Narrated Abdullah Ibn Umar رضی اللہ عنہما :
It has been prohibited to ride the beast which eats dung.
ہم سے مسدد نے بیان کیا، ہم سے عبد الوارث نے بیان کیا، ایوب کی سند سے، نافع کی سند سے, عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
گندگی کھانے والے جانور کی سواری سے منع کیا گیا ہے۔
Narrated Abdullah Ibn Umar رضی اللہ عنہما :
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم prohibited to ride a camel which eats dung.
ہم سے احمد بن ابی سریج رازی نے بیان کیا، مجھے عبداللہ بن الجہم نے خبر دی، انہیں عمرو نے، یعنی ابن ابی قیس نے، ہم سے ایوب السختیانی نے نافع کی سند سے بیان کیا, عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے گندگی کھانے والے اونٹوں کی سواری کرنے سے منع فرمایا ہے۔
Muadh رضی اللہ عنہ said:
“I was seated behind the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم on a donkey that was called Ufair”.
ہم سے ہناد بن سری نے ابو الاحواص کی سند سے، ابو اسحاق کی سند سے، عمرو بن میمون سے, معاذ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
میں ایک گدھے پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے سوار تھا جس کو «عفیر» کہا جاتا تھا ۔
Narrated Samurah Ibn Jundub رضی اللہ عنہ :
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم named our cavalry the Cavalry of Allah, when we were struck with panic, and when panic overtook us, the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم commanded us to be united, to have patience and perseverance; and to be so when we fought.
ہم سے محمد بن داؤد بن سفیان نے بیان کیا، ہم سے یحییٰ بن حسان نے بیان کیا، ہم سے سلیمان بن موسیٰ ابوداؤد نے بیان کیا، ہم سے جعفر بن سعد نے بیان کیا, سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے,وہ حمد و صلاۃ کے بعد کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے سواروں کو جب ہمیں دشمن سے گھبراہٹ ہوتی ( تسلی دیتے ہوئے ) «خیل اللہ» کہتے، اور ہمیں جماعت کو لازم پکڑنے اور صبر و سکون سے رہنے کا حکم دیتے، اور جب ہم قتال کر رہے ہوتے ( تو بھی انہیں کلمات کے ذریعہ ہمارا حوصلہ بڑھاتے ) ۔
Imran bin Hussain said:
“The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم was on a journey. He heard a curse. He asked “What is this? They (the people) said “This is so and so (a woman) who cursed her riding beast. The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم said “Remove the saddle from it, for it is accursed. So, they removed (the saddle) from it. Imran رضی اللہ عنہ said “As if I am looking at it a grey she Camel. ”
ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا، ہم سے حماد نے، ایوب سے، ابو قلابہ سے، ابو المحلب کی سند سے, عمران بن حصین رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک سفر میں تھے، آپ نے لعنت کی آواز سنی تو پوچھا: یہ کیا ہے؟ لوگوں نے کہا: فلاں عورت ہے جو اپنی سواری پر لعنت کر رہی ہے، اس پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس اونٹنی سے کجاوہ اتار لو کیونکہ وہ ملعون ہے ، لوگوں نے اس پر سے ( کجاوہ ) اتار لیا۔ عمران رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: گویا میں اسے دیکھ رہا ہوں، وہ ایک سیاہی مائل اونٹنی تھی۔
Narrated Abdullah Ibn Abbas رضی اللہ عنہما :
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم prohibited to provoke the beasts for fighting.
