It was narrated that Muhammad said: I asked Anas bin Malik about that, as I thought that he had knowledge of that. He said: 'Hilal bin Umayyah accused his wife (of committing adultery) with Sharik bin As-Sahma', who was the brother of Al-Bara' bin Malik through his mother. He was the first one who engaged in the procedure of Li'an. The Messenger of Allah conducted the procedure of Li'an between them, then he said: Look and see, if she produces a child who is white, with straight hair and Qadiy'a eyes, then he belongs to Hilal bin Umayyah, and if she produces a child who has dark lines around his eyes, curly hair and narrow calves, then he belongs to Sharik bin As-Sahma'. I was told that she produced a child who has dark lines around his eyes, curly hair and narrow calves.'
عبدالاعلیٰ کہتے ہیں کہ
ہشام سے ایک ایسے شخص سے متعلق پوچھا گیا جو اپنی بیوی پر زنا و بدکاری کا تہمت لگاتا ہے تو ہشام نے ( اس کے جواب میں ) محمد بن سیرین سے حدیث بیان کی کہ میں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے اس کے متعلق پوچھا اور یہ سمجھ کر پوچھا کہ ان کے پاس اس کے بارے میں کچھ علم ہو گا تو انہوں نے کہا: ہلال بن امیہ رضی اللہ عنہ نے اپنی بیوی کو شریک بن سحماء کے ساتھ بدکاری میں ملوث ٹھہرایا۔ بلال براء بن مالک کے ماں کے واسطہ سے بھائی تھے اور یہ پہلے شخص تھے جن ہوں نے لعان کیا ۱؎، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں کے درمیان لعان کا حکم دیا۔ پھر فرمایا: ”بچے پر نظر رکھو اگر وہ بچہ جنے گورا چٹا، لٹکے ہوئے بالوں اور خراب آنکھوں والا تو سمجھو کہ وہ ہلال بن امیہ کا بیٹا ہے اور اگر وہ سرمئی آنکھوں والا، گھونگھریالے بالوں والا اور پتلی ٹانگوں والا بچہ جنے تو ( سمجھو ) وہ شریک بن سحماء کا ہے۔“ وہ ( یعنی انس رضی اللہ عنہ ) کہتے ہیں: مجھے خبر دی گئی کہ اس نے سرمئی آنکھوں والا، گھونگھریالے بالوں والا اور پتلی پنڈلیوں والا بچہ چنا ۲؎۔
It was narrated that Anas bin Malik said: The first Li'an in Islam was when Hilal bin Umayyah accused Sharik bin As-Sahma' (of committing adultery) with his wife. He came to the Prophet and told him about that. The Prophet said: '(Bring) four witnesses, otherwise (you will feel) the Hadd punishment on your back.' And he repeated that several times. Hilal said to him: 'By Allah, O Messenger of Allah! Allah, the Mighty and Sublime, knows that I am telling the truth, and Allah, the Mighty and Sublime, will certainly reveal to you that which will spare my back from the whip.' While they were like that, the Verse of Li'an was revealed to him: 'As to those who accuse their wives.' He called Hilal and he bore witness four times by Allah that he was telling the truth, and the fifth time he invoked the curse of Allah upon him if he were lying. Then he called the woman and she bore witness four times by Allah that he was lying. When it came to the fourth or fifth time, the Messenger of Allah said: 'Stop her, for it will inevitably bring the punishment of Allah upon the liar.' She hesitated until we thought that she was going to confess, then she said: 'I will not dishonor my people today.' Then she went ahead with the oath. The Messenger of Allah said: 'Wait and see. If she produces a child who is white, with straight hair and Qadiy'a eyes, then he belongs to Hilal bin Umayyah, but if she produces a child who is dark with curly hair, of average size and with narrow calves, then he belongs to Sharik bin As-Sahma'.' She produced a child who was dark with curly hair, of average size and with narrow calves. The Messenger of Allah said: 'Had not the matter been settled by the Book of Allah, I would have punished her severely.'
