Back to Sunan Abu Dawood

Prayer (Kitab Al-Salat)

كتاب الصلاة

Chapter 2

Hadith 1131
Sahih
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ. ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ الْبَزَّازُ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ زَكَرِيَّا، ‏‏‏‏‏‏عَنْ سُهَيْلٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِيهِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ قَالَ ابْنُ الصَّبَّاحِ:‏‏‏‏ قَالَ:‏‏‏‏ مَنْ كَانَ مُصَلِّيًا بَعْدَ الْجُمُعَةِ فَلْيُصَلِّ أَرْبَعًا وَتَمَّ حَدِيثُهُ ، ‏‏‏‏‏‏وَقَالَ ابْنُ يُونُسَ: إِذَا صَلَّيْتُمُ الْجُمُعَةَ فَصَلُّوا بَعْدَهَا أَرْبَعًا، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ فَقَالَ لِي أَبِي:‏‏‏‏ يَا بُنَيَّ، ‏‏‏‏‏‏فَإِنْ صَلَّيْتَ فِي الْمَسْجِدِ رَكْعَتَيْنِ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ أَتَيْتَ الْمَنْزِلَ أَوِ الْبَيْتَ فَصَلِّ رَكْعَتَيْنِ.
English

Abu Hurairah رضی اللہ عنہ reported:

The Messenger of Allah صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم as saying (this is the version of the narrator Ibn al-Sabbah): If anyone of you prays after the Friday prayer, he should say for rak'ahs. According to the version of the narrator Ibn Yunus, the tradition goes: When you have offered the Friday prayer, pray after it four rak'ahs. He said: My father said to me: My son, if you have said two rak'ahs in the mosque, then you comes to your house, pray two rak'ahs more.

Urdu

ہم سے احمد بن یونس نے بیان کیا، ہم سے زہیر نے بیان کیا, ہم سے محمد بن صباح البزاز نے بیان کیا، ہم سے اسماعیل بن زکریا نے بیان کیا، سہیل کی سند سے، وہ اپنے والد سے, ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ( محمد بن صباح کی روایت میں ہے ) جو شخص جمعہ کے بعد پڑھنا چاہے تو وہ چار رکعتیں پڑھے، اور راوی نے پوری حدیث بیان کی۔ اور احمد بن یونس کی روایت میں یہ ہے کہ جب تم نماز جمعہ پڑھ چکو تو اس کے بعد چار رکعتیں پڑھو۔ سہیل کہتے ہیں: میرے والد ابوصالح نے مجھ سے کہا: میرے بیٹے! اگر تم نے مسجد میں دو رکعت پڑھ لی ہے پھر گھر آئے ہو تو ( گھر پر ) دو رکعت اور پڑھو۔

Hadith 1132
Sahih
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ مَعْمَرٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ الزُّهْرِيِّ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ سَالِمٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ ابْنِ عُمَرَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي بَعْدَ الْجُمُعَةِ رَكْعَتَيْنِ فِي بَيْتِهِ . قَالَ أَبُو دَاوُد:‏‏‏‏ وَكَذَلِكَ رَوَاهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دِينَارٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ ابْنِ عُمَرَ.
English

Narrated Abdullah Ibn Umar رضی اللہ عنہما :

The Messenger of Allah صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم used to pray two rak'ahs in his house after the Friday prayer. Abu Dawud said: This tradition has been transmitted in a similar way by Abdullah bin Dinar from Ibn Umar.

Urdu

ہم سے حسن بن علی نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالرزاق نے، معمر کی سند سے، زہری کی سند سے، سالم کی سند سے, عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کے بعد دو رکعتیں اپنے گھر میں پڑھتے تھے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اور عبداللہ بن دینار نے بھی اسے ابن عمر سے اسی طرح روایت کیا ہے۔

Hadith 1133
Sahih
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَسَنِ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ، ‏‏‏‏‏‏أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ، ‏‏‏‏‏‏ أَنَّهُ رَأَى ابْنَ عُمَرَ يُصَلِّي بَعْدَ الْجُمُعَةِ، ‏‏‏‏‏‏فَيَنْمَازُ عَنْ مُصَلَّاهُ الَّذِي صَلَّى فِيهِ الْجُمُعَةَ قَلِيلًا غَيْرَ كَثِيرٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ فَيَرْكَعُ رَكْعَتَيْنِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ ثُمَّ يَمْشِي أَنْفَسَ مِنْ ذَلِكَ، ‏‏‏‏‏‏فَيَرْكَعُ أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ، ‏‏‏‏‏‏قُلْتُ لِعَطَاءٍ:‏‏‏‏ كَمْ رَأَيْتَ ابْنَ عُمَرَ يَصْنَعُ ذَلِكَ ؟ قَالَ:‏‏‏‏ مِرَارًا . قَالَ أَبُو دَاوُد:‏‏‏‏ وَرَوَاهُ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ وَلَمْ يُتِمَّهُ.
English

