Abu Saeed al-Khudri رضی اللہ عنہ said:
The mark of earth was seen on the forehead and nose of the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم who had led the people I prayer. Abu Ali said: Abu Dawud did not recite this tradition when he recited his collection (of sunan) for the fourth time.
ہم سے مومل بن الفضل نے بیان کیا، ہم سے عیسیٰ نے، معمر کی سند سے، یحییٰ بن ابی کثیر سے، ابو سلمہ کی سند سے, ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو نماز پڑھائی، جس سے آپ کی پیشانی اور ناک پر مٹی کے نشانات دیکھے گئے۔ ابو علی کہتے ہیں: یہ حدیث ابوداؤد نے چوتھی اردہ میں نہیں پڑھی۔
Jabir bin Samurah رضی اللہ عنہ said (this is the version of the narrator Uthman):
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم entered the mosque and saw there some people praying raising their hand towards the heaven. (This Is the common version: ) He said: People must stop raising their eyes to the heaven. The narrator Musaddad said: During prayer, otherwise their sight will be taken away.
ہم سے مسدد نے بیان کیا، ہم سے ابو معاویہ نے بیان کیا, ہم سےعثمان بن ابی شیبہ نے بیان کیا، ہم سے جریر نے بیان کیا - اور یہ ان کی حدیث ہے اور یہ زیادہ مکمل ہے , الاعمش کی سند سے، مسیب بن رافع کی سند سے، تمیم بن طرفہ طائی کی سند سے، جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں داخل ہوئے تو دیکھا کہ کچھ لوگ نماز میں اپنے ہاتھ آسمان کی طرف ہاتھ اٹھا کر دعا کر رہے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو لوگ نماز میں اپنی نگاہیں آسمان کی طرف اٹھاتے ہیں راوی مسدد نے کہا: انہیں چاہیئے کہ اس سے باز آ جائیں ورنہ ( ہو سکتا ہے کہ ) ان کی نگاہیں ان کی طرف واپس نہ لوٹیں یعنی بینائی جاتی رہے ۔
Anas bin Malik رضی اللہ عنہ reported:
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم assaying: What is the matter that people raise their (Upwards) in prayer. He then said sternly: They should stop doing that, otherwise their sight will be snatched away.
ہم سے مسدد نے بیان کیا، ہم سے یحییٰ نے بیان کیا، سعید بن ابی عروبہ نے قتادہ کی سند سے, انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ان لوگوں کا کیا حال ہے جو نماز میں اپنی نگاہیں آسمان کی طرف اٹھاتے ہیں؟ ، پھر اس سلسلہ میں آپ نے بڑی سخت بات کہی، اور فرمایا: لوگ اس سے باز آ جائیں ورنہ ان کی نگاہیں اچک لی جائیں گی ۔
Aishah رضی اللہ عنہا said:
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم once prayed with a sheet of cloth upon him. It had prints and paintings. He said: The prints of this (sheet) distracted my attention; take it to Abu Jahm and bring a blanket to me.
ہم سے عثمان بن ابی شیبہ نے بیان کیا، ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، وہ زہری کی سند سے، عروہ کی سند سے,ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ایسی چادر میں نماز پڑھی جس میں نقش و نگار تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے اس چادر کے نقش و نگار نے نماز سے غافل کر دیا، اسے ابوجہم کے پاس لے جاؤ ( ابوجہم ہی نے وہ چادر آپ کو تحفہ میں دی تھی ) اور ان سے میرے لیے ان کی انبجانی چادر لے آؤ ۔
The above-mentioned tradition has also been narrated by Aishah رضی اللہ عنہا through a different chain of transmitters. This version adds:
He (the prophet) took a kind of sheet of cloth known as kurdi which belongs to Abu Jahm. The people told him; Messenger of Allah, the (former) sheet of cloth was better than this kind of kurdi sheet.
