Abdullah bin Amr رضی اللہ عنہما reported:
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم as saying “No warlike party will go out to fight in Allah’s path and gain booty without getting beforehand two-thirds of their rewards in the next world and one-third (of their reward) will remain. And if they do not gain booty, they will get their rewards in full.
ہم سے عبیداللہ بن عمر بن میسرہ نے بیان کیا، ہم سے عبداللہ بن یزید نے بیان کیا، ان سے حیوہ اور ابن لہیعہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا: ہم سے ابو ہانی الخولانی نے بیان کیا کہ انہوں نے ابوعبدالرحمٰن حبلی رضی اللہ عنہ کو کہتے سنا, عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجاہدین کی کوئی جماعت ایسی نہیں جو اللہ کی راہ میں لڑتی ہو پھر مال غنیمت حاصل کرتی ہو، مگر آخرت کا دو تہائی ثواب اسے پہلے ہی دنیا میں حاصل ہو جاتا ہے، اور ایک تہائی ( آخرت کے لیے ) باقی رہتا ہے، اور اگر اسے مال غنیمت نہیں ملا تو آخرت میں ان کے لیے مکمل ثواب ہو گا ۔
Narrated Muadh Ibn Jabal رضی اللہ عنہ :
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم said: (The reward of) prayer, fasting and remembrance of Allah is enhanced seven hundred times over (the reward of) spending in Allah's path.
ہم سے احمد بن عمرو بن سرح نے بیان کیا، ہم سے ابن وہب نے بیان کیا، ان سے یحییٰ بن ایوب اور سعید بن ابی ایوب نے، وہ زبان بن فائید کی سند سے، وہ سہل بن معاذ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ( دوران جہاد ) نماز، روزہ اور ذکر الٰہی ( کا ثواب ) جہاد میں خرچ کے ثواب پر سات سو گنا تک بڑھا دیا جاتا ہے ۔
Narrated Abu Malik al-Ashari رضی اللہ عنہ :
I heard the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم say: He who goes forth in Allah's path and dies or is killed is a martyr, or has his neck broken through being thrown by his horse or by his camel, or is stung by a poisonous creature, or dies on his bed by any kind of death Allah wishes is a martyr and will go to Paradise.
ہم سے عبد الوہاب بن نجدہ نے بیان کیا، کہا ہم سے بقیہ بن ولید نے بیان کیا، ان سے ابن ثوبان نے، ان سے اپنے والد سے، وہ عبدالرحمٰن بن غنم اشعری کے واسطہ سے، مکحول کی طرف واپس جانا, ابو مالک اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: جو شخص اللہ کی راہ میں نکلا پھر وہ مر گیا، یا مار ڈالا گیا تو وہ شہید ہے، یا اس کے گھوڑے یا اونٹ نے اسے روند دیا، یا کسی سانپ اور بچھو نے ڈنک مار دیا، یا اپنے بستر پہ، یا موت کے کسی بھی سبب سے جسے اللہ نے چاہا مر گیا، تو وہ شہید ہے، اور اس کے لیے جنت ہے ۔
Narrated Fadalah Ibn Ubayd رضی اللہ عنہ :
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم said: Everyone who dies will have fully complete his action, except one who is on the frontier (in Allah's path), for his deeds will be made to go on increasing till the Day of Resurrection, and he will be safe from the trial in the grave.