Narrated Ibn Jurayj said:

Ata told me that he saw Ibn Umar رضی اللہ عنہما pray after the Friday prayer. He moved a little from the place where he offered the Friday prayer. Then he would pray two rak'ahs. He then walked far away from that place and would offer four rak'ahs. I asked Ata: How many times did you see Ibn Umar do that? He replied: Many times. Abu Dawud said: This has been narrated by Abdul Malik Ibn Abu Sulayman, but did not narrate it completely.

Urdu

ہم سے ابراہیم بن الحسن نے بیان کیا، ہم سے حجاج بن محمد نے بیان کیا، ابن جریج عطاء سے روایت کرتے ہیں کہ

عطا نے مجھ سے کہا, انہوں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما کو دیکھا کہ وہ جمعہ کے بعد نفل پڑھتے تو اپنی اس جگہ سے جہاں انہوں نے جمعہ پڑھا تھا، تھوڑا سا ہٹ جاتے زیادہ نہیں، پھر دو رکعتیں پڑھتے پھر پہلے سے کچھ اور دور چل کر چار رکعتیں پڑھتے۔ ابن جریج کہتے ہیں کہ میں نے عطاء سے کہا: آپ نے ابن عمر کو کتنی بار ایسا کرتے ہوئے دیکھا ہے؟ تو انہوں نے کہا: بارہا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے عبدالملک بن ابی سلیمان نے نامکمل طریقہ پر روایت کیا ہے۔

Hadith 1134
Sahih
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم الْمَدِينَةَ وَلَهُمْ يَوْمَانِ يَلْعَبُونَ فِيهِمَا فَقَالَ ‏"‏ مَا هَذَانِ الْيَوْمَانِ ‏"‏ ‏.‏ قَالُوا كُنَّا نَلْعَبُ فِيهِمَا فِي الْجَاهِلِيَّةِ ‏.‏ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ إِنَّ اللَّهَ قَدْ أَبْدَلَكُمْ بِهِمَا خَيْرًا مِنْهُمَا يَوْمَ الأَضْحَى وَيَوْمَ الْفِطْرِ ‏"‏ ‏.‏
English

Narrated Anas ibn Malik:

When the Messenger of Allah (ﷺ) came to Medina, the people had two days on which they engaged in games. He asked: What are these two days (what is the significance)? They said: We used to engage ourselves on them in the pre-Islamic period. The Messenger of Allah (ﷺ) said: Allah has substituted for them something better than them, the day of sacrifice and the day of the breaking of the fast.

Urdu

ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے حماد نے بیان کیا، ان سے حمید نے، وہ انس رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے کہا

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ تشریف لائے اور ان کے پاس دو دن تھے جن میں انہوں نے کھیلا۔ تو اس نے کہا: یہ دو دن کیا ہیں؟انہوں نے کہا کہ ہم زمانہ جاہلیت میں ان کے ساتھ کھیلا کرتے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے ان کے بدلے تمہارے لیے ان سے بہتر دو دن رکھے ہیں: قربانی کا دن اور عید الفطر کا دن۔

Hadith 1135
Sahih
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ، حَدَّثَنَا صَفْوَانُ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ خُمَيْرٍ الرَّحْبِيُّ، قَالَ خَرَجَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُسْرٍ صَاحِبُ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مَعَ النَّاسِ فِي يَوْمِ عِيدِ فِطْرٍ أَوْ أَضْحَى فَأَنْكَرَ إِبْطَاءَ الإِمَامِ فَقَالَ إِنَّا كُنَّا قَدْ فَرَغْنَا سَاعَتَنَا هَذِهِ وَذَلِكَ حِينَ التَّسْبِيحِ ‏.‏
English

Yazid ibn Khumayr ar-Rahbi said:

Abdullah Ibn Busr رضی اللہ عنہ , the Companion of the Messenger of Allah (ﷺ) came out along with the people on the day of the breaking of the fast or on the day of sacrifice (to offer the prayer). He disliked the delay of the imam, and said: We would finish (our 'Id prayer) at this moment, that is, at the time of forenoon.