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
اسلام میں سب سے پہلا لعان ہلال بن امیہ کا اس طرح ہوا کہ انہوں نے شریک بن سمحاء پر اپنی بیوی کے ساتھ بدکاری کا الزام لگایا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر آپ کو اس بات کی خبر دی، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”چار گواہ لاؤ ورنہ تمہاری پیٹھ پر حد جاری ہو گی ( کوڑے پڑیں گے ) “ آپ نے یہ بات بارہا کہی، ہلال نے آپ سے کہا: قسم اللہ کی، اللہ کے رسول! اللہ عزوجل بخوبی جانتا ہے کہ میں سچا ہوں اور ( مجھے یقین ہے ) اللہ بزرگ و برتر آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر کوئی ایسا حکم ضرور نازل فرمائے گا جو میری پیٹھ کو کوڑے کھانے سے بچا دے گا، ہم سب یہی باتیں آپس میں کر ہی رہے تھے کہ آپ پر لعان کی آیت: «والذين يرمون أزواجهم» ۔ آخر تک نازل ہوئی ۱؎ آیت نازل ہونے کے بعد آپ نے ہلال کو بلایا، انہوں نے اللہ کا نام لے کر ( یعنی قسم کھا کر ) چار گواہیاں دیں کہ وہ سچے لوگوں میں سے ہیں اور پانچویں بار انہوں نے کہا کہ ان پر اللہ کی لعنت ہو اگر وہ جھوٹے لوگوں میں سے ہوں، پھر عورت بلائی گئی اور اس نے بھی چار بار اللہ کا نام لے کر ( قسم کھا کر ) چار گواہیاں دیں کہ وہ ( شوہر ) جھوٹوں میں سے ہے ( راوی کو شک ہو گیا ) چوتھی بار یا پانچویں بار قسم کھانے کا جب موقع آیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” ( ذرا ) اسے روکے رکھو ( آخری قسم کھانے سے پہلے اسے خوب سوچ سمجھ لینے دو ہو سکتا ہے وہ سچائی کا اعتراف کر لے ) کیونکہ یہ گواہی ( اللہ کی لعنت و غضب کو ) واجب و لازم کر دے گی“، وہ رکی اور ہچکائی تو ہم نے شک کیا ( سمجھا ) کہ ( شاید ) وہ اعتراف گناہ کر لے گی، مگر وہ بولی: میں اپنی قوم کو ہمیشہ کے لیے شرمندہ، رسوا و ذلیل نہیں کر سکتی، یہ کہہ کر ( آخری ) قسم بھی کھا گئی۔ ( اس کے بعد ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے دیکھتے رہو اگر وہ سفید ( گورا ) لٹکے ہوئے بالوں اور خراب آنکھوں والا بچہ جنے تو ( سمجھو کہ ) وہ ہلال بن امیہ کا لڑکا ہے اور اگر وہ بچہ گندم گوں، پیچیدہ الجھے ہوئے بالوں والا، میانہ قد کا اور پتلی پنڈلیوں والا بچہ جنے تو ( سمجھو ) وہ شریک بن سحماء کا ہے“۔ تو اس عورت نے گندمی رنگ کا گھونگھریالے بالوں والا، درمیانی سائز کا، پتلی پنڈلیوں والا بچہ جنا، ( اس کے جننے کے بعد ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر اس معاملے میں اللہ کا فیصلہ نہ آ چکا ہوتا تو میرا اور اس کا معاملہ کچھ اور ہی ہوتا۔ ( یعنی میں اس پر حد قائم کر کے رہتا ) “۔ واللہ اعلم
It was narrated that Ibn 'Abbas said: Mention of Li'an was made in the presence of the Messenger of Allah and 'Asim bin 'Adiyy said something about that, then he went away. A man from among his people came to him, complaining that he had found a man with his wife. 'Asim said: 'I was only put to this test because of what I said.' He took him to the Messenger of Allah and told him of the situation in which he found his wife. That man was pale and slim with straight hair, and the one whom he claimed to have found with his wife was dark and well-built. The Messenger of Allah said: 'O Allah, make it clear to me.' Then she gave birth to a child who resembled the one whom her husband said he had found with her. So the Messenger of Allah conducted the procedure of Li'an between them. A man in the gathering said to Ibn 'Abbas: Was she the one of whom the Messenger of Allah said: 'If I were to have stoned anyone without evidence I would have stoned this one?' Ibn 'Abbas said: No, that was a woman who used to do mischief even after becoming Muslim.