ہم سے سعید بن منصور نے بیان کیا، کہا ہم سے عبداللہ بن وہب نے بیان کیا، مجھ سے ابو ہانی نے عمرو بن مالک کی سند سے بیان کیا, فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہر میت کا عمل مرنے کے بعد ختم کر دیا جاتا ہے، سوائے سرحد کی پاسبانی اور حفاظت کرنے والے کے، اس کا عمل اس کے لیے قیامت تک بڑھتا رہے گا اور قبر کے فتنہ سے وہ مامون کر دیا جائے گا ۔
Narrated Sahl Ibn al-Hanzaliyyah رضی اللہ عنہ :
On the day of Hunayn we travelled with the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم and we journeyed for a long time until the evening came. I attended the prayer along with the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم. A horseman came and said: Messenger of Allah, I went before you and climbed a certain mountain where saw Hawazin all together with their women, cattle, and sheep, having gathered at Hunayn. The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم smiled and said: That will be the booty of the Muslims tomorrow if Allah wills. He then asked: Who will be on guard tonight? Anas ibn Abu Marthad al-Ghanawi رضی اللہ عنہ said: I shall, Messenger of Allah. He said: Then mount your horse. He then mounted his horse, and came to the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم. The Messenger of Allah said to him: Go forward to this ravine till you get to the top of it. We should not be exposed to danger from your side. In the morning the Messenger of of Allah صلی اللہ علیہ وسلم came out to his place of prayer, and offered two rak'ahs. He then said: Have you seen any sign of your horseman? They said: We have not, Messenger of Allah. The announcement of the time for prayer was then made, and while the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم was saying the prayer, he began to glance towards the ravine. When he finished his prayer and uttered salutation, he said: Cheer up, for your horseman has come. We therefore began to look between the trees in the ravine, and sure enough he had come. He stood beside the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم, saluted him and said: I continued till I reached the top of this ravine where the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم commanded me, and in the morning I looked down into both ravines but saw no one. The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم asked him: Did you dismount during the night? He replied: No, except to pray or to relieve myself. The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم said: You have ensured your entry to (Paradise). No blame will be attached to you supposing you do not work after it.
ہم سے ابو توبہ نے بیان کیا، ان سے معاویہ نے، ان سے ابن سلام نے بیان کیا، انہوں نے زید کی سند سے بیان کیا، ان سے ابن سلام نے بیان کیا کہ انہوں نے ابو سلام کو یہ کہتے ہوئے سنا: مجھ سے السلوی ابو کبشہ نے بیان کیا, سہل بن حنظلیہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حنین کے دن چلے اور بہت ہی تیزی کے ساتھ چلے، یہاں تک کہ شام ہو گئی، میں نماز میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوا اتنے میں ایک سوار نے آ کر کہا: اللہ کے رسول! میں آپ لوگوں کے آگے گیا، یہاں تک کہ فلاں فلاں پہاڑ پر چڑھا تو کیا دیکھتا ہوں کہ قبیلہ ہوازن کے لوگ سب کے سب اپنی عورتوں، چوپایوں اور بکریوں کے ساتھ بھاری تعداد میں مقام حنین میں جمع ہیں، یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسکرائے اور فرمایا: ان شاءاللہ یہ سب کل ہم مسلمانوں کا مال غنیمت ہوں گے ، پھر فرمایا: رات میں ہماری پہرہ داری کون کرے گا؟ انس بن ابومرثد غنوی رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کے رسول! میں کروں گا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو سوار ہو جاؤ ، چنانچہ وہ اپنے گھوڑے پر سوار ہو کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس گھاٹی میں جاؤ یہاں تک کہ اس کی بلندی پہ پہنچ جاؤ اور ایسا نہ ہو کہ ہم تمہاری وجہ سے آج کی رات دھوکہ کھا جائیں ، جب ہم نے صبح کی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے مصلے پر آئے، آپ نے دو رکعتیں پڑھیں پھر فرمایا: تم نے اپنے سوار کو دیکھا؟ لوگوں نے کہا: اللہ کے رسول! ہم نے اسے نہیں دیکھا، پھر نماز کے لیے اقامت کہی گئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھنے لگے لیکن دوران نماز کنکھیوں سے گھاٹی کی طرف دیکھ رہے تھے، یہاں تک کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھ چکے اور سلام پھیرا تو فرمایا: خوش ہو جاؤ! تمہارا سوار آ گیا ، ہم درختوں کے درمیان سے گھاٹی کی طرف دیکھنے لگے، یکایک وہی سوار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر کھڑا ہو گیا اور سلام کیا اور کہنے لگا: میں گھاٹی کے بالائی حصہ پہ چلا گیا تھا جہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے حکم دیا تھا تو جب صبح کی تو میں نے دونوں گھاٹیوں پر چڑھ کر دیکھا تو کوئی بھی نہیں دکھائی پڑا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: کیا تم آج رات گھوڑے سے اترے تھے؟ ، انہوں نے کہا: نہیں، البتہ نماز پڑھنے کے لیے یا قضائے حاجت کے لیے اترا تھا، اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: تم نے اپنے لیے جنت کو واجب کر لیا، اب اگر اس کے بعد تم عمل نہ کرو تو تمہیں کچھ نقصان نہ ہو گا ۔
Abu Hurairah رضی اللہ عنہ reported:
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم as saying “He who dies without having fought or having felt fighting (against the infidels) to be his duty will die guilty of a kind of hypocrisy. ”
ہم سے عبدہ بن سلیمان المروازی نے بیان کیا، کہا ہم سے ابن المبارک نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے وہیب نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے عبدہ نے بیان کیا، ان سے ابن الورد نے، مجھ سے عمر بن محمد بن المنکدر نے بیان کیا، وہ سمی کی سند سے، وہ ابو صالح سے, ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص مر گیا اور اس نے نہ جہاد کیا اور نہ ہی کبھی اس کی نیت کی تو وہ نفاق کی قسموں میں سے ایک قسم پر مرا ۔
Narrated Abu Umamah رضی اللہ عنہ :
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم said: He who does not join the warlike expedition (jihad), or equip, or looks well after a warrior's family when he is away, will be smitten by Allah with a sudden calamity. Yazid ibn Abdu Rabbihi said in his tradition: 'before the Day of Resurrection .
ہم سے عمرو بن عثمان نے بیان کیا اور میں نے اسے یزید بن عبد ربہ الجرجسی سے پڑھا, انہوں نے کہا: ہم سے ولید بن مسلم نے یحییٰ بن حارث کی سند سے اور القاسم ابو عبدالرحمٰن کی سند سے بیان کیا, ابوامامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے جہاد نہیں کیا یا کسی جہاد کرنے والے کے لیے سامان جہاد فراہم نہیں کیا یا کسی مجاہد کے اہل و عیال کی بھلائی کے ساتھ خبرگیری نہ کی تو اللہ اسے کسی سخت مصیبت سے دو چار کرے گا ، یزید بن عبداللہ کی روایت میں «قبل يوم القيامة» قیامت سے پہلے کا اضافہ ہے۔
Narrated Anas Ibn Malik رضی اللہ عنہ :
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم said: Use your property, your persons any your tongues in striving against the polytheists.
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، ہم سے حماد نے بیان کیا، حمید کی سند سے, انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مشرکوں سے اپنے اموال، اپنی جانوں اور زبانوں سے جہاد کرو ۔
Ibn Abbas رضی اللہ عنہما said:
“The Quranic verse “Unless you go forth, He will punish you with a grievous penalty, and the verse “It is not fitting for the people of Madina”. . . up to “that Allah might required their deed with the best (possible reward) have been repealed by the verse. Nor should the believers all go forth together. ”
ہم سے احمد بن محمد المروازی نے بیان کیا، مجھ سے علی بن حسین نے اپنے والد سے، یزید النحوی نے عکرمہ کی سند سے بیان کیا, عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں
«إلا تنفروا يعذبكم عذابا أليما» اگر تم جہاد کے لیے نہیں نکلو گے تو اللہ تمہیں عذاب دے گا ( سورۃ التوبہ: ۳۹ ) اور «ما كان لأهل المدينة» سے «يعملون» مدینہ کے رہنے والوں کو اور جو دیہاتی ان کے گرد و پیش ہیں ان کو یہ زیبا نہ تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو چھوڑ کر پیچھے رہ جائیں ( سورۃ التوبہ: ۱۰ ) کو بعد والی آیت «وما كان المؤمنون لينفروا كافة» مناسب نہیں کہ مسلمان سب کے سب جہاد کے لیے نکل پڑیں ( سورۃ التوبہ: ۱۲۲ ) نے منسوخ کر دیا ہے۔
Najdah bin Nufai said:
“I asked Ibn Abbas رضی اللہ عنہما about the verse. “Unless you go forth, He will punish you with a grievous penalty. ” He replied “The rain stopped from them. This was their punishment. ”
ہم سے عثمان بن ابی شیبہ نے بیان کیا، ہم سے زید بن الحباب نے بیان کیا، وہ عبد المومن بن خالد الحنفی کی سند سے, نجدہ بن نفیع کہتے ہیں کہ
میں نے آیت کریمہ «إلا تنفروا يعذبكم عذابا أليما» اگر تم جہاد کے لیے نہیں نکلو گے تو اللہ تمہیں عذاب دے گا ( سورۃ التوبہ: ۳۹ ) کے سلسلہ میں ابن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھا تو انہوں نے کہا: عذاب یہی تھا کہ بارش ان سے روک لی گئی ( اور وہ مبتلائے قحط ہو گئے ) ۔
Zaid bin Thabit رضی اللہ عنہ said:
“I was beside the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم when the divinely-inspired calmness overtook him and the thigh of the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم fell on my thigh. I did not find any weightier than the thigh of the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم. He then regained his composure and said “Write down. I wrote on a shoulder. Not equal are these believers who sit (at home), other than those who have a (disabling) hurt, and those who strive in the way of Allah. When Ibn Umm Makhtum رضی اللہ عنہ who was blind heard the excellence of the warriors. He stood up and said “Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم how is it for those believers who are unable to fight (in the path of Allah)? When he finished his question his divinely-inspired calmness overtook him, and his thigh fell on my thigh and I found its weight the second time as I found the first time. ” When the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم regained his composure, he said “Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم said “Other than those who have a (disabling hurt). Zaid said “Allah, the exalted, revealed it alone and I appended it. ” By Him in Whose hands is my life, I am seeing, as it were the place where I put it (i.e., the verse) at the crack in the shoulder. ”
ہم سے سعید بن منصور نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالرحمٰن بن ابی الزناد نے اپنے والد سے، وہ خارجہ بن زید کی سند سے بیان کیا,زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پہلو میں تھا تو آپ کو سکینت نے ڈھانپ لیا ( یعنی وحی اترنے لگی ) ( اسی دوران ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ران میری ران پر پڑ گئی تو کوئی بھی چیز مجھے آپ کی ران سے زیادہ بوجھل محسوس نہیں ہوئی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے وحی کی کیفیت ختم ہوئی تو آپ نے فرمایا: لکھو ، میں نے شانہ ( کی ایک ہڈی ) پر «لا يستوي القاعدون من المؤمنين والمجاهدون في سبيل الله» اپنی جانوں اور مالوں سے اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والے مومن اور بغیر عذر کے بیٹھ رہنے والے مومن برابر نہیں ( سورۃ النساء: ۹۵ ) آخر آیت تک لکھ لیا، عبداللہ بن ام مکتوم رضی اللہ عنہ ( ایک نابینا شخص تھے ) نے جب مجاہدین کی فضیلت سنی تو کھڑے ہو کر کہا: اللہ کے رسول! مومنوں میں سے جو جہاد کی طاقت نہیں رکھتا اس کا کیا حال ہے؟ جب انہوں نے اپنی بات پوری کر لی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو پھر سکینت نے ڈھانپ لیا ( وحی اترنے لگی ) ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ران میری ران پر پڑی تو میں نے اس کا بھاری پن پھر دوسری بار محسوس کیا جس طرح پہلی بار محسوس کیا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے وحی کی جب کیفیت ختم ہوئی تو آپ نے فرمایا: زید! پڑھو ، تو میں نے «لا يستوي القاعدون من المؤمنين» پوری آیت پڑھی، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے: «غير أولي الضرر» کا اضافہ فرمایا، زید کہتے ہیں: تو «غير أولي الضرر» کو اللہ نے الگ سے نازل کیا، میں نے اس کو اس کے ساتھ شامل کر دیا، اللہ کی قسم! گویا میں شانہ کے دراز کو دیکھ رہا ہوں جہاں میں نے اسے شامل کیا تھا۔
Anas bin Malik رضی اللہ عنہ reported on the authority of his father:
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم said “ You left behind some people in Madeenah who did not fail to be with you wherever you went and whatever you spent (of your goods) and whatever valley you crossed. They asked Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم how can they be with us when they are still in Madeenah? He replied “They were declined by a valid excuse. ”
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، ہم سے حماد نے بیان کیا، ان سے حمید نے بیان کیا، وہ موسیٰ بن انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے اپنے والد سے
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم مدینہ میں کچھ ایسے لوگوں کو چھوڑ کر آئے کہ تم کوئی قدم نہیں چلے یا کچھ خرچ نہیں کیا یا کوئی وادی طے نہیں کی مگر وہ تمہارے ساتھ رہے ، صحابہ نے عرض کیا: اللہ کے رسول! وہ ہمارے ہمراہ کیسے ہو سکتے ہیں جب کہ وہ مدینہ میں ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: انہیں عذر نے روک رکھا ہے ۔
Zaid bin Khalid al Juhani رضی اللہ عنہ reported:
Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم as saying “He who equips a fighter in Allah’s path has taken part in the fighting. And he looks after a fighter’s family when he is away has taken part in the fighting.”