Urdu

ہم سے احمد بن حنبل نے بیان کیا، ہم سے ابو المغیرہ نے بیان کیا، کہا ہم سے صفوان نے بیان کیا، ہم سے یزید بن خمیر الراحبی نے بیان کیا، انہوں نے کہا

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی عبداللہ بن بسر رضی اللہ عنہ عیدالفطر یا عیدالفطر کے دن لوگوں کے ساتھ نکلے۔اس نے امام کی تاخیر کی تردید کی اور کہا کہ ہم اسی وقت یعنی ظہر کے وقت (اپنی نماز عید) ختم کریں گے۔

Hadith 1136
Sahih
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ أَيُّوبَ، وَيُونُسَ، وَحَبِيبٍ، وَيَحْيَى بْنِ عَتِيقٍ، وَهِشَامٍ، - فِي آخَرِينَ - عَنْ مُحَمَّدٍ، أَنَّ أُمَّ عَطِيَّةَ، قَالَتْ أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنْ نُخْرِجَ ذَوَاتِ الْخُدُورِ يَوْمَ الْعِيدِ ‏.‏ قِيلَ فَالْحُيَّضُ قَالَ ‏"‏ لِيَشْهَدْنَ الْخَيْرَ وَدَعْوَةَ الْمُسْلِمِينَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ فَقَالَتِ امْرَأَةٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنْ لَمْ يَكُنْ لإِحْدَاهُنَّ ثَوْبٌ كَيْفَ تَصْنَعُ قَالَ ‏"‏ تُلْبِسُهَا صَاحِبَتُهَا طَائِفَةً مِنْ ثَوْبِهَا ‏"‏ ‏.‏
English

Umm 'Atiyyah رضی اللہ عنہا said:

The Messenger of Allah (ﷺ) commanded us to bring out the secluded women on the day of 'Id (festival). He was asked: What about the menstruous women ? He said: They should be present at the place of virtue and the supplications of the Muslims. A woman said: Messenger of Allah, what should we do it one of us does not possess an outer garment ? He replied: Let her friend lend a part of her garment.

Urdu

ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے حماد نے بیان کیا، ان سے ایوب، یونس، حبیب، یحییٰ بن عتیق اور ہشام نے اور ان سے محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان کیا کہ ام عطیہ رضی اللہ عنہا نے کہا

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا کہ ہم صلوٰۃ کے دن عورتوں کو باہر نکالیں۔عرض کیا گیا کہ حیض کا کیا ہوگا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تاکہ وہ مسلمانوں کی نیکی اور دعا کا مشاہدہ کریں۔ ایک عورت نے عرض کیا یا رسول اللہ اگر ان میں سے کسی کے پاس کپڑا نہ ہو تو وہ کیا کرے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کا ساتھی اسے اپنے کپڑے کا ایک حصہ پہنائے۔

Hadith 1137
Sahih
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ، بِهَذَا الْخَبَرِ قَالَ ‏ "‏ وَيَعْتَزِلُ الْحُيَّضُ مُصَلَّى الْمُسْلِمِينَ ‏"‏ ‏.‏ وَلَمْ يَذْكُرِ الثَّوْبَ ‏.‏ قَالَ وَحَدَّثَ عَنْ حَفْصَةَ عَنِ امْرَأَةٍ تُحَدِّثُهُ عَنِ امْرَأَةٍ أُخْرَى قَالَتْ قِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَذَكَرَ مَعْنَى حَدِيثِ مُوسَى فِي الثَّوْبِ ‏.‏
English

This tradition has also been narrated by Umm 'Atiyyah رضی اللہ عنہا in a similar manner through a different chain. She added:

The menstruating women should keep themselves away from the place of prayer of the Muslims. She did not mention the garment. She narrated this tradition from Hafsah رضی اللہ عنہا mentioning a woman who asked about another woman saying: O Messenger of Allah ....She then reported the tradition like that narrated by Musa mentioning the garment.

Urdu

ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، ہم سے حماد نے بیان کیا، ان سے ایوب، یونس، حبیب، یحییٰ بن عتیق اور ہشام نے اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے, ام عطیہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں, ہم کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ

حیض والی عورتیں اپنے آپ کو مسلمانوں کی نماز کی جگہ سے دور رکھیں۔ اس نے لباس کا ذکر نہیں کیا۔ انہوں نے یہ روایت حفصہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی ہے جس میں ایک عورت کا ذکر ہے جس نے دوسری عورت کے بارے میں پوچھا کہ یا رسول اللہ.... پھر انہوں نے اس روایت کو اسی طرح روایت کیا جو موسیٰ نے لباس کا ذکر کرتے ہوئے بیان کیا ہے۔

