Abu Qatadah رضی اللہ عنہ said:
“We went out with the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم in the year of Hunain. And when the armies met, the Muslims suffered a reverse. I saw one of the polytheists prevailing over a Muslim, so I went round him till I came to him from behind and struck him with my sword at the vein between his neck and shoulder. He came towards me and closed with me, so that I felt death was near, but he was overtaken by death and let me go. I then caught upon on “Umar bin Al Khattab رضی اللہ عنہ and said to him “What is the matter with the people?” He said “It is what Allah has commanded. Then the people returned and the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلمsat down and said “If anyone kills a man and can prove it, he will get his spoil. I stood up and said “Who will testify for me? I then sat down. ” He said again “If anyone kills a man and can prove it, he will get his spoil. I stood up and said “Who will testify for me? I then sat down. ” He then said the same for the third time. I then stood up. The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم said “What is the matter with you, Abu Qatadah? I told him the story. A man from the people said “He has spoken the truth, and I have this spoil with me, so make him agreeable (to take something in exchange). Abu Bakr said “In that case I swear by Allah that he must not do so. One of the Allah’s heroes does not fight for Allah and his Messenger and then give you his spoil. The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم said “He has spoken the truth, hand it over to him. Abu Qatadah رضی اللہ عنہ said “he handed it over to me, I sold the coat of mail and brought a garden among Banu Salamh. This was the first property I acquired in the Islamic period.
ہم سے عبداللہ بن مسلمہ القعْنبی نے مالک کی سند سے، یحییٰ بن سعید کی سند سے، عمر بن کثیر بن افلہ سے، ابو قتادہ کے آزاد کردہ غلام ابو محمد سے روایت کی ہے, ابوقتادہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حنین کے سال نکلے، جب کافروں سے ہماری مڈبھیڑ ہوئی تو مسلمانوں میں بھگدڑ مچ گئی، میں نے مشرکین میں سے ایک شخص کو دیکھا کہ وہ ایک مسلمان پر چڑھا ہوا ہے، تو میں پلٹ پڑا یہاں تک کہ اس کے پیچھے سے اس کے پاس آیا اور میں نے تلوار سے اس کی گردن پر مارا تو وہ میرے اوپر آ پڑا، اور مجھے ایسا دبوچا کہ میں نے اس سے موت کی مہک محسوس کی، پھر اسے موت آ گئی اور اس نے مجھے چھوڑ دیا، پھر میں عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے ملا اور ان سے پوچھا کہ لوگوں کا کیا حال ہے؟ انہوں نے کہا: وہی ہوا جو اللہ کا حکم تھا، پھر لوگ لوٹے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھ گئے اور فرمایا: جس شخص نے کسی کافر کو قتل کیا ہو اور اس کے پاس گواہ ہو تو اس کا سامان اسی کو ملے گا ۱؎ ۔ ابوقتادہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ( جب میں نے یہ سنا ) تو میں اٹھ کھڑا ہوا، پھر میں نے سوچا میرے لیے کون گواہی دے گا یہی سوچ کر بیٹھ گیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دوسری بار فرمایا: جو شخص کسی کافر کو قتل کر دے اور اس کے پاس گواہ ہو تو اس کا سامان اسی کو ملے گا ۔ ابوقتادہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں ( جب میں نے یہ سنا ) تو اٹھ کھڑا ہوا، پھر میں نے سوچا میرے لیے کون گواہی دے گا یہی سوچ کر بیٹھ گیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تیسری مرتبہ یہی بات کہی پھر میں اٹھ کھڑا ہوا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ابوقتادہ کیا بات ہے؟ میں نے آپ سے سارا معاملہ بیان کیا، تو قوم کے ایک آدمی نے کہا: اللہ کے رسول! یہ سچ کہہ رہے ہیں اور اس مقتول کا سامان میرے پاس ہے، آپ ان کو اس بات پر راضی کر لیجئے ( کہ وہ مال مجھے دے دیں ) اس پر ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کی قسم! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کبھی بھی ایسا نہ کریں گے کہ اللہ کے شیروں میں سے ایک شیر اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے لڑے اور سامان تمہیں مل جائے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ سچ کہہ رہے ہیں، تم اسے ابوقتادہ کو دے دو ۔ ابوقتادہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: اس نے مجھے دے دیا، تو میں نے زرہ بیچ دی اور اس سے میں نے ایک باغ قبیلہ بنو سلمہ میں خریدا، اور یہ پہلا مال تھا جو میں نے اسلام میں حاصل کیا۔