ہم سے عبداللہ بن عمرو بن ابی الحجاج ابو معمر نے بیان کیا، ہم سے عبدالوارث نے بیان کیا، ہم سے الحسین نے بیان کیا، مجھ سے یحییٰ نے بیان کیا، مجھ سے ابوسلمہ نے بیان کیا، مجھ سے بسر بن سعید نے بیان کیا، زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے اللہ کے راستے میں جہاد کرنے والے کے لیے سامان جہاد فراہم کیا اس نے جہاد کیا اور جس نے مجاہد کے اہل و عیال کی اچھی طرح خبرگیری کی اس نے جہاد کیا ۔
Abu Saeed Al Khudri رضی اللہ عنہ said:
“The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم sent an expedition towards Banu Lihyan and said “One of the two persons should go forth. He then said to those who sat (at home), If any one of you looks after the family and property of a warrior, he will receive half the reward of the one who goes forth (in jihad). ”
ہم سے سعید بن منصور نے بیان کیا، کہا کہ ہم کو ابن وہب نے خبر دی، کہا کہ مجھے عمرو بن حارث نے خبر دی، وہ یزید بن ابی حبیب کے واسطہ سے، وہ یزید بن ابی سعید جو کہ مہری کے آزاد کرنے والے تھے، اپنے والد سے, ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو لحیان کی طرف ایک لشکر بھیجا اور فرمایا: ہر دو آدمی میں سے ایک آدمی نکل کھڑا ہو ، اور پھر خانہ نشینوں سے فرمایا: تم میں جو کوئی مجاہد کے اہل و عیال اور مال کی اچھی طرح خبرگیری کرے گا تو اسے جہاد کے لیے نکلنے والے کا نصف ثواب ملے گا ۔
Narrated Abu Hurairah رضی اللہ عنہ :
I heard the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم say: What is evil in a man are alarming niggardliness and unrestrained cowardice.
ہم سے عبداللہ بن الجراح نے بیان کیا، انہوں نے عبداللہ بن یزید سے، وہ موسیٰ بن علی بن رباح سے، انہوں نے اپنے والد سے، وہ عبدالعزیز بن مروان سے، انہوں نے کہا: ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: آدمی میں پائی جانے والی سب سے بری چیز انتہا کو پہنچی ہوئی بخیلی اور سخت بزدلی ہے ۔
Narrated Aslam Abu Imran said:
We went out on an expedition from Madina with the intention of (attacking) Constantinople. Abdur Rahman ibn Khalid ibn al-Walid was the leader of the company. The Romans were just keeping their backs to the walls of the city. A man (suddenly) attacked the enemy. Thereupon the people said: Stop! Stop! There is no god but Allah. He is putting himself into danger. Abu Ayyub said: This verse was revealed about us, the group of the Ansar (the Helpers). When Allah helped His Prophet صلی اللہ علیہ وسلم and gave Islam dominance, we said (i. e. thought): Come on! Let us stay in our property and improve it. Thereupon Allah, the Exalted, revealed, And spend of your substance in the cause of Allah, and make not your hands contribute to (your destruction) . To put oneself into danger means that we stay in our property and commit ourselves to its improvement, and abandon fighting (i. e. jihad). Abu Imran said: Abu Ayyub رضی اللہ عنہ continued to strive in the cause of Allah until he (died and) was buried in Constantinople.