Hadith 1138
Sahih
حَدَّثَنَا النُّفَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا عَاصِمٌ الأَحْوَلُ، عَنْ حَفْصَةَ بِنْتِ سِيرِينَ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ، قَالَتْ كُنَّا نُؤْمَرُ بِهَذَا الْخَبَرِ قَالَتْ وَالْحُيَّضُ يَكُنَّ خَلْفَ النَّاسِ فَيُكَبِّرْنَ مَعَ النَّاسِ ‏.‏
English

This tradition has also been narrated by Umm Atiyyah رضی اللہ عنہا in a similar manner through a different chain. She said:

We were commanded to go out (for offering the 'Id prayer). She further said: The menstruating women stood behind the people and they uttered the takbir (Allah is most great) along with the people.

Urdu

ہم سے النفیلی نے بیان کیا، ہم سے زہیر نے بیان کیا، کہا ہم سے عاصم الاحوال نے بیان کیا، ان سے حفصہ بنت سیرین نے، اور ام عطیہ رضی اللہ عنہا سے، انہوں نے کہا

ہمیں ایسا کرنے کا حکم دیا گیا تھا۔ انہوں نے کہا: اور حائضہ عورتیں لوگوں کے پیچھے ہوں گی اور لوگوں کے ساتھ اللہ اکبر کہیں گی۔

Hadith 1139
Sahih
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، - يَعْنِي الطَّيَالِسِيَّ - وَمُسْلِمٌ قَالاَ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عُثْمَانَ، حَدَّثَنِي إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَطِيَّةَ، عَنْ جَدَّتِهِ أُمِّ عَطِيَّةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لَمَّا قَدِمَ الْمَدِينَةَ جَمَعَ نِسَاءَ الأَنْصَارِ فِي بَيْتٍ فَأَرْسَلَ إِلَيْنَا عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ فَقَامَ عَلَى الْبَابِ فَسَلَّمَ عَلَيْنَا فَرَدَدْنَا عَلَيْهِ السَّلاَمَ ثُمَّ قَالَ أَنَا رَسُولُ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِلَيْكُنَّ ‏.‏ وَأَمَرَنَا بِالْعِيدَيْنِ أَنْ نُخْرِجَ فِيهِمَا الْحُيَّضَ وَالْعُتَّقَ وَلاَ جُمُعَةَ عَلَيْنَا وَنَهَانَا عَنِ اتِّبَاعِ الْجَنَائِزِ ‏.‏
English

Umm 'Atiyyah said:

When the Messenger of Allah (ﷺ) came to Medina, he gathered the women of Ansar in a house, and sent to us (to them) 'Umar bin al-Khattab. He stood at the door and gave the salutation to us and we returned it (the salutation) to him. Thereupon, he said: I am the messenger of the Messenger of Allah (ﷺ) to you. He commanded us to bring out the menstruating women and the virgins for both the 'Id prayers, and that the Friday prayer is not obligatory on us. He prohibited us to accompany the funeral procession.

Urdu

ابو الولید - یعنی الطیالسی - اور مسلم نے ہم سے بیان کیا: ہم سے اسحاق بن عثمان نے بیان کیا: مجھ سے اسماعیل بن عبدالرحمٰن بن عطیہ نے اپنی دادی ام عطیہ کی سند سے بیان کیا کہ

جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ تشریف لائے تواس نے انصار کی عورتوں کو ایک گھر میں جمع کیا اور عمر بن الخطاب کو ہمارے پاس بھیجا۔ اس نے دروازے پر کھڑے ہو کر ہمیں سلام کیا اور ہم نے سلام کا جواب دیا۔انہوں نے کہا کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا رسول ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا کہ ہم دونوں عیدیں ان پر گزاریں، حائضہ عورتوں اور غلاموں کی آزادی، اور ہمارے لیے جمعہ کی نماز نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں جنازوں کے پیچھے جانے سے منع فرمایا۔

