Abu Musa رضی اللہ عنہ said:
“A beduoin came to the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم and said “One man fights for reputation, one fights for being praised, one fights for booty and one for his place to be seen. (Which of them is in Allah’s path?)”. The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم replied “The one who fights that Allah’s word may have pre-eminence is in Allah’s path. ”
ہم سے حفص بن عمر نے بیان کیا، ہم سے شعبہ نے بیان کیا، انہوں نے عمرو بن مرہ سے اور ابو وائل کی سند سے, ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
ایک دیہاتی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور اس نے عرض کیا: کوئی شہرت کے لیے جہاد کرتا ہے کوئی جہاد کرتا ہے تاکہ اس کی تعریف کی جائے، کوئی اس لیے جہاد کرتا ہے تاکہ مال غنیمت پائے اور کوئی اس لیے جہاد کرتا ہے تاکہ اس مرتبہ کا اظہار ہو سکے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے صرف اس لیے جہاد کیا تاکہ اللہ کا کلمہ سربلند رہے تو وہی اصل مجاہد ہے ۔
Amr said: “I heard from Abu Wail a tradition which surprised me, he then narrated the tradition to the same effect (as mentioned before).
ہم سے علی بن مسلم نے بیان کیا، ہم سے ابوداؤد نے شعبہ کی سند سے بیان کیا،عمرو کہتے ہیں کہ میں نے اپنے والد وائل سے ایک حدیث سنی جو مجھے پسند آئی، پھر راوی نے اسی مفہوم کی حدیث ذکر کی۔
Narrated Abdullah Ibn Amr رضی اللہ عنہما :
Messenger of Allah, tell me about jihad and fighting. He replied: Abdullah ibn Amr, if you fight with endurance seeking from Allah your reward, Allah will resurrect you showing endurance and seeking your reward from Him, but, if you fight for vain show seeking to acquire much, Allah will resurrect you making a vain show and seeking to acquire much. In whatever you fight or are killed, Abdullah ibn Amr, in that state Allah will resurrect you.
ہم سے مسلم بن حاتم الانصاری نے بیان کیا، ہم سے عبدالرحمٰن بن مہدی نے بیان کیا، ہم سے محمد بن ابی الوداع نے بیان کیا، ان سے علاء بن عبداللہ بن رافع نے، حنان بن خارجہ کی سند سے، انہوں نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے کہا, عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
انہوں نے کہا: اللہ کے رسول! مجھے جہاد اور غزوہ کے بارے میں بتائیے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے عبداللہ بن عمرو! اگر تم صبر کے ساتھ ثواب کی نیت سے جہاد کرو گے تو اللہ تعالیٰ تمہیں صابر اور محتسب ( ثواب کی نیت رکھنے والا ) بنا کر اٹھائے گا، اور اگر تم ریاکاری اور فخر کے اظہار کے لیے جہاد کرو گے تو اللہ تمہیں ریا کار اور فخر کرنے والا بنا کر اٹھائے گا، اے عبداللہ بن عمرو! تم جس حال میں بھی لڑو یا شہید ہو اللہ تمہیں اسی حال پر اٹھائے گا ۔
Narrated Abdullah Ibn Abbas رضی اللہ عنہما :
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم said: When your brethren were smitten at the battle of Uhud, Allah put their spirits in the crops of green birds which go down to the rivers of Paradise, eat its fruit and nestle in lamps of gold in the shade of the Throne. Then when they experienced the sweetness of their food, drink and rest, they asked: Who will tell our brethren about us that we are alive in Paradise provided with provision, in order that they might not be disinterested in jihad and recoil in war? Allah Most High said: I shall tell them about you; so Allah sent down; And do not consider those who have been killed in Allah's path. till the end of the verse.
