایا: ”اپنے گھر ہی میں چار مہینے دس دن رہو یہاں تک کہ عدت پوری ہو جائے
It was narrated from Humaid bin Nafi' that Zainab bint Abi Salamah told him these three Hadiths. Zainab said: I entered upon Umm Habibah, the wife of the Prophet, when her father Abu Sufyan bin Harb died. Umm Habibah called for some perfume and put some on a young girl, then she put some on her cheeks. Then she said: 'By Allah, I do not have any need for perfume but I heard the Messenger of Allah say: It is not permissible for any woman who believes in Allah and the Last Day to mourn for anyone who dies for more than three days, except for a husband, (for whom the mourning period is) four months and ten days.'
زینب بنت ابی سلمہ رضی الله عنہا سے روایت ہے
انہوں نے یہ ( آنے والی ) تین حدیثیں بیان کیں: ۱- زینب رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: ام المؤمنین ام حبیبہ رضی اللہ عنہا کے والد ابوسفیان بن حرب رضی اللہ عنہ کا جب انتقال ہو گیا تو میں ان کے پاس ( تعزیت میں ) گئی، ( میں نے دیکھا کہ ) انہوں نے خوشبو منگوائی، ( پہلے ) لونڈی کو لگائی پھر اپنے دونوں گالوں پر ملا پھر یہ بھی بتا دیا کہ قسم اللہ کی مجھے خوشبو لگانے کی کوئی حاجت اور خواہش نہ تھی مگر ( میں نے یہ بتانے کے لیے لگائی ہے کہ ) میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: ”کسی عورت کے لیے جو اللہ اور قیامت کے دن پر ایمان رکھتی ہو حلال نہیں ہے کہ کسی میت پر تین دن سے زیادہ سوگ منائے سوائے شوہر کے انتقال کرنے پر، کہ اس پر چار مہینہ دس دن سوگ منائے گی“۔ ( اس لیے میں اپنے والد کے مر جانے پر تین دن کے بعد سوگ نہیں منا رہی ہوں ) ۔ ۲- زینب ( زینب بنت ابی سلمہ رضی اللہ عنہا ) کہتی ہیں: جب ام المؤمنین زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا کے بھائی کا انتقال ہو گیا تو میں ان کے پاس گئی، انہوں نے خوشبو منگائی اور اس میں سے خود لگایا پھر ( مسئلہ بتانے کے لیے ) کہا: قسم اللہ کی مجھے خوشبو لگانے کی کوئی حاجت نہ تھی مگر یہ کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو منبر پر فرماتے ( و اعلان کرتے ) ہوئے سنا ہے: ”جو عورت اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتی ہو اس کے لیے حلال نہیں ہے کہ شوہر کے سوا کسی کے مرنے پر تین دن سے زیادہ سوگ منائے، شوہر کے مرنے پر چار مہینہ دس دن سوگ منائے گی“۔ ۳- زینب ( زینب بنت ابی سلمہ ) کہتی ہیں: میں نے ( ام المؤمنین ) ام سلمہ رضی اللہ عنہا کو کہتے ہوئے سنا ہے کہ ایک عورت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور کہا: اللہ کے رسول! میری بیٹی کا شوہر انتقال کر گیا ہے اور اس کی آنکھیں دکھ رہی ہیں، کیا میں اس کی آنکھوں میں سرمہ لگا سکتی ہوں؟ آپ نے فرمایا: ”نہیں“، پھر آپ نے فرمایا: ”ارے یہ تو صرف چار مہینے دس دن ہیں ( جاہلیت میں کیا ہوتا تھا وہ بھی دھیان میں رہے ) زمانہ جاہلیت میں تمہاری ( بیوہ ) عورت ( سوگ کا ) سال پورا ہونے پر مینگنی پھینکتی تھی“۔ حمید بن نافع کہتے ہیں: میں نے ام المؤمنین زینب رضی اللہ عنہا سے کہا: سال پورا ہونے پر مینگنی پھینکنے کا کیا مطلب ہے؟ انہوں نے کہا عورت کا شوہر جب انتقال کر جاتا تھا تو اس کی بیوی تنگ و تاریک جگہ ( چھوٹی کوٹھری ) میں جا رہتی اور خراب سے خراب کپڑا پہن لیتی تھی اور سال پورا ہونے تک نہ خوشبو استعمال کرتی اور نہ ہی کسی چیز کو ہاتھ لگاتی۔ ( سال پورا ہو جانے کے بعد ) پھر کوئی جانور گدھا، بکری یا چڑیا اس کے پاس لائی جاتی اور وہ اس سے اپنے جسم اور اپنی شرمگاہ کو رگڑتی اور جس جانور سے بھی وہ رگڑتی ( دبوچتی ) وہ ( مر کر ہی چھٹی پاتا ) مر جاتا، پھر وہ اس تنگ تاریک جگہ سے باہر آتی پھر اسے اونٹ کی مینگنی دی جاتی اور وہ اسے پھینک دیتی ( اس طرح وہ گویا اپنی نحوست دور کرتی ) ، اس کے بعد ہی اسے خوشبو وغیرہ جو چاہے استعمال کی اجازت ملتی۔ مالک کہتے ہیں: «تفتض» کا مطلب «تمسح به» کے ہیں ( یعنی اس سے رگڑتی ) ۔ محمد بن سلمہ مالک کہتے ہیں: «حفش»، «خص» کو کہتے ہیں ( یعنی بانس یا لکڑی کا جھونپڑا ) ۔