Hadith 1140
Sahih
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاَءِ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ رَجَاءٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ح وَعَنْ قَيْسِ بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ أَخْرَجَ مَرْوَانُ الْمِنْبَرَ فِي يَوْمِ عِيدٍ فَبَدَأَ بِالْخُطْبَةِ قَبْلَ الصَّلاَةِ فَقَامَ رَجُلٌ فَقَالَ يَا مَرْوَانُ خَالَفْتَ السُّنَّةَ أَخْرَجْتَ الْمِنْبَرَ فِي يَوْمِ عِيدٍ وَلَمْ يَكُنْ يُخْرَجُ فِيهِ وَبَدَأْتَ بِالْخُطْبَةِ قَبْلَ الصَّلاَةِ ‏.‏ فَقَالَ أَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ مَنْ هَذَا قَالُوا فُلاَنُ بْنُ فُلاَنٍ ‏.‏ فَقَالَ أَمَّا هَذَا فَقَدْ قَضَى مَا عَلَيْهِ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏ "‏ مَنْ رَأَى مُنْكَرًا فَاسْتَطَاعَ أَنْ يُغَيِّرَهُ بِيَدِهِ فَلْيُغَيِّرْهُ بِيَدِهِ فَإِنْ لَمْ يَسْتَطِعْ فَبِلِسَانِهِ فَإِنْ لَمْ يَسْتَطِعْ فَبِقَلْبِهِ وَذَلِكَ أَضْعَفُ الإِيمَانِ ‏"‏ ‏.‏
English

Abu Sa'id al-Khudri رضی اللہ عنہا said:

Marwan brought out the pulpit on 'Id. He began preaching before the prayer. A man stood and said: You opposed the sunnah, O Marwan. You brought out the pulpit on the 'Id, it was not brought out before: and you began preaching before the prayer. Abu Sa'id al-Khudri رضی اللہ عنہ said: Wh is this (man) ? They (people) said: So-and so son of so-and-so. He has performed his duty. I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: He who observes and evil deed should change it with his hand if he can do so; if he cannot do, (he should change it) then with his tongue; if he cannot do then (he should change it) with his heart, and that is the weakest degree of the faith.

Urdu

ہم سے محمد بن العلاء نے بیان کیا، ہم سے ابو معاویہ نے بیان کیا، ہم سے العمش نے بیان کیا، ان سے اسماعیل بن رجاہ نے، اپنے والد سے، ابو سعید خدری سے، اور قیس بن مسلم سے، ابو سعید طارق سے، وہ ابو سعید بن الخدری رضی اللہ عنہ سے, انہوں نے کہا

مروان عید کے دن منبر سے باہر لایا اور نماز سے پہلے خطبہ شروع کیا۔ ایک آدمی کھڑا ہوا اور کہنے لگا: اے مروان تو سنت کے خلاف ہو گیا ہے۔ آپ نے عید کے دن منبر کو باہر نکالا جب کہ عام طور پر باہر نہیں لایا جاتا تھا، اور آپ نے نماز سے پہلے خطبہ شروع کیا۔ ابو سعید خدری نے کہا: یہ کون ہے؟ انہوں نے کہا: فلاں فلاں، فلاں کا بیٹا۔اس نے کہا: اس کے لیے تو اس نے وہ پورا کر دیا جو اس سے مطلوب تھا۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: جو شخص برائی کو دیکھے اور اسے اپنے ہاتھ سے بدلنے کی استطاعت رکھتا ہو تو وہ اسے اپنے ہاتھ سے روکے، اگر اس کی استطاعت نہ ہو تو زبان سے اور اگر اس کی طاقت نہ ہو تو اپنے دل سے کرے، اور یہ ایمان کا کمزور ترین عمل ہے۔

Hadith 1141
Sahih
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، قَالاَ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ سَمِعْتُهُ يَقُولُ إِنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَامَ يَوْمَ الْفِطْرِ فَصَلَّى فَبَدَأَ بِالصَّلاَةِ قَبْلَ الْخُطْبَةِ ثُمَّ خَطَبَ النَّاسَ فَلَمَّا فَرَغَ نَبِيُّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نَزَلَ فَأَتَى النِّسَاءَ فَذَكَّرَهُنَّ وَهُوَ يَتَوَكَّأُ عَلَى يَدِ بِلاَلٍ وَبِلاَلٌ بَاسِطٌ ثَوْبَهُ تُلْقِي فِيهِ النِّسَاءُ الصَّدَقَةَ قَالَ تُلْقِي الْمَرْأَةُ فَتَخَهَا وَيُلْقِينَ وَيُلْقِينَ وَقَالَ ابْنُ بَكْرٍ فَتَخَتَهَا ‏.‏
English

Abu Narrated Jabir ibn Abdullah رضی اللہ عنہما :

The Prophet (ﷺ) stood on the day of the breaking of the fast ('Id) and offered prayer. He began the prayer before the sermon. He then addressed the people. When the Prophet (ﷺ) finished the sermon, he descended (from the pulpit) and went to women. He gave them an exhortation while he was leaning on the hand of Bilal. Bilal رضی اللہ عنہ was spreading his garment in which women were putting alms; some women put their rings and others other things. Ibn Bakr (رضی اللہ عنہ ) said that he opened his 'Fath'.