ہم سے عثمان بن ابی شیبہ نے بیان کیا، ہم سے عبداللہ بن ادریس نے بیان کیا، ان سے محمد بن اسحاق نے، ان سے اسماعیل بن امیہ نے، ابو الزبیر کی سند سے، وہ سعید بن جبیر رضی اللہ عنہ سے,عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تمہارے بھائی احد کے دن شہید کئے گئے تو اللہ نے ان کی روحوں کو سبز چڑیوں کے پیٹ میں رکھ دیا، جو جنت کی نہروں پر پھرتی ہیں، اس کے میوے کھاتی ہیں اور عرش کے سایہ میں معلق سونے کی قندیلوں میں بسیرا کرتی ہیں، جب ان روحوں نے اپنے کھانے، پینے اور سونے کی خوشی حاصل کر لی، تو وہ کہنے لگیں: کون ہے جو ہمارے بھائیوں کو ہمارے بارے میں یہ خبر پہنچا دے کہ ہم جنت میں زندہ ہیں اور روزی دیئے جاتے ہیں تاکہ وہ جہاد سے بے رغبتی نہ کریں اور لڑائی کے وقت سستی نہ کریں تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا: میں تمہاری جانب سے انہیں یہ خبر پہنچائوں گا ، راوی کہتے ہیں: تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت کریمہ «ولا تحسبن الذين قتلوا في سبيل الله أمواتا» جو اللہ کے راستے میں شہید کر دئیے گئے انہیں مردہ نہ سمجھو ( سورۃ آل عمران: ۱۶۹ ) اخیر آیت تک نازل فرمائی۔
Narrated Hasana' daughter of Muawiyah رضی اللہ عنہ :
She reported on the authority of her paternal uncle: I asked the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم: Who are in Paradise? He replied: Prophets are in Paradise, martyrs are in Paradise, infants are in Paradise and children buried alive are in Paradise.
ہم سے مسدد نے بیان کیا، ہم سے یزید بن زرعی نے بیان کیا، ہم سے عوف نے بیان کیا, حسناء بنت معاویہ کے چچا رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: جنت میں کون ہو گا؟ آپ نے فرمایا: نبی جنت میں ہوں گے، شہید جنت میں ہوں گے، ( نابالغ ) بچے اور زندہ درگور کئے گئے بچے جنت میں ہوں گے ۔
Narrated Umm Abud Darda رضی اللہ عنہا :
While we were orphans. She said: "Be delighted, for I have heard Abud Darda رضی اللہ عنہ saying: 'The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم said: The intercession of a martyr will be accepted for seventy members of his family. Abu Dawud said: The correct name if the narrator is Rabah bin al-Walid (and not al-walid bin Rabah as occurred in the chain of narrators in the text of the tradition)
ہم سے احمد بن صالح نے بیان کیا، ہم سے یحییٰ بن حسن نے بیان کیا، ہم سے ولید بن رباح ذماری نے بیان کیا، نمران بن عتبہ ذماری کہتے ہیں: ہم ام الدرداء رضی اللہ عنہا کے پاس گئے
اور ہم یتیم تھے، انہوں نے کہا: خوش ہو جاؤ کیونکہ میں نے ابو الدرداء رضی اللہ عنہ کو کہتے ہوئے سنا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: شہید کی شفاعت اس کے کنبے کے ستر افراد کے لیے قبول کی جائے گی ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: ( ولید بن رباح کے بجائے ) صحیح رباح بن ولید ہے۔
Narrated Aishah رضی اللہ عنہا , Ummul Muminin:
When Negus died, we were told that a light would be seen perpetually at his grave.
ہم سے محمد بن عمرو رازی نے بیان کیا، کہا ہم سے سلمہ یعنی ابن الفضل نے بیان کیا، ان سے محمد بن اسحاق نے بیان کیا، مجھ سے یزید بن رومان نے عروہ کی سند سے بیان کیا, ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ
جب نجاشی کا انتقال ہو گیا تو ہم کہا کرتے تھے کہ ان کی قبر پر ہمیشہ روشنی دکھائی دیتی ہے۔
Narrated Ubaydullah Ibn Khalid as-Sulami رضی اللہ عنہ :
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم made a brotherhood between two men, one of whom was killed (in Allah's path), and a week or thereabouts later the other died, and we prayed at his funeral). The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم asked: What did you say? We replied: We prayed for him and said: O Allah, forgive him, and join him to his companion. The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم said: What about his prayers since the time the other died, and his fasting since the time the other died--the narrator Shubah doubted the words, his fasting--and his deeds since the time the other died. The distance between them is just like the distance between heaven and earth.
