Narrated Al-Muhallab Ibn Abu Sufrah said:
A man who heard the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم say: If the enemy attacks you at night, let your war cry be Ha-Mim. They will not be helped.
ہم سے محمد بن کثیر نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا، ابواسحاق سے, مہلب بن ابی صفرہ کہتے ہیں کہ
مجھے اس شخص نے خبر دی ہے جس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: اگر دشمن تمہارے اوپر شب خون ماریں تو تمہارا شعار ( کوڈ ) «حم لا ينصرون» ہونا چاہیئے ۔
Narrated Abu Hurairah رضی اللہ عنہ :
When the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم proceeded on journey, he would say: O Allah, Thou art the Companion in the journey, and the One Who looks after the family; O Allah, I seek refuge in Thee from the difficulty of travelling, finding harm when I return, and unhappiness in what I see coming to my family and property. O Allah, make the length of his journey short for us, and the journey easy for us.
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے محمد بن عجلان نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے سعید مقبری نے بیان کیا, ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم جب سفر کرتے تو یہ دعا پڑھتے: «اللهم أنت الصاحب في السفر والخليفة في الأهل اللهم إني أعوذ بك من وعثاء السفر وكآبة المنقلب وسوء المنظر في الأهل والمال اللهم اطو لنا الأرض وهون علينا السفر» اے اللہ! تو ( میرے ) سفر کا رفیق اور گھر والوں کے لیے میرا قائم مقام ہے، اے اللہ! میں تجھ سے سفر کی پریشانیوں سے اور غمگین و ناکام ہو کر لوٹنے سے اور لوٹ کر اہل اور مال میں برے منظر ( دیکھنے سے ) سے پناہ مانگتا ہوں، اے اللہ! ہمارے لیے زمین کو لپیٹ دے اور ہم پر سفر آسان کر دے ۔
Narrated Abdullah Ibn Umar رضی اللہ عنہما :
When the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم sat on his camel to go out on a journey, he said: Allah is Most Great three times. Then he said: Glory be to Him Who has made subservient to us, for we had not the strength for it, and to our Lord do we return. O Allah, we ask Thee in this journey of ours, uprightness, piety and such deeds as are pleasing to Thee. O Allah, make easy for us this journey of ours and make its length short for us. O Allah, Thou art the Companion in the journey, and the One Who looks after the family and property in our absence. When he returned, he said these words adding: Returning, repentant, serving and praising our Lord. The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم and his armies said: Allah is Most Great when they went up to high ground; and when armies said: Allah is most Great when they went up to high ground; and when they descended, they said: Glory be to Allah. So the prayer was patterned on that.
ہم سے حسن بن علی نے بیان کیا، کہا ہم سے عبد الرزاق نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ابن جریج نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے ابو الزبیر نے بیان کیا, علی ازدی کہتے ہیں کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے انہیں سکھایا کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سفر میں جانے کے لیے جب اپنے اونٹ پر سیدھے بیٹھ جاتے تو تین بار اللہ اکبر فرماتے، پھر یہ دعا پڑھتے: «{ سبحان الذي سخر لنا هذا وما كنا له مقرنين * وإنا إلى ربنا لمنقلبون } اللهم إني أسألك في سفرنا هذا البر والتقوى ومن العمل ما ترضى اللهم ہوں علينا سفرنا هذا اللهم اطو لنا البعد اللهم أنت الصاحب في السفر والخليفة في الأهل والمال» پاک ہے وہ اللہ جس نے اس ( سواری ) کو ہمارے تابع کر دیا جب کہ ہم اس کو قابو میں لانے والے نہیں تھے، اور ہمیں اپنے رب ہی کی طرف پلٹ کر جانا ہے، اے اللہ! میں اپنے اس سفر میں تجھ سے نیکی اور تقویٰ اور پسندیدہ اعمال کا سوال کرتا ہوں، اے اللہ! ہمارے اس سفر کو ہمارے لیے آسان فرما دے، اے اللہ! ہمارے لیے مسافت کو لپیٹ دے، اے اللہ! تو ہی رفیق سفر ہے، اور تو ہی اہل و عیال اور مال میں میرا قائم مقام ہے ، اور جب سفر سے واپس لوٹتے تو مذکورہ دعا پڑھتے اور اس میں اتنا اضافہ کرتے: «آيبون تائبون عابدون لربنا حامدون» ہم امن و سلامتی کے ساتھ سفر سے لوٹنے والے، اپنے رب سے توبہ کرنے والے، اس کی عبادت اور حمد و ثنا کرنے والے ہیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے لشکر کے لوگ جب چڑھائیوں پر چڑھتے تو اللہ اکبر کہتے، اور جب نیچے اترتے تو سبحان اللہ کہتے، پھر نماز بھی اسی قاعدہ پر رکھی گئی ۱؎۔