Urdu

ہم سے احمد بن حنبل نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالرزاق نے اور ان سے محمد بن بکر نے، انہوں نے کہا: ہمیں ابن جریج نے خبر دی، مجھے عطاء نے خبر دی، انہوں نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت کی، انہوں نے کہا کہ

میں نے انہیں یہ فرماتے ہوئے سنا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عید کے دن کھڑے ہوئے اور نماز فطر ادا کی۔خطبہ سے پہلے، پھر لوگوں سے خطاب کیا۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فارغ ہوئے تو آپ اترے اور عورتوں کے پاس گئے اور بلال کے ہاتھ پر ٹیک لگائے ہوئے انہیں یاد دلایا۔ بلال رضی اللہ عنہ اپنا کپڑا پھیلا رہے تھے جس میں عورتیں اپنا صدقہ ڈال رہی تھیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عورت اپنا ’فتخ‘ پھینکتی ہے اور وہ پھینکتی ہے اور وہ پھینکتی ہے۔ ابن بکر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اس نے اپنا 'فتخ' کھول دیا۔

Hadith 1142
Sahih
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، وَحَدَّثَنَا ابْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ عَطَاءٍ، قَالَ أَشْهَدُ عَلَى ابْنِ عَبَّاسٍ وَشَهِدَ ابْنُ عَبَّاسٍ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ خَرَجَ يَوْمَ فِطْرٍ فَصَلَّى ثُمَّ خَطَبَ ثُمَّ أَتَى النِّسَاءَ وَمَعَهُ بِلاَلٌ ‏.‏ قَالَ ابْنُ كَثِيرٍ أَكْبَرُ عِلْمِ شُعْبَةَ فَأَمَرَهُنَّ بِالصَّدَقَةِ فَجَعَلْنَ يُلْقِينَ ‏.‏
English

Narrated Abdullah Ibn Abbas رضی اللہ عنہما :

The Messenger of Allah (ﷺ) came out on 'Id (the festival day). He first offered the prayer and then delivered the sermon . He then went to women, taking Bilal رضی اللہ عنہ with him. The narrator Ibn Kathir said: The probable opinion of Shu'bah is that he commanded them to give alms. So they began to put (their jewellery).

Urdu

ہم سے حفص بن عمر نے بیان کیا، ہم سے شعبہ نے بیان کیا، اور ہم سے ابن کثیر نے بیان کیا، کہا کہ ہم کو شعبہ نے خبر دی، ایوب سے اور عطا کی سند سے، انہوں نے کہا: میں ابن عباس کے خلاف گواہی دیتا ہوں، اور ابن عباس رضی اللہ عنہما نے گواہی دی

روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عید الفطر کے دن نکلے، نماز پڑھی، پھر خطبہ دیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم عورتوں کے پاس آئے تو بلال رضی اللہ عنہ آپ کے ساتھ تھے۔ ابن کثیر کہتے ہیں: شعبی کا سب سے بڑا علم یہ تھا کہ انہوں نے انہیں صدقہ کرنے کا حکم دیا تو انہوں نے قرعہ ڈالنا شروع کیا۔

Hadith 1143
Sahih
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، وَأَبُو مَعْمَرٍ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو قَالاَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، بِمَعْنَاهُ قَالَ فَظَنَّ أَنَّهُ لَمْ يُسْمِعِ النِّسَاءَ فَمَشَى إِلَيْهِنَّ وَبِلاَلٌ مَعَهُ فَوَعَظَهُنَّ وَأَمَرَهُنَّ بِالصَّدَقَةِ فَكَانَتِ الْمَرْأَةُ تُلْقِي الْقُرْطَ وَالْخَاتَمَ فِي ثَوْبِ بِلاَلٍ ‏.‏
English

The above mentioned tradition has also been narrated by Ibn 'Abbas to the same effect through a different chain of transmitters. This version adds:

He (the Prophet) thought that women could not hear (his sermon). So he went to them and Bilal was in his company. He gave them exhortation and commanded them to give alms. Some women put their ear-rings and other their rings in the garment of Bilal.

