The above mentioned tradition has also been narrated by Abu Hurairahرضی اللہ عنہ through a different chain of transmitters. This version goes:
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم uttered the takbir and prostrated himself (in a tradition relating to the incidence of the possessor of arms [Dhu al-yadain]). The narrator Hisham, I, e, Ibn Hassan said: he uttered the takbir ; then he uttered the takbir and prostrated himself. Abu Dawud said: This tradition has also been narrated by Habib bin al-shahid, Humaid, Yunus, and Asim bin al-Ahwal, from Muhammad on the authority of Abu Hurairah none of them mentioned what Hammad bin Zaid mentioned from from Hisham that he uttered the takbir; then uttered the takbir and prostrated himself. Hammad bin Sulaimah and Abu BAkr bin Ayyash also narrated this tradition from Hisham, but they did not narrate from him what HAmmad bin zaid narrated that he uttered the takbir and again uttered the takbir.
ہم سے علی بن نصر بن علی نے بیان کیا، ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا، ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا، ان سے ایوب، ہشام، یحییٰ بن عتیق اور ابن عون نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی سند سے, ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ذوالیدین کے قصہ میں روایت کی ہے کہ
آپ نے «الله أكبر» کہا اور سجدہ کیا، ہشام بن حسان کی روایت میں ہے کہ آپ نے «الله أكبر» کہا پھر «الله أكبر» کہا اور سجدہ کیا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اس حدیث کو حبیب بن شہید، حمید، یونس اور عاصم احول نے بھی محمد بن سیرین کے واسطہ سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے، ان میں سے کسی نے بھی اس چیز کا ذکر نہیں کیا ہے جس کا حماد بن زید نے بواسطہ ہشام کیا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے «الله أكبر» کہا، پھر«الله أكبر» کہا اور سجدہ کیا، حماد بن سلمہ اور ابوبکر بن عیاش نے بھی اس حدیث کو بواسطہ ہشام روایت کیا ہے مگر ان دونوں نے بھی ان کے واسطہ سے اس کا ذکر نہیں کیا ہے جس کا حماد بن زید نے ذکر کیا ہے کہ آپ نے «الله أكبر» کہا پھر «الله أكبر» کہا۔
This tradition has also been transmitted by Abu Hurairah رضی اللہ عنہ through a different chain of narrators. This version goes:
He did not make two prostrations (at the end of prayer) due to forgetfulness until Allah gave him satisfaction about it.
ہم سے محمد بن یحییٰ بن فارس نے بیان کیا، ہم سے محمد بن کثیر نے اوزاعی کی سند سے، زہری کی سند سے، سعید بن المسیب اور ابو سلمہ کی سند سے بیان کیا, اس سند سے بھی ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے یہی واقعہ مروی ہے,اس میں ہے
اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سجدہ سہو نہیں کیا یہاں تک کہ اللہ نے آپ کو اس کا کامل یقین دلا دیا ۔
Ibn Shihab (al-Zuhr) reported on the authority of Abu Bakr bin Sulaiman bin Abi Hathmah:
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم did not make two prostrations when are made when one is doubtful until the people met him. Abu Dawud said; this tradition has also been transmitted by al-Zahidi from al-zuhr from Abu Bakr bin Sulaiman bin Abi Hathman from the prophet صلی اللہ علیہ وسلم. This version goes: he did not make two prostrations on account of forgetfulness.