Anas رضی اللہ عنہ reported:
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم as saying “He who kills and infidel gets his spoil. ” Abu Talhah killed twenty men that day meaning the day of Hunain and got their spoils. Abu Talhah met Umm Sulaim who had a dagger with her. He asked “What is with you, Umm Sulaim”? She replied “I swear by Allah, I intended that if anyone came near me I would pierce his belly with it. Abu Talhah informed the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلمabout it. Abu Dawud said “This is good (hasan) tradition. Abu Dawud said “By this was meant dagger. The weapon used by the Non – Arabs in those days was dagger. ”
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے حماد نے اسحاق بن عبداللہ بن ابی طلحہ کی سند سے بیان کیا، انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس دن یعنی حنین کے دن فرمایا: جس نے کسی کافر کو قتل کیا تو اس کے مال و اسباب اسی کے ہوں گے ، چنانچہ اس دن ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے بیس آدمیوں کو قتل کیا اور ان کے مال و اسباب لے لیے، ابوطلحہ رضی اللہ عنہ ام سلیم رضی اللہ عنہا سے ملے تو دیکھا ان کے ہاتھ میں ایک خنجر تھا انہوں نے پوچھا: ام سلیم! تمہارے ساتھ یہ کیا ہے؟ انہوں نے کہا: اللہ کی قسم! میں نے یہ قصد کیا تھا کہ اگر ان میں سے کوئی میرے نزدیک آیا تو اس خنجر سے اس کا پیٹ پھاڑ ڈالوں گی، تو اس کی خبر ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دی۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ حدیث حسن ہے، اس حدیث سے ہم نے سمجھا ہے کہ خنجر کا استعمال جائز ہے، ان دنوں اہل عجم کے ہتھیار خنجر ہوتے تھے۔
Awf bin malik Al Ashjai رضی اللہ عنہ said:
“I went out with Zaid bin Haritha رضی اللہ عنہ in the battle of Mutah. For the reinforcement of the Muslim army a man from the people of Yemen accompanied me. He had only his sword with him. A man from the Muslims slaughtered a Camel. The man for the reinforcement asked him for a part of its skin which he gave him. He made it like the shape of a shield. We went on and met the Byzantine armies. There was a man among them on a reddish horse with a golden saddle and golden weapons. This Byzantinian soldiers began to attack the Muslims desperately. The man for reinforcement sat behind a rock for (attacking) him. He hamstrung his horse and overpowered him and then killed him. He took his horse and weapons. When Allah, Most High, bestowed victory on the Muslims. Khalid bin Al Walid رضی اللہ عنہ sent for him and took his spoils. Awf said “I came to him and said “Khalid رضی اللہ عنہ , do you know that the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم had decided to give spoils to the killer? He said “Yes, I thought it abundant. I said “You should return it to him, or I shall tell you about it before the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم. But he refused to return it. Awf said “We then assembled with the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم. I told him the story of the man of reinforcement and what Khalid had done. The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم said “Khalid, what made you do the work you have done?” He said “Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم, I considered it to be abundant. The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم said “Khalid, return it to him what you have taken from him. ” Awf said “I said to him “here you are, Khalid رضی اللہ عنہ . Did I not keep my word? The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم said “What is that? I then informed him. ” He said “The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم became angry and said “Khalid رضی اللہ عنہ , do not return it to him. Are you going to leave my commanders? You may take from them what is best for you and eave to them what is worst.