ہم سے محمد بن علاء نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ بن آدم نے بیان کیا، وہ قطبہ بن عبد العزیز بن سیاح نے، العمش کی سند سے، ابو یحییٰ قتات کی سند سے، مجاہد کی سند سے, عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جانوروں کو باہم لڑانے سے منع فرمایا ۔
Anas bin Malik said “I brought my brother when he was born to Prophet صلی اللہ علیہ وسلم to chew something for him and rub his palate with it and found him in a sheep pen branding the sheep, I think he said: on their ears. ”
ہم سے حفص بن عمر نے بیان کیا، ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ہشام بن زید سے, انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
میں اپنے بھائی کی پیدائش پر اس کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے کر آیا تاکہ آپ اس کی تحنیک ( گھٹی ) فرما دیں، تو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جانوروں کے ایک باڑہ میں بکریوں کو نشان ( داغ ) لگا رہے تھے۔ میرا خیال ہے کہ انہوں نے کہا: ان کے کانوں پر داغ لگا رہے تھے۔
Jabir رضی اللہ عنہ reported:
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم as saying when an ass which had been branded on its face passed him. Did it not reach you that I cursed him who branded the animals on their faces or struck them on their faces. So he prohibited it.
ہم سے محمد بن کثیر نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا، ابو الزبیر سے, جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے ایک گدھا گزرا جس کے چہرہ کو داغ دیا گیا تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تمہیں یہ بات نہیں پہنچی ہے کہ میں نے اس شخص پر لعنت کی ہے جو جانوروں کے چہرے کو داغ دے، یا ان کے چہرہ پہ مارے ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرمایا۔
Narrated Ali Ibn Abu Talib رضی اللہ عنہ :
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم was present with a she-mule which he rode, so Ali رضی اللہ عنہ said: If we made asses cover mares we would have animals of this type. The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم said: Only those who do not know do that.
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، ہم سے لیث نے بیان کیا، ان سے یزید بن ابی حبیب نے، ابو الخیر کی سند سے، ابن زریر کی سند سے, علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک خچر ہدیہ میں دیا گیا تو آپ اس پر سوار ہوئے، علی رضی اللہ عنہ نے کہا: اگر ہم ان گدھوں سے گھوڑیوں کی جفتی کرائیں تو اسی طرح کے خچر پیدا ہوں گے ( یہ سن کر ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایسا وہ لوگ کرتے ہیں جو ( شریعت کے احکام سے ) واقف نہیں ہیں ۔
Abdullah bin Jafar رضی اللہ عنہما said:
“When the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم arrived after a journey, we were taken for his reception. Any of us who met him first he lifted him in front of him. As I was the first to meet him, he lifted me in front of him. Then Hasan or Hussain was brought to him and he set him behind him. We the entered Madinah and we (were) riding so (three on one beast). ”
ہم سے ابوصالح محبوب بن موسیٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے ابو اسحاق الفزاری نے بیان کیا، انہوں نے عاصم بن سلیمان کی سند سے، انہوں نے مو رق کی سند سے، یعنی العجلی، عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب سفر سے آتے تو ہم لوگ آپ کے استقبال کے لیے جاتے، جو ہم میں سے پہلے پہنچتا اس کو آپ آگے بٹھا لیتے، چنانچہ ( ایک بار ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اپنے سامنے پایا تو مجھے اپنے آگے بٹھا لیا، پھر حسن یا حسین پہنچے تو انہیں اپنے پیچھے بٹھا لیا، پھر ہم مدینہ میں اسی طرح ( سواری پر ) بیٹھے ہوئے داخل ہوئے۔
Abu Hurairah رضی اللہ عنہ reported:
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم as saying “Do not treat the backs of your beasts as pulpits, for Allah has made them subject to you only to convey you to a town which you cannot reach without difficulty and He has appointed the earth (a floor to work) for you, so conduct your business on it.