ہم سے حجاج بن ابی یعقوب نے بیان کیا، ان سے یعقوب نے بیان کیا، یعنی ہم سے ابن ابراہیم نے بیان کیا، ہم سے میرے والد نے صالح کی سند سے بیان کیا, ابن شہاب سے روایت ہے کہ ابوبکر بن سلیمان بن ابی حثمہ نے انہیں خبر دی کہ
انہیں یہ بات پہنچی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں سجدوں کو جو شک کی وجہ سے کئے جاتے ہیں نہیں کیا یہاں تک کہ لوگوں نے آپ کو ان کی یاددہانی کرائی۔ ابن شہاب کہتے ہیں: اس حدیث کی خبر مجھے سعید بن مسیب نے ابوہریرہ کے واسطے سے دی ہے، نیز مجھے ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن، ابوبکر بن حارث بن ہشام اور عبیداللہ بن عبداللہ نے بھی خبر دی ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے یحییٰ بن ابوکثیر اور عمران بن ابوانس نے ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن سے اور علاء بن عبدالرحمٰن نے اپنے والد سے روایت کیا ہے اور ان سبھوں نے اس واقعہ کو ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے لیکن اس میں انہوں نے یہ ذکر نہیں کیا کہ آپ نے دو سجدے کئے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے زبیدی نے زہری سے، زہری نے ابوبکر بن سلیمان بن ابی حثمہ سے اور ابوبکر بن سلیمان نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ہے، اس میں ہے کہ آپ نے سہو کے دونوں سجدے نہیں کئے۔
Abu Hurairah رضی اللہ عنہ reported:
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم offered the noon prayer and he gave the salutation at the end of two rakahs. He was asked. Has the prayer been shortened ? then he offered two rakahs of the prayer and made two prostrations (at the end of it).
ہم سے عبیداللہ بن معاذ نے بیان کیا، کہا ہم سے میرے والد نے بیان کیا، ان سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے سعد بن ابراہیم نے بیان کیا، انہوں نے ابو سلمہ بن عبدالرحمٰن رضی اللہ عنہ سے سنا, ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر پڑھی تو دو ہی رکعت پڑھنے کے بعد سلام پھیر دیا تو آپ سے عرض کیا گیا کہ آپ نے نماز کم کر دی ہے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو رکعتیں اور پڑھیں پھر ( سہو کے ) دو سجدے کئے۔
Narrated Abu Hurairah رضی اللہ عنہ :
When the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم finished two rak'ahs of an obligatory prayer, a man asked him: Messenger of Allah, has the prayer been shortened, or have you forgotten? he replied: I did not do all that. The people said: Messenger of Allah, you did that. Therefore, he offered another two rak'ahs or prayer and did not make two prostrations due to forgetfulness. Abu Dawud said: This tradition has also been narrated by Dawud al-Hussain from Abu Sufyan, freed slave of Ibn Abi Ahmad on the authority of Abu Hurairah رضی اللہ عنہ from the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم. This version goes: He then made two prostrations while he was sitting after the salutation.
ہم سے اسماعیل بن اسد نے بیان کیا، کہا ہم سے شبابہ نے بیان کیا، کہا ہم سے ابن ابی ذہب نے بیان کیا، وہ سعید بن ابی سعید مقبری کی سند سے, ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرض نماز کی دو ہی رکعتیں پڑھ کر پلٹ گئے تو ایک شخص نے آپ سے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا نماز کم کر دی گئی ہے یا آپ بھول گئے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ان میں سے کوئی بات میں نے نہیں کی ہے ، تو لوگوں نے کہا: اللہ کے رسول! آپ نے ایسا کیا ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بعد والی دونوں رکعتیں پڑھیں، پھر پلٹے اور سہو کے دونوں سجدے نہیں کئے ۱؎۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے داود بن حصین نے ابوسفیان مولی بن ابی احمد سے، ابوسفیان نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی قصہ کے ساتھ روایت کیا ہے، اس میں ہے: پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام پھیرنے کے بعد بیٹھ کر دو سجدے کئے۔
Abu Hurairah رضی اللہ عنہ reported:
He then made two prostration on account of forgetfulness after he had given the salutation.
ہم سے ہارون بن عبداللہ نے بیان کیا، ہم سے ہاشم بن القاسم نے بیان کیا، ہم سے عکرمہ بن عمار نے بیان کیا،ضمضم بن جوس ہفانی کہتے ہیں کہ مجھ سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے یہی حدیث بیان کی ہے اس میں ہے
پھر آپ نے سلام پھیرنے کے بعد سہو کے دو سجدے کئے ۔
Ibn Umar رضی اللہ عنہما said:
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم led us in prayer and gave the salutation after two rakahs of prayer. He narrated this tradition like that of Ibn Sirin from Abu Hurairah رضی اللہ عنہ . This version adds; he gave the salutation and prostrated two prostrations due to forgetfulness.