ہم سے احمد بن محمد بن حنبل نے بیان کیا : ہم سے ولید بن مسلم نے بیان کیا : مجھ سے صفوان بن عمرو نے عبدالرحمٰن بن جبیر بن نفیر سے اپنے والد کی سند سے بیان کیا , عوف بن مالک اشجعی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
میں زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ غزوہ موتہ میں نکلا تو اہل یمن میں سے ایک مددی میرے ساتھ ہو گیا، اس کے پاس ایک تلوار کے سوا کچھ نہ تھا، پھر ایک مسلمان نے کچھ اونٹ ذبح کئے تو مددی نے اس سے تھوڑی سی کھال مانگی، اس نے اسے دے دی، مددی نے اس کھال کو ڈھال کی شکل کا بنا لیا، ہم چلے تو رومی فوجیوں سے ملے، ان میں ایک شخص اپنے سرخ گھوڑے پر سوار تھا، اس پر ایک سنہری زین تھی، ہتھیار بھی سنہرا تھا، تو رومی مسلمانوں کے خلاف لڑنے کے لیے اکسانے لگا تو مددی اس سوار کی تاک میں ایک چٹان کی آڑ میں بیٹھ گیا، وہ رومی ادھر سے گزرا تو مددی نے اس کے گھوڑے کے پاؤں کاٹ ڈالے، وہ گر پڑا، اور مددی اس پر چڑھ بیٹھا اور اسے قتل کر کے گھوڑا اور ہتھیار لے لیا، پھر جب اللہ عزوجل نے مسلمانوں کو فتح دی تو خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے مددی کے پاس کسی کو بھیاد اور سامان میں سے کچھ لے لیا۔ عوف رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: تو میں خالد رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور میں نے کہا: خالد! کیا تم نہیں جانتے ہو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قاتل کے لیے سلب کا فیصلہ کیا ہے؟ خالد رضی اللہ عنہ نے کہا: کیوں نہیں، میں جانتا ہوں لیکن میں نے اسے زیادہ سمجھا، تو میں نے کہا: تم یہ سامان اس کو دے دو، ورنہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس معاملہ کو ذکر کروں گا، لیکن خالد رضی اللہ عنہ نے لوٹانے سے انکار کیا۔ عوف رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ہم لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اکٹھا ہوئے تو میں نے آپ سے مددی کا واقعہ اور خالد رضی اللہ عنہ کی سلوک بیان کیا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: خالد! تم نے جو یہ کام کیا ہے اس پر تمہیں کس چیز نے آمادہ کیا؟ خالد نے کہا: اللہ کے رسول! میں نے اسے زیادہ جانا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: خالد! تم نے جو کچھ لیا تھا واپس لوٹا دو ۔ عوف رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میں نے کہا: خالد! کیا میں نے جو وعدہ کیا تھا اسے پورا نہ کیا؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ کیا ہے؟ عوف رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے اسے آپ سے بتایا۔ عوف کہتے ہیں: تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غصہ ہو گئے، اور فرمایا: خالد! واپس نہ دو، کیا تم لوگ چاہتے ہو کہ میرے امیروں کو چھوڑ دو کہ وہ جو اچھا کام کریں اس سے تم نفع اٹھاؤ اور بری بات ان پر ڈال دیا کرو ۔
The tradition mentioned above has also been transmitted by Awf bin Malik Al Ashjai رضی اللہ عنہ through a different chain of narrators.
ہم سے احمد بن محمد بن حنبل نے بیان کیا : ہم سے ولید نے بیان کیا : میں نے ثور سے اس حدیث کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے مجھ سے خالد بن معدان سے اور جبیر بن نفیر کی سند سے بیان کیا , عوف بن مالک اشجعی رضی اللہ عنہ سے اسی طرح مروی ہے۔
Narrated Khalid Ibn al-Walid رضی اللہ عنہما :
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم gave judgement that the killer should have what was taken from the man he killed, and did not make this subject to division into fifths.