ہم سے محمد بن کثیر نے بیان کیا، کہا ہم کو شعبہ نے عمرو بن مرہ سے خبر دی، انہوں نے کہا کہ میں نے عمرو بن میمون کو عبداللہ بن ربیعہ سے سنا, عبید بن خالد سلمی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو آدمیوں میں بھائی چارہ کرایا، ان میں سے ایک شہید کر دیا گیا اور دوسرے کا اس کے ایک ہفتہ کے بعد، یا اس کے لگ بھگ انتقال ہوا، ہم نے اس پر نماز جنازہ پڑھی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم نے کیا کہا؟ ہم نے جواب دیا: ہم نے اس کے حق میں دعا کی کہ: اللہ اسے بخش دے اور اس کو اس کے ساتھی سے ملا دے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کی نمازیں کہاں گئیں، جو اس نے اپنے ساتھی کے ( قتل ہونے کے ) بعد پڑھیں، اس کے روزے کدھر گئے جو اس نے اپنے ساتھی کے بعد رکھے، اس کے اعمال کدھر گئے جو اس نے اپنے ساتھی کے بعد کئے؟ ان دونوں کے درجوں میں ایسے ہی فرق ہے جیسے آسمان و زمین میں فرق ہے شعبہ کو «صومه بعد صومه» اور «عمله بعد عمله» میں شک ہوا ہے۔
Narrated Abu Ayyub رضی اللہ عنہ :
He heard the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم say: Capitals will be conquered at your hands, and you will have to raise companies in large armies. A man will be unwilling to join a company, so he will escape from his people and go round the tribes offering himself to them, saying: Whose place may I take in such and such expedition? Whose place may I take in such and such expedition? Beware: That man is a hireling to the last drop of his blood.
ہم سے ابراہیم بن موسیٰ رازی نے بیان کیا، انہوں نے ہمیں خبر دی۔ ہم سے عمرو بن عثمان نے بیان کیا، انہوں نے ہم سے بیان کیا - اور میں ان کی حدیث کے بارے میں زیادہ ثقہ ہوں - محمد بن حرب المعنی نے ابوسلمہ سلیمان بن سلیم سے، یحییٰ بن جبیر طائی کی سند سے، انہوں نے ابو عناری کے بھتیجے سے, ابوایوب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: عنقریب تم پر شہر کے شہر فتح کئے جائیں گے اور عنقریب ایک بھاری لشکر ہو گا اور اسی میں سے تم پر ٹکڑیاں متعین کی جائیں گی، تو تم میں سے جو شخص اس میں بغیر اجرت کے بھیجے جانے کو ناپسند کرے اور ( جہاد میں جانے سے بچنے کے لیے ) اپنی قوم سے علیحدہ ہو جائے، پھر قبیلوں کو تلاش کرتا پھرے اور اپنے آپ کو ان پر پیش کرے اور کہے کہ: کون مجھے بطور مزدور رکھے گا کہ میں اس کے لشکر میں کام کروں اور وہ میرا خرچ برداشت کرے؟ کون مجھے بطور مزدور رکھے گا کہ میں اس کے لشکر میں کام کروں اور وہ میرا خرچ برداشت کرے؟ خبردار وہ اپنے خون کے آخری قطرہ تک مزدور ہی رہے گا ۔
Narrated Abdullah Ibn Amr رضی اللہ عنہما :
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم said: The warrior gets his reward, and the one who equips him gets his own reward and that of the warrior.
ہم سے ابراہیم بن الحسن المصیصی نے بیان کیا، ان سے حجاج نے، یعنی ہم سے ابن محمد نے بیان کیا اور ہم سے عبد الملک بن شعیب نے بیان کیا، ہم سے ابن وہب نے لیث بن سعد کی سند سے، حیوۃ بن شریح سے، ابن شفی سے، اپنے والد سے, عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جہاد کرنے والے کو اس کے جہاد کا اجر ملے گا اور مجاہد کو تیار کرنے والے کو تیار کرنے اور غزوہ کرنے دونوں کا اجر ملے گا ۔
Narrated Yala Ibn Munyah رضی اللہ عنہ :
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم announced an expedition, and I was a very old man and I had no servant. I, therefore, sought a hireling who would serve instead of me, and I would give him his portion. So I found a man. When the time of departure arrived, he came to me and said: I do not know what would be the portions, and how much would be my portion. So offer something (as wages) to me, whether there would be any portion or not. I offered three dinars (as his wages) for him. When some booty arrived, I wanted to offer him his portion. But I remembered the dinars, so I went to the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم and mentioned the matter to him. He said: All I can find for him regarding this expedition of his in this world and the next is three dinars which were offered him.