ہم سے احمد بن محمد بن ثابت نے بیان کیا، ہم سے ابو اسامہ نے بیان کیا۔ ہم سےمحمد بن علاء نے بیان کیا، کہا ہم کو ابو اسامہ نے خبر دی، مجھے عبید اللہ نے نافع سے خبر دی، عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نماز پڑھائی تو دو ہی رکعت میں آپ نے سلام پھیر دیا، پھر انہوں نے محمد بن سیرین کی حدیث کی طرح جسے انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے ذکر کیا، اس میں ہے کہ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام پھیرا اور سہو کے دو سجدے کئے۔
Imran bin Husain رضی اللہ عنہما said:
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم gave the salutation at the end of three rakahs in the afternoon prayer, then went into the apartment (according to the version of maslamah). A man called al-Khirbaq who had long arms got up and said ; has the prayer been shortened, Messenger of Allah ? He came out angrily trailing his cloak and said: Is he telling the truth ? they said; Yes. He then prayed that rakah, then gave the salutation, then made two prostrations, then gave the salutation.
ہم سے مسدد نے بیان کیا، ہم سے یزید بن زرعی نے بیان کیا, ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے مسلمہ بن محمد نے بیان کیا، انہوں نے کہا: ہم سے خالد الحدہ نے بیان کیا، ہم سے ابوقلابہ نے بیان کیا، وہ ابو المحلب کی سند سے, عمران بن حصین رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عصر کی تین ہی رکعت پڑھ کر سلام پھیر دیا، پھر اندر چلے گئے۔ مسدد نے مسلمہ سے نقل کیا ہے کہ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم حجرے میں چلے گئے تو ایک شخص جس کا نام خرباق تھا اور جس کے دونوں ہاتھ لمبے تھے اٹھ کر آپ کے پاس گیا اور اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا نماز کم کر دی گئی ہے؟ ( یہ سن کر ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی چادر کھینچتے ہوئے غصے کی حالت میں باہر نکلے اور لوگوں سے پوچھا: کیا یہ سچ کہہ رہا ہے؟ ، لوگوں نے کہا: ہاں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ رکعت پڑھی، پھر سلام پھیرا، پھر سہو کے دونوں سجدے کئے پھر سلام پھیرا۔
Abdullah (bin Masud) رضی اللہ عنہ said:
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم prayed five rak’ahs in the noon prayer. He was asked whether the prayer had been extended. He asked what they meant by that. The people said: you prayed five rak’ahs. Then he made two prostrations after having given the salutation.
ہم سے حفص بن عمر اور مسلم بن ابراہیم المعنی نے بیان کیا, حفص نے کہا, ہم سے شعبہ نے الحکم کی سند سے، ابراہیم کی سند سے، علقمہ کی سند سے بیان کیا, عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر کی پانچ رکعتیں پڑھیں تو آپ سے پوچھا گیا کہ کیا نماز بڑھا دی گئی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ کیا ہے؟ ، تو لوگوں نے عرض کیا: آپ نے پانچ رکعتیں پڑھی ہیں، ( یہ سن کر ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو سجدے کئے اس کے بعد کہ آپ سلام پھیر چکے تھے۔
Narrated Abdullah Ibn Masud رضی اللہ عنہ :
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم offered prayer. The version of the narrator Ibrahim goes: I do not know whether he increased or decreased (the rak'ahs of prayer). When he gave the salutation, he was asked: Has something new happened in the prayer, Messenger of Allah? He said: What is it? They said: You prayed so many and so many (rak'ahs). He then relented his foot and faced the Qiblah and made two prostrations. He then gave the salutation. When he turned away (finished the prayer), he turned his face to us and said: Had anything new happened in prayer, I would have informed you. I am only a human being and I forget just as you do; so when I forget, remind me, and when any of you is in doubt about his prayer he should aim at what is correct, and complete his prayer in that respect, then give the salutation and afterwards made two prostrations.