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے لعان کا ذکر آیا، عاصم بن عدی رضی اللہ عنہ نے اس سلسلے میں کوئی بات کہی پھر وہ چلے گئے تو ان کے پاس ان کی قوم کا ایک شخص شکایت لے کر آیا کہ اس نے ایک شخص کو اپنی بیوی کے ساتھ پایا ہے، یہ بات سن کر عاصم رضی اللہ عنہ کہنے لگے: میں اپنی بات کی وجہ سے اس آزمائش میں ڈال دیا گیا ۱؎ تو وہ اس آدمی کو لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئے اور اس نے آپ کو اس آدمی کے متعلق خبر دی جس کے ساتھ اپنی بیوی کو ملوث پایا تھا۔ یہ آدمی ( یعنی شوہر ) زردی مائل، کم گوشت والا ( چھریرا بدن ) سیدھے بالوں والا تھا اور وہ شخص جس کو اپنی بیوی کے پاس پانے کا مجرم قرار دیا تھا وہ شخص گندمی رنگ، بھری پنڈلیوں والا، زیادہ گوشت والا ( موٹا بدن ) تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” «اللہم بین» اے اللہ معاملہ کو واضح کر دے“، تو اس عورت نے اس شخص کے مشابہہ بچہ جنا جس کے متعلق شوہر نے کہا تھا کہ اس نے اسے اپنی بیوی کے پاس پایا ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں کے درمیان لعان کرنے کا حکم دیا۔ اس مجلس کے ایک آدمی نے جس میں ابن عباس رضی اللہ عنہما نے یہ حدیث بیان کی کہا: ( ابن عباس! ) کیا یہ عورت وہی تھی جس کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا اگر میں کسی کو بغیر ثبوت کے رجم کرتا تو اس عورت کو رجم کر دیتا، ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: نہیں، یہ عورت وہ عورت نہیں ہے۔ وہ عورت وہ تھی جو اسلام میں شر پھیلاتی تھی ۲؎۔
It was narrated that 'Abdullah bin 'Abbas said: Mention of Li'an was made in the presence of the Messenger of Allah and 'Asim bin 'Adiyy said something about that, then he went away. He was met by a man from among his people who told him that he had found a man with his wife. He took him to the Messenger of Allah and told him of the situation in which he found his wife. That man was pale and slim with straight hair, and the one whom he claimed to have found with his wife was dark and well built, with very curly hair. The Messenger of Allah said: 'O Allah, make it clear to me.' Then she gave birth to a child who resembled the one whom her husband said he had found with her. So the Messenger of Allah conducted the procedure of Li'an between them. A man in the gathering said to Ibn 'Abbas: Was she the one of whom the Messenger of Allah said: 'If I were to have stoned anyone without evidence I would have stoned this one?' Ibn 'Abbas said: No, that was a woman who used to do mischief even after becoming Muslim.
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لعان کی بات آئی تو عاصم بن عدی رضی اللہ عنہ نے اس معاملے میں کوئی بات کہی پھر واپس چلے گئے، ان کی قوم کا ایک آدمی ان کے پاس پہنچا اور اس نے انہیں بتایا کہ اس نے ایک شخص کو اپنی بیوی کے ساتھ ( زنا کرتا ہوا ) پایا ہے تو وہ اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے کر گئے، اس نے آپ کو اس شخص سے باخبر کیا جس کے ساتھ اپنی بیوی کو پایا تھا۔ یہ آدمی ( یعنی شوہر ) زردی مائل، دبلا، سیدھے بالوں والا تھا اور وہ شخص جس کے متعلق اس نے کہا تھا کہ وہ اسے اپنی بیوی کے پاس پایا ہے گندمی رنگ، بھری ہوئی پنڈلیوں والا، فربہ، گھونگھریالے چھوٹے بالوں والا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی ” «اللھم بیّن» اے اللہ تو اسے واضح کر دے“ پھر اس نے بچہ جنا، وہ بچہ بالکل اسی طرح تھا جس کے متعلق شوہر نے کہا تھا کہ اس نے اسے اپنی بیوی کے پاس پایا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں کے درمیان لعان کا حکم دیا، ایک آدمی نے جو ( اس وقت ) مجلس میں موجود تھا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھا: کیا یہ وہی عورت تھی جس کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا تھا کہ اگر میں کسی کو بغیر ثبوت کے رجم کرتا تو اس عورت کو کر دیتا۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: نہیں، یہ عورت تو اسلام میں رہتے ہوئے شر پھیلاتی تھی ۱؎۔
It was narrated from Ibn 'Abbas: When the Prophet commanded the two who were engaging in Li'an to utter the fifth oath, he commanded a man to place his hand over his mouth, and he said: It will inevitably bring the punishment upon the liar.