ہم سے عبد الوہاب بن نجدہ نے بیان کیا، ہم سے ابن عیاش نے بیان کیا، ان سے یحییٰ بن ابی عمرو السیبانی نے، ابن ابی مریم کی سند سے, ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنے جانوروں کی پیٹھ کو منبر بنانے سے بچو، کیونکہ اللہ نے ان جانوروں کو تمہارے تابع کر دیا ہے تاکہ وہ تمہیں ایک شہر سے دوسرے شہر پہنچائیں جہاں تم بڑی تکلیف اور مشقت سے پہنچ سکتے ہو، اور اللہ نے تمہارے لیے زمین بنائی ہے، تو اسی پر اپنی ضروریات کی تکمیل کیا کرو ۔
Abu Hurairah رضی اللہ عنہ reported:
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم as saying “There are Camels which belong to devils and there are houses which belong to devils. As for the Camels of the devils, I have seen them. One of you goes out with his side Camels which he has fattened neither riding any of them nor giving a lift to a tired brother when he meets. As regard the houses of the devils, I have not seen them. The narrator Saeed says “I think they are those cages (Camel litters) which conceal people with brocade. ”
ہم سے محمد بن رافع نے بیان کیا، ہم سے ابن ابی فدیک نے بیان کیا، مجھ سے عبداللہ بن ابی یحییٰ نے بیان کیا، وہ سعید بن ابی ہند سے، انہوں نے کہا: ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کچھ اونٹ شیطانوں کے ہوتے ہیں، اور کچھ گھر شیطانوں کے ہوتے ہیں، رہے شیطانوں کے اونٹ تو میں نے انہیں دیکھا ہے، تم میں سے کوئی شخص اپنے کوتل اونٹ کے ساتھ نکلتا ہے جسے اس نے کھلا پلا کر موٹا کر رکھا ہے ( خود ) اس پر سواری نہیں کرتا، اور اپنے بھائی کے پاس سے گزرتا ہے، دیکھتا ہے کہ وہ چلنے سے عاجز ہو گیا ہے اس کو سوار نہیں کرتا، اور رہے شیطانوں کے گھر تو میں نے انہیں نہیں دیکھا ہے ۔ سعید کہتے تھے: میں تو شیطانوں کا گھر انہیں ہودجوں کو سمجھتا ہوں جنہیں لوگ ریشم سے ڈھانپتے ہیں۔
Abu Hurairah رضی اللہ عنہ reported:
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم as saying “When you travel in fertile country, give the Camel their due (from the ground), and when you travel in time of drought make them go quickly. When you intend to encamp in the last hours of the night, keep away from the roads. ”
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، ہم سے حماد نے بیان کیا، انہیں سہیل بن ابی صالح نے اپنے والد سے خبر دی، ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سرسبز علاقوں میں سفر کرو تو اونٹوں کو ان کا حق دو اور جب قحط والی زمین میں سفر کرو تو تیز چلو ، اور جب رات میں پڑاؤ ڈالنے کا ارادہ کرو تو راستے سے ہٹ کر پڑاؤ ڈالو ۔
A similar tradition has also been narrated by Jabir bin Abdullah رضی اللہ عنہما from the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم . But this version adds after the phrase “their due” And do not go beyond the destinations.
ہم سے عثمان بن ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے یزید بن ہارون نے بیان کیا، کہا ہم سے ہشام نے بیان کیا، حسن رضی اللہ عنہ سے, جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایسی ہی روایت کی ہے، مگر اس میں آپ کے قول «فأعطوا الإبل حقها» کے بعد اتنا اضافہ ہے کہ منزلوں کے آگے نہ بڑھو ( تاکہ جانور کو تکلیف نہ ہو ) ۔
Anas رضی اللہ عنہ reported:
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم as saying “Keep to travelling by night, for the earth is traversed (more easily) by night.
ہم سے عمرو بن علی نے بیان کیا، ہم سے خالد بن یزید نے بیان کیا، ہم سے ابو جعفر رازی نے بیان کیا، ربیع بن انس رضی اللہ عنہ سے, انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: رات کے آخری حصہ میں سفر کرنے کو لازم پکڑو، کیونکہ زمین رات کو لپیٹ دی جاتی ہے ۔
Narrated Buraydah رضی اللہ عنہ :
While the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم was walking a man who had an ass came to him and said: Messenger of Allah, ride; and the man moved to the back of the animal. The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم said: No, you have more right to ride in front on your animal than me unless you grant that right to me. He said: I grant it to you. So he mounted.