ہم سے عثمان بن ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے جریر نے منصور کی سند سے اور ابراہیم کی سند سے,علقمہ کہتے ہیں کہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھی ( ابراہیم کی روایت میں ہے: تو میں نہیں جان سکا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں زیادتی کی یا کمی ) ، پھر جب آپ نے سلام پھیرا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا گیا: اللہ کے رسول! کیا نماز میں کوئی نئی چیز ہوئی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ کیا؟ ، لوگوں نے کہا: آپ نے اتنی اتنی رکعتیں پڑھی ہیں، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا پیر موڑا اور قبلہ رخ ہوئے، پھر لوگوں کے ساتھ دو سجدے کئے پھر سلام پھیرا، جب نماز سے فارغ ہوئے تو ہماری جانب متوجہ ہوئے اور فرمایا: اگر نماز میں کوئی نئی بات ہوئی ہوتی تو میں تم کو اس سے باخبر کرتا، لیکن انسان ہی تو ہوں، میں بھی بھول جاتا ہوں جیسے تم لوگ بھول جاتے ہو، لہٰذا جب میں بھول جایا کروں تو تم لوگ مجھے یاد دلا دیا کرو ، اور فرمایا: جب تم میں سے کسی کو نماز میں شک پیدا ہو جائے تو سوچے کہ ٹھیک کیا ہے، پھر اسی حساب سے نماز پوری کرے، اس کے بعد سلام پھیرے پھر ( سہو کے ) دو سجدے کرے ۔
This tradition has also been transmitted by Abdullah (bin Masud رضی اللہ عنہ ) through a different chain of narrators. This version goes:
He ﷺ said: When one of you forgets (in his prayer), he should perform two prostrations. Then he turned away, and performed two prostrations (due to forgetfulness). Abu Dawud said: The narrator Husain also reported it like al-Amash.
ہم سے محمد بن عبداللہ بن نمیر نے بیان کیا، کہا ہم سے میرے والد نے بیان کیا، کہا ہم سے الاعمش نے بیان کیا، ابراہیم کی سند سے، علقمہ کی سند سے, اس سند سے بھی عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے یہی حدیث مروی ہے, اس میں ہے
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی شخص ( نماز میں ) بھول جائے تو دو سجدے کرے ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم پلٹے اور سہو کے دو سجدے کئے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے حصین نے اعمش کی حدیث کی طرح روایت کیا ہے۔
Abdullah (bin Masud) رضی اللہ عنہ said:
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم led us in five rak’ahs of prayer. When he turned away (i.e. finished his prayer), the people whispered among themselves. He asked; what is the matter with you ? They said: Messenger of Allah, has (the number of the rak’ahs of) the prayer been increased ? he said: No. they said; you have offered five rak’ahs of prayer. He then turned away and performed two prostrations, and afterwards gave the salutation. He then said: I am only a human being, I forget, as you forget.
ہم سے نصر بن علی نے بیان کیا، کہا ہم سے جریر نے بیان کیا اور ہم سے یوسف بن موسیٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے جریر نے بیان کیا، اور یہ یوسف کی حدیث ہے، حسن بن عبید اللہ سے، ابراہیم بن سوید سے، علقمہ کی سند سے، انہوں نے کہا:عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں پانچ رکعتیں پڑھائیں، پھر جب آپ مڑے تو لوگوں نے آپس میں چہ میگوئیاں شروع کر دیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا بات ہے؟ ، لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا نماز زیادہ ہو گئی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں ، لوگوں نے کہا: آپ نے پانچ رکعتیں پڑھی ہیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم مڑے اور سہو کے دو سجدے کئے پھر سلام پھیرا اور فرمایا: میں انسان ہی تو ہوں، جیسے تم لوگ بھولتے ہو ویسے میں بھی بھولتا ہوں ۔
Narrated Muawiyah Ibn Khudayj رضی اللہ عنہ :
One day the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم prayed and gave the salutation while a rak'ah of the prayer remained to be offered. A man went to him and said: You forgot to offer one rak'ah of prayer. Then he returned and entered the mosque and ordered Bilal رضی اللہ عنہ (to utter the Iqamah). He uttered the Iqamah for prayer. He then led the people in one rak'ah of prayer. I stated it to the people. They asked me: Do you know who he was? I said: No, but I can recognize him if I see him. Then the man passed by me, I said: It is he. The people said: This is Talhah Ibn Ubaydullah.