Qaza’ah said:
Ibn Umar رضی اللہ عنہما told me “Come, I see off you as the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم saw me off. I entrust to Allah your religion what you are responsible for and your final deeds. ”
ہم سے مسدد نے بیان کیا، ہم سے عبداللہ بن داؤد نے بیان کیا، ان سے عبدالعزیز بن عمر نے، وہ اسماعیل بن جریر کی سند سے, قزعہ کہتے ہیں کہ
مجھ سے ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: آؤ میں تمہیں اسی طرح رخصت کروں جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے رخصت کیا تھا: «أستودع الله دينك وأمانتك وخواتيم عملك» میں تمہارے دین، تمہاری امانت اور تمہارے انجام کار کو اللہ کے سپرد کرتا ہوں ۔
Narrated Abdullah al-Khutami رضی اللہ عنہ :
When the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم wanted to say farewell to an army, he would say: I entrust to Allah your religion, what you are responsible for, and your final deeds.
ہم سے حسن بن علی نے بیان کیا، ہم سے یحییٰ بن اسحاق السیلحینی نے بیان کیا، ہم سے حماد بن سلمہ نے، ابو جعفر الخطمی سے، محمد بن کعب کی سند سے, عبداللہ خطمی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب لشکر کو رخصت کرنے کا ارادہ کرتے تو فرماتے: «أستودع الله دينكم وأمانتكم وخواتيم أعمالكم» میں تمہارے دین، تمہاری امانت اور تمہارے انجام کار کو اللہ کے سپرد کرتا ہوں ۔
Narrated Ali Ibn Rabiah رضی اللہ عنہ said:
I was present with Ali رضی اللہ عنہ while a beast was brought to him to ride. When he put his foot in the stirrup, he said: In the name of Allah. Then when he sat on its back, he said: Praise be to Allah. He then said: Glory be to Him Who has made this subservient to us, for we had not the strength, and to our Lord do we return. He then said: Praise be to Allah (thrice); Allah is Most Great (thrice): glory be to Thee, I have wronged myself, so forgive me, for only Thou forgivest sins. He then laughed. He was asked: At what did you laugh? He replied: I saw the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم do as I have done, and laugh after that. I asked: Messenger of Allah, at what are you laughing? He replied: Your Lord, Most High, is pleased with His servant when he says: Forgive me my sins. He know that no one forgives sins except Him.
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے ابو الاحواص نے بیان کیا، کہا ہم سے ابواسحاق ہمدانی نے بیان کیا, علی بن ربیعہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
میں علی رضی اللہ عنہ کے پاس حاضر ہوا، آپ کے لیے ایک سواری لائی گئی تاکہ اس پر سوار ہوں، جب آپ نے اپنا پاؤں رکاب میں رکھا تو «بسم الله» کہا، پھر جب اس کی پشت پر ٹھیک سے بیٹھ گئے تو «الحمد الله» کہا، اور«سبحان الذي سخر لنا هذا وما كنا له مقرنين * وإنا إلى ربنا لمنقلبون» کہا، پھر تین مرتبہ «الحمد الله» کہا، پھر تین مرتبہ«الله اكبر» کہا، پھر «سبحانك إني ظلمت نفسي فاغفر لي فإنه لا يغفر الذنوب إلا أنت» کہا، پھر ہنسے، پوچھا گیا: امیر المؤمنین! آپ کیوں ہنس رہے ہیں؟ تو انہوں نے کہا: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ نے ایسے ہی کیا جیسے کہ میں نے کیا پھر آپ ہنسے تو میں نے پوچھا: اللہ کے رسول! آپ کیوں ہیں ہنس رہے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تیرا رب اپنے بندے سے خوش ہوتا ہے جب وہ کہتا ہے: میرے گناہوں کو بخش دے وہ جانتا ہے کہ گناہوں کو میرے علاوہ کوئی نہیں بخش سکتا ہے ۔
Narrated Abdullah Ibn Amr رضی اللہ عنہما :
When the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم was travelling and night came on, he said: O earth, my Lord and your Lord is Allah; I seek refuge in Allah from your evil, the evil of what you contain, the evil of what has been created in you, and the evil of what creeps upon you; I seek refuge in Allah from lions, from large black snakes, from other snakes, from scorpions, from the evil of jinn which inhabit a settlement, and from a parent and his offspring.
