Abbas bin Abdul-Muttalib رضی اللہ عنہ said:
He heard the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم as saying: when a servant (of Allah) prostrates himself, the seven limbs, i.e, his face, his palms, his knees and his feet prostrate along with him.
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، ان سے بکر، یعنی ابن مضر نے، ہم سے ابن الہادی نے بیان کیا، انہوں نے محمد بن ابراہیم کی سند سے، وہ عامر بن سعد کی سند سے, عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: جب بندہ سجدہ کرتا ہے تو اس کے ساتھ سات اعضاء: چہرہ ، دونوں ہاتھ، دونوں گھٹنے اور دونوں قدم سجدہ کرتے ہیں ۔
Narrated Abdullah Ibn Umar رضی اللہ عنہما :
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم said: Both hands prostrate as the face prostrates. When one of you puts his face (on the ground) he should put his hands too (on the ground). And when he raises it, he should raise them too.
ہم سے احمد بن حنبل نے بیان کیا، ہم سے اسماعیل نے بیان کیا، یعنی ابن ابراہیم نے، ہم سے ایوب کی سند سے، نافع کی سند سے, عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مرفوعاً روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بیشک دونوں ہاتھ سجدہ کرتے ہیں جیسے چہرہ سجدہ کرتا ہے، تو جب تم میں سے کوئی اپنا چہرہ زمین پر رکھے تو چاہیئے کہ دونوں ہاتھ بھی رکھے اور جب چہرہ اٹھائے تو چاہیئے کہ انہیں بھی اٹھائے ۔
Abu Hurairah رضی اللہ عنہ reported:
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم as saying; when you come to pray while we are prostrating ourselves, you must prostrate yourselves, and do not reckon it anything (rak’ah) he has been present at the prayer.
ہم سے محمد بن یحییٰ بن فارس نے بیان کیا، کہا کہ ان سے سعید بن الحکم نے بیان کیا، انہیں نافع بن یزید نے خبر دی، ان سے یحییٰ بن ابی سلیمان نے بیان کیا، ان سے زید بن ابی العتاب اور ابن مقبری رضی اللہ عنہم نے بیان کیا, ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم نماز میں آؤ اور ہم سجدہ میں ہوں تو تم بھی سجدہ میں چلے جاؤ اور تم اسے کچھ شمار نہ کرو، اور جس نے رکعت پالی تو اس نے نماز پالی ۔
Abu saeed al-Khudri رضی اللہ عنہ said:
The mark of earth was seen on the forehead and nose of the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم due to the prayer in which he led the people.
ہم سے ابن المثنیٰ نے بیان کیا، ہم سے صفوان بن عیسیٰ نے بیان کیا، ہم سے معمر نے بیان کیا، وہ یحییٰ بن ابی کثیر کی سند سے، ابو سلمہ رضی اللہ عنہ سے, ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشانی اور ناک پر ( شب قدر میں ) اس نماز کی وجہ سے جو آپ نے لوگوں کو پڑھائی، مٹی کا اثر دیکھا گیا۔
The above mentioned tradition has also been transmitted by Mamar رضی اللہ عنہ through a different chain of narrators to the same effect.
ہم سے محمد بن یحییٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالرزاق نے، معمر رضی اللہ عنہ سے ایسا ہی کچھ بیان کیا۔
Narrated Abu Ishaq:
Al-Bara رضی اللہ عنہ described to us (the nature of prostration). He placed his hands (palms), reclined on his knees, and raised his hips; he said: This is how the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم used to prostrate himself.
ہم سے ربیع بن نافع ابو توبہ نے بیان کیا، ہم سے شریک نے بیان کیا، ابواسحاق کہتے ہیں کہ
براء بن عازب رضی اللہ عنہ نے ہمیں سجدہ کرنے کا طریقہ بتایا تو انہوں نے اپنے دونوں ہاتھ زمین پر رکھے اور اپنے دونوں گھٹنوں پر ٹیک لگائی اور اپنی سرین کو بلند کیا اور کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اسی طرح سجدہ کرتے تھے۔
Anas رضی اللہ عنہ reported:
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم as saying; Adopt a moderate position when prostrating yourselves, and see that none of you stretches out his forearms (on the ground) like a dog.
ہم سے مسلم بن ابراہیم نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، قتادہ کی سند سے , انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سجدے میں اعتدال کرو اور تم میں سے کوئی شخص اپنے ہاتھوں کو کتے کی طرح نہ بچھائے ۔
Maimunah رضی اللہ عنہا said:
When the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم prostrated himself, he kept his arms so far away from his sides that if a lamb had wanted to pass under his arms, it could have done so.
ہم سے قتیبہ نے بیان کیا، ہم سے سفیان نے بیان کیا، ان سے عبید اللہ بن عبداللہ نے اپنے چچا یزید بن الا صم کی سند سے, ام المؤمنین میمونہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب سجدہ کرتے تو دونوں ہاتھ ( بغل سے ) جدا رکھتے یہاں تک کہ اگر کوئی بکری کا بچہ آپ کے دونوں ہاتھوں کے نیچے سے گزرنا چاہتا تو گزر جاتا۔
Narrated Abdullah Ibn Abbas رضی اللہ عنہما :
I came to the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم from behind. I saw the whiteness of his armpits and he kept his arms away from his sides and raised his stomach (from the ground).