ہم سے احمد بن صالح نے بیان کیا، ہم سے عبداللہ بن وہب نے بیان کیا، مجھے عاصم بن حکیم نے خبر دی، انہیں یحییٰ بن ابی عمرو السیبانی نے عبداللہ بن دیلمی کی سند سے, یعلیٰ بن منیہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ کا اعلان کیا اور میں بہت بوڑھا تھا میرے پاس کوئی خادم نہ تھا، تو میں نے ایک مزدور تلاش کیا جو میری خدمت کرے اور میں اس کے لیے اس کا حصہ جاری کروں، آخر میں نے ایک مزدور پا لیا، تو جب روانگی کا وقت ہوا تو وہ میرے پاس آیا اور کہنے لگا: میں نہیں جانتا کہ کتنے حصے ہوں گے اور میرے حصہ میں کیا آئے گا؟ لہٰذا میرے لیے کچھ مقرر کر دیجئیے خواہ حصہ ملے یا نہ ملے، لہٰذا میں نے اس کے لیے تین دینار مقرر کر دئیے، جب مال غنیمت آیا تو میں نے اس کا حصہ دینا چاہا، پھر خیال آیا کہ اس کے تو تین دینار مقرر ہوئے تھے، میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور آپ سے اس کا معاملہ بیان کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں اس کے لیے اس کے اس غزوہ میں دنیا و آخرت میں کچھ نہیں پاتا سوائے ان تین دیناروں کے جو متعین ہوئے ۔
Narrated Abdullah Ibn Amr رضی اللہ عنہما :
A man came to the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم and said: I came to you to take the oath of allegiance to you on emigration, and I left my parents weeping. He (the Prophet) said: Return to them and make them laugh as you made them weep.
ہم سے محمد بن کثیر نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا، کہا ہم سے عطاء بن السائب نے اپنے والد کی سند سے بیان کیا,عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ
ایک آدمی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر کہا: میں آپ سے ہجرت پر بیعت کرنے کے لیے آیا ہوں، اور میں نے اپنے ماں باپ کو روتے ہوئے چھوڑا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ان کے پاس واپس جاؤ، اور انہیں ہنساؤ جیسا کہ رلایا ہے ۔
Abdullah bin Amr رضی اللہ عنہما said:
“A man came to the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم and said “Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم, May I take part in jihad?” He asked “Do you have parents?” He replied “Yes”. So, strive for them. ” Abu Dawud said: The name of the narrator Abu al-Abbas, a poet, is al-Saib bin Farrukh.
ہم سے محمد بن کثیر نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا، انہوں نے حبیب بن ابی ثابت کی سند سے، وہ ابو العباس رضی اللہ عنہ سے, عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
ایک آدمی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہنے لگا: اللہ کے رسول! میں جہاد کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: کیا تمہارے ماں باپ زندہ ہیں؟ اس نے کہا: ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: انہیں دونوں میں جہاد کرو ابوداؤد کہتے ہیں: یہ ابو العباس شاعر ہیں جن کا نام سائب بن فروخ ہے۔
Narrated Abu Sa'id al-Khudri رضی اللہ عنہ :
A man came to the Messenger of Allah (ﷺ) and said: I came to you to take the oath of allegiance to you on emigration, and I left my parents weeping. He (the Prophet) said: Return to them and make them laugh as you made them weep.