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، ان سے لیث یعنی ابن سعد نے بیان کیا، ان سے یزید بن ابی حبیب نے بیان کیا کہ انہیں سوید بن قیس نے خبر دی کہ معاویہ بن حدیج رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دن نماز پڑھائی تو سلام پھیر دیا حالانکہ ایک رکعت نماز باقی رہ گئی تھی، ایک شخص نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر عرض کیا: آپ نماز میں ایک رکعت بھول گئے ہیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم لوٹے، مسجد کے اندر آئے اور بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا تو انہوں نے نماز کی اقامت کہی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو ایک رکعت پڑھائی، میں نے لوگوں کو اس کی خبر دی تو لوگوں نے مجھ سے پوچھا: کیا تم اس شخص کو جانتے ہو؟ میں نے کہا: نہیں، البتہ اگر میں دیکھوں ( تو پہچان لوں گا ) ، پھر وہی شخص میرے سامنے سے گزرا تو میں نے کہا: یہی وہ شخص تھا، لوگوں نے کہا: یہ طلحہ بن عبیداللہ ہیں۔
Ata bin Yasar said that Abu Saeed Al-Khudri رضی اللہ عنہ reported:
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم as saying: when one of you is in doubt about his prayer (i.e. how much he has prayed), he should throw away his doubt and base his prayer on what he is sure of. When he is sure about the completion of his prayer, he should make two prostrations (at the end of the prayer). If the prayer is complete, the additional rak’ah and the two prostrations will be supererogatory prayer. If the prayer is incomplete, the additional rak’ahs will compensate it, and the two prostrations will be a disgrace for the devil. Abu Dawood said: Hisham bin Sad and Muhammad bin Mutarrif reported it from Zaid, from Ata' bin Yasar, from Abu Saeed Al-Khurdri رضی اللہ عنہ , from the prophet ﷺ. The narration of Abu Khalid (above) is more detailed.
ہم سے محمد بن العلاء نے بیان کیا، ہم سے ابو خالد نے بیان کیا، ان سے ابن عجلان نے بیان کیا، وہ زید بن اسلم نے عطاء بن یسار سے, ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کسی کو اپنی نماز میں شک ہو جائے ( کہ کتنی رکعتیں پڑھی ہیں ) تو شک دور کرے اور یقین کو بنیاد بنائے، پھر جب اسے نماز پوری ہو جانے کا یقین ہو جائے تو دو سجدے کرے، اگر اس کی نماز ( درحقیقت ) پوری ہو چکی تھی تو یہ رکعت اور دونوں سجدے نفل ہو جائیں گے، اور اگر پوری نہیں ہوئی تھی تو اس رکعت سے پوری ہو جائے گی اور یہ دونوں سجدے شیطان کو ذلیل و خوار کرنے والے ہوں گے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے ہشام بن سعد اور محمد بن مطرف نے زید سے، زید نے عطاء بن یسار سے، عطاء نے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے، اور ابوسعید نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ہے، اور ابوخالد کی حدیث زیادہ مکمل ہے۔
Narrated Abdullah Ibn Abbas رضی اللہ عنہما :
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم named the two prostrations of forgetfulness disgraceful for the devil.