It was narrated that Umm 'Atiyyah said: The Messenger of Allah said: 'No woman should mourn for anyone who dies for more than three days, except for a husband, for whom she should mourn for four months and ten days. She should not wear garments that are dyed or patterned, or put on kohl or comb her hair, and she should not put on any perfume except when purifying herself after her period, when she may use a little of Qust or Azfar.'
ام عطیہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کوئی عورت شوہر کے سوا کسی میت کے لیے تین دن سے زیادہ سوگ نہ منائے، شوہر کے مرنے پر چار مہینہ دس دن سوگ منائے گی، نہ رنگ کر کپڑا پہنے، نہ ہی رنگین دھاگے سے بنا ہوا کپڑا ( پہنے ) ، نہ سرمہ لگائے، نہ کنگھی کرے، اور نہ خوشبو ملے۔ ہاں جب حیض سے پاک ہو تو اس وقت تھوڑے سے قسط و اظفار کے استعمال میں کوئی مضائقہ نہیں ہے“ ۱؎۔
It was narrated from Safiyyah bint Shaibah, from Umm Salamah, the wife of the Prophet, that the Prophet said: The woman whose husband has died should not wear clothes that are dyed with safflower or red clay, and she should not use dye nor kohl.
ام المؤمنین ام سلمہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ
وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس عورت کا شوہر مر گیا ہے وہ عورت ( عدت کے ایام میں ) کسم کے رنگ کا اور سرخ پھولوں سے رنگا ہوا کپڑا نہ پہنے، خضاب نہ لگائے اور سرمہ نہ لگائے“۔
It was narrated from Umm 'Atiyyah that the Prophet said: It is not permissible for a woman who believes in Allah and the Last Day, to mourn for anyone who dies for more than three days, except for a husband; she should not use kohl, dye nor wear dyed clothes.
ام عطیہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو کوئی عورت اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتی ہو اس کے لیے حلال نہیں ہے کہ شوہر کے علاوہ کسی میت کے لیے تین دن سے زیادہ سوگ منائے اور سوگ منانے والی نہ سرمہ لگائے گی، نہ خضاب اور نہ ہی رنگا ہوا کپڑا پہنے گی“۔
Umm Hakim bint Asid narrated from her mother that her husband died and she had a problem in her eye, so she applied kohl to clear her eyes. She sent a freed slave woman of hers to Umm Salamah to ask her about using kohl to clear her eyes. She said: Do not use kohl unless it cannot be avoided. The Messenger of Allah entered upon me when Abu Salamah died and I had put some aloe juice on my eyes. He said: 'What is this, O Umm Salamah?' I said: 'It is aloe juice, O Messenger of Allah, there is no perfume in it.' He said: 'It makes the face look bright, so only use it at night, and do not comb your hair with perfume or henna, for it is a dye.' I said: 'With what can I comb it, O Messenger of Allah?' He said: 'With lote leaves -cover your head with them.'