ہم سے عمرو بن عثمان نے بیان کیا، ہم سے بقیہ نے بیان کیا، مجھ سے صفوان نے بیان کیا، مجھ سے شریح بن عبید نے بیان کیا، وہ زبیر بن ولید کی سند سے, عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب سفر کرتے اور رات ہو جاتی تو فرماتے: «يا أرض ربي وربك الله أعوذ بالله من شرك وشر ما فيك وشر ما خلق فيك ومن شر ما يدب عليك وأعوذ بالله من أسد وأسود ومن الحية والعقرب ومن ساكن البلد ومن والد وما ولد» اے زمین! میرا اور تیرا رب اللہ ہے، میں اللہ کی پناہ چاہتا ہوں تیرے شر سے اور اس چیز کے شر سے جو تجھ میں ہے اور اس چیز کے شر سے جو تجھ میں پیدا کی گئی ہے اور اس چیز کے شر سے جو تجھ پر چلتی ہے اور اللہ کی پناہ چاہتا ہوں شیر اور کالے ناگ سے اور سانپ اور بچھو سے اور زمین پر رہنے والے ( انسانوں اور جنوں ) کے شر سے اور جننے والے کے شر اور جس چیز کو جسے اس نے جنا ہے اس کے شر سے ۔
Jabir bin Abdullah رضی اللہ عنہ reported:
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم as saying “Do not send out your beasts when the sun has set till the darkness of the night prevails, for the devils grope about in the dark when the sun has set till the darkness of the night prevails. ”
ہم سے احمد بن ابی شعیب حرانی نے بیان کیا، ہم سے زہیر نے بیان کیا، ہم سے ابو الزبیر نے بیان کیا، جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب سورج ڈوب جائے تو اپنے جانوروں کو نہ چھوڑو یہاں تک کہ رات کی ابتدائی سیاہی چلی جائے، کیونکہ شیاطین سورج ڈوبنے کے بعد فساد مچاتے ہیں یہاں تک کہ رات کی ابتدائی سیاہی چلی جائے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: «فواشی» ہر شیٔ کا وہ حصہ ہے جو پھیل جائے۔
Narrated Kab Ibn Malik رضی اللہ عنہ :
It was rarely that the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم set out on a journey on any day but on a Thursday.
ہم سے سعید بن منصور نے بیان کیا، کہا ہم سے عبداللہ بن مبارک نے بیان کیا، ان سے یونس بن یزید نے، وہ زہری کی سند سے، انہوں نے عبدالرحمٰن بن کعب بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
بہت کم ایسا ہوتا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جمعرات کے علاوہ کسی اور دن سفر میں نکلیں ( یعنی آپ اکثر جمعرات ہی کو نکلتے تھے ) ۔
Narrated Sakhr al-Ghamidi رضی اللہ عنہ :
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم said: O Allah, bless my people in their early mornings. When he sent out a detachment or an army, he sent them at the beginning of the day. Sakhr was a merchant, and he would send off his merchandise at the beginning of the day; and he became rich and had much wealth. Abu Dawud said: He is Sakhr bin Wada'ah.