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب دو لعان کرنے والوں کو لعان کرنے کا حکم دیا تو ایک شخص کو ( یہ بھی ) حکم دیا کہ جب پانچویں قسم کھانے کا وقت آئے تو لعان کرنے والے کے منہ پر ہاتھ رکھ دے ۱؎ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ قسم اللہ کی لعنت و غضب کو لازم کر دے گی“ ۲؎۔
Abdul-Malik bin Abi Sulaiman said: I heard Sa'eed bin Jubair say: 'I was asked about the two who engage in Li'an during the governorship of Ibn Az-Zubair - should they be separated? I did not know what to say, so I got up and went to the house of Ibn 'Umar and said: O Abu 'Abdur-Rahman, should the two who engage in Li'an be separated? He said: Yes, Subhan Allah! The first one who asked about that was so-and-so the son of so-and-so who said: 'O Messenger of Allah, what do you think if a man among us sees his wife committing immoral actions, and if he speaks of it, he will be speaking of a grave matter, but if he keeps quiet, he will be keeping quiet about a grave matter?' He did not answer him, then after that, he came to him and said: 'I was tried with the matter that I asked you about, so Allah, the Mighty and Sublime, revealed these Verses in Surat An-Nur.: 'And for those who accuse their wives' until he reached: 'And the fifth (testimony) should be that the Wrath of Allah be upon her if he (her husband) speaks the truth.' So he started with the man, exhorting him, reminding him, and telling him that the punishment in this world was less severe than the punishment in the Hereafter. He said: 'By the One Who sent you with the truth, I am not lying.' Then he turned to the woman and exhorted her and reminded her. She said: 'By the One Who sent you with the truth, he is lying.' So he started with the man, and he bore witness four times by Allah that he was telling the truth, and the fifth time (he invoked) the curse of Allah upon himself if he was lying. Then he turned to the woman and she bore witness four times by Allah that he was lying, and the fifth time (she invoked) the wrath of Allah upon herself if he was telling the truth. Then he separated them. '
سعید بن جبیر کہتے ہیں کہ
مجھ سے عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کی امارت کے زمانہ میں دو لعان کرنے والوں کے بارے میں پوچھا گیا ( کہ جب وہ دونوں لعان کر چکیں گے تو ) کیا ان دونوں کے درمیان تفریق ( جدائی ) کر دی جائے گی؟ میری سمجھ میں نہ آیا کہ میں کیا جواب دوں، میں اپنی جگہ سے اٹھا اور ابن عمر رضی اللہ عنہما کے گھر چلا گیا، میں نے کہا: ابوعبدالرحمٰن! کیا دونوں لعان کرنے والوں کے درمیان تفریق کرا دی جائے گی؟ انہوں نے کہا: ہاں، سبحان اللہ، پاک و برتر ہے ذات اللہ کی۔ سب سے پہلے اس بارے میں فلاں ابن فلاں نے مسئلہ پوچھا تھا ( ابن عمر رضی اللہ عنہما نے ان کا نام نہیں لیا ) اس آدمی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: اللہ کے رسول! ( «ارأیت» عمرو بن علی جو اس حدیث کے ایک راوی ہیں انہوں نے اپنی روایت میں «ارأیت» کا لفظ نہیں استعمال کیا ہے ) ، آپ بتائیے ہم میں سے کوئی شخص کسی شخص کو اپنی بیوی کے ساتھ بدکاری کرتے ہوئے دیکھے ( تو کیا کرے؟ ) اگر وہ زبان کھولتا ہے تو بڑی بات کہتا ہے ۱؎ اور اگر وہ چپ رہتا ہے تو بھی وہ ایسی بڑی اور بری بات پر چپ رہتا ہے ( جو ناقابل برداشت ہے ) ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کوئی جواب نہ دیا ( اس روایت میں ـ «فأمر عظیم» کے الفاظ آئے ہیں، یہ اس روایت کے ایک راوی محمد بن مثنیٰ کے الفاظ ہیں، اس روایت کے دوسرے راوی عمرو بن علی نے اس کے بجائے «اتی امراً عظیماً» کے الفاظ استعمال کیے ہیں ) ۔ پھر جب اس کے بعد ایسا واقعہ پیش آ گیا تو وہ شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہنے لگا: جس بارے میں، میں نے آپ سے مسئلہ پوچھا تھا میں خود ہی اس سے دوچار ہو گیا، ( اس وقت ) اللہ تعالیٰ نے سورۃ النور کی یہ آیت: «والذين يرمون أزواجهم» سے لے کر «والخامسة أن غضب اللہ عليها إن كان من الصادقين» تک نازل فرمائیں، ( اس کارروائی کا ) آغاز آپ نے مرد کو وعظ و نصیحت سے کیا، آپ نے اسے بتایا کہ دنیا کا عذاب آخرت کے عذاب کے مقابل میں ہلکا، آسان اور کم تر ہے۔ اس شخص نے کہا: قسم ہے اس ذات کی جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے، میں نے جھوٹ نہیں کہا ہے، پھر آپ نے عورت کو بھی خطاب کیا، آپ نے اسے بھی وعظ و نصیحت کی، ڈرایا اور آخرت کے سخت عذاب کا خوف دلایا۔ اس نے بھی کہا: قسم ہے اس ذات کی جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے یہ شخص جھوٹا ہے۔ ( اس وعظ و نصیحت کے بعد لعان کی کارروائی روبہ عمل آئی ) تو آپ نے ( یہ کارروائی ) مرد سے شروع کی۔ اس نے اللہ کا نام لے کر چار گواہیاں دیں کہ وہ سچے لوگوں میں سے ہے اور پانچویں بار اس نے کہا کہ اس پر اللہ کی لعنت ہو اگر وہ جھوٹوں میں سے ہو۔ پھر آپ نے عورت سے گواہی لینی شروع کی، اس نے بھی اللہ کا نام لے کر چار گواہیاں دیں کہ وہ ( شوہر ) جھوٹوں میں سے ہے اور اس نے پانچویں بار کہا: اس پر ( یعنی مجھ پر ) اللہ کا غضب نازل ہو اگر وہ ( شوہر ) سچوں میں سے ہو۔ پھر آپ نے ان دونوں کے درمیان جدائی کرا دی ۲؎۔
It was narrated that Sa'eed bin Jubair said: Al-Mus'ab did not separate the two who engaged in Li'an. Sa'eed said: I mentioned that to Ibn 'Umar and he said: 'The Messenger of Allah separated the couple from Banu 'Ajlan.'
