Narrated Ata Ibn Abu Rabah said:
Ibn az-Zubayr رضی اللہ عنہما led us in the Eid prayer on Friday early in the morning. When we went to offer the Friday, he did not come out to us. So we prayed ourselves alone. At that time Ibn Abbas رضی اللہ عنہما was present in at-Taif. When he came to us, we mentioned this (incident) to him. He said: He followed the sunnah.
ہم سے محمد بن طریف البجلی نے بیان کیا، ہم سے اصبط نے، العمش کی سند سے بیان کیا، عطاء بن ابورباح کہتے ہیں
عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما نے ہمیں جمعہ کے دن صبح سویرے عید کی نماز پڑھائی، پھر جب ہم نماز جمعہ کے لیے چلے تو وہ ہماری طرف نکلے ہی نہیں، بالآخر ہم نے تنہا تنہا نماز پڑھی ابن عباس رضی اللہ عنہما اس وقت طائف میں تھے، جب وہ آئے تو ہم نے ان سے اس کا ذکر کیا تو آپ نے کہا: انہوں ( ابن زبیر رضی اللہ عنہ ) نے سنت پر عمل کیا ہے۔
Ata said:
The Friday and the ‘id prayers synchronized during the time of Ibn al-Zubair رضی اللہ عنہما . He said: Two festivals (‘id and Friday) synchronized on the same day. He combined them and offered two rak’ahs in the morning and did not add anything to them until he offered the afternoon prayer.
ہم سے یحییٰ بن خلف نے بیان کیا، ہم سے ابوعاصم نے بیان کیا، ابن جریج نے کہا, عطاء کہتے ہیں
عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کے زمانے میں جمعہ اور عید دونوں ایک ہی دن اکٹھا ہو گئے تو آپ نے کہا: ایک ہی دن میں دونوں عیدیں اکٹھا ہو گئی ہیں، پھر آپ نے دونوں کو ملا کر صبح کے وقت صرف دو رکعت پڑھ لی، اس سے زیادہ نہیں پڑھی یہاں تک کہ عصر پڑھی ۔
Narrated Abu Hurairah رضی اللہ عنہ :
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم said: Two festivals ('Id and Friday) have synchronised on this day. If anyone does not want to offer the Friday prayer, the Eid prayer is sufficient for him. But we shall offer the Friday prayer. This tradition has been narrated by Umar from Shubah.
ہم سے محمد بن المصفی اور عمر بن حفص الوصابی المعنی نے بیان کیا, ہم سے بقیہ نے بیان کیا، ان سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے المغیرہ الضبی نے، عبدالعزیز بن رفیع نے ابوصالح کی سند سے, ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہارے آج کے اس دن میں دو عیدیں اکٹھا ہو گئی ہیں، لہٰذا رخصت ہے، جو چاہے عید اسے جمعہ سے کافی ہو گی اور ہم تو جمعہ پڑھیں گے ۔اس روایت کو عمر نے شعبہ سے روایت کیا ہے۔
Ibn Abbas رضی اللہ عنہما said:
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم used to recite in the morning prayer on Friday Surah Tanzil al-Sajdah (xxxii. ) and Surah al-Dahr (lxxi. ).
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے ابو عوانہ نے بیان کیا، ان سے مخول بن راشد نے، مسلم البطین نے سعید بن جبیر کی سند سے, عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کے دن فجر میں سورۃ السجدة اور «هل أتى على الإنسان حين من الدهر» پڑھتے تھے۔
This tradition has also been transmitted through a different chain of narrators. This version adds:
In the Friday prayer he would recite Surah al-Jumu’ah (lxxi) and Surah al-Munafiqunn.
ہم سے مسدد نے بیان کیا، ہم سے یحییٰ نے شعبہ کی سند سے بیان کیا, اس طریق سے بھی مخول سے اسی سند سے اسی مفہوم کی حدیث مروی ہے,اس میں انہوں نے اتنا اضافہ کیا ہے کہ
آپ صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ میں سورۃ الجمعہ اور «إذا جاءك المنافقون» پڑھتے تھے۔
Abdullah bin Umar رضی اللہ عنہما said:
Umar bin al-Khattab رضی اللہ عنہما saw a silken suit sold at the gate of the mosque. He said: Messenger of Allah, would that you purchase this suit and wear it on Friday and on the occasion when a delegation (from the outside) comes to you. The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم said: One who has no share in the afterlife will put on this (suit). Afterwards suits of similar nature were brought to the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم. He gave Umar bin al-Khattab رضی اللہ عنہ one of these suits. Umar رضی اللہ عنہ said: Messenger of Allah, you are giving it to me for use while you had told me such-and-such about the suit of ‘Utarid (i.e. sold by ‘Utarid). The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم said: I did not give it to you that you should wear it. Hence Umar gave it to his brother who was a disbeliever at Makkah for wearing.