ہم سے عبداللہ بن محمد النفیلی نے بیان کیا، کہا ہم سے زہیر نے بیان کیا، ہم سے ابواسحاق نے بیان کیا، تمیمی کی سند سے، جنہوں نے تفسیر بیان کی، عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آپ کے پیچھے سے آیا ( اور آپ سجدے میں تھے ) تو میں نے آپ کی بغلوں کی سفیدی دیکھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس طرح سجدہ کئے ہوئے تھے کہ اپنے دونوں بازو پسلیوں سے جدا کئے ہوئے تھے اور اپنا پیٹ زمین سے اٹھائے ہوئے تھے۔
Narrated Ahmar Ibn Jaz رضی اللہ عنہ :
When the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم prostrated himself, he kept his arms far away from his sides so much so that we took pity on him.
ہم سے مسلم بن ابراہیم نے بیان کیا، ہم سے عباد بن راشد نے بیان کیا، ہم سے حسن نے بیان کیا، احمر بن جزء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب سجدہ کرتے تو اپنے دونوں بازو اپنے دونوں پہلوؤں سے جدا رکھتے یہاں تک کہ ہمیں ( آپ کی تکلیف و مشقت پر ) رحم آ جاتا۔
Abu Hurairah رضی اللہ عنہ reported:
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم as saying: when one of you prostrates himself, he should not stretch out his forearms ( on the ground) like a dog and he should join both of his thighs.
ہم سے عبد الملک بن شعیب بن لیث نے بیان کیا، ہم سے ابن وہب نے بیان کیا، ہم سے لیث نے دراج کی سند سے، ابن حجیرہ رضی اللہ عنہ سے, ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی سجدہ کرے تو اپنے دونوں ہاتھ کتے کی طرح نہ بچھائے اور چاہیئے کہ اپنی دونوں رانوں کو ملا کر رکھے ۔
Narrated Abu Hurairah رضی اللہ عنہ :
The Companions of the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم complained to the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم regarding the difficulty (they felt) when they spread (their arms out) during prostration. So he replied: '(Use your) knees to help you.
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، ہم سے لیث نے بیان کیا، انہوں نے ابن عجلان سے، سمی کی سند سے، ابو صالح کی سند سے, ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے شکایت کی کہ جب لوگ پھیل کر سجدہ کرتے ہیں تو سجدے میں ہمیں تکلیف ہوتی ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: زانو ( گھٹنے ) سے مدد لے لیا کرو ۔
Narrated Abdullah Ibn Umar: Saeed Ibn Ziyad Ibn Subayh al-Hanafi said:
I prayed by the side of Ibn Umar رضی اللہ عنہما and I put my hands on my waist. When he finished his prayer, He said: This is a cross in prayer; the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم used to forbid it.
ہم سے ہناد بن سری نے وکیع کی سند سے سعید بن زیاد کی سند سے بیان کیا, زیاد بن صبیح حنفی کہتے ہیں کہ
میں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما کے بغل میں نماز پڑھی، اور اپنے دونوں ہاتھ کمر پر رکھ لیے، جب آپ نماز پڑھ چکے تو کہا: یہ ( کمر پر ہاتھ رکھنا ) نماز میں صلیب ( سولی ) کی شکل ہے ، اس سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم منع فرماتے تھے۔
Narrated Mutarrif reported from his father:
I saw the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم praying and a sound came from his breast like the rumbling of a mill owing to weeping.
مجھ سے عبدالرحمٰن بن محمد بن سلام نے بیان کیا، کہا ہم سے یزید نے بیان کیا، ہم سے ابن ہارون نے بیان کیا، کہا ہم سے حماد نے بیان کیا، ابن سلمہ نے، ثابت کی سند سے، مطرف کی سند سے، اپنے والد سے، انہوں نے کہا
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز پڑھتے ہوئے دیکھا، آپ کے سینے سے رونے کی وجہ سے چکی کی آواز کے مانند آواز آتی تھی۔
Zaid bin Khalid al-Juhani رضی اللہ عنہ reported:
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم as saying: Anyone who performs ablution and performs his ablution well, and then he offers two rak’ahs of prayers in a way that he does not forget ( anything in it), will be forgiven all his past sins.
ہم سے احمد بن محمد بن حنبل نے بیان کیا، ہم سے عبد الملک بن عمرو نے بیان کیا، ان سے ہشام نے، یعنی ابن سعد نے، کہا ہم سے زید بن اسلم نے بیان کیا، وہ عطاء بن یسار کی سند سے, زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص اچھی طرح وضو کرے پھر دو رکعت نماز ادا کرے ان میں وہ بھولے نہیں تو اس کے پچھلے گناہ بخش دئیے جائیں گے ۔
Uqbah bin Amir al-Juhani رضی اللہ عنہ reported:
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم as saying: Any one performs ablution and performs the ablution perfectly and then offers two rak’ahs of prayers concentrating on them with his heart and face but paradise will necessarily fall to his lot.
