Abdullah bin Amr Al-Gazzi narrated:
Abu Mishar was told about Ubna. He said “We know it better. This is Yubna of Palestine.
عبداللہ بن عمرو غزی کہتے ہیں کہ
ابومسہر کے سامنے ابنیٰ کا تذکرہ آیا تو میں نے ان کو کہتے ہوئے سنا: ہم جانتے ہیں یہ یُبنی ہے جو فلسطین میں ہے۔
Anas رضی اللہ عنہ said:
“The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم sent Busaisah as a spy to see what the caravan of Abu Sufyan was doing. ”
ہم سے ہارون بن عبداللہ نے بیان کیا، ہم سے ہاشم بن القاسم نے بیان کیا، ان سے سلیمان نے، ہم سے ابن المغیرہ نے ثابت کی سند سے بیان کیا, انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بسیسہ کو جاسوس بنا کر بھیجا تاکہ وہ دیکھیں کہ ابوسفیان کا قافلہ کیا کر رہا ہے۔
Narrated Samurah Ibn Jundub رضی اللہ عنہ :
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم said: When one of you comes to the cattle, he should seek permission of their master if he is there; if he permits, he should milk (the animals) and drink. If he is not there, he should call three times. If he responds, he should seek his permission; otherwise, he may milk (the animals) and drink, but should not carry (with him).
ہم سے عیاش بن ولید رقام نے بیان کیا، کہا ہم سے عبد الاعلٰی نے بیان کیا، کہا ہم سے سعید نے قتادہ کی سند سے اور حسن کی سند سے, سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی کسی جانور کے پاس سے گزرے اور اس کا مالک موجود ہو تو اس سے اجازت لے، اگر وہ اجازت دیدے تو دودھ دوہ کر پی لے اور اگر اس کا مالک موجود نہ ہو تو تین بار اسے آواز دے، اگر وہ آواز کا جواب دے تو اس سے اجازت لے، ورنہ دودھ دوہے اور پی لے، لیکن ساتھ نہ لے جائے ۔
Narrated Abbad Ibn Shurahbil رضی اللہ عنہ :
I suffered from drought; so I entered a garden of Madina, and rubbed an ear-corn. I ate and carried in my garment. Then its master came, he beat me and took my garment. He came to the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم who said to him: You did not teach him if he was ignorant; and you did not feed him if he was hungry. He ordered him, so he returned my garment to me, and gave me one or half a wasq (sixty or thirty sa's) of corn.
ہم سے عبیداللہ بن معاذ العنبری نے بیان کیا، ہم سے میرے والد نے بیان کیا، ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ابو بشر کی سند سے, عباد بن شرحبیل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
مجھے قحط نے ستایا تو میں مدینہ کے باغات میں سے ایک باغ میں گیا اور کچھ بالیاں توڑیں، انہیں مل کر کھایا، اور ( باقی ) اپنے کپڑے میں باندھ لیا، اتنے میں اس کا مالک آ گیا، اس نے مجھے مارا اور میرا کپڑا چھین لیا، میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا ( اور آپ سے سارا ماجرا بتایا ) ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مالک سے فرمایا: تم نے اسے بتایا نہیں جب کہ وہ جاہل تھا اور نہ کھلایا ہی جب کہ وہ بھوکا تھا ، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے حکم دیا اس نے میرا کپڑا واپس کر دیا اور ایک وسق ( ساٹھ صاع ) یا نصف وسق ( تیس صاع ) غلہ مجھے دیا۔
Abu Bishr رضی اللہ عنہ said:
“I heard Abbad bin ‘Shurahbil a man of us from Banu Ghubar. He narrated the reast of the tradition to the same effect. ”
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا، کہا ہم سے محمد بن جعفر نے شعبہ کی سند سے بیان کیا, ابوبشر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
میں نے عباد بن شرحبیل سے جو ہمیں میں سے قبیلہ بنو غبر کے ایک فرد تھے اسی مفہوم کی حدیث سنی۔
Narrated The uncle of Abu Rafi Ibn Amr al-Ghifari:
I was a boy. I used to throw stones at the palm-trees of the Ansar. So I was brought to the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم who said: O boy, why do you throw stones at the palm-trees? I said: eat (dates). He said: Do not throw stones at the palm trees, but eat what falls beneath them. He then wiped his head and said: O Allah, fill his belly.
