Narrated Abdullah Ibn Umar رضی اللہ عنہما :
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم used to hold a race between horses and kept the one in the fifth year at a long distance.
ہم سے احمد بن حنبل نے بیان کیا، ہم سے عقبہ بن خالد نے بیان کیا، انہوں نے عبید اللہ سے اور نافع کی سند سے, عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے گھوڑ دوڑ کا مقابلہ کرایا اور پانچویں برس میں داخل ہونے والے گھوڑوں کی منزل دور مقرر کی۔
Narrated Aishah رضی اللہ عنہا , Ummul Muminin:
While she was on a journey along with the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم: I had a race with him (the Prophet) and I outstripped him on my feet. When I became fleshy, (again) I had a race with him (the Prophet) and he outstripped me. He said: This is for that outstripping.
ہم سے ابوصالح الانطا کی محبوب بن موسیٰ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ابواسحاق یعنی الفزاری نے بیان کیا، انہوں نے ہشام بن عروہ کی سند سے، اپنے والد سے اور ابو سلمہ کی سند سے, ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ
وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں تھیں، کہتی ہیں کہ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے دوڑ کا مقابلہ کیا تو میں جیت گئی، پھر جب میرا بدن بھاری ہو گیا تو میں نے آپ سے ( دوبارہ ) مقابلہ کیا تو آپ جیت گئے، اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ جیت اس جیت کے بدلے ہے ۔
Narrated Abu Hurairah رضی اللہ عنہ :
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم said: If one enters a horse with two others when he is not certain that it cannot be beaten, it is not gambling; but when one enters a horse with two others when he is certain it cannot be beaten, it is gambling.
ہم سے مسدد نے بیان کیا، ہم سے حسین بن نمیر نے بیان کیا، ہم سے سفیان بن حصین نے بیان کیا, ہم سے علی بن مسلم نے بیان کیا، کہا ہم سے عباد بن العوام نے بیان کیا، کہا کہ ہم کو سفیان بن حصین المعنی نے بیان کیا، وہ زہری کی سند سے، وہ سعید بن المسیب کی سند سے, ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص دو گھوڑوں کے درمیان ایک گھوڑا داخل کر دے اور گھوڑا ایسا ہو کہ اس کے آگے بڑھ جانے کا یقین نہ ہو تو وہ جوا نہیں، اور جو شخص ایک گھوڑے کو دو گھوڑوں کے درمیان داخل کرے اور وہ اس کے آگے بڑھ جانے کا یقین رکھتا ہو تو وہ جوا ہے ۔
The tradition mentioned above has also been transmitted by Al Zuhri with the chain of Abbad and to the same affect. Abu Dawud said “This tradition has also been narrated by Mamar, Shuaib and Aqil on the authority of Al Zuhri from a number of scholars and this is the soundest one in our opinion.
ہم سے محمود بن خالد نے بیان کیا، کہا ہم سے الولید بن مسلم نے بیان کیا، ان سے سعید بن بشیر نے،اس سند سے بھی زہری سے عباد والے طریق ہی سے اسی مفہوم کی حدیث مروی ہے,ابوداؤد کہتے ہیں: اسے معمر، شعیب اور عقیل نے زہری سے اور زہری نے اہل علم کی ایک جماعت سے روایت کیا ہے اور یہ ہمارے نزدیک زیادہ صحیح ہے۔
Narrated Imran Ibn Husayn رضی اللہ عنہما :
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم said: There must be no shouting or leading another horse at one's side. Yahya added in his tradition: When racing for a wager.
ہم سے یحییٰ بن خلف نے بیان کیا، ہم سے عبد الوہاب بن عبدالمجید نے بیان کیا، ہم سے عنبسہ نے بیان کیا اور ہم سے مسدد نے بیان کیا، ہم سے بشر بن المفضل نے بیان کیا، حمید الطویل کی سند سے، ان سب نے حسن کی سند سے, عمران بن حصین رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «جلب» اور «جنب» نہیں ہے ۔ یحییٰ نے اپنی حدیث میں «في الرهان» ( گھوڑ دوڑ کے مقابلہ میں ) کا اضافہ کیا ہے۔
Qatadah رضی اللہ عنہ said:
“Taking another horse behind one’s horse to urge it on and taking another horse at one’s side are (done) in a horse race.