ہم سے عبیداللہ بن معاذ نے بیان کیا، کہا ہم سے میرے والد نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالرحمٰن نے بیان کیا، یعنی ابن ابی الزناد نے، انہوں نے کہا: میں نے ہشام کو اپنے والد سے روایت کرتے ہوئے سنا, اس سند سے بھی ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے یہی حدیث مروی ہے اس میں ہے
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوجہم کی کر دی چادر لے لی، تو آپ سے کہا گیا: اللہ کے رسول! وہ ( باریک نقش و نگار والی ) چادر اس ( کر دی چادر ) سے اچھی تھی ۔
Narrated Sahl Ibn al-Hanzaliyyah رضی اللہ عنہ :
The iqamah for the morning prayer was pronounced and the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم began to offer prayer while he was looking at the mountain-pass. (Abu Dawud elaborated that the Prophet had sent a horseman to the mountain-pass at night in order to keep watch. )
ہم سے ربیع بن نافع نے بیان کیا، ہم سے معاویہ نے بیان کیا، ان سے ابن سلام نے، انہوں نے زید رضی اللہ عنہ سے بیان کیا کہ انہوں نے ابو سلام رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے کہا: مجھ سے سلولی، جو ابو کبشہ ہیں، نے بیان کیا، سہل بن حنظلیہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں
نماز یعنی فجر کے لیے تکبیر کہی گئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھنے لگے اور آپ گھاٹی کی طرف کنکھیوں سے دیکھتے جاتے تھے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: آپ نے رات میں نگرانی کے لیے ایک گھڑ سوار گھاٹی کی طرف بھیج رکھا تھا۔
Abu Qatadah رضی اللہ عنہ said:
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم was leading the people in prayer with Umamah daughter of Zainab daughter of the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم (in his lap). When he prostrated, he put her down and when he got up (after prostration) he lifted her up.
ہم سے القعْنبی نے بیان کیا، ہم سے مالک نے بیان کیا، عامر بن عبداللہ بن زبیر نے عمرو بن سلیم کی سند سے, ابوقتادہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھ رہے تھے اور اپنی نواسی امامہ بنت زینب کو کندھے پر اٹھائے ہوئے تھے، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم سجدے میں جاتے تو انہیں اتار دیتے اور جب کھڑے ہوتے تو انہیں اٹھا لیتے تھے ۔
Narrated Abu Qatadah رضی اللہ عنہ :
We were sitting in the mosque when the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم came upon us carrying Umamah daughter of Abul As Ibn ar-Rabi. Her mother was Zaynab daughter of the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم . She (Umamah) was a child and he (the Prophet) was carrying her on his shoulder. The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم led (the people) in prayer while she was on his shoulder. When he bowed he put her down and took her up when he got up. He kept on doing so until he finished his prayer.
ہم سے قتیبہ یعنی ابن سعید نے بیان کیا: ہم سے لیث نے سعید بن ابی سعید کی سند سے اور عمرو بن سلیم الزرقی کی سند سے بیان کیا, ابوقتادہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
ہم لوگ مسجد میں بیٹھے ہوئے تھے کہ اسی دوران رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے اس حال میں کہ آپ امامہ بنت ابوالعاص بن ربیع کو اپنے کندھے اٹھائے ہوئے تھے، امامہ کی والدہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی زینب رضی اللہ عنہا تھیں، امامہ ابھی چھوٹی بچی تھیں، وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے کندھے پر تھیں، جب آپ رکوع کرتے تو انہیں اتار دیتے پھر جب کھڑے ہوتے تو انہیں دوبارہ اٹھا لیتے، اسی طرح کرتے ہوئے آپ نے اپنی پوری نماز ادا کی۔
Abu Qatadah al-Ansari said:
I saw the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم leading the people in prayer with Umamah daughter of Abu al-As رضی اللہ عنہا on his neck (shoulder). When he prostrated, he put her down. Abu Dawud said: The narrator Makhramah did not hear from his father except one tradition.