سعید بن جبیر کہتے ہیں کہ
مصعب نے دو لعان کرنے والوں کے درمیان تفریق نہیں کی ( لعان کے بعد انہیں ایک ساتھ رہنے دیا ) ۔ سعید بن جبیر کہتے ہیں: میں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے اس کا ذکر کیا تو انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنی عجلان کے دونوں لعان کرنے والے مرد اور عورت کے مابین تفریق کر دی تھی۔
It was narrated from Ayyub, that Sa'eed bin Jubair said: I said to Ibn 'Umar: 'A man accused his wife.' He said: 'The Messenger of Allah separated the couple from Banu 'Ajlan and said: Allah knows that one of you is lying, so will either of you repent? He said that to them three times and they did not respond, then he separated them.' (One of the narrators) Ayyub said: Amr bin Dinar said: 'In this Hadith there is something that I think you are not narrating.' He said: 'The man said: My wealth. He said: You are not entitled to any wealth. If you are telling the truth, you have consummated the marriage with her, and if you are lying then you are even less entitled to it.'
سعید بن جبیر کہتے ہیں کہ
میں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے کہا: کسی نے اپنی بیوی پر بدکاری کا الزام لگایا ( تو کیا کرے ) ؟ انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو عجلان کے ایک مرد اور عورت کے مابین تفریق کر دی تھی۔ آپ نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ کو بخوبی معلوم ہے کہ تم میں سے ایک جھوٹا ہے تو کیا تم دونوں میں سے کوئی توبہ کا ارادہ رکھتا ہے“، آپ نے یہ بات ان دونوں سے تین بار کہی پھر بھی ان دونوں نے ( توبہ کرنے سے ) انکار کیا تو آپ نے ان دونوں کے مابین جدائی کر دی۔ ( ایوب کہتے ہیں: عمرو بن دینار نے کہا: اس حدیث میں ایک ایسی بات ہے، میں نہیں سمجھتا کہ تم اسے بیان کرو گے؟ کہتے ہیں: اس شخص نے کہا: میرے مال کا کیا ہو گا ( ملے گا یا نہیں ) ؟ آپ نے فرمایا: ”اگرچہ تو اپنی بات میں سچا ہو پھر بھی تیرا مال تجھے واپس نہیں ملے گا کیونکہ تو اس کے ساتھ دخول کر چکا ہے اور اگر اپنی بات میں تو جھوٹا ہے تو تیری جانب مال کا واپس ہونا بعید ترشئی ہے“ ۱؎۔
It was narrated that 'Amr said: I heard Sa'eed bin Jubair say: 'I asked Ibn 'Umar about the two who engage in Li'an. He said: 'The Messenger of Allah said to the two who engaged in Li'an: Your reckoning will be with Allah. One of you is lying, and you cannot stay with her. He said: O Messenger of Allah, my wealth! He said: You are not entitled to any wealth. If you are telling the truth about her, then it is in return for having been allowed intimacy with her, and if you are lying then you are even less entitled to it.'
سعید بن جبیر کہتے ہیں کہ
میں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے لعان کرنے والوں کے متعلق پوچھا تو انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لعان کرنے والوں سے کہا: تمہارا حساب تو اللہ تعالیٰ کے پاس ہے۔ تم میں سے کوئی ایک ضرور جھوٹا ہے، ( مرد سے کہا: ) تمہارا اب اس ( عورت ) پر کچھ حق و اختیار نہیں ہے ۱؎، مرد نے کہا: اللہ کے رسول! میرے مال کا کیا ہو گا؟ آپ نے فرمایا: ”تمہارا کوئی مال نہیں ہے۔ اگر تم نے اس پر صحیح تہمت لگائی ہے تو تم نے اب تک اس کی شرمگاہ سے حلت کا جو فائدہ حاصل کیا ہے وہ مال اس کا بدل ہو گیا اور اگر تم نے اس عورت پر جھوٹا الزام لگایا ہے تو یہ تو تمہارے لیے اور بھی غیر مناسب ہے“ ۲؎۔
It was narrated that Ibn 'Umar said: The Messenger of Allah conducted the procedure of Li'an between a man and his wife, and he separated them and attributed the child to his mother.