ہم سے ابن المثنیٰ نے بیان کیا، ہم سے عبد الاعلی نے سعید کی سند سے بیان کیا, قتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا
«جلب» اور «جنب»گھوڑ دوڑ کے مقابلہ میں ہوتا ہے۔
Narrated Anas Ibn Malik رضی اللہ عنہ :
The pommel of the sword of the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم was of silver.
ہم سے مسلم بن ابراہیم نے بیان کیا، کہا ہم سے جریر بن حازم نے بیان کیا، کہا ہم سے قتادہ نے بیان کیا, انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تلوار کے قبضہ کی خول چاندی کی تھی۔
Narrated Saeed Ibn Abul Hasan:
The pommel of the sword of the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم was of silver. Qatadah said: I do not know that anyone has supported him for that (for the tradition narrated by Saeed bin Abu al-Hasan).
ہم سے محمد بن مثنیٰ نے بیان کیا، ہم سے معاذ بن ہشام نے بیان کیا، مجھ سے میرے والد نے قتادہ کی سند سے بیان کیا، (حسن بصری کے بھائی) سعید بن ابوالحسن کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تلوار کے دستہ کی خول چاندی کی تھی۔ قتادہ کہتے ہیں: میں نہیں جانتا کہ اس پر ان کی متابعت کسی اور شخص نے کی ہے۔
The tradition mentioned above has also been narrated by Anas bin Malik رضی اللہ عنہ through a different chain of narrators. He mentioned similar words. Abu Dawud said “the strongest of these traditions is the one of Saeed bin Abu Al Hasan. The rest are weak.
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ بن کثیر نے بیان کیا، ابو غسان العنبری نے، عثمان بن سعد رضی اللہ عنہ سے, اس سند سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سابقہ حدیث مروی ہے, ابوداؤد کہتے ہیں: ان احادیث میں سب سے زیادہ قوی سعید بن ابوالحسن کی حدیث ہے اور باقی ضعیف ہیں۔
Jabir رضی اللہ عنہ said:
“The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم ordered a man who was distributing arrows not to pass the mosque with them except that he is holding their heads.
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، ہم سے لیث نے بیان کیا، وہ ابو الزبیر رضی اللہ عنہ سے, جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو حکم دیا جو مسجد میں تیر بانٹ رہا تھا کہ جب وہ ان تیروں کو لے کر نکلے تو ان کی پیکان پکڑے ہو۔
Abu Musa رضی اللہ عنہ reported:
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم as saying “ When one of you passes our Masjid or our market with an arrow, he should hold its head or hold it with its hand (the narrator is doubtful) so that no harm may be done to any Muslim. ”
ہم سے محمد بن العلاء نے بیان کیا، ہم سے ابو اسامہ نے بیان کیا، انہوں نے بریدہ سے، انہوں نے ابو بردہ سے, ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب کوئی شخص ہماری مسجد یا ہمارے بازار سے گزرے اور اس کے پاس تیر ہو تو اس کی نوک کو پکڑ لے یا فرمایا: مٹھی میں دبائے رہے ، یا یوں کہا کہ: اسے اپنی مٹھی سے دبائے رہے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ مسلمانوں میں سے کسی کو لگ جائے ۔
Narrated Jabir Ibn Abdullah:
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم prohibited to hand the drawn sword.
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، ہم سے حماد نے بیان کیا، ابو الزبیر سے, جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ننگی تلوار ( کسی کو ) تھمانے سے منع فرمایا ۔
Narrated Samurah Ibn Jundub رضی اللہ عنہ :
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم prohibited to cut a piece of leather between two fingers.
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا، ہم سے قریش بن انس نے بیان کیا، ہم سے اشعث نے بیان کیا، حسن رضی اللہ عنہ سے, سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چمڑے کو دو انگلیوں کے درمیان رکھ کر کاٹنے سے منع فرمایا۔
Narrated as-Saib Ibn Yazid رضی اللہ عنہ :
From a man whom he named: The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم put on two coats of mail during the battle of Uhud as a double protection. (The narrator is doubtful about the word zahara or labisa. )
ہم سے مسدد نے بیان کیا، ہم سے سفیان نے بیان کیا، انہوں نے کہا: میرا خیال ہے کہ میں نے یزید بن خصیفہ کو ذکر کرتے ہوئے سنا ہے, سائب بن یزید رضی اللہ عنہ ایک ایسے آدمی سے روایت کرتے ہیں
جس کا انہوں نے نام لیا تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غزوہ احد کے دن دو زرہیں اوپر تلے پہنے شریک غزوہ ہوئے۔
Narrated Yunus Ibn Ubayd:
Muhammad bin al-Qasim, said that Muhammad Ibn al-Qasim sent to al-Bara Ibn Azib رضی اللہ عنہ to ask him about the standard of the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم. He said: It was black and square, being made of a woollen rug.