ہم سے محمد بن سلمہ مرادی نے بیان کیا، ہم سے ابن وہب نے مخرمہ کی سند سے، اپنے والد سے، عمرو بن سلیم الزرقی رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے کہا: ابوقتادہ انصاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو لوگوں کو نماز پڑھاتے ہوئے دیکھا اور آپ کی نواسی امامہ بنت ابوالعاص رضی اللہ عنہا آپ کی گردن پر سوار تھیں، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم سجدہ میں جاتے تو انہیں اتار دیتے تھے۔ابوداؤد کہتے ہیں: مخرمہ نے اپنے والد سے سوائے ایک حدیث کے نہیں سنی۔
Abu Qatadah رضی اللہ عنہ, a Companion of the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم, said:
While we were waiting for the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم for the noon or afternoon prayer, and Bilal رضی اللہ عنہ had already called him for prayer, he came upon us with Umamah daughter of Abu al-As and daughter of his daughter on his neck. The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم stood at the place of prayer and we stood behind him and she (Umamah) (all this time) was in her place. He uttered the takbir and we also uttered. When the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم intended to bow, he took her and put her down, and then he bowed and prostrated till he finished his prostration. He then got up and took her and returned he to her place. The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم kept on doing that in every rak’ah until he finished his prayer.
ہم سے یحییٰ بن خلف نے بیان کیا، ہم سے عبد الاعلٰی نے بیان کیا، ان سے محمد نے، یعنی ابن اسحاق نے، ہم سے سعید بن ابی سعید مقبوری نے، عمرو بن سلیم الزرقی کی سند سے, صحابی رسول ابوقتادہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں
ہم لوگ ظہر یا عصر میں نماز کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا انتظار کر رہے تھے اور بلال رضی اللہ عنہ آپ کو نماز کے لیے بلا چکے تھے، اتنے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے درمیان تشریف لائے اور اس حال میں کہ ( آپ کی نواسی ) امامہ بنت ابوالعاص رضی اللہ عنہما جو آپ کی صاحبزادی زینب رضی اللہ عنہا کی بیٹی تھیں آپ کی گردن پر سوار تھیں تو آپ اپنی جگہ پر کھڑے ہوئے اور ہم لوگ آپ کے پیچھے کھڑے ہوئے اور وہ اپنی جگہ پر اسی طرح بیٹھی رہیں، جیسے بیٹھی تھیں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے «الله أكبر» کہا تو ہم لوگوں نے بھی «الله أكبر» کہا یہاں تک کہ جب آپ نے رکوع کرنا چاہا تو انہیں اتار کر نیچے بٹھا دیا، پھر رکوع اور سجدہ کیا، یہاں تک کہ جب آپ سجدے سے فارغ ہوئے پھر ( دوسری رکعت کے لیے ) کھڑے ہوئے تو انہیں اٹھا کر ( اپنی گردن پر ) اسی جگہ بٹھا لیا، جہاں وہ پہلے بیٹھی تھیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم برابر ہر رکعت میں ایسا ہی کرتے رہے یہاں تک کہ آپ نماز سے فارغ ہوئے۔
Narrated Abu Hurairah:
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم said: Kill the two black things during prayer, the snake and scorpion.
ہم سے مسلم بن ابراہیم نے بیان کیا، ہم سے علی بن المبارک نے بیان کیا، ان سے یحییٰ بن ابی کثیر نے ددم بن جوس کی سند سے, ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نماز میں دونوں کالوں ( یعنی ) سانپ اور بچھو کو ( اگر دیکھو تو ) قتل کر ڈالو ۔
Narrated Aishah, Ummul Muminin رضی اللہ عنہا :
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم was praying with his door bolted. I came and asked to have the door opened. He walked and opened the door for me. He then returned to his place for prayer. He (the narrator Urwah) mentioned that the door faced the qiblah.
ہم سے احمد بن حنبل اور مسدد نے بیان کیا اور یہ ان کا قول ہے فرمایا: بشر یعنی ابن المفضل نے ہم سے بیان کیا, ہم سے برد نے زہری کی سند سے عروہ بن زبیر کی سند سے بیان کیا, ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھ رہے تھے، دروازہ بند تھا تو میں آئی اور دروازہ کھلوانا چاہا تو آپ نے ( حالت نماز میں ) چل کر میرے لیے دروازہ کھولا اور مصلی ( نماز کی جگہ ) پر واپس لوٹ گئے ۔ اور عروہ نے ذکر کیا کہ آپ کے گھر کا دروازہ قبلہ کی سمت میں تھا۔
Abdullah (bin Masud) رضی اللہ عنہ said:
We used to salute the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم while he was engaged in prayer and he would respond to our salutation, but when we returned from the Negas, we saluted him and he did not respond to us. He said: Prayer demands one’s whole attention.