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مرد اور اس کی بیوی کے درمیان لعان کا حکم دیا اور ان دونوں کے درمیان تفریق کر دی اور بچے کو ماں کی سپردگی میں دے دیا۔
It was narrated from Abu Hurairah that a man from Banu Fazarah came to the Messenger of Allah and said: My wife has given birth to a black boy. The Messenger of Allah said: Do you have camels? He said: Yes. He said: What color are they? He said: Red. He said: Are there any gray ones among them? He said: There are some gray ones among them. He said: Where do you think they come from? He said: Perhaps it is hereditary. He said: Likewise, perhaps this is hereditary.
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ
بنی فرازہ کا ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہا: میری بیوی نے ایک کالے رنگ کا بچہ جنا ہے ۱؎، آپ نے فرمایا: ”کیا تمہارے پاس اونٹ ہیں؟“ اس نے کہا: جی ہاں! آپ نے فرمایا: ”کس رنگ کے ہیں؟“، اس نے کہا لال رنگ ( کے ہیں ) ، آپ نے فرمایا: ”کیا ان میں کوئی خاکستری رنگ کا بھی ہے؟“ اس نے کہا: ( جی ہاں ) ان میں خاکستری رنگ کے بھی ہیں، آپ نے فرمایا: ”تم کیا سمجھتے ہو یہ رنگ کہاں سے آیا؟“ اس نے کہا ہو سکتا ہے کسی رگ نے یہ رنگ کشید کیا ہو۔ آپ نے فرمایا: ” ( یہی بات یہاں بھی سمجھو ) ہو سکتا ہے کسی رگ نے اس رنگ کو کھینچا ہو“ ۲؎۔
It was narrated that Abu Hurairah said: A man from Banu Fazarah came to the Prophet and said: 'My wife has given birth to a black boy' -and he wanted to disown him. He said: 'Do you have camels?' He said: 'Yes.' He said: 'What color are they?' He said: 'Red.' He said: 'Are there any gray ones among them?' He said: 'There are some gray camels among them.' He said: 'Why is that do you think?' He said: 'Perhaps it is hereditary.' He said: 'Perhaps this is hereditary.' And he did not permit him to disown him.
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
قبیلہ بنی فرازہ کا ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہا: میری بیوی نے ایک کالے رنگ کا بچہ جنا ہے اور وہ اسے اپنا بیٹا ہونے کے انکار کا سوچ رہا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تمہارے پاس اونٹ ہیں؟“، اس نے کہا: جی ہاں، آپ نے فرمایا: ”ان کے رنگ کیسے ہیں؟“ اس نے کہا: سرخ، آپ نے فرمایا: ”کیا ان میں کوئی خاکستری رنگ بھی ہے؟“ اس نے کہا ( جی ہاں ) خاکستری رنگ کے اونٹ بھی ہیں۔ آپ نے فرمایا: ”تمہارا کیا خیال ہے یہ رنگ کہاں سے آیا؟“ اس نے کہا: کسی رگ نے اسے کھینچا ہو گا۔ آپ نے فرمایا: ” ( یہ بھی ایسا ہی سمجھ ) کسی رگ نے اسے بھی کھینچا ہو گا“، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بچے کے اپنی اولاد ہونے سے انکار کی رخصت و اجازت نہ دی۔
It was narrated that Abu Hurairah said: While we were with the Prophet, a man stood up and said: 'O Messenger of Allah, a black boy has been born to me.' The Messenger of Allah said: 'How did that happen?' He said: 'I do not know.' He said: 'Do you have camels?' He said: 'Yes.' He said: 'What color are they?' He said: 'Red.' He said: 'Are there any gray camels among them?' He said: 'There are some gray camels among them.' He said: 'Where do they come from?' He said: 'I do not know, O Allah's Messenger! Perhaps it is hereditary.' He said: 'Perhaps this is also hereditary.' Because of this, the Messenger of Allah decreed the following: 'It is not allowed for a man, to disown a child who was born on his bed, unless he claimed that he had seen an immoral act (Fahishah).'