ام حکیم بنت اسید اپنی ماں سے روایت کرتی ہیں کہ
ان کے شوہر کا انتقال ہو گیا اور اس وقت ان کی آنکھوں میں تکلیف تھی، چنانچہ وہ آنکھوں کو جلا پہنچانے والا ( یعنی اثمد کا ) سرمہ لگایا کرتی تھیں تو انہوں نے ( سوگ میں ہونے کے بعد ) اپنی ایک لونڈی کو ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے پاس بھیج کر آنکھوں کو جلا اور ٹھنڈک پہنچانے والے سرمہ کے لگانے کے بارے میں پوچھا؟ انہوں نے کہا: نہیں لگا سکتی مگر یہ کہ کوئی ایسی مجبوری اور ضرورت پیش آ جائے جس کو لگائے بغیر چارہ نہیں ( تو لگا سکتی ہے ) ۔ جب ( میرے شوہر ) ابوسلمہ کا انتقال ہوا اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے، اس موقع پر میں اپنی آنکھ پر ایلوا لگائے ہوئے تھی۔ آپ نے پوچھا: ام سلمہ! یہ کیا چیز ہے؟ میں نے کہا: اللہ کے رسول! یہ صرف ایلوا ہے! اس میں کسی طرح کی خوشبو نہیں ہے، آپ نے فرمایا: ” ( خوشبو تو نہیں ہے لیکن ) یہ چہرے کو جوان ( اور تروتازہ کر دیتا ) ہے۔ اسے نہ لگاؤ اور اگر لگانا ہی ( بہت ضروری ) ہو تو رات میں لگاؤ اور خوشبودار چیز اور مہندی لگا کر کنگھی نہ کیا کرو“۔ کیونکہ یہ خضاب ہے۔ میں نے کہا: اللہ کے رسول! میں کیا چیز لگا کر سر دھوؤں اور کنگھی کروں! آپ نے فرمایا: ”بیری کے پتے کا لیپ لگا کر اپنے سر کو ڈھانپ رکھو“ ( اور دھو کر کنگھی کرو ) ۔
Zainab bint Abi Salamah narrated that her mother Umm Salamah said: A woman from the Quraish came and said: 'O Messenger of Allah, my daughter's eyes are inflamed; shall I apply kohl to her?' (The daughter's) husband had died so (the Prophet) said: 'Not until four months and ten days (have passed).' Then she said: 'I fear for her sight.' He said: 'No, not until four months and ten days (have passed). During the Jahiliyyah one of you would mourn for her husband for a year, then when one year had passed she would throw a piece of dung.'
ام المؤمنین ام سلمہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ
قریش کی ایک عورت آئی اور اس نے کہا: اللہ کے رسول! میری بیٹی آشوب چشم میں مبتلا ہے اور وہ اپنے شوہر کے مرنے کا سوگ منا رہی ہے تو کیا میں اس کی آنکھوں میں سرمہ لگا دوں؟ آپ نے فرمایا: ”کیا چار مہینے دس دن نہیں ٹھہر سکتی؟“ اس عورت نے پھر کہا: مجھے اس کی بینائی کے جانے کا خوف ہے۔ آپ نے فرمایا: ”نہیں، چار ماہ دس دن پورا ہونے سے پہلے نہیں لگا سکتی، زمانہ جاہلیت میں تمہاری ہر عورت اپنے شوہر کے مرنے پر سال بھر کا سوگ مناتی تھی پھر سال پورا ہونے پر مینگنی پھینکتی تھی“۔
It was narrated from Zainab bint Abi Salamah, from her mother, that a woman came to the Prophet and asked him about her daughter whose husband had died and she was ill. He said: One of you used to mourn for a year, then throw a piece of dung when a year had passed. Rather it (the mourning period) is four months and ten days.