ہم سے محمد بن عبداللہ بن نمیر نے بیان کیا، ہم سے ابن فضل نے بیان کیا، انہوں نے العماش کی سند سے، ابراہیم کی سند سے، علقمہ کی سند سے, عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کرتے اس حال میں کہ آپ نماز میں ہوتے تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے سلام کا جواب دیتے تھے، لیکن جب ہم نجاشی ( بادشاہ حبشہ ) کے پاس سے لوٹ کر آئے تو ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کیا تو آپ نے سلام کا جواب نہیں دیا اور فرمایا: نماز پوری توجہ مانگتی ہے۔
Narrated Abdullah Ibn Masud رضی اللہ عنہ :
We used to salute during prayer and talk about our needs. I came to the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم and found him praying. I saluted him, but he did not respond to me. I recalled what happened to me in the past and in the present. When the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم finished his prayer, he said to me: Allah, the Almighty, creates new command as He wishes, and Allah, the Exalted, has sent a fresh command that you must not talk during prayer. He then returned my salutation.
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، ہم سے ابان نے بیان کیا، ہم سے عاصم نے بیان کیا، ابو وائل کی سند سے, عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
( پہلے ) ہم نماز میں سلام کیا کرتے تھے اور کام کاج کی باتیں کر لیتے تھے، تو ( ایک بار ) میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا آپ نماز پڑھ رہے تھے، میں نے آپ کو سلام کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب نہیں دیا تو مجھے پرانی اور نئی باتوں کی فکر دامن گیر ہو گئی ۱؎، جب آپ نماز پڑھ چکے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ جو چاہتا ہے، نیا حکم نازل کرتا ہے، اب اس نے نیا حکم یہ دیا ہے کہ نماز میں باتیں نہ کرو ، پھر آپ نے میرے سلام کا جواب دیا۔
Narrated Suhayb رضی اللہ عنہ :
I passed by the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم who was praying. I saluted him and he returned it by making a sign. The narrator said: I do not know but that he said: He made a sign with his finger. This is the version reported by Qutaybah.
صہیب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے گزرا اس حال میں آپ نماز پڑھ رہے تھے، میں نے آپ کو سلام کیا تو آپ نے اشارہ سے سلام کا جواب دیا۔ نابل کہتے ہیں: مجھے یہی معلوم ہے کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے«إشارة بأصبعه» کا لفظ کہا ہے، یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی انگلی کے اشارہ سے سلام کا جواب دیا، یہ قتیبہ کی روایت کے الفاظ ہیں۔
Jabir رضی اللہ عنہ said:
The prophet of Allah صلی اللہ علیہ وسلم sent me to Banu al-Mustaliq. When I returned to him, he was praying on his camel. I talked to him; he made a sign to me with his hand like this. I again talked to him; he made a sign to me with his hand like this. I was hearing him reciting the Quran and he was making a sign with his head. When he finished his prayer, he said; what did you do about the mission for which I had sent you; nothing prevented me from talking to you except that I was praying.
ہم سے عبداللہ بن محمد النفیلی نے بیان کیا، ہم سے زہیر نے بیان کیا، ہم سے ابو الزبیر نے بیان کیا، جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بنی مصطلق کے پاس بھیجا، میں ( وہاں سے ) لوٹ کر آپ کے پاس آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اونٹ پر نماز پڑھ رہے تھے، میں نے آپ سے بات کی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ہاتھ سے اس طرح سے اشارہ کیا، میں نے پھر آپ سے بات کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ہاتھ سے اس طرح اشارہ کیا یعنی خاموش رہنے کا حکم دیا، میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو قرآت کرتے سن رہا تھا اور آپ اپنے سر سے اشارہ فرما رہے تھے، پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے فارغ ہوئے تو پوچھا: میں نے تم کو جس کام کے لیے بھیجا تھا اس سلسلے میں تم نے کیا کیا؟، میں نے تم سے بات اس لیے نہیں کی کہ میں نماز پڑھ رہا تھا ۔
Narrated Abdullah Ibn Umar رضی اللہ عنہما :
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم went to Quba to offer prayer. Then the Ansar (the Helpers) came to him and gave him a salutation while he was engaged in prayer. I asked Bilal رضی اللہ عنہ : How did you find the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم responding to them when they gave him a salutation while he was engaged in prayer. He replied: In this way, and Jafar Ibn Awn demonstrated by spreading his palm, and keeping its inner side below and its back side above.