ہم سے سعید بن منصور نے بیان کیا، ہم سے اسماعیل بن عیاش نے بیان کیا، ان سے صفوان بن عمرو نے، انہوں نے عبدالرحمٰن بن جبیر بن نفیر سے اپنے والد سے, عوف بن مالک اشجعی اور خالد بن ولید رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلب کا فیصلہ قاتل کے لیے کیا، اور سلب سے خمس نہیں نکالا۔
Narrated Abdullah Ibn Masud رضی اللہ عنہ :
At the battle of Badr the Messenger of Allah gave me Abu Jahl's sword, as I had killed him.
ہم سے ہارون بن عباد الازدی نے بیان کیا: ہم سے وکیع نے بیان کیا، اپنے والد سے، ابواسحاق سے، ابو عبیدہ سے, عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بدر کے دن ابوجہل کی تلوار بطور نفل دی اور انہوں نے ہی اسے قتل کیا تھا ۔
Narrated Saeed Ibn al-As رضی اللہ عنہ :
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم Aban sent Abu Saeed Ibn al-As رضی اللہ عنہما with an expedition from Madina towards Najd. Aban Ibn Saeed رضی اللہ عنہ and his companions came to the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم at Khaybar after it had been captured. The girths of their horses were made of palm fibres. Aban said: Give us a share (from the booty), Messenger of Allah. Abu Hurairah رضی اللہ عنہ said: I said: Do not give them a share, Messenger of Allah. Aban said: Why are you talking so, Wabr. You have come to us from the peak of Dal. The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم said: Sit down, Aban. The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم did not give any share to them (from the booty).
ہم سے سعید بن منصور نے بیان کیا، ہم سے اسماعیل بن عیاش نے بیان کیا، ان سے محمد بن ولید الزبیدی نے، وہ الزہری کی سند سے کہ انبسہ بن سعید نے,ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سعید بن عاص رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابان بن سعید بن عاص رضی اللہ عنہما کو مدینہ سے نجد کی طرف ایک سریہ کا سردار بنا کر بھیجا تو ابان بن سعید رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اس وقت آئے جب کہ آپ خیبر فتح کر چکے تھے، ان کے گھوڑوں کے زین کھجور کی چھال کے تھے، تو ابان نے کہا: اللہ کے رسول! ہمارے لیے بھی حصہ لگائیے، ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے: ہیں اس پر میں نے کہا: اللہ کے رسول! ان کے لیے حصہ نہ لگائیے، ابان نے کہا: تو ایسی باتیں کرتا ہے اے وبر! جو ابھی ہمارے پاس ضال پہاڑ کی چوٹی سے اتر کے آ رہا ہے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ابان تم بیٹھ جاؤ ، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا حصہ نہیں لگایا۔
Abu Hurairah said:
“I came to Madeenah when the Abu Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم was in Khaibar, after it was captured. I asked him to give me a share from the booty. A son of Saeed bin Al ‘As spoke and said “Do not give him any share, Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم. I said “This is the killer of Ibn Qauqal. ” (The son of) Saeed bin Al ‘As رضی اللہ عنہ said “Oh, how wonderful! A Wabr who came down to us from the peak of Dal blames me of having killed a Muslim whom Allah honored at my hands and did not disgrace me at his hands. Abu Dawud said “They were about ten persons. Six of them were killed and the remaining returned.