ہم سے محمد بن عبدالعزیز بن ابی رزمہ نے بیان کیا، کہا ہم سے الفضل بن موسیٰ نے بیان کیا، وہ عبداللہ بن کیسان کی سند سے، انہوں نے عکرمہ کی سند سے, عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سجدہ سہو کا نام «مرغمتين» ( شیطان کو ذلیل و خوار کرنے والی دو چیزیں ) رکھا۔
Narrated Ata Ibn Yasar:
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم said: When one of you is in doubt about his prayer, and does not know how much he has prayed, three or four rak'ahs, he should pray one (additional) rak'ah and make two prostrations while sitting before giving the salutation. If the (additional) rak'ah which he prayed is the fifth one, he will make it an even number by these two prostrations. If it is the fourth one, the two prostrations will be a disgrace for the devil.
ہم سے قعنبی نے مالک کی سند سے اور زید بن اسلم کی سند سے بیان کیا, عطاء بن یسار سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کسی کو اپنی نماز میں شک ہو جائے، پھر اسے یاد نہ رہے کہ میں نے تین پڑھی ہے یا چار تو ایک رکعت اور پڑھ لے اور سلام پھیرنے سے پہلے بیٹھے بیٹھے دو سجدے کرے، اب اگر جو رکعت اس نے پڑھی ہے وہ پانچویں تھی تو ان دونوں ( سجدوں ) کے ذریعہ اسے جفت کرے گا یعنی وہ چھ رکعتیں ہو جائیں گی اور اگر چوتھی تھی تو یہ دونوں سجدے شیطان کے لیے ذلت و خواری کا ذریعہ ہوں گے ۔
Zaid bin Aslam reported on the authority of the chain of Malik:
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم said: If one of you is in doubt about his prayer, and if he is sure that he prayed three rak'ah, he should stand and complete one rak'ah along with its prostrations. Then he should sit and recite the tashahhud. When he finishes the prayer, and there remains nothing except salutation, he should make two prostrations while he is sitting and afterwards should give the salutation. The narrator then narrated the tradition similar to that of Malik. Abu Dawud said: Similarly, this tradition has been narrated by Ibn Wahb from Malik, Hafs bin Maisarah, Dawud bin Qais and Hisham bin Saad. But Hisham projected it to Abu Saeed al-Khudri.
ہم سے قتیبہ نے بیان کیا، ہم سے یعقوب بن عبدالرحمٰن القاری نے بیان کیا،اس طریق سے بھی زید بن اسلم سے مالک ہی کی سند سے مروی ہے، زید کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے کسی کو نماز میں شک ہو جائے تو اگر اسے یقین ہو کہ میں نے تین ہی رکعت پڑھی ہے تو کھڑا ہو اور ایک رکعت اس کے سجدوں کے ساتھ پڑھ کر اسے پوری کرے پھر بیٹھے اور تشہد پڑھے، پھر جب ان سب کاموں سے فارغ ہو جائے اور صرف سلام پھیرنا باقی رہے تو سلام پھیرنے سے پہلے بیٹھے بیٹھے دو سجدے کرے پھر سلام پھیرے ۔ پھر راوی نے مالک کی روایت کے ہم معنی حدیث ذکر کی۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسی طرح اسے ابن وہب نے مالک، حفص بن میسرہ، داود بن قیس اور ہشام بن سعد سے روایت کیا ہے، مگر ہشام نے اسے ابو سعید خدری تک پہنچایا ہے۔
Abu Ubaydah reported, on the authority of his father Abdullah (Ibn Masud) رضی اللہ عنہ :
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم as saying: When you offer the prayer, and you are in doubt about the number of rak'ahs whether offered three or four, and you have prayed four rak'ahs in all probability in your opinion, you should recite tashahhud and make two prostrations while you are sitting before giving the salutation. afterwards you should recite the tashahhud and give the salutation again. Abu Dawud said: This tradition has been narrated by Abdul-Wahid from Khusaif, but he did not report it as a statement of the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم. The version of Abdul-Wahid has been corroborated by Sufyan, Sharik, and Isra'il. They differed amongst themselves about the text of the tradition and they did not narrate it with the continuous chain up to the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم.