ہم سے حسین بن عیسیٰ خراسانی الدمغانی نے بیان کیا، کہا ہم سے جعفر بن عون نے بیان کیا، ہم سے ہشام بن سعد نے بیان کیا، ہم سے نافع نے بیان کیا، انہوں نے کہا: عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھنے کے لیے قباء گئے، تو آپ کے پاس انصار آئے اور انہوں نے حالت نماز میں آپ کو سلام کیا، وہ کہتے ہیں: تو میں نے بلال رضی اللہ عنہ سے پوچھا: جب انصار نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو حالت نماز میں سلام کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کس طرح جواب دیتے ہوئے دیکھا؟ بلال رضی اللہ عنہ کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس طرح کر رہے تھے، اور بلال رضی اللہ عنہ نے اپنی ہتھیلی کو پھیلائے ہوئے تھے، جعفر بن عون نے اپنی ہتھیلی پھیلا کر اس کو نیچے اور اس کی پشت کو اوپر کر کے بتایا۔
Abu Hurairah رضی اللہ عنہ reported:
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم as saying: There is no loss in prayer nor in salutation. Ahmad (bin Hanbal) said: This means, I think, that you do not salute nor you are saluted by others. The loss of a man in his prayer is that a man remains doubtful about it when he finishes it.
ہم سے احمد بن حنبل نے بیان کیا، ہم سے عبدالرحمٰن بن مہدی نے بیان کیا، انہوں نے سفیان کی سند سے، ابو مالک اشجعی نے ابوحازم کی سند سے, ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نماز میں نقصان اور کمی نہیں ہے اور نہ سلام میں ہے ۱؎ ، احمد کہتے ہیں: جہاں تک میں سمجھتا ہوں مطلب یہ ہے کہ ( نماز میں ) نہ تو تم کسی کو سلام کرو اور نہ تمہیں کوئی سلام کرے اور نماز میں نقصان یہ ہے کہ آدمی نماز سے اس حال میں پلٹے کہ وہ اس میں شک کرنے والا ہو۔
Abu Hurairah reported:
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم as saying: There is no loss in salutation and in prayer. Abu Dawud said: According to the version of Ibn Mahdi, this tradition has been narrated by Ibn Fudail as a statement of Abu Hurairah رضی اللہ عنہ and not as a saying of the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم
ہم سے محمد بن العلاء نے بیان کیا، کہا ہم سے معاویہ بن ہشام نے بیان کیا، انہوں نے سفیان کی سند سے، ابو مالک کی سند سے، وہ ابو حازم کی سند سے, ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہ سلام میں نقص ہے اور نہ نماز میں ۔ معاویہ بن ہشام کہتے ہیں: میرا خیال ہے کہ سفیان نے اسے مرفوعاً روایت کیا ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ حدیث ابن فضیل نے ابن مہدی کی طرح «لا غرار في تسليم ولا صلاة» کے لفظ کے ساتھ روایت کی ہے اور اس کو مرفوع نہیں کہا ہے ( بلکہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا قول بتایا ہے ) ۔
Muawiyah bin al-Hakam al-Sulami رضی اللہ عنہ said:
I was praying with the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم. A man in the company sneezed, and I said: May Allah have mercy on you! The people gave me disapproving looks, so I said: Woe is to me! What do you mean by looking at me? They began to strike their hand on their thighs; then I realised that they were urging me to be silent. When the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم finished his prayer – for whom I would give my father and mother as ransom-he did not beat, scold or revile me, but said: No talk to people in lawful in this prayer, for it consists only in glorifying Allah, declaring His greatness, and reciting the Quran or words to that effect said by the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم. I said: Messenger of Allah, we were only recently pagans, but Allah has brought Islam to us, and among us there are men who have recourse to soothsayers (kahins). He replied: Do not have recourse to them. I said: Among us are there are men who take omens. He replied: That is something which they find, but let it not turn them away (from what they intended to do). I said: among us there are men who draw lines. He replied: There was a prophet who drew lines; so if the line of anyone tallies with this line, that might come true. I said: A slave-girl of mine used to tend goats before (the mountain) Uhud and al-Jawaniyyah. Once when I reached her (suddenly) I found that a wolf had taken away a goat of them. I am a human being; I feel grieved as others do. But I gave her a good knocking. This was unbearable for the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم. I asked: Should I set her free ? He replied: Bring her to me. So I brought her to him. He asked (her): Where is Allah ? She said: In the heaven. He said: Who am I ? She replied: You are the Messenger of Allah. He said: Set her free, for she is believer.