ہم سے قعنبی نے مالک کی سند سے اور نافع کی سند سے بیان کیا, عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے مسجد کے دروازے کے پاس ایک ریشمی جوڑا بکتے ہوئے دیکھا تو انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: اللہ کے رسول! کاش! آپ اس کو خرید لیں اور جمعہ کے دن اور جس دن آپ کے پاس باہر کے وفود آئیں، اسے پہنا کریں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے تو صرف وہی پہنے گا جس کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں ہے ، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اسی قسم کے کچھ جوڑے آئے تو آپ نے ان میں سے ایک جوڑا عمر رضی اللہ عنہ کو دیا تو عمر نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ نے یہ کپڑا مجھے پہننے کو دیا ہے؟ حالانکہ عطارد کے جوڑے کے سلسلہ میں آپ ایسا ایسا کہہ چکے ہیں؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں نے تمہیں یہ جوڑا اس لیے نہیں دیا ہے کہ اسے تم پہنو ، چنانچہ عمر نے اسے اپنے ایک مشرک بھائی کو جو مکہ میں رہتا تھا پہننے کے لیے دے دیا۔
It was reported from Ibn Shihab, from Salim, from his father:
Umar bin al-Khattab رضی اللہ عنہ saw a suit of silken cloth being sold in the market. He took it to the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم, and said: Purchase it ad decorate with it on Eid on the occasion of the arrival of delegations. The narrator then narrated the tradition. The former version is complete.
ہم سے احمد بن صالح نے بیان کیا، ہم سے ابن وہب نے بیان کیا، مجھے یونس اور عمرو بن حارث نے خبر دی، وہ ابن شہاب سے، وہ سالم نے اپنے والد سے، انہوں نے کہا
عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے بازار میں ایک موٹے ریشم کا جوڑا بکتا ہوا پایا تو اسے لے کر وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا: آپ اسے خرید لیجئیے اور عید میں یا وفود سے ملتے وقت آپ اسے پہنا کیجئے۔ پھر راوی نے پوری حدیث اخیر تک بیان کی اور پہلی حدیث زیادہ کامل ہے۔
Narrated Muhammad Ibn Yahya Ibn Habban:
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم said: What is the harm if any of you has two garments, if he can provide them, for Friday (prayer) in addition to the two garments for his daily work? Amr reported from Ibn Habib from Musa ibn Saad from Ibn Habban from Ibn Salam who heard this (tradition) from the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم on the pulpit. Abu Dawud said: This tradition has been reported by Yusuf bin Abdullah bin Salam رضی اللہ عنہ from the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم through a different chain of narrators.
ہم سے احمد بن صالح نے بیان کیا، کہا ہم سے ابن وہب نے بیان کیا، مجھے یونس اور عمرو نے خبر دی کہ ان سے یحییٰ بن سعید انصاری نے بیان کیا، محمد بن یحییٰ بن حبان نے بیان کیا ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر میسر ہو سکے تو تمہارے لیے کوئی حرج کی بات نہیں کہ تم میں سے ہر ایک اپنے کام کاج کے کپڑوں کے علاوہ دو کپڑے جمعہ کے لیے بنا رکھے ۔ عمرو کہتے ہیں: مجھے ابن ابوحبیب نے خبر دی ہے، انہوں نے موسیٰ بن سعد سے، موسیٰ بن سعد نے ابن حبان سے، ابن حبان نے ابن سلام سے روایت کی ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اسے منبر پر فرماتے سنا ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے وہب بن جریر نے اپنے والد سے، انہوں نے یحییٰ بن ایوب سے، یحییٰ نے یزید بن ابوحبیب سے، انہوں نے موسیٰ بن سعد سے، موسیٰ بن سعد نے یوسف بن عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ہے۔
Amr bin Shuaib reported from his father, from his grandfather:
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم prohibited buying and selling in the mosque, announcing aloud about a lost thing, the recitation of a poem in it, and prohibited sitting in a circle (in the mosque) on Friday before the prayer.
ہم سے مسدد نے بیان کیا، ہم سے یحییٰ نے بیان کیا، ابن عجلان سے، عمرو بن شعیب سے، اپنے والد سے، اپنے دادا سے
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد میں خرید و فروخت کرنے، کوئی گمشدہ چیز تلاش کرنے، شعر پڑھنے اور جمعہ کے دن نماز سے پہلے حلقہ بنا کر بیٹھنے سے منع فرمایا ہے ۔
Abu Hazim bin Dinar said:
People came to Sahl bin Saad al-Saeedi رضی اللہ عنہ , when they were doubtful about the kind of wood of the pulpit (in the mosque of the Prophet). They asked him about it. He said: By Allah, I know (the wood) of which it was made; I saw it the first day when it was placed there, and the first day when the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم sat on it. The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم sent for a woman whom Sahl named and asked her: Order your boy, the carpenter, to construct for me a wooden pulpit so that I sit on it when I deliver a speech to the people. So she ordered him and he made a pulpit of a wood called tarfa taken from al-Ghabah (a place at a distance of nine miles from Madina). He brought it to her. She sent it to the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم. He ordered and that was placed here. I saw the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم praying on it: he said: Allah is most great ; he then bowed while he was on it; then he returned and prostrated in the root of the pulpit; he then returned (to the pulpit). When he finished (the prayer), he addressed himself to the people and said: O people, I did this so that you may follow me and know my prayer.