ہم سے سعید بن منصور نے بیان کیا، کہا ہم سے عبداللہ بن وہب نے بیان کیا، کہا کہ مجھے عمرو بن حارث نے خبر دی کہ ان سے دراج ابو الصام نے ابو الہیثم کی سند سے بیان کیا, ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
ایک آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس یمن سے ہجرت کر کے آیا ، آپ نے اس سے فرمایا : ” کیا یمن میں تمہارا کوئی ہے ؟ “ اس نے کہا : ہاں ، میرے ماں باپ ہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا : ” انہوں نے تمہیں اجازت دی ہے ؟ “ اس نے کہا : نہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ان کے پاس واپس جاؤ اور اجازت لو ، اگر وہ اجازت دیں تو جہاد کرو ورنہ ان دونوں کی خدمت کرو “ ۔
Narrated Anas Ibn Malik رضی اللہ عنہ :
When the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم went on an expedition, he took Umm Sulaym رضی اللہ عنہا , and he had some women of the Ansar who supplied water and tended the wounded.
ہم سے عبدالسلام بن مطہر نے بیان کیا، ہم سے جعفر بن سلیمان نے ثابت کی سند سے بیان کیا, انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ام سلیم رضی اللہ عنہا کو اور انصار کی کچھ عورتوں کو جہاد میں لے جاتے تھے تاکہ وہ مجاہدین کو پانی پلائیں اور زخمیوں کا علاج کریں ۔
Narrated Anas Ibn Malik:
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم said: Three things are the roots of faith: to refrain from (killing) a person who utters, There is no god but Allah and not to declare him unbeliever whatever sin he commits, and not to excommunicate him from Islam for his any action; and jihad will be performed continuously since the day Allah sent me as a prophet until the day the last member of my community will fight with the Dajjal (Antichrist). The tyranny of any tyrant and the justice of any just (ruler) will not invalidate it. One must have faith in Divine decree.
ہم سے سعید بن منصور نے بیان کیا، ہم سے ابو معاویہ نے بیان کیا، ہم سے جعفر بن برقان نے بیان کیا، وہ یزید بن ابی نشبہ کی سند سے,انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تین باتیں ایمان کی اصل ہیں: جو لا الہٰ الا اللہ کہے اس ( کے قتل اور ایذاء ) سے رک جانا، اور کسی گناہ کے سبب اس کی تکفیر نہ کرنا، نہ اس کے کسی عمل سے اسلام سے اسے خارج کرنا۔ جہاد جاری رہے گا جس دن سے اللہ نے مجھے نبی بنا کر بھیجا ہے یہاں تک کہ میری امت کا آخری شخص دجال سے لڑے گا، کسی بھی ظالم کا ظلم، یا عادل کا عدل اسے باطل نہیں کر سکتا۔ تقدیر پر ایمان لانا ۔
Narrated Abu Hurairah رضی اللہ عنہ :
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم said: Striving in the path of Allah (jihad) is incumbent on you along with every ruler, whether he is pious or impious; the prayer is obligatory on you behind every believer, pious or impious, even if he commits grave sins; the (funeral) prayer is incumbent upon every Muslim, pious and impious, even if he commits major sins.
ہم سے احمد بن صالح نے بیان کیا، ہم سے ابن وہب نے بیان کیا، مجھ سے معاویہ بن صالح نے بیان کیا، ان سے علاء بن حارث نے مکحول کی سند سے, ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جہاد تم پر ہر امیر کے ساتھ واجب ہے خواہ وہ نیک ہو، یا بد اور نماز ہر مسلمان کے پیچھے واجب ہے خواہ وہ نیک ہو یا بد، اگرچہ وہ کبائر کا ارتکاب کرئے، اور نماز ( جنازہ ) واجب ہے ہر مسلمان پر نیک ہو یا بد اگرچہ کبائر کا ارتکاب کرے ۔
Narrated Jabir Ibn Abdullah رضی اللہ عنہما :
Once the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم intended to go on an expedition. He said: O group of the emigrants (Muhajirun) and the helpers (Ansar), among your brethren there are people who have neither property nor family. So one of you should take with him two or three persons; with me. I also rode on my camel by turns like one of them.