ہم سے سعید بن منصور نے بیان کیا، ہم سے ہشام نے بیان کیا، ہم سے یعلیٰ بن عطاء نے بیان کیا، ہم سے عمرہ بن حدید نے بیان کیا،صخر غامدی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «اللهم بارك لأمتي في بكورها» اے اللہ! میری امت کے لیے دن کے ابتدائی حصہ میں برکت دے اور جب بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کوئی سریہ یا لشکر بھیجتے، تو دن کے ابتدائی حصہ میں بھیجتے۔ ( عمارہ کہتے ہیں ) صخر ایک تاجر آدمی تھے، وہ اپنی تجارت صبح سویرے شروع کرتے تھے تو وہ مالدار ہو گئے اور ان کا مال بہت ہو گیا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: صخر سے مراد صخر بن وداعہ ہیں۔
Narrated Amr bin Shu'aib from his father:
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم said: A single rider is a devil, and a pair of riders are a pair of devils, but three are a company of riders.
ہم سے عبداللہ بن مسلمہ القعْنبی نے مالک کی سند سے، عبدالرحمٰن بن حرملہ سے، عمرو بن شعیب سے، اپنے والد سے، اپنے دادا سے، انہوں نے کہا
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایک سوار شیطان ہے اور دو سوار دو شیطان ہیں، اور تین سوار قافلہ ہیں ۔
Narrated Abu Saeed al-Khudri رضی اللہ عنہ :
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم said: When three are on a journey, they should appoint one of them as their commander.
ہم سے علی بن بحر بن بری نے بیان کیا، ہم سے حاتم بن اسماعیل نے بیان کیا، ہم سے محمد بن عجلان نے، نافع کی سند سے، ابو سلمہ رضی اللہ عنہ سے, ابو سعید خدری ے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تین افراد کسی سفر میں ہوں تو ہوئے کہ اپنے میں سے کسی ایک کو امیر بنا لیں ۔
Narrated Abu Hurairah رضی اللہ عنہ :
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم said: When three are on a journey, they should appoint one of them as their commander. Nafi said: We said to Abu Salamah: You are our commander.
ہم سے علی بن بحر نے بیان کیا، ہم سے حاتم بن اسماعیل نے بیان کیا، ہم سے محمد بن عجلان نے، نافع کی سند سے، ابو سلمہ رضی اللہ عنہ سے, ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تین افراد کسی سفر میں ہوں تو ان میں سے کسی کو امیر بنا لیں ، نافع کہتے ہیں: تو ہم نے ابوسلمہ سے کہا: آپ ہمارے امیر ہیں۔
Abdullah bin Umar رضی اللہ عنہما said
“The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم prohibited to travel with a copy of the Quran to the enemy territory. The narrator Malik said “ (It is) I think lest the enemy should take it.
ہم سے عبداللہ بن مسلمہ القعْنبی نے مالک کی سند سے بیان کیا, نافع سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قرآن کو دشمن کی سر زمین میں لے کر سفر کرنے سے منع فرمایا ہے، مالک کہتے ہیں: میرا خیال ہے اس واسطے منع کیا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ دشمن اسے پا لے ۔
Narrated Abdullah Ibn Abbas رضی اللہ عنہما :
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم said: The best number of companions is four, the best number in expeditions four hundred, and the best number in armies four thousand; and twelve thousand will not be overcome through smallness of numbers. Abu Dawud said: What is correct is that this tradition is mursal (i.e. the link of the Companion is missing).