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، ہم سے یعقوب بن عبدالرحمٰن بن محمد بن عبداللہ بن عبد القاری القرشی نے بیان کیا، ابوحازم بن دینار بیان کرتے ہیں کہ
کہ کچھ لوگ سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ کے پاس آئے، وہ لوگ منبر کے سلسلے میں جھگڑ رہے تھے کہ کس لکڑی کا تھا؟ تو انہوں نے سہل بن سعد سے اس کے متعلق پوچھا تو آپ نے کہا: قسم اللہ کی! میں جانتا ہوں کہ وہ کس لکڑی کا تھا اور میں نے اسے پہلے ہی دن دیکھا جب وہ رکھا گیا اور جب اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک عورت کے پاس- جس کا سہل نے نام لیا- یہ پیغام بھیجا کہ تم اپنے نوجوان بڑھئی کو حکم دو کہ وہ میرے لیے چند لکڑیاں ایسی بنا دے جن پر بیٹھ کر میں لوگوں کو خطبہ دیا کروں، تو اس عورت نے اسے منبر کے بنانے کا حکم دیا، اس بڑھئی نے غابہ کے جھاؤ سے منبر بنایا پھر اسے لے کر وہ عورت کے پاس آیا تو اس عورت نے اسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بھیج دیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ( ایک جگہ ) رکھنے کا حکم دیا، چنانچہ وہ منبر اسی جگہ رکھا گیا، پھر میں نے دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر نماز پڑھی اور تکبیر کہی پھر اسی پر رکوع بھی کیا، پھر آپ الٹے پاؤں اترے اور منبر کی جڑ میں سجدہ کیا، پھر منبر پر واپس چلے گئے، پھر جب نماز سے فارغ ہوئے تو لوگوں کی جانب متوجہ ہو کر فرمایا: لوگو! میں نے یہ اس لیے کیا ہے تاکہ تم میری پیروی کرو اور میری نماز کو جان سکو۔
Ibn Umar رضی اللہ عنہما said:
When the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم became fat, Tamim al-Dari رضی اللہ عنہ said to him: Should I make for you pulpit, Messenger of Allah, that will bear the burden of your body ? He said: Yes. So he made a pulpit consisting of two steps.
ہم سے حسن بن علی نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوعاصم نے بیان کیا، انہوں نے ابن ابی رواد سے اور نافع کی سند سے, عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا جسم ( بڑھاپے کی وجہ سے ) جب بھاری ہو گیا تو تمیم داری رضی اللہ عنہ نے آپ سے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا میں آپ کے لیے ایک منبر نہ تیار کر دوں جو آپ کی ہڈیوں کو مجتمع رکھے یا اٹھائے رکھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں، کیوں نہیں! ، چنانچہ انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے دو زینوں والا ایک منبر بنا دیا۔
Salamah bin al-Akwa رضی اللہ عنہ said:
The space between the pulpit of the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم and the wall (of the mosque) was such that a goat could pass.
ہم سے مخلد بن خالد نے بیان کیا، کہا ہم سے ابو عاصم نے بیان کیا، وہ یزید بن ابی عبید کی سند سے, سلمہ بن الاکوع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے منبر اور ( قبلہ والی ) دیوار کے درمیان ایک بکری کے گزرنے کے بقدر جگہ تھی۔
Narrated Abu Qatadah رضی اللہ عنہ :
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم disapproved of the offering of prayer at the meridian except on Friday. The Hell-fire is kindled except on Friday. Abu Dawud said: This is a mursal tradition (i.e. the successor is narrating it directly from the Prophet). Mujahid is older than Abu al-Khalil, and Abu al-Khalil did not hear (any tradition from) Abu Qatadah رضی اللہ عنہ .
ہم سے محمد بن عیسیٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے حسن بن ابراہیم نے لیث کی سند سے، مجاہد کی سند سے، ابو الخلیل کی سند سے, ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ٹھیک دوپہر کے وقت نماز پڑھنے کو ناپسند کیا ہے سوائے جمعہ کے دن کے اور آپ نے فرمایا: جہنم سوائے جمعہ کے دن کے ہر روز بھڑکائی جاتی ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ حدیث مرسل ( منقطع ) ہے، مجاہد عمر میں ابوالخلیل سے بڑے ہیں اور ابوالخلیل کا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے سماع نہیں ہے۔
Anas bin Malik رضی اللہ عنہ said:
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم used to offer the Friday prayer when the sun declined.