ہم سے حمید بن یحییٰ بلخی نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا، کہا ہم سے الزہری نے بیان کیا، ان سے اسماعیل بن امیہ نے، اور ہم سے زہری نے بیان کیا کہ میں نے عنباسہ بن سعید القرشی رضی اللہ عنہ سے سنا، ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
میں مدینہ اس وقت آیا جب خیبر فتح ہوا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خیبر میں تھے، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے درخواست کی کہ مجھے بھی حصہ دیجئیے تو سعید بن عاص رضی اللہ عنہ کے لڑکوں میں سے کسی نے کہا: اللہ کے رسول! اسے حصہ نہ دیجئیے، تو میں نے کہا: ابن قوقل کا قاتل یہی ہے، تو سعید بن عاص رضی اللہ عنہ نے کہا: تعجب ہے ایک وبر پر جو ہمارے پاس ضال کی چوٹی سے اتر کر آیا ہے مجھے ایک مسلمان کے قتل پر عار دلاتا ہے جسے اللہ نے میرے ہاتھوں عزت دی اور اس کے ہاتھ سے مجھ کو ذلیل نہیں کیا ۲؎۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ لوگ نو یا دس افراد تھے جن میں سے چھ شہید کر دیئے گئے اور باقی واپس آئے۔
Abu Musa رضی اللہ عنہ said:
“We arrived just at the moment when the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم conquered Khaibar and he allotted us a portion (or he said he gave us some of it). He allotted nothing to anyone who was not present at the conquest of Khaybar, giving shares only to those who were present with him except for those who were in our ship, Jafar رضی اللہ عنہ and his companions to whom he gave (a portion) something along with them.
ہم سے محمد بن العلاء نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ابو اسامہ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے بریدد نے ابو بردہ کی سند سے بیان کیا, ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
ہم ( حبشہ سے ) آئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے فتح خیبر کے موقع پر ملے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( مال غنیمت سے ) ہمارے لیے حصہ لگایا، یا ہمیں اس میں سے دیا، اور جو فتح خیبر میں موجود نہیں تھے انہیں کچھ بھی نہیں دیا سوائے ان کے جو آپ کے ساتھ حاضر اور خیبر کی فتح میں شریک تھے، البتہ ہماری کشتی والوں کو یعنی جعفر رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھیوں کو ان سب کے ساتھ حصہ دیا ۔
Narrated Abdullah Ibn Umar رضی اللہ عنہما :
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم stood up, i.e. on the day of Badr, and said: Uthman has gone off on the business of Allah and His Messenger, and I shall take the oath of allegiance on his behalf. The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم then allotted him a share, but did not do so for anyone else who was absent.
ہم سے محبوب بن موسیٰ ابو صالح نے بیان کیا، ہمیں ابواسحاق الفزاری نے کلیب بن وائل سے، ہانی بن قیس سے، حبیب بن ابی ملیکہ کی سند سے, عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے یعنی بدر کے دن اور فرمایا: بیشک عثمان اللہ اور اس کے رسول کی ضرورت سے رہ گئے ہیں اور میں ان کی طرف سے بیعت کرتا ہوں ، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لیے حصہ مقرر کیا اور ان کے علاوہ کسی بھی غیر موجود شخص کو نہیں دیا۔
Narrated Yazid Ibn Hurmuz said:
Najdah wrote to Ibn Abbas رضی اللہ عنہما asking him about such-and-such, and such-and-such, and he mentioned some things; he (asked) about a slave whether he would get something from the spoils; and he (asked) about women whether they used to go out (on expeditions) along with the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم, and whether they would be allotted a share, Ibn Abbas رضی اللہ عنہما said: Had I not apprehended a folly, I would not have written (a reply) to him. As for the slave, he was given a little of the spoils (as a reward from the booty); as to the women, they would treat the wounded and supply water.