ہم سے زہیر بن حرب ابو خیثمہ نے بیان کیا، کہا ہم سے وہب بن جریر نے بیان کیا، کہا ہم سے میرے والد نے بیان کیا، انہوں نے کہا: میں نے یونس کو زہری سے، وہ عبید اللہ بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے سنا, ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بہتر ساتھی وہ ہیں جن کی تعداد چار ہو ، اور چھوٹی فوج میں بہتر فوج وہ ہے جس کی تعداد چار سو ہو، اور بڑی فوجوں میں بہتر وہ فوج ہے جس کی تعداد چار ہزار ہو، اور بارہ ہزار کی فوج قلت تعداد کی وجہ سے ہرگز مغلوب نہیں ہو گی ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: صحیح یہ ہے کہ یہ مرسل ہے۔
Sulaiman bin Buraidah رضی اللہ عنہ reported on the authority of his father:
When the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم appointed a Commander over an Army or a detachment, he instructed him to fear Allah himself and consider the welfare of the Muslims who were with him. He then said “When you meet the polytheists who are your enemy, summon them tone of three things and accept whichever of them they are willing to agree to, and refrain from them. Summon them to Islam and if they agree, accept it from them and refrain from them. Then summon them to leave their territory and transfer to the abode of the Emigrants and tell them that if they do so, they will have the same rights and responsibilities as the Emigrants, but if they refuse and choose their own abode, tell them that they will be like the desert Arabs who are Muslims subject to Allah’s jurisdiction which applies to the believers, but will have no spoil or booty unless they strive with the Muslims. If they refuse demand jizyah (poll tax) from them, if they agree accept it from them and refrain from them. But if they refuse, seek Allah’s help and fight with them. When you invade the fortress and they (its people) offer to capitulate and have the matter referred to Allah’s jurisdiction, do not grant this, for you do not know whether or not you will hit on Allah’s jurisdiction regarding them. But let them capitulate and have the matter refereed to your jurisdiction and make a decision about them later on as you wish. Sufyan (bin ‘Uyainah) said thah Alqamah said “I mentioned this tradition to Muqatil bin Habban, He said “Muslim narrated it to me. ” Abu Dawud said “He is Ibn Haidam narrated from Al Numan in Muqqarin رضی اللہ عنہ from the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم like the tradition of Sulaiman bin Buraidah.
ہم سے محمد بن سلیمان الانباری نے بیان کیا، ہم سے وکیع نے، سفیان کی سند سے، ان سے علقمہ بن مرثد نے، سلیمان بن بریدہ رضی اللہ عنہسے، اپنے والد سے، انہوں نے کہا
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی لشکر یا سریہ کا کسی کو امیر بنا کر بھیجتے تو اسے اپنے نفس کے بارے میں اللہ کے تقویٰ کی وصیت کرتے، اور جو مسلمان اس کے ساتھ ہوتے ان کے ساتھ بھلائی کرنے کا حکم دیتے، اور فرماتے: جب تم اپنے مشرک دشمنوں کا سامنا کرنا تو انہیں تین چیزوں کی دعوت دینا، ان تینوں میں سے جس چیز کو وہ مان لیں تم ان سے اسے مان لینا اور ان سے رک جانا، ( سب سے پہلے ) انہیں اسلام کی جانب بلانا، اگر تمہاری اس دعوت کو وہ لوگ تسلیم کر لیں تو تم اسے قبول کر لینا اور ان سے لڑائی کرنے سے رک جانا، پھر انہیں اپنے وطن سے مہاجرین کے وطن کی طرف ہجرت کرنے کا حکم دینا، اور انہیں یہ بتانا کہ اگر وہ ایسا کریں گے تو ان کے لیے وہی چیز ہو گی جو مہاجرین کے لیے ہو گی، اور ان کے وہی فرائض ہوں گے، جو مہاجرین کے ہیں، اور اگر وہ انکار کریں اور اپنے وطن ہی میں رہنا چاہیں تو انہیں بتانا کہ وہ دیہاتی مسلمانوں کی طرح ہوں گے، ان پر اللہ کا وہی حکم چلے گا جو عام مسلمانوں پر چلتا ہے، اور فے اور مال غنیمت میں ان کا کوئی حصہ نہ ہو گا، الا یہ کہ وہ مسلمانوں کے ساتھ جہاد کریں، اور اگر وہ اسلام لانے سے انکار کریں تو انہیں جزیہ کی ادائیگی کی دعوت دینا، اگر وہ لوگ جزیہ کی ادائیگی قبول کر لیں تو ان سے اسے قبول کر لینا اور جہاد کرنے سے رک جانا، اور اگر وہ جزیہ بھی دینے سے انکار کریں تو اللہ سے مدد طلب کرنا، اور ان سے جہاد کرنا، اور اگر تم کسی قلعہ والے کا محاصرہ کرنا اور وہ چاہیں کہ تم ان کو اللہ کے حکم پر اتارو، تو تم انہیں اللہ کے حکم پر مت اتارنا، اس لیے کہ تم نہیں جانتے ہو کہ اللہ ان کے سلسلے میں کیا فیصلہ کرے گا، لیکن ان کو اپنے حکم پر اتارنا، پھر اس کے بعد ان کے سلسلے میں تم جو چاہو فیصلہ کرنا ۔ سفیان بن عیینہ کہتے ہیں: علقمہ کا کہنا ہے کہ میں نے یہ حدیث مقاتل بن حیان سے ذکر کی تو انہوں نے کہا: مجھ سے مسلم نے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: وہ ابن ہیصم ہیں، بیان کیا انہوں نے نعمان بن مقرن رضی اللہ عنہ سے اور نعمان رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سلیمان بن بریدہ کی حدیث کے مثل روایت کیا۔
Sulaiman bin Buraidah رضی اللہ عنہ reported on his father’s authority:
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم said “Fight in the name of Allaah and in the path of Allaah and with him who disbelieves in Allaah fight and do not be treacherous and do not be dishonest about boot yand do not deface (in killing) and do not kill a child. ”
ہم سے ابوصالح الانتقی محبوب بن موسیٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے ابواسحاق الفزاری نے بیان کیا، انہوں نے سفیان کی سند سے، وہ علقمہ بن مرثد سے، سلیمان بن بریدہ رضی اللہ عنہ نے اپنے والد سے
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ کے نام سے اور اللہ کے راستے میں غزوہ کرو اور اس شخص سے جہاد کرو جو اللہ کا انکار کرے، غزوہ کرو، بدعہدی نہ کرو، خیانت نہ کرو، مثلہ نہ کرو، اور کسی بچہ کو قتل نہ کرو ۔
Narrated Anas Ibn Malik رضی اللہ عنہ :
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم said: Go in Allah's name, trusting in Allah, and adhering to the religion of Allah's Messenger. Do not kill a decrepit old man, o a young infant, or a child, or a woman; do not be dishonest about booty, but collect your spoils, do right and act well, for Allah loves those who do well.
ہم سے عثمان بن ابی شیبہ نے بیان کیا، ہم سے یحییٰ بن آدم اور عبید اللہ بن موسیٰ نے بیان کیا، ان سے حسن بن صالح نے، وہ خالد بن الفجر رضی اللہ عنہ سے, انس بن مالک رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( مجاہدین کو رخصت کرتے وقت ) فرمایا: تم لوگ اللہ کے نام سے، اللہ کی تائید اور توفیق کے ساتھ، اللہ کے رسول کے دین پر جاؤ، اور بوڑھوں کو جو مرنے والے ہوں نہ مارنا، نہ بچوں کو، نہ چھوٹے لڑکوں کو، اور نہ ہی عورتوں کو، اور غنیمت میں خیانت نہ کرنا، اور غنیمت کے مال کو اکٹھا کر لینا، صلح کرنا اور نیکی کرنا، اللہ نیکی کرنے والوں کو پسند فرماتا ہے ۔
Ibn Umar رضی اللہ عنہما said:
“The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم burned the palm tree of Banu Al Nadr and cut (them) down at Al Buwairah. So, Allah the exalted sent down “the palm trees you cut down or left. ”
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، ہم سے لیث نے نافع کی سند سے بیان کیا, عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنونضیر کے کھجوروں کے باغات جلا دیے اور درختوں کو کاٹ ڈالا ( یہ مقام بویرہ میں تھا ) تو اللہ نے یہ آیت کریمہ نازل فرمائی «ما قطعتم من لينة أو تركتموها» کھجور کے جو درخت تم نے کاٹ ڈالے، یا اپنی جڑوں پر انہیں قائم رہنے دیا، یہ سب اللہ کے حکم سے تھا ( سورۃ الحشر: ۵ ) ۔
Narrated Usamah رضی اللہ عنہ :
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم enjoined upon him to attack Ubna in the morning and burn the place.
ہم سے ہناد بن سری نے ابن المبارک کی سند سے، صالح بن ابی الاخضر کی سند سے بیان کیا, عروہ کہتے ہیں کہ اسامہ رضی اللہ عنہ نے مجھ سے بیان کیا کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں وصیت کی تھی اور فرمایا تھا: ابنی پر صبح سویرے حملہ کرو اور اسے جلا دو ۔