ابی شیبہ کے بیٹوں عثمان اور ابوبکر نے ہم سے بیان کیا - اور یہ ابوبکر کا قول ہے - معتمر بن سلیمان سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نے ابن ابی حکم الغفاری کو کہتے سنا: مجھ سے میری دادی نے بیان کیا، ابورافع بن عمرو غفاری کے چچا کہتے ہیں کہ
میں کم سن تھا اور انصار کے کھجور کے درختوں پر ڈھیلے مارا کرتا تھا، لوگ مجھے ( پکڑ کر ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لائے، آپ نے فرمایا: بچے! تم کھجور کے درختوں پر کیوں پتھر مارتے ہو؟ میں نے عرض کیا: ( کھجوریں ) کھانے کی غرض سے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پتھر نہ مارا کرو، جو نیچے گرا ہو اسے کھا لیا کرو ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے سر پر ہاتھ پھیرا، اور میرے لیے دعا کی کہ اے اللہ اس کے پیٹ کو آسودہ کر دے۔
Abdullah bin Umar رضی اللہ عنہما reported:
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم as saying “One should not milk the cattle of anyone without his permission. Does anyone of you like that any one approaches his corn cell and its storage is broken and then the corn scatters away? Likewise, the teats of their Cattle store their food. Therefore none of you should milk the cattle of anyone without his permission. ”
ہم سے عبداللہ بن مسلمہ نے مالک کی سند سے اور نافع کی سند سے بیان کیا, عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کوئی کسی کے جانور کو اس کی اجازت کے بغیر نہ دوہے، کیا تم میں سے کوئی اس بات کو پسند کرتا ہے کہ اس کے بالاخانہ میں آ کر اس کا گودام توڑ کر غلہ نکال لیا جائے؟ اسی طرح ان جانوروں کے تھن ان کے مالکوں کے گودام ہیں تو کوئی کسی کا جانور اس کی اجازت کے بغیر نہ دوہے ۔
Ibn Juraij said:
“O ye who believe, Obey Allaah and obey the Messenger and those charged with authority amongst you. ” This verse was revealed about Abdullah bin Qais bin Adi رضی اللہ عنہ whom the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم sent along with a detachment. Yala narrated it to me from Saeed bin Jubair on the authority of Ibn Abbas.
ہم سے زہیر بن حرب نے بیان کیا، ہم سے حجاج نے بیان کیا، انہوں نے کہا: ابن جریج نے کہا
آیت «يا أيها الذين آمنوا أطيعوا الله وأطيعوا الرسول وأولي الأمر منكم» اے ایمان والو! فرمانبرداری کرو اللہ تعالیٰ کی اور فرمانبرداری کرو رسول ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کی اور اپنے میں سے اختیار والوں کی ( سورۃ النساء: ۵۹ ) عبداللہ ( عبداللہ بن حذافہ ) قیس بن عدی رضی اللہ عنہ کے بارے میں نازل ہوئی ہے جنہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک سریہ میں بھیجا تھا۔مجھ سے یعلی نے اسے سعید بن جبیر سے ابن عباس سے روایت کیا ہے۔
Ali (رضی اللہ عنہ) said:
“The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم sent an army and appointed a man as a commander for them and he commanded them to listen to him and obey. He kindled fire and ordered them to jump into it. A group refused to enter into it and said “We escaped from the fire; a group intended to enter into it. When the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم was informed about it, he said “Had they entered into it, they would have remained into it. There is no obedience in matters involving disobedience to Allah. Obedience is in matters which are good and universally recognized.