ہم سے محبوب بن موسیٰ ابوصالح نے بیان کیا، ہم سے ابواسحاق الفزاری نے بیان کیا، وہ زیدہ کی سند سے، العمش کی سند سے، وہ مختار بن صیفی کی سند سے, یزید بن ہرمز کہتے ہیں کہ
نجدہ نے ابن عباس رضی اللہ عنہما کو خط لکھا وہ ان سے فلاں فلاں چیزوں کے بارے میں پوچھ رہے تھے اور بہت سی چیزوں کا ذکر کیا اور غلام کے بارے میں کہ ( اگر جہاد میں جائے ) تو کیا غنیمت میں اس کو حصہ ملے گا؟ اور کیا عورتیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جہاد میں جاتی تھیں؟ کیا انہیں حصہ ملتا تھا؟ تو ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: اگر مجھے اس بات کا ڈر نہ ہوتا کہ وہ احمقانہ حرکت کرے گا تو میں اس کو جواب نہ لکھتا ( پھر انہوں نے اسے لکھا: ) رہے غلام تو انہیں بطور انعام کچھ دے دیا جاتا تھا، ( اور ان کا حصہ نہیں لگتا تھا ) اور رہیں عورتیں تو وہ زخمیوں کا علاج کرتیں اور پانی پلاتی تھیں۔
Yazid bin Humruz said:
“Najdah Al Hururi wrote to Ibn Abbas رضی اللہ عنہما asking him whether the women participated in battle along with the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم and whether they were allotted a share from the spoils. I (Yazid bin Hurmuz) wrote a letter on behalf of Ibn Abbas رضی اللہ عنہما to Najdah. They participated in the battle along with the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم, but no portion (from the spoils) was allotted to them, they were given only a little of it.
ہم سے محمد بن یحییٰ بن فارس نے بیان کیا: ہم سے احمد بن خالد، یعنی الوہبی نے بیان کیا, ہم سے ابن اسحاق نے ابو جعفر اور الزہری کی سند سے بیان کیا, یزید بن ہرمز کہتے ہیں کہ
نجدہ حروری نے ابن عباس رضی اللہ عنہما کو لکھا، وہ عورتوں کے متعلق آپ سے پوچھ رہا تھا کہ کیا وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جنگ میں جایا کرتی تھیں؟ اور کیا آپ ان کے لیے حصہ متعین کرتے تھے؟ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کا خط میں نے ہی نجدہ کو لکھا کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جنگ میں حاضر ہوتی تھیں، رہی ان کے لیے حصہ کی بات تو ان کا کوئی حصہ مقرر نہیں ہوتا تھا البتہ انہیں کچھ دے دیا جاتا تھا۔
Narrated Hashraj ibn Ziyad reported on the authority of his grandmother:
She went out with the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم for the battle of Khaybar. They were six in number including herself. (She said): When the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم was informed about it, he sent for us. We came to him, and found him angry. He said: With whom did you come out, and by whose permission did you come out? We said: Messenger of Allah, we have come out to spin the hair, by which we provide aid in the cause of Allah. We have medicine for the wounded, we hand arrows (to the fighters), and supply drink made of wheat or barley. He said: Stand up. When Allah bestowed victory of Khaybar on him, he allotted shares to us from spoils that he allotted to the men. He (Hashraj ibn Ziyad) said: I said to her: Grandmother, what was that? She replied: Dates.
ہم سے ابراہیم بن سعید اور دیگر نے بیان کیا، ہمیں زید بن حباب نے خبر دی، ہمیں رافع بن سلمہ بن زیاد نے خبر دی، انہیں حشرج بن زیاد اپنی دادی (ام زیاد اشجعیہ) سے روایت کرتے ہیں کہ
وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ خیبر کی جنگ میں نکلیں، یہ چھ عورتوں میں سے چھٹی تھیں، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات پہنچی تو آپ نے ہمیں بلا بھیجا، ہم آئے تو ہم نے آپ کو ناراض دیکھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: تم کس کے ساتھ نکلیں؟ اور کس کے حکم سے نکلیں؟ ہم نے کہا: اللہ کے رسول! ہم نکل کر بالوں کو بٹ رہی ہیں، اس سے اللہ کی راہ میں مدد پہنچائیں گے، ہمارے پاس زخمیوں کی دوا ہے، اور ہم مجاہدین کو تیر دیں گے، اور ستو گھول کر پلائیں گے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اچھا چلو یہاں تک کہ جب خیبر فتح ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں بھی ویسے ہی حصہ دیا جیسے کہ مردوں کو دیا، حشرج بن زیاد کہتے ہیں: میں نے ان سے پوچھا: دادی! وہ حصہ کیا تھا؟ تو وہ کہنے لگیں: کچھ کھجوریں تھیں ۔
Narrated Umayr, client of AbulLahm:
I was present at Khaybar along with my masters who spoke about me to the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم. He ordered about me, and a sword was girded on me and I was trailing it. He was then informed that I was a slave. He, therefore, ordered that I should be given some inferior goods. Abu Dawud said: This means that he (the Prophet) did not allot a portion of the spoils. Abu Dawud said: Abu Ubaid said: As he (the narrator Abi al-Lahm) made eating meat unlawful on himself, he was called Abi al-Lahm (one who hates meat).