ہم سے مسدد نے بیان کیا، ہم سے یحییٰ نے بیان کیا, ہم سے عثمان بن ابی شیبہ نے بیان کیا، ہم سے اسماعیل بن ابراہیم المعنا نے بیان کیا، ان سے حجاج الصوف کی سند سے، مجھ سے یحییٰ بن ابی کثیر نے، ہلال بن ابی میمونہ نے عطاء بن یعقوب کی سند سے بیان کیا, معاویہ بن حکم سلمی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی، قوم میں سے ایک شخص کو چھینک آئی تو میں نے ( حالت نماز میں ) «يرحمك الله» کہا، اس پر لوگ مجھے گھورنے لگے، میں نے ( اپنے دل میں ) کہا: تمہاری مائیں تمہیں گم پائیں، تم لوگ مجھے کیوں دیکھ رہے ہو؟ اس پر لوگوں نے اپنے ہاتھوں سے رانوں کو تھپتھپانا شروع کر دیا تو میں سمجھ گیا کہ یہ لوگ مجھے خاموش رہنے کے لیے کہہ رہے ہیں۔ جب میں نے انہیں دیکھا کہ وہ مجھے خاموش کرا رہے ہیں تو میں خاموش ہو گیا، میرے ماں باپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر قربان ہوں، جب آپ نماز سے فارغ ہوئے تو نہ تو آپ نے مجھے مارا، نہ ڈانٹا، نہ برا بھلا کہا، صرف اتنا فرمایا: نماز میں اس طرح بات چیت درست نہیں، یہ تو بس تسبیح، تکبیر اور قرآن کی تلاوت ہے ، یا جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں ( ابھی ) نیا نیا مسلمان ہوا ہوں، اللہ تعالیٰ نے ہم کو ( جاہلیت اور کفر سے نجات دے کر ) دین اسلام سے مشرف فرمایا ہے، ہم میں سے بعض لوگ کاہنوں کے پاس جاتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم ان کے پاس مت جاؤ ۔ میں نے کہا: ہم میں سے بعض لوگ بد شگونی لیتے ہیں؟ ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ ان کے دلوں کا وہم ہے، یہ انہیں ان کے کاموں سے نہ روکے ۔ پھر میں نے کہا: ہم میں سے کچھ لوگ لکیر ( خط ) کھینچتے ہیں؟ ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نبیوں میں سے ایک نبی خط ( لکیریں ) کھینچا کرتے تھے، اب جس کسی کا خط ان کے خط کے موافق ہوا، وہ صحیح ہے ۔ میں نے کہا: میرے پاس ایک لونڈی ہے، جو احد اور جوانیہ کے پاس بکریاں چراتی تھی، ایک بار میں ( اچانک ) پہنچا تو دیکھا کہ بھیڑیا ایک بکری کو لے کر چلا گیا ہے، میں بھی انسان ہوں، مجھے افسوس ہوا جیسے اور لوگوں کو افسوس ہوتا ہے تو میں نے اسے ایک زور کا طمانچہ رسید کر دیا تو یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر گراں گزری، میں نے عرض کیا: کیا میں اس لونڈی کو آزاد نہ کر دوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے میرے پاس لے کر آؤ ، میں اسے لے کر آپ کے پاس حاضر ہوا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( اس لونڈی سے ) پوچھا: اللہ کہاں ہے؟ ، اس نے کہا: آسمان کے اوپر ہے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا: میں کون ہوں؟ ، اس نے کہا: آپ اللہ کے رسول ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اسے آزاد کر دو یہ مؤمنہ ہے ۔