ہم سے محمد بن سلیمان الانباری نے بیان کیا، ہم سے عبیدہ بن حمید نے بیان کیا، ان سے اسود بن قیس نے بیان کیا، انہوں نے نوبیح الانازی کی سند سے, جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جہاد کا ارادہ کیا تو فرمایا: اے مہاجرین اور انصار کی جماعت! تمہارے بھائیوں میں سے کچھ لوگ ایسے ہیں جن کے پاس مال ہے نہ کنبہ، تو ہر ایک تم میں سے اپنے ساتھ دو یا تین آدمیوں کو شریک کر لے، تو ہم میں سے بعض کے پاس سواری نہیں ہوتی سوائے اس کے کہ وہ باری باری سوار ہوں ، تو میں نے اپنے ساتھ دو یا تین آدمیوں کو لے لیا، میں بھی صرف باری سے اپنے اونٹ پر سوار ہوتا تھا، جیسے وہ ہوتے تھے۔
Narrated Abdullah Ibn Hawalah al-Azdi رضی اللہ عنہ :
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم sent us on foot to get spoil, but we returned without getting any. When he saw the signs of distress on our faces, he stood up on our faces and said: O Allah, do not put them under my care, for I would be too weak to care for them; do not put them in care of themselves, for they would be incapable of that, and do not put them in the care of men, for they would choose the best things for themselves. He then placed his hand on my head and said: Ibn Hawalah, when you see the caliphate has settled in the holy land, earthquakes, sorrows and serious matters will have drawn near and on that day the Last Hour will be nearer to mankind than this hand of mine is to your head. Abu Dawud said: Abdullah bin Hawalah belongs to Hims.
ہم سے احمد بن صالح نے بیان کیا، ہم سے اسد بن موسیٰ نے بیان کیا، ہم سے معاویہ بن صالح نے بیان کیا، ضمرہ کا بیان ہے کہ ابن زغب ایادی نے ان سے بیان کیا کہ
عبداللہ بن حوالہ ازدی رضی اللہ عنہ میرے پاس اترے، اور مجھ سے بیان کیا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں بھیجا ہے کہ ہم پیدل چل کر مال غنیمت حاصل کریں، تو ہم واپس لوٹے اور ہمیں کچھ بھی مال غنیمت نہ ملا، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے چہروں پر پریشانی کے آثار دیکھے تو ہمارے درمیان کھڑے ہوئے اور فرمایا: اللہ! انہیں میرے سپرد نہ فرما کہ میں ان کی خبرگیری سے عاجز رہ جاؤں، اور انہیں ان کی ذات کے حوالہ ( بھی ) نہ کر کہ وہ اپنی خبرگیری خود کرنے سے عاجز آ جائیں، اور ان کو دوسروں کے حوالہ نہ کر کہ وہ خود کو ان پر ترجیح دیں ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ میرے سر پر یا میری گدی پر رکھا اور فرمایا: اے ابن حوالہ! جب تم دیکھو کہ خلافت شام میں اتر چکی ہے، تو سمجھ لو کہ زلزلے، مصیبتیں اور بڑے بڑے واقعات ( کے ظہور کا وقت ) قریب آ گیا ہے، اور قیامت اس وقت لوگوں سے اتنی قریب ہو گی جتنا کہ میرا یہ ہاتھ تمہارے سر سے قریب ہے ۔ابوداؤد نے کہا: عبداللہ بن حوالہ حمص کے ہیں۔
Narrated Abdullah Ibn Masud رضی اللہ عنہ :
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم said: Our Lord Most High is pleased with a man who fights in the path of Allah, the Exalted; then his companions fled away (i. e. retreated). But he knew that it was a sin (to flee away from the battlefield), so he returned, and his blood was shed. Thereupon Allah, the Exalted, says to His angels: Look at My servant; he returned seeking what I have for him (i. e. the reward), and fearing (the punishment) I have, until his blood was shed.
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، ہم سے حماد نے بیان کیا، انہیں عطاء بن السائب نے مرہ ہمدانی کی سند سے بیان کیا , عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہمارا رب اس شخص سے خوش ہوتا ہے ۱؎ جس نے اللہ کی راہ میں جہاد کیا، پھر اس کے ساتھی شکست کھا کر ( میدان سے ) بھاگ گئے اور وہ گناہ کے ڈر سے واپس آ گیا ( اور لڑا ) یہاں تک کہ وہ قتل کر دیا گیا، اس وقت اللہ تعالیٰ اپنے فرشتوں سے فرماتا ہے: میرے بندے کو دیکھو میرے ثواب کی رغبت اور میرے عذاب کے ڈر سے لوٹ آیا یہاں تک کہ اس کا خون بہہ گیا ۔