ہم سے عمرو بن مرزوق نے بیان کیا، کہا ہم کو شعبہ نے بیان کیا، انہوں نے زبید کی سند سے، وہ سعد بن عبیدہ سے، وہ ابو عبدالرحمٰن سلمی کی سند سے, علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک لشکر بھیجا، اور ایک آدمی کو اس کا امیر بنایا اور لشکر کو حکم دیا کہ اس کی بات سنیں، اور اس کی اطاعت کریں، اس آدمی نے آگ جلائی، اور لوگوں کو حکم دیا کہ وہ اس میں کود پڑیں، لوگوں نے اس میں کودنے سے انکار کیا اور کہا: ہم تو آگ ہی سے بھاگے ہیں اور کچھ لوگوں نے اس میں کود جانا چاہا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ خبر پہنچی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر وہ اس میں داخل ہو گئے ہوتے تو ہمیشہ اسی میں رہتے ، اور فرمایا: اللہ کی معصیت میں کسی کی اطاعت نہیں، اطاعت تو بس نیکی کے کام میں ہے ۔
Abdullah bin Masud رضی اللہ عنہما reported:
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم as saying “Listening and Obedience are binding on a Muslim whether he likes or dislikes, so long as he is not commanded for disobedience (to Allah). If he is commanded to disobedience (to Allah), no listening and disobedience are binding (on him).
ہم سے مسدد نے بیان کیا، ہم سے یحییٰ نے بیان کیا، عبید اللہ سے، مجھ سے نافع نے بیان کیا, عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مسلمان آدمی پر امیر کی بات ماننا اور سننا لازم ہے چاہے وہ پسند کرے یا ناپسند، جب تک کہ اسے کسی نافرمانی کا حکم نہ دیا جائے، لیکن جب اسے نافرمانی کا حکم دیا جائے تو نہ سننا ہے اور نہ ماننا ہے ۔
Narrated Uqbah Ibn Malik رضی اللہ عنہ :
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم sent a detachment. I gave a sword to a man from among them. When he came back, he said: Would that you saw us how the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم rebuked us, saying: When I sent out a man who does not fulfil my command, are you unable to appoint in his place one who will fulfil my command.
ہم سے یحییٰ بن معین نے بیان کیا، ہم سے عبد الصمد بن عبد الوارث نے بیان کیا، ہم سے سلیمان بن مغیرہ نے بیان کیا، ہم سے حمید بن ہلال نے بشر بن عاصم کی سند سے بیان کیا, عقبہ بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک سریہ ( دستہ ) بھیجا، میں نے ان میں سے ایک شخص کو تلوار دی، جب وہ لوٹ کر آیا تو کہنے لگا: کاش آپ وہ دیکھتے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم کو ملامت کی ہے، آپ نے فرمایا: کیا تم سے یہ نہیں ہو سکتا تھا کہ جب میں نے ایک شخص کو بھیجا اور وہ میرا حکم بجا نہیں لایا تو تم اس کے بدلے کسی ایسے شخص کو مقرر کر دیتے جو میرا حکم بجا لاتا ۔
Narrated Abu Thalabah al-Khushani رضی اللہ عنہ :
When the people encamped, (the narrator Amr Ibn Uthman al-Himsi) said: When the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم encamped, the people scattered in the glens and wadis. The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم said: Your scattering in these glens and wadis is only of the devil. They afterwards kept close together when they encamped to such an extent that it used to be said that if a cloth were spread over them, it would cover them all.