ہم سے احمد بن عمرو بن سرح نے بیان کیا، ہم سے ابن وہب نے بیان کیا، ان سے حیوۃ بن شریح اور ابن لہیعہ نے یزید بن ابی حبیب کی سند سے بیان کیا,اسلم ابوعمران کہتے ہیں کہ
ہم مدینہ سے جہاد کے لیے چلے، ہم قسطنطنیہ کا ارادہ کر رہے تھے، اور جماعت ( اسلامی لشکر ) کے سردار عبدالرحمٰن بن خالد بن ولید تھے، اور رومی شہر ( قسطنطنیہ ) کی دیواروں سے اپنی پیٹھ لگائے ہوئے تھے ۱؎، تو ہم میں سے ایک دشمن پر چڑھ دوڑا تو لوگوں نے کہا: رکو، رکو، اللہ کے علاوہ کوئی معبود برحق نہیں، یہ تو اپنی جان ہلاکت میں ڈال رہا ہے، ابوایوب رضی اللہ عنہ نے کہا: یہ آیت تو ہم انصار کی جماعت کے بارے میں اتری، جب اللہ نے اپنے نبی کی مدد کی اور اسلام کو غلبہ عطا کیا تو ہم نے اپنے دلوں میں کہا ( اب جہاد کی کیا ضرورت ہے ) آؤ اپنے مالوں میں رہیں اور اس کی دیکھ بھال کریں، تب اللہ نے یہ آیت نازل فرمائی «وأنفقوا في سبيل الله ولا تلقوا بأيديكم إلى التهلكة» اللہ کے راستے میں خرچ کرو اور اپنے آپ کو ہلاکت میں نہ ڈالو ( سورۃ البقرہ: ۱۹۵ ) اپنے آپ کو ہلاکت میں ڈالنا یہ ہے کہ ہم اپنے مالوں میں مصروف رہیں، ان کی فکر کریں اور جہاد چھوڑ دیں۔ ابوعمران کہتے ہیں: ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ ہمیشہ اللہ کی راہ میں جہاد کرتے رہے یہاں تک کہ قسطنطنیہ میں دفن ہوئے۔
Narrated Uqbah Ibn Amir رضی اللہ عنہ :
I heard the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم say: Allah, Most High, will cause three persons to enter Paradise for one arrow: the maker when he has a good motive in making it, the one who shoots it, and the one who hands it; so shoot and ride, but your shooting is dearer to me than your riding. Everything with which a man amuses himself is vain except three (things): a man's training of his horse, his playing with his wife, and his shooting with his bow and arrow. If anyone abandons archery after becoming an adept through distaste for it, it is a blessing he has abandoned; or he said: for which he has been ungrateful.
ہم سے سعید بن منصور نے بیان کیا، کہا ہم سے عبداللہ بن مبارک نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے عبدالرحمٰن بن یزید بن جبیر نے بیان کیا، مجھ سے ابو سلام نے خالد بن زید رضی اللہ عنہ سے بیان کیا, عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: اللہ ایک تیر سے تین افراد کو جنت میں داخل کرتا ہے: ایک اس کے بنانے والے کو جو ثواب کے ارادہ سے بنائے، دوسرے اس کے چلانے والے کو، اور تیسرے اٹھا کر دینے والے کو، تم تیر اندازی کرو اور سواری کرو، اور تمہارا تیر اندازی کرنا، مجھے سواری کرنے سے زیادہ پسند ہے، لہو و لعب میں سے صرف تین طرح کا لہو و لعب جائز ہے: ایک آدمی کا اپنے گھوڑے کو ادب سکھانا، دوسرے اپنی بیوی کے ساتھ کھیل کود کرنا، تیسرے اپنے تیر کمان سے تیر اندازی کرنا اور جس نے تیر اندازی سیکھنے کے بعد اس سے بیزار ہو کر اسے چھوڑ دیا، تو یہ ایک نعمت ہے جسے اس نے چھوڑ دیا ، یا راوی نے کہا: جس کی اس نے ناشکری کی ۔
Uqabah bin Amir Al Juhani رضی اللہ عنہ said:
“I heard the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم recite when he was on the pulpit “Against them make ready your strength to the utmost of your power. Beware, strength is shooting, beware strength is shooting, beware strength is shooting. ”