ہم سے حسن بن علی نے بیان کیا، کہا ہم سے زید بن الحباب نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے فلیح بن سلیمان نے بیان کیا، مجھ سے عثمان بن عبدالرحمٰن تیمی نے بیان کیا، انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ سورج ڈھلنے کے بعد پڑھتے تھے۔
Salamah bin al-Akwa رضی اللہ عنہ reported on the authority of his father:
We used to offer the Friday prayer along with the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم and return (to our homes) while no shade of the walls was seen (at that time).
ہم سے احمد بن یونس نے بیان کیا، کہا ہم سے یعلیٰ بن حارث نے بیان کیا، میں نے ایاس بن سلمہ بن الاکوع کو اپنے والد سے روایت کرتے ہوئے سنا، انہوں نے کہا
ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جمعہ پڑھتے تھے پھر نماز سے فارغ ہو کر واپس آتے تھے اور دیواروں کا سایہ نہ ہوتا تھا۔
Sahl bin Saad رضی اللہ عنہ said:
We had a siesta or lunch after the Friday prayer.
ہم سے محمد بن کثیر نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا، ابوحازم کی سند سے, سہل بن سعد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
ہم جمعہ کے بعد قیلولہ کرتے تھے اور دوپہر کا کھانا کھاتے تھے۔
Al-Saib bin Yazid رضی اللہ عنہ said:
During the time of the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم and Abu Bakr and Umar رضی اللہ عنہماthe call to the Friday prayer was first made at the time when the imam was seated on the pulpit (for giving the sermon). When the time of Uthman came, and the people became abundant, Uthman رضی اللہ عنہ ordered to make a third call to the Friday prayer. It was made on al-Zaura (a house in Madina). The rule of action continued to the same effect.
ہم سے محمد بن سلمہ مرادی نے بیان کیا، ہم سے ابن وہب نے بیان کیا، یونس کی سند سے، وہ ابن شہاب کی سند سے, سائب بن یزید رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے زمانے میں جمعہ کے دن پہلی اذان اس وقت ہوتی تھی جب امام منبر پر بیٹھ جاتا تھا، پھر جب عثمان رضی اللہ عنہ کی خلافت ہوئی، اور لوگوں کی تعداد بڑھ گئی تو جمعہ کے دن انہوں نے تیسری اذان کا حکم دیا، چنانچہ زوراء پر اذان دی گئی پھر معاملہ اسی پر قائم رہا ۔
Saeed bin Yazid رضی اللہ عنہ said:
The call to the (Friday) prayer was made at the gate of the mosque in front of the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم when he sat on the pulpit, and of Abu Bakr and Umar رضی اللہ عنہما . The narrator then repeated the same tradition as reported by Yunus.
ہم سے النفیلی نے بیان کیا، ہم سے محمد بن سلمہ نے بیان کیا، ان سے محمد بن اسحاق نے، وہ الزہری کی سند سے, سائب بن یزید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں
جمعہ کے روز جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر بیٹھ جاتے تو آپ کے سامنے مسجد کے دروازے پر اذان دی جاتی تھی اسی طرح ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے دور میں بھی مسجد کے دروازے پر اذان دی جاتی۔ پھر راوی نے یونس کی حدیث کی طرح روایت بیان کی۔
Saib said:
There was no other muadhdhin (pronouncer) of the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم except Bilal. The narrator then reported the tradition to the same effect.
ہم سے ہناد بن ساری نے بیان کیا، ہم سے عبدہ نے بیان کیا، انہوں نے محمد کی سند سے، ان سے ابن اسحاق نے، وہ الزہری کی سند سے، وہ سائب کی سند سے، انہوں نے کہا
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سوائے ایک مؤذن بلال رضی اللہ عنہ کے کوئی اور مؤذن نہیں تھا ۔ پھر راوی نے اسی مفہوم کی حدیث ذکر کی۔
Saib رضی اللہ عنہ said:
There was no other muadhdhin of the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم. He then narrated the tradition which is incomplete.
ہم سے محمد بن یحییٰ بن فارس نے بیان کیا، ہم سے یعقوب بن ابراہیم بن سعد نے بیان کیا، ہم سے میرے والد نے، صالح کی سند سے، ابن شہاب کی سند سے, سائب بن یزید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک مؤذن کے علاوہ اور کوئی مؤذن نہیں تھا۔ اور راوی نے یہی حدیث بیان کی لیکن پوری نہیں۔