زینب بنت ابی سلمہ رضی الله عنہا اپنی ماں سے روایت کرتی ہیں کہ
ایک عورت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور اس نے اپنی بیٹی کا ذکر کر کے جس کا شوہر مر گیا تھا اور اس کی آنکھیں دکھتی تھیں ( اس کے علاج و معالجے کے لیے ) مسئلہ پوچھا، آپ نے فرمایا: ”تمہاری ہر عورت ( جس کا شوہر مر جاتا تھا ) پورے سال سوگ مناتی تھی ( اور ہر طرح کی تکلیف اٹھاتی تھی ) اور پھر سال پورا ہونے پر مینگنیاں پھینکتی تھی اور اب یہ ( اسلام میں گھٹ کر ) چار مہینے دس دن ہیں ( تو تمہیں آنکھ کی تھوڑی سی تکلیف بھی برداشت نہیں ہوتی؟ ) “۔
It was narrated from Zainab bint Abi Salamah, from Umm Salamah that a woman from the Quraish came to the Messenger of Allah and said: My daughter's husband has died, and I am worried about her eyes; she needs kohl. He said: One of you used to throw a piece of dung after a year had passed. Rather it (the mourning period) is four months and ten days. I (the narrator) said to Zainab: What does 'after a year had passed' mean? She said: During the Jahiliyyah, if a woman's husband died she would go to the worst room she had and stay there, then, when a year had passed, she would come out and throw a piece of dung behind her.
ام المؤمنین ام سلمہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ
قریش کی ایک عورت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور کہا کہ میری بیٹی کا شوہر مر گیا ہے اور میں ڈرتی ہوں کہ اس کی آنکھیں کہیں خراب نہ ہو جائیں۔ اس کا مقصد تھا کہ آپ اسے سرمہ لگانے کی اجازت دے دیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہاری کوئی بھی عورت ( جو سوگ منا رہی ہوتی تھی ) سوگ کے سال پورا ہونے پر مینگنی پھینکتی تھی اور یہ تو صرف چار مہینے دس دن ہیں“ ( یہ بھی تم لوگوں سے گزارے نہیں جاتے ) “۔ حمید بن نافع کہتے ہیں: میں نے زینب سے پوچھا «رأس الحول» ( سال بھر کے بعد ) کا کیا مطلب ہے؟ انہوں نے کہا جاہلیت میں ہوتا یہ تھا کہ جب کسی عورت کا شوہر مر جاتا تھا تو وہ عورت اپنے گھروں میں سے سب سے خراب ( بوسیدہ ) گھر میں جا بیٹھتی تھی، جب اس کا سال پورا ہو جاتا تو وہ اس گھر سے نکلتی اور اپنے پیچھے مینگنی پھینکتی تھی۔
It was narrated from Zainab that a woman asked Umm Salamah and Umm Habibah whether she could put on kohl during her 'Iddah following her husband's death. She said: A woman came to the Prophet and asked him about that, and he said: 'During the Jahiliyyah, if her husband died, one of you would stay (in mourning) for a year, then she would throw a piece of dung then come out. Rather it (the mourning period) is four months and ten days, until the term prescribed is fulfilled.'
زینب (زینب بنت ام سلمہ رضی الله عنہا) سے روایت ہے کہ
ایک عورت نے ام المؤمنین ام حبیبہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا: کیا کوئی عورت اپنے شوہر کے انتقال پر عدت گزارنے کے دوران سرمہ لگا سکتی ہے؟ تو انہوں نے بتایا: ایک عورت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور آپ سے یہی سوال کیا ( جو تم نے کیا ہے ) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”زمانہ جاہلیت میں تم میں سے جس عورت کا شوہر اسے چھوڑ کر مر جاتا تھا تو وہ عورت سال بھر سوگ مناتی رہتی یہاں تک کہ وہ وقت آتا کہ وہ اپنے پیچھے مینگنی پھینکتی پھر وہ گھر سے نکلتی“۔ ( تب اس کی عدت پوری ہوتی ) اور مدت پوری ہونے تک یہ تو صرف چار مہینے دس دن ہیں ( سال بھر کے مقابل میں یہ کچھ بھی نہیں ) ۔
It was narrated from Hafsah, from Umm 'Atiyyah, from the Prophet, that he granted a concession to the woman whose husband has died, allowing her to use Qust and Azfar when purifying herself following her menses.