ہم سے سعید بن منصور نے بیان کیا، کہا ہم سے عبداللہ بن وہب نے بیان کیا، کہا کہ مجھے عمرو بن حارث نے ابو علی ثمامہ بن شفیع الحمدانی کی سند سے خبر دی, عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو منبر پر فرماتے ہوئے سنا: آپ آیت کریمہ«وأعدوا لهم ما استطعتم من قوة» تم ان کے مقابلہ کے لیے اپنی طاقت بھر قوت کی تیاری کرو ( سورۃ الأنفال: ۶۰ ) پڑھ رہے تھے اور فرما رہے تھے: سن لو، قوت تیر اندازی ہی ہے، سن لو قوت تیر اندازی ہی ہے، سن لو قوت تیر اندازی ہی ہے ۔
Narrated Muadh Ibn Jabal رضی اللہ عنہ :
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم said: Fighting is of two kinds: The one who seeks Allah's favour, obeys the leader, gives the property he values, treats his associates gently and avoids doing mischief, will have the reward for all the time whether he is asleep or awake; but the one who fights in a boasting spirit, for the sake of display and to gain a reputation, who disobeys the leader and does mischief in the earth will not return credit or without blame.
ہم سے حیوہ بن شریح الحضرمی نے بیان کیا، ہم سے بقیہ نے بیان کیا، مجھ سے بحیر نے بیان کیا، وہ خالد بن معدان سے، وہ ابو بحریہ کی سند سے, معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جہاد دو طرح کے ہیں: رہا وہ شخص جس نے اللہ کی رضا مندی چاہی، امام کی اطاعت کی، اچھے سے اچھا مال خرچ کیا، ساتھی کے ساتھ نرمی اور محبت کی، اور جھگڑے فساد سے دور رہا تو اس کا سونا اور اس کا جاگنا سب باعث اجر ہے، اور جس نے اپنی بڑائی کے اظہار، دکھاوے اور شہرت طلبی کے لیے جہاد کیا، امام کی نافرمانی کی، اور زمین میں فساد مچایا تو ( اسے ثواب کیا ملنا ) وہ تو برابر برابر بھی نہیں لوٹا ۔
Narrated Abu Hurairah رضی اللہ عنہ :
A man said: Messenger of Allah, a man wishes to take part in jihad in Allah's path desiring some worldly advantage? The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم said: He will have not reward. The people thought it terrible, and they said to the man: Go back to the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم, for you might not have made him understand well. He, therefore, (went and again) asked: Messenger of Allah, a man wishes to take part in jihad in Allah's path desiring some worldly advantage? He replied: There is no reward for him. They again said to the man: Return to the Messenger of Allah. He, therefore, said to him third time. He replied: There is no reward for him.
ہم سے ابو توبہ الربیع بن نافع نے ابن المبارک کی سند سے، ابن ابی ذہب کی سند سے، القاسم کی سند سے، بکیر بن عبداللہ بن اشجع کی سند سے، ابن مکرز کی قوم سے, ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
ایک شخص نے کہا: اللہ کے رسول! ایک شخص اللہ کی راہ میں جہاد کا ارادہ رکھتا ہے اور وہ دنیاوی مال و منال چاہتا ہے؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کے لیے کوئی اجر و ثواب نہیں ، لوگوں نے اسے بڑی بات سمجھی اور اس شخص سے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پھر پوچھو، شاید تم انہیں نہ سمجھا سکے ہو، اس شخص نے کہا: اللہ کے رسول! ایک شخص اللہ کی راہ میں جہاد کا ارادہ رکھتا ہے اور وہ دنیاوی مال و اسباب چاہتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کے لیے کوئی اجر و ثواب نہیں ، لوگوں نے اس شخص سے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پھر پوچھو، اس نے آپ سے تیسری بار پوچھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر اس سے فرمایا: اس کے لیے کوئی اجر و ثواب نہیں ۔