ہم سے النفیلی نے بیان کیا، ہم سے محمد بن سلمہ نے بیان کیا، وہ خصیف کی سند سے، وہ ابو عبیدہ بن عبداللہ کے واسطہ سے، وہ اپنے والد سے
آپ نے فرمایا: جب تم نماز میں رہو اور تمہیں تین یا چار میں شک ہو جائے اور تمہارا غالب گمان یہ ہو کہ چار رکعت ہی پڑھی ہے تو تشہد پڑھو، پھر سلام پھیرنے سے پہلے بیٹھے بیٹھے سہو کے دو سجدے کرو، پھر تشہد پڑھو اور پھر سلام پھیر دو ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے عبدالواحد نے خصیف سے روایت کیا ہے اور مرفوع نہیں کیا ہے۔ نیز سفیان، شریک اور اسرائیل نے عبدالواحد کی موافقت کی ہے اور ان لوگوں نے متن حدیث میں اختلاف کیا ہے اور اسے مسند نہیں کیا ہے ۔
Narrated Abu Saeed al-Khudri رضی اللہ عنہ :
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم said: When one of you prays, and he does not know whether he prayed more or less rak'ahs (than those prescribed by the Shari'ah), he should perform two prostrations while he is sitting. If the devil comes to him, and tells him (suggests him): You have been defiled, he should say: You have told a lie, except that he feels smell with his nose, or sound with his ears (then his ablution will break). These are the wording; of the tradition reported by Aban. Abu Dawud said: Mamar and Abi bin al-Mubarak mentioned the name Iyad bin Hilal and al-Awzai mentioned the name of Iyad bin Abi Zuhair.
ہم سے محمد بن العلاء نے بیان کیا، ہم سے اسماعیل بن ابراہیم نے بیان کیا، ہم سے ہشام الدستوی نے بیان کیا، ہم سے یحییٰ بن ابی کثیر نے بیان کیا، ہم سے عیاض نے بیان کیا اور ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، ہم سے ابان نے بیان کیا، ہم سے یحییٰ نے ہلال بن عیاض کی سند سے بیان کیا, ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی شخص نماز پڑھے اور یہ نہ جان سکے کہ زیادہ پڑھی ہے یا کم تو بیٹھ کر دو سجدے کر لے ۱؎ پھر اگر اس کے پاس شیطان آئے اور اس سے کہے ( یعنی دل میں وسوسہ ڈالے ) کہ تو نے حدث کر لیا ہے تو اس سے کہے: تو جھوٹا ہے مگر یہ کہ وہ اپنی ناک سے بو سونگھ لے یا اپنے کان سے آواز سن لے ۔ یہ الفاظ ابان نے روایت کی ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: معمر، علی بن المبارک اور عیاض بن ہلال نے کہا: الاوزاعی نے کہا:عیاض بن ابی زہیر کا نام ذکر کیا۔
Abu Hurairah رضی اللہ عنہ reported:
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم as saying; When one of you stands up to pray, the devil comes to him and confuses him so that he does not know how much he has prayed. If any of you has such an experience, he should perform two prostrations while he is sitting. Abu Dawud said; This tradition has been narrated in a similar manner by Ibn ‘Uyainab, Mamar and al-Laith.
ہم سے القعْنبی نے مالک کی سند سے، ابن شہاب کی سند سے، ابو سلمہ بن عبدالرحمٰن کی سند سے بیان کیا، ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی شخص نماز پڑھنے کے لیے کھڑا ہوتا ہے تو شیطان اس کے پاس آتا ہے اور اسے شبہے میں ڈال دیتا ہے، یہاں تک کہ اسے یاد نہیں رہ جاتا کہ اس نے کتنی رکعتیں پڑھی ہیں؟ لہٰذا جب تم میں سے کسی کو ایسا محسوس ہو تو وہ بیٹھے بیٹھے دو سجدے کر لے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسی طرح اسے ابن عیینہ، معمر اور لیث نے روایت کیا ہے۔