ہم سے احمد بن حنبل نے بیان کیا، ہم سے بشر یعنی ابن المفضل نے بیان کیا, محمد بن زیاد کہتے ہیں کہ مجھ سے عمیر مولی آبی اللحم نے بیان کیا وہ کہتے ہیں کہ
میں جنگ خیبر میں اپنے مالکوں کے ساتھ گیا، انہوں نے میرے سلسلے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے گفتگو کی تو آپ نے مجھے ( ہتھیار پہننے اور مجاہدین کے ساتھ رہنے کا ) حکم دیا، چنانچہ میرے گلے میں ایک تلوار لٹکائی گئی تو میں اسے ( اپنی کم سنی اور کوتاہ قامتی کی وجہ سے زمین پر ) گھسیٹ رہا تھا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا گیا کہ میں غلام ہوں تو آپ نے مجھے گھر کے سامانوں میں سے کچھ سامان دیئے جانے کا حکم دیا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لیے حصہ مقرر نہیں کیا، ابوداؤد کہتے ہیں: انہوں ( آبی اللحم ) نے اپنے اوپر گوشت حرام کر لیا تھا، اسی وجہ سے ان کا نام آبی اللحم رکھ دیا گیا۔
Narrated Jabir رضی اللہ عنہ :
I supplied water to my companions on the day of Badr.
ہم سے سعید بن منصور نے بیان کیا، ہم سے ابو معاویہ نے بیان کیا، انہوں نے العمش کی سند سے اور ابو سفیان کی سند سے, جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
میں بدر کے دن ( پانی کم ہونے کی وجہ سے ) صحابہ کے لیے چلو سے پانی کا ڈول بھر رہا تھا۔
Aishah رضی اللہ عنہا said (this is the version of narrator Yahya):
A man from the polytheists accompanied the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم to fight along with him. He said “Go back. Both the narrators (Musaddad and Yahya) then agreed. The Prophet said “We do not want any help from a polytheist. ”
ہم سے مسدد اور یحییٰ بن معین نے بیان کیا: ہم سے یحییٰ نے مالک کی سند سے، فضیل کی سند سے، عبداللہ بن نیار سے، عروہ کی سند سے, ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ
مشرکوں میں سے ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے آ کر ملا تاکہ آپ کے ساتھ مل کر لڑائی کرے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لوٹ جاؤ، ہم کسی مشرک سے مدد نہیں لیتے ۔
Ibn Umar رضی اللہ عنہما said:
“The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم allotted three portions for a man and his horse, one for him and two for his horse.
ہم سے احمد بن حنبل نے بیان کیا، ہم سے ابو معاویہ نے بیان کیا، ہم سے عبید اللہ نے نافع کی سند سے بیان کیا, عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آدمی اور اس کے گھوڑے کو تین حصہ دیا: ایک حصہ اس کا اور دو حصہ اس کے گھوڑے کا۔
Narrated Abu Umrah (al-Ansari) رضی اللہ عنہ :
We four persons, came to the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم, and we (i.e. each one of us) had horses. He therefore, allotted one portion for each of us, and two portions for his horse.