ہم سے عثمان بن ابی شیبہ نے بیان کیا، ہم سے زید بن حباب نے بیان کیا، ہم سے معاویہ بن صالح نے بیان کیا، ان سے ربیعہ بن یزید نے بیان کیا، وہ ابو ادریس خولانی نے جبیر بن حضرمی رضی اللہ عنہ سے, عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص بھی اچھی طرح وضو کرے اور اپنے دل اور چہرے کو پوری طرح سے متوجہ کر کے دو رکعت نماز ادا کرے تو اس کے لیے جنت واجب ہو جائے گی ۔
Narrated Al-Miswar Ibn Yazid al-Maliki رضی اللہ عنہ :
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم recited - Yahya (sub narrator) said: Sometimes al-Miswar said: I prayed along with the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم and witnessed that he recited - the Quran during the prayer and omitted something (i.e. some verses inadvertently) which he did not recite. A man said to him: Messenger of Allah, you omitted such-and-such verse. The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم said: Why did you not remind me of it? The narrator Sulayman said in his version: He (the man) said: I thought that it (the verse) was repealed. Ibn ‘Umar رضی اللہ عنہما said : The Prophet (ﷺ) prayed and recited the Qur’an in it. He was then confused in it (in his recitation). When he finished (his prayer), he said to Ubayy (bin Ka’b): Did you pray along with us? He said: Yes. He said: What prevented you (from correcting me)?
ہم سے محمد بن العلاء اور سلیمان بن عبدالرحمٰن الدمشقی نے بیان کیا کہ ہمیں مروان بن معاویہ نے یحییٰ کاہلی کی سند سے خبر دی, مسور بن یزید مالکی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز میں قرآت کر رہے تھے، ( یحییٰ کی روایت میں ہے کبھی مسور نے یوں کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ نماز میں قرآت کر رہے تھے ) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ آیتیں چھوڑ دیں، انہیں نہیں پڑھا ( نماز کے بعد ) ایک شخص نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ نے فلاں فلاں آیتیں چھوڑ دی ہیں، اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم نے مجھے یاد کیوں نہیں دلایا؟ ۔ سلیمان نے اپنی روایت میں کہا کہ: میں یہ سمجھتا تھا کہ وہ منسوخ ہو گئی ہیں - سلیمان کی روایت میں ہے کہ مجھ سے یحییٰ بن کثیر ازدی نے بیان کیا، وہ کہتے ہیں: ہم سے مسور بن یزید اسدی مالکی نے بیان کیا۔ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھی، اس میں قرآت کی تو آپ کو شبہ ہو گیا، جب نماز سے فارغ ہوئے تو ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے پوچھا: کیا تم نے ہمارے ساتھ نماز پڑھی ہے؟ ، ابی نے کہا: ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہیں ( لقمہ دینے سے ) کس چیز نے روک دیا؟ ۔
Narrated Ali Ibn Abu Talib رضی اللہ عنہ :
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم said: Ali, do not instruct the imam during the prayer. Abu Dawud said: The narrator Abu Ishaq heard only for traditions from al-Harith, this tradition is not one of them.
ہم سے عبد الوہاب بن نجدہ نے بیان کیا، ہم سے محمد بن یوسف الفریابی نے بیان کیا، ان سے یونس بن ابی اسحاق نے، ابی اسحاق کی سند سے، وہ حارث کی سند سے, علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: علی! تم نماز میں امام کو لقمہ مت دیا کرو ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: ابواسحاق نے حارث سے صرف چار حدیثیں سنی ہیں اور حدیث ان میں سے نہیں ہے۔
Narrated Abu Dharr رضی اللہ عنہ :
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم said: Allah, the Most High, continues to turn favourably towards a servant while he is engaged in prayer as long as he does not look to the side (by turning the neck), but if he does so, He turns away from him.
ہم سے احمد بن صالح نے بیان کیا، کہا ہم سے ابن وہب نے بیان کیا، انہوں نے کہا: مجھے یونس نے خبر دی، وہ ابن شہاب کی سند سے، انہوں نے کہا: میں نے ابو الاحواس کو سعید بن مسیب کی مجلس میں ہم سے بیان کرتے ہوئے سنا, ابوذر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: اللہ تعالیٰ حالت نماز میں بندے پر اس وقت تک متوجہ رہتا ہے جب تک کہ وہ ادھر ادھر نہیں دیکھتا ہے، پھر جب وہ ادھر ادھر دیکھنے لگتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس سے منہ پھیر لیتا ہے ۔
Aishah رضی اللہ عنہا said:
I asked the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم about looking to the sides during prayer. He said: It is something which the devil snatches from a servant’s prayers.
ہم سے مسدد نے بیان کیا، ہم سے ابو الاحواس نے اشعث کی سند سے بیان کیا، یعنی ابن سلیم نے اپنے والد سے، مسروق کی سند سے, ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے آدمی کے نماز کے ادھر ادھر دیکھنے کے متعلق پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ بندے کی نماز سے شیطان کا اچک لینا ہے ( یعنی اس کے ثواب میں سے ایک حصہ اڑا لیتا ہے ) ۔