ہم سے احمد بن محمد بن ثابت المروزی نے بیان کیا، مجھ سے علی بن حسین نے بیان کیا، مجھ سے میرے والد نے بیان کیا، مجھ سے عبداللہ بن بریدہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا: بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم چل رہے تھے کہ اسی دوران ایک آدمی آیا اور اس کے ساتھ ایک گدھا تھا، اس نے کہا: اللہ کے رسول سوار ہو جائیے اور وہ پیچھے سرک گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اپنی سواری پر آگے بیٹھنے کا مجھ سے زیادہ حقدار ہو، الا یہ کہ تم مجھے اس اگلے حصہ کا حقدار بنا دو ، اس نے کہا: اللہ کے رسول! میں نے آپ کو اس کا حقدار بنا دیا، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس پر سوار ہوئے۔
Narrated Abbad Ibn Abdullah Ibn az-Zubayr:
My foster-father said to me - he was one of Banu Murrah Ibn Awf, and he was present in that battle, the battle of Mu'tah: By Allah, as if I am seeing Jafar رضی اللہ عنہ who jumped from his reddish horse and hamstrung it; he then fought with the people until he was killed. Abu Dawud said: The tradition is not strong.
ہم سے عبداللہ بن محمد النفیلی نے بیان کیا، ہم سے محمد بن سلمہ نے بیان کیا، ان سے محمد بن اسحاق نے بیان کیا، مجھ سے ابن عباد نے بیان کیا,عباد بن عبداللہ بن زبیر کہتے ہیں کہ
میرے رضاعی والد نے جو بنی مرہ بن عوف میں سے تھے مجھ سے بیان کیا کہ وہ غزوہ موتہ کے غازیوں میں سے تھے، وہ کہتے ہیں: اللہ کی قسم! گویا کہ میں جعفر بن ابوطالب رضی اللہ عنہ کو دیکھ رہا ہوں جس وقت وہ اپنے سرخ گھوڑے سے کود پڑے اور اس کی کونچ کاٹ دی ، پھر دشمنوں سے لڑے یہاں تک کہ قتل کر دیئے گئے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ حدیث قوی نہیں ہے ۔
Narrated Abu Hurairah رضی اللہ عنہ :
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم said: Wagers are allowed only for racing camels, or horses or shooting arrows.
ہم سے احمد بن یونس نے بیان کیا، کہا ہم سے ابن ابی ذہب نے بیان کیا، وہ نافع بن ابی نافع کی سند سے, ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مقابلہ میں بازی رکھنا جائز نہیں سوائے اونٹ یا گھوڑے کی دوڑ میں یا تیر چلانے میں ۔
Abdullah bin Umar رضی اللہ عنہما said:
“The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم held race between the horses which had been made lean by training from Al Hafya’. The goal was Thaniyyat Al Wada’ and he held a race between the horses Banu Zuraiq and Abdullah رضی اللہ عنہما was one of the racers.
ہم سے عبداللہ بن مسلمہ القعنبی نے مالک کی سند سے اور نافع کی سند سے بیان کیا, عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھرتیلے چھریرے بدن والے گھوڑوں کے درمیان حفیاء سے ثنیۃ الوداع تک مقابلہ کرایا، اور غیر چھریرے بدن والے گھوڑوں، کے درمیان ثنیۃ الوداع سے مسجد بنی زریق تک مقابلہ کرایا اور عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بھی مقابلہ کرنے والوں میں سے تھے۔
Narrated Abdullah Ibn Umar رضی اللہ عنہما :
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم used to make lean by training horses which he employed in the race.
ہم سے مسدد نے بیان کیا، ہم سے معتمر نے بیان کیا، عبید اللہ سے، نافع کی سند سے, عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان گھوڑوں کو تربیت دے کر دبلا کر دیا کرتے تھے جنہیں آپ دوڑ میں لگاتے تھے۔