ہم سے احمد بن حنبل نے بیان کیا، کہا ہم سے ابو معاویہ نے بیان کیا، کہا ہم سے عبداللہ بن یزید نے بیان کیا، مجھ سے مسعودی نے بیان کیا, ابو عمرہ کے والد عبدالرحمٰن بن ابی عمرہ انصاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
ہم چار آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور ہمارے ساتھ ایک گھوڑا تھا، تو آپ نے ہم میں سے ہر آدمی کو ایک ایک حصہ دیا، اور گھوڑے کو دو حصے دئیے۔
The tradition mentioned above has also been transmitted by Abu ‘Umrah through a different chain of narrators to the same effect:
But this version has “Three Persons” and added “To the horseman three portions. ”
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے امیہ بن خالد نے بیان کیا، کہا ہم سے مسعودی نے بیان کیا، ان کے خاندان کے ایک آدمی کی سند سے,اس سند سے بھی ابو عمرہ سے اسی حدیث کے ہم معنی مروی ہے
مگر اس میں یہ ہے کہ ہم تین آدمی تھے اور اس میں یہ اضافہ ہے کہ سوار کو تین حصے ملے تھے۔
Narrated Mujammi Ibn Jariyah al-Ansari رضی اللہ عنہ :
He was one of the Quran-reciters (qaris), and he said: We were present with the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم at al-Hudaybiyyah. When we returned, the people were driving their camels quickly. The people said to one another: What is the matter with them? They said: Revelation has come down to the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم. We also proceeded with the people, galloping (our camels). We found the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم standing on his riding-animal at Kura' al-Ghamim. When the people gathered near him, he recited: Verily We have granted thee a manifest victory. A man asked: Is this a victory, Messenger of Allah? He replied: Yes. By Him in Whose hands the soul of Muhammad is, this is a victory. Khaybar was divided among those who had been at al-Hudaybiyyah, and the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم divided it into eighteen portions. The army consisted of one thousand five hundred men, of which three hundred were cavalry, and he gave two shares to a horseman and one to a foot-soldier. Abu Dawud said: Abu Muawiyah's tradition is sounder, and it is one which is followed. I think the error is in the tradition of Mujammi, because he said: three hundred horsemen. when there were only two hundred.
ہم سے محمد بن عیسیٰ نے بیان کیا، ہم سے معظمہ بن یعقوب بن مجمع بن یزید الانصاری نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ میں نے ابو یعقوب بن مجمع کو اپنے چچا عبدالرحمٰن بن یزید الانصاری سے ذکر کرتے ہوئے سنا, مجمع بن جاریہ انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے
اور وہ ان قاریوں میں سے ایک تھے جو قرآت قرآن میں ماہر تھے، وہ کہتے ہیں: ہم صلح حدیبیہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے، جب ہم وہاں سے واپس لوٹے تو لوگ اپنی سواریوں کو حرکت دے رہے تھے، بعض نے بعض سے کہا: لوگوں کو کیا ہو گیا ہے؟ لوگوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف وحی کی گئی ہے تو ہم بھی لوگوں کے ساتھ ( اپنی سواریوں ) کو دوڑاتے اور ایڑ لگاتے ہوئے نکلے، ہم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی سواری پر کراع الغمیم کے پاس کھڑا پایا جب سب لوگ آپ کے پاس جمع ہو گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے «إنا فتحنا لك فتحا مبينا» پڑھی، تو ایک شخص نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا یہی فتح ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں، قسم اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، یہی فتح ہے ، پھر خیبر کی جنگ میں جو مال آیا وہ صلح حدیبیہ کے لوگوں پر تقسیم ہوا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس مال کے اٹھارہ حصے کئے اور لشکر کے لوگ سب ایک ہزار پانچ سو تھے جن میں تین سو سوار تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سواروں کو دو حصے دئیے اور پیدل والوں کو ایک حصہ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: ابومعاویہ کی حدیث ( نمبر ۲۷۳۳ ) زیادہ صحیح ہے اور اسی پر عمل ہے، اور میرا خیال ہے مجمع کی حدیث میں وہم ہوا ہے انہوں نے کہا ہے: تین سو سوار تھے حالانکہ دو سو سوار تھے ۔