ام عطیہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس عورت کو جس کا شوہر مر گیا ہو عدت کے دوران حیض سے پاک ہونے پر ( خون کی بدبو دور کرنے کے لیے ) قسط اور اظفار کے استعمال کی رخصت دی ہے۔
It was narrated from Ibn 'Abbas, with regard to Allah's saying: And those of you who die and leave behind wives should bequeath for their wives a year's maintenance and residence without turning them out. This was abrogated by the Verse on inheritance, which allocated to her one-quarter or one-eighth. And the appointed time ('Iddah) of one year was abrogated and replaced with the ('Iddah) term of four months and ten days.
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما
اللہ تعالیٰ کے اس قول «والذين يتوفون منكم ويذرون أزواجا وصية لأزواجهم متاعا إلى الحول غير إخراج» ”اور جو لوگ تم میں سے فوت ہو جائیں اور بیبیاں چھوڑ جائیں ( یعنی جس وقت مرنے لگیں ) تو وہ اپنی بیبیوں کے لیے ایک سال تک ان کو نہ نکالنے اور خرچ دینے کی وصیت کر جائیں“۔ ( البقرہ: ۲۴۰ ) کے متعلق فرماتے ہیں: یہ آیت میراث کی آیت سے منسوخ ہو گئی ہے جس میں عورت کا چوتھائی اور آٹھواں حصہ مقرر کر دیا گیا ہے اور ایک سال تک عدت میں رہنے کا حکم چار ماہ دس دن کے حکم سے منسوخ ہو گیا ہے۔
It was narrated from 'Ikrimah with regard to the saying of Allah, the Mighty and Sublime: And those of you who die and leave behind wives should bequeath for their wives a year's maintenance and residence without turning them out, that he said: This was abrogated by: 'And those of you who die and leave wives behind them, they (the wives) shall wait (as regards their marriage) for four months and ten days.'
عکرمہ
آیت کریمہ: «والذين يتوفون منكم ويذرون أزواجا وصية لأزواجهم متاعا إلى الحول غير إخراج» کے متعلق فرماتے ہیں: یہ آیت اس آیت: «والذين يتوفون منكم ويذرون أزواجا يتربصن بأنفسهن أربعة أشهر وعشرا» ”اور جو لوگ تم میں سے ( اے مسلمانو! ) مر جائیں اور پیچھے بیویاں چھوڑ جائیں تو وہ ( یعنی بیبیاں ) چار مہینے دس دن تک اپنے تئیں روک رکھیں“۔ ( البقرہ: ۲۳۴ ) سے منسوخ ہے۔
Abdur-Rahman bin 'Asim narrated that Fatimah bint Qais -who was married to a man of Banu Makhzum- told him that he divorced her three times. He went out on a military campaign and told his representative to give her some provision. She thought it was too little, so she went to one of the wives of the Prophet, and the Messenger of Allah came in while she was with her. She said: O Messenger of Allah, this is Fatimah bint Qais who has been divorced by so-and-so. He sent her some provision but she rejected it. He said that it was something he did not have to do (a favor). He said: He is telling the truth. The Prophet said: Go to Umm Kulthum and observe your 'Iddah in her house. Then he said: Umm Kulthum is a woman who has a lot of visitors. Go to 'Abdullah bin Umm Maktum for he is blind. So she went to 'Abdullah and observed her 'Iddah in his house, until her 'Iddah was over. Then Abu Al-Jahm and Mu'awiyah bin Abi Sufyan proposed to her. So she came to the Messenger of Allah to consult him about them. He said: As for Abu Al-Jahm, he is a man the waving of whose stick I fear for you. And as for Mu'awiyah he is a man who does not have any money. So she married Usamah bin Zaid after that.