ہم سے عمرو بن عثمان الحمصی اور یزید بن قبیس نے حمص کے ساحل پر جبلہ کے رہنے والوں سے بیان کیا اور یہ یزید کا قول ہے، انہوں نے کہا: ہم سے ولید بن مسلم نے عبداللہ بن علاء کی سند سے بیان کیا کہ انہوں نے مسلم بن مشکم، ابو عبید اللہ رضی اللہ عنہ سے سنا, ابوثعلبہ خشنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
جب لوگوں نے پڑاؤ ڈالا تو (راوی عمرو بن عثمان الحمصی) نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی جگہ اترتے تو لوگ گھاٹیوں اور وادیوں میں بکھر جاتے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہارا ان گھاٹیوں اور وادیوں میں بکھر جانا شیطان کی جانب سے ہے ، اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کسی جگہ نہیں اترے مگر بعض بعض سے اس طرح سمٹ جاتا کہ یہ کہا جاتا کہ اگر ان پر کوئی کپڑا پھیلا دیا جاتا تو سب کو ڈھانپ لیتا۔
Narrated Muadh Ibn Anas al-Juhani رضی اللہ عنہ :
I fought along with the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم in such and such battles. The people occupied much space and encroached on the road. The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم sent an announcer to announce among the people: Those who occupy much space or encroach on the road will not be credited with jihad.
ہم سے سعید بن منصور نے بیان کیا، ہم سے اسماعیل بن عیاش نے بیان کیا، ان سے اسید بن عبدالرحمٰن الخثامی نے، فروہ بن مجاہد لخمی کی سند سے، سہل بن معاذ بن انس جھنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
میں نے اللہ کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ فلاں اور فلاں غزوہ کیا تو لوگوں نے پڑاؤ کی جگہ کو تنگ کر دیا اور راستے مسدود کر دیئے تو اللہ کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک منادی کو بھیجا جو لوگوں میں اعلان کر دے کہ جس نے پڑاؤ کی جگہیں تنگ کر دیں، یا راستہ مسدود کر دیا تو اس کا جہاد نہیں ہے۔
Sahl bin Muadh رضی اللہ عنہ reported on the authority of his father:
“We fought along with the Prophet of Allah صلی اللہ علیہ وسلم. The rest of the tradition is to the same effect. ”
ہم سے عمرو بن عثمان نے بیان کیا، ہم سے بقیع نے بیان کیا، انہوں نے اوزاعی کی سند سے، اسید بن عبدالرحمٰن نے، فروہ بن مجاہد سے، سہل بن معاذ رضی اللہ عنہ سے اپنے والد سے، انہوں نے کہا
ہم نے اللہ کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ غزوہ کیا، پھر راوی نے اسی مفہوم کی حدیث بیان کی۔
Salim Abu Al Nadr, client of Umar bin Ubaidullah that is Ibn Mamar who Salim was his (Umar’s) secretary reported:
“When Abdullah bin Abi Afwa رضی اللہ عنہ went out to the Haruriyyah (Khawarij), he wrote to him (Umar bin Ubaidullah), The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم said on a certain day when he was fighting with the enemy. O people do not desire to meet the enemy, ask Allah, Most High, for health and security. When you meet them (the enemy) have patience and endurance, you should know that paradise is under the shade of swords. He then said “O Allah, Who sends down the Book, makes the cloud to travel and rotes the confederates, tout them and give us victory over them. ”
ہم سے ابوصالح محبوب بن موسیٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے ابواسحاق الفزاری نے بیان کیا، وہ موسیٰ بن عقبہ کی سند سے، وہ سلیم کی سند سے, عمر بن عبیداللہ بن معمر کے غلام اور ان کے کاتب (سکریٹری) سالم ابونضر کہتے ہیں کہ
عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ نے ان کو جب وہ خارجیوں کی طرف سے نکلے لکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک لڑائی میں جس میں دشمن سے سامنا تھا فرمایا: لوگو! دشمنوں سے مڈبھیڑ کی تمنا نہ کرو، اور اللہ تعالیٰ سے عافیت طلب کرو، لیکن جب ان سے مڈبھیڑ ہو جائے تو صبر سے کام لو، اور جان لو کہ جنت تلواروں کے سائے تلے ہے ، پھر فرمایا: اے اللہ! کتابوں کے نازل فرمانے والے، بادلوں کو چلانے والے، اور جتھوں کو شکست دینے والے، انہیں شکست دے، اور ہمیں ان پر غلبہ عطا فرما ۔
Narrated Anas Ibn Malik رضی اللہ عنہ :
When the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم went on an expedition, he said: O Allah, Thou art my aider and helper; by Thee I move, by Thee I attack, and by Thee I fight.