Urdu

ہم سے مسدد اور ابو معمر عبداللہ بن عمرو نے بیان کیا: ہم سے عبد الوارث نے ایوب سے، عطاء کی سند سے، ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اسی معنی کے ساتھ بیان کیا۔ انہوں نے کہا: ان کا خیال تھا کہ

اس نے عورتوں کو نہیں سنا ہے، اس لیے وہ بلال کو اپنے ساتھ لے کر ان کے پاس گئے، آپ نے ان کو وعظ فرمایا اور انہیں صدقہ کرنے کا حکم دیا۔ عورت بالیاں اور انگوٹھی بلال کے لباس میں ڈال دیتی۔

Hadith 1144
Sahih
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، فِي هَذَا الْحَدِيثِ قَالَ فَجَعَلَتِ الْمَرْأَةُ تُعْطِي الْقُرْطَ وَالْخَاتَمَ وَجَعَلَ بِلاَلٌ يَجْعَلُهُ فِي كِسَائِهِ قَالَ فَقَسَمَهُ عَلَى فُقَرَاءِ الْمُسْلِمِينَ ‏.‏
English

The above mentioned tradition has also bee transmitted by Ibn 'Abbas رضی اللہ عنہما through a different chain of narrators. This version adds:

The women began to give their ear-rings and rings in alms. Bilal رضی اللہ عنہ began to collect them in his garment. He (the Prophet) then distributed them among the poor Muslims.

Urdu

ہم سے محمد بن عبید نے بیان کیا، ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا، ان سے ایوب نے، عطاء سے، وہ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے، اس حدیث میں ہے

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو وہ عورت بالی اور انگوٹھی دینے لگی اور بلال رضی اللہ عنہ نے اسے اپنی چادر میں ڈالنا شروع کیا۔ اس نے کہا: تو اس نے اسے غریب مسلمانوں میں تقسیم کر دیا۔

Hadith 1145
Da`eef
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ أَبِي جَنَابٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ الْبَرَاءِ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم نُوِّلَ يَوْمَ الْعِيدِ قَوْسًا فَخَطَبَ عَلَيْهِ ‏.‏
English

Al-Bara' said:

Someone presented a bow to the Prophet (ﷺ) on the 'Id (festival). So he preached leaning on it.

Urdu

ہم سے حسن بن علی نے بیان کیا، کہا ہم سے عبد الرزاق نے بیان کیا، کہا ہم کو ابن عیینہ نے خبر دی، وہ ابوجناب کی سند سے، وہ یزید بن براء نے اپنے والد سے کہ

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو عید کے دن ایک رکوع دیا گیا اور عید کے دن آپ کو ایک کمان دیا گیا۔

Hadith 1146
Sahih
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَابِسٍ، قَالَ سَأَلَ رَجُلٌ ابْنَ عَبَّاسٍ أَشَهِدْتَ الْعِيدَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ نَعَمْ وَلَوْلاَ مَنْزِلَتِي مِنْهُ مَا شَهِدْتُهُ مِنَ الصِّغَرِ فَأَتَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم الْعَلَمَ الَّذِي عِنْدَ دَارِ كَثِيرِ بْنِ الصَّلْتِ فَصَلَّى ثُمَّ خَطَبَ وَلَمْ يَذْكُرْ أَذَانًا وَلاَ إِقَامَةً قَالَ ثُمَّ أَمَرَ بِالصَّدَقَةِ - قَالَ - فَجَعَلَ النِّسَاءُ يُشِرْنَ إِلَى آذَانِهِنَّ وَحُلُوقِهِنَّ قَالَ فَأَمَرَ بِلاَلاً فَأَتَاهُنَّ ثُمَّ رَجَعَ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم ‏.‏
English

'Abdul-Rahman bin 'Abis said:

A man asked Ibn 'Abbas رضی اللہ عنہما : Have you been present along with the Messenger of Allah (ﷺ) ? He replied: Yes. Had there been no dignity for me in his eyes, I would not have been present with him due to my minority. Then the Messenger of Allah (ﷺ) came to the point that was near the house of Kathir bin al-Salt. He prayed and afterwards preached. He (Ibn 'Abbas) did not mention the adhan (call to prayer) and the iqamah. He then commanded to give alms. The women began to point to their ears and throats (to give their jewelry in alms). He commanded Bilal رضی اللہ عنہ to go to them, then he returned to the prophet ﷺ.