عبدالرحمٰن بن عاصم سے روایت ہے کہ
فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا نے انہیں بتایا ہے کہ وہ بنی مخزوم کے ایک شخص کی بیوی تھیں، وہ شخص انہیں تین طلاقیں دے کر کسی جہاد میں چلا گیا اور اپنے وکیل سے کہہ گیا کہ اسے تھوڑا بہت نفقہ دیدے۔ ( تو اس نے دیا ) مگر اس نے اسے تھوڑا اور کم جانا ( اور واپس کر دیا ) پھر ازواج مطہرات میں سے کسی کے پاس پہنچی اور وہ ان کے پاس ہی تھی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے آئے، انہوں نے آپ سے عرض کیا: اللہ کے رسول! یہ فاطمہ بنت قیس ہیں اور ( ان کے شوہر ) فلاں نے انہیں طلاق دے دی ہے اور ان کے پاس کچھ نفقہ بھیج دیا ہے جسے انہوں نے واپس کر دیا، اس کے وکیل کا خیال ہے کہ یہ تو اس کی طرف سے ایک طرح کا احسان ہے ( ورنہ اس کا بھی حق نہیں بنتا ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ صحیح کہتا ہے، تم ام کلثوم کے یہاں منتقل ہو جاؤ اور وہیں عدت گزارو“، پھر آپ نے فرمایا: ”نہیں، تم عبداللہ بن ام مکتوم کے یہاں منتقل ہو جاؤ، ام کلثوم کے گھر ملنے جلنے والے بہت آتے ہیں ( ان کے باربار آنے جانے سے تمہیں تکلیف ہو گی ) اور عبداللہ بن ام مکتوم نابینا آدمی ہیں“، ( وہاں تمہیں پریشان نہ ہونا پڑے گا ) تو وہ عبداللہ ابن ام مکتوم کے یہاں چلی گئیں اور انہیں کے یہاں اپنی عدت کے دن پورے کئے۔ اس کے بعد ابوالجہم اور معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہما نے انہیں شادی کا پیغام دیا تو وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں اور آپ سے ان دونوں کے بارے میں کسی ایک سے شادی کرنے کا مشورہ چاہا، تو آپ نے فرمایا: ”رہے ابوالجہم تو مجھے ان کے تم پر لٹھ چلا دینے کا ڈر ہے اور رہے معاویہ تو وہ مفلس انسان ہیں۔ یہ سننے کے بعد فاطمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: میں نے اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما سے شادی کر لی“۔
It was narrated from Abu Salamah bin 'Abdur-Rahman that Fatimah bint Qais told him that she was married to Abu 'Amr bin Hafs bin Al-Mughirah, who divorced her by giving her the last of three divorces. Fatimah said that she came to the Messenger of Allah and consulted him about leaving her house. He told her to move to the house of Ibn Umm Maktum, the blind man. Marwan refused to believe Fatimah about the divorced woman leaving her house. 'Urwah said: Aishah denounced Fatimah for that.
ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن کہتے ہیں کہ
فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہما نے مجھ سے بیان کیا کہ وہ ابوعمرو بن حفص بن مغیرہ کی بیوی تھیں، انہوں نے انہیں تین طلاقوں میں سے آخری تیسری طلاق دے دی۔ فاطمہ بیان کرتی ہیں کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں اور اپنے گھر سے اپنے نکل جانے کا مسئلہ پوچھا۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں نابینا ابن ام مکتوم کے گھر منتقل ہو جانے کا حکم دیا۔ راوی حدیث کہتے ہیں کہ مروان بن حکم نے فاطمہ رضی اللہ عنہا کی مطلقہ کے گھر سے نکلنے کی بات کو صحیح تسلیم نہیں کیا، عروہ کہتے ہیں: عائشہ رضی اللہ عنہا نے بھی فاطمہ کی اس بات کا انکار کیا ہے۔
Hisham narrated from his father that Fatimah said: I said: 'O Messenger of Allah! My husband has divorced me three times and I am afraid that my house be broken into.' So he told her to move.
فاطمہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: میرے شوہر نے مجھے تین طلاقیں دے دی ہیں اور مجھے ڈر ہے کہ کوئی ( مجھے تنہا پا کر ) اچانک میرے پاس گھس نہ آئے ( اس لیے آپ مجھے کہیں اور منتقل ہو جانے کی اجازت دے دیجئیے ) تو آپ نے انہیں اجازت دے دی اور انہوں نے اپنی رہائش کی جگہ تبدیل کر لی۔