ہم سے نصر بن علی نے بیان کیا، کہا ہم سے میرے والد نے بیان کیا، کہا ہم سے المثنیٰ بن سعید نے، قتادہ کی سند سے, انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب غزوہ کرتے تو فرماتے: «اللهم أنت عضدي ونصيري بك أحول وبك أصول وبك أقاتل» اے اللہ! تو ہی میرا بازو اور مددگار ہے، تیری ہی مدد سے میں چلتا پھرتا ہوں، اور تیری ہی مدد سے میں حملہ کرتا ہوں، اور تیری ہی مدد سے میں قتال کرتا ہوں ۔
Ibn Awn said:
“I wrote to Nafi asking him about summoning the polytheists (to Islam) at the time of fighting. So, he wrote to me “This was in the early days of Islam. The Prophet of Allaah صلی اللہ علیہ وسلم attacked Banu Al Mustaliq while they were inattentive and their cattle were drinking water. So their fighters were killed and the survivors (i. e., women and children) were taken prisoners. On that day Juwairiyyah daughter of Al Harith was obtained. Abdullah رضی اللہ عنہما narrated this to me, he was in that army. ” Abu Dawud said “This is a good tradition narrated by Ibn Awn from Nafi and no one shared him in narrating it. ”
ہم سے سعید بن منصور نے بیان کیا، ہم سے اسماعیل بن ابراہیم نے بیان کیا, ابن عون کہتے ہیں کہ
میں نے نافع کے پاس لڑائی کے وقت کفار و مشرکین کو اسلام کی دعوت دینے کے بارے میں پوچھنے کے لیے خط لکھا، تو انہوں نے مجھے لکھا: یہ شروع اسلام میں تھا ( اس کے بعد ) اللہ کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قبیلہ بنو مصطلق پر حملہ کیا، وہ غفلت میں تھے، اور ان کے چوپائے پانی پی رہے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان میں سے جو لڑنے والے تھے انہیں قتل کیا، اور باقی کو گرفتار کر لیا ، اور جویریہ بنت الحارث ۲؎ کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی دن پایا، یہ بات مجھ سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کی جو خود اس لشکر میں تھے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ ایک عمدہ حدیث ہے، اسے ابن عون نے نافع سے روایت کیا ہے اور اس میں ان کا کوئی شریک نہیں۔
Anas رضی اللہ عنہ said:
“The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم used to attack at the time of the dawn prayer and hear. If he heard a call to prayer, he would refrain from them, otherwise would attack (them).
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے حماد نے بیان کیا، کہا ہم سے ثابت نے بیان کیا، انس رضی اللہ عنہ سے
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فجر کے وقت حملہ کرتے تھے اور غور سے ( اذان ) سننے کی کوشش کرتے تھے جب اذان سن لیتے تو رک جاتے، ورنہ حملہ کر دیتے ۔
Narrated Isam al-Muzani رضی اللہ عنہ :
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم sent us in a detachment and said (to us): If you see a mosque or hear a muadhdhin (calling to prayer), do not kill anyone.
ہم سے سعید بن منصور نے بیان کیا، انہیں سفیان نے عبدالملک بن نوفل بن مصاحق کی سند سے خبر دی, عصام مزنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم کو ایک سریہ میں بھیجا اور فرمایا: جب تم کوئی مسجد دیکھنا، یا کسی مؤذن کو اذان دیتے ہوئے سننا تو کسی کو قتل نہ کرنا ۔
Jabir رضی اللہ عنہ reported:
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم as saying “War is deception. ”
ہم سے سعید بن منصور نے بیان کیا، ہم سے سفیان نے عمرو کی سند سے بیان کیا, جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لڑائی دھوکہ و فریب کا نام ہے ۔