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
ایک روز ہم لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک شخص نے کھڑا ہو کر کہا: اللہ کے رسول! میرے یہاں ایک کالا بچہ پیدا ہوا ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کہاں سے آیا یہ اس کا کالا رنگ؟“، اس نے کہا: مجھے نہیں معلوم، آپ نے فرمایا: ”کیا تمہارے پاس اونٹ ہیں؟“، اس نے کہا: جی ہاں ہیں۔ آپ نے فرمایا: ”ان کے رنگ کیا ہیں؟“، اس نے کہا: سرخ ہیں، آپ نے فرمایا: ”کیا کوئی ان میں خاکی رنگ کا بھی ہے؟“، اس نے کہا: ان میں خاکی رنگ کے بھی اونٹ ہیں۔ آپ نے فرمایا: ”یہ خاکی رنگ کہاں سے آیا؟“، اس نے کہا: میں نہیں جانتا، اللہ کے رسول! ہو سکتا ہے کسی رگ نے اسے کشید کیا ہو ( یعنی یہ نسلی کشش کا نتیجہ ہو اور نسل میں کوئی کالے رنگ کا ہو ) ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اور یہ بھی ہو سکتا ہے کسی رگ کی کشش کے نتیجہ میں کالے رنگ کا پیدا ہوا ہو“۔ اسی وجہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فیصلہ فرما دیا ہے کہ کسی شخص کے لیے یہ جائز نہیں ہے کہ وہ اپنی بیوی سے پیدا ہونے والے بچے کا انکار کر دے جب تک کہ وہ اس کا دعویٰ نہ کرے کہ اس نے اسے بدکاری کرتے ہوئے دیکھا ہے۔
It was narrated from Abu Hurairah that he heard the Messenger of Allah say when the Verse of Mula'anah (Li'an) was revealed: Any woman who falsely attributes a man to people to whom he does not belong, has no share from Allah, and Allah will not admit her to His Paradise. Any man who denies his son while looking at him (knowing that he is indeed his son), Allah, the Mighty and Sublime, will cast him away, and disgrace him before the first and the last on the Day of Resurrection.
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ
جب لعان کی آیت نازل ہوئی تو انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”جو عورت کسی قوم ( خاندان و قبیلے ) میں ایسے شخص کو داخل و شامل کر دے جو اس قوم ( خاندان و قبیلے ) کا نہ ہو ( یعنی زنا و بدکاری کرے ) تو کسی چیز میں بھی اسے اللہ تعالیٰ کا تحفظ و تعاون حاصل نہ ہو گا اور اللہ تعالیٰ اسے جنت میں داخل نہ کرے گا اور ( ایسے ہی ) جو شخص اپنے بیٹے کا ( کسی بھی سبب سے ) انکار کر دے اور دیکھ رہا ( اور سمجھ بوجھ رہا ) ہو ( کہ وہ بیٹا اسی کا ہے ) تو اللہ تعالیٰ اس سے پردہ کر لے گا ۱؎ اور اللہ تعالیٰ اسے قیامت کے دن اگلے و پچھلے سبھی لوگوں کے سامنے ذلیل و رسوا کرے گا“۔
It was narrated from Abu Hurairah that the Prophet said: The child is the bed's and for the fornicator is the stone.
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بچہ فراش والے کا ہے ( یعنی جس کی بیوی ہو اس کا مانا جائے گا ) اور زنا کار کے لیے پتھر ہے“ ۱؎۔
It was narrated from Abu Hurairah that the Messenger of Allah said: The child is the bed's and for the fornicator is the stone.
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لڑکا فراش والے ( یعنی شوہر ) کا ہے اور زنا کار کے لیے پتھر ہے ( یعنی اسے مار لگے گی یا پتھروں سے رجم کر دیا جائے گا ) “۔
It was narrated that 'Aishah said: Sa'd bin Abi Waqqas and 'Abd bin Zam'ah disputed over a boy. Sa'd said: 'O Messenger of Allah! This is the son of my brother 'Utbah bin Abi Waqqas, who made me promise to look after him because he is his son. Look at whom he resembles.' 'Abd bin Zam'ah said: 'He is my brother who was born on my father's bed to his slave woman.' The Messenger of Allah looked to determine at whom he resembled, and saw that he resembled 'Utbah. He said: 'He is for you, O 'Abd! The child is the bed's and for the fornicator is the stone. Veil yourself from him, O Sawdah bint Zam'ah.' And he never saw Sawdah again.