Urdu

ہم سے محمد بن کثیر نے بیان کیا، کہا کہ ہم کو سفیان نے عبدالرحمٰن بن ابیس کے واسطہ سے خبر دی، انہوں نے کہا کہ

ایک شخص نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھا کہ کیا آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ عید دیکھی ہے؟ اس نے کہا: ہاں، اور اگر اس کے ساتھ میری حیثیت نہ ہوتی تو میں اپنی کم عمری کی وجہ سے اس کا مشاہدہ نہ کرتا۔پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس جھنڈے کے پاس گئے جو کثیر بن الصلت کے گھر کے پاس تھا، نماز پڑھی، پھر خطبہ دیا۔ اس نے اذان یا اذان کا ذکر نہیں کیا۔ پھر صدقہ کا حکم دیا۔فرمایا: تو عورتیں اپنے کانوں اور گلوں کی طرف اشارہ کرنے لگیں۔ انہوں نے کہا: چنانچہ آپ نے بلال رضی اللہ عنہ کو ان کے پاس جانے کا حکم دیا پھر وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس واپس آئے۔

Hadith 1147
Da`eef
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم صَلَّى الْعِيدَ بِلاَ أَذَانٍ وَلاَ إِقَامَةٍ وَأَبَا بَكْرٍ وَعُمَرَ أَوْ عُثْمَانَ شَكَّ يَحْيَى ‏.‏
English

Narrated Abdullah Ibn Abbas رضی اللہ عنہما :

The Messenger of Allah (ﷺ) offered the 'Id prayer without the adhan and the iqamah. Abu Bakr and Umar رضی اللہ عنہما or Uthman رضی اللہ عنہما also did so. The narrator Yahya is doubtful about Uthman رضی اللہ عنہما.

Urdu

ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ نے بیان کیا، ان سے ابن جریج نے، انہوں نے حسن بن مسلمہ کی سند سے، انہوں نے طاؤس کی سند سے، انہوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے کہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عید کی نماز بغیر اذان کے پڑھی، اور ابوبکر یا عمر رضی اللہ عنہما، عمر رضی اللہ عنہ اور عثمان رضی اللہ عنہما کی نماز موجود تھی۔ یحییٰ کو یقین نہیں آیا۔

Hadith 1148
Sahih
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَهَنَّادٌ، - وَهَذَا لَفْظُهُ - قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ، عَنْ سِمَاكٍ، - يَعْنِي ابْنَ حَرْبٍ - عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، قَالَ صَلَّيْتُ مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم غَيْرَ مَرَّةٍ وَلاَ مَرَّتَيْنِ الْعِيدَيْنِ بِغَيْرِ أَذَانٍ وَلاَ إِقَامَةٍ ‏.‏
English

Jabir bin Samurah رضی اللہ عنہ said:

I prayed the 'Id prayer with the Prophet (ﷺ) not once or twice (but many times) without the adhan and the iqamah.

Urdu

ہم سے عثمان بن ابی شیبہ اور ہناد نے بیان کیا - اور اس کا قول یہ ہے - انہوں نے کہا: ہم سے ابو الاحواس نے سماک کی سند سے، یعنی ابن حرب نے، جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا

میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک دو بار نہیں ( بارہا ) عیدین کی نماز بغیر اذان اور اقامت کے پڑھی ہے۔

Hadith 1149
Sahih
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ يُكَبِّرُ فِي الْفِطْرِ وَالأَضْحَى فِي الأُولَى سَبْعَ تَكْبِيرَاتٍ وَفِي الثَّانِيَةِ خَمْسًا ‏.‏
English

Narrated Aisha, Ummul Mu'minin رضی اللہ عنہا :

The Messenger of Allah (ﷺ) would say the takbir on (Eid) Al-Fitrand Al-Adha seven times in the first rak'ah and five times in the second rak'ah.

Urdu

ہم سے قتیبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے ابن لہیعہ نے بیان کیا، انہوں نے عقیل کی سند سے، انہوں نے ابن شہاب سے، انہوں نے عروہ سے، وہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم افطار کے دن اور قربانی کے دن (دونوں عیدوں کے موقعوں پر) پہلی رکعت میں سات مرتبہ اور دوسری رکعت میں پانچ مرتبہ تکبیر (اللہ سب سے بڑا ہے) کہتے۔

Hadith 1150
Sahih
حَدَّثَنَا ابْنُ السَّرْحِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ خَالِدِ بْنِ يَزِيدَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، بِإِسْنَادِهِ وَمَعْنَاهُ قَالَ سِوَى تَكْبِيرَتَىِ الرُّكُوعِ ‏.‏
English

The above mentioned tradition has also been narrated by Ibn Shihab through a different chain of transmitters to the same effect. This version adds:

"Except the two takers pronounced at the time of the bowing."

Urdu

ہم سے ابن سرح نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ابن وہب نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے ابن لہیعہ نے خالد بن یزید سے اور ابن شہاب کی سند سے ان کی سند اور اس کے معنی کے ساتھ فرمایا

"سوائے رکوع کی دو تکبیروں کے۔"