ہم سے ابراہیم بن موسیٰ رازی نے بیان کیا، کہا ہم سے ابن ابی زیدہ نے بیان کیا، کہا ہم سے ابو یعقوب ثقفی نے بیان کیا، ان سے یونس بن عبید، ثقیف کے رہنے والے ایک شخص نے، جو ان کے مؤکل تھے, محمد بن قاسم کے غلام یونس بن عبید کہتے ہیں کہ
محمد بن قاسم نے مجھے براء بن عازب رضی اللہ عنہ کے پاس بھیجا کہ میں ان سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے جھنڈے کے متعلق پوچھوں کہ وہ کیسا تھا، تو انہوں نے کہا: وہ سیاہ چوکور دھاری دار اونی کپڑے کا تھا۔
Narrated Jabir Ibn Abdullah رضی اللہ عنہ :
When the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم entered Makkah his banner was white.
اسحاق بن ابراہیم المروزی نے جو ابن راہویہ ہیں، کہا ہم سے یحییٰ بن آدم نے بیان کیا: ہم سے شریک نے عمار دہنی کی سند سے اور ابو الزبیر سے, جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جس دن مکہ میں داخل ہوئے آپ کا پرچم سفید تھا۔
Narrated Simak ibn Harb: Simak reported on the authority of a man from his people, on the authority of another man from them:
I saw that the standard of the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم was yellow.
ہم سے عقبہ بن مکرم نے بیان کیا، ہم سے سالم بن قتیبہ الشعیری نے شعبۃ کی سند سے بیان کیا, سماک اپنی قوم کے ایک آدمی سے روایت کرتے ہیں اور اس نے انہیں میں سے ایک دوسرے شخص سے روایت کیا، وہ کہتے ہیں
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا پرچم زرد دیکھا۔
Narrated Abud Darda رضی اللہ عنہ :
I heard the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم say: Seek for me weak persons, for you are provided means of subsistence and helped through your weaklings. Abu Dawud said: Zaid bin Artat is the brother of Adi bin Artat.
ہم سے مومل بن الفضل حرانی نے بیان کیا، ہم سے الولید نے بیان کیا، ہم سے ابن جبیر نے بیان کیا، ان سے زید بن ارطہ الفزاری نے جبیر بن نفیر الحضرمی کی سند سے, ابوالدرداء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: میرے لیے ضعیف اور کمزور لوگوں کو ڈھونڈو، کیونکہ تم اپنے کمزوروں کی وجہ سے رزق دیئے جاتے اور مدد کئے جاتے ہو ۔ابوداؤد نے کہا: زید بن ارطع عدی بن ارطات کے بھائی ہیں۔
Samurah bin Jundub رضی اللہ عنہ said:
“The war-cry of the Emigrants was Abdullah and that of the helpers Abdul Rahman. ”
ہم سے سعید بن منصور نے بیان کیا، ہم سے یزید بن ہارون نے بیان کیا، انہوں نے حجاج کی سند سے، قتادہ کی سند سے، حسن رضی اللہ عنہ سے,سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ کسی
مہاجرین کا شعار ( کوڈ ) عبداللہ اور انصار کا شعار عبدالرحمٰن تھا۔
Ilyas bin Salamah (bin Al Akwa) رضی اللہ عنہ said on the authority of his father:
“We went on an expedition with Abu Bakr ( رضی اللہ عنہ) in the time of the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم and our war cry was “Put to death” “Put to death”. ”
ہم سے ہناد نے ابن المبارک سے، عکرمہ بن عمار کی سند سے، ایاس بن سلمہ بن الاکوع رضی اللہ عنہ سے اپنے والد سے روایت کی، انہوں نے کہا
ہم نے ابوبکر رضی اللہ عنہ کے ساتھ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں غزوہ کیا تو ہمارا شعار «أمت أمت» تھا۔