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ
سعد بن ابی وقاص اور عبد بن زمعہ رضی اللہ عنہما کا ایک بچے کے سلسلہ میں ٹکراؤ اور جھگڑا ہو گیا۔ سعد رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کے رسول! یہ بچہ میرے بھائی عتبہ بن ابی وقاص کا ہے، انہوں نے مجھے وصیت کی تھی کہ وہ ان کا بیٹا ہے ( میں اسے حاصل کر لوں ) ، آپ اس کی ان سے مشابہت دیکھئیے ( کتنی زیادہ ہے ) ، عبد بن زمعہ رضی اللہ عنہ نے کہا: وہ میرا بھائی ہے، میرے باپ کی لونڈی سے پیدا ہوا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی مشابہت پر نظر ڈالی تو اسے صاف اور واضح طور پر عتبہ کے مشابہ پایا ( لیکن ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے عبد ( عبد بن زمعہ ) وہ بچہ تمہارے لیے ہے ( قانونی طور پر تم اس کے بھائی و سر پرست ہو ) ، بچہ اس کا ہوتا ہے جس کے تحت بچے کی ماں ہوتی ہے، اور زنا کار کی قسمت و حصے میں پتھر ہے۔ اے سودہ بنت زمعہ! تم اس سے پردہ کرو ۱؎، تو اس نے ام المؤمنین سودہ رضی اللہ عنہا کو کبھی نہیں دیکھا ( وہ خود ان کے سامنے کبھی نہیں آیا ) ۔
It was narrated that 'Abdullah bin Az-Zubair said: Zam'ah had a slave woman with whom he used to have intercourse, but he suspected that someone else was also having intercourse with her. She gave birth to a child who resembled the one whom he suspected. Zam'ah died when she was pregnant, and Sawdah mentioned that to the Messenger of Allah. The Messenger of Allah said: 'The child is the bed's, but veil yourself from him, O Sawdah, for he is not a brother of yours.'
عبداللہ بن زبیر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
زمعہ کی ایک لونڈی تھی جس سے وہ صحبت کرتا تھا اور اس کا یہ بھی خیال تھا کہ کوئی اور بھی ہے جو اس سے بدکاری کیا کرتا ہے۔ چنانچہ اس لونڈی سے ایک بچہ پیدا ہوا اور وہ بچہ اس شخص کی صورت کے مشابہ تھا جس کے بارے میں زمعہ کا گمان تھا کہ وہ اس کی لونڈی سے بدکاری کرتا ہے، وہ لونڈی حاملہ تھی جب ہی زمعہ کا انتقال ہو گیا، اس بات کا ذکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ام المؤمنین سودہ ( سودہ بنت زمعہ ) رضی اللہ عنہا نے کیا۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بچہ فراش والے کا ہے ۱؎ اور سودہ! تم اس سے پردہ کرو کیونکہ ( فی الواقع ) وہ تمہارا بھائی نہیں ہے“۔
It was narrated from 'Abdullah that the Messenger of Allah said: The child is the bed's, and for the fornicator is the stone.
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لڑکا فراش والے کا ہے ۱؎ اور زنا کرنے والے کو پتھر ملیں گے“ ۲؎۔
It was narrated that 'Aishah said: Sa'd bin Abi Waqqas and 'Abd bin Zam'ah disputed concerning a son of Zam'ah. Sa'd said: 'My brother 'Utbah urged me, if I came to Makkah: Look for the son of the slave woman of Zam'ah, for he is my son.' 'Abd bin Zam'ah said: 'He is the son of my father's slave woman who was born on my father's bed.' The Messenger of Allah saw that he resembled 'Utbah, but he said: 'The child is the bed's. Veil yourself from him, O Sawdah.'
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ
سعد بن ابی وقاص اور عبد بن زمعہ رضی اللہ عنہما کا زمعہ کے بیٹے کے بارے میں جھگڑا ہو گیا ( کہ وہ کس کا ہے اور کون اس کا حقدار ہے ) سعد رضی اللہ عنہ نے کہا: میرے بھائی عتبہ نے مجھے وصیت کی تھی کہ جب تم مکہ جاؤ تو زمعہ کی لونڈی کے بیٹے کو دیکھو ( اور اسے حاصل کر لو ) وہ میرا بیٹا ہے۔ چنانچہ عبد بن زمعہ رضی اللہ عنہ نے کہا: وہ میرے باپ کی لونڈی کا بیٹا ہے جو میرے باپ کے بستر پر ( یعنی اس کی ملکیت میں ) پیدا ہوا ہے ( اس لیے وہ میرا بھائی ہے ) ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے دیکھا کہ صورت میں بالکل عتبہ کے مشابہ تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” ( اگرچہ وہ عتبہ کے مشابہ ہے لیکن شریعت کا اصول و ضابطہ یہ ہے کہ ) بچہ اس کا مانا اور سمجھا جاتا ہے جس کا بستر ہو ( اس لیے اس کا حقدار عبد بن زمعہ ہے ) اور اے سودہ ( اس اعتبار سے گرچہ وہ تمہارا بھی بھائی لگے لیکن ) تم اس سے پردہ کرو ( کیونکہ فی الواقع وہ تیرا بھائی نہیں ہے ) “۔